صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بے ادبی سے زندگی کا نقصان
ادبیات

بے ادبی سے زندگی کا نقصان

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

بے ادبی سے زندگی کا نقصان
انسان کی زندگی میں ادب، شائستگی اور حسنِ سلوک کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جس طرح علم انسان کو شعور عطا کرتا ہے، اسی طرح ادب اس علم کو صحیح انداز میں برتنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ انسان کتنا ہی صاحبِ علم، صاحبِ منصب یا صاحبِ صلاحیت کیوں نہ ہو، اگر اس کے مزاج میں ادب و شائستگی نہیں تو اس کی شخصیت میں ایک بنیادی کمی باقی رہ جاتی ہے۔
بے ادبی محض چند نامناسب الفاظ بول دینے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کی عزت پامال کرنا، گفتگو میں مزاق کرنا، بڑوں کا احترام نہ کرنا، چھوٹوں پر شفقت نہ کرنا، اختلاف میں حدود سے تجاوز کرنا اور اپنی زبان و رویے پر قابو نہ رکھنا بھی بے ادبی کی مختلف صورتیں ہیں۔
بے ادبی شخصیت کو کھوکھلا کر دیتی ہے:
بے ادب انسان بظاہر کتنا ہی ذہین اور قابل کیوں نہ ہو، رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں سے اپنی جگہ کھو دیتا ہے۔ لوگ اس کے علم سے متأثر ہونے کے بجائے اس کے رویے سے متنفر ہونے لگتے ہیں۔
ایک تلخ جملہ، ایک نامناسب اشارہ یا ایک گستاخانہ انداز کبھی کبھی برسوں کے تعلق کو ختم کر دیتا ہے۔ اس لیے زبان سے نکلا ہوا لفظ معمولی نہیں؛ وہ کسی کے دل میں محبت بھی پیدا کرسکتا ہے اور نفرت بھی۔
بے ادبی سے رشتے کمزور ہوتے ہیں:
زندگی باہمی تعلقات کا نام ہے۔ انسان والدین، اساتذہ، دوستوں، رشتہ داروں اور معاشرے کے دوسرے افراد کے ساتھ تعلقات قائم کرکے زندگی گزارتا ہے۔ جب گفتگو میں سختی، لہجے میں تکبر اور رویے میں بے اعتنائی پیدا ہوجائے تو یہ تعلقات آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتے ہیں۔
بسا اوقات انسان کو اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی مخلص شخص اس سے دور ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے ادب تعلقات کو جوڑتا ہے اور بے ادبی انہیں توڑ دیتی ہے۔
بے ادبی انسان کو تنہائی کی طرف لے جاتی ہے:
لوگ عموماً ایسے شخص کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں جس کے ساتھ انہیں عزت، اطمینان اور حسنِ معاشرت حاصل ہو۔ اس کے برعکس مسلسل بدکلامی، طنز، تحقیر اور سخت مزاجی انسان کے گرد ایک ایسا حصار پیدا کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں لوگ اس سے دور ہونے لگتے ہیں۔
یوں بے ادب شخص بسا اوقات یہ شکایت کرتا ہے کہ ”کوئی مجھے سمجھتا نہیں“، حالاں کہ اس کے اپنے رویے نے لوگوں کو اس سے دور کیا ہوتا ہے۔
بے ادبی سے عزت و وقار ختم ہوتا ہے:
عزت صرف دولت، منصب یا شہرت سے حاصل نہیں ہوتی۔ حقیقی عزت انسان کے کردار، اخلاق اور برتاؤ سے پیدا ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا [البقرۃ-٨٣]
ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔
اس مختصر حکم میں معاشرتی زندگی کا ایک عظیم اصول موجود ہے: گفتگو میں حسن پیدا کرو۔
جو شخص دوسروں سے عزت کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ خود بھی عزت پاتا ہے؛ اور جو دوسروں کی تحقیر کو اپنا طریقہ بنا لے، اس کی اپنی قدر و منزلت بھی گھٹنے لگتی ہے۔
بے ادبی علم کے فائدے کو بھی کم کر دیتی ہے
علم انسان کو بلند مقام دے سکتا ہے، مگر علم کے ساتھ ادب نہ ہو تو وہ علم شخصیت میں وہ حسن پیدا نہیں کرتا جو پیدا ہونا چاہیے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: ”علم کے ساتھ ادب ہو تو علم زینت بنتا ہے، اور ادب کے بغیر علم کبھی کبھی انسان کے لیے غرور کا سبب بن جاتا ہے۔“
ایک کم علم مگر باادب انسان لوگوں کے دل میں جگہ بنا سکتا ہے، جبکہ ایک بہت بڑا عالم، سائینسداں، ڈاکٹر بھی اگر بدزبان اور بداخلاق ہو تو لوگ اس کے قریب آنے سے گریز کرسکتے ہیں۔
بے ادبی اور زبان کا نقصان:
انسان کی بہت سی مشکلات اس کی زبان سے پیدا ہوتی ہیں۔ غصے میں کہے ہوئے الفاظ واپس نہیں آتے۔ زبان کی بے احتیاطی سے دل آزاری، دشمنی، قطع تعلقی اور پشیمانی پیدا ہو سکتی ہے۔ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔ [صحيح البخاري، كتاب الأدب]
یہ حدیثِ مبارکہ زبان کے استعمال کے لیے ایک نہایت جامع اصول فراہم کرتی ہے۔
بے ادبی کا علاج:
بے ادبی سے بچنے کے لیے انسان کو سب سے پہلے اپنے لہجے اور الفاظ پر نگاہ رکھنی چاہیے۔ گفتگو سے پہلے سوچے کہ جو بات میں کہنے جا رہا ہوں، کیا اسے اس سے بہتر انداز میں کہا جا سکتا ہے ؟ بڑوں کے ساتھ احترام، چھوٹوں کے ساتھ شفقت، دوستوں کے ساتھ خلوص، اختلاف کرنے والوں کے ساتھ بھی شائستگی اور ہر انسان کے ساتھ مناسب حسنِ سلوک اختیار کرنا چاہیے۔ یاد رکھیے: ہر سچی بات کہنا ضروری نہیں، اور ہر بات غلط انداز میں کہنا تو بالکل ضروری نہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بے ادبی انسان سے صرف لوگوں کی محبت نہیں چھینتی بلکہ اس کے وقار، تعلقات، اعتماد اور معاشرتی مقام کو بھی متأثر کرتی ہے۔ اس کے برعکس ادب انسان کی شخصیت کو نکھارتا، تعلقات کو مضبوط کرتا اور دلوں میں جگہ پیدا کرتا ہے۔ اس لیے زندگی میں کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان کتنا جانتا ہے؛ اصل کامیابی یہ بھی ہے کہ وہ کتنے سلیقے سے جیتا ہے، کتنے احترام سے بات کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ ادب انسان کو انسان بناتا ہے، اور بے ادبی انسان کی بہت سی اچھائیوں کو بھی بے اثر کر دیتی ہے۔ با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو-٢، جامعہ نگر، نئی دہلی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

بے ادبی سے زندگی کا نقصان

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

بے ادبی سے زندگی کا نقصان
انسان کی زندگی میں ادب، شائستگی اور حسنِ سلوک کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جس طرح علم انسان کو شعور عطا کرتا ہے، اسی طرح ادب اس علم کو صحیح انداز میں برتنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ انسان کتنا ہی صاحبِ علم، صاحبِ منصب یا صاحبِ صلاحیت کیوں نہ ہو، اگر اس کے مزاج میں ادب و شائستگی نہیں تو اس کی شخصیت میں ایک بنیادی کمی باقی رہ جاتی ہے۔
بے ادبی محض چند نامناسب الفاظ بول دینے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کی عزت پامال کرنا، گفتگو میں مزاق کرنا، بڑوں کا احترام نہ کرنا، چھوٹوں پر شفقت نہ کرنا، اختلاف میں حدود سے تجاوز کرنا اور اپنی زبان و رویے پر قابو نہ رکھنا بھی بے ادبی کی مختلف صورتیں ہیں۔
بے ادبی شخصیت کو کھوکھلا کر دیتی ہے:
بے ادب انسان بظاہر کتنا ہی ذہین اور قابل کیوں نہ ہو، رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں سے اپنی جگہ کھو دیتا ہے۔ لوگ اس کے علم سے متأثر ہونے کے بجائے اس کے رویے سے متنفر ہونے لگتے ہیں۔
ایک تلخ جملہ، ایک نامناسب اشارہ یا ایک گستاخانہ انداز کبھی کبھی برسوں کے تعلق کو ختم کر دیتا ہے۔ اس لیے زبان سے نکلا ہوا لفظ معمولی نہیں؛ وہ کسی کے دل میں محبت بھی پیدا کرسکتا ہے اور نفرت بھی۔
بے ادبی سے رشتے کمزور ہوتے ہیں:
زندگی باہمی تعلقات کا نام ہے۔ انسان والدین، اساتذہ، دوستوں، رشتہ داروں اور معاشرے کے دوسرے افراد کے ساتھ تعلقات قائم کرکے زندگی گزارتا ہے۔ جب گفتگو میں سختی، لہجے میں تکبر اور رویے میں بے اعتنائی پیدا ہوجائے تو یہ تعلقات آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتے ہیں۔
بسا اوقات انسان کو اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی مخلص شخص اس سے دور ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے ادب تعلقات کو جوڑتا ہے اور بے ادبی انہیں توڑ دیتی ہے۔
بے ادبی انسان کو تنہائی کی طرف لے جاتی ہے:
لوگ عموماً ایسے شخص کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں جس کے ساتھ انہیں عزت، اطمینان اور حسنِ معاشرت حاصل ہو۔ اس کے برعکس مسلسل بدکلامی، طنز، تحقیر اور سخت مزاجی انسان کے گرد ایک ایسا حصار پیدا کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں لوگ اس سے دور ہونے لگتے ہیں۔
یوں بے ادب شخص بسا اوقات یہ شکایت کرتا ہے کہ ”کوئی مجھے سمجھتا نہیں“، حالاں کہ اس کے اپنے رویے نے لوگوں کو اس سے دور کیا ہوتا ہے۔
بے ادبی سے عزت و وقار ختم ہوتا ہے:
عزت صرف دولت، منصب یا شہرت سے حاصل نہیں ہوتی۔ حقیقی عزت انسان کے کردار، اخلاق اور برتاؤ سے پیدا ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا [البقرۃ-٨٣]
ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔
اس مختصر حکم میں معاشرتی زندگی کا ایک عظیم اصول موجود ہے: گفتگو میں حسن پیدا کرو۔
جو شخص دوسروں سے عزت کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ خود بھی عزت پاتا ہے؛ اور جو دوسروں کی تحقیر کو اپنا طریقہ بنا لے، اس کی اپنی قدر و منزلت بھی گھٹنے لگتی ہے۔
بے ادبی علم کے فائدے کو بھی کم کر دیتی ہے
علم انسان کو بلند مقام دے سکتا ہے، مگر علم کے ساتھ ادب نہ ہو تو وہ علم شخصیت میں وہ حسن پیدا نہیں کرتا جو پیدا ہونا چاہیے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: ”علم کے ساتھ ادب ہو تو علم زینت بنتا ہے، اور ادب کے بغیر علم کبھی کبھی انسان کے لیے غرور کا سبب بن جاتا ہے۔“
ایک کم علم مگر باادب انسان لوگوں کے دل میں جگہ بنا سکتا ہے، جبکہ ایک بہت بڑا عالم، سائینسداں، ڈاکٹر بھی اگر بدزبان اور بداخلاق ہو تو لوگ اس کے قریب آنے سے گریز کرسکتے ہیں۔
بے ادبی اور زبان کا نقصان:
انسان کی بہت سی مشکلات اس کی زبان سے پیدا ہوتی ہیں۔ غصے میں کہے ہوئے الفاظ واپس نہیں آتے۔ زبان کی بے احتیاطی سے دل آزاری، دشمنی، قطع تعلقی اور پشیمانی پیدا ہو سکتی ہے۔ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔ [صحيح البخاري، كتاب الأدب]
یہ حدیثِ مبارکہ زبان کے استعمال کے لیے ایک نہایت جامع اصول فراہم کرتی ہے۔
بے ادبی کا علاج:
بے ادبی سے بچنے کے لیے انسان کو سب سے پہلے اپنے لہجے اور الفاظ پر نگاہ رکھنی چاہیے۔ گفتگو سے پہلے سوچے کہ جو بات میں کہنے جا رہا ہوں، کیا اسے اس سے بہتر انداز میں کہا جا سکتا ہے ؟ بڑوں کے ساتھ احترام، چھوٹوں کے ساتھ شفقت، دوستوں کے ساتھ خلوص، اختلاف کرنے والوں کے ساتھ بھی شائستگی اور ہر انسان کے ساتھ مناسب حسنِ سلوک اختیار کرنا چاہیے۔ یاد رکھیے: ہر سچی بات کہنا ضروری نہیں، اور ہر بات غلط انداز میں کہنا تو بالکل ضروری نہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بے ادبی انسان سے صرف لوگوں کی محبت نہیں چھینتی بلکہ اس کے وقار، تعلقات، اعتماد اور معاشرتی مقام کو بھی متأثر کرتی ہے۔ اس کے برعکس ادب انسان کی شخصیت کو نکھارتا، تعلقات کو مضبوط کرتا اور دلوں میں جگہ پیدا کرتا ہے۔ اس لیے زندگی میں کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان کتنا جانتا ہے؛ اصل کامیابی یہ بھی ہے کہ وہ کتنے سلیقے سے جیتا ہے، کتنے احترام سے بات کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ ادب انسان کو انسان بناتا ہے، اور بے ادبی انسان کی بہت سی اچھائیوں کو بھی بے اثر کر دیتی ہے۔ با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو-٢، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
25
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

آدابِ گفتگو اور اس کی اہمیت

ادب اور زندگی کا تعلق

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢