مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
✍️ Muhammad Anas Raza Haami
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان بہت بڑی ہے، کوئی ایسا نہیں جس کا نکاح پیغمبر کی دو شہزادی سے ہوا ہے سوائے حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے۔ پیارے نبی ﷺ نے اپنی دوسری شہزادی حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا، جب حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ظاہری وصال ٢ھ میں ہو گیا، اور حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت مایوس ہو گئے تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی تیسری شہزادی حضرتِ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح بھی حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کر دیا۔ جب لوگوں نے باتیں کہنا شروع کیا تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میری اور شہزادیاں ہوتیں تو میں سب کا نکاح عثمان سے کر دیتا، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مال نے مسلمانوں کو بہت فائدہ دیا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی بہت پریشانی تھی صرف ایک کنواں تھا جس کا پانی پینے کے قابل تھا اُس کا نام ”بئرِ رُومَہ“ تھا، اُس کا مالک ایک یہودی تھا، اُس نے اُس کوئیں کو ذریعۂ معاش بنا کر رکھا تھا اور پانی بہت مہنگا دیتا۔ جب حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ لوگ پریشان ہو رہے ہیں تو اُنہوں نے بارہ ہزار (١٢٠٠٠) درہم میں آدھا کنواں خرید لیا۔ شرط طے ہوئی کہ ایک روز حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باری ہوگی اور دوسرے دن اُس یہودی کی۔ جس دن امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باری ہوتی اس دن لوگ اتنا پانی بھر لیتے کہ یہودی کی باری کے دن کسی کو پانی کی حاجت ہی نہ پڑتی۔ بعد میں حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور ۸؍ہزار درہم دے کر اُس کوئیں کو خرید لیا اور عام مسلمانوں کے لیے وقف فرما دیا۔ [الاستیعاب]
حضرتِ سیدنا مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم جب پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں حضرتِ سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح کا درخواست لے کر پہنچے تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! تمہارے پاس مہر کے لیے کیا ہے ؟ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کچھ نہیں ہے یا نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَیں نے ایک زرہ تم کو دیا تھا وہ کہاں ہے ؟ حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہ میرے پاس ہے، تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اُس سے مہر ادا کر دینا، تو حضرتِ سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس زرہ کو فروخت کرنا چاہا تو اُس زرہ کو حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار سو اسّی (480) درہم میں خریدا، حضرتِ شیرِ خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پورا حال رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربارِ مقدس میں سنایا اور نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے دعا فرمائی۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تبلیغِ اسلام کے لیے، مخلوقِ خدا کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔
حضرتِ امیر المومنین خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابقین اولین، اوّلُ المہاجرین اور عشرۂ مبشرہ صحابہ میں سے ہیں اور اُن چھ اشخاص میں سے ہیں جن سے رسولِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وقتِ وصال تک خوش رہے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک سو چھیالیس (146) حدیثیں مروی ہیں۔ حضرات سیدونا زید بن خالد، ابن زبیر، سائب بن زید، اَنَس بن مالک، زید بن ثابت، سلمہ بن اکوع، ابوامامہ ہابلی، ابن عباس، ابن عمر، عبداللّٰه بن مغفل، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ سے روایت کرتے ہیں۔ ابن سعد عبدالرحمٰن بن حاطب سے روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو نہ دیکھا کہ وہ ایسی خوش اسلوبی اور پورے طور سے حدیث بیان کرتا ہو جیسے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں۔ محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ مناسکِ حج کو حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے زیادہ جانتے تھے اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
بیہقی اپنی سنن میں عبداللہ بن عمر بن ابان جعفی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میرے ماموں حسین جعفی نے کہا کہ کیا تمھیں معلوم ہے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذوالنورین کیوں کہتے ہیں ؟ مَیں نے کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم۔ اُنہوں نے کہا کہ حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر اِس وقت تک علاوہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی شخص کے نکاح میں پیغمبر کی دو بیٹیاں نہیں آئیں۔ [تاریخ الخلفاء] اِس سے یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ اور کسی کو یہ مقام حاصل ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ اب کوئی اور نبی قطعی نہیں آئے گا اور جو نیا نبی آنا جائز جانے، وہ کافر ہے۔
آپ کی پوری زندگی ہی شان و عظمت سے پُر ہے، پڑھیں اور شان و سیرتِ عثمانِ ذوالنورین رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے فیضیاب ہوں۔
نام و نسب کے متعلق ”تاریخ الخلفاء، صفحہ: 217“ پر ہے: اسم: عثمان ہے۔ کنیت: ابوعبداللہ، ابوعَمرو و ابولیلیٰ ہے۔ اسمِ پدر: عفان بن ابی العاص۔ اسمِ مادر: ارویٰ بنت کُریز۔
نسبِ پدری: حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدالشمس بن عبدِ مناف بن قصی۔
نسبِ مادری: حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ارویٰ بنت کُریز بن ربیعہ بن حبیب بن بعدالشمس بن عبدمناف بن قصی۔ [طبقات ابنِ سعد، جلد:٣، صفحہ:٣٠]
حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ماں باپ کا نسب عبدالشمس بن عبد مناف پر مل جاتا ہے اور عبد مناف کے ایک بیٹے حضرتِ ہاشم ہیں جو پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پَر دادا ہیں۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعۂ فیل کے 6؍سال بعد اور ہجرتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سینتالیس (47) سال پہلے قریش کی ایک شاخ ”بنو امیہ“ میں پیدا ہوئے [تاریخ الخلفاء، صفحہ: 217]، اور بنو امیہ میں ہی حضرتِ سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ بھی تشریف لائے۔
ابن عساکر کئی طریقوں سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میانہ قد تھے، نہ چھوٹے اور نہ لمبے، نہایت خوبصورت تھے۔ ابن عساکر عبداللہ بن حزم مازنی سے روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بڑھ کر کسی مرد و عورت کو خوبصورت نہیں دیکھا۔ رنگ سرخی مائل گورا تھا۔ چہرے پر چیچک کے داغ تھے۔ داڑھی گھنی تھی۔ جوڑ بڑے بڑے اور سینہ فراخ تھا۔ پنڈلیاں گوشت سے پُر تھیں۔ بازو لمبے تھے اور اُن پر بال تھے۔ سر کے بال گھنگریالے تھے اور اصلع تھے۔ دندان بہت ہی خوبصورت تھے۔ آپ کی کنپٹیوں کے بال کانوں سے نیچے لٹکتے تھے۔
ایامِ جہالت میں حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندان بڑی شان و شوکت کا مالک تھا۔ امیہ بن عبدالشمس جواں مردی اور بہادری میں بہت مشہور تھا۔ خلفائے بنو امیہ اسی امیہ کی طرف منسوب ہیں۔ قریش کا قومی پرچم ”عقاب“ بھی اِسی خاندان کے قبضے میں تھا۔ اِس خاندان کی شان اُن ایام میں بہت بلند تھی اسی وجہ سے بنو امیہ بنو ہاشم کے مقابلے کا تھا۔ اِسی لیے جب پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا تو دوسرے قبیلوں کے بمقابل بنو امیہ سے دشمنی زیادہ پائی جاتی تھی۔ حضرتِ ابوسفیان جو بدر و اُحُد میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خلاف رہے اور نہایت بڑے جانے جاتے تھے اِسی خاندان سے تھے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عام عرب کی روش سے ہٹ کر لکھنا اور پڑھنا سیکھا۔ عہدِ شباب کا آغاز ہوا تو تجارت سے وابستہ ہو گئے اور اپنی دیانت و صداقت کی بنیاد پر ترقی کرکے قریش کے اندر مالداروں میں شمار کیے جانے لگے۔
جو صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرتِ امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ سے اسلام لائے اُنہیں میں سے ایک خلیفۃ المسلمین، امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھے ہیں لیکن بعض روایات میں چوتھے نمبر پر دوسرے صحابہ کے بھی نام ملتے ہیں۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 34/سال میں قدم رکھا تھا تب شہنشاہِ کون و مکاں نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی صادق نبوت کا اعلان فرمایا، حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گوش حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلان سے نا آشنا تھا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرتِ ابوبکر صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت اچھی دوستی تھی۔ حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام کے بارے میں بتایا، حضور صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باتوں سے اس قدر متأثر ہوئے کہ فوراً بارگاہِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر مسلمان ہونے کے لیے آمادہ ہو گئے، ابھی دونوں حضرات نے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ نورِ دو جہاں، نورِ الٰہی، شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خود حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خانہ پر تشریف لے آئے (سبحان اللہ تعالیٰ) اور فرمایا: اے عثمان! خدا کی جنت کو قبول کر لیں! مَیں تیری اور پوری کائنات کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ اِنہیں جملوں کے ساتھ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان ہو گئے۔
حضرتِ امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے بعد حضور ﷺ نے اپنی منجھلی شہزادی حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں دے دیا اور شرفِ دامادی سے رتبہ بلند فرمایا۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح سے قبل حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ابولہب کے بیٹے عتبہ (جو بعد میں مسلمان ہوئے) سے ہوا تھا۔ جب پیارے نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی صادق نبوت کا اعلان فرمایا تو پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دشمنی کرتے ہوئے اُس خبیث نے عتبہ پر زور ڈالا اور شہزادئ رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دلوا دیا۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو مرتبہ ہجرت فرمائی۔ پہلی ہجرت حبشہ کی طرف کی۔ جب مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے عاشقین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے لگے تو سرکارِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہجرت کی اجازت عطا فرمائی۔ حبشہ کی جانب دو گروہ نکلے، ایک میں لیڈر برادرِ علی المرتضیٰ حضرت سیدنا جعفرِ طیار بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ دوسرے میں لیڈر حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ظلم و ستم کے بڑھ جانے کے بعد پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اشارے پر حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی اہلیہ حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ساتھ لے کر حبشہ کی طرف چلے۔ یہ قافلہ ١١؍مَردوں اور 4 عورتوں کا تھا۔ یہ پہلا قافلہ تھا جس نے اسلام کے لیے اور رضائے الٰہی کے لیے وطن اور اہلِ وطن کو قربان کر دیا۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند سال حبشہ میں رہے اور قریش کے اسلام لانے کی جھوٹی خبر پھیلی، یہ خبر سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین مکہ شریف چلے گئے، وہاں پہنچ کر معاملہ بر عکس دیکھا تو صحابہ کرام واپس حبشہ چلے گئے مگر حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس نہیں گئے، مکہ شریف کا ماحول پہلے سے زیادہ بدتر ہو چکا تھا۔
جب ظلم و ستم کی آندھیاں اور تیز ہو گئی تو حضور پر نور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جہتِ مدینہ شریف ہجرت کرنے کی اجازتِ عام عطا فرما دی۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اہل و عیال کو لے کر مدینہ شریف چلے۔ مدینہ منورہ میں حضرتِ اوس بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں مہمان ہوئے۔
مکہ شریف میں تو نبئ اعظم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے چاہنے والوں پر مکہ مکرمہ میں تو ظلم کیا ہی گیا لیکن مدینہ شریف میں بھی مسلمانوں کو سکون سے نہ رہنے دیا گیا۔ مسلمانوں کو ارضِ جہاں سے مٹانے کے لیے کافروں نے جنگ و جدال کا راستہ اختیار کیا۔ اُن میں سب سے پہلی بڑی جنگ” جنگِ بدر“ ہے جو 17؍رمضان شریف ٢ھ میں لڑی گئی۔ جنگِ بدر کے وقت شہزادئ رسول ﷺ حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بسترِ علالت پر تھیں، اُن کی دیکھ بھالی کے لیے رسولِ کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ میں رُکنے کو کہا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت دل و جان سے تیمارداری کرتے رہے لیکن حضرتِ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اپنے مالکِ حقیقی سے ملنے کا وقت آگیا تھا۔ ٢ھ میں وصال ہو گیا۔
حضرتِ عثمان و حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما تجہیز و تکفین میں تھے کہ مدینہ منورہ میں جنگِ بدر کے فتح کی خبر آگئی۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر دو دکھوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، ایک تو اہلیہ کا ظاہری وصال ہو گیا اور دوسرا جنگِ بدر میں شامل ہونے کا موقع نہ مل پایا۔ پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مجاہد قرار دیا، اور مالِ غنیمت سے حصہ بھی عطا فرمایا اور اپنی تیسری شہزادی حضرتِ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھی نکاح حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کر دیا، پے در پے دو شہزادئ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نکاح کی وجہ سے آپ کو ”ذوالنورین“ یعنی: ”دو نور والا“ کا لقب ملا۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
١٥؍شوال المکرم ٣ھ میں جنگِ اُحُد لڑی گئی، اِس میں حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت بہادری دکھائی۔ بعد میں جب پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شہید ہونے کی غلط خبر پھیل گئی تو چند صحابہ نے سوچا کہ اب جب نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہو گیا ہے تو ہم لڑ کر کیا کریں گے ؟ تو وہ مدینہ منورہ کا رخ کر لیے، اُن میں سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ لیکن یہ اجتہادی غلطی تھی اِس لیے مولیٰ عزوجل نے اُنہیں معاف کر فرما دیا اور اس معافی کی گواہ قرآنِ عظیم کی بہت سی آیتیں ہیں۔
jamiaturrazastudents.com
ذوقعدہ 6؍ہجری میں پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا اور چودہ سو مسلمانوں کے ساتھ مکہ شریف کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ خبر جان کر مشرکین مکمل تیاری کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو گئے، لیکن حضور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جنگ نہ کرنی تھی تو اُنہوں نے مقامِ حدیبیہ میں قیام فرمایا۔ حقیقتِ حال سے آگاہ کرنے کے لیے حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے پر مکہ مکرمہ بھیجا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مکہ شریف پہنچے اور بات آگے بڑھائی تو بھی لوگوں نے کوئی توجہ نہ دی۔ آپ سے کہا کہ آپ طواف کر سکتے ہیں لیکن یہ وہ عاشقِ رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہیں جو ہر سانس میں پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نامِ مبارک لیتے ہیں۔ اُنہوں نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ہے کہ مَیں جانِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بنا طواف کر لوں ؟ مشرکین نے نگرانی سخت کر دی کہ آپ واپس نہ جا پائیں اور حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہید ہونے کی جھوٹی خبر پھیلا دی۔ جب پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ خبر سنی تو حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کا انتقام لینے کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ایک درخت کے نیچے بیعت لی اور اپنے ایک دست اقدس پر دوسرا دست اقدس رکھ کر فرمایا کہ یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے۔ یہ شرف و امتیاز حضرتِ امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کسی کے حصہ میں نہ آیا، قریش نے حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو واپس کر دیا۔ اُس کے بعد چند شرائط پر دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہوئی اس بیعت کو” بیعتِ رضوان“ اور صلح کو فتحِ مبین کہتے ہیں۔ حضرتِ عثمان رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ معرکۂ خیبر 7؍ہجری اور فتحِ مکہ 8؍ہجری میں شریک رہے۔
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں
مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان بہت بڑی ہے، کوئی ایسا نہیں جس کا نکاح پیغمبر کی دو شہزادی سے ہوا ہے سوائے حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے۔ پیارے نبی ﷺ نے اپنی دوسری شہزادی حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا، جب حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ظاہری وصال ٢ھ میں ہو گیا، اور حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت مایوس ہو گئے تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی تیسری شہزادی حضرتِ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح بھی حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کر دیا۔ جب لوگوں نے باتیں کہنا شروع کیا تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میری اور شہزادیاں ہوتیں تو میں سب کا نکاح عثمان سے کر دیتا، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مال نے مسلمانوں کو بہت فائدہ دیا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی بہت پریشانی تھی صرف ایک کنواں تھا جس کا پانی پینے کے قابل تھا اُس کا نام ”بئرِ رُومَہ“ تھا، اُس کا مالک ایک یہودی تھا، اُس نے اُس کوئیں کو ذریعۂ معاش بنا کر رکھا تھا اور پانی بہت مہنگا دیتا۔ جب حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ لوگ پریشان ہو رہے ہیں تو اُنہوں نے بارہ ہزار (١٢٠٠٠) درہم میں آدھا کنواں خرید لیا۔ شرط طے ہوئی کہ ایک روز حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باری ہوگی اور دوسرے دن اُس یہودی کی۔ جس دن امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باری ہوتی اس دن لوگ اتنا پانی بھر لیتے کہ یہودی کی باری کے دن کسی کو پانی کی حاجت ہی نہ پڑتی۔ بعد میں حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور ۸؍ہزار درہم دے کر اُس کوئیں کو خرید لیا اور عام مسلمانوں کے لیے وقف فرما دیا۔ [الاستیعاب]
حضرتِ سیدنا مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم جب پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں حضرتِ سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح کا درخواست لے کر پہنچے تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! تمہارے پاس مہر کے لیے کیا ہے ؟ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کچھ نہیں ہے یا نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَیں نے ایک زرہ تم کو دیا تھا وہ کہاں ہے ؟ حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہ میرے پاس ہے، تو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اُس سے مہر ادا کر دینا، تو حضرتِ سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس زرہ کو فروخت کرنا چاہا تو اُس زرہ کو حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار سو اسّی (480) درہم میں خریدا، حضرتِ شیرِ خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پورا حال رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربارِ مقدس میں سنایا اور نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے دعا فرمائی۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تبلیغِ اسلام کے لیے، مخلوقِ خدا کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔
حضرتِ امیر المومنین خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابقین اولین، اوّلُ المہاجرین اور عشرۂ مبشرہ صحابہ میں سے ہیں اور اُن چھ اشخاص میں سے ہیں جن سے رسولِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وقتِ وصال تک خوش رہے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک سو چھیالیس (146) حدیثیں مروی ہیں۔ حضرات سیدونا زید بن خالد، ابن زبیر، سائب بن زید، اَنَس بن مالک، زید بن ثابت، سلمہ بن اکوع، ابوامامہ ہابلی، ابن عباس، ابن عمر، عبداللّٰه بن مغفل، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ سے روایت کرتے ہیں۔ ابن سعد عبدالرحمٰن بن حاطب سے روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو نہ دیکھا کہ وہ ایسی خوش اسلوبی اور پورے طور سے حدیث بیان کرتا ہو جیسے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں۔ محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ مناسکِ حج کو حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے زیادہ جانتے تھے اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
بیہقی اپنی سنن میں عبداللہ بن عمر بن ابان جعفی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میرے ماموں حسین جعفی نے کہا کہ کیا تمھیں معلوم ہے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذوالنورین کیوں کہتے ہیں ؟ مَیں نے کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم۔ اُنہوں نے کہا کہ حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر اِس وقت تک علاوہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی شخص کے نکاح میں پیغمبر کی دو بیٹیاں نہیں آئیں۔ [تاریخ الخلفاء] اِس سے یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ اور کسی کو یہ مقام حاصل ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ اب کوئی اور نبی قطعی نہیں آئے گا اور جو نیا نبی آنا جائز جانے، وہ کافر ہے۔
آپ کی پوری زندگی ہی شان و عظمت سے پُر ہے، پڑھیں اور شان و سیرتِ عثمانِ ذوالنورین رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے فیضیاب ہوں۔
نام و نسب کے متعلق ”تاریخ الخلفاء، صفحہ: 217“ پر ہے: اسم: عثمان ہے۔ کنیت: ابوعبداللہ، ابوعَمرو و ابولیلیٰ ہے۔ اسمِ پدر: عفان بن ابی العاص۔ اسمِ مادر: ارویٰ بنت کُریز۔
نسبِ پدری: حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدالشمس بن عبدِ مناف بن قصی۔
نسبِ مادری: حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ارویٰ بنت کُریز بن ربیعہ بن حبیب بن بعدالشمس بن عبدمناف بن قصی۔ [طبقات ابنِ سعد، جلد:٣، صفحہ:٣٠]
حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ماں باپ کا نسب عبدالشمس بن عبد مناف پر مل جاتا ہے اور عبد مناف کے ایک بیٹے حضرتِ ہاشم ہیں جو پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پَر دادا ہیں۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعۂ فیل کے 6؍سال بعد اور ہجرتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سینتالیس (47) سال پہلے قریش کی ایک شاخ ”بنو امیہ“ میں پیدا ہوئے [تاریخ الخلفاء، صفحہ: 217]، اور بنو امیہ میں ہی حضرتِ سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ بھی تشریف لائے۔
ابن عساکر کئی طریقوں سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میانہ قد تھے، نہ چھوٹے اور نہ لمبے، نہایت خوبصورت تھے۔ ابن عساکر عبداللہ بن حزم مازنی سے روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بڑھ کر کسی مرد و عورت کو خوبصورت نہیں دیکھا۔ رنگ سرخی مائل گورا تھا۔ چہرے پر چیچک کے داغ تھے۔ داڑھی گھنی تھی۔ جوڑ بڑے بڑے اور سینہ فراخ تھا۔ پنڈلیاں گوشت سے پُر تھیں۔ بازو لمبے تھے اور اُن پر بال تھے۔ سر کے بال گھنگریالے تھے اور اصلع تھے۔ دندان بہت ہی خوبصورت تھے۔ آپ کی کنپٹیوں کے بال کانوں سے نیچے لٹکتے تھے۔
ایامِ جہالت میں حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندان بڑی شان و شوکت کا مالک تھا۔ امیہ بن عبدالشمس جواں مردی اور بہادری میں بہت مشہور تھا۔ خلفائے بنو امیہ اسی امیہ کی طرف منسوب ہیں۔ قریش کا قومی پرچم ”عقاب“ بھی اِسی خاندان کے قبضے میں تھا۔ اِس خاندان کی شان اُن ایام میں بہت بلند تھی اسی وجہ سے بنو امیہ بنو ہاشم کے مقابلے کا تھا۔ اِسی لیے جب پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا تو دوسرے قبیلوں کے بمقابل بنو امیہ سے دشمنی زیادہ پائی جاتی تھی۔ حضرتِ ابوسفیان جو بدر و اُحُد میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خلاف رہے اور نہایت بڑے جانے جاتے تھے اِسی خاندان سے تھے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عام عرب کی روش سے ہٹ کر لکھنا اور پڑھنا سیکھا۔ عہدِ شباب کا آغاز ہوا تو تجارت سے وابستہ ہو گئے اور اپنی دیانت و صداقت کی بنیاد پر ترقی کرکے قریش کے اندر مالداروں میں شمار کیے جانے لگے۔
جو صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرتِ امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ سے اسلام لائے اُنہیں میں سے ایک خلیفۃ المسلمین، امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھے ہیں لیکن بعض روایات میں چوتھے نمبر پر دوسرے صحابہ کے بھی نام ملتے ہیں۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 34/سال میں قدم رکھا تھا تب شہنشاہِ کون و مکاں نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی صادق نبوت کا اعلان فرمایا، حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گوش حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلان سے نا آشنا تھا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرتِ ابوبکر صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت اچھی دوستی تھی۔ حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام کے بارے میں بتایا، حضور صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باتوں سے اس قدر متأثر ہوئے کہ فوراً بارگاہِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر مسلمان ہونے کے لیے آمادہ ہو گئے، ابھی دونوں حضرات نے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ نورِ دو جہاں، نورِ الٰہی، شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خود حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خانہ پر تشریف لے آئے (سبحان اللہ تعالیٰ) اور فرمایا: اے عثمان! خدا کی جنت کو قبول کر لیں! مَیں تیری اور پوری کائنات کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ اِنہیں جملوں کے ساتھ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان ہو گئے۔
حضرتِ امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے بعد حضور ﷺ نے اپنی منجھلی شہزادی حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں دے دیا اور شرفِ دامادی سے رتبہ بلند فرمایا۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح سے قبل حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ابولہب کے بیٹے عتبہ (جو بعد میں مسلمان ہوئے) سے ہوا تھا۔ جب پیارے نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی صادق نبوت کا اعلان فرمایا تو پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دشمنی کرتے ہوئے اُس خبیث نے عتبہ پر زور ڈالا اور شہزادئ رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دلوا دیا۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو مرتبہ ہجرت فرمائی۔ پہلی ہجرت حبشہ کی طرف کی۔ جب مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے عاشقین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے لگے تو سرکارِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہجرت کی اجازت عطا فرمائی۔ حبشہ کی جانب دو گروہ نکلے، ایک میں لیڈر برادرِ علی المرتضیٰ حضرت سیدنا جعفرِ طیار بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ دوسرے میں لیڈر حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ظلم و ستم کے بڑھ جانے کے بعد پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اشارے پر حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی اہلیہ حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ساتھ لے کر حبشہ کی طرف چلے۔ یہ قافلہ ١١؍مَردوں اور 4 عورتوں کا تھا۔ یہ پہلا قافلہ تھا جس نے اسلام کے لیے اور رضائے الٰہی کے لیے وطن اور اہلِ وطن کو قربان کر دیا۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند سال حبشہ میں رہے اور قریش کے اسلام لانے کی جھوٹی خبر پھیلی، یہ خبر سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین مکہ شریف چلے گئے، وہاں پہنچ کر معاملہ بر عکس دیکھا تو صحابہ کرام واپس حبشہ چلے گئے مگر حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس نہیں گئے، مکہ شریف کا ماحول پہلے سے زیادہ بدتر ہو چکا تھا۔
جب ظلم و ستم کی آندھیاں اور تیز ہو گئی تو حضور پر نور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جہتِ مدینہ شریف ہجرت کرنے کی اجازتِ عام عطا فرما دی۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اہل و عیال کو لے کر مدینہ شریف چلے۔ مدینہ منورہ میں حضرتِ اوس بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں مہمان ہوئے۔
مکہ شریف میں تو نبئ اعظم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے چاہنے والوں پر مکہ مکرمہ میں تو ظلم کیا ہی گیا لیکن مدینہ شریف میں بھی مسلمانوں کو سکون سے نہ رہنے دیا گیا۔ مسلمانوں کو ارضِ جہاں سے مٹانے کے لیے کافروں نے جنگ و جدال کا راستہ اختیار کیا۔ اُن میں سب سے پہلی بڑی جنگ” جنگِ بدر“ ہے جو 17؍رمضان شریف ٢ھ میں لڑی گئی۔ جنگِ بدر کے وقت شہزادئ رسول ﷺ حضرتِ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بسترِ علالت پر تھیں، اُن کی دیکھ بھالی کے لیے رسولِ کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ میں رُکنے کو کہا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت دل و جان سے تیمارداری کرتے رہے لیکن حضرتِ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اپنے مالکِ حقیقی سے ملنے کا وقت آگیا تھا۔ ٢ھ میں وصال ہو گیا۔
حضرتِ عثمان و حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما تجہیز و تکفین میں تھے کہ مدینہ منورہ میں جنگِ بدر کے فتح کی خبر آگئی۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر دو دکھوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، ایک تو اہلیہ کا ظاہری وصال ہو گیا اور دوسرا جنگِ بدر میں شامل ہونے کا موقع نہ مل پایا۔ پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مجاہد قرار دیا، اور مالِ غنیمت سے حصہ بھی عطا فرمایا اور اپنی تیسری شہزادی حضرتِ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھی نکاح حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کر دیا، پے در پے دو شہزادئ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نکاح کی وجہ سے آپ کو ”ذوالنورین“ یعنی: ”دو نور والا“ کا لقب ملا۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
١٥؍شوال المکرم ٣ھ میں جنگِ اُحُد لڑی گئی، اِس میں حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت بہادری دکھائی۔ بعد میں جب پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شہید ہونے کی غلط خبر پھیل گئی تو چند صحابہ نے سوچا کہ اب جب نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہو گیا ہے تو ہم لڑ کر کیا کریں گے ؟ تو وہ مدینہ منورہ کا رخ کر لیے، اُن میں سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ لیکن یہ اجتہادی غلطی تھی اِس لیے مولیٰ عزوجل نے اُنہیں معاف کر فرما دیا اور اس معافی کی گواہ قرآنِ عظیم کی بہت سی آیتیں ہیں۔
jamiaturrazastudents.com
ذوقعدہ 6؍ہجری میں پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا اور چودہ سو مسلمانوں کے ساتھ مکہ شریف کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ خبر جان کر مشرکین مکمل تیاری کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو گئے، لیکن حضور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جنگ نہ کرنی تھی تو اُنہوں نے مقامِ حدیبیہ میں قیام فرمایا۔ حقیقتِ حال سے آگاہ کرنے کے لیے حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے پر مکہ مکرمہ بھیجا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مکہ شریف پہنچے اور بات آگے بڑھائی تو بھی لوگوں نے کوئی توجہ نہ دی۔ آپ سے کہا کہ آپ طواف کر سکتے ہیں لیکن یہ وہ عاشقِ رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہیں جو ہر سانس میں پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نامِ مبارک لیتے ہیں۔ اُنہوں نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ہے کہ مَیں جانِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بنا طواف کر لوں ؟ مشرکین نے نگرانی سخت کر دی کہ آپ واپس نہ جا پائیں اور حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہید ہونے کی جھوٹی خبر پھیلا دی۔ جب پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ خبر سنی تو حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کا انتقام لینے کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ایک درخت کے نیچے بیعت لی اور اپنے ایک دست اقدس پر دوسرا دست اقدس رکھ کر فرمایا کہ یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے۔ یہ شرف و امتیاز حضرتِ امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کسی کے حصہ میں نہ آیا، قریش نے حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو واپس کر دیا۔ اُس کے بعد چند شرائط پر دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہوئی اس بیعت کو” بیعتِ رضوان“ اور صلح کو فتحِ مبین کہتے ہیں۔ حضرتِ عثمان رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ معرکۂ خیبر 7؍ہجری اور فتحِ مکہ 8؍ہجری میں شریک رہے۔
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
- 1 اربعینِ نکاح مفتی جسیم اکرم مرکزی کی عظیم کاوش
- 2 تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا رسالہ
- 3 رسالہ حلالہ اور طلاقِ ثلاثہ کا شرعی و عقلی تجزیہ امت کے لیے مفید تر کتاب
- 4 کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی
- 5 ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب
- 6 مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
- 7 سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
- 8 حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
- 9 واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
- 10 فیصلہ کرنے سے پہلے
- 11 اخلاص
- 12 کسی کا انتظار ہے
- 13 انتظار
- 14 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
- 15 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
- 16 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
- 17 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
- 18 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
- 19 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
- 20 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
- 21 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
- 22 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
- 23 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
- 24 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
- 25 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
- 26 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
- 27 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
- 28 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
- 29 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
- 30 حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
- 31 اسلام اور رزقِ حلال
- 32 دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
- 1 آپ پر ہے رب کی رحمت
- 2 دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا
- 3 تنہائی میں
- 4 خالقِ کل کی عطا قرآن ہے
- 5 رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری
- 6 خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری
- 7 ہیں عطائےخدا شاہ اختر رضا
- 8 آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ
- 9 لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت
- 10 تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء
- 11 ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک
مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
مختصر سیرتِ حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ و خلافتِ مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم [آخری قسط] *رحلتِ رسول ﷺ و خلافتِ صدیق و فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما:* حجۃ الوداع...
حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
حضرت سید زید شہید و حضرت سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اس دنیا میں اپنے صالح بندے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us