اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر
تاریخی حقائق

واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
برابر جھولیاں غواص بھر کے جاتے ہیں لیکن
یہ وہ بحر ادب ہے جس کی موتی کم نہیں ہوتی
١٤٤٥ھ/ ٢٠٢٤ء ماہ رمضان المبارک میں جب بریلی شریف تلیا پور نوری مسجد مسجد میں فقیر راقم الحروف تراویح پڑھا رہا تھا اسی اثنا استاذی الکریم خلیفۂ تاج الشریعہ ماہر درسیات حضرت علامہ مفتی ابو حمدان شاعر رضا قادری حفظہ اللہ القوی نے تذکرہ فرمایا تھا کہ وہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی تصانیف سے واقعات کو جمع فرما رہے ہیں اور کتابی شکل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بریلی شریف تلیا پور میں جتنے دن رہا اور مفتی صاحب قبلہ سے جو گفت و شنید ہوئی نیز وقت کی پابندی دیکھی تو اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ میرے استاذ کریم مفتی شاعر صاحب قبلہ بڑے محنتی اور جفاکش شخصیت ہیں جو ہر بے ہنگم صورت حال میں تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنے اندر قوم و ملت کا درد رکھتے ہیں کل تک جو درد سینے میں پنہاں تھا آج وہ کتاب کی شکل میں عوام و خواص سے داد و تحسین وصول رہا ہے۔
فی الحال پہلی جلد منظر عام پر آئی ہے اس میں مفتی صاحب قبلہ نے ملفوظات اعلی حضرت، مجیر معظم شرح اکسیر اعظم، انباء المصطفی، اور طرد الافاعی عن حمی ھاد رفع الرفاعی، فتاوی کرامات غوثیہ، فتاوی رضویہ شریف اور دیگر تصانیف اعلی حضرت سے واقعات جمع فرمائے ہیں یعنی پہلی جلد کی طرح جتنی جلدیں آگے آئیں گی سب میں اس بات کا التزام رہے گا کہ انھیں واقعات کو کتاب میں درج کیے جائیں گے جو تصانیف اعلی حضرت رضی اللہ عنہ میں موجود ہیں اسی وجہ سے کتاب مستطاب کا نام واقعات رضویہ منتخب فرمایا۔
واقعات رضویہ ہونے کی حیثیت سے یہ کتاب منفرد المثال ہے کیونکہ اس میں وہی واقعات موجود ہیں جو امام اہل سنت کی نظر میں کم سے کم لائق بیان ضرور ہیں جن میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے ورنہ اس زمانے میں خاص کر واقعات کی کتابوں میں اس طرح واقعات وضع کیے گئے ہیں جو لائق بیان تو دور کی بات لائق قرات بھی نہیں ہیں کیونکہ کتنے ایسے واقعات ہیں جنھین عام آدمی پڑھ کر پسند کر لے تو اس پر توبہ لازم ہو جائے اور اعتقاد کر لے تو زندیق ہو جائے ایسے حالات میں ایسی کتاب کا ملنا خاص کر عوام اور مقررین حضرات کے لیے کسی نعمت عظمی سے کم نہیں ہے بلکہ بے آب و گیاہ زمین میں گم شدہ اونٹ چار دن کے بعد ملنے کی خوشی کے مترادف ہے
بحمدہ تعالیٰ واقعات رضویہ کی پہلی جلد چھپ کر اپنی چھاپ چھوڑنے کے لیے تیار ہے ٢٠٢٦ء میں ایک سو آٹھواں عرس رضوی کے پر بہار موقع سے ملک کے جید علماء کرام و مفتیان عظام کی موجودگی میں اس کتاب مستطاب کا رسم اجرا ہوا اور علما میں سے مفسر القرآن حضرۃ العلام محمد عاشق حسین کشمیری حفظہ اللہ القوی نے بر سر منبرِ رسول کتاب مستطاب کو خوب سراہا۔
جب کسی مصنف کی کتاب کا بر سر منبر رسم اجرا ہوتا ہے تو ان کو ایسی ہی خوشی حاصل ہوتی جیسی خوشی ایک زندہ دل انسان کو پہلی اولاد پر ہوتی ہے اس لیے راقم الحروف اپنے استاذ مکرم مفتی صاحب قبلہ کو کتاب مستطاب کے رسم اجرا پر تہ دل سے مبارکبادیاں پیش کرتا ہے۔
کتاب اپنی نوعیت میں بالکل منفرد المثال اور قابل داد ہے مفتی صاحب قبلہ نے اس کتاب کو خاص کر عوام اور مقررین کے فائدے کے لیے جمع فرمایا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ اس میں اہل تحقیق کے لیے اچھا خاصا سرمایہ موجود ہے ہاں اس میں اگر ایک چیز اور اضافہ فرما دیتے تو یہ کتاب اہل تحقیق کے لیے بھی اتنی ہی مفید ہوتی جتنی کہ عوام کے لیے
اضافہ یہ کہ وہ واقعات جن پر دیابنہ اور دوسرے بد مذہب حضرات اعتراض کرتے ہیں ان واقعات کے تحت حاشیہ تحریر فرما دیتے کہ اس میں فلاں بد مذہب کا اعتراض یہ ہے اور اس کا جواب یہ ہے
مثلا مفتی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی نے ملفوظ شریف سے یہ واقعہ نقل فرمایا:
حافظ الحدیث سیدی احمد سجلماسی کہیں تشریف لیے جاتے تھے راہ میں اتفاقا آپ کی نظر ایک نہایت حسینہ عورت پر پڑ گئی یہ نظر اول تھی بلا قصد تھی دوبارہ پھر آپ کی نظر اٹھ گئی اب دیکھا کہ پہلو میں حضرت سیدی غوث الوقت عبدالعزیز دباغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پیر مرشد تشریف فرما ہیں اور فرماتے احمد عالم ہو کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھیں سیدی احمد سجلماسی کی دو بیویاں تھیں ، سیدی عبد العزیز دباغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رات کو تم نے ایک بیوی کے جاگتے ہوئے دوسری سے ہمبستری کی، یہ نہیں چاہیے، عرض کیا حضور وہ اس وقت سوتی تھی ، فرمایا سوتی نہ تھی ، سوتے میں جان ڈال لی تھی ، عرض کیا : حضور کو کس طرح علم ہوا، فرمایا جہاں وہ سورہی تھی اور پلنگ بھی تھا، عرض کیا ہاں ایک پلنگ خالی تھا ، فرمایا اس پر میں تھا۔ تو کسی وقت شیخ مرید سے جدا نہیں ہر آن ساتھ ہے۔
[واقعات رضویہ ص: ١٧٥ بحوالہ ملفوظ شریف حصہ دوم ص : ٤٦]
کچھ سال قبل کسی کرم فرما نے یہ واقعہ نقل کر کے فقیر سے سوال کیا میں نے وہ واقعہ اور سوال استاذ گرامی وقار خلیفۂ تاج الشریعہ ماہر فقہیات ابو حنظلہ مفتی محمد بلال انور پلاموی حفظہ اللہ القوی کو بھیج دیا۔
استاذ حاذق مفتی صاحب قبلہ نے اس کا درج ذیل جواب عنایت فرمایا:
اندھے کو بڑی دور کی سوجھی
جی ہاں یہ واقعہ ابریز شریف میں ہے بلکہ اس جیسے متعدد واقعات موجود ہیں.
معترض کا اعتراض اس کی جہالت اور شریعت سے عدم واقفیت کی واضح دلیل ہے.
اس کا اعتراض کہ بیت الخلا میں شیطان سے پردہ کے لیے بھی دعا پڑھنے کا حکم ہے، پھر پیر کے لیے ایسا کیوں ؟
اولا اس کی بات بے اصل ہے، کس کتاب میں آیا ہے کہ شیطان سے پردے کے لئے دعا پڑھیں؟
عقل ہوتی تو سمجھتا کہ شیطانی مداخلت و خلل سے حفاظت کی دعا ہے، مگر انہیں تو اللہ والوں سے بیر ہے.
اصل بات یہ ہے کہ گندی نالی کے کیڑے کو ہمیشہ گندگی میں ہی رہنا پسند ہے، شیخ الوہابیہ کو بھی جا بجا بندگان نیکاں کی جگہ شیطان ہی یاد آتا تھا تو اس کی ذریت کو یاد آنا لازم ہے.
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
جواب بصورت سوال لیتے جائیں.
قرآن میں ہے اللہ رگ گلو سے قریب ہے
قرآن مجید ہی میں ہے نبی مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان سے قریب ہیں
حدیث میں ہے صحابی نے اپنی زوجہ سے التقاء فرمایا، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بے پوچھےصبح خوش خبری دی
ملا علی القاری نے شفاء میں فرمایا سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روح انور ہر مومن کے گھر میں جلوہ گر ہے
اب معترض بتائے کہ محل اعتراض میں ان آیات و احادیث کا کیا جواب ہے؟ جو جواب دے وہی اس کا جواب ہوگا. ١٢
ابو حنظلہ
اگر حضور مفتی صاحب قبلہ اپنے شاگرد کی عرضی لائق التفات سمجھیں تو مجھ جیسے بہت سے حضرات کی خیر خواہی ہو جائے اور کتاب مستطاب عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید ثابت ہو۔
حضور مفتی صاحب قبلہ کی رہنمائی فقیر کے ساتھ بہت رہی ہیں خاص کر فضیلت کے بعد جب میں جامعہ ازہر آنے کی خواہش کا اظہار کیا تو حضرت نے فرمایا بیٹا پہلے جامعۃ الرضا میں افتا کی تکمیل کر لو یہ بہتر ہوگا پھر کھڑے کھڑے ہی تقریبا آدھا ایک گھنٹا حضرت نے مجھے سمجھایا راقم نے نصیحت پر عمل بھی کیا امید ہے کہ مفتی صاحب قبلہ آئندہ بھی اپنے اس ادنی شاگرد پر اپنی کرم کی چادر یونہی دراز رکھیں گے
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ استاذ و مربی حضور مفتی صاحب قبلہ کی کتاب مستطاب واقعات رضویہ کو مقبول انام بنائے اور ذریعۂ نجات بنائے اور ہم سب کو تا حین حیات مسلک اعلی حضرت رضی اللہ عنہ پر قائم و دائم رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
62
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دہم] [اخیر قسط]

واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر

از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

برابر جھولیاں غواص بھر کے جاتے ہیں لیکن
یہ وہ بحر ادب ہے جس کی موتی کم نہیں ہوتی

١٤٤٥ھ/ ٢٠٢٤ء ماہ رمضان المبارک میں جب بریلی شریف تلیا پور نوری مسجد مسجد میں فقیر راقم الحروف تراویح پڑھا رہا تھا اسی اثنا استاذی الکریم خلیفۂ تاج الشریعہ ماہر درسیات حضرت علامہ مفتی ابو حمدان شاعر رضا قادری حفظہ اللہ القوی نے تذکرہ فرمایا تھا کہ وہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی تصانیف سے واقعات کو جمع فرما رہے ہیں اور کتابی شکل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بریلی شریف تلیا پور میں جتنے دن رہا اور مفتی صاحب قبلہ سے جو گفت و شنید ہوئی نیز وقت کی پابندی دیکھی تو اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ میرے استاذ کریم مفتی شاعر صاحب قبلہ بڑے محنتی اور جفاکش شخصیت ہیں جو ہر بے ہنگم صورت حال میں تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنے اندر قوم و ملت کا درد رکھتے ہیں کل تک جو درد سینے میں پنہاں تھا آج وہ کتاب کی شکل میں عوام و خواص سے داد و تحسین وصول رہا ہے۔

فی الحال پہلی جلد منظر عام پر آئی ہے اس میں مفتی صاحب قبلہ نے ملفوظات اعلی حضرت، مجیر معظم شرح اکسیر اعظم، انباء المصطفی، اور طرد الافاعی عن حمی ھاد رفع الرفاعی، فتاوی کرامات غوثیہ، فتاوی رضویہ شریف اور دیگر تصانیف اعلی حضرت سے واقعات جمع فرمائے ہیں یعنی پہلی جلد کی طرح جتنی جلدیں آگے آئیں گی سب میں اس بات کا التزام رہے گا کہ انھیں واقعات کو کتاب میں درج کیے جائیں گے جو تصانیف اعلی حضرت رضی اللہ عنہ میں موجود ہیں اسی وجہ سے کتاب مستطاب کا نام “واقعات رضویہ” منتخب فرمایا۔

واقعات رضویہ ہونے کی حیثیت سے یہ کتاب منفرد المثال ہے کیونکہ اس میں وہی واقعات موجود ہیں جو امام اہل سنت کی نظر میں کم سے کم لائق بیان ضرور ہیں جن میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے ورنہ اس زمانے میں خاص کر واقعات کی کتابوں میں اس طرح واقعات وضع کیے گئے ہیں جو لائق بیان تو دور کی بات لائق قرات بھی نہیں ہیں کیونکہ کتنے ایسے واقعات ہیں جنھین عام آدمی پڑھ کر پسند کر لے تو اس پر توبہ لازم ہو جائے اور اعتقاد کر لے تو زندیق ہو جائے ایسے حالات میں ایسی کتاب کا ملنا خاص کر عوام اور مقررین حضرات کے لیے کسی نعمت عظمی سے کم نہیں ہے بلکہ بے آب و گیاہ زمین میں گم شدہ اونٹ چار دن کے بعد ملنے کی خوشی کے مترادف ہے

بحمدہ تعالیٰ “واقعات رضویہ” کی پہلی جلد چھپ کر اپنی چھاپ چھوڑنے کے لیے تیار ہے ٢٠٢٦ء میں ایک سو آٹھواں عرس رضوی کے پر بہار موقع سے ملک کے جید علماء کرام و مفتیان عظام کی موجودگی میں اس کتاب مستطاب کا رسم اجرا ہوا اور علما میں سے مفسر القرآن حضرۃ العلام محمد عاشق حسین کشمیری حفظہ اللہ القوی نے بر سر منبرِ رسول کتاب مستطاب کو خوب سراہا۔
جب کسی مصنف کی کتاب کا بر سر منبر رسم اجرا ہوتا ہے تو ان کو ایسی ہی خوشی حاصل ہوتی جیسی خوشی ایک زندہ دل انسان کو پہلی اولاد پر ہوتی ہے اس لیے راقم الحروف اپنے استاذ مکرم مفتی صاحب قبلہ کو کتاب مستطاب کے رسم اجرا پر تہ دل سے مبارکبادیاں پیش کرتا ہے۔

کتاب اپنی نوعیت میں بالکل منفرد المثال اور قابل داد ہے مفتی صاحب قبلہ نے اس کتاب کو خاص کر عوام اور مقررین کے فائدے کے لیے جمع فرمایا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ اس میں اہل تحقیق کے لیے اچھا خاصا سرمایہ موجود ہے ہاں اس میں اگر ایک چیز اور اضافہ فرما دیتے تو یہ کتاب اہل تحقیق کے لیے بھی اتنی ہی مفید ہوتی جتنی کہ عوام کے لیے

اضافہ یہ کہ وہ واقعات جن پر دیابنہ اور دوسرے بد مذہب حضرات اعتراض کرتے ہیں ان واقعات کے تحت حاشیہ تحریر فرما دیتے کہ اس میں فلاں بد مذہب کا اعتراض یہ ہے اور اس کا جواب یہ ہے
مثلا مفتی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی نے ملفوظ شریف سے یہ واقعہ نقل فرمایا:
حافظ الحدیث سیدی احمد سجلماسی کہیں تشریف لیے جاتے تھے راہ میں اتفاقا آپ کی نظر ایک نہایت حسینہ عورت پر پڑ گئی یہ نظر اول تھی بلا قصد تھی دوبارہ پھر آپ کی نظر اٹھ گئی اب دیکھا کہ پہلو میں حضرت سیدی غوث الوقت عبدالعزیز دباغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پیر مرشد تشریف فرما ہیں اور فرماتے احمد عالم ہو کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھیں سیدی احمد سجلماسی کی دو بیویاں تھیں ، سیدی عبد العزیز دباغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رات کو تم نے ایک بیوی کے جاگتے ہوئے دوسری سے ہمبستری کی، یہ نہیں چاہیے، عرض کیا حضور وہ اس وقت سوتی تھی ، فرمایا سوتی نہ تھی ، سوتے میں جان ڈال لی تھی ، عرض کیا : حضور کو کس طرح علم ہوا، فرمایا جہاں وہ سورہی تھی اور پلنگ بھی تھا، عرض کیا ہاں ایک پلنگ خالی تھا ، فرمایا اس پر میں تھا۔ تو کسی وقت شیخ مرید سے جدا نہیں ہر آن ساتھ ہے۔
[واقعات رضویہ ص: ١٧٥ بحوالہ ملفوظ شریف حصہ دوم ص : ٤٦]

کچھ سال قبل کسی کرم فرما نے یہ واقعہ نقل کر کے فقیر سے سوال کیا میں نے وہ واقعہ اور سوال استاذ گرامی وقار خلیفۂ تاج الشریعہ ماہر فقہیات ابو حنظلہ مفتی محمد بلال انور پلاموی حفظہ اللہ القوی کو بھیج دیا۔
استاذ حاذق مفتی صاحب قبلہ نے اس کا درج ذیل جواب عنایت فرمایا:

*اندھے کو بڑی دور کی سوجھی*

جی ہاں یہ واقعہ ابریز شریف میں ہے بلکہ اس جیسے متعدد واقعات موجود ہیں.

معترض کا اعتراض اس کی جہالت اور شریعت سے عدم واقفیت کی واضح دلیل ہے.
اس کا اعتراض کہ “بیت الخلا میں شیطان سے پردہ کے لیے بھی دعا پڑھنے کا حکم ہے، پھر پیر کے لیے ایسا کیوں” ؟
اولا اس کی بات بے اصل ہے، کس کتاب میں آیا ہے کہ شیطان سے پردے کے لئے دعا پڑھیں؟
عقل ہوتی تو سمجھتا کہ شیطانی مداخلت و خلل سے حفاظت کی دعا ہے، مگر انہیں تو اللہ والوں سے بیر ہے.
اصل بات یہ ہے کہ گندی نالی کے کیڑے کو ہمیشہ گندگی میں ہی رہنا پسند ہے، شیخ الوہابیہ کو بھی جا بجا بندگان نیکاں کی جگہ شیطان ہی یاد آتا تھا تو اس کی ذریت کو یاد آنا لازم ہے.

*جواب بصورت سوال لیتے جائیں.*
قرآن میں ہے” اللہ رگ گلو سے قریب ہے”
قرآن مجید ہی میں ہے” نبی مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان سے قریب ہیں”
حدیث میں ہے ” صحابی نے اپنی زوجہ سے التقاء فرمایا، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بے پوچھےصبح خوش خبری دی”
ملا علی القاری نے شفاء میں فرمایا ” سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روح انور ہر مومن کے گھر میں جلوہ گر ہے”
اب معترض بتائے کہ محل اعتراض میں ان آیات و احادیث کا کیا جواب ہے؟ جو جواب دے وہی اس کا جواب ہوگا. ١٢
ابو حنظلہ

اگر حضور مفتی صاحب قبلہ اپنے شاگرد کی عرضی لائق التفات سمجھیں تو مجھ جیسے بہت سے حضرات کی خیر خواہی ہو جائے اور کتاب مستطاب عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید ثابت ہو۔
حضور مفتی صاحب قبلہ کی رہنمائی فقیر کے ساتھ بہت رہی ہیں خاص کر فضیلت کے بعد جب میں جامعہ ازہر آنے کی خواہش کا اظہار کیا تو حضرت نے فرمایا بیٹا پہلے جامعۃ الرضا میں افتا کی تکمیل کر لو یہ بہتر ہوگا پھر کھڑے کھڑے ہی تقریبا آدھا ایک گھنٹا حضرت نے مجھے سمجھایا راقم نے نصیحت پر عمل بھی کیا امید ہے کہ مفتی صاحب قبلہ آئندہ بھی اپنے اس ادنی شاگرد پر اپنی کرم کی چادر یونہی دراز رکھیں گے
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ استاذ و مربی حضور مفتی صاحب قبلہ کی کتاب مستطاب واقعات رضویہ کو مقبول انام بنائے اور ذریعۂ نجات بنائے اور ہم سب کو تا حین حیات مسلک اعلی حضرت رضی اللہ عنہ پر قائم و دائم رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

Scan this QR code to read online:

QR Code