صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب
احوال وطن

ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

”ہمارے بارہ“ کا دندان شکن جواب
اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں دینِ حق اسلام اور مذہب حق اہل سنت و جماعت میں پیدا فرمایا۔ تمام ادیان میں دینِ حق اسلام ہے اس میں کوئی شک نہیں کر سکتا، اس لیے کہ جو حق پر ہوتا ہے اس کو مٹانے کے لیے دشمن ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمن ہمیشہ کوشاں رہے اور رہیں گے مگر ہمارے دینِ حق کو نہ شکست دے پائے نہ دے پائیں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ دینِ حق پر قائم رہیں اور اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کریں۔
دشمنانِ اسلام بر دینِ اسلام طرح طرح سے حملے کر رہے ہیں، اور مضرتر حملہ وہ ہے جس میں خدائے ذوالجلال کی مقدس آیات اور مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس احادیث کے صرف ایک جز کو لے کر لوگوں کے درمیان غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مثلاً اس زمانے میں مسلمانوں کو بالخصوص لڑکیوں کو دینِ اسلام سے ہٹانے کے لیے دشمنوں نے اللہ تعالیٰ کی ایک مقدس آیت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ نہ اس آیت کو مکمل ذکر کیا نہ اس کے ماقبل آیت کو بس ایک جز کو لیا اور نہایت ناپاکی کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَـكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے۔
اس آیتِ کریمہ کو دشمنوں نے لوگوں کے سامنے پیش کرکے اسلام پر جو ناپاک الزام لگائے ہیں وہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو کھیتی فرمایا یعنی اسلام میں عورت کا مقام فقط اتنا کہ وہ مرد کی کھیتی ہے تو مرد عورت کے ساتھ جو چاہے وہ کرے اور جس وقت جس طرح چاہے فائدہ اٹھائے اور عورت کو ”نا“ کہنے کی تک اجازت نہیں نیز یہ کہتے ہیں کہ مرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کا سب سے بڑا تحفہ ہے نہ کہ عورت اور عورت فقط اس لیے پیدا کی گئی کہ شوہر کی فرمانبرداری کرے، شوہر کا دل بہلائے نیز یہ کہ عورت ازاربند کی طرح ہے، جب تک اندر رہے گی تب تک محفوظ رہے گی۔
اسلام پر اتنے گندے حملے کر کے شکم پُر نہیں ہوا کہ مذکورہ آیت کے متعلق کہا کہ مذہب اسلام کے مطابق عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین ہے۔ معاذ اللہ رب العٰلمین!
جب نااہل دشمنان اسلام ایسے انداز میں مسلمانوں کے سامنے غلط باتیں پیش کریں گے تو کمزور ایمان والے مسلمان ضرور مرتد ہو جائیں گے اور یہ وبا لڑکیوں میں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ اختصار کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے فرمان عالیشان کا کیا مفہوم ہے۔
سورہ البقرہ آیت:٢٢٣؍سے پہلے آیت:٢٢٢؍کا جاننا ضروری ہے، جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورتوں کا حق ارشاد فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ هُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔
اللہ رب العزت نے عورتوں کو کھیتی فرمایا اور جس طرح چاہو جانے کا حکم فرمایا، اس میں جو باتیں غور کرنے والی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: [١] آیت:٢٢٣؍کو لے کر کافروں نے چال چلی اور آیت:٢٢٢؍کو پوشیدہ رکھا۔ [٢] اللہ رب العزت نے سورہ بقرہ آیت:٢٢٢؍میں ارشاد فرمایا کہ جب عورت حیض (حیض کو انگلش میں Period کہتے ہیں) کی حالت میں ہو تب اس کے قریب نہ جاؤ کیونکہ وہ گندگی ہے اور اسی آیت کے آخر میں خدائے پاک نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک ستھروں کو پسند فرماتا ہے، یہ بات معلوم ہوئی کہ اسلام کتنا صاف و شفاف دین ہے۔
اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ جب وہ پاک ہو جائیں تو قربت کر سکتے ہو اور اس جگہ ” جہاں سے اللہ پاک نے حکم دیا۔“ اس آیت کے متعلق تفسیر میں ہے: ”مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ“ مِنَ الْماتِی الَّذِیْ اَمَرَکُمُ اللہُ بِهٖ، وَحَلَّلَهٗ لَکُمْ وَ ھُوَ الْقُبْلُ
یعنی: ”جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا“ یعنی: عورت سے اس مقام میں جماع کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال فرمایا ہے اور وہ اگلی شرمگاہ ہے۔ (تفسیر مدارک التنزیل ج:١)
اب آئیں !آیت:٢٢٣؍میں! اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں۔ تفسیر مدارک میں اس آیت کریمہ کے تحت فرمایا: عورتیں تمہارے لیے کھیتی باڑی کرنے کی جگہ ہے اور یہ مجاز ہے، کہ ان کو کھیتیوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے رحموں کے اندر جو نطفہ ڈالا جاتا ہے جس سے نسل پیدا ہوتی ہے اس کو زمین میں بیج ڈالنے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور پیدا ہونے والی اولاد کو کھیتی کے ساتھ۔
پھر یاد رہے ”فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ“ یعنی اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ؛ یہ ماقبل آیت میں مذکور فرمانِ الٰہی ”مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ“ کی توضیح و تشریح ہے۔ تفسیر مدارک میں ہے: بے شک وہ مقام جہاں آنے کا اللہ پاک نے تمہیں حکم دیا وہ کھیتی کا مکان ہے اور یہی حرث ہے نہ کہ وہ مقام فرث کا ہے۔ تو فرمانِ الٰہی کا صاف مطلب یہ ہوا کہ جب عورتیں پاک و صاف ہوں تو اگلے مقام میں جس طرح چاہو آؤ نہ یہ کہ عورتیں مرد کے لیے محض Time Pass ہیں کہ جو چاہو کرو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لیے بنایا، دونوں کو ایک دوسرے کی حاجت ہے نیز یہاں تو اللہ تعالیٰ نے عورت کا حق بیان فرمایا کہ شوہر سے اس کو تکلیف نہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کا مقدس فرمان دیکھو!
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ (الزمر، آیت:٢١)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ اُن سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبّت اور رحمت رکھی بےشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے‌۔
اے دشمنو! دکھاؤ ایسا مذہب جہاں اتنا انصاف و پاکی ہو اور عورت کے لیے اتنے بڑے بڑے حقوق بیان ہوئے ہیں۔
اب آئیں دشمنوں کی چال کی طرف کہ اللہ رب العزت نے عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی۔ اس سے یہ بات اور اسلام کی ستھرائی سمجھ آتی ہے کہ جس طرح کھیت پر کھیت کے مالک کا ہی قبضہ ہوتا ہے کوئی اور اس میں کچھ نہیں کر سکتا یوں ہی اسلام میں عورت بھی فقط شوہر کی ہے، کسی اور کا دوسرے کی بیوی پر کوئی حق نہیں، کیا عورتوں کی عزت کا لحاظ جتنا اسلام نے فرمایا اس کا ایک فیصد بھی ادیانِ باطلہ میں سے کسی میں دکھاؤ۔
پھر ”کھیتی کھیتی کرنا“ تو در حقیقت کھیتی سے مراد اولاد ہے، اور اولاد بذیعۂ مرد و عورت سے ہی پیدا ہوتی ہے، پھر خدائے ذوالجلال جتنی چاہے اولاد عطا فرمائے اس میں تعجب کیسا ؟ نیز اسلام میں کہیں نہیں کہ ١٢-١٤ بچے پیدا کرنا ضروری ہے، بلکہ اسلام کی ستھرائی اتنی زیادہ ہے کہ اسلام میں نکاح کا اصل مقصد بھی نسل آگے بڑھانا ہوتا ہے، خود کو گناہوں سے دور رکھنا ہوتا ہے وغیرہ۔ بس خود سے کہہ دینا کہ اسلام نے عورت کو کھیتی فرمایا اور بچہ پیدا کرنے کی مشین بنا دیا، تو اب ذرا یہ بتاؤ کہ بچہ عورت کے ذریعے سے پیدا نہیں ہوگا تو کیسے ہوگا ؟ چاہیں ایک بچہ کی ولادت ہو عورت کے ہی ذریعے ہوگی تو یہ الزام بہت گھٹیا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دشمنان اسلام بالخصوص مرتد (جن کو انگلش میں Apostate کہتے ہیں) لوگوں کے دل میں ایسی ناپاک ترین باتیں ڈالتے ہیں، جن کو یہ معلوم ہے کہ الف کے بعد ب آتا ہے مگر ب کے بعد پ کس میں آتا ہے اور ث کس میں یہ نہیں معلوم، بس شروع کی ایک دو باتیں جان کر خود پر بھی جہنم لازم کر لی مرتد ہو کر اور اب دُوسروں کو بھی مرتد بنا کر جہنم لے جانا چاہتے ہیں۔
ایک اور اعتراض کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا تحفہ مرد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ
ترجمۂ کنزالایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔ (النساء-٣٤)
اگر اس آیت میں خدائے پاک نے مرد کو عورت پر فضیلت عطا فرمائی تو مرد پر ذمہ داریاں بھی عطا فرمائی کہ افسر ہو اس لیے عورت کی ہر جائز ضروریات کو پورا کرو۔ اور بہت سی جگہ عورت کو مرد پر فضیلت حاصل۔ رہی بات اللہ کے نزدیک مرد بہتر یا عورت تو ایک جگہ اللہ پاک نے فرمایا کہ اجر میں مرد و عورت برابر ہیں۔
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ (آل عمران، آیت:١٩٥)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو۔
اگر مرد کچھ باتوں میں افضل تو اسلام نے عورتوں کو بھی یہ مقام عطا کیا ہے۔
پھر یہ کہنا کہ عورت شوہر کے ازاربند کے مثل ہے تو یہ بھی جاہلانہ بات ہے۔ بلکہ اسلام نے کیا درس دیا دیکھیں: اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ
ترجمۂ کنزالایمان: وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔ (البقرۃ، ١٨٧)
پھر ایک الزام کا جواب دیکھیں! اسلام نے عورتوں کو کوئی حق نہیں دیا ؟ ارے دشمنو! پہلے قرآنِ عظیم پڑھ تو لیتے بس ”البقرۃ، آیت-٢٢٣، البقرۃ، آیت-٢٢٣“ کرتے رہ گئے تھوڑا آیت-٢٢٨؍میں آکر دیکھتے کہ جو کسی دین میں نہیں وہ اسلام میں ہے۔ رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا:
وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ
ترجمۂ کنزالایمان: اور عورتوں کیلئے بھی مردوں پر شریعت کے مطابق ایسے ہی حق ہے جیسا ( ان کا)عورتوں پر ہے۔ (البقرۃ، آیت-٢٢٨)
اب پھر آؤ تفسیر مدارک میں، اس آیتِ کریمہ کے تحت ارشاد فرمایا: ”عورتوں کے حقوق مردوں پر واجب و لازم ہیں، جیسے حق مہر ادا کرنا، نان و نفقہ دینا اور عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا، اور ان کے ساتھ حسن معاشرت سے رہنا اور ان کو ضرر و نقصان نہ پہنچانا۔“ ایسے ہی اسلام نے عورتوں پر بھی کچھ ذمہ داریاں رکھیں کہ شوہر کی فرمانبرداری کرے مگر اسی چیز میں جس کی اسلام اجازت دیتا ہے، اور اسلام صرف نیکی اور حسن سلوک کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ اسلام نے مردوں پر عورتوں کے حقوق لازم فرمائے، کیا ہے کوئی اور دوسرا اتنا پیارا مذہب ؟
اور پھر اگر آئیں حرث پر تو کھیت میں کھیتی کا بھی وقت ہوتا ہے، جب وقت ہو تب جس طرح چاہو جاؤ، بے وقت کھیتی باعثِ بربادی، تو جب وہ حیض وغیرہ کی حالت میں ہوں گی تو ان کے قریب جانے سے ان کو تکلیف ہوگی اور اسلام نے عورتوں سے تکالیف کو دور فرما دیا تو صرف لفظ حرث سے مقام نسواں معلوم ہو رہا ہے تو غور کریں کہ اسلام میں عورتوں کا مقام کیا ہوگا۔ دشمنانِ دین حق دین اسلام پر حملہ کر کے خود پھنس گئے۔
اسلام نے عورت کو کیا دیا ؟
قبلِ اسلام عورت کا مقام کیا تھا ؟ تو عورتیں اور بچیاں زندہ درگور ہوتی تھیں، شوہر مر جاتا تو یا تو اس کی بیوی کے مرنے تک اسی عورت کو بھوکے پیاسے رکھ کر کمرے میں قید کر دیا جاتا پھر اس کی مہینوں بعد لاش نکالی جاتی یا اس عورت کو اسی کے لڑکے کے حوالے کر دیا جاتا، وہ چاہتا تو اپنی ہی ماں سے شادی کر لیتا اور چاہتا تو اسے بیچ کر مال لے لیتا۔ وہ قبل اسلام کا زمانہ جہاں عورت کچھ نہیں تھی مگر کسی نے کہا:
جہاں تاریک تھا ظلمت کدا تھا سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھر میں اجالا تھا
یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو انسانیت و اسلام کا پیغام دینے اس دنیا میں مبعوث فرمایا تب انسانوں نے جانا کہ انسانیت کیا ہے۔ جن عورتوں کا مقام قبل اسلام کچھ نہیں تھا، اسلام نے آکر ان کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی۔ یہ درسِ اسلام ہی تو ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے ایک رحمت کے ساتھ اور لڑکی دس۔ یہ اسلام ہی تو ہے کہ ماں کا حق بچوں پر زیادہ ہے باپ سے۔ یہ اسلام ہی تو ہے کہ نکاح کے لیے پہلے لڑکی سے اجازت لی جاتی ہے، اگر لڑکی نے منع کر دیا تو نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔ جو قیمتی خزانہ ہوتا ہے اسے ہر کوئی چھپا کر رکھتا ہے تاکہ دوسرے کی نظر نہ پڑے اور وہ خزانۂ ثمین اسلام نے مرد کو نہیں عورت کو بنایا، تبھی عورتوں کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا تاکہ کسی اور کی ناپاک نظر ان پر نہ پڑے۔
آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
طََلبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
اس کے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی مردوں کی طرح علم حاصل کرنے کا حق بھی اسلام نے دیا۔ تو وہ لوگ بالخصوص وہ عورتیں جو اسلام پر گندے الزامات لگاتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کا مقام ختم کر دیا، وہ فیصلہ کریں کہ قبل اسلام کے حالات اچھے تھے یا بعدِ اسلام کے۔ اسلام نے ان کے مقام کو زیرِ زمین اور زندہ درگور ہونے سے بچا کر آسمان کی بلندیوں سے اوپر پہنچا دیا۔ تو یہ کہنے والے کہ عورتوں کو اسلام نے قید کر ڈالا وہ شیطان کے بہکاوے میں ہیں اور عقل پر پردہ ہے، پردے کو ہٹا کر حقیقت کے نور کو دیکھنے کی کوشش کریں!
آخر میں ایک اور نقطہ دیکھیں کہ سورہ البقرہ:٢٢٣؍میں اللہ پاک نے فرمایا: ”وَاتَّقُوا اللہَ“ (اللہ سے ڈرو) ذکر فرمایا۔ یعنی عورت پر یا کسی پر بھی ظلم کرنے سے پہلے یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے، عورت پر کسی بھی طرح زبردستی حکم لگانا اس پر ظلم ہے، چاہے وہ مارے یا جھڑکے یا گھر سے نکال دے، سب کا حساب دینا ہے۔ جب دشمن حرث کی آیت کو پیش کرتے ہیں تو آیت مقدسہ کے اس جز کو ہٹا دیتے ہیں نہ پہلے کا حکم بیان کرتے ہیں نا بعد کا، بس ایک جز سے حملہ کرتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خدارا اے مسلمانو! ہوشیار رہو! ہوشیار رہو! دشمن دینِ حق اسلام کے خلاف ایک مقولہ مشہور کر رہے ہیں کہ اسلام کا درس ہے: ہم دوبارہ ہمارے بارہ۔ ان جیسی باتوں سے دشمن بہکا رہے ہیں، بہکنا نہیں!
اللہ پاک بوسیلۂ مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم سب کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے اور دشمنوں اور ان کے ارادوں کو نیست و نابود فرمائے اور مقدس و صاف و شفاف دین اسلام کو نظر بد سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
٢٨؍جون ؁٢٠٢٤ء

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

”ہمارے بارہ“ کا دندان شکن جواب
اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں دینِ حق اسلام اور مذہب حق اہل سنت و جماعت میں پیدا فرمایا۔ تمام ادیان میں دینِ حق اسلام ہے اس میں کوئی شک نہیں کر سکتا، اس لیے کہ جو حق پر ہوتا ہے اس کو مٹانے کے لیے دشمن ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمن ہمیشہ کوشاں رہے اور رہیں گے مگر ہمارے دینِ حق کو نہ شکست دے پائے نہ دے پائیں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ دینِ حق پر قائم رہیں اور اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کریں۔
دشمنانِ اسلام بر دینِ اسلام طرح طرح سے حملے کر رہے ہیں، اور مضرتر حملہ وہ ہے جس میں خدائے ذوالجلال کی مقدس آیات اور مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس احادیث کے صرف ایک جز کو لے کر لوگوں کے درمیان غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مثلاً اس زمانے میں مسلمانوں کو بالخصوص لڑکیوں کو دینِ اسلام سے ہٹانے کے لیے دشمنوں نے اللہ تعالیٰ کی ایک مقدس آیت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ نہ اس آیت کو مکمل ذکر کیا نہ اس کے ماقبل آیت کو بس ایک جز کو لیا اور نہایت ناپاکی کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَـكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے۔
اس آیتِ کریمہ کو دشمنوں نے لوگوں کے سامنے پیش کرکے اسلام پر جو ناپاک الزام لگائے ہیں وہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو کھیتی فرمایا یعنی اسلام میں عورت کا مقام فقط اتنا کہ وہ مرد کی کھیتی ہے تو مرد عورت کے ساتھ جو چاہے وہ کرے اور جس وقت جس طرح چاہے فائدہ اٹھائے اور عورت کو ”نا“ کہنے کی تک اجازت نہیں نیز یہ کہتے ہیں کہ مرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کا سب سے بڑا تحفہ ہے نہ کہ عورت اور عورت فقط اس لیے پیدا کی گئی کہ شوہر کی فرمانبرداری کرے، شوہر کا دل بہلائے نیز یہ کہ عورت ازاربند کی طرح ہے، جب تک اندر رہے گی تب تک محفوظ رہے گی۔
اسلام پر اتنے گندے حملے کر کے شکم پُر نہیں ہوا کہ مذکورہ آیت کے متعلق کہا کہ مذہب اسلام کے مطابق عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین ہے۔ معاذ اللہ رب العٰلمین!
جب نااہل دشمنان اسلام ایسے انداز میں مسلمانوں کے سامنے غلط باتیں پیش کریں گے تو کمزور ایمان والے مسلمان ضرور مرتد ہو جائیں گے اور یہ وبا لڑکیوں میں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ اختصار کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے فرمان عالیشان کا کیا مفہوم ہے۔
سورہ البقرہ آیت:٢٢٣؍سے پہلے آیت:٢٢٢؍کا جاننا ضروری ہے، جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورتوں کا حق ارشاد فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ هُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔
اللہ رب العزت نے عورتوں کو کھیتی فرمایا اور جس طرح چاہو جانے کا حکم فرمایا، اس میں جو باتیں غور کرنے والی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: [١] آیت:٢٢٣؍کو لے کر کافروں نے چال چلی اور آیت:٢٢٢؍کو پوشیدہ رکھا۔ [٢] اللہ رب العزت نے سورہ بقرہ آیت:٢٢٢؍میں ارشاد فرمایا کہ جب عورت حیض (حیض کو انگلش میں Period کہتے ہیں) کی حالت میں ہو تب اس کے قریب نہ جاؤ کیونکہ وہ گندگی ہے اور اسی آیت کے آخر میں خدائے پاک نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک ستھروں کو پسند فرماتا ہے، یہ بات معلوم ہوئی کہ اسلام کتنا صاف و شفاف دین ہے۔
اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ جب وہ پاک ہو جائیں تو قربت کر سکتے ہو اور اس جگہ ” جہاں سے اللہ پاک نے حکم دیا۔“ اس آیت کے متعلق تفسیر میں ہے: ”مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ“ مِنَ الْماتِی الَّذِیْ اَمَرَکُمُ اللہُ بِهٖ، وَحَلَّلَهٗ لَکُمْ وَ ھُوَ الْقُبْلُ
یعنی: ”جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا“ یعنی: عورت سے اس مقام میں جماع کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال فرمایا ہے اور وہ اگلی شرمگاہ ہے۔ (تفسیر مدارک التنزیل ج:١)
اب آئیں !آیت:٢٢٣؍میں! اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں۔ تفسیر مدارک میں اس آیت کریمہ کے تحت فرمایا: عورتیں تمہارے لیے کھیتی باڑی کرنے کی جگہ ہے اور یہ مجاز ہے، کہ ان کو کھیتیوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے رحموں کے اندر جو نطفہ ڈالا جاتا ہے جس سے نسل پیدا ہوتی ہے اس کو زمین میں بیج ڈالنے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور پیدا ہونے والی اولاد کو کھیتی کے ساتھ۔
پھر یاد رہے ”فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ“ یعنی اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ؛ یہ ماقبل آیت میں مذکور فرمانِ الٰہی ”مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ“ کی توضیح و تشریح ہے۔ تفسیر مدارک میں ہے: بے شک وہ مقام جہاں آنے کا اللہ پاک نے تمہیں حکم دیا وہ کھیتی کا مکان ہے اور یہی حرث ہے نہ کہ وہ مقام فرث کا ہے۔ تو فرمانِ الٰہی کا صاف مطلب یہ ہوا کہ جب عورتیں پاک و صاف ہوں تو اگلے مقام میں جس طرح چاہو آؤ نہ یہ کہ عورتیں مرد کے لیے محض Time Pass ہیں کہ جو چاہو کرو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لیے بنایا، دونوں کو ایک دوسرے کی حاجت ہے نیز یہاں تو اللہ تعالیٰ نے عورت کا حق بیان فرمایا کہ شوہر سے اس کو تکلیف نہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کا مقدس فرمان دیکھو!
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ (الزمر، آیت:٢١)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ اُن سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبّت اور رحمت رکھی بےشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے‌۔
اے دشمنو! دکھاؤ ایسا مذہب جہاں اتنا انصاف و پاکی ہو اور عورت کے لیے اتنے بڑے بڑے حقوق بیان ہوئے ہیں۔
اب آئیں دشمنوں کی چال کی طرف کہ اللہ رب العزت نے عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی۔ اس سے یہ بات اور اسلام کی ستھرائی سمجھ آتی ہے کہ جس طرح کھیت پر کھیت کے مالک کا ہی قبضہ ہوتا ہے کوئی اور اس میں کچھ نہیں کر سکتا یوں ہی اسلام میں عورت بھی فقط شوہر کی ہے، کسی اور کا دوسرے کی بیوی پر کوئی حق نہیں، کیا عورتوں کی عزت کا لحاظ جتنا اسلام نے فرمایا اس کا ایک فیصد بھی ادیانِ باطلہ میں سے کسی میں دکھاؤ۔
پھر ”کھیتی کھیتی کرنا“ تو در حقیقت کھیتی سے مراد اولاد ہے، اور اولاد بذیعۂ مرد و عورت سے ہی پیدا ہوتی ہے، پھر خدائے ذوالجلال جتنی چاہے اولاد عطا فرمائے اس میں تعجب کیسا ؟ نیز اسلام میں کہیں نہیں کہ ١٢-١٤ بچے پیدا کرنا ضروری ہے، بلکہ اسلام کی ستھرائی اتنی زیادہ ہے کہ اسلام میں نکاح کا اصل مقصد بھی نسل آگے بڑھانا ہوتا ہے، خود کو گناہوں سے دور رکھنا ہوتا ہے وغیرہ۔ بس خود سے کہہ دینا کہ اسلام نے عورت کو کھیتی فرمایا اور بچہ پیدا کرنے کی مشین بنا دیا، تو اب ذرا یہ بتاؤ کہ بچہ عورت کے ذریعے سے پیدا نہیں ہوگا تو کیسے ہوگا ؟ چاہیں ایک بچہ کی ولادت ہو عورت کے ہی ذریعے ہوگی تو یہ الزام بہت گھٹیا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دشمنان اسلام بالخصوص مرتد (جن کو انگلش میں Apostate کہتے ہیں) لوگوں کے دل میں ایسی ناپاک ترین باتیں ڈالتے ہیں، جن کو یہ معلوم ہے کہ الف کے بعد ب آتا ہے مگر ب کے بعد پ کس میں آتا ہے اور ث کس میں یہ نہیں معلوم، بس شروع کی ایک دو باتیں جان کر خود پر بھی جہنم لازم کر لی مرتد ہو کر اور اب دُوسروں کو بھی مرتد بنا کر جہنم لے جانا چاہتے ہیں۔
ایک اور اعتراض کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا تحفہ مرد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ
ترجمۂ کنزالایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔ (النساء-٣٤)
اگر اس آیت میں خدائے پاک نے مرد کو عورت پر فضیلت عطا فرمائی تو مرد پر ذمہ داریاں بھی عطا فرمائی کہ افسر ہو اس لیے عورت کی ہر جائز ضروریات کو پورا کرو۔ اور بہت سی جگہ عورت کو مرد پر فضیلت حاصل۔ رہی بات اللہ کے نزدیک مرد بہتر یا عورت تو ایک جگہ اللہ پاک نے فرمایا کہ اجر میں مرد و عورت برابر ہیں۔
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ (آل عمران، آیت:١٩٥)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو۔
اگر مرد کچھ باتوں میں افضل تو اسلام نے عورتوں کو بھی یہ مقام عطا کیا ہے۔
پھر یہ کہنا کہ عورت شوہر کے ازاربند کے مثل ہے تو یہ بھی جاہلانہ بات ہے۔ بلکہ اسلام نے کیا درس دیا دیکھیں: اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ
ترجمۂ کنزالایمان: وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔ (البقرۃ، ١٨٧)
پھر ایک الزام کا جواب دیکھیں! اسلام نے عورتوں کو کوئی حق نہیں دیا ؟ ارے دشمنو! پہلے قرآنِ عظیم پڑھ تو لیتے بس ”البقرۃ، آیت-٢٢٣، البقرۃ، آیت-٢٢٣“ کرتے رہ گئے تھوڑا آیت-٢٢٨؍میں آکر دیکھتے کہ جو کسی دین میں نہیں وہ اسلام میں ہے۔ رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا:
وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ
ترجمۂ کنزالایمان: اور عورتوں کیلئے بھی مردوں پر شریعت کے مطابق ایسے ہی حق ہے جیسا ( ان کا)عورتوں پر ہے۔ (البقرۃ، آیت-٢٢٨)
اب پھر آؤ تفسیر مدارک میں، اس آیتِ کریمہ کے تحت ارشاد فرمایا: ”عورتوں کے حقوق مردوں پر واجب و لازم ہیں، جیسے حق مہر ادا کرنا، نان و نفقہ دینا اور عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا، اور ان کے ساتھ حسن معاشرت سے رہنا اور ان کو ضرر و نقصان نہ پہنچانا۔“ ایسے ہی اسلام نے عورتوں پر بھی کچھ ذمہ داریاں رکھیں کہ شوہر کی فرمانبرداری کرے مگر اسی چیز میں جس کی اسلام اجازت دیتا ہے، اور اسلام صرف نیکی اور حسن سلوک کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ اسلام نے مردوں پر عورتوں کے حقوق لازم فرمائے، کیا ہے کوئی اور دوسرا اتنا پیارا مذہب ؟
اور پھر اگر آئیں حرث پر تو کھیت میں کھیتی کا بھی وقت ہوتا ہے، جب وقت ہو تب جس طرح چاہو جاؤ، بے وقت کھیتی باعثِ بربادی، تو جب وہ حیض وغیرہ کی حالت میں ہوں گی تو ان کے قریب جانے سے ان کو تکلیف ہوگی اور اسلام نے عورتوں سے تکالیف کو دور فرما دیا تو صرف لفظ حرث سے مقام نسواں معلوم ہو رہا ہے تو غور کریں کہ اسلام میں عورتوں کا مقام کیا ہوگا۔ دشمنانِ دین حق دین اسلام پر حملہ کر کے خود پھنس گئے۔
اسلام نے عورت کو کیا دیا ؟
قبلِ اسلام عورت کا مقام کیا تھا ؟ تو عورتیں اور بچیاں زندہ درگور ہوتی تھیں، شوہر مر جاتا تو یا تو اس کی بیوی کے مرنے تک اسی عورت کو بھوکے پیاسے رکھ کر کمرے میں قید کر دیا جاتا پھر اس کی مہینوں بعد لاش نکالی جاتی یا اس عورت کو اسی کے لڑکے کے حوالے کر دیا جاتا، وہ چاہتا تو اپنی ہی ماں سے شادی کر لیتا اور چاہتا تو اسے بیچ کر مال لے لیتا۔ وہ قبل اسلام کا زمانہ جہاں عورت کچھ نہیں تھی مگر کسی نے کہا:
جہاں تاریک تھا ظلمت کدا تھا سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھر میں اجالا تھا
یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو انسانیت و اسلام کا پیغام دینے اس دنیا میں مبعوث فرمایا تب انسانوں نے جانا کہ انسانیت کیا ہے۔ جن عورتوں کا مقام قبل اسلام کچھ نہیں تھا، اسلام نے آکر ان کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی۔ یہ درسِ اسلام ہی تو ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے ایک رحمت کے ساتھ اور لڑکی دس۔ یہ اسلام ہی تو ہے کہ ماں کا حق بچوں پر زیادہ ہے باپ سے۔ یہ اسلام ہی تو ہے کہ نکاح کے لیے پہلے لڑکی سے اجازت لی جاتی ہے، اگر لڑکی نے منع کر دیا تو نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔ جو قیمتی خزانہ ہوتا ہے اسے ہر کوئی چھپا کر رکھتا ہے تاکہ دوسرے کی نظر نہ پڑے اور وہ خزانۂ ثمین اسلام نے مرد کو نہیں عورت کو بنایا، تبھی عورتوں کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا تاکہ کسی اور کی ناپاک نظر ان پر نہ پڑے۔
آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
طََلبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
اس کے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی مردوں کی طرح علم حاصل کرنے کا حق بھی اسلام نے دیا۔ تو وہ لوگ بالخصوص وہ عورتیں جو اسلام پر گندے الزامات لگاتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کا مقام ختم کر دیا، وہ فیصلہ کریں کہ قبل اسلام کے حالات اچھے تھے یا بعدِ اسلام کے۔ اسلام نے ان کے مقام کو زیرِ زمین اور زندہ درگور ہونے سے بچا کر آسمان کی بلندیوں سے اوپر پہنچا دیا۔ تو یہ کہنے والے کہ عورتوں کو اسلام نے قید کر ڈالا وہ شیطان کے بہکاوے میں ہیں اور عقل پر پردہ ہے، پردے کو ہٹا کر حقیقت کے نور کو دیکھنے کی کوشش کریں!
آخر میں ایک اور نقطہ دیکھیں کہ سورہ البقرہ:٢٢٣؍میں اللہ پاک نے فرمایا: ”وَاتَّقُوا اللہَ“ (اللہ سے ڈرو) ذکر فرمایا۔ یعنی عورت پر یا کسی پر بھی ظلم کرنے سے پہلے یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے، عورت پر کسی بھی طرح زبردستی حکم لگانا اس پر ظلم ہے، چاہے وہ مارے یا جھڑکے یا گھر سے نکال دے، سب کا حساب دینا ہے۔ جب دشمن حرث کی آیت کو پیش کرتے ہیں تو آیت مقدسہ کے اس جز کو ہٹا دیتے ہیں نہ پہلے کا حکم بیان کرتے ہیں نا بعد کا، بس ایک جز سے حملہ کرتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خدارا اے مسلمانو! ہوشیار رہو! ہوشیار رہو! دشمن دینِ حق اسلام کے خلاف ایک مقولہ مشہور کر رہے ہیں کہ اسلام کا درس ہے: ہم دوبارہ ہمارے بارہ۔ ان جیسی باتوں سے دشمن بہکا رہے ہیں، بہکنا نہیں!
اللہ پاک بوسیلۂ مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم سب کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے اور دشمنوں اور ان کے ارادوں کو نیست و نابود فرمائے اور مقدس و صاف و شفاف دین اسلام کو نظر بد سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
٢٨؍جون ؁٢٠٢٤ء
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
5
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 32
Kalam 11
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 36 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 32 | Poetry: 11
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 24
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
تاثرات 12
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
نمایاں مضامین 9
احوال وطن 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢