یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
متفرقات
موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور اپنے محبوب کا دامن پر امن عطا فرمایا۔ مسلمانانِ عالم کو اپنے دام فریب میں الجھانے کے لیے شیطان نے متعدد جال پھینک رکھے ہیں۔ سیکولرازم ان میں سے ایک ہے۔ یہ ایک زہر قاتل ہے۔ جو دین کے وجود کو برابر کاٹتا رہتا ہے اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ آج دنیا کے اکثر ممالک میں سیکولرازم نافذ ہے جو بظاہر لوگوں کے درمیان فرق کو مٹاتا اور مساوات کو قائم کرتا ہے۔ حالانکہ سیکولرازم کا یہ دستور العمل صرف دکھاوا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دنیا میں خدا پرستی کے خلاف چلنے والے پروپیگنڈہ کا حصہ ہے بلکہ لادینیت کی پہلی سیڑھی کا نام سیکولرازم ہے۔
سیکولرازم کی تعریف
سیکولرازم کی تعریف میں اختلاف بکثرت واقع ہے جس کی تفصیل اس موضوع کی کتب میں بآسانی مل جائے گی۔ یہاں طوالت سے بچتے ہوئے تعریف مشہور پر اکتفا کیا جاتا ہے:
دین کو معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی سے نکال دینا۔
دین کو معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی سے نکال دینا۔
موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور اپنے محبوب کا دامن پر امن عطا فرمایا۔ مسلمانانِ عالم کو اپنے دام فریب میں الجھانے کے لیے شیطان نے متعدد جال پھینک رکھے ہیں۔ سیکولرازم ان میں سے ایک ہے۔ یہ ایک زہر قاتل ہے۔ جو دین کے وجود کو برابر کاٹتا رہتا ہے اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ آج دنیا کے اکثر ممالک میں سیکولرازم نافذ ہے جو بظاہر لوگوں کے درمیان فرق کو مٹاتا اور مساوات کو قائم کرتا ہے۔ حالانکہ سیکولرازم کا یہ دستور العمل صرف دکھاوا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دنیا میں خدا پرستی کے خلاف چلنے والے پروپیگنڈہ کا حصہ ہے بلکہ لادینیت کی پہلی سیڑھی کا نام سیکولرازم ہے۔
سیکولرازم کی تعریف
سیکولرازم کی تعریف میں اختلاف بکثرت واقع ہے جس کی تفصیل اس موضوع کی کتب میں بآسانی مل جائے گی۔ یہاں طوالت سے بچتے ہوئے تعریف مشہور پر اکتفا کیا جاتا ہے:
دین کو معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی سے نکال دینا۔
دین کو معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی سے نکال دینا۔
سیکولرازم کے معانی و مفاہیم
تعریف کے بعد مفاہیم کو بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں رہتی مگر
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے کہ سیکولرازم، لادینیت کی سیڑھی ہے، قرائن و احوال اس پر واضح دلیل ہیں، اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ان امور کا اہتمام کریں، جن سے اس نظریے کی حقیقت واضح ہو جائے۔
قارئین کرام: سیکولرازم کے تمام مقاصد کا اصل مرکز لادینیت ہے، انگریزی زبان کی کثیر لغات اس بات کی تائید کرتی ہیں۔ انگریزی کی مستند لغت دی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں سیکولر ازم کے مندرجہ ذیل معنی بیان کیے گئے ہیں:
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے کہ سیکولرازم، لادینیت کی سیڑھی ہے، قرائن و احوال اس پر واضح دلیل ہیں، اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ان امور کا اہتمام کریں، جن سے اس نظریے کی حقیقت واضح ہو جائے۔
قارئین کرام: سیکولرازم کے تمام مقاصد کا اصل مرکز لادینیت ہے، انگریزی زبان کی کثیر لغات اس بات کی تائید کرتی ہیں۔ انگریزی کی مستند لغت دی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں سیکولر ازم کے مندرجہ ذیل معنی بیان کیے گئے ہیں:
The doctrine that morality should be based soley on regard to the well-being of mankind in the present life to the exclusion of all considerations drawn from belief in God or in a future state
یہ نظریہ کہ خدا یا عقبیٰ کے اعتقاد سے اخذ شدہ تمام ملحوظات کو ترک کر اخلاقیات کو صرف بنی نوع انسان کی موجودہ زندگی کی فلاح و بہبود کے لحاظ پر مبنی ہونا چاہیے۔
یہ نظریہ کہ خدا یا عقبیٰ کے اعتقاد سے اخذ شدہ تمام ملحوظات کو ترک کر اخلاقیات کو صرف بنی نوع انسان کی موجودہ زندگی کی فلاح و بہبود کے لحاظ پر مبنی ہونا چاہیے۔
انگریزی اصطلاحات کی معتبر قاموس انسائیکلو پیڈیا برٹینکا میں سیکولر ازم کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے۔
A movement in society directed away from otherworldliness to life on earth.
سماج میں اخرویت سے رخ پھیر کر دنیویت پر توجہ دینے کی ایک تحریک۔
سماج میں اخرویت سے رخ پھیر کر دنیویت پر توجہ دینے کی ایک تحریک۔
دی نیو انٹر نیشنل انسائیکلوپیڈیا میں سیکولرازم کے مفہوم کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
As its name implies, it concentrates its attention upon the present life, neither denying nor affirming the existence of another. It inculcates an ethics not depent in any way on religion, although it does not formaly deny the truth of any religion.
یہ نام (سیکولرازم) جیسا کہ دلالت کرتا ہے، موجودہ زندگی کی طرف انسان کی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نہ کسی چیز کا انکار کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور کے وجود کی توثیق کرتا ہے۔ اور یہ مذہب پر انحصار کے بجائے اخلاقیات کو ذہن نشین کراتا ہے۔ اگر چہ یہ (نظریہ ) با قاعدہ طور پر کسی مذہب کی حقانیت کا انکار نہیں کرتا۔
یہ نام (سیکولرازم) جیسا کہ دلالت کرتا ہے، موجودہ زندگی کی طرف انسان کی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نہ کسی چیز کا انکار کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور کے وجود کی توثیق کرتا ہے۔ اور یہ مذہب پر انحصار کے بجائے اخلاقیات کو ذہن نشین کراتا ہے۔ اگر چہ یہ (نظریہ ) با قاعدہ طور پر کسی مذہب کی حقانیت کا انکار نہیں کرتا۔
چیمبرز انگلش ڈکشنری میں سیکولرازم کے معنی یوں بیان کیے گئے ہیں:
The belief that the state, morals, education etc should be independent of religion.
اس بات کا یقین کرنا کہ ریاست، اخلاقیات اور تعلیم وغیرہ کو مذہب سے آزاد ہونا چاہیے
اس بات کا یقین کرنا کہ ریاست، اخلاقیات اور تعلیم وغیرہ کو مذہب سے آزاد ہونا چاہیے
ان تمام مفاہیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ بات کہنے پر حق بجانب ہیں کہ یہ تحریک مذہب مخالف، لادینیت کی ترویج کرنے والی اور مذہبی عقائد و اعمال کی تردید کرنے والی تحریک ہے۔
سیکولرازم کی ابتدا
یورپ میں مسیحی علما و مقتدایان کا دبدبہ تھا۔ مذہب کے نام پر عوام کو پریشان کرنا، رعایا پر طرح طرح کے ٹیکس لگانا، ان کی معیشت کو تباہ و برباد کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا۔ حکام و سلاطین بھی ان مذہبی بھیڑیوں کے زیر اثر تھے۔ عوام کا چاروں طرف سے استحصال ہو رہا تھا۔ حتی کہ سائنس کا دور آیا، سائنسی ایجادات سے مذہبی عقائد میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، چرچ کا تشخص متزلزل ہوا، جس کے نتیجہ میں چرچ نے سائنسدانوں کی کاوشوں کو بری طرح سے کچلا، بڑے بڑے سائنسدانوں کو سزائیں دی گئیں، زندہ جلا دیا گیا، قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کیا گیا اور رجوع کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ظلم و زیادتی کی بنا پر سائنسدانوں نے شدت سے مذہب بیزاری کی تحریک چلائی اور عوام کے سامنے مذہب کو ظلم و تشدد کا منبع و مصدر قرار دیا۔
اگرچہ یہ تحریک اپنے مقاصد کے ساتھ زمانہ قدیم سے دنیا میں چلی آ رہی ہے لیکن اس کے باوجود اٹھارہویں صدی عیسوی تک اس کی اصطلاح متعارف نہ تھی۔ ۱۸۵۱ء اور بقول بعض ۱۸۴۶ء میں سیکولرازم کی اصطلاح سب سے پہلے برطانوی مصنف George Jacob نے متعارف کروائی اور ۱۸۵۷ء میں اسی نے لندن میں سینٹرل سیکولر سوسائٹی Central Secular Society قائم کی اور یوں سیکولرازم کی با قاعدہ ترویج شروع ہوگئی اور دھیرے دھیرے اس نے پورے یورپ بلکہ دنیا کی اکثر آبادی کو اپنی چپیٹ میں لے لیا۔
سیکولرازم کے اثرات
سیکولرازم کی تعریف و مفہوم سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ یہ ایک لادینی، مذہب مخالف تحریک ہے جو الحاد سے بہت زیادہ قریب ہے۔ سب سے پہلے سیکولرازم کی اصطلاح متعارف کرانے والا جارج جیکب اگرچہ اس کے لا دینی نہ ہونے کا قائل تھا مگر بعد میں سیکولرازم نے مذہب کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیا اور ایک مذہب مخالف تحریک کی شکل میں ابھری۔
سیکولرازم کے نظریے کو عوام میں ایک نجات دہندہ فکر کی شکل میں شائع کیا گیا۔ چونکہ اس دور میں کسی بھی ملک میں متعدد مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ سب کا طریقہ کار دوسرے سے جدا ہے اور ایک دوسرے کے قوانین کو ماننے کو تیار نہیں۔ اس لیے سیکولرازم کا پاٹھ پڑھایا گیا اور اسے بایں طور پیش کیا گیا کہ یہی وہ درخت ہے جس کے سایہ میں تمام مذاہب کے لوگ امن و چین کی سانس لے سکتے ہیں۔ حقیقت سے غافل لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ قبول کیا اور جن لوگوں نے اس پر تنبیہ کی اسے قدامت پسندی کے طعنہ سے مطعون کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیکولرازم دانستہ و غیر دانستہ طور پر اذہان میں گھر کر گیا اور لوگوں کی گردنوں سے مذہب کا قلادہ اتار کر پھینک دیا۔
اس دور میں تقریبا تمام ممالک دانستہ و غیر دانستہ طور پر سیکولرازم ہی کے پیرو ہیں۔ ہمارے یہاں ملک ہندوستان میں سیکولرازم کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں ایک وہ جو حقیقت میں سیکولرازم ہے (آئین ہند کی بنیاد بھی اسی پر ہے) اور دوسری وہ جو ہمارے یہاں مشہور ہے۔ یعنی اپنے مذہب کو مانو، تمام مذاہب کی عزت کرو اور ان کے رسومات میں عملی طور پر شریک رہو۔ سیکولرازم کی یہ دونوں قسمیں غیر شرعی ہیں۔ جن کو اپنانا اپنے ایمان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن پہلی قسم دوسری قسم سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے۔
سیکولرازم کے اثرات صرف مذہب تک محدود نہیں رہے، بلکہ مذہب سے قطع نظر اس کے اثرات دوسرے شعبہ جات میں بھی پھیلے۔ سیکولرازم کے اثرات کے باعث جب مذہب کی حیثیت و وقعت کم ہوئی، تو معاشیات، سیاسیات اور اسی طرح تعلیمی و سماجی نظام لادینیت کی بنیاد پر قائم کیے گئے۔
معاشرتی نظام پر سیکولرازم کا اثر
معاشرتی نظام انسانی زندگی میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ انسان کا بنیادی مسئلہ اور اس کی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔ سیکولرازم نے معاشرتی نظام پر غیر معمولی اثر مرتب کیا۔ اہل یورپ سیکولرازم کے زیر اثر آنے سے قبل اپنے معاشرے میں مذہبی آئین کے سبب عفت و عصمت کی پاسداری کرتے تھے۔ معاشرہ میں اخلاقی اقدار زندہ تھیں اور لوگ با حیا، با رونق مذہبی زندگی گزارتے تھے۔ سیکولرازم کے باعث اس میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ حیا کی جگہ بے حیائی نے لے لی، خاندانی اور روایتی نظام پارہ پارہ ہو گیا، فحاشی و عریانیت کا ایک ایسا سیلاب امڑا جس نے پورے معاشرے کو تہذیب و تمدن سے عاری کر دیا اور پاکباز مذہبی معاشرتی نظام کو درہم برہم کر دیا۔
سیاسی نظام پر سیکولرازم کا اثر
سیاسی نظام پر سیکولرازم کچھ اس طرح اثر انداز ہوا کہ سیاست کی شکل و صورت کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ سیاست ایک مدت تک مذہبی و تہذیبی لباس میں ملبوس رہی لیکن سیکولرازم نے اسے لادینیت کی عریانیت کی جانب دھکیل دیا اور مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے متبائن قرار دے دیا۔ جدید سیکولر مغربی مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مذہب کا ریاستی امور میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور سیاست کو مذہبی بندشوں سے آزاد ہونا چاہیے۔
معاشی نظام پر سیکولرازم کا اثر
انسانی زندگی میں معاشیات کی قدر و منزلت ناقابل انکار ہے۔ معیشت کے بغیر خوبصورت انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ سیکولرازم نے معاشی نظام کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا اور مذہبی رواداریوں کو معاشیات سے یکسر ختم کر دیا۔ لوگوں کے اذہان سے حلال و حرام، ممنوع و مباح، مشروع و غیر مشروع کا فرق ختم ہو گیا اور سودی کاروبار، سٹہ بازاری، قمار بازی جیسی پلید اور گھناؤنی چیزوں کو شیر مادر شمار کر صنعت و تجارت کے پورے نظام کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا۔
تعلیمی نظام پر سیکولرازم کا اثر
جس طرح سے سیکولرازم نے معاشرتی، سیاسی، معاشی نظاموں کو اپنے زیر اثر کر مذہب سے دور و نفور کیا اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی مذہب کی کوئی جگہ باقی نہ رکھی۔ جیسا کہ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں ہے۔
Of education instruction : Relating to non-religious subjects.
یعنی تعلیمی نظام غیر مذہبی مضامین سے متعلق ہو۔
یعنی تعلیمی نظام غیر مذہبی مضامین سے متعلق ہو۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
ان کے علاوہ انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات پر سیکولرازم کی تحریک نے بھرپور اثر کیا اور مذہب کو فقط عبادت گاہ تک محدود کر دیا۔ سیکولرازم نے اب تک جس مذہب پر سب سے زیادہ اثر ڈالا وہ عیسائیت ہے۔ دنیا میں عیسائی آبادی ۳۱.۲ فیصد ہے، اس کے باوجود ان میں تصلب فی الدین کا مادہ کلیۃً مفقود ہے اور اس کی وجہ سیکولرازم ہی ہے۔ عیسائیت کے بعد سیکولرازم کا سب سے بڑا ٹارگیٹ اور اس کے آگے سب سے بڑی دیوار اسلام ہے۔ اس دور میں سیکولرازم کا مقصد اصلی اور مرکزِ نگاہ اسلام پر اثرانداز ہو کر مسلمانوں کو اپنا اسیر بنانا ہے۔ کچھ حد تک سیکولرازم کو اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ ملک عزیز ہندوستان کے حالات کسی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں، پورے ملک میں قرون وسطٰی کے یورپ کی طرح مذہبی تشدد عام ہے، حکومت ہند مذہبی متشددین کے زیر اثر ہے۔ اسے بھی کسی نہ کسی دن زائل ہونا ہی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اس کے تشدد سے دوچار ہوں گے وہ آئندہ زمانے میں سیکولرازم کو اپنی پناہ گاہ بنائیں گے اور پورے ملک میں اسے عام کرنے کی کوشش کریں گے، جس کا اثر اقوام مسلمین پر پڑنا واجبی ہے۔
لہذا اہل علم کو چاہیے کہ اس مہلک وبا کا بروقت علاج کر اپنا فرض منصبی ادا کریں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
لہذا اہل علم کو چاہیے کہ اس مہلک وبا کا بروقت علاج کر اپنا فرض منصبی ادا کریں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
راقم الحروف
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323