اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط اول]
عقائد و نظریات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط اول]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط اول]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
اللہ جل جلالہ و عم نوالہ نے ہمارا نام مسلمان رکھا چنانچہ قرآن مجید فرقان حمید میں ہے
هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْن [سورۃ الحج آیت ٧٨]
ترجمہ کنز الایمان: اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا۔
صادق و مصدوق سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مسلمانوں میں تہتر فرقے ہوں گے جن میں بہتر جہنمی اور ایک جنتی ہوگا چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
ليأتين على أمتي كما أتى على بني إسرائيل حذو النعل بالنعل ، حتى إن كان منهم من أتى أمه علانية ، لكان في أمتي من يصنع ذلك . وإن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة ، وتفترق أمتي على ثلاث و سبعين ملة ، كلهم في النار إلا ملة واحدة قالوا : من هي يا رسول الله ؟ قال : ما أنا عليه وأصحابي " رواه الترمذي .
[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول ص ٢٥٨]
ترجمہ: یعنی میری امت پر ہو بہو ایسا ہی ہلاکت خیز زمانہ آئے گا جس طرح بنی اسرئیل پر آیا یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں کوئی اپنی ماں سے علانیہ بدکاری کی ہوگی تو ضرور میری امت میں بھی کوئی کرے گا اور قومِ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئی اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی تمام فرقے جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے صحابہ نے کہا: وہ کونسا فرقہ ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو جنتی ہے؟ تو حضور نے فرمایا : جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔
شرح عقائد نسفیہ میں ہے:
ومعظم خلافياته مع الفرق الاسلامية. خصوصا المعتزلة لأنهم أول فرقة أسسوا قواعد الخلاف لما ورد به ظاهر السنة، وجرى عليه جماعة من الصحابة رضوان الله عليهم أجمعين فى باب العقائد.
اور علم کلام کے اکثر اختلافات اسلامی فرقوں کے ساتھ ہیں خصوصاً معتزلہ اس لیے کہ معتزلہ پہلا فرقہ ہے جس نے سنت کے خلاف قواعد کی بنیاد رکھی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت نے باب عقائد میں اس فرقے کا رد کیا
اس کی وجہ یہ رہی کہ واصل بن عطا نے حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کی مجلس سے اعتزال کیا اور اس نے اپنا عقیدہ یہ قائم کیا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ مومن ہے نہ کافر بلکہ دونوں منزلوں کے درمیان ایک تیسری منزل میں ہے اس پر امام حسن بصری رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
قد اعتزل عنا، فسموا المعتزلة.
کہ یہ ہم سے جدا ہو گیا تو ا س کا نام معتزلہ پڑ گیا
اور وہ خود کو اصحاب عدل و توحید سے موسوم کرتے رہے فرقۂ معتزلہ کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالی پر واجب ہے کہ گناہ گار کو سزا دے اور فرمانبردار کو ثواب، اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدیم صفات کا انکار کیا بعد میں یہ حضرات اس قدر آگے بڑھ گئے کہ فلسفیوں سے متاثر ہو کر فلسفیوں کے بہت سے نظریات کو اختیار کر لیے اور ان کا مذہب پھیلنے لگا
امام ابو الحسن اشعری نے اپنے استاذ ابو علی جبائی سے کہا :
کہ تم ان تین بھائیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو جن میں سے ایک بڑا ہوا اور فرمانبردار ہو کر مر گیا
اور دوسرا بڑا ہوا اور نافرمان ہو کر مر گیا
اور تیسرا عہد طفولیت ہی میں مر گیا ؟
تو ابو علی جبائی نے کہا: پہلا جنت میں جائے گا،
دوسرا جہنم میں عذاب پائے گا اور تیسرا نہ ثواب پائے گا اور نہ عذاب،
اس پر امام اشعری نے اعتراض کیا کہ اگر تیسرا بچہ کہے کہ اے میرے رب تونے مجھے میرے بڑے ہونے تک کیوں نہ زندہ رکھا تاکہ میں بڑا ہوتا اور تیری فرمانبرداری کرتا اور جنت میں چلا جاتا ؟
تو ابو علی جبائی نے جواب دیا کہ اللہ تعالی فرمائے گا مجھے معلوم تھا کہ تو بڑا ہوگا اور میری نا فرمانی کرے گا پھر جہنم میں چلا جائے گا اس لیے تجھے بچپنے میں موت دے دی تاکہ تو جہنم سے بچ جائے اور تیرے لیے یہی بہتر تھا
پھر اس پر اعتراض کرتے ہوئے امام اشعری نے کہا:
اگر دوسرا گنہ گار بھائی بھی یہی کہے کہ اے رب تو تو جانتا تھا پھر مجھے بچپنے ہی میں کیوں موت نہیں دی تاکہ میں جہنم کی آگ سے بچ جاتا؟ تو رب کیا فرمائے گا؟
فبھت الجبائی تو یہ سن کر جبائی لا جواب ہو گیا اور کچھ نہ کہہ سکا۔
وترك الأشعرى مذهبه، واشتغل هو ومن تبعه بابطال رأى المعتزلة، واثبات ما وردت به السنة، ومضى عليه الجماعة. فسموا أهل السنة والجماعة.
امام اشعری نے ان کا مذہب چھوڑ دیا اور معتزلہ کے عقائد باطلہ کی تردید میں اور عقائد سنیہ اور جن پر صحابہ کی جماعت قائم تھی ان کے اثبات میں مشغول ہو گئے اور اہل سنت و جماعت کے نام سے موسوم ہوئے۔
[شرح العقائد النسفية للتفتازاني ( الكليات الأزهرية) - المجلد ١- الصفحة ١٢ - جامع الكتب الإسلاميہ -]
مسلمانوں میں جب فرقہ نکلنا شروع ہوا تو جو خالص سنی صحیح العقیدہ تھے انھوں نے باطل فرقوں سے خط امتیاز کے لیے اہل سنت و جماعت کی اصطلاح کی بنیاد رکھی اہل سنت کے بڑے بڑے مقتدر علما نے معتزلہ کی تردید کا فریضہ انجام دیا لیکن سب سے زیادہ ابطال باطل اور احقاق حق میں امام ابو الحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ عنہما پیش پیش رہے یہاں تک کہ خود ان دونوں ہستیوں کے درمیان بعض فروعی معتقدات میں اختلاف رو نما ہوا اسی لیے ابو منصور ماتریدی کے پیروکار خود کو ماتریدی کہلانے لگے اور امام اشعری کے پیروکار خود کو اشعری کہلانے لگے اور یہ انتساب فقط فروعی معتقدات میں منحصر ہے
پھر زمانے کی نگاہوں نے دیکھا کہ اسلام جب دور دور تک پھیلا اور حدیثیں کثرت سے روایت ہونے لگیں اور ایک مسئلے میں دو تین طرح کی احادیث نظر سے گزریں تو ائمۂ مجتہدین نے اپنے علوم و فنون کے ذریعے احادیث کریمہ میں غور و خوض کر کے مسائل کا استنباط و استخراج کیا جس کے نتیجے میں ایک سمندر یعنی اہل سنت سے چار نہریں نکلیں یعنی چار مذاہب معرض وجود میں آئے امام ابو حنیفہ کے ماننے والے حنفی امام شافعی کے ماننے والے شافعی امام مالک کے ماننے والے مالکی اور امام احمد بن حنبل کے ماننے والے حنبلی کہلائے ان ائمہ اربعہ کے ناموں کی طرف اپنا انتساب کرنے میں مقلدین فخر کرتے رہے،
پھر ایک زمانہ آیا کہ ائمۂ اربعہ پر بعض ظاہر بینوں نے انگشت نمائی کی اور کہا ہمارے لیے قرآن و حدیث ہی کافی ہے ہمیں کسی امام کی پیروی کی ضرورت نہیں ہے جب یہ فرقہ پھیلنے لگا اور خود کو اہل سنت و جماعت میں شمار کرانے کی سازش رچی تو علما نے خط امتیاز کے لیے مقلدین اور غیر مقلدین کی اصطلاح قائم کی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ واقعی کون اہل سنت ہے اور کون نہیں ہے ؟
پھر زمانہ گزرتا گیا اور نت نئے فرقے جنم لیتے گئے یہاں تک قادیانی، وہابی، دیوبندی، نیچری جیسے گستاخ و خبیث فرقوں نے علم بغاوت بلند کیا علماء اہل سنت و جماعت نے ان فرقوں کا زبردست تعاقب کیا اور سینکڑوں کتابیں تردید میں تحریر فرمائی، لیکن ایسے پرفتن دور میں سب سے زیادہ جس ذات نے احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ کا انجام دیا
دنیا اسے آیت من آیات اللہ، معجزۃ من معجزاۃ رسول اللہ، کنز الکرامت، جبل الاستقامت، قاطع بدعت، ماحی کفریت، حامی سنیت، امام عشق و محبت، مجدد دین و ملت، امام اہل سنت، الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری بریلوی رضی اللہ عنہ القوی کے نام سے جانتی ہے یہاں تک کہ یہ ذات سنیت کی پہچان بن گئی وہابیہ، دیابنہ، قادیانیہ، نیچریہ اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے تو کافر و مرتد ہو چکے تھے لیکن غیر مقلدین کی طرح فرقہائے باطلہ بھی خود کو اہل سنت و جماعت شمار کرتے تھے اسی لیے اہل سنت و جماعت کے جید علما نے وہابیہ، دیابنہ دیگر فرقہائے باطلہ سے خط امتیاز کے لیے مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح قائم فرمائی تاکہ مسلک اعلی حضرت بولا جائے تو یہ معلوم ہو جائے کہ کون واقعی اہل سنت ہے اور کون نہیں ہے؟
مسلکِ اعلی حضرت کیوں؟ـــــــــ
اگر اس سوال کا مطلب یہ ہے کہ مسلک اعلی حضرت ہی کیوں؟
مسلک تاج الفحول کیوں نہیں؟
مسلک بطل حریت کیوں نہیں؟
مسلک فردوسی کیوں نہیں؟
تو اس کا جواب یہ ہے مسلک اعلی حضرت کہنے سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی ہے کہ مذکور بزرگان دین کا یہ مسلک نہیں ہے مسلک انھیں کا ہے بس مسلک کی اضافت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی طرف اس لیے کی گئی ہے آپ نے سب سے زیادہ تردید بد مذہباں کا فریضہ انجام دیا ہے اور آپ کی ذات ما بین العوام و الخواص معروف و مشہور ہوئی ہے جس کی وجہ سے
بلد حرام کے زبر دست سنی عالم علامہ سید علوی ابن عباس حسنی مکی مالکی قدس سره نے حضرت علامہ مغربی تبانی قدس سرہ کے اس قول کو نقل فرماتے تھے:
اذا جائكم احد من الحجاج الهنود فاذكروا لديه الشيخ احمد رضا البريلوى فان سر فهو من اهل السنة وان سخط وغضب فهو من اهل البدعة.
يعنى جب تمہارے پاس ہندوستانی حاجیوں میں سے کوئی شخص آئے تو اس کے نزدیک شیخ احمد رضا بریلوی کا ذکر کرو اگر وہ اس سے خوش ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ یہ سنی ہے اور اگر وہ اس سے ناراض ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ یہ شخص بدعت میں گرفتار ہے
۔
[امتیاز اہل سنت ص ٣١٧]
تو یہی وہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی ذات ہے اس دور میں جو وہابیہ دیابنہ، روافض اور اہل سنت و جماعت کے درمیان خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے جس کا نام لینے سے اہل سنت و جماعت اور فرقہائے باطلہ کے مابین تفریق ہو جاتی ہے اسی لیے مسلک کی اضافت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی طرف کر کے عوام و خواص خود کو مسلک اعلی حضرت والے بتانے لگے۔
اعتراض اور جواب ـــــــــــــــ
اور اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ مسلک اعلی حضرت کہنے سے مسلک اہل سنت کی نفی ہوتی ہے۔
تو اس کو جواب دیا جائے گا کہ معترض اگر مسلک کی اضافت خود اپنی طرف کر لے اور کہے:
میرا مسلک یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بعد از انبیا افضل البشر ہیں
یا یہ کہے کہ :
میرا مسلک یہ ہے کہ رافضی غالی کافر و مرتد ہے
تو کیا یہاں مسلک کی اضافت خود کی طرف کرنے کی وجہ سے معترض سے یہ کہا جائے گا کہ تو نے مسلک اہل سنت کا انکار کر دیا اور اپنا مسلک گڑھ لیا ہر گز نہیں کہا جائے گا نہ کسی کو کبھی ایسا گمان گزرتا ہے بلکہ عام بول چال میں بھی لوگ بولتے ہیں کہ میرا مسلک وہی ہے جو فلاں بزرگ کا مسلک ہے یا میرا مسلک وہی ہے جو میرے باپ دادا کا مسلک ہے تو کیا کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ تمہارے باپ دادا نے بھی کوئی مسلک بنایا تھا بلکہ سب یہی سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد مسلک اہل سنت و جماعت ہے جو ان کے باپ دادا کا مسلک ہے
اب دیکھیے میرا مسلک یہ اردو میں بترکیب اضافی ہے اور فارسی میں یہی ہوگا مسلک من اور عربی میں ہوگا مسلکی نیز باپ دادا کا مسلک یہ اردو میں ہوا، اور فارسی میں مسلک آباء و اجداد اب یہاں پر بھی مسلک کی اضافت خود کی طرف اور آباؤ اجداد کی طرف ہوئی لیکن کوئی اس میں حرف سوال نہیں رکھتا کیونکہ مسلک آبا و اجداد یا میرا مسلک کا مفاد ایک ہی ہے اور وہ ہے مسلک اہل سنت و جماعت، تو جیسے مسلک کی اضافت خود کی طرف یا آباو اجداد کی طرف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ایسے ہی مسلک کی اضافت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی طرف کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے جب عام آدمی کی طرف اضافت کی جا سکتی ہے تو حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تو مجدد دین و ملت ہیں مجتھد فی المسائل ہیں پھر یہاں کیا مانع ہے جس کی وجہ سے اضافت نہیں جائے ؟
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
نیز بزرگان دین کی طرف مسلک کی اضافت بلا شبہ جائز ہے جس کی تائید تفسیر بیضاوی شریف سے بھی ہوتی ہے:
امام ناصر الدین بیضاوی رضی اللہ عنہ تفسیر بیضاوی شریف کے خطبہ میں یوں دعا فرماتے ہیں :
وعلى من اعانه وقرر بيانه وفض علينا من بركاتهم و اسلک بنا مسالک کرامتهم
اور درود و سلام ان پر جنھوں نے ان کی اعانت و امداد فرمائی اور ان کے احکام کو ثابت رکھا ہمیں ان کی برکات سے مستفیض فرما اور ان کے معزز مسالک پر چلا .
اسی کے تحت شرح زادہ بیضاوی شریف کے حاشیہ میں ہے:
اراد بهم الصحابه والتابعين من بعدهم من العلما العاملين الى يوم الدین
ان سے مراد صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد قیامت تک کے علماء صالحین ہیں
اب یہاں اور ایک چیز قابل غور ہے وہ یہ کہ صاحب بیضاوی نے دعا میں فرمایا مسالک کرامتھم مسالک جمع ہے اور جمع کی اضافت ھم ضمیر جمع غائب کی طرف کی گئی ہے اور جب جمع کی اضافت جمع کی طرف کی جائے یا جمع جمع کے مقابلے میں ہو تو آحاد آحاد پر منقسم ہوتا ہے جیسا کہ شرح وقایہ میں ہے :
ان مقابلة الجمع بالجمع تقتضى انقسام الاحاد على الاحاد ملحوظاً
کہ جمع جمع کے مقابلے میں ہو تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آحاد کا انقسام آحاد پر ہو
جیسے قرآن میں ہے:
فَٱغۡسِلُوا۟ وُجُوهَكُمۡ وَأَیۡدِیَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُوا۟ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَیۡنِۚ [المائدة ٦]
ترجمہ کنزالایمان:
تو اپنے منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ
یہاں پر بھی انقسام الآحاد علی الآحاد ہے ہر ایک کو یہ حکم فردا فردا شامل ہے ۔
ایسے مسالک کی اضافت ہر فرد کی طرف ہوگی تو اب مطلب یہ ہوگا
مسلک ابو بکر رضی اللہ عنہ، مسلک عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ، مسلک عثمان رضی اللہ عنہ، مسلک مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم، اور دعا قیامت تک کے صالحین کو شامل ہے تو مطلب ہوا مسلک عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ، مسلک خواجہ اجمیری معین الدین چشتی رضی اللہ عنہ، مسلک تاج الفحول رضی اللہ عنہ، مسلک بطل حریت رضی اللہ عنہ، مسلک اعلی حضرت رضی اللہ عنہ
لہذا صاحب تفسیر بیضاوی کے قول سے صاف ثابت ہوا کہ مسلک کی اضافت کسی کی طرف کرنا بلا شبہ جائز ہے اور ہمیں حکم ہیں صالحین کے راستے پر چلیں،
اور صالحین کے افعال سے دلیل پکڑنا بالکل روا ہے اور مذہب اہل سنت کے مطابق ہے جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے :
۔ انما نتمسک بافعال الصالحين [فتاوی ہندیہ ، ج : ٤]
اگر چہ مسلک کی اضافت سارے بزرگان دین میں سے کسی کی طرف بھی جائز ہے لیکن حضور اعلی حضرت خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے اسی لیے علماء اہل سنت نے متفقہ طور پر فرقہائے باطلہ سے امتیاز کے لیے اہل سنت و جماعت کو مسلک اعلی حضرت کے نام سے ملقب فرمایا اور اس زمانے میں کوئی بھی منصف مزاج اگر کسی ذات کو خط امتیاز کی حیثیت دینا چاہے گا تو ضرور غور و خوض کے بعد وہ امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات کا انتخاب کرے گا اور وہ کہے گا کہ یہی وہ ذات ہے جو خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ بڑے بڑے منصف مزاج علما فضلاء محدثین نے کہا ہے کہ امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات مابین الحق و الباطل خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے جس کا بیان ان شاءاللہ تعالیٰ آگے آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
56
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دوم]

اسلام کا پیغام محض عبادت تک محدود نہیں

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط اول] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط اول]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط اول]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

اللہ جل جلالہ و عم نوالہ نے ہمارا نام مسلمان رکھا چنانچہ قرآن مجید فرقان حمید میں ہے
هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْن [سورۃ الحج آیت ٧٨]
ترجمہ کنز الایمان: اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا۔
صادق و مصدوق سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مسلمانوں میں تہتر فرقے ہوں گے جن میں بہتر جہنمی اور ایک جنتی ہوگا چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

ليأتين على أمتي كما أتى على بني إسرائيل حذو النعل بالنعل ، حتى إن كان منهم من أتى أمه علانية ، لكان في أمتي من يصنع ذلك . وإن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة ، وتفترق أمتي على ثلاث و سبعين ملة ، كلهم في النار إلا ملة واحدة ” قالوا : من هي يا رسول الله ؟ قال : ” ما أنا عليه وأصحابي ” رواه الترمذي .
[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول ص ٢٥٨]

ترجمہ: یعنی میری امت پر ہو بہو ایسا ہی ہلاکت خیز زمانہ آئے گا جس طرح بنی اسرئیل پر آیا یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں کوئی اپنی ماں سے علانیہ بدکاری کی ہوگی تو ضرور میری امت میں بھی کوئی کرے گا اور قومِ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئی اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی تمام فرقے جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے صحابہ نے کہا: وہ کونسا فرقہ ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو جنتی ہے؟ تو حضور نے فرمایا : جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔

شرح عقائد نسفیہ میں ہے:
ومعظم خلافياته مع الفرق الاسلامية. خصوصا المعتزلة لأنهم أول فرقة أسسوا قواعد الخلاف لما ورد به ظاهر السنة، وجرى عليه جماعة من الصحابة رضوان الله عليهم أجمعين فى باب العقائد.
اور علم کلام کے اکثر اختلافات اسلامی فرقوں کے ساتھ ہیں خصوصاً معتزلہ اس لیے کہ معتزلہ پہلا فرقہ ہے جس نے سنت کے خلاف قواعد کی بنیاد رکھی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت نے باب عقائد میں اس فرقے کا رد کیا
اس کی وجہ یہ رہی کہ واصل بن عطا نے حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کی مجلس سے اعتزال کیا اور اس نے اپنا عقیدہ یہ قائم کیا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ مومن ہے نہ کافر بلکہ دونوں منزلوں کے درمیان ایک تیسری منزل میں ہے اس پر امام حسن بصری رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
قد اعتزل عنا، فسموا المعتزلة.
کہ یہ ہم سے جدا ہو گیا تو ا س کا نام معتزلہ پڑ گیا
اور وہ خود کو “اصحاب عدل و توحید” سے موسوم کرتے رہے فرقۂ معتزلہ کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالی پر واجب ہے کہ گناہ گار کو سزا دے اور فرمانبردار کو ثواب، اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدیم صفات کا انکار کیا بعد میں یہ حضرات اس قدر آگے بڑھ گئے کہ فلسفیوں سے متاثر ہو کر فلسفیوں کے بہت سے نظریات کو اختیار کر لیے اور ان کا مذہب پھیلنے لگا
امام ابو الحسن اشعری نے اپنے استاذ ابو علی جبائی سے کہا :
کہ تم ان تین بھائیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو جن میں سے ایک بڑا ہوا اور فرمانبردار ہو کر مر گیا
اور دوسرا بڑا ہوا اور نافرمان ہو کر مر گیا
اور تیسرا عہد طفولیت ہی میں مر گیا ؟
تو ابو علی جبائی نے کہا: پہلا جنت میں جائے گا،
دوسرا جہنم میں عذاب پائے گا اور تیسرا نہ ثواب پائے گا اور نہ عذاب،
اس پر امام اشعری نے اعتراض کیا کہ اگر تیسرا بچہ کہے کہ اے میرے رب تونے مجھے میرے بڑے ہونے تک کیوں نہ زندہ رکھا تاکہ میں بڑا ہوتا اور تیری فرمانبرداری کرتا اور جنت میں چلا جاتا ؟
تو ابو علی جبائی نے جواب دیا کہ اللہ تعالی فرمائے گا مجھے معلوم تھا کہ تو بڑا ہوگا اور میری نا فرمانی کرے گا پھر جہنم میں چلا جائے گا اس لیے تجھے بچپنے میں موت دے دی تاکہ تو جہنم سے بچ جائے اور تیرے لیے یہی بہتر تھا

پھر اس پر اعتراض کرتے ہوئے امام اشعری نے کہا:
اگر دوسرا گنہ گار بھائی بھی یہی کہے کہ اے رب تو تو جانتا تھا پھر مجھے بچپنے ہی میں کیوں موت نہیں دی تاکہ میں جہنم کی آگ سے بچ جاتا؟ تو رب کیا فرمائے گا؟

“فبھت الجبائی” تو یہ سن کر جبائی لا جواب ہو گیا اور کچھ نہ کہہ سکا۔
وترك الأشعرى مذهبه، واشتغل هو ومن تبعه بابطال رأى المعتزلة، واثبات ما وردت به السنة، ومضى عليه الجماعة. فسموا أهل السنة والجماعة.
امام اشعری نے ان کا مذہب چھوڑ دیا اور معتزلہ کے عقائد باطلہ کی تردید میں اور عقائد سنیہ اور جن پر صحابہ کی جماعت قائم تھی ان کے اثبات میں مشغول ہو گئے اور “اہل سنت و جماعت” کے نام سے موسوم ہوئے۔

[شرح العقائد النسفية للتفتازاني ( الكليات الأزهرية) – المجلد ١- الصفحة ١٢ – جامع الكتب الإسلاميہ -]

مسلمانوں میں جب فرقہ نکلنا شروع ہوا تو جو خالص سنی صحیح العقیدہ تھے انھوں نے باطل فرقوں سے خط امتیاز کے لیے اہل سنت و جماعت کی اصطلاح کی بنیاد رکھی اہل سنت کے بڑے بڑے مقتدر علما نے معتزلہ کی تردید کا فریضہ انجام دیا لیکن سب سے زیادہ ابطال باطل اور احقاق حق میں امام ابو الحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ عنہما پیش پیش رہے یہاں تک کہ خود ان دونوں ہستیوں کے درمیان بعض فروعی معتقدات میں اختلاف رو نما ہوا اسی لیے ابو منصور ماتریدی کے پیروکار خود کو ماتریدی کہلانے لگے اور امام اشعری کے پیروکار خود کو اشعری کہلانے لگے اور یہ انتساب فقط فروعی معتقدات میں منحصر ہے

پھر زمانے کی نگاہوں نے دیکھا کہ اسلام جب دور دور تک پھیلا اور حدیثیں کثرت سے روایت ہونے لگیں اور ایک مسئلے میں دو تین طرح کی احادیث نظر سے گزریں تو ائمۂ مجتہدین نے اپنے علوم و فنون کے ذریعے احادیث کریمہ میں غور و خوض کر کے مسائل کا استنباط و استخراج کیا جس کے نتیجے میں ایک سمندر یعنی اہل سنت سے چار نہریں نکلیں یعنی چار مذاہب معرض وجود میں آئے امام ابو حنیفہ کے ماننے والے حنفی امام شافعی کے ماننے والے شافعی امام مالک کے ماننے والے مالکی اور امام احمد بن حنبل کے ماننے والے حنبلی کہلائے ان ائمہ اربعہ کے ناموں کی طرف اپنا انتساب کرنے میں مقلدین فخر کرتے رہے،

پھر ایک زمانہ آیا کہ ائمۂ اربعہ پر بعض ظاہر بینوں نے انگشت نمائی کی اور کہا ہمارے لیے قرآن و حدیث ہی کافی ہے ہمیں کسی امام کی پیروی کی ضرورت نہیں ہے جب یہ فرقہ پھیلنے لگا اور خود کو اہل سنت و جماعت میں شمار کرانے کی سازش رچی تو علما نے خط امتیاز کے لیے مقلدین اور غیر مقلدین کی اصطلاح قائم کی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ واقعی کون اہل سنت ہے اور کون نہیں ہے ؟

پھر زمانہ گزرتا گیا اور نت نئے فرقے جنم لیتے گئے یہاں تک قادیانی، وہابی، دیوبندی، نیچری جیسے گستاخ و خبیث فرقوں نے علم بغاوت بلند کیا علماء اہل سنت و جماعت نے ان فرقوں کا زبردست تعاقب کیا اور سینکڑوں کتابیں تردید میں تحریر فرمائی، لیکن ایسے پرفتن دور میں سب سے زیادہ جس ذات نے احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ کا انجام دیا
دنیا اسے آیت من آیات اللہ، معجزۃ من معجزاۃ رسول اللہ، کنز الکرامت، جبل الاستقامت، قاطع بدعت، ماحی کفریت، حامی سنیت، امام عشق و محبت، مجدد دین و ملت، امام اہل سنت، الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری بریلوی رضی اللہ عنہ القوی کے نام سے جانتی ہے یہاں تک کہ یہ ذات سنیت کی پہچان بن گئی وہابیہ، دیابنہ، قادیانیہ، نیچریہ اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے تو کافر و مرتد ہو چکے تھے لیکن غیر مقلدین کی طرح فرقہائے باطلہ بھی خود کو اہل سنت و جماعت شمار کرتے تھے اسی لیے اہل سنت و جماعت کے جید علما نے وہابیہ، دیابنہ دیگر فرقہائے باطلہ سے خط امتیاز کے لیے مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح قائم فرمائی تاکہ مسلک اعلی حضرت بولا جائے تو یہ معلوم ہو جائے کہ کون واقعی اہل سنت ہے اور کون نہیں ہے؟

مسلکِ اعلی حضرت کیوں؟ـــــــــ
اگر اس سوال کا مطلب یہ ہے کہ مسلک اعلی حضرت ہی کیوں؟
مسلک تاج الفحول کیوں نہیں؟
مسلک بطل حریت کیوں نہیں؟
مسلک فردوسی کیوں نہیں؟
تو اس کا جواب یہ ہے مسلک اعلی حضرت کہنے سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی ہے کہ مذکور بزرگان دین کا یہ مسلک نہیں ہے مسلک انھیں کا ہے بس مسلک کی اضافت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی طرف اس لیے کی گئی ہے آپ نے سب سے زیادہ تردید بد مذہباں کا فریضہ انجام دیا ہے اور آپ کی ذات ما بین العوام و الخواص معروف و مشہور ہوئی ہے جس کی وجہ سے
“بلد حرام کے زبر دست سنی عالم علامہ سید علوی ابن عباس حسنی مکی مالکی قدس سره نے حضرت علامہ مغربی تبانی قدس سرہ کے اس قول کو نقل فرماتے تھے:
اذا جائكم احد من الحجاج الهنود فاذكروا لديه الشيخ احمد رضا البريلوى فان سر فهو من اهل السنة وان سخط وغضب فهو من اهل البدعة.
يعنى جب تمہارے پاس ہندوستانی حاجیوں میں سے کوئی شخص آئے تو اس کے نزدیک شیخ احمد رضا بریلوی کا ذکر کرو اگر وہ اس سے خوش ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ یہ سنی ہے اور اگر وہ اس سے ناراض ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ یہ شخص بدعت میں گرفتار ہے”۔
[امتیاز اہل سنت ص ٣١٧]

تو یہی وہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی ذات ہے اس دور میں جو وہابیہ دیابنہ، روافض اور اہل سنت و جماعت کے درمیان خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے جس کا نام لینے سے اہل سنت و جماعت اور فرقہائے باطلہ کے مابین تفریق ہو جاتی ہے اسی لیے مسلک کی اضافت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی طرف کر کے عوام و خواص خود کو مسلک اعلی حضرت والے بتانے لگے۔

اعتراض اور جواب ـــــــــــــــ

اور اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ مسلک اعلی حضرت کہنے سے مسلک اہل سنت کی نفی ہوتی ہے۔
تو اس کو جواب دیا جائے گا کہ معترض اگر مسلک کی اضافت خود اپنی طرف کر لے اور کہے:
“میرا مسلک یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بعد از انبیا افضل البشر ہیں”
یا یہ کہے کہ :
“میرا مسلک یہ ہے کہ رافضی غالی کافر و مرتد ہے”
تو کیا یہاں مسلک کی اضافت خود کی طرف کرنے کی وجہ سے معترض سے یہ کہا جائے گا کہ تو نے مسلک اہل سنت کا انکار کر دیا اور اپنا مسلک گڑھ لیا ہر گز نہیں کہا جائے گا نہ کسی کو کبھی ایسا گمان گزرتا ہے بلکہ عام بول چال میں بھی لوگ بولتے ہیں کہ میرا مسلک وہی ہے جو فلاں بزرگ کا مسلک ہے یا میرا مسلک وہی ہے جو میرے باپ دادا کا مسلک ہے تو کیا کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ تمہارے باپ دادا نے بھی کوئی مسلک بنایا تھا بلکہ سب یہی سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد مسلک اہل سنت و جماعت ہے جو ان کے باپ دادا کا مسلک ہے
اب دیکھیے “میرا مسلک” یہ اردو میں بترکیب اضافی ہے اور فارسی میں یہی ہوگا “مسلک من” اور عربی میں ہوگا “مسلکی” نیز “باپ دادا کا مسلک” یہ اردو میں ہوا، اور فارسی میں “مسلک آباء و اجداد” اب یہاں پر بھی مسلک کی اضافت خود کی طرف اور آباؤ اجداد کی طرف ہوئی لیکن کوئی اس میں حرف سوال نہیں رکھتا کیونکہ “مسلک آبا و اجداد” یا “میرا مسلک” کا مفاد ایک ہی ہے اور وہ ہے مسلک اہل سنت و جماعت، تو جیسے مسلک کی اضافت خود کی طرف یا آباو اجداد کی طرف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ایسے ہی مسلک کی اضافت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی طرف کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے جب عام آدمی کی طرف اضافت کی جا سکتی ہے تو حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تو مجدد دین و ملت ہیں مجتھد فی المسائل ہیں پھر یہاں کیا مانع ہے جس کی وجہ سے اضافت نہیں جائے ؟

نیز بزرگان دین کی طرف مسلک کی اضافت بلا شبہ جائز ہے جس کی تائید تفسیر بیضاوی شریف سے بھی ہوتی ہے:
امام ناصر الدین بیضاوی رضی اللہ عنہ تفسیر بیضاوی شریف کے خطبہ میں یوں دعا فرماتے ہیں :
“وعلى من اعانه وقرر بيانه وفض علينا من بركاتهم و اسلک بنا مسالک کرامتهم”
اور درود و سلام ان پر جنھوں نے ان کی اعانت و امداد فرمائی اور ان کے احکام کو ثابت رکھا ہمیں ان کی برکات سے مستفیض فرما اور ان کے معزز مسالک پر چلا .
اسی کے تحت شرح زادہ بیضاوی شریف کے حاشیہ میں ہے:
” اراد بهم الصحابه والتابعين من بعدهم من العلما العاملين الى يوم الدین”
ان سے مراد صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد قیامت تک کے علماء صالحین ہیں
اب یہاں اور ایک چیز قابل غور ہے وہ یہ کہ صاحب بیضاوی نے دعا میں فرمایا “مسالک کرامتھم” مسالک جمع ہے اور جمع کی اضافت ھم ضمیر جمع غائب کی طرف کی گئی ہے اور جب جمع کی اضافت جمع کی طرف کی جائے یا جمع جمع کے مقابلے میں ہو تو آحاد آحاد پر منقسم ہوتا ہے جیسا کہ شرح وقایہ میں ہے :
” ان مقابلة الجمع بالجمع تقتضى انقسام الاحاد على الاحاد ملحوظاً”
کہ جمع جمع کے مقابلے میں ہو تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آحاد کا انقسام آحاد پر ہو
جیسے قرآن میں ہے:
“فَٱغۡسِلُوا۟ وُجُوهَكُمۡ وَأَیۡدِیَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُوا۟ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَیۡنِۚ” [المائدة ٦]
ترجمہ کنزالایمان:
تو اپنے منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ
یہاں پر بھی “انقسام الآحاد علی الآحاد” ہے ہر ایک کو یہ حکم فردا فردا شامل ہے ۔
ایسے مسالک کی اضافت ہر فرد کی طرف ہوگی تو اب مطلب یہ ہوگا
مسلک ابو بکر رضی اللہ عنہ، مسلک عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ، مسلک عثمان رضی اللہ عنہ، مسلک مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم، اور دعا قیامت تک کے صالحین کو شامل ہے تو مطلب ہوا مسلک عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ، مسلک خواجہ اجمیری معین الدین چشتی رضی اللہ عنہ، مسلک تاج الفحول رضی اللہ عنہ، مسلک بطل حریت رضی اللہ عنہ، مسلک اعلی حضرت رضی اللہ عنہ
لہذا صاحب تفسیر بیضاوی کے قول سے صاف ثابت ہوا کہ مسلک کی اضافت کسی کی طرف کرنا بلا شبہ جائز ہے اور ہمیں حکم ہیں صالحین کے راستے پر چلیں،
اور صالحین کے افعال سے دلیل پکڑنا بالکل روا ہے اور مذہب اہل سنت کے مطابق ہے جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے :
۔ انما نتمسک بافعال الصالحين [فتاوی ہندیہ ، ج : ٤]

اگر چہ مسلک کی اضافت سارے بزرگان دین میں سے کسی کی طرف بھی جائز ہے لیکن حضور اعلی حضرت خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے اسی لیے علماء اہل سنت نے متفقہ طور پر فرقہائے باطلہ سے امتیاز کے لیے اہل سنت و جماعت کو مسلک اعلی حضرت کے نام سے ملقب فرمایا اور اس زمانے میں کوئی بھی منصف مزاج اگر کسی ذات کو خط امتیاز کی حیثیت دینا چاہے گا تو ضرور غور و خوض کے بعد وہ امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات کا انتخاب کرے گا اور وہ کہے گا کہ یہی وہ ذات ہے جو خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ بڑے بڑے منصف مزاج علما فضلاء محدثین نے کہا ہے کہ امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات مابین الحق و الباطل خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے جس کا بیان ان شاءاللہ تعالیٰ آگے آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

Scan this QR code to read online:

QR Code