صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط پنجم]
عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط پنجم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط پنجم]

حدیث سے غلط استدلال کا تعاقب ـــــــــــــ

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا] اس مصرع کے مفہوم کو بے غبار بتاتے ہوئے ناقد صاحب یوں رقم طراز ہیں: رہی بات دوسرے مصرعے کی تو ہوسکتا ہے اس میں کوئی کم پڑھا لکھا انسان شک میں پڑجائے لیکن اہل علم کے نزدیک یہ مصرع بھی بے غبار ہے،
اقول: اہل علم کے نزدیک تو یہ مصرع بے غبار نہیں ہے لیکن ناقد صاحب نے اس مصرع کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جس قدر ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اس سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ ناقد صاحب کے نزدیک یہ فقط بے غبار ہی نہیں بلکہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ترجمانی ہے، کیونکہ وہ خود ہی لکھتے ہیں:
بلکہ حدیث رسول ﷺ کی ترجمانی ہے۔حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے دیدار سے اللہ تعالیٰ یاد آجاتا ہے اور ولیوں کی صحبت کو لازم پکڑنے سے رب تبارک وتعالی کاقرب حاصل ہوتاہے،لہٰذا ولی اللہ سے عقیدت رکھنے والا کوئی شخص اگر یہ کہے کہ میں قرب باری تعالی سے محروم تھا،رب تعالی کے ذکر سے غافل تھا، میں نے فلاں ولی اللہ کی صورت دیکھی، ان کا دیدار نصیب ہوا تومجھے میرا رب مل گیا یعنی رب کی رحمت مل گئی ،غفلت دور ہوگئی ،اور رب یاد آگیا تو اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں،اور اسی معنی کے لحاظ سے کوئی اہل اللہ یہ کہے ’’ صورت اشرف میں ہم کورب ہمارامل گیا‘‘توحرام یاشرک کیوں کر ہوگا؟ انتھی
صورت اشرف ہم کو رب ہمارا مل گیا
اس مصرع کا لازمی معنی ہے: اشرف کی صورت میں رب مل گیا -رضی اللہ عنہ و جل جلالہ- اہل علم نے یہی لکھا ہے کہ اس کا ظاہر کفر ہے اگر چہ اس میں تاویل بعید کی گنجائش ہے اب قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ حدیث رسول ہے: خياركم الذين إذا رءوا ذكر الله عز وجل [ابن ماجہ ٤١١٩] تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جنھیں دیکھ کر خدا یاد آئے
اب مصرع کا لازمی معنی دیکھیے :

اشرف کی صورت میں رب مل گیا ۔

کیا حدیث کا اور اس مصرع کا مفہوم ایک ہے کہاں دیکھ کر یاد آنا اور کہاں مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کی صورت میں رب کو پانا
کیا یہ حدیث کی ترجمانی ہے؟
اس کی مثال یوں سمجھیے!
کہا جائے کہ کوہ طور کو دیکھ کر خدا یاد آ گیا ،
اور کہا جائے کہ کوہ طور کی صورت میں رب مل گیا -معاذ اللہ-
اب قارئین بتائیں کیا دونوں ایک ہی ہیں، دونوں برابر ہیں ؟ کیا جملۂ ثانی کا مفہوم وہی ہے جو جملۂ اولی کا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ یہی کہیں گے کہ نہیں دونوں ایک نہیں ہے بلکہ دونوں کے مفہوم میں زمین و آسمان کا فرق ہے، میں اگر پوچھوں وہ کیسے؟ تو آپ یہی کہیں گے کہ
کوہ طور پر اللہ جل جلالہ نے اپنی تجلی ڈالی جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں جب کوہ طور کو دیکھا جاتا ہے تو خدا کی یاد آ جاتی ہے کیونکہ یہی وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ جل جلالہ نے اپنی تجلی ڈالی ۔
اور جب یہ کہا جائے کہ کوہ طور کی صورت میں رب مل گیا تو اس کا مفہوم ظاہر کفر ہوگا کیونکہ اس سے یہ مفہوم مستفاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ کی ذات کوہ طور کی صورت میں ہے - معاذ اللہ -
تو میں کہوں گا اس مسئلے کو بھی یوں ہی سمجھیں کہ اللہ جل جلالہ نے انسانِ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مظہر کامل بنایا اپنی جلوے کو ان میں ودیعت فرمائی اور انسان کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے وہ جلوے اولیاء اللہ میں منتقل ہوئے تو جب اللہ اولیا اللہ کو دیکھا تو تجلیات الہی کے مظہر ہونے کی وجہ سے خدا کی یاد آ گئی لیکن جب یہ کہا جائے انسان کی صورت میں اللہ جل جلالہ کو پایا، یا اللہ مل گیا تو یہ کہنا ہر گز صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اس سے یہ مفہوم نکلا کہ اللہ جل جلالہ صورتِ انسانیت میں مل گیا - معاذ اللہ - فتدبر!
اب بتائیں ناقد صاحب کہ دیکھ کر خدا یاد آ گیا اور صورت میں رب مل گیا کیا دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے؟۔ حاشا غلط غلط ہے یہ کنجی سقر کی ہے

فتاوی رضویہ سے غلط استدلال کا تعاقب ـــــــــــــ

ناقد صاحب نے شعر مذکور کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا مجموعۂ فتاوی، فتاوی رضویہ شریف سے ایک استفتا اور اس کا جواب نقل کیا ہے استفتا اور جواب من و عن منقول ہے ملاحظہ فرمائیں:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی درویش کہتاہے کہ پیر کی شکل پر متشکل ہو کر خداوند تعالٰی مرید سے ملاقات کرتا ہے اور دلیل کتاب انتباہ شاہ ولی اﷲ صاحب کی لاتاہے۔ مضمون کتاب ہذا یہ ہے کہ:
حضرت سلطان الموحدین و برہان العاشقین حجۃ المتکلمین شیخ جلال الحق مخدوم مولانا قاضی خاں صاحب یوسف ناصحی قدس سرہ العزیز چنین می فرمود کہ صورت مرشد کہ ظاہرًا دیدہ می شود مشاہدۂ حق سبحانہ وتعالٰی است بے پردۂ آب وگل کہ ان اﷲ خلق اٰدم علٰی صورۃ الرحمٰن ومن راٰنی فقدرأی الحق،
گرتجلی ذات خواہی صورت انساں ببیں
ذات حق را آشکارا اندروخنداں ببیں
اکثرعلماء دریں عبارت مذبورا مخالف ہستند، بادلیل معتبرہ عندالشرع شریفہ ہرچہ حق باشد۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
قول مذکور گستاخی اوردریدہ دہنی ہے، اور عبارت انتباہ سے اس پر استدلال غلط فہمی، عبارت کامطلب یہ ہے کہ لم یقضہ و قضیضہ، مظاہر و مجالی حضرت خالق عزوجل جلالہ ہے۔
فی الاٰفاق وانفسکم افلاتبصرونo مارأیت شیئا الاورأیت اﷲ فیہ۔
مظہراول واعظم واجل واتم واکمل کہ مظہر ذات ہے ذات اقدس حضورانورسید الکائنات علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات ہے، باقی تمام عالم حسب استعداد اس پرتواصلی کا پرتو درپرتو بواسطہ ووسائط ہے۔شیخ جس میں حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانوربصفت ہدایت وارشاد وتربیت متجلی ہے اور عالم ملکوت عالم ملك سے ازکٰی واصطفٰی واجلی وابہٰی واحلٰی ہے،تو اس سے مشاہدہ ایک زیادہ صاف ومجلی آئینہ سے مشاہدہ ہے ورنہ متجلی شکل وتشکل سے منزہ ومتعالٰی ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم [فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ١٢ ص : ١٥٢]
اس پر ناقد صاحب تحریر فرماتے ہیں: یعنی حضرت شخ جلال الحق قدس سرہ نے فرمایاہے کہ مرشد کی صورت جوظاہر میں نظر آتی ہے اس میں حق سبحانہ وتعالیٰ کامشاہدہ ہوتاہے،اور وہ مشاہدہ بے آب وگل کے ہے، جیساکہ اللہ تعالی کافرمان ہے اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو رحمٰن کی صورت(صفت)پر پیدا کیا،اور جس نے مجھے دیکھا اس نے حق کودیکھا۔
اگر ذات باری تعالی کی تجلی دیکھناچاہتاہے تو انسان کی صورت کودیکھ،اس ہنستے ہوئے انسان میں تو ذات حق کامشاہدہ کروگے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے سوال مذکور پر یہ جواب تحریر فرمایا: قول مذکور گستاخی اوردریددہنی ہے،اورعبارت انتباہ سے اس پر استدلال غلط فہمی۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کا قول اورشعر غلط ہے،یہ شرکیہ وکفریہ قول اور شعر ہے،بلکہ قائل کی توضیح کوغلط قرار دیا اور فرمایاکہ حضرت شاہ ولی اللہ کے قول کی توضیح میں قائل نے جوکہاوہ گستاخی ودریدہ دہنی ہے
اقول: ناقد صاحب کے مذکور بالا اقتباس کو پڑھیے اور اندازہ لگائیے کہ اس فتویٰ میں کونسی عبارت ہے جو مبحوث عنہ شعر صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
کو صحیح ثابت کر رہا ہے ؟
درویش نے کہا کہ پیر کی شکل میں متشکل ہو کر اللہ جل جلالہ ملاقات کرتا ہے اس پر دلیل بھی دی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ گستاخی اور دریدہ دہنی اور عبارت انتباہ سے استدلال غلط فہمی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے اسے دریدہ دہنی، گستاخی کیوں فرمایا: وہ اس لیے کہ درویش نے کہا پیر کی شکل و صورت میں متشکل ہو کر رب تبارک و تعالیٰ ملاقات کرتا ہے جو درویش کی دریدہ دہنی اور گستاخی پر بین ثبوت ہے۔
اب ان دونوں عبارت کو ملائیے!
پیر کی شکل یعنی پیر کی صورت اور اگر اضافت کرو تو صورتِ پیر اور فرض کرو کہ پیر کام نام اشرف ہے تو بنے گا صورتِ اشرف اب عبارت یوں ہوئی کہ صورت اشرف میں متشکل ہو کر خداوند تعالیٰ مرید سے ملاقات کرتا ہے
ملاقات کرتا ہے کا مطلب کیا ہوا یہی نا کہ ملتا ہے
خداوند -تعالیٰ- کا مترادف ہے رب تو اب اس عبارت کو یوں بھی لکھ سکتے ہیں کہ صورت اشرف میں متشکل ہو کر رب ملتا ہے
اب مبحوث عنہ مصرع کو دیکھیے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
اب بتائیے ناقد صاحب کہ دونوں فقروں میں کیا فرق رہا بس یہی نا کہ ایک قطعی بالمعنی الاخص ہے دوسرا قطعی بالمعنی الاعم ہے پہلے میں معنی کی تعیین ہو گئی ہے جس سے فقرۂ اولی متعین فی الکفر ہے اور دوسرے میں معنی کی تعیین نہیں ہوئی ہے بلکہ تاویل کی گنجائش ہے اس لیے متبین فی الکفر ہوا ؟
کیا ناقد صاحب اس سے یہ واضح نہیں ہوا کہ صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا کے بارے میں در پردہ آپ نے خود ہی اقرار کر لیا کہ یہ گستاخی اور دریدہ دہنی اور اس کو صحیح سمجھنا غلط فہمی ہے۔ فتأمل!
ناقد صاحب نے لکھا:
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کا قول اورشعر غلط ہے،یہ شرکیہ وکفریہ قول اور شعر ہے، بلکہ قائل کی توضیح کوغلط قرار دیا
اقول: درویش کی توضیح کو اعلی حضرت نے کیوں غلط قرار دیا یہ تو واضح ہے اور صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا کی وضاحت کے ساتھ ناقد صاحب بھی اس کو سمجھ گئے ہوں گے لیکن اعلی حضرت نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رضی اللہ عنہ کے قول کو اور شعر کو غلط یا کفریہ یا شرکیہ کیوں نہیں فرمایا: اب اس کو سمجھتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رضی اللہ عنہ کا قول ہے :
صورت مرشد کہ ظاہرًا دیدہ می شود مشاہدۂ حق سبحانہ وتعالٰی است بے پردۂ آب وگل یعنی ظاہری طور پر جو مرشد کی صورت نظر آتی وہ اللہ سبحانہ و تعالی کا بے پردۂ آب و گل یعنی تجلی کا مشاہدہ ہے بے پردۂ آب و گل یعنی جسیم و جسمانیت کے بغیر جو کہ تجلی الہی ہے جیسا کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ اس کا مطلب خود یوں بیان فرما رہے ہیں: عبارت کامطلب یہ ہے کہ لم یقضہ و قضیضہ، [پورا پورا ] مظاہر و مجالی حضرت خالق عزوجل جلالہ ہے۔
تو ناقد صاحب بتائیے کہ اس عبارت سے مبحوث عنہ مصرع کی صحت کہاں ثابت ہوئی یہاں تجلی الہی کا ذکر صاف صاف ہے ؟ جب بات پیر کی صورت میں تجلی الہی کے مشاہدے کی ہے تو پھر اعلی حضرت اس عبارت کو غلط شرکیہ یا کفریہ کیوں فرماتے؟ یہ تو درویش کی کج فہمی تھی کہ اس عبارت سے اپنا مدعی ثابت کرنے چلا تھا جیسا کہ آپ سے تسامح واقع ہوا کہ آپ نے بھی اسی عبارت سے مبحوث عنہ شعر کو بے غبار ثابت کرنا چاہا رہی بات شعر کی تو ایک بار شعر پھر پڑھ لیجیے:
گرتجلی ذات خواہی صورت انساں ببیں
ذات حق را آشکارا اندروخنداں ببیں
بتائیے اس شعر میں آپ کے لیے کیا دلیل ہے شعر میں تو واضح طور پر موجود ہے اگر تو اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلی دیکھنا چاہتا ہے تو انسان کو دیکھ کیونکہ ذات حق کی تجلی انسان کے اندر بحسن و خوبی نمایاں ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ونَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( سورۂ ق ١٦ ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ ثانی مصرع میں تو تجلی کا ذکر نہیں ہے تو آپ نے تجلی کا ترجمہ کیسے کیا تو جواب ہوگا سباق سے سیاق کا ترجمہ ہوا ہے کیونکہ سباق میں تجلی ذات واضح طور پر موجود ہے اور ثانی میں وزن شعری کی وجہ سے مضاف کو حذف کر کے صرف مضاف الیہ پر اکتفا کیا گیا ہے اور یہ اصولی، بلاغی قاعدہ ہے 'المحذوف کالمذکور" فافہم
اب ناقد صاحب فیصلہ فرمائیں کیا ان کے لیے اس شعر سے شعرِ مبحوث عنہ صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا کو موازنہ کرنا درست ہے؟ کہاں شعرِ تجلی بالکل بے غبار اور کہاں یہ شعرِ صورت اشرف غبار آلود کہ آپ لاکھ اس سے دھول صاف کرنا چاہتے ہیں لیکن ایک دھول صاف ہوتی نہیں کہ دوسری آن پڑتی ہے اس لیے مان جائیے کہ
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
کفر کے دھاگے میں ظاہر ذیل مصرع سِل گیا
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
رہی بات ان اﷲ خلق اٰدم علٰی صورۃ الرحمٰن، ومن راٰنی فقدرأی الحق دونوں حدیثوں کی تفصیلی بحث پچھلی قسطوں میں گزر چکی ہیں
اور فی الاٰفاق وانفسکم افلاتبصرونo مارأیت شیئا الاورأیت اﷲ فیہ۔ والی عبارت کا مطلب بھی وہی کہ یہاں تجلی دیکھنا مراد ہے جیسا کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے خود فرمایا : لم یقضہ و قضیضہ، مظاہر و مجالی حضرت خالق عزوجل جلالہ ہے۔ اور اسی کے بعد مذکورہ بالا عبارت ہے جو اسی عبارتِ مشاہدۂ تجلی کی تائید میں پیش کی گئی ہے جس کے قائل آپ خود بھی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط پنجم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط پنجم]

حدیث سے غلط استدلال کا تعاقب ـــــــــــــ

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا] اس مصرع کے مفہوم کو بے غبار بتاتے ہوئے ناقد صاحب یوں رقم طراز ہیں: رہی بات دوسرے مصرعے کی تو ہوسکتا ہے اس میں کوئی کم پڑھا لکھا انسان شک میں پڑجائے لیکن اہل علم کے نزدیک یہ مصرع بھی بے غبار ہے،
اقول: اہل علم کے نزدیک تو یہ مصرع بے غبار نہیں ہے لیکن ناقد صاحب نے اس مصرع کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جس قدر ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اس سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ ناقد صاحب کے نزدیک یہ فقط بے غبار ہی نہیں بلکہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ترجمانی ہے، کیونکہ وہ خود ہی لکھتے ہیں:
بلکہ حدیث رسول ﷺ کی ترجمانی ہے۔حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے دیدار سے اللہ تعالیٰ یاد آجاتا ہے اور ولیوں کی صحبت کو لازم پکڑنے سے رب تبارک وتعالی کاقرب حاصل ہوتاہے،لہٰذا ولی اللہ سے عقیدت رکھنے والا کوئی شخص اگر یہ کہے کہ میں قرب باری تعالی سے محروم تھا،رب تعالی کے ذکر سے غافل تھا، میں نے فلاں ولی اللہ کی صورت دیکھی، ان کا دیدار نصیب ہوا تومجھے میرا رب مل گیا یعنی رب کی رحمت مل گئی ،غفلت دور ہوگئی ،اور رب یاد آگیا تو اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں،اور اسی معنی کے لحاظ سے کوئی اہل اللہ یہ کہے ’’ صورت اشرف میں ہم کورب ہمارامل گیا‘‘توحرام یاشرک کیوں کر ہوگا؟ انتھی
صورت اشرف ہم کو رب ہمارا مل گیا
اس مصرع کا لازمی معنی ہے: اشرف کی صورت میں رب مل گیا -رضی اللہ عنہ و جل جلالہ- اہل علم نے یہی لکھا ہے کہ اس کا ظاہر کفر ہے اگر چہ اس میں تاویل بعید کی گنجائش ہے اب قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ حدیث رسول ہے: خياركم الذين إذا رءوا ذكر الله عز وجل [ابن ماجہ ٤١١٩] تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جنھیں دیکھ کر خدا یاد آئے
اب مصرع کا لازمی معنی دیکھیے :

اشرف کی صورت میں رب مل گیا ۔

کیا حدیث کا اور اس مصرع کا مفہوم ایک ہے کہاں دیکھ کر یاد آنا اور کہاں مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کی صورت میں رب کو پانا
کیا یہ حدیث کی ترجمانی ہے؟
اس کی مثال یوں سمجھیے!
کہا جائے کہ کوہ طور کو دیکھ کر خدا یاد آ گیا ،
اور کہا جائے کہ کوہ طور کی صورت میں رب مل گیا -معاذ اللہ-
اب قارئین بتائیں کیا دونوں ایک ہی ہیں، دونوں برابر ہیں ؟ کیا جملۂ ثانی کا مفہوم وہی ہے جو جملۂ اولی کا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ یہی کہیں گے کہ نہیں دونوں ایک نہیں ہے بلکہ دونوں کے مفہوم میں زمین و آسمان کا فرق ہے، میں اگر پوچھوں وہ کیسے؟ تو آپ یہی کہیں گے کہ
کوہ طور پر اللہ جل جلالہ نے اپنی تجلی ڈالی جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں جب کوہ طور کو دیکھا جاتا ہے تو خدا کی یاد آ جاتی ہے کیونکہ یہی وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ جل جلالہ نے اپنی تجلی ڈالی ۔
اور جب یہ کہا جائے کہ کوہ طور کی صورت میں رب مل گیا تو اس کا مفہوم ظاہر کفر ہوگا کیونکہ اس سے یہ مفہوم مستفاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ کی ذات کوہ طور کی صورت میں ہے - معاذ اللہ -
تو میں کہوں گا اس مسئلے کو بھی یوں ہی سمجھیں کہ اللہ جل جلالہ نے انسانِ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مظہر کامل بنایا اپنی جلوے کو ان میں ودیعت فرمائی اور انسان کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے وہ جلوے اولیاء اللہ میں منتقل ہوئے تو جب اللہ اولیا اللہ کو دیکھا تو تجلیات الہی کے مظہر ہونے کی وجہ سے خدا کی یاد آ گئی لیکن جب یہ کہا جائے انسان کی صورت میں اللہ جل جلالہ کو پایا، یا اللہ مل گیا تو یہ کہنا ہر گز صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اس سے یہ مفہوم نکلا کہ اللہ جل جلالہ صورتِ انسانیت میں مل گیا - معاذ اللہ - فتدبر!
اب بتائیں ناقد صاحب کہ دیکھ کر خدا یاد آ گیا اور صورت میں رب مل گیا کیا دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے؟۔ حاشا غلط غلط ہے یہ کنجی سقر کی ہے

فتاوی رضویہ سے غلط استدلال کا تعاقب ـــــــــــــ

ناقد صاحب نے شعر مذکور کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا مجموعۂ فتاوی، فتاوی رضویہ شریف سے ایک استفتا اور اس کا جواب نقل کیا ہے استفتا اور جواب من و عن منقول ہے ملاحظہ فرمائیں:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی درویش کہتاہے کہ پیر کی شکل پر متشکل ہو کر خداوند تعالٰی مرید سے ملاقات کرتا ہے اور دلیل کتاب انتباہ شاہ ولی اﷲ صاحب کی لاتاہے۔ مضمون کتاب ہذا یہ ہے کہ:
حضرت سلطان الموحدین و برہان العاشقین حجۃ المتکلمین شیخ جلال الحق مخدوم مولانا قاضی خاں صاحب یوسف ناصحی قدس سرہ العزیز چنین می فرمود کہ صورت مرشد کہ ظاہرًا دیدہ می شود مشاہدۂ حق سبحانہ وتعالٰی است بے پردۂ آب وگل کہ ان اﷲ خلق اٰدم علٰی صورۃ الرحمٰن ومن راٰنی فقدرأی الحق،
گرتجلی ذات خواہی صورت انساں ببیں
ذات حق را آشکارا اندروخنداں ببیں
اکثرعلماء دریں عبارت مذبورا مخالف ہستند، بادلیل معتبرہ عندالشرع شریفہ ہرچہ حق باشد۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
قول مذکور گستاخی اوردریدہ دہنی ہے، اور عبارت انتباہ سے اس پر استدلال غلط فہمی، عبارت کامطلب یہ ہے کہ لم یقضہ و قضیضہ، مظاہر و مجالی حضرت خالق عزوجل جلالہ ہے۔
فی الاٰفاق وانفسکم افلاتبصرونo مارأیت شیئا الاورأیت اﷲ فیہ۔
مظہراول واعظم واجل واتم واکمل کہ مظہر ذات ہے ذات اقدس حضورانورسید الکائنات علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات ہے، باقی تمام عالم حسب استعداد اس پرتواصلی کا پرتو درپرتو بواسطہ ووسائط ہے۔شیخ جس میں حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانوربصفت ہدایت وارشاد وتربیت متجلی ہے اور عالم ملکوت عالم ملك سے ازکٰی واصطفٰی واجلی وابہٰی واحلٰی ہے،تو اس سے مشاہدہ ایک زیادہ صاف ومجلی آئینہ سے مشاہدہ ہے ورنہ متجلی شکل وتشکل سے منزہ ومتعالٰی ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم [فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ١٢ ص : ١٥٢]
اس پر ناقد صاحب تحریر فرماتے ہیں: یعنی حضرت شخ جلال الحق قدس سرہ نے فرمایاہے کہ مرشد کی صورت جوظاہر میں نظر آتی ہے اس میں حق سبحانہ وتعالیٰ کامشاہدہ ہوتاہے،اور وہ مشاہدہ بے آب وگل کے ہے، جیساکہ اللہ تعالی کافرمان ہے اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو رحمٰن کی صورت(صفت)پر پیدا کیا،اور جس نے مجھے دیکھا اس نے حق کودیکھا۔
اگر ذات باری تعالی کی تجلی دیکھناچاہتاہے تو انسان کی صورت کودیکھ،اس ہنستے ہوئے انسان میں تو ذات حق کامشاہدہ کروگے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے سوال مذکور پر یہ جواب تحریر فرمایا: قول مذکور گستاخی اوردریددہنی ہے،اورعبارت انتباہ سے اس پر استدلال غلط فہمی۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کا قول اورشعر غلط ہے،یہ شرکیہ وکفریہ قول اور شعر ہے،بلکہ قائل کی توضیح کوغلط قرار دیا اور فرمایاکہ حضرت شاہ ولی اللہ کے قول کی توضیح میں قائل نے جوکہاوہ گستاخی ودریدہ دہنی ہے
اقول: ناقد صاحب کے مذکور بالا اقتباس کو پڑھیے اور اندازہ لگائیے کہ اس فتویٰ میں کونسی عبارت ہے جو مبحوث عنہ شعر صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
کو صحیح ثابت کر رہا ہے ؟
درویش نے کہا کہ پیر کی شکل میں متشکل ہو کر اللہ جل جلالہ ملاقات کرتا ہے اس پر دلیل بھی دی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ گستاخی اور دریدہ دہنی اور عبارت انتباہ سے استدلال غلط فہمی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے اسے دریدہ دہنی، گستاخی کیوں فرمایا: وہ اس لیے کہ درویش نے کہا پیر کی شکل و صورت میں متشکل ہو کر رب تبارک و تعالیٰ ملاقات کرتا ہے جو درویش کی دریدہ دہنی اور گستاخی پر بین ثبوت ہے۔
اب ان دونوں عبارت کو ملائیے!
پیر کی شکل یعنی پیر کی صورت اور اگر اضافت کرو تو صورتِ پیر اور فرض کرو کہ پیر کام نام اشرف ہے تو بنے گا صورتِ اشرف اب عبارت یوں ہوئی کہ صورت اشرف میں متشکل ہو کر خداوند تعالیٰ مرید سے ملاقات کرتا ہے
ملاقات کرتا ہے کا مطلب کیا ہوا یہی نا کہ ملتا ہے
خداوند -تعالیٰ- کا مترادف ہے رب تو اب اس عبارت کو یوں بھی لکھ سکتے ہیں کہ صورت اشرف میں متشکل ہو کر رب ملتا ہے
اب مبحوث عنہ مصرع کو دیکھیے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
اب بتائیے ناقد صاحب کہ دونوں فقروں میں کیا فرق رہا بس یہی نا کہ ایک قطعی بالمعنی الاخص ہے دوسرا قطعی بالمعنی الاعم ہے پہلے میں معنی کی تعیین ہو گئی ہے جس سے فقرۂ اولی متعین فی الکفر ہے اور دوسرے میں معنی کی تعیین نہیں ہوئی ہے بلکہ تاویل کی گنجائش ہے اس لیے متبین فی الکفر ہوا ؟
کیا ناقد صاحب اس سے یہ واضح نہیں ہوا کہ صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا کے بارے میں در پردہ آپ نے خود ہی اقرار کر لیا کہ یہ گستاخی اور دریدہ دہنی اور اس کو صحیح سمجھنا غلط فہمی ہے۔ فتأمل!
ناقد صاحب نے لکھا:
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کا قول اورشعر غلط ہے،یہ شرکیہ وکفریہ قول اور شعر ہے، بلکہ قائل کی توضیح کوغلط قرار دیا
اقول: درویش کی توضیح کو اعلی حضرت نے کیوں غلط قرار دیا یہ تو واضح ہے اور صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا کی وضاحت کے ساتھ ناقد صاحب بھی اس کو سمجھ گئے ہوں گے لیکن اعلی حضرت نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رضی اللہ عنہ کے قول کو اور شعر کو غلط یا کفریہ یا شرکیہ کیوں نہیں فرمایا: اب اس کو سمجھتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رضی اللہ عنہ کا قول ہے :
صورت مرشد کہ ظاہرًا دیدہ می شود مشاہدۂ حق سبحانہ وتعالٰی است بے پردۂ آب وگل یعنی ظاہری طور پر جو مرشد کی صورت نظر آتی وہ اللہ سبحانہ و تعالی کا بے پردۂ آب و گل یعنی تجلی کا مشاہدہ ہے بے پردۂ آب و گل یعنی جسیم و جسمانیت کے بغیر جو کہ تجلی الہی ہے جیسا کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ اس کا مطلب خود یوں بیان فرما رہے ہیں: عبارت کامطلب یہ ہے کہ لم یقضہ و قضیضہ، [پورا پورا ] مظاہر و مجالی حضرت خالق عزوجل جلالہ ہے۔
تو ناقد صاحب بتائیے کہ اس عبارت سے مبحوث عنہ مصرع کی صحت کہاں ثابت ہوئی یہاں تجلی الہی کا ذکر صاف صاف ہے ؟ جب بات پیر کی صورت میں تجلی الہی کے مشاہدے کی ہے تو پھر اعلی حضرت اس عبارت کو غلط شرکیہ یا کفریہ کیوں فرماتے؟ یہ تو درویش کی کج فہمی تھی کہ اس عبارت سے اپنا مدعی ثابت کرنے چلا تھا جیسا کہ آپ سے تسامح واقع ہوا کہ آپ نے بھی اسی عبارت سے مبحوث عنہ شعر کو بے غبار ثابت کرنا چاہا رہی بات شعر کی تو ایک بار شعر پھر پڑھ لیجیے:
گرتجلی ذات خواہی صورت انساں ببیں
ذات حق را آشکارا اندروخنداں ببیں
بتائیے اس شعر میں آپ کے لیے کیا دلیل ہے شعر میں تو واضح طور پر موجود ہے اگر تو اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلی دیکھنا چاہتا ہے تو انسان کو دیکھ کیونکہ ذات حق کی تجلی انسان کے اندر بحسن و خوبی نمایاں ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ونَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( سورۂ ق ١٦ ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ ثانی مصرع میں تو تجلی کا ذکر نہیں ہے تو آپ نے تجلی کا ترجمہ کیسے کیا تو جواب ہوگا سباق سے سیاق کا ترجمہ ہوا ہے کیونکہ سباق میں تجلی ذات واضح طور پر موجود ہے اور ثانی میں وزن شعری کی وجہ سے مضاف کو حذف کر کے صرف مضاف الیہ پر اکتفا کیا گیا ہے اور یہ اصولی، بلاغی قاعدہ ہے 'المحذوف کالمذکور" فافہم
اب ناقد صاحب فیصلہ فرمائیں کیا ان کے لیے اس شعر سے شعرِ مبحوث عنہ صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا کو موازنہ کرنا درست ہے؟ کہاں شعرِ تجلی بالکل بے غبار اور کہاں یہ شعرِ صورت اشرف غبار آلود کہ آپ لاکھ اس سے دھول صاف کرنا چاہتے ہیں لیکن ایک دھول صاف ہوتی نہیں کہ دوسری آن پڑتی ہے اس لیے مان جائیے کہ
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
کفر کے دھاگے میں ظاہر ذیل مصرع سِل گیا
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
رہی بات ان اﷲ خلق اٰدم علٰی صورۃ الرحمٰن، ومن راٰنی فقدرأی الحق دونوں حدیثوں کی تفصیلی بحث پچھلی قسطوں میں گزر چکی ہیں
اور فی الاٰفاق وانفسکم افلاتبصرونo مارأیت شیئا الاورأیت اﷲ فیہ۔ والی عبارت کا مطلب بھی وہی کہ یہاں تجلی دیکھنا مراد ہے جیسا کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے خود فرمایا : لم یقضہ و قضیضہ، مظاہر و مجالی حضرت خالق عزوجل جلالہ ہے۔ اور اسی کے بعد مذکورہ بالا عبارت ہے جو اسی عبارتِ مشاہدۂ تجلی کی تائید میں پیش کی گئی ہے جس کے قائل آپ خود بھی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
34
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط ششم]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا ( شعر و شرع ) [قسط چہارم]

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 36 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 32 | Poetry: 11
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 24
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
تاثرات 12
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
نمایاں مضامین 9
احوال وطن 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢