اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صحیح البہاری آبروئے حنفیت
حدیث واہمیت حدیث

صحیح البہاری آبروئے حنفیت

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

صحیح البہاری آبروئے حنفیت
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ مصر
تلمیذ و خلیفۂ اعلی حضرت، نصرت سنیت، آبروئے حنفیت، فقیہ و متکلم، ملک العلما علامہ مفتی سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ کی مایۂ ناز تصنیف جامع الرضوی المعروف بہ صحیح البہاری علما محدثین کی نظر میں فقہ حنفی کی تائید میں یکتائے زمن، مقبول ترین تصنیف ہے
اور کیوں نہ ہو کہ یہ مجدد دین و ملت حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے بحر کرم سے نکلا ہوا دریائے نیل ہے جس میں ہر دور کا بندۂ موسی اپنے عقائد و نظریات کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی منزل کو پہنچ جاتا ہے اور ہر فرعون صفت غرقاب ہو جاتا ہے جو در بدر زندہ لاش کی طرح پھرتا رہتا ہے
حضور ملک العلما فرماتے ہیں:
ھذا نهر اصغر من البحر الاكبر من ابحار علوم سيدى و شیخی نفعنا الله ببركاته في الدنياء والآخرة (مقدمہ صحیح البہاری)
یعنی یہ ذخیرہ حدیث کی ایک چھوٹی نہر ہے، جو میرے ہاتھوں جاری ہوئی میرے مخدوم و شیخ اعلیحضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کے ابحار علوم کے بڑے سمندر سے اللہ تعالٰی ہمیں ان کے برکات و فیضان سے دنیا و آخرت میں نفع بخشے ۔ (آمین)
مذکور بالا اقتباس سے حق بیانی کے ساتھ ساتھ شاگرد کا اپنے استاذ سے اٹوٹ محبت کا پتہ چلتا ہے یہ تو شاگرد کی محبت استاذ سے ہے لیکن استاذ کو اپنے شاگرد سے بھی کم محبت نہیں تھی اسی لیے حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ انجمن نعمانیہ لاہور کو ٥ شعبان المعظم ١٣٢٨ھ کے ایک مکتوب میں حضور ملک العلما کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
مکرمی، مولانا مولوی محمد ظفر الدین قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلباء سے ہیں اور میرے جان عزیز ، ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتاء میں میرے معین ہیں ، میں یہ نہیں کہتا، کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں ، سب میں یہ زائد ہیں۔ مگر اتنا ضرور کہوں گا۔
سنی، خالص، مخلص، نہایت صحیح العقیدہ، ہادی، مہدی ہیں، عام درسیات میں بفضلہ تعالیٰ عاجز نہیں، مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔ آپ کے مدرسہ کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لئے پیش کرتا ہے۔

( فتاوی ملک العلماء ، ص: ۱۳)
قارئین غور فرمائیں یہ اپنے وقت کے مجدد اعظم کے نوک قلم سے نکلے ہوئے کلمات ہیں یہ وہ قلم ہے جن کے بارے میں حضور محدث اعظم ہند نے فرمایا:
ہم کو اور ہمارے ساتھ سارے علماء عرب و عجم کو اعتراف ہے کہ حضرت شیخ محقق دہلوی، بحر العلوم فرنگی محلی یا پھر اعلی حضرت کی زبان و قلم کا یہ حال دیکھا کہ مولی تعالٰی نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے اور زبان و قلم نقطه برابر خطا کرے۔ اس کو ناممکن فرما دیا۔ ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء اس عنوان پر غور کرنا ہو تو فتاری رضویہ کا گہرا مطالعہ کر ڈالیے۔
[المیزان، امام احمد رضا نمبر ١٩٧٦ء ص ٢٤٨۔ انوار رضا ص ٢٧١]
اب غور کیجیے ایسے قلم کے مالک ایسی زبان کے حامل کا حضور ملک العلما کو اعز طلبا مفتی، مصنف، واعظ، اور علم توقیت میں تنہا آگاہ فرمانا کتنی بڑی فضیلت کی بات ہے اسی ذات تطہیر یعنی حضور ملک العلما نے جامع الرضوی صحیح البہاری فقہ حنفی کے مسائل کی تائید کرنے والی احادیث کا ایسا مجموعہ تیار کیا کہ اس سے پہلے کوئی مجموعۂ احادیث اس انداز میں کسی نے مرتب نہیں کیا اگر کسی نے کرنا بھی چاہا تو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا اگر پہنچ بھی گیا تو ہم تک نہ پہنچ سکا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایک عرصے سے مدارس میں مشکوٰۃ المصابیح، ترمذی شریف، مسلم شریف، ابو داؤد شریف اور دیگر کتب احادیث شامل درس ہیں لیکن ان میں باضابطہ فقہ حنفی کے مطابق ابواب بندی نہیں کی گئی کیونکہ ان میں بعض شافعی المیل یا حنبلی المیل محدثین تھے
تو ضرورت تھی ایک ایسی حدیث کی کتاب کی جو باضابطہ فقہ حنفی کی ابواب بندی کے ساتھ ہو اور فقہ حنفی کی مؤید ہو لہذا امام طحاوی رضی اللہ عنہ نے شرح معانی الآثار مرتب فرما کر احناف پر احسان عظیم فرمایا لیکن یہ کتاب سب کے لیے آسان نہیں اس میں اختلافات بھی بیان کیے گئے ہیں نیز ان اختلافات پر بھی احادیث پیش کی گئیں ہیں پھر مذہب حنفی کی ترجیح کی عقلی اور نقلی وجہ بیان کی گئی ہے جسے سمجھنے کے لیے وافر علم کی ضرورت ہے اس لیے یہ کتاب کم پڑھے لکھے طبقہ کے لیے پیچ و خم کی گھتیاں سلجھانے کے مترادف ہیں
اس لیے اب بھی وہ ضرورت باقی رہی کہ فقہ حنفی کے مسائل کی مؤید حدیث کی ایک ایسی کتاب ہو جس میں تمام ابواب کے تحت احادیث جمع کی گئیں ہوں قطع نظر اختلافات سے، تاکہ ہر ایک بآسانی فایدہ حاصل کر سکے اس کے لیے حضور ملک العلما مستعد ہوئے اور چھ جلدوں میں صحیح البہاری تصنیف فرمائی جس میں آپ نے ابواب بندی میں اس بات کا التزام کیا کہ ہر باب پڑھتے ہی یہ اندازہ ہو جائے کہ اس میں کس چیز کے تعلق سے بحث ہے اور وہ فرض یا شرط یا حرام ، مکروہ مستحب مباح کیا ہے مثلا:
١) ابواب فرائض الوضو
(۲) ابواب سنن الوضو
(۳) ابواب مستحبات الوضو
(۴) ابواب مباحات الوضو
(۵) ابواب مکروہات الوضو۔۔۔۔
اول نظر میں قارئین یہ معلوم ہوجاتا ہے یہ احادیث سنن سے متعلق ہیں یا فرائض سے یا کچھ اور، مگر دوسری احادیث کی کتاب میں ہر باب میں اس کا التزام نہیں کیا گیا ہے اس لیے بھی صحیح البہاری اپنی معنویت میں منفرد ہے
انھیں خصوصیات کے پیش نظر بعض مدارس میں اسے شامل نصاب کیا گیا انھیں اداروں میں مادر علمی مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف ہے جس میں صحیح البہاری شامل درس ہے لیکن مسرت کن بات یہ ہے کہ ٢٠٢٦/٢٠٢٧ء کے طلباء کی سعادت مندی سمجھیے کہ انھوں نے ایک نہایت لائق تحسین فریضہ انجام دیا کہ صحیح البہاری جو شامل درس ہے اس کی تخریج کر کے کتاب کے حسن میں چار چاند لگا دیا اب اس سے قارئین کو بڑا فایدہ یہ ہوگا کہ حدیث کے ماخذ تک پہنچنے میں بہت آسانی ہوگی اس کی اہمیت کا اندازہ خاص کر مقالہ نگار علما، فقہ و افتا سے جڑے مفتیان عظام کو ہوگا
٢٠٢٦ کے مرکزی فارغین نے مل کر اس اہم کام کو انجام دیا اس لیے اس کا نام التخریج المرکزی علی جامع الرضوی المعروف بہ صحیح البہاری رکھا
اتنے بڑے کام کے انجام دینے پر فقیر راقم الحروف تمام فارغین کو نیک دعائیں اور ہدیۂ تبریکات پیش کرتا ہے
اللہ جل جلالہ یونہی ہمیں دین متین کی خدمات کی توفیق مرحمت فرمائے اور مادر علمی کی چمک دمک تا قیام قیامت سلامت رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
75
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

بچپن کا سفر [قسطِ ششم]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]

صحیح البہاری آبروئے حنفیت - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

صحیح البہاری آبروئے حنفیت

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

صحیح البہاری آبروئے حنفیت

از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ مصر

تلمیذ و خلیفۂ اعلی حضرت، نصرت سنیت، آبروئے حنفیت، فقیہ و متکلم، ملک العلما علامہ مفتی سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ کی مایۂ ناز تصنیف “جامع الرضوی المعروف بہ صحیح البہاری” علما محدثین کی نظر میں فقہ حنفی کی تائید میں یکتائے زمن، مقبول ترین تصنیف ہے
اور کیوں نہ ہو کہ یہ مجدد دین و ملت حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے بحر کرم سے نکلا ہوا دریائے نیل ہے جس میں ہر دور کا بندۂ موسی اپنے عقائد و نظریات کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی منزل کو پہنچ جاتا ہے اور ہر فرعون صفت غرقاب ہو جاتا ہے جو در بدر زندہ لاش کی طرح پھرتا رہتا ہے

حضور ملک العلما فرماتے ہیں:
ھذا نهر اصغر من البحر الاكبر من ابحار علوم سيدى و شیخی نفعنا الله ببركاته في الدنياء والآخرة (مقدمہ صحیح البہاری)
یعنی یہ ذخیرہ حدیث کی ایک چھوٹی نہر ہے، جو میرے ہاتھوں جاری ہوئی میرے مخدوم و شیخ اعلیحضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کے ابحار علوم کے بڑے سمندر سے اللہ تعالٰی ہمیں ان کے برکات و فیضان سے دنیا و آخرت میں نفع بخشے ۔ (آمین)
مذکور بالا اقتباس سے حق بیانی کے ساتھ ساتھ شاگرد کا اپنے استاذ سے اٹوٹ محبت کا پتہ چلتا ہے یہ تو شاگرد کی محبت استاذ سے ہے لیکن استاذ کو اپنے شاگرد سے بھی کم محبت نہیں تھی اسی لیے حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ انجمن نعمانیہ لاہور کو ٥ شعبان المعظم ١٣٢٨ھ کے ایک مکتوب میں حضور ملک العلما کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:

“مکرمی، مولانا مولوی محمد ظفر الدین قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلباء سے ہیں اور میرے جان عزیز ، ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتاء میں میرے معین ہیں ، میں یہ نہیں کہتا، کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں ، سب میں یہ زائد ہیں۔ مگر اتنا ضرور کہوں گا۔
سنی، خالص، مخلص، نہایت صحیح العقیدہ، ہادی، مہدی ہیں، عام درسیات میں بفضلہ تعالیٰ عاجز نہیں، مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔ آپ کے مدرسہ کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لئے پیش کرتا ہے۔”
( فتاوی ملک العلماء ، ص: ۱۳)

قارئین غور فرمائیں یہ اپنے وقت کے مجدد اعظم کے نوک قلم سے نکلے ہوئے کلمات ہیں یہ وہ قلم ہے جن کے بارے میں حضور محدث اعظم ہند نے فرمایا:
“ہم کو اور ہمارے ساتھ سارے علماء عرب و عجم کو اعتراف ہے کہ حضرت شیخ محقق دہلوی، بحر العلوم فرنگی محلی یا پھر اعلی حضرت کی زبان و قلم کا یہ حال دیکھا کہ مولی تعالٰی نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے اور زبان و قلم نقطه برابر خطا کرے۔ اس کو ناممکن فرما دیا۔ “ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء” اس عنوان پر غور کرنا ہو تو فتاری رضویہ کا گہرا مطالعہ کر ڈالیے”۔
[المیزان، امام احمد رضا نمبر ١٩٧٦ء ص ٢٤٨۔ انوار رضا ص ٢٧١]

اب غور کیجیے ایسے قلم کے مالک ایسی زبان کے حامل کا حضور ملک العلما کو “اعز طلبا” مفتی، مصنف، واعظ، اور علم توقیت میں تنہا آگاہ فرمانا کتنی بڑی فضیلت کی بات ہے اسی ذات تطہیر یعنی حضور ملک العلما نے جامع الرضوی صحیح البہاری فقہ حنفی کے مسائل کی تائید کرنے والی احادیث کا ایسا مجموعہ تیار کیا کہ اس سے پہلے کوئی مجموعۂ احادیث اس انداز میں کسی نے مرتب نہیں کیا اگر کسی نے کرنا بھی چاہا تو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا اگر پہنچ بھی گیا تو ہم تک نہ پہنچ سکا

ایک عرصے سے مدارس میں مشکوٰۃ المصابیح، ترمذی شریف، مسلم شریف، ابو داؤد شریف اور دیگر کتب احادیث شامل درس ہیں لیکن ان میں باضابطہ فقہ حنفی کے مطابق ابواب بندی نہیں کی گئی کیونکہ ان میں بعض شافعی المیل یا حنبلی المیل محدثین تھے
تو ضرورت تھی ایک ایسی حدیث کی کتاب کی جو باضابطہ فقہ حنفی کی ابواب بندی کے ساتھ ہو اور فقہ حنفی کی مؤید ہو لہذا امام طحاوی رضی اللہ عنہ نے شرح معانی الآثار مرتب فرما کر احناف پر احسان عظیم فرمایا لیکن یہ کتاب سب کے لیے آسان نہیں اس میں اختلافات بھی بیان کیے گئے ہیں نیز ان اختلافات پر بھی احادیث پیش کی گئیں ہیں پھر مذہب حنفی کی ترجیح کی عقلی اور نقلی وجہ بیان کی گئی ہے جسے سمجھنے کے لیے وافر علم کی ضرورت ہے اس لیے یہ کتاب کم پڑھے لکھے طبقہ کے لیے پیچ و خم کی گھتیاں سلجھانے کے مترادف ہیں
اس لیے اب بھی وہ ضرورت باقی رہی کہ فقہ حنفی کے مسائل کی مؤید حدیث کی ایک ایسی کتاب ہو جس میں تمام ابواب کے تحت احادیث جمع کی گئیں ہوں قطع نظر اختلافات سے، تاکہ ہر ایک بآسانی فایدہ حاصل کر سکے اس کے لیے حضور ملک العلما مستعد ہوئے اور چھ جلدوں میں صحیح البہاری تصنیف فرمائی جس میں آپ نے ابواب بندی میں اس بات کا التزام کیا کہ ہر باب پڑھتے ہی یہ اندازہ ہو جائے کہ اس میں کس چیز کے تعلق سے بحث ہے اور وہ فرض یا شرط یا حرام ، مکروہ مستحب مباح کیا ہے مثلا:
١) ابواب فرائض الوضو
(۲) ابواب سنن الوضو
(۳) ابواب مستحبات الوضو
(۴) ابواب مباحات الوضو
(۵) ابواب مکروہات الوضو۔۔۔۔
اول نظر میں قارئین یہ معلوم ہوجاتا ہے یہ احادیث سنن سے متعلق ہیں یا فرائض سے یا کچھ اور، مگر دوسری احادیث کی کتاب میں ہر باب میں اس کا التزام نہیں کیا گیا ہے اس لیے بھی صحیح البہاری اپنی معنویت میں منفرد ہے

انھیں خصوصیات کے پیش نظر بعض مدارس میں اسے شامل نصاب کیا گیا انھیں اداروں میں مادر علمی مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف ہے جس میں صحیح البہاری شامل درس ہے لیکن مسرت کن بات یہ ہے کہ ٢٠٢٦/٢٠٢٧ء کے طلباء کی سعادت مندی سمجھیے کہ انھوں نے ایک نہایت لائق تحسین فریضہ انجام دیا کہ صحیح البہاری جو شامل درس ہے اس کی تخریج کر کے کتاب کے حسن میں چار چاند لگا دیا اب اس سے قارئین کو بڑا فایدہ یہ ہوگا کہ حدیث کے ماخذ تک پہنچنے میں بہت آسانی ہوگی اس کی اہمیت کا اندازہ خاص کر مقالہ نگار علما، فقہ و افتا سے جڑے مفتیان عظام کو ہوگا
٢٠٢٦ کے مرکزی فارغین نے مل کر اس اہم کام کو انجام دیا اس لیے اس کا نام “التخریج المرکزی علی جامع الرضوی المعروف بہ صحیح البہاری” رکھا
اتنے بڑے کام کے انجام دینے پر فقیر راقم الحروف تمام فارغین کو نیک دعائیں اور ہدیۂ تبریکات پیش کرتا ہے
اللہ جل جلالہ یونہی ہمیں دین متین کی خدمات کی توفیق مرحمت فرمائے اور مادر علمی کی چمک دمک تا قیام قیامت سلامت رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

Scan this QR code to read online:

QR Code