صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط سوم]
عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط سوم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط سوم]
توجیہِ قول سکک المدینہ ـــــــــــــ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول رأیت ربی سکک المدینہ میں نے اپنے رب کو مدینے کی گلیوں میں دیکھا، بعض حضرات اس سے یہ استدلال کر رہے ہیں کہ غیر رب کو بھی رب بولنا جائز ہے جیسا کہ سورۂ یوسف میں بعض جگہوں میں آیا ہے اس کا دو جواب فقیر راقم الحروف نے پہلے ہی دے دیا ہے کہ وہ اس زمانے کا عرف تھا اور پہلوں کی شریعت تھی اب اس پر عمل نہیں کیونکہ اس کے بر خلاف حکم آ چکا ہے جب حکم آجائے تو پہلے کی شریعت پر کسی صورت عمل نہیں ہوگا جیسے سجدۂ تعظیمی حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جائز تھا اس لیے قرآن میں آیا : وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًاۚ [سورۂ یوسف آیت ١٠٠] ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور وہ سب اس کے لیے سجدے میں گرے،
اب بتائیے کیا شریعت محمدیہ میں کوئی سجدۂ تعظیمی کو حرام قرار نہیں دیا گیا؟ پہلے کی شریعت میں جائز لیکن اب سجدۂ تعظیمی حرام لہذا اب اسے دلیل بنانا جائز ہی نہیں،
اب مبحوث عنہ مسئلہ کو بھی اسی تناظر میں سمجھیں کہ غیر خدا کو رب کہنا جائز تھا اس لیے اس کا ذکر قرآن میں آیا لیکن اب غیر خدا کو رب کہنا جائز نہیں جس کی ممانعت حدیث شریف سے ظاہر ہے اور مزے کی بات یہ کہ ممانعت والی حدیث خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : بخاری شریف کی صحیح حدیث میں ہے :
عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ عن النبي ﷺ قال لا يَقُلْ أحَدُكُمُ: اسقِ رَبَّك، أطعِمْ رَبَّك، وضِّئْ رَبَّك، ولا يَقُلْ أحَدُكُم: رَبِّي، وليَقُلْ: سَيِّدي مَولايَ، ولا يَقُلْ أحَدُكُم: عَبدي أمَتي، وليَقُلْ: فتايَ، فتاتي، غُلامي.[الصحیح البخاری رقم الحدیث ٢٤٤٢]
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو پانی پلا، اپنے رب کو کھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے میرے رب بلکہ یہ کہے اے میرے سردار اے میرے مولی، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے اے مرے بندے، اے مری بندی بلکہ یہ کہے اے مرے نوجوان خادم، اے مری نوجوان خادمہ یا اے مرے غلام۔
اسی مفہوم کی حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی میں ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تو پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیوں کہیں گے کہ میں نے اپنے رب کو مدینے کی گلیوں میں دیکھا؟ اور راوی بھی خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور صحابہ حضور کی ہر بات کو دل و جان سے مانتے اور اس پر عمل کرتے کیا کوئی ہے صحابہ سے بڑھ کر حضور کی احادیث پر عمل کرنے والا ہے؟
اور اگر کوئی یہ کہے کہ حدیث بعد کی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول پہلے کا ہے تو بھی جو میرا مقصود ہے کہ رب کہنا جائز نہیں یہ بدرجۂ اتم ثابت ہوگا۔
اس لیے قول سکک المدینہ اگر واقعی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے تو اس کو اسی پر ڈھالنا بہتر ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے رب کو مدینے کی گلیوں میں خواب میں دیکھا کیونکہ رأیت کا معنی میں نے خواب دیکھا یہ بھی ہوتا ہے جیسا سورۂ یوسف میں ہے: إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ [سورۂ یوسف ٤] ترجمہ کنز الایمان: میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا ۔
یہاں دیکھنے سے مراد خواب میں دیکھنا ہے ایسے ہی بخاری شریف، باب من رأی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام میں ہے: مَنْ رَانِي فَقَدْ رَأَى الحَقِّ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَتَكَوَّنَنِي [رقم الحدیث٦٩٩٧]
ترجمہ:جس نے مجھے دیکھا تو اس نے حق دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔
یہاں بھی خواب میں دیکھنے کے لیے رأی کا صیغہ استعمال ہوا ہے
اور علماء اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ خواب میں اللہ جل جلالہ کو دنیا میں بھی دیکھنا ممکن ہے جیسا کہ المعتقد المنتقد میں علامہ فضل رسول بدایونی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: وفي الشرح : واعلم أنه لا خلاف بين الحفاظ في جواز رؤيته يقظة ومناماً، [ ص ١٣٢]"
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے کہ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ جل جلالہ کو خواب میں سو مرتبہ دیکھا ورأى ربه في المنام مائة مرة [جلد اول ص ٥١] اسی لیے قول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیداری میں محمول نہ کر کے منامی میں محمول کیا جائے یہی بہتر توجیہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق ہے
نیز بر سبیل تنزل اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حالت بیداری میں دیکھا تو اس کو سمجھنا چاہیے اور اپنے ضمیر سے فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ اس پر عمل کرے گا جو کئی معنی کا احتمال رکھتا ہے نیز صحابی کا قول ہے یا اس پر عمل کرے گا جس کا حکم صراحت کے ساتھ خود حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے کہ میرا رب مت کہو بلکہ میرا سردار کہو ہمارا رب مت کہو بلکہ ہمارا مولی کہو
اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ جو اس قول سکک المدینہ سے استدلال کرتے ہیں وہ اپنے استدلال میں کتنے پختہ ہیں۔

لفظ رب خاص ہے خدا کے لیے ـــــــــــــ

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور انھیں احادیث کے تناظر میں علما نے لفظ رب کو اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص فرمایا جیسا کہ مجتہد وقت، محدث عصر، حضرت امام نووی رضی اللہ عنہ نے الاذکار من کلام سید الابرار میں تحریر فرمایا:
قال العلماء: لا يُطلق الرب بالألف واللام إلا على الله تعالى خاصة، فأما [الاذکار ص ٤٠١]
علما نے کہا: الرب بالالف و اللام اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے ۔
مگر اضافت کے ساتھ غیر ذوی العقول میں جائز ہے جس کی وضاحت ما قبل میں ہو چکی۔
اور اردو میں لفظ رب خاص اللہ جل جلالہ کے لیے ہی بولا جاتا ہے لہذا اس کا اطلاق غیر خدا پر جائز نہیں ہوگا جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمی رضی اللہ عنہ تفسیر نعیمی میں رقم طراز ہیں:
ہمارے علاقے میں اصطلاحا صرف خدا تعالیٰ کو رب کہا جاتا ہے
[ تفسیر نعیمی جلد ١٢ ص ٥٠٢] ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
106
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط سوم] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط سوم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط سوم]

توجیہِ قول سکک المدینہ ـــــــــــــ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول “رأیت ربی سکک المدینہ” میں نے اپنے رب کو مدینے کی گلیوں میں دیکھا، بعض حضرات اس سے یہ استدلال کر رہے ہیں کہ غیر رب کو بھی رب بولنا جائز ہے جیسا کہ سورۂ یوسف میں بعض جگہوں میں آیا ہے اس کا دو جواب فقیر راقم الحروف نے پہلے ہی دے دیا ہے کہ وہ اس زمانے کا عرف تھا اور پہلوں کی شریعت تھی اب اس پر عمل نہیں کیونکہ اس کے بر خلاف حکم آ چکا ہے جب حکم آجائے تو پہلے کی شریعت پر کسی صورت عمل نہیں ہوگا جیسے سجدۂ تعظیمی حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جائز تھا اس لیے قرآن میں آیا : ” وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًاۚ [سورۂ یوسف آیت ١٠٠] ” ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور وہ سب اس کے لیے سجدے میں گرے،

اب بتائیے کیا شریعت محمدیہ میں کوئی سجدۂ تعظیمی کو حرام قرار نہیں دیا گیا؟ پہلے کی شریعت میں جائز لیکن اب سجدۂ تعظیمی حرام لہذا اب اسے دلیل بنانا جائز ہی نہیں،
اب مبحوث عنہ مسئلہ کو بھی اسی تناظر میں سمجھیں کہ غیر خدا کو رب کہنا جائز تھا اس لیے اس کا ذکر قرآن میں آیا لیکن اب غیر خدا کو رب کہنا جائز نہیں جس کی ممانعت حدیث شریف سے ظاہر ہے اور مزے کی بات یہ کہ ممانعت والی حدیث خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : بخاری شریف کی صحیح حدیث میں ہے :

” عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ عن النبي ﷺ قال لا يَقُلْ أحَدُكُمُ: اسقِ رَبَّك، أطعِمْ رَبَّك، وضِّئْ رَبَّك، ولا يَقُلْ أحَدُكُم: رَبِّي، وليَقُلْ: سَيِّدي مَولايَ، ولا يَقُلْ أحَدُكُم: عَبدي أمَتي، وليَقُلْ: فتايَ، فتاتي، غُلامي.[الصحیح البخاری رقم الحدیث ٢٤٤٢]”

“ترجمہ:” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو پانی پلا، اپنے رب کو کھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے میرے رب بلکہ یہ کہے اے میرے سردار اے میرے مولی، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے اے مرے بندے، اے مری بندی بلکہ یہ کہے اے مرے نوجوان خادم، اے مری نوجوان خادمہ یا اے مرے غلام۔

اسی مفہوم کی حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی میں ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تو پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیوں کہیں گے کہ میں نے اپنے رب کو مدینے کی گلیوں میں دیکھا؟ اور راوی بھی خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور صحابہ حضور کی ہر بات کو دل و جان سے مانتے اور اس پر عمل کرتے کیا کوئی ہے صحابہ سے بڑھ کر حضور کی احادیث پر عمل کرنے والا ہے؟
اور اگر کوئی یہ کہے کہ حدیث بعد کی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول پہلے کا ہے تو بھی جو میرا مقصود ہے کہ رب کہنا جائز نہیں یہ بدرجۂ اتم ثابت ہوگا۔
اس لیے قول سکک المدینہ اگر واقعی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے تو اس کو اسی پر ڈھالنا بہتر ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے رب کو مدینے کی گلیوں میں خواب میں دیکھا کیونکہ “رأیت” کا معنی میں نے خواب دیکھا یہ بھی ہوتا ہے جیسا سورۂ یوسف میں ہے: ” إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ [سورۂ یوسف ٤]” ترجمہ کنز الایمان: میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا ۔

یہاں دیکھنے سے مراد خواب میں دیکھنا ہے ایسے ہی بخاری شریف، “باب من رأی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام” میں ہے: “مَنْ رَانِي فَقَدْ رَأَى الحَقِّ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَتَكَوَّنَنِي [رقم الحدیث٦٩٩٧]”
ترجمہ:جس نے مجھے دیکھا تو اس نے حق دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔

یہاں بھی خواب میں دیکھنے کے لیے رأی کا صیغہ استعمال ہوا ہے
اور علماء اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ خواب میں اللہ جل جلالہ کو دنیا میں بھی دیکھنا ممکن ہے جیسا کہ المعتقد المنتقد میں علامہ فضل رسول بدایونی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” وفي “الشرح” : “واعلم أنه لا خلاف بين الحفاظ في جواز رؤيته يقظة ومناماً، [ ص ١٣٢]”

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے کہ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ جل جلالہ کو خواب میں سو مرتبہ دیکھا “ورأى ربه في المنام مائة مرة [جلد اول ص ٥١]” اسی لیے قول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیداری میں محمول نہ کر کے منامی میں محمول کیا جائے یہی بہتر توجیہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق ہے
نیز بر سبیل تنزل اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حالت بیداری میں دیکھا تو اس کو سمجھنا چاہیے اور اپنے ضمیر سے فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ اس پر عمل کرے گا جو کئی معنی کا احتمال رکھتا ہے نیز صحابی کا قول ہے یا اس پر عمل کرے گا جس کا حکم صراحت کے ساتھ خود حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے کہ میرا رب مت کہو بلکہ میرا سردار کہو ہمارا رب مت کہو بلکہ ہمارا مولی کہو
اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ جو اس قول سکک المدینہ سے استدلال کرتے ہیں وہ اپنے استدلال میں کتنے پختہ ہیں۔

# لفظ رب خاص ہے خدا کے لیے ـــــــــــــ

اور انھیں احادیث کے تناظر میں علما نے لفظ رب کو اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص فرمایا جیسا کہ مجتہد وقت، محدث عصر، حضرت امام نووی رضی اللہ عنہ نے الاذکار من کلام سید الابرار میں تحریر فرمایا:
قال العلماء: لا يُطلق الرب بالألف واللام إلا على الله تعالى خاصة، فأما [الاذکار ص ٤٠١]
علما نے کہا: الرب بالالف و اللام اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے ۔
مگر اضافت کے ساتھ غیر ذوی العقول میں جائز ہے جس کی وضاحت ما قبل میں ہو چکی۔
اور اردو میں لفظ رب خاص اللہ جل جلالہ کے لیے ہی بولا جاتا ہے لہذا اس کا اطلاق غیر خدا پر جائز نہیں ہوگا جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمی رضی اللہ عنہ تفسیر نعیمی میں رقم طراز ہیں:

“ہمارے علاقے میں اصطلاحا صرف خدا تعالیٰ کو رب کہا جاتا ہے”
[ تفسیر نعیمی جلد ١٢ ص ٥٠٢] ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

Scan this QR code to read online:

QR Code