صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط ششم]
عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط ششم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط ششم]

تاویل اور کلمۂ کفریہ

ناقد صاحب پہلے لکھتے:
رہی بات دوسرے مصرعے کی تو ہوسکتا ہے اس میں کوئی کم پڑھا لکھا انسان شک میں پڑجائے لیکن اہل علم کے نزدیک یہ مصرع بھی بے غبار ہے،بلکہ حدیث رسول ﷺ کی ترجمانی ہے
ناقد صاحب کا کہنا ہے کم پڑھے لکھے انسان اس مصرع کو پڑھ کر تذبذب کے شکار ہوں گے شک میں پڑ جائیں گے کہ بے غبار ہے یا غبار آلود ہے؟ لیکن اہل علم کے نزدیک مصرع ثانی بے غبار ہے بلکہ ـ معاذ اللہ ـ حدیث رسول ﷺ کی ترجمانی ہے، ناقد صاحب کی فہم شریف کے مطابق مصرع تو بے غبار ہے لیکن افسوس کہ پھر بھی تاویل کرنی پڑ رہی ہے پردۂ انبت الربیع البقل ڈالنا پڑ رہا ہے ۔
ناقد صاحب لکھتے ہیں:
شاعر کا مسلمان سنی صحیح العقیدہ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں عقیدہ ٔ تجسیم مراد نہیں،جیساکہ انبت الربیع البقل (موسم بہار نے سبزے اگائے)بولنے والے مسلمان کا مسلمان ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ موسم ربیع کو سبزہ اگانے کا مؤثر حقیقی نہیں مانتا بلکہ اسےسبب ظاہرمانتا ہے۔تو جس طرح یہاں موسم بہار کوسبزے اگانے کا مؤثر حقیقی ماننے کے احتمال کو احتمال ناشی عن غیر دلیل ہونے کی وجہ سے نامعتبر قرار دیاگیاہے اسی طرح شاعر کاصحیح العقیدہ مسلمان ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی مراد یہ نہیں ہے کہ معاذاللہ مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کی صورت میں اللہ کی ذات حلول کی ہوئی ہے ،یہاں بھی معنی تجسیم کااحتمال ناشی عن غیر دلیل ہے جونا معتبر ہے۔
اقول: ناقد صاحب نےمصرع ثانی کو پردۂ انبت الربیع البقل میں رکھ کر بے غبار ثابت کر دیا، لیکن حق یہ ہے کہ ایسی تاویل سے شعر کلمۂ کفریہ ہونے سے نکل نہیں جائے گا دیکھیے مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ سے بعض اشعار کے متعلق استفتا ہوا :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر میلاد خواں مجلس میلاد شریف میں مفصلہ تحت مضامین کہ نظم یا نثر پڑھتے ہیں! [پھر کئی اشعار لکھنے کے بعد مستفتی نے چھٹے/٦ نمبر پر درج ذیل شعر لکھا]
٦: محمد نے خدائی کی خدا نے مصطفائی کی
کوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے
اس پر امام اہل سنت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ نے جوابا ارقام فرمایا: پچھلا مصرع توصحیح ہے اور پہلے کا نصف اخیر بھی صحیح ہے کہ کرنا بنانے پیدا کرنے کو کہتے ہیں
گفتم ایں جام جہاں بیں بتوکے داد حکیم
گفت آں روز کہ ایں گنبد مینا می
یعنی الله عزوجل نے حضور کی مصطفائی پیدا کی حضور کو یہ مرتبہ بخشا ، البتہ نصف اول بہت سخت ہے اس میں تاویل بعید یہ ہے کہ خدائی مخلوق کو کہتے ہیں
ع: ساری خدائی اک طرف فضل الہی اک طرف
اور خدائی کی پیدائش بطفیل حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا لولاك لما خلقت الدنیا حضور تخم وجود واصل موجود ہیں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ، تو نسبت مجاز ہے جیسے انبت الربیع البقل بہار نے سبزہ اگایا۔ و قال اﷲ تعالٰی “ مِمَّا تُنْۢبِتُ الۡاَرْضُ اگانے والا زمین کو فرمایا ، مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمۂ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قائل کو اشد حرام ہے کے ارتکاب سے بہار و زمین غیر ذوی العقول پر قیاس نہ ہوگا اور رد المحتار میں ہے: مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔"[فتاوی رضویہ جلد ٦ ص ٢٠٧]
اس شعر اور استفتا کی مطابقت مبحوث عنہ شعر
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
[صورت اشرف ہم کو رب ہمارا مل گیا]
سے دیکھیے : فتوی میں مذکور شعر کا مصرع ثانی
کوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے درست اور مصرع اولی
محمد نے خدائی کی خدا نے مصطفائی کی جزو اخیر صحیح، جزو اول کفریہ، مبحوث عنہ مصرع کا مصرع اولی درست اور مصرع ثانی کفریہ
اب سوال یہ ہے کہ مصرع ثانی کا جزو اول کفریہ کیسے ہے ؟
شاعر نے کہا : محمد نے خدائی کی خدا نے مصطفائی کی
جزو ثانی تو درست ہے کہ خدا نے مصطفائی کی یعنی اللہ جل جلالہ نے مصطفائی کو پیدا فرمایا لیکن جزو اول کفریہ ہے کیونکہ محمد نے خدائی کی یعنی حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مخلوق کو پیدا فرمایا یہ کفر ہوا،
غور فرمائیے ناقد صاحب اگر تاویل کا مطلب یہی ہوتا کہ تاویل شعر کو بے غبار کر دیتا ہے تو حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ ایسے تحریر فرماتے:
خدا نے خدائی کی یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مخلوق کو پیدا فرمایا یہ بالکل بے غبار شعر ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود پیدا فرمایا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کی تخلیق کے باعث ہیں واسطہ ہیں اور یہ تو حدیث کی ترجمانی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا:
لولاك لما خلقت الدنیا کہ اے محبوب اگر تجھے پیدا نہ کرتا تو میں عالم کو پیدا نہ کرتا
بتائیے ناقد صاحب آپ بھی ایسے ہی استدلال فرماتے ہیں نا! ایسے ہی لکھتے ہیں نا! کہ شعر تو اہل علم کے نزدیک بالکل بے غبار ہے کوئی کم علم پڑھا لکھا ہی اس پر شک کرے گا کیونکہ
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صورت اشرف میں رب کا حلول ہو گیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صورت اشرف ایک واسطہ ہے ذریعہ ہے اس واسطے سے رب کا پتہ مل گیا رب کی یاد آ گئی اور یہ تو حدیث کی ترجمانی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خياركم الذين إذا رءوا ذكر الله عز وجل [ابن ماجہ ٤١١٩] تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جنھیں دیکھ کر خدا یاد آ جائے اور پھر نتیجے میں آپ لکھتے ہیں :صورت اشرف میں ہم کورب ہمارامل گیا‘‘ کہنا شریعت وطریقت کے لحاظ سے غلط نہیں ہے۔
لیکن اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے ویسے تحریر نہیں فرمایا بلکہ فرماتے ہیں کہ البتہ نصف اول یعنی محمد نے خدائی کی بہت سخت ہے اس میں تاویل یہ ہے کہ خدائی مخلوق کو کہتے ہیں اور ساری مخلوق کی پیدائش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہوئی پھر حدیث شریف ذکر کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں: مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمۂ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قائل کو اشد حرام ہے کے ارتکاب سے
اب بتائیے ناقد صاحب محمد نے خدائی کی کے قائل نے کیا جرم کیا تھا کہ تاویل موجود ہونے کے باوجود کلمہ کو کفریہ ہونے سے نہ بچا سکا
نہ خود کو اشد حرام کے ارتکاب سے بچا سکا؟
لیکن آپ کے یہاں تاویل سے شعر ہی بے غبار ہو گیا کفر تو درکنار غلط بھی نہ رہا اور اس پر طرۂ امتیاز یہ شریعت و طریقت کی نظر میں بھی غلط نہیں رہا بتائیے یہاں کونسا راز پوشیدہ ہے؟ عوام تو عوام خواص بھی جاننا چاہتے ہیں خصوصاً جو کم علم ہیں وہ ضرور جاننا چاہتے ہیں
ناقد صاحب آپ نے فرمایا کہ انبت الربیع البقل کوئی مسلمان بولے تو اس کا بولنا ہی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ موسم ربیع کو موثر حقیقی نہیں مانتا ہے اسی لیے مبحوث عنہ مصرع کے قائل کو عقیدۂ تجسیم کا معتقد نہیں کہا جائے گا کیونکہ وہ مسلمان ہے
تو اس پر سوال یہ ہے کہ محمد نے خدائی کی کا قائل کیا مسلمان نہیں تھا؟ اگر مسلمان تھا تو پھر اس کا مسلمان ہونا ہی شعر کو کفریہ ہونے سے کیوں نہیں بچایا؟ اور اگر مسلمان نہیں تھا تو حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے قائل کو اشد حرام کا مرتکب کیوں بتایا ؟ انبت الربیع البقل کا فیض یہاں کیوں نہیں بٹا؟
ان سب کا جواب یہی ہے ناقد صاحب کہ زمین و بہار غیر ذوی العقول ہیں اور غیر ذوی العقول کو ذوی العقول میں قیاس نہیں کر سکتے لیکن آپ نے غیر ذوی العقول پر ذوی العقول کو قیاس فرما کر بے غباری کا حکم صادر فرما دیا، دیکھیے: اسی فتوی میں اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا: 'بہار و زمین غیر ذوی العقول پر قیاس نہ ہوگا
انبت الربیع البقل غیر ذوی العقول کے باب سے ہے اور محمد نے خدائی کی اور صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا یہ ذوی العقول کے باب سے ہے اس لیے ایک کا دوسرے پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے اسی لیے تاویل بعید کی گنجائش ہونے کے باوجود کلمۂ کفریہ اور قائل پر اشد حرام کے ارتکاب کا حکم لگایا،
اور ناقد صاحب آپ نے فقط تاویل ہونے کی وجہ سے کفر تو کفر حرام سے بھی نکال کر بے غباروں کے صف میں داخل کر دیا کیا یہی انصاف ہے؟
کیا یہی منصب افتا کی ذمہ داریاں ہیں؟
کیا اسی کو تصلب فی الدین کہتے ہیں؟
پھر اپنی ان جرأتوں کو فتاوی رضویہ شریف کی طرف منسوب کرنا کیا اسی کا نام علمی دیانت ہے؟
اگر تاویل کے بعد کلام بالکل بے غبار ہو جائے تو کفر فقہی کا وجود ہی مٹ جائے گا کیونکہ کفر فقہی کہتے ہی اسے ہیں جس میں تاویل کی گنجائش ہو جو محتمل فی الکفر، متبین فی الکفر ہو یہاں تک کہ کلمہ کا ظاہری معنی کفر ہو تو قائل کی نیت ہو یا نہ ہو بہر حال جمہور فقہا کے نزدیک وہ کفر ہوگا جیسا کہ حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ فتاوی مصطفویہ میں ارقام فرماتے ہیں: جب لفظ معنی میں ظاہر ہو تو نیت و عدم نیت کا فرق نہیں ہوتا ۔ اس کے قائل پر توبہ تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم ہوتا ہے۔ امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی اعلام الاعلام بقواطع الاسلام میں فرماتے ہیں، انما نحكم بالكفر باعتبار الظاهر و قصدك و عدمه انما ترتبط به الاحكام باعتبار الباطن [لا الظاہر]
[ ہم کفر [فقہی] کا حکم ظاہری معنی کے اعتبار سے لگاتے ہیں قصد ہو یا نہ ہو کیونکہ قصد کا تعلق باطن کے اعتبار سے ہوتا ہے] [نہ کہ ظاہر]
اسی میں فرمایا: حكمنا انما هو باعتبار الظاهر فلا يبحث عن المراد
[ہم نے ظاہر کے اعتبار سے حکم لگایا کیونکہ مراد سے بحث نہیں کی جاتی ہے]
اسی میں ہے: نحن نحکم بالظاهر فلذلك حكمنا بعدم ایمانہ
[ہم ظاہر پر حکم لگاتے ہیں تو اسی وجہ سے ہم نے اس کے عدم ایمان کا حکم لگایا]
اسی میں ہےاللفظ ظاهر في الكفر و عند ظهور اللفظ فيه لا يحتاج الی نیة كما علم من فروع كثيرة [لفظ کفر میں ظاہر ہو تو لفظ کے ظہور کے وقت نیت کی طرف احتیاجی نہیں ہوگی جیسا کہ بہت سے فقہی جزئیات سے معلوم ہوا ]
اسی میں فرمایا
المدار في الحكم بالكفر على الظواهر ولا نظر للمقصود والنيات ولا نظر لقرائن حاله [حکم بالکفر میں مدار ظواہر پر ہے تو مقصود اور نیتوں کی طرف نظر نہیں کی جائے گی اور نہ قرائن حالیہ کی طرف]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہ وہاں ہے جہاں لفظ محتمل ہو مگر معنی کفر میں ظاہر ہو جہاں دوسرا احتمال رأسا ہی نہیں اس کا کیا پوچھنا"۔[فتاوی مصطفویہ ص ١٦-١٧]
اب بتائیے ناقد صاحب کیا اب بھی حق واضح نہیں ہوا؟ اگر ہوا اور ضرور ہوا تو خدا واسطے اپنا دست دعا دراز فرمائیے۔
رہی بات آپ کا یہ کہنا کہ شعر مذکور میں حضور مخدوم سمنانی قدس سرہ کو’معاذ اللہ‘ رب نہیں کہا گیا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اس کا فیصلہ اب آپ پر چھوڑتا ہوں آپ خدا کی طرف لو لگا کر خود فیصلہ فرما لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط ششم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط ششم]

تاویل اور کلمۂ کفریہ

ناقد صاحب پہلے لکھتے:
رہی بات دوسرے مصرعے کی تو ہوسکتا ہے اس میں کوئی کم پڑھا لکھا انسان شک میں پڑجائے لیکن اہل علم کے نزدیک یہ مصرع بھی بے غبار ہے،بلکہ حدیث رسول ﷺ کی ترجمانی ہے
ناقد صاحب کا کہنا ہے کم پڑھے لکھے انسان اس مصرع کو پڑھ کر تذبذب کے شکار ہوں گے شک میں پڑ جائیں گے کہ بے غبار ہے یا غبار آلود ہے؟ لیکن اہل علم کے نزدیک مصرع ثانی بے غبار ہے بلکہ ـ معاذ اللہ ـ حدیث رسول ﷺ کی ترجمانی ہے، ناقد صاحب کی فہم شریف کے مطابق مصرع تو بے غبار ہے لیکن افسوس کہ پھر بھی تاویل کرنی پڑ رہی ہے پردۂ انبت الربیع البقل ڈالنا پڑ رہا ہے ۔
ناقد صاحب لکھتے ہیں:
شاعر کا مسلمان سنی صحیح العقیدہ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں عقیدہ ٔ تجسیم مراد نہیں،جیساکہ انبت الربیع البقل (موسم بہار نے سبزے اگائے)بولنے والے مسلمان کا مسلمان ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ موسم ربیع کو سبزہ اگانے کا مؤثر حقیقی نہیں مانتا بلکہ اسےسبب ظاہرمانتا ہے۔تو جس طرح یہاں موسم بہار کوسبزے اگانے کا مؤثر حقیقی ماننے کے احتمال کو احتمال ناشی عن غیر دلیل ہونے کی وجہ سے نامعتبر قرار دیاگیاہے اسی طرح شاعر کاصحیح العقیدہ مسلمان ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی مراد یہ نہیں ہے کہ معاذاللہ مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کی صورت میں اللہ کی ذات حلول کی ہوئی ہے ،یہاں بھی معنی تجسیم کااحتمال ناشی عن غیر دلیل ہے جونا معتبر ہے۔
اقول: ناقد صاحب نےمصرع ثانی کو پردۂ انبت الربیع البقل میں رکھ کر بے غبار ثابت کر دیا، لیکن حق یہ ہے کہ ایسی تاویل سے شعر کلمۂ کفریہ ہونے سے نکل نہیں جائے گا دیکھیے مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ سے بعض اشعار کے متعلق استفتا ہوا :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر میلاد خواں مجلس میلاد شریف میں مفصلہ تحت مضامین کہ نظم یا نثر پڑھتے ہیں! [پھر کئی اشعار لکھنے کے بعد مستفتی نے چھٹے/٦ نمبر پر درج ذیل شعر لکھا]
٦: محمد نے خدائی کی خدا نے مصطفائی کی
کوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے
اس پر امام اہل سنت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ نے جوابا ارقام فرمایا: پچھلا مصرع توصحیح ہے اور پہلے کا نصف اخیر بھی صحیح ہے کہ کرنا بنانے پیدا کرنے کو کہتے ہیں
گفتم ایں جام جہاں بیں بتوکے داد حکیم
گفت آں روز کہ ایں گنبد مینا می
یعنی الله عزوجل نے حضور کی مصطفائی پیدا کی حضور کو یہ مرتبہ بخشا ، البتہ نصف اول بہت سخت ہے اس میں تاویل بعید یہ ہے کہ خدائی مخلوق کو کہتے ہیں
ع: ساری خدائی اک طرف فضل الہی اک طرف
اور خدائی کی پیدائش بطفیل حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا لولاك لما خلقت الدنیا حضور تخم وجود واصل موجود ہیں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ، تو نسبت مجاز ہے جیسے انبت الربیع البقل بہار نے سبزہ اگایا۔ و قال اﷲ تعالٰی “ مِمَّا تُنْۢبِتُ الۡاَرْضُ اگانے والا زمین کو فرمایا ، مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمۂ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قائل کو اشد حرام ہے کے ارتکاب سے بہار و زمین غیر ذوی العقول پر قیاس نہ ہوگا اور رد المحتار میں ہے: مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔"[فتاوی رضویہ جلد ٦ ص ٢٠٧]
اس شعر اور استفتا کی مطابقت مبحوث عنہ شعر
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
[صورت اشرف ہم کو رب ہمارا مل گیا]
سے دیکھیے : فتوی میں مذکور شعر کا مصرع ثانی
کوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے درست اور مصرع اولی
محمد نے خدائی کی خدا نے مصطفائی کی جزو اخیر صحیح، جزو اول کفریہ، مبحوث عنہ مصرع کا مصرع اولی درست اور مصرع ثانی کفریہ
اب سوال یہ ہے کہ مصرع ثانی کا جزو اول کفریہ کیسے ہے ؟
شاعر نے کہا : محمد نے خدائی کی خدا نے مصطفائی کی
جزو ثانی تو درست ہے کہ خدا نے مصطفائی کی یعنی اللہ جل جلالہ نے مصطفائی کو پیدا فرمایا لیکن جزو اول کفریہ ہے کیونکہ محمد نے خدائی کی یعنی حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مخلوق کو پیدا فرمایا یہ کفر ہوا،
غور فرمائیے ناقد صاحب اگر تاویل کا مطلب یہی ہوتا کہ تاویل شعر کو بے غبار کر دیتا ہے تو حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ ایسے تحریر فرماتے:
خدا نے خدائی کی یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مخلوق کو پیدا فرمایا یہ بالکل بے غبار شعر ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود پیدا فرمایا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کی تخلیق کے باعث ہیں واسطہ ہیں اور یہ تو حدیث کی ترجمانی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا:
لولاك لما خلقت الدنیا کہ اے محبوب اگر تجھے پیدا نہ کرتا تو میں عالم کو پیدا نہ کرتا
بتائیے ناقد صاحب آپ بھی ایسے ہی استدلال فرماتے ہیں نا! ایسے ہی لکھتے ہیں نا! کہ شعر تو اہل علم کے نزدیک بالکل بے غبار ہے کوئی کم علم پڑھا لکھا ہی اس پر شک کرے گا کیونکہ
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صورت اشرف میں رب کا حلول ہو گیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صورت اشرف ایک واسطہ ہے ذریعہ ہے اس واسطے سے رب کا پتہ مل گیا رب کی یاد آ گئی اور یہ تو حدیث کی ترجمانی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خياركم الذين إذا رءوا ذكر الله عز وجل [ابن ماجہ ٤١١٩] تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جنھیں دیکھ کر خدا یاد آ جائے اور پھر نتیجے میں آپ لکھتے ہیں :صورت اشرف میں ہم کورب ہمارامل گیا‘‘ کہنا شریعت وطریقت کے لحاظ سے غلط نہیں ہے۔
لیکن اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے ویسے تحریر نہیں فرمایا بلکہ فرماتے ہیں کہ البتہ نصف اول یعنی محمد نے خدائی کی بہت سخت ہے اس میں تاویل یہ ہے کہ خدائی مخلوق کو کہتے ہیں اور ساری مخلوق کی پیدائش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہوئی پھر حدیث شریف ذکر کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں: مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمۂ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قائل کو اشد حرام ہے کے ارتکاب سے
اب بتائیے ناقد صاحب محمد نے خدائی کی کے قائل نے کیا جرم کیا تھا کہ تاویل موجود ہونے کے باوجود کلمہ کو کفریہ ہونے سے نہ بچا سکا
نہ خود کو اشد حرام کے ارتکاب سے بچا سکا؟
لیکن آپ کے یہاں تاویل سے شعر ہی بے غبار ہو گیا کفر تو درکنار غلط بھی نہ رہا اور اس پر طرۂ امتیاز یہ شریعت و طریقت کی نظر میں بھی غلط نہیں رہا بتائیے یہاں کونسا راز پوشیدہ ہے؟ عوام تو عوام خواص بھی جاننا چاہتے ہیں خصوصاً جو کم علم ہیں وہ ضرور جاننا چاہتے ہیں
ناقد صاحب آپ نے فرمایا کہ انبت الربیع البقل کوئی مسلمان بولے تو اس کا بولنا ہی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ موسم ربیع کو موثر حقیقی نہیں مانتا ہے اسی لیے مبحوث عنہ مصرع کے قائل کو عقیدۂ تجسیم کا معتقد نہیں کہا جائے گا کیونکہ وہ مسلمان ہے
تو اس پر سوال یہ ہے کہ محمد نے خدائی کی کا قائل کیا مسلمان نہیں تھا؟ اگر مسلمان تھا تو پھر اس کا مسلمان ہونا ہی شعر کو کفریہ ہونے سے کیوں نہیں بچایا؟ اور اگر مسلمان نہیں تھا تو حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے قائل کو اشد حرام کا مرتکب کیوں بتایا ؟ انبت الربیع البقل کا فیض یہاں کیوں نہیں بٹا؟
ان سب کا جواب یہی ہے ناقد صاحب کہ زمین و بہار غیر ذوی العقول ہیں اور غیر ذوی العقول کو ذوی العقول میں قیاس نہیں کر سکتے لیکن آپ نے غیر ذوی العقول پر ذوی العقول کو قیاس فرما کر بے غباری کا حکم صادر فرما دیا، دیکھیے: اسی فتوی میں اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا: 'بہار و زمین غیر ذوی العقول پر قیاس نہ ہوگا
انبت الربیع البقل غیر ذوی العقول کے باب سے ہے اور محمد نے خدائی کی اور صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا یہ ذوی العقول کے باب سے ہے اس لیے ایک کا دوسرے پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے اسی لیے تاویل بعید کی گنجائش ہونے کے باوجود کلمۂ کفریہ اور قائل پر اشد حرام کے ارتکاب کا حکم لگایا،
اور ناقد صاحب آپ نے فقط تاویل ہونے کی وجہ سے کفر تو کفر حرام سے بھی نکال کر بے غباروں کے صف میں داخل کر دیا کیا یہی انصاف ہے؟
کیا یہی منصب افتا کی ذمہ داریاں ہیں؟
کیا اسی کو تصلب فی الدین کہتے ہیں؟
پھر اپنی ان جرأتوں کو فتاوی رضویہ شریف کی طرف منسوب کرنا کیا اسی کا نام علمی دیانت ہے؟
اگر تاویل کے بعد کلام بالکل بے غبار ہو جائے تو کفر فقہی کا وجود ہی مٹ جائے گا کیونکہ کفر فقہی کہتے ہی اسے ہیں جس میں تاویل کی گنجائش ہو جو محتمل فی الکفر، متبین فی الکفر ہو یہاں تک کہ کلمہ کا ظاہری معنی کفر ہو تو قائل کی نیت ہو یا نہ ہو بہر حال جمہور فقہا کے نزدیک وہ کفر ہوگا جیسا کہ حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ فتاوی مصطفویہ میں ارقام فرماتے ہیں: جب لفظ معنی میں ظاہر ہو تو نیت و عدم نیت کا فرق نہیں ہوتا ۔ اس کے قائل پر توبہ تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم ہوتا ہے۔ امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی اعلام الاعلام بقواطع الاسلام میں فرماتے ہیں، انما نحكم بالكفر باعتبار الظاهر و قصدك و عدمه انما ترتبط به الاحكام باعتبار الباطن [لا الظاہر]
[ ہم کفر [فقہی] کا حکم ظاہری معنی کے اعتبار سے لگاتے ہیں قصد ہو یا نہ ہو کیونکہ قصد کا تعلق باطن کے اعتبار سے ہوتا ہے] [نہ کہ ظاہر]
اسی میں فرمایا: حكمنا انما هو باعتبار الظاهر فلا يبحث عن المراد
[ہم نے ظاہر کے اعتبار سے حکم لگایا کیونکہ مراد سے بحث نہیں کی جاتی ہے]
اسی میں ہے: نحن نحکم بالظاهر فلذلك حكمنا بعدم ایمانہ
[ہم ظاہر پر حکم لگاتے ہیں تو اسی وجہ سے ہم نے اس کے عدم ایمان کا حکم لگایا]
اسی میں ہےاللفظ ظاهر في الكفر و عند ظهور اللفظ فيه لا يحتاج الی نیة كما علم من فروع كثيرة [لفظ کفر میں ظاہر ہو تو لفظ کے ظہور کے وقت نیت کی طرف احتیاجی نہیں ہوگی جیسا کہ بہت سے فقہی جزئیات سے معلوم ہوا ]
اسی میں فرمایا
المدار في الحكم بالكفر على الظواهر ولا نظر للمقصود والنيات ولا نظر لقرائن حاله [حکم بالکفر میں مدار ظواہر پر ہے تو مقصود اور نیتوں کی طرف نظر نہیں کی جائے گی اور نہ قرائن حالیہ کی طرف]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہ وہاں ہے جہاں لفظ محتمل ہو مگر معنی کفر میں ظاہر ہو جہاں دوسرا احتمال رأسا ہی نہیں اس کا کیا پوچھنا"۔[فتاوی مصطفویہ ص ١٦-١٧]
اب بتائیے ناقد صاحب کیا اب بھی حق واضح نہیں ہوا؟ اگر ہوا اور ضرور ہوا تو خدا واسطے اپنا دست دعا دراز فرمائیے۔
رہی بات آپ کا یہ کہنا کہ شعر مذکور میں حضور مخدوم سمنانی قدس سرہ کو’معاذ اللہ‘ رب نہیں کہا گیا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اس کا فیصلہ اب آپ پر چھوڑتا ہوں آپ خدا کی طرف لو لگا کر خود فیصلہ فرما لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
36
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط ہفتم]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط پنجم]

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 29 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
تاثرات 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢