صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع‌ [قسط دوم]
عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع‌ [قسط دوم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا - شعر و شرع‌ [قسط دوم]
شبہ: بعض حضرات نے بعض حدیثیں پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی سعی پیہم کی کہ [صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
کہنا بجا ہے اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں کیونکہ بخاری شریف میں حدیث مرقوم ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ [البخاري 6227]یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جل جلالہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔ لہذا شعر مذکور اسی مفہوم پر کہا گیا ہے۔

ازالۂ شبہ:

اس حدیث کو مستدل ٹھہرانا درست نہیں ہے کیونکہ حدیث مذکور کا مفہوم وہ نہیں جو قائل نے کہا ورنہ اس سے لازم آتا ہے کہ قائل نے خود اپنے منہ یہ قبول دیا کہ وہ شعر کا مطلب یہ سمجھ رہا ہے کہ حضرت مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی صورت میں اسے ملا - معاذ اللہ - تھوڑی سی عقل کا حامل شخص بھی اس طرح کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔
حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ علی صورتہ فرما کر حضرت آدم علیہ السلام کو شرف بخشا گیا ہے،. کیونکہ صورۃ کی اضافت ہ ضمیر کی طرف عزت و شرافت کے لیے ہے یہ توضیح اس وقت ہے جب ہ سے مراد اللہ اسم جلالت لیں اب عبارت یوں ہوگی صورۃ اللہ اور یہ اضافت عزت و کرامت حرمت و شرافت کو اجاگر کرنے کے لیے ہے جیسے ناقۃ اللہ، کعبۃ اللہ، بیت اللہ میں جو ناقہ، کعبہ، بیت کی اضافت اسم جلالت کی طرف ہے وہ عزت و شرافت کے لیے ہے،
بیت اللہ کا معنی اللہ کا گھر تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ اس گھر میں رہتا ہے؟ جیسے عام طور پر بولا جاتا بیت رضوان رضوان کا گھر یعنی اس گھر میں رضوان رہتا ہے نہیں یہاں ایسا ہر گز نہیں کیونکہ اللہ جل جلالہ جسیم و جسمانیت، جہت و مکان و زمان سے منزہ ہے تو ثابت ہوا کہ یہ اضافت شرافت و کرامت کے لیے ہے۔
علی صورۃ اللہ کا اگر یہ معنی نہ لیا جائے بلکہ حقیقی معنی لیا جائے کہ اللہ نے اپنی صورت پر بنایا تو یہ بنیادی عقیدۂ توحید اور قرآنی آیت کے خلاف ہوگا جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ (الشورى: ١١)ترجمۂ کنز الایمان: اس جیسا کوئی نہیں۔
اور اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ صورتہ کی ہ ضمیر خود حضرت آدم علیہ السلام کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی اللہ جل جلالہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ان کی کامل صورت پر بنایا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جو عام طور پر پیدا ہوتا ہے تو پہلے بچہ ہوتا ہے پھر دھیرے دھیرے بڑا ہوتا ہے لیکن حضرت آدم علیہ السلام کو جو اللہ جلالہ نے پیدا فرمایا تو پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو کیفیت طفولیت میں نہیں رکھا بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کی قد ساٹھ ہاتھ تھی جو ان کی کامل صورت تھی بر خلاف اولاد آدم کے۔
جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے :
انّ الله خلق اٰدم علی صورتہ ( بے شك الله تعالٰی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۔ ت) اور حضور سے یہ عرض ہے یہ حدیث ہے یا قول ہے؟
الجواب : یہ حدیث صحیح ہے اور اضافت شرف کے لیے ہے، جیسے بیتی ( میرا گھر ) اور ناقۃ الله ( الله کی اونٹنی) یا ضمیر آدم کی طرف ہے یعنی آدم کو ان کی کامل صورت پر بنایا ۔ طولہ ستّون ذراعًا ان کا قد ساٹھ ہاتھ کا بخلاف اولادِ آدم کہ بچہ چھوٹا پیدا ہوتا ہے پھر بڑھ کر اپنے کامل قد کو پہنچتا ہے [فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ رضا فاؤنڈیشن]
اگر ضمیر اسم جلالت کی طرف لوٹائی جائے تو اس کی تیسری توجیہ یہ ہوگی کہ صورۃ اللہ متشابہات میں سے ہے جیسے قرآن میں ید اللہ ہے آیت کریمہ: قُلۡ إِنَّ ٱلۡفَضۡلَ بِیَدِ ٱللَّهِ یُؤۡتِیهِ مَن یَشَاۤءُۗ وَٱللَّهُ وَ ٰ⁠سِعٌ عَلِیمࣱ ۝٧٣﴾ [آل عمران ٧٣] میں
نیز وجہ اللہ ہے آیت کریمہ: ﴿وَلِلَّهِ ٱلۡمَشۡرِقُ وَٱلۡمَغۡرِبُۚ فَأَیۡنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجۡهُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ وَ ٰ⁠سِعٌ عَلِیمࣱ ۝١١٥﴾ [البقرة ١١٥] میں جیسے ید اللہ اور وجہ اللہ متشابہات میں سے ہے ایسے ہی صورۃ اللہ متشابہات میں سے ہے اور یہ مسلم اصول ہے کہ متشابہات سے استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے جس نے متشابہات سے استدلال کیا تو فرقۂ متجمسہ کی صورت میں وجود میں آیا۔ -معاذ اللہ رب العلمین-
بعض صاحبان مسند افتاء نے حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ کا مجموعۂ فتاوی جات فتاوی شارح بخاری سے ایک اقتباس نقل فرما کر یہ باور کرانے سعی فرمائی کہ صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا کہنا صحیح ہے، عبارت درج ذیل ہے: شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اشعۃ اللمعات میں تحریر فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مرأتِ ذاتِ الٰہی ہیں ۔ یہ کہنا کہ رخ مصطفیٰ میں خدا نظر آتا ہے، مذکور شدہ معنی کے اعتبار سے درست ہے ۔ یعنی رخ مصطفیٰ میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے ۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے: خلق آدم علی صورتہ" اللہ عزوجل کی صورتِ پاک سے مراد وہی ہے کہ اللہ عزوجل اپنی تجلی خاص حضرت آدم علیہ السلام کی ذات میں ودیعت فرمائی ۔
رخ مصطفی میں خدا نظر آتا ہے حضور شارح بخاری علیہ الرحمہ نے اس کی تاویل یوں فرمائی کہ رخ مصطفی میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے اور تائید میں حدیثِ صورته کو پیش کر کے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے اپنی خاص تجلی حضرت آدم علیہ السلام کی ذات میں ودیعت فرمائی کہ صورت آدم علیہ السلام میں جلوۂ الہی کا ظہور ہوا اور رخ مصطفی میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے کیونکہ ذات مصطفی میں کامل جلوۂ ذات خدا کا ظہور ہوا۔
محمد مظہر کامل ہے حق کی شان و عزت کا
نظر آتا ہے اس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا
[اعلی حضرت رضی اللہ عنہ]
اب دونوں فقرے کو ملائیں:
رخ مصطفی میں خدا نظر آتا ہے
اور صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
رخ مصطفی میں خدا نظر آتا ہے یعنی دونوں ذات الگ الگ ہے رخ مصطفی الگ خدا الگ جس سے مراد جلوۂ خدا لیکن مبحوث عنہ مصرع میں یہ نہیں ہے بلکہ یہاں یہ ہے صورت اگر چہ اشرف کی ہے لیکن بشکل اشرف ہمیں ہمارا رب مل گیا تو یہاں اشرف الگ ذات اور رب اسی ذات کو کہا گیا ہے جو بشکل اشرف ہے اور بات ایسی ہو تو حکم کیسا لگتا ہے؟ اس کو خود فتاوی شارح بخاری کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔
پہلے اسے سمجھیں ایک مصرع ہے:
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
اور ایک دوسرا مصرع ہے:
دکھا جاؤ بندوں کو صورت خدا کی
ان دونوں مصرعوں میں مطابقت دیکھیے پہلے مصرع میں ہے اشرف کی صورت میں رب مل گیا یعنی اشرف کی صورت میں رب نیچے والے مصرع میں شاعر نے اپنے ممدوح کی صورت کو اس طور پیش کیا اور کہا ممدوح کی صورت میں بندوں کو خدا کی صورت دکھا جاؤ یعنی ممدوح کی صورت میں خدا صرف لفظ رب اور خدا کا فرق ہے جو کہ لفظی فرق ہے کیونکہ اردو میں خدا رب کو کہتے ہیں رب خدا کو کہتے ہیں یعنی مترادف ہیں
اب قارئین ملاحظہ فرمائیں فتاوی شارح بخاری میں اس پر حکم شرع کیا بیان ہوتا ہے استفتا اور جواب من و عن منقول ہے:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل شعر کے بارے میں ۔ زید کہتا ہے کہ یہ شعر کہنا غلط ہے اور بکر کہتا ہے کہ کہنا صحیح ہے۔ شعر
زمیں کو بھی عزت ہو عرش علا کی
دکھا جاؤ بندوں کو صورت خدا کی
حضور والا سے گزارش ہے کہ جو بھی حکم ہو جواب عنایت فرمائیں ، مہربانی ہوگی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
الجواب
اس شعر کا دوسرا مصرع غلط ہے ۔ اللہ عز وجل صورت سے پاک ہے، صورت متناہی اور مجسم اشیا کے لیے ہوتی ہے۔ اللہ عز و جل تناہی و جسم سے منزہ ہے، اسی لیے اللہ عز و جل کے لیے صورت کا اطلاق جائز نہیں ہے بلکہ اگر صورت سے مراد اس کا معنی متعارف ہو تو کفر صریح ہے۔ بہر حال اس شعر کے قائل پر توبہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ [فتاوی شارح بخاری جلد اول ص ١٣١]
کیا مبحوث عنہ مصرع اور اس فتویٰ میں مذکور مصرع کا حکم ایک نہیں ہے؟ کیا حضور شارح بخاری نے کفر صریح تو نہیں لیکن ظاہر کفر کا حکم نہیں دیا؟ ورنہ توبہ فرض ہے کا حکم کس بنا پر ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
112
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع‌ [قسط دوم] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع‌ [قسط دوم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا – شعر و شرع‌ [قسط دوم]

” شبہ: “بعض حضرات نے بعض حدیثیں پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی سعی پیہم کی کہ * [صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا] *
کہنا بجا ہے اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں کیونکہ بخاری شریف میں حدیث مرقوم ہے: ” عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ [البخاري 6227]”یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جل جلالہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔ لہذا شعر مذکور اسی مفہوم پر کہا گیا ہے۔

# ازالۂ شبہ:

اس حدیث کو مستدل ٹھہرانا درست نہیں ہے کیونکہ حدیث مذکور کا مفہوم وہ نہیں جو قائل نے کہا ورنہ اس سے لازم آتا ہے کہ قائل نے خود اپنے منہ یہ قبول دیا کہ وہ شعر کا مطلب یہ سمجھ رہا ہے کہ حضرت مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی صورت میں اسے ملا – معاذ اللہ – تھوڑی سی عقل کا حامل شخص بھی اس طرح کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔

حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ “علی صورتہ” فرما کر حضرت آدم علیہ السلام کو شرف بخشا گیا ہے،. کیونکہ صورۃ کی اضافت “ہ” ضمیر کی طرف عزت و شرافت کے لیے ہے یہ توضیح اس وقت ہے جب ” ہ” سے مراد اللہ اسم جلالت لیں اب عبارت یوں ہوگی “صورۃ اللہ” اور یہ اضافت عزت و کرامت حرمت و شرافت کو اجاگر کرنے کے لیے ہے جیسے ناقۃ اللہ، کعبۃ اللہ، بیت اللہ میں جو ناقہ، کعبہ، بیت کی اضافت اسم جلالت کی طرف ہے وہ عزت و شرافت کے لیے ہے،
بیت اللہ کا معنی اللہ کا گھر تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ اس گھر میں رہتا ہے؟ جیسے عام طور پر بولا جاتا “بیت رضوان” رضوان کا گھر یعنی اس گھر میں رضوان رہتا ہے نہیں یہاں ایسا ہر گز نہیں کیونکہ اللہ جل جلالہ جسیم و جسمانیت، جہت و مکان و زمان سے منزہ ہے تو ثابت ہوا کہ یہ اضافت شرافت و کرامت کے لیے ہے۔

“علی صورۃ اللہ” کا اگر یہ معنی نہ لیا جائے بلکہ حقیقی معنی لیا جائے کہ اللہ نے اپنی صورت پر بنایا تو یہ بنیادی عقیدۂ توحید اور قرآنی آیت کے خلاف ہوگا جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: “﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ (الشورى: ١١)”ترجمۂ کنز الایمان: اس جیسا کوئی نہیں۔

اور اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ “صورتہ” کی “ہ” ضمیر خود حضرت آدم علیہ السلام کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی اللہ جل جلالہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ان کی کامل صورت پر بنایا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جو عام طور پر پیدا ہوتا ہے تو پہلے بچہ ہوتا ہے پھر دھیرے دھیرے بڑا ہوتا ہے لیکن حضرت آدم علیہ السلام کو جو اللہ جلالہ نے پیدا فرمایا تو پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو کیفیت طفولیت میں نہیں رکھا بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کی قد ساٹھ ہاتھ تھی جو ان کی کامل صورت تھی بر خلاف اولاد آدم کے۔

* جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے :*
انّ الله خلق اٰدم علی صورتہ ( بے شك الله تعالٰی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۔ ت) اور حضور سے یہ عرض ہے یہ حدیث ہے یا قول ہے؟

* الجواب :* یہ حدیث صحیح ہے اور اضافت شرف کے لیے ہے، جیسے بیتی ( میرا گھر ) اور ناقۃ الله ( الله کی اونٹنی) یا ضمیر آدم کی طرف ہے یعنی آدم کو ان کی کامل صورت پر بنایا ۔ طولہ ستّون ذراعًا ان کا قد ساٹھ ہاتھ کا بخلاف اولادِ آدم کہ بچہ چھوٹا پیدا ہوتا ہے پھر بڑھ کر اپنے کامل قد کو پہنچتا ہے [فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ رضا فاؤنڈیشن]

اگر ضمیر اسم جلالت کی طرف لوٹائی جائے تو اس کی تیسری توجیہ یہ ہوگی کہ “صورۃ اللہ” متشابہات میں سے ہے جیسے قرآن میں “ید اللہ” ہے آیت کریمہ:” قُلۡ إِنَّ ٱلۡفَضۡلَ بِیَدِ ٱللَّهِ یُؤۡتِیهِ مَن یَشَاۤءُۗ وَٱللَّهُ وَ ٰ⁠سِعٌ عَلِیمࣱ ۝٧٣﴾ [آل عمران ٧٣] “میں
نیز “وجہ اللہ” ہے آیت کریمہ: “﴿وَلِلَّهِ ٱلۡمَشۡرِقُ وَٱلۡمَغۡرِبُۚ فَأَیۡنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجۡهُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ وَ ٰ⁠سِعٌ عَلِیمࣱ ۝١١٥﴾ [البقرة ١١٥]” میں جیسے “ید اللہ” اور “وجہ اللہ” متشابہات میں سے ہے ایسے ہی “صورۃ اللہ” متشابہات میں سے ہے اور یہ مسلم اصول ہے کہ متشابہات سے استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے جس نے متشابہات سے استدلال کیا تو “فرقۂ متجمسہ” کی صورت میں وجود میں آیا۔ -معاذ اللہ رب العلمین-

بعض صاحبان مسند افتاء نے حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ کا مجموعۂ فتاوی جات فتاوی شارح بخاری سے ایک اقتباس نقل فرما کر یہ باور کرانے سعی فرمائی کہ “صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا” کہنا صحیح ہے، عبارت درج ذیل ہے: *شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اشعۃ اللمعات میں تحریر فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مرأتِ ذاتِ الٰہی ہیں ۔ یہ کہنا کہ رخ مصطفیٰ میں خدا نظر آتا ہے، مذکور شدہ معنی کے اعتبار سے درست ہے ۔ یعنی رخ مصطفیٰ میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے ۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے: خلق آدم علی صورتہ” اللہ عزوجل کی صورتِ پاک سے مراد وہی ہے کہ اللہ عزوجل اپنی تجلی خاص حضرت آدم علیہ السلام کی ذات میں ودیعت فرمائی* ۔

“رخ مصطفی میں خدا نظر آتا ہے” حضور شارح بخاری علیہ الرحمہ نے اس کی تاویل یوں فرمائی کہ رخ مصطفی میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے اور تائید میں حدیثِ صورته کو پیش کر کے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے اپنی خاص تجلی حضرت آدم علیہ السلام کی ذات میں ودیعت فرمائی کہ صورت آدم علیہ السلام میں جلوۂ الہی کا ظہور ہوا اور رخ مصطفی میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے کیونکہ ذات مصطفی میں کامل جلوۂ ذات خدا کا ظہور ہوا۔

@ محمد مظہر کامل ہے حق کی شان و عزت کا
نظر آتا ہے اس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا
[اعلی حضرت رضی اللہ عنہ]

اب دونوں فقرے کو ملائیں:

@ رخ مصطفی میں خدا نظر آتا ہے
اور صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا

رخ مصطفی میں خدا نظر آتا ہے یعنی دونوں ذات الگ الگ ہے رخ مصطفی الگ خدا الگ جس سے مراد جلوۂ خدا لیکن مبحوث عنہ مصرع میں یہ نہیں ہے بلکہ یہاں یہ ہے صورت اگر چہ اشرف کی ہے لیکن بشکل اشرف ہمیں ہمارا رب مل گیا تو یہاں اشرف الگ ذات اور رب اسی ذات کو کہا گیا ہے جو بشکل اشرف ہے اور بات ایسی ہو تو حکم کیسا لگتا ہے؟ اس کو خود فتاوی شارح بخاری کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔
پہلے اسے سمجھیں ایک مصرع ہے:

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
اور ایک دوسرا مصرع ہے:
دکھا جاؤ بندوں کو صورت خدا کی

ان دونوں مصرعوں میں مطابقت دیکھیے پہلے مصرع میں ہے اشرف کی صورت میں رب مل گیا یعنی “اشرف کی صورت میں رب” نیچے والے مصرع میں شاعر نے اپنے ممدوح کی صورت کو اس طور پیش کیا اور کہا ممدوح کی صورت میں بندوں کو خدا کی صورت دکھا جاؤ یعنی “ممدوح کی صورت میں خدا” صرف لفظ رب اور خدا کا فرق ہے جو کہ لفظی فرق ہے کیونکہ اردو میں خدا رب کو کہتے ہیں رب خدا کو کہتے ہیں یعنی مترادف ہیں

اب قارئین ملاحظہ فرمائیں فتاوی شارح بخاری میں اس پر حکم شرع کیا بیان ہوتا ہے استفتا اور جواب من و عن منقول ہے:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل شعر کے بارے میں ۔ زید کہتا ہے کہ یہ شعر کہنا غلط ہے اور بکر کہتا ہے کہ کہنا صحیح ہے۔ شعر

@ زمیں کو بھی عزت ہو عرش علا کی
دکھا جاؤ بندوں کو صورت خدا کی

حضور والا سے گزارش ہے کہ جو بھی حکم ہو جواب عنایت فرمائیں ، مہربانی ہوگی۔

*الجواب*
اس شعر کا دوسرا مصرع غلط ہے ۔ اللہ عز وجل صورت سے پاک ہے، صورت متناہی اور مجسم اشیا کے لیے ہوتی ہے۔ اللہ عز و جل تناہی و جسم سے منزہ ہے، اسی لیے اللہ عز و جل کے لیے صورت کا اطلاق جائز نہیں ہے بلکہ اگر صورت سے مراد اس کا معنی متعارف ہو تو کفر صریح ہے۔ بہر حال اس شعر کے قائل پر توبہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ [فتاوی شارح بخاری جلد اول ص ١٣١]

کیا مبحوث عنہ مصرع اور اس فتویٰ میں مذکور مصرع کا حکم ایک نہیں ہے؟ کیا حضور شارح بخاری نے کفر صریح تو نہیں لیکن ظاہر کفر کا حکم نہیں دیا؟ ورنہ “توبہ فرض ہے” کا حکم کس بنا پر ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

Scan this QR code to read online:

QR Code