صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بچپن کا سفر [قسطِ پنجم]
ادبیات

بچپن کا سفر [قسطِ پنجم]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسط پنجم ]
عصر کے بعد
بچپن کی کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں یاد کرنے کے لیے کسی خاص واقعے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس انسان ذرا دیر کو خاموش بیٹھے، آنکھیں بند کرے اور دل کو موجودہ زندگی کی الجھنوں سے نکال کر چند برس پیچھے لے جائے، تو نہ جانے کہاں سے ایک منظر آ کر سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک منظر عصر کے بعد کا ہے۔چھٹی کا دن ہو، اسکول اور مدرسے کی مصروفیت نہ ہو، یا پڑھائی کے ہی دن ہوں، دن بھر کی بھاگ دوڑ کچھ تھم چکی ہو، سورج ڈھلنے کی طرف ہو اور گھر میں ایک عجیب سی ٹھہری ہوئی رونق ہو۔
آج کی طرح ہر شخص اپنے اپنے کام، موبائل اور مصروفیات میں گم نہیں ہوتا تھا؛ گھر کے لوگ ایک جگہ بیٹھ جاتے تھے اور ہمیں اس وقت یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ہم جس چیز کو معمولی سمجھ رہے ہیں، وہ ایک دن ہماری زندگی کی سب سے قیمتی یاد بن جائے گی۔
عصر کی نماز کے بعد جیسے ہی فرصت ملتی، گھر کا ماحول بدلنے لگتا۔ کوئی چارپائی پر بیٹھتا،
کوئی صحن میں کرسی ڈال لیتا،
کوئی دیوار سے ٹیک لگا لیتا
اور کسی کے ہاتھ میں چائے کا کپ آ جاتا۔ پھر آہستہ آہستہ سب ایک جگہ جمع ہونے لگتے۔ چائے کی خوشبو، گرم کپ سے اٹھتی بھاپ، شام کی ہلکی ہوا، گھر کے بڑوں کی گفتگو اور درمیان میں بچوں کی اپنی دنیا؛ یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے تھے جس کا حسن اس وقت شاید ہماری سمجھ سے باہر تھا۔ ہمیں تو بس اتنا معلوم تھا کہ عصر کے بعد گھر میں بیٹھنے کا وقت ہے۔ کبھی چائے کے ساتھ بسکٹ مل جائے تو خوشی، کبھی کچھ نمکین سامنے آ گیا تو جیسے آج کی محفل کا مرتبہ بلند ہو گیا، اور اگر کسی دن گھر میں کوئی خاص چیز بن گئی تو ہماری نظریں بار بار اسی طرف اٹھتیں کہ شاید کسی کو ہماری طرف بھی توجہ آ جائے۔
ان اوقات میں باتیں بھی عجیب ہوتی تھیں۔ بڑے اپنے زمانے کے واقعات سناتے،
گھر کے کسی فرد کا ذکر آتا،
کسی پڑوسی کی خیریت معلوم ہوتی،
کبھی پرانے لوگوں کی بات نکلتی،
کبھی کسی سفر کا قصہ شروع ہو جاتا۔ ہم بچے پہلے تو خاموش بیٹھنے کی کوشش کرتے، پھر چند منٹ بعد ہماری اپنی گفتگو شروع ہو جاتی۔ کوئی اپنی شرارت سناتا، کوئی اسکول کا واقعہ، کوئی دوست کی بات، کوئی ایسا قصہ جس میں سچ کم اور اپنی تعریف زیادہ ہوتی۔ اور اگر کسی بچے نے کوئی ایسی بات کہہ دی جس پر سب ہنس پڑیں تو اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے آج کی بیٹھک کا سب سے بڑا مقرر وہی ہے۔
کبھی ابو جان یا گھر کے کسی بڑے کی بات درمیان میں آ جاتی اور ہم خاموشی سے سننے لگتے۔ اس وقت ان کی باتیں شاید ہمیں بہت معمولی لگتی تھیں، مگر آج یاد کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محفلیں صرف چائے پینے اور وقت گزارنے کی محفلیں نہیں تھیں؛ وہ خاندان کے دل کے ایک جگہ جمع ہونے کی محفلیں تھیں۔ وہاں محبت کسی بڑے اعلان کے ساتھ نہیں ہوتی تھی، وہ بس لوگوں کے ساتھ بیٹھنے، ایک دوسرے کا حال پوچھنے، چائے کا کپ بڑھانے اور ایک دوسرے کی بات سننے میں چھپی ہوتی تھی۔
امی جان کی اپنی مصروفیات ہوتیں، مگر پھر بھی وہ چند لمحوں کے لیے بیٹھ جاتیں۔ کبھی چائے ڈال رہی ہیں، کبھی کسی کو کپ دے رہی ہیں، کبھی کسی بچے کو کچھ کھانے کو کہہ رہی ہیں، کبھی کسی کی بات سن کر مسکرا رہی ہیں۔ ہمیں اس وقت ان کے ہاتھوں کی تھکن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ہمیں تو بس یہ معلوم تھا کہ امی یہاں ہیں، سب کے ساتھ بیٹھی ہیں۔
آج جب زندگی نے انسان کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ہر موجود شخص ہمیشہ موجود نہیں رہتا، تو امی جان کا وہ یوں محفل میں بیٹھنا یاد آتا ہے تو دل کے اندر کہیں ایک خاموش سی کسک اٹھتی ہے۔ کاش اس وقت ہم جانتے کہ ایک دن انہیں لمحوں کو یاد کرنے کے لیے انسان کے پاس صرف یادیں رہ جائیں گی۔
کبھی ابّو جان گھر واپس آتے اور چائے کی محفل میں ان کے آنے سے جیسے گفتگو میں ایک نیا رنگ آ جاتا۔ بچے فوراً اپنی اپنی باتیں لے کر ان کے پاس پہنچتے۔ کسی کو اپنی کامیابی سنانی ہے،
کسی کو شکایت کرنی ہے،
کسی کو کسی چیز کی فرمائش کرنی ہے اور
کسی کو صرف اس لیے قریب بیٹھنا ہے کہ آج ابّو جان گھر پر ہیں۔ وہ تھکے ہوئے ہوتے، مگر بچوں کی بات سنتے۔ کبھی مسکرا دیتے، کبھی سمجھاتے، کبھی ڈانٹ بھی دیتے۔ ہمیں لگتا تھا کہ یہ سب تو روز کا معمول ہے۔ کیا خبر تھی کہ معمول ہی ایک دن سب سے بڑی نعمت محسوس ہوگا۔
چھٹی کے دن عصر کے بعد وقت جیسے ذرا آہستہ چلتا تھا۔ ہفتے کے دنوں میں جہاں گھڑی ہمیں کاموں کی طرف دھکیلتی رہتی تھی، چھٹی کے دن وہی گھڑی جیسے ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی۔ نہ جلدی اسکول جانے کی فکر، نہ مدرسے کے سبق کا رجحان، نہ اگلی کلاس کی تیاری کی جلدی۔ گھر کے بڑے بھی نسبتاً فارغ ہوتے اور بچے بھی۔ کبھی کسی نے کہا، ”چائے بن گئی ہے“، تو سب آہستہ آہستہ جمع ہو گئے۔ کوئی پرانی بات چلی تو سب ہنسنے لگے، کوئی واقعہ یاد آیا تو ایک دوسرے کو یاد دلایا گیا، کسی نے کہا ”تمہیں یاد ہے؟“ اور پھر حیرت ہوتی کہ واقعی سب کو یاد ہے۔
اور ہم بچوں کے لیے اس محفل کی سب سے بڑی خوشی یہ تھی کہ بڑے باتیں کر رہے ہوں اور ہمیں سننے کی اجازت ہو۔ کبھی کوئی ایسی بات نکلتی جسے ہم پوری طرح سمجھ نہیں پاتے تھے، مگر پھر بھی بڑی سنجیدگی سے سنتے۔ کبھی کسی بڑے کی بات پر سب ہنستے تو ہم بھی بغیر جانے ہنس دیتے۔ پھر اگر کسی نے پوچھ لیا، ”تمہیں معلوم ہے کس بات پر ہنس رہے ہو ؟“ تو فوراً چہرہ سنجیدہ کر کے کہتے، ”ہاں!“ حالانکہ اندر سے ہمیں خود نہیں معلوم ہوتا تھا کہ بات کیا تھی۔
کبھی چائے کا کپ ہاتھ میں ہوتا اور ہم اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑے بیٹھے رہتے۔ چائے گرم ہوتی، اس لیے پہلے پھونک مارتے، پھر ذرا سا پیتے، پھر چہرے پر ایسا تاثر بناتے جیسے کسی بہت بڑے مشروب کا ذائقہ پرکھ رہے ہوں۔ پھونک مارنے پر ایک مرتبہ میرے ایک بڑے نے مجھ سے فرمایا: ”کھانے پینے کی چیزوں پر پھونک نہیں مارنی چاہیے۔“ بچوں کی عادت ہے ہر بات پر سوال کرنا۔ پوچھا: ”کیوں ؟“ جواب دیا کہ سب سے پہلی وجہ تو یہی ہے حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ پھر انہوں نے حدیثِ پاک سنا‌ئی:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ. [سنن ابی داؤد، کتاب الاشربة]
ترجمہ: حضرتِ سیدینا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
پھر ایک وجہ بتائی کہ جب ہم سب پھونک مارتے ہیں تو Carbon Dioxide سانس کے ذریعے منہ سے نکلتا ہے، پھر وہی ہمارے کھانے پینے کی اشیاء میں چلا جاتا ہے اور وہی ہم کھاتے پیتے ہیں۔ پس اس لیے بھی ہمارے آقا کریم رؤف رحیم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے منع فرمایا۔ ہم بچے: ”اب سے اس بات کا خیال رہے گا۔“
اور اگر کپ میں بسکٹ ڈبو دیا جائے تو پھر اصل مسئلہ شروع ہوتا؛ بسکٹ زیادہ دیر چائے میں رہا تو ٹوٹ کر کپ میں، کم دیر رہا تو خشک۔ بچپن میں بسکٹ ڈبونے کا بھی ایک فن تھا، اور ہر بچہ خود کو اس فن کا ماہر سمجھتا تھا۔
مگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے ایک بہت بڑی نعمت چھپی ہوئی تھی: سب کا ایک ساتھ ہونا۔
نہ کسی کو جلدی تھی، نہ کسی کو کہیں پہنچنا تھا، نہ کسی نے کہا کہ ”ابھی بہت کام ہے،“ نہ ہر چند لمحوں بعد کسی کی توجہ کسی اور طرف چلی جاتی۔ باتیں ہوتیں، خاموشیاں بھی ہوتیں، کبھی کوئی صرف سنتا رہتا، کبھی کوئی پرانی یاد سنا دیتا۔
آج کبھی تنہائی میں بیٹھ کر عصر کا وقت یاد آتا ہے تو دل خود بخود انہی محفلوں میں جا بیٹھتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے ایک ایک چہرہ آنے لگتا ہے۔ کوئی ہنس رہا ہے، کوئی چائے پی رہا ہے، کوئی بات کر رہا ہے، کوئی خاموش بیٹھا سن رہا ہے۔ پھر دل اچانک رک سا جاتا ہے جب خیال آتا ہے کہ وہ منظر اب کہاں ہے ؟
کچھ لوگ آج بھی ہیں، مگر پہلے جیسے فرصت کے ساتھ نہیں،
کچھ بہت دور چلے گئے،
کچھ کی آواز برسوں سے نہیں سنی،
کچھ ایسے بھی ہیں جن کی موجودگی اب صرف پرانی تصویروں یا یادوں میں ہے،
کچھ چہرے ایسے ہیں جنہیں یاد کرتے ہوئے انسان خود بھی حیران رہ جاتا ہے کہ وقت نے کب انہیں اتنا دور کر دیا، اور
کچھ لوگ قریب ہو کر بھی دور ہیں۔
کاش ہم اُس وقت جانتے کہ عصر کے بعد چائے کا وہ ایک کپ صرف چائے پینا نہیں تھا؛ وہ گھر کے سب لوگوں کے ساتھ گزارا ہوا ایک ایسا لمحہ تھا جو دوبارہ نہیں آنا تھا۔
کاش ہم اس وقت امی جان کو اتنی صحت کے ساتھ ذرا زیادہ دیکھ لیتے، والد صاحب کی بات ذرا زیادہ سن لیتے، بڑوں کے قصے ذرا توجہ سے یاد کر لیتے، بہن بھائیوں کی ہنسی کو ذرا دل میں محفوظ کر لیتے۔
کاش کسی نے ہمیں بتا دیا ہوتا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان کے پاس چائے تو ہوگی، مگر وہ سب لوگ ایک ساتھ نہیں ہوں گے۔
آج اگر چائے کا کپ ہاتھ میں ہو اور گھر خاموش ہو، تو کبھی کبھی دل خود ہی پوچھتا ہے: ”وہ لمحات کہاں گئے ؟“
کپ وہی ہے، چائے بھی وہی ہے، شام بھی آتی ہے، سورج بھی ڈوبتا ہے، مگر وہ آوازیں نہیں آتیں۔ اور شاید یہی ماضی کا سب سے گہرا دکھ ہے کہ ہمیں جگہیں نہیں رلاتیں، ہمیں ان جگہوں سے وابستہ لوگ رلاتے ہیں۔ وہ عصر کی شامیں بھی اب گزری ہوئی زندگی کا حصہ ہیں۔ مگر یادوں کی دنیا میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔ وہاں چائے ابھی گرم ہے، امی جان ابھی مسکرا رہی ہیں، والد صاحب ابھی بات کر رہے ہیں، بہن بھائی ابھی پاس بیٹھے ہیں، اور ہم ابھی اتنے ہی چھوٹے ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ یہ سب ایک دن دور ہو جائے گا۔
اسی لیے جب کبھی تنہائی میں عصر ڈھلتی ہے، دل چاہتا ہے کہ وقت کی کسی پرانی کھڑکی سے جھانک کر ایک بار پھر وہ منظر دیکھ لیں۔ بس ایک بار۔ نہ کچھ بدلنا ہے، نہ کچھ مانگنا ہے، نہ کسی سے کوئی شکایت کرنی ہے۔ صرف اتنا کہ سب ایک بار پھر اسی طرح بیٹھے ہوں، چائے کے کپ ہاتھوں میں ہوں، باتوں کے درمیان ہنسی گونج رہی ہو، اور ہم خاموشی سے ایک طرف بیٹھ کر یہ سوچ رہے ہوں کہ دنیا اس سے زیادہ خوب صورت بھی ہو سکتی ہے کیا ؟ مگر وقت کسی کی خواہش پر واپس نہیں آتا۔
وہ عصر کے لمحات اب یاد بن چکی ہے۔ اور یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں؛ جب آتی ہیں تو پہلے لبوں پر مسکراہٹ لاتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ آنکھوں میں نمی اترتی ہے، اور آخر میں دل بس اتنا کہتا ہے: یا مولیٰ عزوجل! ہمارے سبھی قریبی کو صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرما، ایمان و عقیدے کی حفاظت فرما، آمین۔
عصر کی یہ محفل ابھی ختم نہیں ہوئی؛ بس ہماری یادوں میں منتقل ہوئی ہے۔ اور اسی محفل کے بعد بچپن کی شام ایک اور رنگ اختیار کرتی تھی، وہ وقت جب دن کی روشنی رخصت ہونے لگتی، گھر کی آوازیں بدل جاتیں، کتابیں کھل جاتیں، سبق یاد کیے جاتے، ہوم ورک مکمل ہوتا، اور پھر رات اپنے ساتھ ایک ایسی دنیا لے کر آتی جس میں بچپن کی بہت سی خاموش خوشیاں چھپی تھیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
چلیے، اب اسی شام کو تھام کر آگے بڑھتے ہیں؛ کیونکہ بچپن کے سفر کے اگلے مرحلے پر مغرب کی اذان ہماری منتظر ہے.............جاری
اظہارِ خیال:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی

بچپن کا سفر [قسطِ پنجم]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسط پنجم ]
عصر کے بعد
بچپن کی کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں یاد کرنے کے لیے کسی خاص واقعے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس انسان ذرا دیر کو خاموش بیٹھے، آنکھیں بند کرے اور دل کو موجودہ زندگی کی الجھنوں سے نکال کر چند برس پیچھے لے جائے، تو نہ جانے کہاں سے ایک منظر آ کر سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک منظر عصر کے بعد کا ہے۔چھٹی کا دن ہو، اسکول اور مدرسے کی مصروفیت نہ ہو، یا پڑھائی کے ہی دن ہوں، دن بھر کی بھاگ دوڑ کچھ تھم چکی ہو، سورج ڈھلنے کی طرف ہو اور گھر میں ایک عجیب سی ٹھہری ہوئی رونق ہو۔
آج کی طرح ہر شخص اپنے اپنے کام، موبائل اور مصروفیات میں گم نہیں ہوتا تھا؛ گھر کے لوگ ایک جگہ بیٹھ جاتے تھے اور ہمیں اس وقت یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ہم جس چیز کو معمولی سمجھ رہے ہیں، وہ ایک دن ہماری زندگی کی سب سے قیمتی یاد بن جائے گی۔
عصر کی نماز کے بعد جیسے ہی فرصت ملتی، گھر کا ماحول بدلنے لگتا۔ کوئی چارپائی پر بیٹھتا،
کوئی صحن میں کرسی ڈال لیتا،
کوئی دیوار سے ٹیک لگا لیتا
اور کسی کے ہاتھ میں چائے کا کپ آ جاتا۔ پھر آہستہ آہستہ سب ایک جگہ جمع ہونے لگتے۔ چائے کی خوشبو، گرم کپ سے اٹھتی بھاپ، شام کی ہلکی ہوا، گھر کے بڑوں کی گفتگو اور درمیان میں بچوں کی اپنی دنیا؛ یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے تھے جس کا حسن اس وقت شاید ہماری سمجھ سے باہر تھا۔ ہمیں تو بس اتنا معلوم تھا کہ عصر کے بعد گھر میں بیٹھنے کا وقت ہے۔ کبھی چائے کے ساتھ بسکٹ مل جائے تو خوشی، کبھی کچھ نمکین سامنے آ گیا تو جیسے آج کی محفل کا مرتبہ بلند ہو گیا، اور اگر کسی دن گھر میں کوئی خاص چیز بن گئی تو ہماری نظریں بار بار اسی طرف اٹھتیں کہ شاید کسی کو ہماری طرف بھی توجہ آ جائے۔
ان اوقات میں باتیں بھی عجیب ہوتی تھیں۔ بڑے اپنے زمانے کے واقعات سناتے،
گھر کے کسی فرد کا ذکر آتا،
کسی پڑوسی کی خیریت معلوم ہوتی،
کبھی پرانے لوگوں کی بات نکلتی،
کبھی کسی سفر کا قصہ شروع ہو جاتا۔ ہم بچے پہلے تو خاموش بیٹھنے کی کوشش کرتے، پھر چند منٹ بعد ہماری اپنی گفتگو شروع ہو جاتی۔ کوئی اپنی شرارت سناتا، کوئی اسکول کا واقعہ، کوئی دوست کی بات، کوئی ایسا قصہ جس میں سچ کم اور اپنی تعریف زیادہ ہوتی۔ اور اگر کسی بچے نے کوئی ایسی بات کہہ دی جس پر سب ہنس پڑیں تو اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے آج کی بیٹھک کا سب سے بڑا مقرر وہی ہے۔
کبھی ابو جان یا گھر کے کسی بڑے کی بات درمیان میں آ جاتی اور ہم خاموشی سے سننے لگتے۔ اس وقت ان کی باتیں شاید ہمیں بہت معمولی لگتی تھیں، مگر آج یاد کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محفلیں صرف چائے پینے اور وقت گزارنے کی محفلیں نہیں تھیں؛ وہ خاندان کے دل کے ایک جگہ جمع ہونے کی محفلیں تھیں۔ وہاں محبت کسی بڑے اعلان کے ساتھ نہیں ہوتی تھی، وہ بس لوگوں کے ساتھ بیٹھنے، ایک دوسرے کا حال پوچھنے، چائے کا کپ بڑھانے اور ایک دوسرے کی بات سننے میں چھپی ہوتی تھی۔
امی جان کی اپنی مصروفیات ہوتیں، مگر پھر بھی وہ چند لمحوں کے لیے بیٹھ جاتیں۔ کبھی چائے ڈال رہی ہیں، کبھی کسی کو کپ دے رہی ہیں، کبھی کسی بچے کو کچھ کھانے کو کہہ رہی ہیں، کبھی کسی کی بات سن کر مسکرا رہی ہیں۔ ہمیں اس وقت ان کے ہاتھوں کی تھکن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ہمیں تو بس یہ معلوم تھا کہ امی یہاں ہیں، سب کے ساتھ بیٹھی ہیں۔
آج جب زندگی نے انسان کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ہر موجود شخص ہمیشہ موجود نہیں رہتا، تو امی جان کا وہ یوں محفل میں بیٹھنا یاد آتا ہے تو دل کے اندر کہیں ایک خاموش سی کسک اٹھتی ہے۔ کاش اس وقت ہم جانتے کہ ایک دن انہیں لمحوں کو یاد کرنے کے لیے انسان کے پاس صرف یادیں رہ جائیں گی۔
کبھی ابّو جان گھر واپس آتے اور چائے کی محفل میں ان کے آنے سے جیسے گفتگو میں ایک نیا رنگ آ جاتا۔ بچے فوراً اپنی اپنی باتیں لے کر ان کے پاس پہنچتے۔ کسی کو اپنی کامیابی سنانی ہے،
کسی کو شکایت کرنی ہے،
کسی کو کسی چیز کی فرمائش کرنی ہے اور
کسی کو صرف اس لیے قریب بیٹھنا ہے کہ آج ابّو جان گھر پر ہیں۔ وہ تھکے ہوئے ہوتے، مگر بچوں کی بات سنتے۔ کبھی مسکرا دیتے، کبھی سمجھاتے، کبھی ڈانٹ بھی دیتے۔ ہمیں لگتا تھا کہ یہ سب تو روز کا معمول ہے۔ کیا خبر تھی کہ معمول ہی ایک دن سب سے بڑی نعمت محسوس ہوگا۔
چھٹی کے دن عصر کے بعد وقت جیسے ذرا آہستہ چلتا تھا۔ ہفتے کے دنوں میں جہاں گھڑی ہمیں کاموں کی طرف دھکیلتی رہتی تھی، چھٹی کے دن وہی گھڑی جیسے ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی۔ نہ جلدی اسکول جانے کی فکر، نہ مدرسے کے سبق کا رجحان، نہ اگلی کلاس کی تیاری کی جلدی۔ گھر کے بڑے بھی نسبتاً فارغ ہوتے اور بچے بھی۔ کبھی کسی نے کہا، ”چائے بن گئی ہے“، تو سب آہستہ آہستہ جمع ہو گئے۔ کوئی پرانی بات چلی تو سب ہنسنے لگے، کوئی واقعہ یاد آیا تو ایک دوسرے کو یاد دلایا گیا، کسی نے کہا ”تمہیں یاد ہے؟“ اور پھر حیرت ہوتی کہ واقعی سب کو یاد ہے۔
اور ہم بچوں کے لیے اس محفل کی سب سے بڑی خوشی یہ تھی کہ بڑے باتیں کر رہے ہوں اور ہمیں سننے کی اجازت ہو۔ کبھی کوئی ایسی بات نکلتی جسے ہم پوری طرح سمجھ نہیں پاتے تھے، مگر پھر بھی بڑی سنجیدگی سے سنتے۔ کبھی کسی بڑے کی بات پر سب ہنستے تو ہم بھی بغیر جانے ہنس دیتے۔ پھر اگر کسی نے پوچھ لیا، ”تمہیں معلوم ہے کس بات پر ہنس رہے ہو ؟“ تو فوراً چہرہ سنجیدہ کر کے کہتے، ”ہاں!“ حالانکہ اندر سے ہمیں خود نہیں معلوم ہوتا تھا کہ بات کیا تھی۔
کبھی چائے کا کپ ہاتھ میں ہوتا اور ہم اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑے بیٹھے رہتے۔ چائے گرم ہوتی، اس لیے پہلے پھونک مارتے، پھر ذرا سا پیتے، پھر چہرے پر ایسا تاثر بناتے جیسے کسی بہت بڑے مشروب کا ذائقہ پرکھ رہے ہوں۔ پھونک مارنے پر ایک مرتبہ میرے ایک بڑے نے مجھ سے فرمایا: ”کھانے پینے کی چیزوں پر پھونک نہیں مارنی چاہیے۔“ بچوں کی عادت ہے ہر بات پر سوال کرنا۔ پوچھا: ”کیوں ؟“ جواب دیا کہ سب سے پہلی وجہ تو یہی ہے حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ پھر انہوں نے حدیثِ پاک سنا‌ئی:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ. [سنن ابی داؤد، کتاب الاشربة]
ترجمہ: حضرتِ سیدینا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
پھر ایک وجہ بتائی کہ جب ہم سب پھونک مارتے ہیں تو Carbon Dioxide سانس کے ذریعے منہ سے نکلتا ہے، پھر وہی ہمارے کھانے پینے کی اشیاء میں چلا جاتا ہے اور وہی ہم کھاتے پیتے ہیں۔ پس اس لیے بھی ہمارے آقا کریم رؤف رحیم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے منع فرمایا۔ ہم بچے: ”اب سے اس بات کا خیال رہے گا۔“
اور اگر کپ میں بسکٹ ڈبو دیا جائے تو پھر اصل مسئلہ شروع ہوتا؛ بسکٹ زیادہ دیر چائے میں رہا تو ٹوٹ کر کپ میں، کم دیر رہا تو خشک۔ بچپن میں بسکٹ ڈبونے کا بھی ایک فن تھا، اور ہر بچہ خود کو اس فن کا ماہر سمجھتا تھا۔
مگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے ایک بہت بڑی نعمت چھپی ہوئی تھی: سب کا ایک ساتھ ہونا۔
نہ کسی کو جلدی تھی، نہ کسی کو کہیں پہنچنا تھا، نہ کسی نے کہا کہ ”ابھی بہت کام ہے،“ نہ ہر چند لمحوں بعد کسی کی توجہ کسی اور طرف چلی جاتی۔ باتیں ہوتیں، خاموشیاں بھی ہوتیں، کبھی کوئی صرف سنتا رہتا، کبھی کوئی پرانی یاد سنا دیتا۔
آج کبھی تنہائی میں بیٹھ کر عصر کا وقت یاد آتا ہے تو دل خود بخود انہی محفلوں میں جا بیٹھتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے ایک ایک چہرہ آنے لگتا ہے۔ کوئی ہنس رہا ہے، کوئی چائے پی رہا ہے، کوئی بات کر رہا ہے، کوئی خاموش بیٹھا سن رہا ہے۔ پھر دل اچانک رک سا جاتا ہے جب خیال آتا ہے کہ وہ منظر اب کہاں ہے ؟
کچھ لوگ آج بھی ہیں، مگر پہلے جیسے فرصت کے ساتھ نہیں،
کچھ بہت دور چلے گئے،
کچھ کی آواز برسوں سے نہیں سنی،
کچھ ایسے بھی ہیں جن کی موجودگی اب صرف پرانی تصویروں یا یادوں میں ہے،
کچھ چہرے ایسے ہیں جنہیں یاد کرتے ہوئے انسان خود بھی حیران رہ جاتا ہے کہ وقت نے کب انہیں اتنا دور کر دیا، اور
کچھ لوگ قریب ہو کر بھی دور ہیں۔
کاش ہم اُس وقت جانتے کہ عصر کے بعد چائے کا وہ ایک کپ صرف چائے پینا نہیں تھا؛ وہ گھر کے سب لوگوں کے ساتھ گزارا ہوا ایک ایسا لمحہ تھا جو دوبارہ نہیں آنا تھا۔
کاش ہم اس وقت امی جان کو اتنی صحت کے ساتھ ذرا زیادہ دیکھ لیتے، والد صاحب کی بات ذرا زیادہ سن لیتے، بڑوں کے قصے ذرا توجہ سے یاد کر لیتے، بہن بھائیوں کی ہنسی کو ذرا دل میں محفوظ کر لیتے۔
کاش کسی نے ہمیں بتا دیا ہوتا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان کے پاس چائے تو ہوگی، مگر وہ سب لوگ ایک ساتھ نہیں ہوں گے۔
آج اگر چائے کا کپ ہاتھ میں ہو اور گھر خاموش ہو، تو کبھی کبھی دل خود ہی پوچھتا ہے: ”وہ لمحات کہاں گئے ؟“
کپ وہی ہے، چائے بھی وہی ہے، شام بھی آتی ہے، سورج بھی ڈوبتا ہے، مگر وہ آوازیں نہیں آتیں۔ اور شاید یہی ماضی کا سب سے گہرا دکھ ہے کہ ہمیں جگہیں نہیں رلاتیں، ہمیں ان جگہوں سے وابستہ لوگ رلاتے ہیں۔ وہ عصر کی شامیں بھی اب گزری ہوئی زندگی کا حصہ ہیں۔ مگر یادوں کی دنیا میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔ وہاں چائے ابھی گرم ہے، امی جان ابھی مسکرا رہی ہیں، والد صاحب ابھی بات کر رہے ہیں، بہن بھائی ابھی پاس بیٹھے ہیں، اور ہم ابھی اتنے ہی چھوٹے ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ یہ سب ایک دن دور ہو جائے گا۔
اسی لیے جب کبھی تنہائی میں عصر ڈھلتی ہے، دل چاہتا ہے کہ وقت کی کسی پرانی کھڑکی سے جھانک کر ایک بار پھر وہ منظر دیکھ لیں۔ بس ایک بار۔ نہ کچھ بدلنا ہے، نہ کچھ مانگنا ہے، نہ کسی سے کوئی شکایت کرنی ہے۔ صرف اتنا کہ سب ایک بار پھر اسی طرح بیٹھے ہوں، چائے کے کپ ہاتھوں میں ہوں، باتوں کے درمیان ہنسی گونج رہی ہو، اور ہم خاموشی سے ایک طرف بیٹھ کر یہ سوچ رہے ہوں کہ دنیا اس سے زیادہ خوب صورت بھی ہو سکتی ہے کیا ؟ مگر وقت کسی کی خواہش پر واپس نہیں آتا۔
وہ عصر کے لمحات اب یاد بن چکی ہے۔ اور یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں؛ جب آتی ہیں تو پہلے لبوں پر مسکراہٹ لاتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ آنکھوں میں نمی اترتی ہے، اور آخر میں دل بس اتنا کہتا ہے: یا مولیٰ عزوجل! ہمارے سبھی قریبی کو صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرما، ایمان و عقیدے کی حفاظت فرما، آمین۔
عصر کی یہ محفل ابھی ختم نہیں ہوئی؛ بس ہماری یادوں میں منتقل ہوئی ہے۔ اور اسی محفل کے بعد بچپن کی شام ایک اور رنگ اختیار کرتی تھی، وہ وقت جب دن کی روشنی رخصت ہونے لگتی، گھر کی آوازیں بدل جاتیں، کتابیں کھل جاتیں، سبق یاد کیے جاتے، ہوم ورک مکمل ہوتا، اور پھر رات اپنے ساتھ ایک ایسی دنیا لے کر آتی جس میں بچپن کی بہت سی خاموش خوشیاں چھپی تھیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
چلیے، اب اسی شام کو تھام کر آگے بڑھتے ہیں؛ کیونکہ بچپن کے سفر کے اگلے مرحلے پر مغرب کی اذان ہماری منتظر ہے.............جاری
اظہارِ خیال:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
27
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]

بچپن کا سفر [قسطِ چہارم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 40

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 35 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
40
زمرجات
ادبیات 75
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 30
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
تاثرات 21
فقہ وفتاویٰ 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 7
رد بدمذہباں 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢