اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات
تحقیق و تعاقب

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات
تحریر: الدکتور عبد الدائم الجندی المصری
الامین العام لمجمع البحوث الاسلامیہ
ترجمہ: محمد جسیم أکرم المرکزی
جامعۃ الازہر، القاہرة، مصر
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا و مولانا محمد كريم الآباء والأمهات.
أما بعد :
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بعض سوالات نوجوان نسل کو شش و پنج میں ڈال میں دیا ہے تو میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر امید لگاتے ہوئے مناسب سمجھا کہ چار سوالات کے جوابات دے دوں [تاکہ ان کے قلوب و اذہان میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و الفت جاگزیں ہو جائے]
پہلا سوال :
کیا جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بدعت مذمومہ/ سیئہ ہے
جواب:
یہ بدعت سیئہ/ مذمومہ نہیں ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں :
بدعت لغوی: اسے احکام خمسہ [فرض، واجب، مستحب، مکروہ، حرام] لاحق ہوتے ہیں،
اور بدعت شرعیہ سیئہ، پس پہلی قسم یعنی بدعت لغوی سے مراد ہر نئی چیز ہے خواہ وہ عادت سے متعلق ہو یا عبادت سے،
اور دوسری قسم سے مراد وہ چیز ہے جو تین زمانے کے گزر جانے کے بعد بطور اطاعت شریعت پر بڑھائی گئی ہو جس کی شارع نے اجازت نہ قول کے ذریعے دی ہو، نہ فعل سے، نہ تصریح سے، نہ اشارہ سے یہی وہ بدعت ہے جس پر گمراہی کا حکم لگایا جاتا ہے۔
اور جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک امر حسن ہے جو اصولِ شریعت کے تحت داخل ہوتا ہے اس لیے کہ ہر وہ عمل جو اسلامی معاشرے کے لیے باعث خیر و برکت ہو اور وہ کسی نص صریح یا ایسی معلوم و مسلم بات کے خلاف نہ ہو جو ضروریات دین میں سے ہو تو اسلام اسے منع نہیں کرتا ہے۔
اور ہم نے دیکھا ہے جن قوموں کی تاریخ یادگار واقعات اور عبقری شخصیات سے خالی ہوتی ہے وہ اپنے لیے اپنی فرضی یادگاریں اور شخصیات گڑھ لیتی ہیں تاکہ ان فرضی یادگار اور شخصیات پر فخر کر کے اپنی فطری خواہش پوری کر سکے۔
حضرت شیخ ابراہیم جارم قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جو یہ طریقہ معروف و مشہور ہے کہ اس رات تلاوت و ذکر و اذکار کرتے ہیں غریبوں، فقیروں کو کھانا کھلاتے ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں ان [کے صحیح ہونے] پر دو دلیلیں دو صحیح حدیثیں ہیں۔
اول:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے بلال بن ابو رباح ! پیر کے روز روزہ رکھنا مت چھوڑو کیونکہ اسی دن میری ولادت ہوئی اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی، اور اسی دن میں نے ہجرت کی۔
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کو کسی خاص دن میں کوئی نعمت حاصل ہو تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کے ذریعے اس دن اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کرے اور اسی طرح ہر ہفتے، ہر مہینے، ہر سال میں اسی کے نظیر و مماثل دن یا مہینہ یا سال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، اور شکر الہی کا بجا لانا کسی بھی طاعت سے حاصل ہو جاتا ہے۔
دوم:
دوسری دلیل عاشورہ کے دن روزہ رکھنے والی حدیث پاک ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھا، اس لیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اسی دن نجات ملی، فرعون اور اس کی قوم اسی دن دریائے نیل میں غرقاب ہوئی،
تو اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ جس دن اللہ جل جلالہ نے نعمت عطا فرما کر یا آفت و مصیبت کو دور فرماکر احسان فرمایا اس دن اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ شکر اس دن کے نظیر میں دوبارہ ادا کیا جائے [یعنی ہفتے یا مہینے یا سال میں جب وہ دن دوبارہ آئے تو دوبارہ اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا جائے]
تو اسی لیے زیادہ مناسب ہے کہ اس بابرکت رات کو ذکر و اذکار صدقۂ و خیرات فقیروں اور غریبوں کو کھانا کھلا کر ان کے ساتھ بھلائی کر کے زندہ رکھا جائے ۔
محدث و فقیہ امام جلال الدین سیوطی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بایں طور کہ لوگوں کو جمع کرتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائے بعثت کے متعلق وارد ہونے والی آیات کریمہ اور ظاہر ہونے والی نشانیوں کو بیان کرتے ہیں پھر دسترخوان بچھاتے ہیں انھیں کھانا کھلاتے ہیں اور پھر سب واپس چلے جاتے ہیں بغیر اس پر زیادتی کیے، تو اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے اور بدعت حسنہ وہ ہے جس کے کرنے والے کو ثواب دیا جائے گا کیونکہ اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے اور حضور کی ولادت پر خوشی کا اظہار ہے۔
شیخ محمد قش الغرقی فرماتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ولادت با سعادت پر خاص طور پر فرحت و مسرت کا اظہار کرنا بہت ہی نفیس اور عمدہ کام ہے جس کے کرنے والے کو ثواب دیا جائے گا اس کے نیک عمل کی وجہ سے خاص کر قرآن پاک کی تلاوت نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے اور کھانا کھلانے صدقات دینے کی وجہ سے اگر چہ اس کا عمل سلف صالحین سے منقول نہ ہو پھر بھی ثواب دیا جائے گا کیونکہ یہ بدعت حسنہ ہے۔
دوسرا سوال: ـــــــــــــ
فرمانِ نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کل بدعة ضلالة کیا جشن ملاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر دلالت نہیں کرتا ہے؟
جواب: ــــــــــــــــ
کل بدعة ضلالة جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر دلالت نہیں کرتا ہے کیونکہ یہ کلیہ ان امور میں مخصوص ہے جن سے اللہ جل جلالہ کی قربت حاصل نہ ہو
لیکن جن امور سے اللہ جل جلالہ کی قربت حاصل ہوتی ہو وہ بدعت حسنہ ہیں اور بدعت حسنہ ہر وہ اچھا کام ہے جس سے کسی امر ممنوع یا حرام کا قصد نہ کیا گیا ہو۔
حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها بعده كتب له مثل أجر من عمل بها
ترجمہ:
جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کو اس پر عمل کرنے والے کے اجر کے برابر اجر ملے گا ۔
اور ایک دوسری حدیث میں ہے:
من سن فی الاسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء... رواه الإمام مسلم وأحمد والترمذي۔
ترجمہ:
جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کا بھی اجر ملے گا جو اس پر اس کے بعد عمل کرے گا، بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجروں میں کچھ کمی کی جائے۔
اس حدیث کو امام مسلم و احمد و ترمذی نے روایت کیا
شیخ ابراہیم السمنودی اس بات کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
رہی یہ حدیث:
ایاکم ومُحْدَثَاتِ الأمور؛ فإنَّ كُلَّ بدعة ضلالة
یعنی نئے نئے کاموں سے بچو! کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے
تو اس میں بدعت سے مراد وہ نیا کام ہے جو قرآن، سنت، اجماع یا کسی اثر کے خلاف ہو، نہ کہ وہ اچھا کام جو ان میں سے کسی کے خلاف نہ ہو۔
امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محافل میلاد ان اچھے اعمال میں سے ہیں جو مذکورہ چیزوں کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ اس میں فقرا غربا کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں اور بھائیوں کی خبر گیری، اور مختلف قسم کے ذکر و اذکار، قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے جس سے انبیاء علیھم السلام، اولیاء عظام اور صالحین کی محبت اور ان کی تعظیم کا اظہار ہوتا ہے
اور اللہ تعالیٰ کا اس نعمت پر شکر ادا کیا جاتا ہے کہ اس نے ان (انبیاء، اولیاء اور صالحین) کو جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر وجود بخشا، خصوصاً ان کے سب سے بڑے سردار، ہمارے سب سے مکرم نبی ﷺ کو۔
تیسرا سوال:ـــــــــ
ہم جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے سے لوگوں کو کیوں نہیں روکتے ہیں جب کہ اس میں بعض مخالف شرع کام دیکھتے ہیں؟
جواب:ــــــــــــ
اگر تم کسی شخص کو کعبہ شریف کے پاس حرام کام کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھو گے تو کیا کعبہ شریف کا طواف ہی روک دوگے؟
جس راستے سے تم کام کرنے جاتے ہو اس میں کوئی بری چیز دیکھو گے تو کیا اپنے گھر میں بیٹھ جاؤگے اور کام کرنے نہیں جاؤگے؟
[بتاؤ! ان دونوں سوالوں کا جواب کیا ہوگا یہی نا کہ طواف نہیں روکا جائے گا بلکہ جو حرام کام کر رہا ہے اسے روکا جائے گا اس کی وجہ سے طواف کو ہی روک دینا سراسر شریعت نبوی پر انگشت نمائی کرنا ہوگا ایسے ہی کام چھوڑ کر گھر میں نہیں بیٹھا جائے گا بلکہ اپنے راستے سے اس بری چیز کو دور کر کے کام میں جایا جائے گا]
بے شک اسی طرح جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کی صورتوں میں سے کسی صوت میں اگر کوئی بری چیز داخل ہو جائے تو اس کی وجہ سے نفس جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باطل قرار نہیں دیا جائے [بلکہ اس بری چیز کو دور کی جائے گی]
دوسری بات یہ ہے کہ یہ بہت کم ہے بنسبت خیر خالص کے کہ وہ بہت زیادہ ہے لہذا اس کی طرف وہی توجہ دے گا جو صرف برائی تلاش کرنے کے درپے ہو کیونکہ اس خرابی کا کوئی اعتبار نہیں [کہ اس کی وجہ سے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو باطل قرار دیا جائے] اور شرعی دلائل و براہین سے یہ بات ثابت ہے کہ نجاست کی تھوڑی سی مقدار زیادہ پانی کو ناپاک نہیں کرتی ہے۔
چوتھا سوال: ــــــــ
کیا ازہری علما نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں تالیف فرمائیں ہیں؟
جواب: ـــــــــــــ
ازہری علما کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے ساتھ خاص توجہ رہی ہے ذیل میں اس موضوع پر لکھی گئی اہم ترین کتابوں کا ذکر کرتا ہوں اور یہ تمام کتب المکتبۃ الازھریہ میں موجود ہیں۔
١- غاية السول في مولد الرسول، شمس الدين محمد بن علي بن جعفر العجلوني البلالي القاهري (ت ۸۲۰ هـ).
٢۔ عَرْفُ التعريف بالمولد الشريف، لشمس الدین محمد بن محمد الجزري (ت ۸۳۳ هـ).
٣۔ مولد النبي ، لوجيه الدين عبد الرحمن ابن علي الشيباني الزبيدي الشافعي المعروف بابن الديبع (ت ٩٤٤ هـ).
٤۔ مولد النبي ، شمس الدین محمد بن أحمد الشافعي المعروف بالخطيب الشربيني ت ۹۷۷ هـ)۔
٥ _ بهجة السامعين والناظرين بمولد سيد الأولين والآخرين، لأبي المواهب نجم الدين محمد بن أحمد بن علي السكندري الغيطي الشافعي (ت: ۹۸۱ هـ).
٦- مولد النبي ، لشهاب الدين أحمد ابن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري (ت: ٩٧٤ هـ).
٧- حاشية الطهوائي على مولد النبي ، ليوسف ابن محمد الطهوائي المالكي (ت: ١٠٦٠هـ).
٨_ حاشية عبادة على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لمحمد بن عبادة الصعيدي العدوي المالكي (ت: ۱۱۹۳ هـ).
٩- حاشية محمد قش على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لمحمد بن يوسف بن إبراهيم الشافعي المعروف بمحمد قش الزكي الغرقي (ت: ۱۲۳۲ هـ)، له حاشيتان.
١٠ - حاشية الدمليجي على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لعبد الله بن علي سويدان الشافعي (ت: ١٢٣٤هـ).
۱۱- حاشية العدوي على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لعلي بن أحمد بن مكرم الصعيدي العدوي المالكي (ت ۱۱۸۹ هـ).
۱۲ - تقرير البيلي على المولد النبوي لابن حجر لأبي العباس أحمد بن موسى البيلي (ت: ۱۲۱۳هـ).
۱۳ - تحفة البشير على مولد ابن حجر، لإبراهيم الباجوري الشافعي شيخ الأزهر (ت ۱۲۷۷ هـ).
١٤ - حاشية الخفاجي على حاشية الباجوري على المولد النبوي لابن حجر ، لعلي الخفاجي الدمياطي. ١٥ - فوائد الغرر وفرائد الدرر على مولد ابن حجر، لمحمد بن محمد بن عبد المتعال
١٦ - حسن المقصد في عمل المولد لجلال الدين السيوطي.
۱۷- ترويح الفؤاد بمولد خير العباد، لعبد السلام بن إبراهيم اللقاني المالكي (ت ۱۰۷۸ هـ).
۱۸ - الجمع الزاهر المنير في ذكر مولد البشير النذير، لمحمد زين العابدين بن عبد الله العباسي الخليفتي (ت ۱۱۳۰ هـ)
۱۹- إظهار السرور بمولد النبي المسرور لشمس الدين محمد بن محمد البديري الدمياطي الشاذلي النقشبندي المعروف بابن الميت (ت: ١١٤٠ هـ).
۲۰ - مولد النبي ، لأبي المواهب مصطفى ابن كمال الدين البكري الصديقي الحنفي (ت: ١١٦٢ هـ).
۲۱ - فتح المبين القوي في ورد ليلة المولد النبوي؛ لأبي المواهب مصطفى بن كمال الدين البكري الصديقي الحنفي (ت: ١١٦٢ هـ).
۲۲- تلخيص المولد الشريف، لحسن بن علي المدابغي الشافعي.
۲۳- تقرير الأجهوري على المولد النبوي للمدابغي لعطية الأجهوري الشافعي البرهاني (ت: ۱۱۹۰هـ).
٢٤- حاشية السجاعي على مختصر المولد النبوي الشريف للمدابغي، لشهاب الدين أحمد ابن أحمد البدراوي السجاعي الشافعي الأحمدي (ت: ۱۱۹۷هـ).
٢٥- تقريرات البيلي على المولد النبوي للمدابغي، لأبي العباس أحمد بن موسى البيلي (ت: ۱۲۱۳ هـ).
٢٦- حاشية الجربي على المولد النبوي للمدابغي، لأبي حفص عمر بن رمضان الجربي الثلاثي (ت بعد: ١١٦٤ هـ).
۲۷- شرح المنشليلي على المولد النبوي للمدابغي، لعلي المنشليلي المالكي.
۲۸- حاشية الشناوي على مختصر المولد النبوي للمدابغي لعلي الشناوي الشرقاوي (ت بعد سنة ١٢٠٨هـ).
۲۹ الكنوز الوهبية على مولد خير البرية (حاشية على مختصر المولد النبوي للمدابغي) لإبراهيم بن سويلم بن موسى بن عبد العزيز الشهير بالطلياوي (ت بعد سنة ١٢٩٤هـ)
٣٠ - مولد النبي ، لأبي البركات أحمد بن محمد بن أحمد الدردير العدوي المالكي (ت: ١٢٠١هـ).
٣١- حاشية الأبطحي على المولد النبوي للدردير، لحسن الأبطحي المالكي.
٣٢- حاشية بشارة على مولد النبي ﷺ للدردير، لأحمد بشارة الدمياطي (ت بعد سنة ۱۲۳۱ هـ).
٣٣- حاشية الباجوري على المولد النبوي للدردير، لإبراهيم الباجوري شيخ الأزهر (ت: ۱۲۷۷ هـ).
٣٤- شرح مولد الشيخ الدردير، لأحمد الضاولجي (ت بعد سنة ١٢٦٥هـ).
٣٥- الروض الندي في المولد المحمدي لشهاب الدين أحمد سلام الرشيدي المالكي (ت بعد سنة ١١٦٨هـ).
٣٦- الزهر الفائق في مولد أشرف الخلائق لأحمد بن محمد الحسني السحيمي القلعاوي الشافعي (ت: ۱۱۷۸ هـ)
٣٧- الجواهر الثمينة على مولد ساكن المدينة، لمحمد البيومي بركات الشافعي (ت بعد سنة ١٢٥٠هـ).
۳۸- مختصر الكوكب المنير في مولد البشير النذير، لمحمد أسعد بن أرسلان الجركسي.
٣٩- عقد الجوهر في مولد النبي الأزهر، لزين العابدين جعفر بن حسن بن عبد الكريم البرزنجي (ت: ۱۱۷۷هـ)
٤٠ - الكوكب الأنور على عقد الجوهر في مولد النبي الأزهر، لزين العابدين جعفر بن حسن بن عبد الكريم البرزنجي (ت: ۱۱۷۷ هـ).
٤١ - الكواكب الدرية بشرح الجواهر البرزنجية، لعلي بن علي الشافعي الأزهري المصري (ت بعد سنة ١٢٧٥ هـ).
٤٢ - القول المنجي على مولد البرزنجي لمحمد بن أحمد بن محمد عليش المالكي (ت ۱۲۹۹ هـ).
٤٣ - مدارج الصعود إلى اكتساء البرود (شرحمولد البرزنجي)، لمحمد بن عمر نووي الجاوي الشافعي (ت: ١٣١٦ هـ).
٤٤ - منهل الواردين لمولد سيد الأولين والآخرين، لعبد المعطي بن إبراهيم البرنسي المالكي (ت بعد سنة ١١٨٠هـ).
٤٥ - الدر الثمين في مولد سيد المرسلين سيد الأولين والآخرين، لمحمد المنير السمنودي الشافعي شيخ الأزهر (ت: ۱۱۹۹هـ).
٤٦ - مورد الظمآن إلى مولد خير ولد عدنان لأبي الحسن علي بن عبد البر الونائي الشافعي (ت: ۱۲۱۲ هـ).
٤٧ - الجواهر السنية في مولد خير البرية لمحمد بن علي بن منصور الشنواني الشافعي شيخ الأزهر (ت: ۱۲۳۳ هـ).
٤٨ - مولد الرسول ﷺ، لأبي إسحاق إبراهيم ابن عبد القادر بن أحمد بن إبراهيم الطرابلسي المالكي (ت: ١٢٦٦ هـ ).
٤٩ - مولد النبي ، لمحمد عثمان بن محمد أبي بكر بن عبد الله الميرغني المحجوب الحسيني الحنفي (ت: ١٢٦٨ هـ).
٥٠ مجلس في مولد صاحب الأخلاق والمكارم، لإبراهيم الجارم الحسني الإدريسي الشافعي (ت بعد سنة ١٢٧١ هـ).
٥١ - مولد إنسان الكمال، لمحمد بن المختار ابن أحمد بن أبي بكر الكنتي الشنقيطي المالكي ت ۱۲۷۰ هـ).
٥٢- الثمار الجنية من مولد خير البرية ليوسف أبي جمالة الشافعي الشاذلي الحسني ت بعد سنة ١٢٧٦هـ).
٥٣ - حاشية الخضري على مولد النبي ﷺ المحمد الخضري الدمياطي الشافعي (ت: ۱۲۸۷ هـ).
٥٤ - نفائس الأضواء البدرية في مولد خير البرية، لمحمد بن أحمد بن جعفر الدمياطي القاضي الشافعي.
٥٥ - مولد النبي ، لأبي المحاسن محمد ابن خليل القاوقجي الشاذلي (ت ١٣٠٥هـ).
٥٦ - مولد الرسول ، لعبد الهادي نجا بن رضوان نجا الأبياري المصري (ت في حدود سنة ١٣٠٥هـ).
٥٧ المنظر البهي في طالع مولد النبي لأبي الفتوح محمد بن خليل الهجرسي الشافعي (ت ۱۳۲۸ هـ).
٥٨- الترياق المسلسل في مولد النبي المرسل، لمحمد البهائي الشافعي
٥٩- منهل الصفا بمولد المصطفى، لأبي عمران موسى بن محمد بن موسى القليبي العمري المالكي.
٦٠ - التجليات الخفية في مولد خير البرية لمحمد المغربي المراكشي.
٦١ - مولد النبي ﷺ ، لشهاب الدين أحمد بن حجازي بن بدير الفشني الشافعي.
٦٢ - مولد النبي ، لأحمد بن قاسم النجاري.
٦٣ - المولد والمعراج، لحسن الحنفي.
٦٤ - بغية الظمآن في مولد سيد ولد عدنان
لمحمد بن علي بن يوسف بن أحمد الشافعي.
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
٦٥ - مولد النبي ، لعبد الوهاب بن محمد الشبراوي الشافعي.
والحمد لله رب العالمين، وصلى الله على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه و سلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
89
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے]

افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات

تحریر: الدکتور عبد الدائم الجندی المصری
الامین العام لمجمع البحوث الاسلامیہ
ترجمہ: محمد جسیم أکرم المرکزی
جامعۃ الازہر، القاہرة، مصر

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا و مولانا محمد كريم الآباء والأمهات.
أما بعد :

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بعض سوالات نوجوان نسل کو شش و پنج میں ڈال میں دیا ہے تو میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر امید لگاتے ہوئے مناسب سمجھا کہ چار سوالات کے جوابات دے دوں [تاکہ ان کے قلوب و اذہان میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و الفت جاگزیں ہو جائے]

پہلا سوال :
کیا جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بدعت مذمومہ/ سیئہ ہے
جواب:
یہ بدعت سیئہ/ مذمومہ نہیں ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں :
بدعت لغوی: اسے احکام خمسہ [فرض، واجب، مستحب، مکروہ، حرام] لاحق ہوتے ہیں،
اور بدعت شرعیہ سیئہ، پس پہلی قسم یعنی بدعت لغوی سے مراد ہر نئی چیز ہے خواہ وہ عادت سے متعلق ہو یا عبادت سے،
اور دوسری قسم سے مراد وہ چیز ہے جو تین زمانے کے گزر جانے کے بعد بطور اطاعت شریعت پر بڑھائی گئی ہو جس کی شارع نے اجازت نہ قول کے ذریعے دی ہو، نہ فعل سے، نہ تصریح سے، نہ اشارہ سے یہی وہ بدعت ہے جس پر گمراہی کا حکم لگایا جاتا ہے۔

اور جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک امر حسن ہے جو اصولِ شریعت کے تحت داخل ہوتا ہے اس لیے کہ ہر وہ عمل جو اسلامی معاشرے کے لیے باعث خیر و برکت ہو اور وہ کسی نص صریح یا ایسی معلوم و مسلم بات کے خلاف نہ ہو جو ضروریات دین میں سے ہو تو اسلام اسے منع نہیں کرتا ہے۔

اور ہم نے دیکھا ہے جن قوموں کی تاریخ یادگار واقعات اور عبقری شخصیات سے خالی ہوتی ہے وہ اپنے لیے اپنی فرضی یادگاریں اور شخصیات گڑھ لیتی ہیں تاکہ ان فرضی یادگار اور شخصیات پر فخر کر کے اپنی فطری خواہش پوری کر سکے۔

حضرت شیخ ابراہیم جارم قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جو یہ طریقہ معروف و مشہور ہے کہ اس رات تلاوت و ذکر و اذکار کرتے ہیں غریبوں، فقیروں کو کھانا کھلاتے ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں ان [کے صحیح ہونے] پر دو دلیلیں دو صحیح حدیثیں ہیں۔
اول:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے بلال بن ابو رباح ! پیر کے روز روزہ رکھنا مت چھوڑو کیونکہ اسی دن میری ولادت ہوئی اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی، اور اسی دن میں نے ہجرت کی۔
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کو کسی خاص دن میں کوئی نعمت حاصل ہو تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کے ذریعے اس دن اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کرے اور اسی طرح ہر ہفتے، ہر مہینے، ہر سال میں اسی کے نظیر و مماثل دن یا مہینہ یا سال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، اور شکر الہی کا بجا لانا کسی بھی طاعت سے حاصل ہو جاتا ہے۔

دوم:
دوسری دلیل عاشورہ کے دن روزہ رکھنے والی حدیث پاک ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھا، اس لیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اسی دن نجات ملی، فرعون اور اس کی قوم اسی دن دریائے نیل میں غرقاب ہوئی،
تو اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ جس دن اللہ جل جلالہ نے نعمت عطا فرما کر یا آفت و مصیبت کو دور فرماکر احسان فرمایا اس دن اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ شکر اس دن کے نظیر میں دوبارہ ادا کیا جائے [یعنی ہفتے یا مہینے یا سال میں جب وہ دن دوبارہ آئے تو دوبارہ اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا جائے]
تو اسی لیے زیادہ مناسب ہے کہ اس بابرکت رات کو ذکر و اذکار صدقۂ و خیرات فقیروں اور غریبوں کو کھانا کھلا کر ان کے ساتھ بھلائی کر کے زندہ رکھا جائے ۔

محدث و فقیہ امام جلال الدین سیوطی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بایں طور کہ لوگوں کو جمع کرتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائے بعثت کے متعلق وارد ہونے والی آیات کریمہ اور ظاہر ہونے والی نشانیوں کو بیان کرتے ہیں پھر دسترخوان بچھاتے ہیں انھیں کھانا کھلاتے ہیں اور پھر سب واپس چلے جاتے ہیں بغیر اس پر زیادتی کیے، تو اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے اور بدعت حسنہ وہ ہے جس کے کرنے والے کو ثواب دیا جائے گا کیونکہ اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے اور حضور کی ولادت پر خوشی کا اظہار ہے۔

شیخ محمد قش الغرقی فرماتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ولادت با سعادت پر خاص طور پر فرحت و مسرت کا اظہار کرنا بہت ہی نفیس اور عمدہ کام ہے جس کے کرنے والے کو ثواب دیا جائے گا اس کے نیک عمل کی وجہ سے خاص کر قرآن پاک کی تلاوت نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے اور کھانا کھلانے صدقات دینے کی وجہ سے اگر چہ اس کا عمل سلف صالحین سے منقول نہ ہو پھر بھی ثواب دیا جائے گا کیونکہ یہ بدعت حسنہ ہے۔

دوسرا سوال: ـــــــــــــ
فرمانِ نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم “کل بدعة ضلالة” کیا جشن ملاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر دلالت نہیں کرتا ہے؟

جواب: ــــــــــــــــ
” کل بدعة ضلالة” جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر دلالت نہیں کرتا ہے کیونکہ یہ کلیہ ان امور میں مخصوص ہے جن سے اللہ جل جلالہ کی قربت حاصل نہ ہو
لیکن جن امور سے اللہ جل جلالہ کی قربت حاصل ہوتی ہو وہ بدعت حسنہ ہیں اور بدعت حسنہ ہر وہ اچھا کام ہے جس سے کسی امر ممنوع یا حرام کا قصد نہ کیا گیا ہو۔
حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها بعده كتب له مثل أجر من عمل بها”
ترجمہ:
جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کو اس پر عمل کرنے والے کے اجر کے برابر اجر ملے گا ۔

اور ایک دوسری حدیث میں ہے:
من سن فی الاسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء… رواه الإمام مسلم وأحمد والترمذي۔
ترجمہ:
جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کا بھی اجر ملے گا جو اس پر اس کے بعد عمل کرے گا، بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجروں میں کچھ کمی کی جائے۔
اس حدیث کو امام مسلم و احمد و ترمذی نے روایت کیا

شیخ ابراہیم السمنودی اس بات کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
رہی یہ حدیث:
“ایاکم ومُحْدَثَاتِ الأمور؛ فإنَّ كُلَّ بدعة ضلالة”
یعنی نئے نئے کاموں سے بچو! کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے
تو اس میں بدعت سے مراد وہ نیا کام ہے جو قرآن، سنت، اجماع یا کسی اثر کے خلاف ہو، نہ کہ وہ اچھا کام جو ان میں سے کسی کے خلاف نہ ہو۔

امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محافل میلاد ان اچھے اعمال میں سے ہیں جو مذکورہ چیزوں کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ اس میں فقرا غربا کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں اور بھائیوں کی خبر گیری، اور مختلف قسم کے ذکر و اذکار، قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے جس سے انبیاء علیھم السلام، اولیاء عظام اور صالحین کی محبت اور ان کی تعظیم کا اظہار ہوتا ہے
اور اللہ تعالیٰ کا اس نعمت پر شکر ادا کیا جاتا ہے کہ اس نے ان (انبیاء، اولیاء اور صالحین) کو جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر وجود بخشا، خصوصاً ان کے سب سے بڑے سردار، ہمارے سب سے مکرم نبی ﷺ کو۔

تیسرا سوال:ـــــــــ
ہم جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے سے لوگوں کو کیوں نہیں روکتے ہیں جب کہ اس میں بعض مخالف شرع کام دیکھتے ہیں؟

جواب:ــــــــــــ
اگر تم کسی شخص کو کعبہ شریف کے پاس حرام کام کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھو گے تو کیا کعبہ شریف کا طواف ہی روک دوگے؟
جس راستے سے تم کام کرنے جاتے ہو اس میں کوئی بری چیز دیکھو گے تو کیا اپنے گھر میں بیٹھ جاؤگے اور کام کرنے نہیں جاؤگے؟
[بتاؤ! ان دونوں سوالوں کا جواب کیا ہوگا یہی نا کہ طواف نہیں روکا جائے گا بلکہ جو حرام کام کر رہا ہے اسے روکا جائے گا اس کی وجہ سے طواف کو ہی روک دینا سراسر شریعت نبوی پر انگشت نمائی کرنا ہوگا ایسے ہی کام چھوڑ کر گھر میں نہیں بیٹھا جائے گا بلکہ اپنے راستے سے اس بری چیز کو دور کر کے کام میں جایا جائے گا]
بے شک اسی طرح جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کی صورتوں میں سے کسی صوت میں اگر کوئی بری چیز داخل ہو جائے تو اس کی وجہ سے نفس جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باطل قرار نہیں دیا جائے [بلکہ اس بری چیز کو دور کی جائے گی]
دوسری بات یہ ہے کہ یہ بہت کم ہے بنسبت خیر خالص کے کہ وہ بہت زیادہ ہے لہذا اس کی طرف وہی توجہ دے گا جو صرف برائی تلاش کرنے کے درپے ہو کیونکہ اس خرابی کا کوئی اعتبار نہیں [کہ اس کی وجہ سے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو باطل قرار دیا جائے] اور شرعی دلائل و براہین سے یہ بات ثابت ہے کہ نجاست کی تھوڑی سی مقدار زیادہ پانی کو ناپاک نہیں کرتی ہے۔

چوتھا سوال: ــــــــ
کیا ازہری علما نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں تالیف فرمائیں ہیں؟

جواب: ـــــــــــــ
ازہری علما کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے ساتھ خاص توجہ رہی ہے ذیل میں اس موضوع پر لکھی گئی اہم ترین کتابوں کا ذکر کرتا ہوں اور یہ تمام کتب “المکتبۃ الازھریہ” میں موجود ہیں۔

١- غاية السول في مولد الرسول، شمس الدين محمد بن علي بن جعفر العجلوني البلالي القاهري (ت ۸۲۰ هـ).

٢۔ عَرْفُ التعريف بالمولد الشريف، لشمس الدین محمد بن محمد الجزري (ت ۸۳۳ هـ).

٣۔ مولد النبي ، لوجيه الدين عبد الرحمن ابن علي الشيباني الزبيدي الشافعي المعروف بابن الديبع (ت ٩٤٤ هـ).

٤۔ مولد النبي ، شمس الدین محمد بن أحمد الشافعي المعروف بالخطيب الشربيني ت ۹۷۷ هـ)۔

٥ _ بهجة السامعين والناظرين بمولد سيد الأولين والآخرين، لأبي المواهب نجم الدين محمد بن أحمد بن علي السكندري الغيطي الشافعي (ت: ۹۸۱ هـ).

٦- مولد النبي ، لشهاب الدين أحمد ابن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري (ت: ٩٧٤ هـ).

٧- حاشية الطهوائي على مولد النبي ، ليوسف ابن محمد الطهوائي المالكي (ت: ١٠٦٠هـ).

٨_ حاشية عبادة على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لمحمد بن عبادة الصعيدي العدوي المالكي (ت: ۱۱۹۳ هـ).

٩- حاشية محمد قش على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لمحمد بن يوسف بن إبراهيم الشافعي المعروف بمحمد قش الزكي الغرقي (ت: ۱۲۳۲ هـ)، له حاشيتان.

١٠ – حاشية الدمليجي على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لعبد الله بن علي سويدان الشافعي (ت: ١٢٣٤هـ).

۱۱- حاشية العدوي على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لعلي بن أحمد بن مكرم الصعيدي العدوي المالكي (ت ۱۱۸۹ هـ).

۱۲ – تقرير البيلي على المولد النبوي لابن حجر لأبي العباس أحمد بن موسى البيلي (ت: ۱۲۱۳هـ).

۱۳ – تحفة البشير على مولد ابن حجر، لإبراهيم الباجوري الشافعي شيخ الأزهر (ت ۱۲۷۷ هـ).

١٤ – حاشية الخفاجي على حاشية الباجوري على المولد النبوي لابن حجر ، لعلي الخفاجي الدمياطي. ١٥ – فوائد الغرر وفرائد الدرر على مولد ابن حجر، لمحمد بن محمد بن عبد المتعال

١٦ – حسن المقصد في عمل المولد لجلال الدين السيوطي.

۱۷- ترويح الفؤاد بمولد خير العباد، لعبد السلام بن إبراهيم اللقاني المالكي (ت ۱۰۷۸ هـ).

۱۸ – الجمع الزاهر المنير في ذكر مولد البشير النذير، لمحمد زين العابدين بن عبد الله العباسي الخليفتي (ت ۱۱۳۰ هـ)

۱۹- إظهار السرور بمولد النبي المسرور لشمس الدين محمد بن محمد البديري الدمياطي الشاذلي النقشبندي المعروف بابن الميت (ت: ١١٤٠ هـ).

۲۰ – مولد النبي ، لأبي المواهب مصطفى ابن كمال الدين البكري الصديقي الحنفي (ت: ١١٦٢ هـ).

۲۱ – فتح المبين القوي في ورد ليلة المولد النبوي؛ لأبي المواهب مصطفى بن كمال الدين البكري الصديقي الحنفي (ت: ١١٦٢ هـ).

۲۲- تلخيص المولد الشريف، لحسن بن علي المدابغي الشافعي.

۲۳- تقرير الأجهوري على المولد النبوي للمدابغي لعطية الأجهوري الشافعي البرهاني (ت: ۱۱۹۰هـ).

٢٤- حاشية السجاعي على مختصر المولد النبوي الشريف للمدابغي، لشهاب الدين أحمد ابن أحمد البدراوي السجاعي الشافعي الأحمدي (ت: ۱۱۹۷هـ).

٢٥- تقريرات البيلي على المولد النبوي للمدابغي، لأبي العباس أحمد بن موسى البيلي (ت: ۱۲۱۳ هـ).

٢٦- حاشية الجربي على المولد النبوي للمدابغي، لأبي حفص عمر بن رمضان الجربي الثلاثي (ت بعد: ١١٦٤ هـ).

۲۷- شرح المنشليلي على المولد النبوي للمدابغي، لعلي المنشليلي المالكي.

۲۸- حاشية الشناوي على مختصر المولد النبوي للمدابغي لعلي الشناوي الشرقاوي (ت بعد سنة ١٢٠٨هـ).

۲۹ الكنوز الوهبية على مولد خير البرية (حاشية على مختصر المولد النبوي للمدابغي) لإبراهيم بن سويلم بن موسى بن عبد العزيز الشهير بالطلياوي (ت بعد سنة ١٢٩٤هـ)

٣٠ – مولد النبي ، لأبي البركات أحمد بن محمد بن أحمد الدردير العدوي المالكي (ت: ١٢٠١هـ).

٣١- حاشية الأبطحي على المولد النبوي للدردير، لحسن الأبطحي المالكي.

٣٢- حاشية بشارة على مولد النبي ﷺ للدردير، لأحمد بشارة الدمياطي (ت بعد سنة ۱۲۳۱ هـ).

٣٣- حاشية الباجوري على المولد النبوي للدردير، لإبراهيم الباجوري شيخ الأزهر (ت: ۱۲۷۷ هـ).

٣٤- شرح مولد الشيخ الدردير، لأحمد الضاولجي (ت بعد سنة ١٢٦٥هـ).

٣٥- الروض الندي في المولد المحمدي لشهاب الدين أحمد سلام الرشيدي المالكي (ت بعد سنة ١١٦٨هـ).

٣٦- الزهر الفائق في مولد أشرف الخلائق لأحمد بن محمد الحسني السحيمي القلعاوي الشافعي (ت: ۱۱۷۸ هـ)

٣٧- الجواهر الثمينة على مولد ساكن المدينة، لمحمد البيومي بركات الشافعي (ت بعد سنة ١٢٥٠هـ).

۳۸- مختصر الكوكب المنير في مولد البشير النذير، لمحمد أسعد بن أرسلان الجركسي.

٣٩- عقد الجوهر في مولد النبي الأزهر، لزين العابدين جعفر بن حسن بن عبد الكريم البرزنجي (ت: ۱۱۷۷هـ)

٤٠ – الكوكب الأنور على عقد الجوهر في مولد النبي الأزهر، لزين العابدين جعفر بن حسن بن عبد الكريم البرزنجي (ت: ۱۱۷۷ هـ).

٤١ – الكواكب الدرية بشرح الجواهر البرزنجية، لعلي بن علي الشافعي الأزهري المصري (ت بعد سنة ١٢٧٥ هـ).

٤٢ – القول المنجي على مولد البرزنجي لمحمد بن أحمد بن محمد عليش المالكي (ت ۱۲۹۹ هـ).

٤٣ – مدارج الصعود إلى اكتساء البرود (شرحمولد البرزنجي)، لمحمد بن عمر نووي الجاوي الشافعي (ت: ١٣١٦ هـ).

٤٤ – منهل الواردين لمولد سيد الأولين والآخرين، لعبد المعطي بن إبراهيم البرنسي المالكي (ت بعد سنة ١١٨٠هـ).

٤٥ – الدر الثمين في مولد سيد المرسلين سيد الأولين والآخرين، لمحمد المنير السمنودي الشافعي شيخ الأزهر (ت: ۱۱۹۹هـ).

٤٦ – مورد الظمآن إلى مولد خير ولد عدنان لأبي الحسن علي بن عبد البر الونائي الشافعي (ت: ۱۲۱۲ هـ).

٤٧ – الجواهر السنية في مولد خير البرية لمحمد بن علي بن منصور الشنواني الشافعي شيخ الأزهر (ت: ۱۲۳۳ هـ).

٤٨ – مولد الرسول ﷺ، لأبي إسحاق إبراهيم ابن عبد القادر بن أحمد بن إبراهيم الطرابلسي المالكي (ت: ١٢٦٦ هـ ).

٤٩ – مولد النبي ، لمحمد عثمان بن محمد أبي بكر بن عبد الله الميرغني المحجوب الحسيني الحنفي (ت: ١٢٦٨ هـ).

٥٠ مجلس في مولد صاحب الأخلاق والمكارم، لإبراهيم الجارم الحسني الإدريسي الشافعي (ت بعد سنة ١٢٧١ هـ).

٥١ – مولد إنسان الكمال، لمحمد بن المختار ابن أحمد بن أبي بكر الكنتي الشنقيطي المالكي ت ۱۲۷۰ هـ).

٥٢- الثمار الجنية من مولد خير البرية ليوسف أبي جمالة الشافعي الشاذلي الحسني ت بعد سنة ١٢٧٦هـ).

٥٣ – حاشية الخضري على مولد النبي ﷺ المحمد الخضري الدمياطي الشافعي (ت: ۱۲۸۷ هـ).

٥٤ – نفائس الأضواء البدرية في مولد خير البرية، لمحمد بن أحمد بن جعفر الدمياطي القاضي الشافعي.

٥٥ – مولد النبي ، لأبي المحاسن محمد ابن خليل القاوقجي الشاذلي (ت ١٣٠٥هـ).

٥٦ – مولد الرسول ، لعبد الهادي نجا بن رضوان نجا الأبياري المصري (ت في حدود سنة ١٣٠٥هـ).

٥٧ المنظر البهي في طالع مولد النبي لأبي الفتوح محمد بن خليل الهجرسي الشافعي (ت ۱۳۲۸ هـ).

٥٨- الترياق المسلسل في مولد النبي المرسل، لمحمد البهائي الشافعي

٥٩- منهل الصفا بمولد المصطفى، لأبي عمران موسى بن محمد بن موسى القليبي العمري المالكي.

٦٠ – التجليات الخفية في مولد خير البرية لمحمد المغربي المراكشي.

٦١ – مولد النبي ﷺ ، لشهاب الدين أحمد بن حجازي بن بدير الفشني الشافعي.

٦٢ – مولد النبي ، لأحمد بن قاسم النجاري.

٦٣ – المولد والمعراج، لحسن الحنفي.

٦٤ – بغية الظمآن في مولد سيد ولد عدنان
لمحمد بن علي بن يوسف بن أحمد الشافعي.

٦٥ – مولد النبي ، لعبد الوهاب بن محمد الشبراوي الشافعي.

والحمد لله رب العالمين، وصلى الله على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه و سلم

Scan this QR code to read online:

QR Code