اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے]
تحقیق و تعاقب

[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے]
ایک شخص نے اشعار کی شکل میں جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تو فقیر نے اسے اسی کی زبان میں جواب دے دیا تا کہ وہ یہ نہ سوچے کہ اس کا جواب کسی پر قرض رہ گیا البتہ فقیر نے جواب دینے کے ساتھ اسے مقروض بھی کر دیا
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
مصرع:
(منافق لوگ ہیں بدعت کو جو بدعت نہیں کہتے)
جواب مصرع:
[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے]
شاعر: ڈاکٹر محمد فہیم الدین قائد عمری، گلبرگہ
مجیب: محمد جسیم اکرم مرکزی، جامعۃ الازہر، مصر
شعر:
صحابہ کا عمل میلاد پر تھا ہی نہیں، سچ میں
نبی نے بھی کبھی اس کو منایا ہی نہیں، سچ میں
جواب شعر:
صحابہ کا عمل میلاد پر ہر دم رہا، سچ میں
نبیِ دو جہاں نے بھی منایا ہے سدا، سچ میں
پڑھو شاہ دو عالم کی حدیثیں صاف کہتی ہیں
نہ چھوڑو پیر کا روزہ، ہے برکت بے بہا، سچ میں
سحر کے وقت سب اہل مدینہ گنگناتے تھے
کہ ہم پر چاند نکلا برکت و انوار کا، سچ میں
کلام رب فحدّث سے ہمیں یہ حکم ملتا ہے
ہو چرچا شاہ کا ہر چار سو صبح و مسا، سچ میں
ہمیں آقا سے الفت ہیں ہم ان کا جشن کرتے ہیں
مگر ابلیس روتا ہے، ہے مردود خدا، سچ میں
شعر:
ہوئے برباد دونوں ہاتھ بھی تبّت یدا پڑھ لو
بَھلا کچھ بو لَہَب کا، کام آیا ہی نہیں، سچ میں
جواب شعر:
ہوئے برباد دونوں ہاتھ دیکھو سورۂ تبّت
کہ بے شک بو لہَب گستاخ تھا سرکار کا، سچ میں
جھنم پر فدا ہے وہ، فدا نار سقر اس پر
مگر پھر بھی روایت کہتی ہے یہ برملا، سچ میں
صحابی حضرت عباس نے یہ خواب میں دیکھا
کہ کافر بو لہب ہے آگ میں جلتا ہوا، سچ میں
تو اس سے حضرت عباس نے پوچھا کہ بعدِ مرگ
تمہارے ساتھ دوزخ میں بتاؤ کیا ہوا، سچ میں
تو بولا بو لہب مجھ پر مسلط ہے عذابِ رب
بہت تکلیف ہوتی ہے بہت ہوں غمزدہ، سچ میں
مگر اک بات ہے جس کے سبب راحت سی ملتی ہے
عذاب نار میں اک دن کمی ہے بس شہا، سچ میں
سبب یہ تھا کہ سرکار دو عالم کی ولادت کی
خبر جب پھیلی ہر جانب یکایک جا بجا، سچ میں
ثویبہ لونڈی آئی اور یہ آ کر بشارت دی
کہ تیرے گھر شہِ لولاک کا آنا ہوا، سچ میں
تو اظہار خوشی میں، میں نے فورا ہی ثویبہ کو
اٹھائی اپنی انگلی اور کیا آزاد تھا، سچ میں
یہی اک وجہ ہے عباس میری داستانوں میں
عذاب نار اس کے واسطے ہی کم ہوا، سچ میں
عذابِ بو لہب کافر میں جب تخفیف ہو جائے
بتاؤ برکتِ میلاد پھر ہو کیا سے کیا، سچ میں
مگر ابلیس کی جو پیروی میں رکھے گردن ہے
مناؤ جس قدر اس کو نہیں وہ مانے گا، سچ میں
بتاؤ برکتِ میلاد سمجھا بو لہب لیکن
مگر نجدی وہابی ہو گیا اس سے بڑا، سچ میں
شعر:
بفضْل اللہ کا مطلب یہ دینِ حق و قرآں ہے
کہیں بدعت کو قرآں نے سراہا ہی نہیں، سچ میں
جواب شعر:
بفضل اللہ کا مطلب جہاں ہے دین اور قرآں
وہیں سرکار کی بھی ذات ہے فضلِ خدا سچ میں
بتاؤ ذات آقا فضل ربی مانتے تم ہو؟
اگر تم مانتے ہو تو ہوئے تم دو رخا، سچ میں
اگر یہ بول دوگے فضل رب ان کو نہیں کہتے
تو تم بھی بو لہب سے ہو شقی و بے وفا، سچ میں
جہاں پر فضل ہے بس بعد اس کے لفظِ رحمت ہے
بتاؤ فضل پر ہی رک گئے، ہے بات کیا، سچ میں
سنو فلیفرحوا کہتی ہے رحمت پر منا خوشیاں
وہیں قرآن کہتا ہے، ہیں رحمت مصطفی، سچ میں
یہ دیکھو خود کلام پاک سے ثابت ہوا یہ بھی
نبی کا جشن کرنا ہے خدا کی بھی رضا، سچ میں
وہابی تم نہ سمجھوگے تمہارے کانوں، آنکھوں پر
ہے چھائی سمعھم ابصارھم کی وہ گھٹا، سچ میں
شعر:
نبی نے پیر کے دن روزہ رکھ کر یہ بتایا ہے
کبھی اس 'عید' کو ہی عید مانا ہی نہیں، سچ میں
جواب شعر:
نبی نے پیر کے دن روزہ رکھ کر یہ بتایا ہے
یہی وہ عید ہے جس سے ملی عید الضحیٰ سچ میں
فقط عید الضحیٰ پر بس نہیں سب عید ہیں شامل
سبھی عیدوں کی اس کو عید کہیے بے شبہ، سچ میں
ترا محبوب آئے تو اسے تو عید کہتا ہے
کجی کیسی ہے دل میں جھانک خود میں بے حیا، سچ میں
ہوئی آمد ہے اس دن جان عالم سرور دیں کی
کہیں ہم کیوں نہ اس کو عید پھر سب سے جدا، سچ میں
بتاؤ سرور عالم نے روزہ رکھا، کیوں رکھا؟
خوشی کے واسطے رکھا یا پھر غم میں رکھا، سچ میں
اگر تو غم کہے تو بات یہ ابلیس کی ہوگی
کہ یہ الزام آقا پر لگے گا بے تکا، سچ میں
اسی الزام کی بنیاد پر کذاب تو ٹھہرا
کہ آقا نے کبھی غم میں نہ یہ روزہ رکھا سچ میں
ہوا ثابت خوشی میں روزہ رکھا سرور دیں نے
خوشی کو عید کہتے ہیں یہی سب نے کہا، سچ میں
خوشی کو عید کہنا بھی یہ ہے قرآن سے ثابت
مگر نجدی وہابی کو نہیں ہے سوجھتا، سچ میں
پڑھو تم مائدہ سورت خدا نے خود ہی فرمایا
خدائے پاک سے ہے شاہ عیسیٰ کی دعا سچ میں
خدایا ہم پہ نازل آسماں سے کر تو دسترخواں
کہ وہ ہو عید کا دن سب کی خاطر یا خدا سچ میں
بتا یہ عید کا دن کیوں، ہے اس میں راز کیا پنہاں ؟
کہ اس کو اول و آخر کی خاطر کر دیا سچ میں
اگر تم یہ کہو اللہ کی جانب سے ہے یہ نعمت
تو پھر سرکار بھی ہیں نعمت عظمی سدا سچ میں
اترنا دونوں جانب ہے تو پھر تفریق کیسی ہے
کہیں پر عید کہتا ہے کہیں پر پھر گیا، سچ میں
حقیقت میں بتاتا ہوں وہابی کیا سمجھتے ہیں
عقیدے ہیں سیہ ان کے ہیں ان کے دل سیہ سچ میں
وہابی عید کھانے پینے کے دن کو سمجھتے ہیں
اسی خاطر نہ سمجھا عید کو یہ بے سُرا سچ میں
شعر:
اطاعت ہی محمد سے محبت کی نشانی ہے
یوں راہوں پر صحابہ نے تو گھوما ہی نہیں، سچ میں
جواب شعر:
اطاعت ہی صحابہ کی محبت ہے محمد کی
صحابہ سے ہی ثابت ذکر ہے میلاد کا سچ میں
بتا ہے ذکر کرنا گھوم کر ناجائز و ممنوع؟
کہاں لکّھا ہے کس نے لکھ دیا ہے آ بتا سچ میں
نبی کے نام پر چل کر نبی کی مدح ہے جائز
گواہی دیتا ہے اب بھی مدینہ طیبہ سچ میں
شعر:
مکمل ہو گیا دینِ محمد تو بہت پہلے
نیا کام آپ نے ایسا بتایا ہی نہیں، سچ میں
جواب شعر:
مکمل ہو گیا دین محمد بے گماں بے شک
مطابق شرع کے عامل ہے رہنا ہر جگہ سچ میں
اسی دین محمد میں محمد نے یہ فرمایا
جو اچھا ہو وہ اچھا ہے برا جو ہو برا سچ میں
شہ طیبہ نے ہے من سن فرما کر یہ بتلایا
جو اچھا کام ہے اس پر ہے بس اچھا صلہ سچ میں
نبی کے نام پر میلاد کرنا خوب اچھا ہے
یہی قول ائمہ ہے، ہے سیدھا راستہ سچ میں
شعر:
زمانے خیر کے وہ تین تھے، وہ لوگ سچے تھے
انہوں نے خیر ہم سے کچھ چھپایا ہی نہیں، سچ میں
جواب شعر:
زمانے خیر کے وہ تین ہیں، وہ لوگ سچے ہیں
انہوں نے ہی منایا جشن ہے یہ نور کا سچ میں
انھیں سے جانا ہے میلاد میں ہے خیر اور برکت
انھیں کے نقش پر چلنا نصیبہ ہے مرا سچ میں
اگر تم اتنے سچے ہو دلیلیں منع پر لاؤ
بتاؤ کس نے روکا ہے کہاں کیا ہے لکھا سچ میں ؟
شعر:
نبی سے آگے بڑھنا ہی نہیں ہے، بس یہی دیں ہے
وہ سب شر ہے، نبی نے جو سکھایا ہی نہیں، سچ میں
جواب شعر:
نبی کے حکم کی ہی پیروی ہے دین اور اسلام
تجاوز جو کیا اس سے وہ خاسر ہو گیا سچ میں
نبی جس کام سے روکے نہیں تم اس سے کیوں روکے ؟
نبی سے آگے بڑھنا چاہتے ہو نجدیا سچ میں
اسی خاطر تو کہتے ہو نبی ہیں بس بڑے بھائی
معاذ اللہ ہو اپنی سوچ میں ابن سبا سچ میں
کہیں اپنی طرح سرکار کو بتلاتے ہو نجدی
تمہاری سوچ پر تف ہے کہ تم ہو بد ادا سچ میں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
شعر:
منافق لوگ ہیں بدعت کو جو بدعت نہیں کہتے
انہیں قائد نے ہرگز نیک مانا ہی نہیں، سچ میں
جواب شعر:
وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے
وہابی کو جسیم اچھا نہیں مانا گیا سچ میں
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
80
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

Jamiatur Raza Students Portal Launched at Urs-e-Razvi

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات

[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے]

ایک شخص نے اشعار کی شکل میں جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تو فقیر نے اسے اسی کی زبان میں جواب دے دیا تا کہ وہ یہ نہ سوچے کہ اس کا جواب کسی پر قرض رہ گیا البتہ فقیر نے جواب دینے کے ساتھ اسے مقروض بھی کر دیا

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
مصرع:
(منافق لوگ ہیں بدعت کو جو بدعت نہیں کہتے)
جواب مصرع:
[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے]

شاعر: ڈاکٹر محمد فہیم الدین قائد عمری، گلبرگہ
مجیب: محمد جسیم اکرم مرکزی، جامعۃ الازہر، مصر

شعر:
صحابہ کا عمل میلاد پر تھا ہی نہیں، سچ میں
نبی نے بھی کبھی اس کو منایا ہی نہیں، سچ میں

جواب شعر:
صحابہ کا عمل میلاد پر ہر دم رہا، سچ میں
نبیِ دو جہاں نے بھی منایا ہے سدا، سچ میں

پڑھو شاہ دو عالم کی حدیثیں صاف کہتی ہیں
نہ چھوڑو پیر کا روزہ، ہے برکت بے بہا، سچ میں

سحر کے وقت سب اہل مدینہ گنگناتے تھے
کہ ہم پر چاند نکلا برکت و انوار کا، سچ میں

کلام رب “فحدّث” سے ہمیں یہ حکم ملتا ہے
ہو چرچا شاہ کا ہر چار سو صبح و مسا، سچ میں

ہمیں آقا سے الفت ہیں ہم ان کا جشن کرتے ہیں
مگر ابلیس روتا ہے، ہے مردود خدا، سچ میں

شعر:
ہوئے برباد دونوں ہاتھ بھی “تبّت یدا” پڑھ لو
بَھلا کچھ بو لَہَب کا، کام آیا ہی نہیں، سچ میں

جواب شعر:
ہوئے برباد دونوں ہاتھ دیکھو سورۂ “تبّت”
کہ بے شک بو لہَب گستاخ تھا سرکار کا، سچ میں

جھنم پر فدا ہے وہ، فدا نار سقر اس پر
مگر پھر بھی روایت کہتی ہے یہ برملا، سچ میں

صحابی حضرت عباس نے یہ خواب میں دیکھا
کہ کافر بو لہب ہے آگ میں جلتا ہوا، سچ میں

تو اس سے حضرت عباس نے پوچھا کہ بعدِ مرگ
تمہارے ساتھ دوزخ میں بتاؤ کیا ہوا، سچ میں

تو بولا بو لہب مجھ پر مسلط ہے عذابِ رب
بہت تکلیف ہوتی ہے بہت ہوں غمزدہ، سچ میں

مگر اک بات ہے جس کے سبب راحت سی ملتی ہے
عذاب نار میں اک دن کمی ہے بس شہا، سچ میں

سبب یہ تھا کہ سرکار دو عالم کی ولادت کی
خبر جب پھیلی ہر جانب یکایک جا بجا، سچ میں

ثویبہ لونڈی آئی اور یہ آ کر بشارت دی
کہ تیرے گھر شہِ لولاک کا آنا ہوا، سچ میں

تو اظہار خوشی میں، میں نے فورا ہی ثویبہ کو
اٹھائی اپنی انگلی اور کیا آزاد تھا، سچ میں

یہی اک وجہ ہے عباس میری داستانوں میں
عذاب نار اس کے واسطے ہی کم ہوا، سچ میں

عذابِ بو لہب کافر میں جب تخفیف ہو جائے
بتاؤ برکتِ میلاد پھر ہو کیا سے کیا، سچ میں

مگر ابلیس کی جو پیروی میں رکھے گردن ہے
مناؤ جس قدر اس کو نہیں وہ مانے گا، سچ میں

بتاؤ برکتِ میلاد سمجھا بو لہب لیکن
مگر نجدی وہابی ہو گیا اس سے بڑا، سچ میں

شعر:
بفضْل اللہ کا مطلب یہ دینِ حق و قرآں ہے
کہیں بدعت کو قرآں نے سراہا ہی نہیں، سچ میں

جواب شعر:
بفضل اللہ کا مطلب جہاں ہے دین اور قرآں
وہیں سرکار کی بھی ذات ہے فضلِ خدا سچ میں

بتاؤ ذات آقا فضل ربی مانتے تم ہو؟
اگر تم مانتے ہو تو ہوئے تم دو رخا، سچ میں

اگر یہ بول دوگے فضل رب ان کو نہیں کہتے
تو تم بھی بو لہب سے ہو شقی و بے وفا، سچ میں

جہاں پر فضل ہے بس بعد اس کے لفظِ رحمت ہے
بتاؤ فضل پر ہی رک گئے، ہے بات کیا، سچ میں

سنو “فلیفرحوا” کہتی ہے رحمت پر منا خوشیاں
وہیں قرآن کہتا ہے، ہیں رحمت مصطفی، سچ میں

یہ دیکھو خود کلام پاک سے ثابت ہوا یہ بھی
نبی کا جشن کرنا ہے خدا کی بھی رضا، سچ میں

وہابی تم نہ سمجھوگے تمہارے کانوں، آنکھوں پر
ہے چھائی “سمعھم” “ابصارھم” کی وہ گھٹا، سچ میں

شعر:
نبی نے پیر کے دن روزہ رکھ کر یہ بتایا ہے
کبھی اس ‘عید’ کو ہی عید مانا ہی نہیں، سچ میں

جواب شعر:
نبی نے پیر کے دن روزہ رکھ کر یہ بتایا ہے
یہی وہ عید ہے جس سے ملی عید الضحیٰ سچ میں

فقط عید الضحیٰ پر بس نہیں سب عید ہیں شامل
سبھی عیدوں کی اس کو عید کہیے بے شبہ، سچ میں

ترا محبوب آئے تو اسے تو عید کہتا ہے
کجی کیسی ہے دل میں جھانک خود میں بے حیا، سچ میں

ہوئی آمد ہے اس دن جان عالم سرور دیں کی
کہیں ہم کیوں نہ اس کو عید پھر سب سے جدا، سچ میں

بتاؤ سرور عالم نے روزہ رکھا، کیوں رکھا؟
خوشی کے واسطے رکھا یا پھر غم میں رکھا، سچ میں

اگر تو غم کہے تو بات یہ ابلیس کی ہوگی
کہ یہ الزام آقا پر لگے گا بے تکا، سچ میں

اسی الزام کی بنیاد پر کذاب تو ٹھہرا
کہ آقا نے کبھی غم میں نہ یہ روزہ رکھا سچ میں

ہوا ثابت خوشی میں روزہ رکھا سرور دیں نے
خوشی کو عید کہتے ہیں یہی سب نے کہا، سچ میں

خوشی کو عید کہنا بھی یہ ہے قرآن سے ثابت
مگر نجدی وہابی کو نہیں ہے سوجھتا، سچ میں

پڑھو تم مائدہ سورت خدا نے خود ہی فرمایا
خدائے پاک سے ہے شاہ عیسیٰ کی دعا سچ میں

خدایا ہم پہ نازل آسماں سے کر تو دسترخواں
کہ وہ ہو عید کا دن سب کی خاطر یا خدا سچ میں

بتا یہ عید کا دن کیوں، ہے اس میں راز کیا پنہاں ؟
کہ اس کو اول و آخر کی خاطر کر دیا سچ میں

اگر تم یہ کہو اللہ کی جانب سے ہے یہ نعمت
تو پھر سرکار بھی ہیں نعمت عظمی سدا سچ میں

اترنا دونوں جانب ہے تو پھر تفریق کیسی ہے
کہیں پر عید کہتا ہے کہیں پر پھر گیا، سچ میں

حقیقت میں بتاتا ہوں وہابی کیا سمجھتے ہیں
عقیدے ہیں سیہ ان کے ہیں ان کے دل سیہ سچ میں

وہابی عید کھانے پینے کے دن کو سمجھتے ہیں
اسی خاطر نہ سمجھا عید کو یہ بے سُرا سچ میں

شعر:
اطاعت ہی محمد سے محبت کی نشانی ہے
یوں راہوں پر صحابہ نے تو گھوما ہی نہیں، سچ میں

جواب شعر:
اطاعت ہی صحابہ کی محبت ہے محمد کی
صحابہ سے ہی ثابت ذکر ہے میلاد کا سچ میں

بتا ہے ذکر کرنا گھوم کر ناجائز و ممنوع؟
کہاں لکّھا ہے کس نے لکھ دیا ہے آ بتا سچ میں

نبی کے نام پر چل کر نبی کی مدح ہے جائز
گواہی دیتا ہے اب بھی مدینہ طیبہ سچ میں

شعر:
مکمل ہو گیا دینِ محمد تو بہت پہلے
نیا کام آپ نے ایسا بتایا ہی نہیں، سچ میں

جواب شعر:
مکمل ہو گیا دین محمد بے گماں بے شک
مطابق شرع کے عامل ہے رہنا ہر جگہ سچ میں

اسی دین محمد میں محمد نے یہ فرمایا
جو اچھا ہو وہ اچھا ہے برا جو ہو برا سچ میں

شہ طیبہ نے ہے “من سن” فرما کر یہ بتلایا
جو اچھا کام ہے اس پر ہے بس اچھا صلہ سچ میں

نبی کے نام پر میلاد کرنا خوب اچھا ہے
یہی قول ائمہ ہے، ہے سیدھا راستہ سچ میں

شعر:
زمانے خیر کے وہ تین تھے، وہ لوگ سچے تھے
انہوں نے خیر ہم سے کچھ چھپایا ہی نہیں، سچ میں

جواب شعر:
زمانے خیر کے وہ تین ہیں، وہ لوگ سچے ہیں
انہوں نے ہی منایا جشن ہے یہ نور کا سچ میں

انھیں سے جانا ہے میلاد میں ہے خیر اور برکت
انھیں کے نقش پر چلنا نصیبہ ہے مرا سچ میں

اگر تم اتنے سچے ہو دلیلیں منع پر لاؤ
بتاؤ کس نے روکا ہے کہاں کیا ہے لکھا سچ میں ؟

شعر:
نبی سے آگے بڑھنا ہی نہیں ہے، بس یہی دیں ہے
وہ سب شر ہے، نبی نے جو سکھایا ہی نہیں، سچ میں

جواب شعر:
نبی کے حکم کی ہی پیروی ہے دین اور اسلام
تجاوز جو کیا اس سے وہ خاسر ہو گیا سچ میں

نبی جس کام سے روکے نہیں تم اس سے کیوں روکے ؟
نبی سے آگے بڑھنا چاہتے ہو نجدیا سچ میں

اسی خاطر تو کہتے ہو نبی ہیں بس بڑے بھائی
معاذ اللہ ہو اپنی سوچ میں ابن سبا سچ میں

کہیں اپنی طرح سرکار کو بتلاتے ہو نجدی
تمہاری سوچ پر تف ہے کہ تم ہو بد ادا سچ میں

شعر:
منافق لوگ ہیں بدعت کو جو بدعت نہیں کہتے
انہیں قائد نے ہرگز نیک مانا ہی نہیں، سچ میں

جواب شعر:
وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے
وہابی کو جسیم اچھا نہیں مانا گیا سچ میں

Scan this QR code to read online:

QR Code