صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دہم] [اخیر قسط]
تحقیق و تعاقب

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دہم] [اخیر قسط]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط دہم]
[تِلۡكَ عَشَرَةࣱ كَامِلَةࣱۗ]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مسلک اعلی حضرت اکابر کی نظر میں ـــــــــــــــــــ
ایک زمانے تک اکابر علما مسلک اعلی حضرت کو سنیت کی پہچان قرار دیتے رہے مانتے رہے یہاں تک کہ اسی کی نشر و اشاعت اور باطلوں کی سرکوبی میں اپنی زندگیاں گزار دیں لیکن بعض آستینی موذیوں نے انگشت نمائی کی اور خود داغدار ہو گئے لیکن حق کا پرچم ہمیشہ شان و شوکت کے ساتھ لہراتا رہا اور ان شاءاللہ تعالیٰ تا قیام قیامت لہراتا رہے گا
سب ان سے جلنے والوں کے گل ہو گئے چراغ
احمد رضا کی شمع فروزاں ہے آج بھی
جو حضرات مسلک اعلی حضرت پہ چیں بہ جبیں ہوتے ہیں انھیں دیکھنا چاہیے کہ اکابر علما نے مسلک اعلی حضرت کے بارے کیا عندیہ پیش کیا ہے۔ قارئین ملاحظہ فرمائیں:
حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ حضور سید شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی رضی اللہ عنہ کے بارے تحریر فرماتے ہیں:
"حضرت سید شاہ اسمعیل حسن میاں صاحب کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا شاه ابوالحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہ العزیز نے مجھ سے فرمایا کہ اب اس وقت دین داری کی علامت یہ ہے کہ جو شخص مولانا عبد القادر صاحب بدایونی اور مولانا احمد رضا خاں صاحب سے محبت رکھے، اسے دین دار جانو، اور جو ان دونوں سے بغض وعداوت رکھے، اسے سمجھ لو کہ بد مذہب ہے، یا کسی بد مذہب کے پھیر میں پھنسا ہوا ہے۔ اور جس مسئلہ پر ان دونوں کا اتفاق ہو اسے جانو کہ یہ مسئلہ بہت ہی محقق ہے۔ اور جس مسئلہ سے ان دونوں کو اختلاف ہو اسے جان لو کہ یہ غیر محقق اور غلط ہے۔ اور فرماتے کہ ہمارا تواب یہی دستور العمل ہے کہ جو مسئلہ مولانا احمد رضا خاں صاحب نے فرمایا ، اس پر دل فورا مطمئن ہو گیا، اور آپ کی اعلی تحقیق اور غور و تدبر کے کثیر در کثیر مشاہدات و واقعات نے یہ حالت کر دی تھی کہ جو مسئلہ دریافت کرتا اس کی نسبت لکھ دیتا کہ مسئلہ کا حکم لکھ دیجیے دلیل کی ضرورت نہیں۔
[حیات اعلی حضرت کامل ص ٧٣٣]
اہم نکات ــــــــــــ
حضور سیدنا ابو الحسن احمد نوری مارہروی رضی اللہ عنہ کے فرمان سے یہ درج ذیل اہم نکات معلوم ہوئے ۔
١۔ امام احمد رضا خان اور علامہ عبد القادر بدایونی رضی اللہ عنہما کی محبت دین دار یعنی سنی صحیح العقیدہ ہونے کی علامت ہے۔
٢۔ ان سے عداوت بدمذہبیت یا زلت [یعنی پھسلنے] کی علامت ہے
٣۔ اور جس مسئلے میں ان دونوں کا اتفاق ہو وہ مسئلہ محقق ہے
٤۔ اور جس مسئلے سے ان دونوں کو اختلاف ہو وہ غیر محقق غلط ہے
٥۔ سیدنا ابو الحسن احمد نوری رضی اللہ عنہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ پر اس قدر اعتماد تھا کہ فقط حکم مسئلہ دریافت فرماتے تھے گویا ان کے نزدیک خود امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی ذات ہی دلیل بن گئی تھی۔
حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ حیات اعلی حضرت میں عالم کبیر علامہ علامہ قادر بخش سہسرامی رضی اللہ عنہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
مولانا مولوی قادر بخش صاحب سہسرامی جو ایک بہت بڑے مشہور عالم اور زبردست واعظ تھے۔ ایک مرتبہ بسلسلہ وعظ موضع رجہت ضلع گیا تشریف لے گئے۔ یہ بستی سادات کرام کی ہے، اس بستی کے لوگ سجادہ نشینان سہسرام کے رشتہ دار ہیں۔ ان کی شادیاں اس وقت تک رجہت اور پچھر وکھی وغیرہ میں ہوا کرتی ہیں۔ رجہت ہی کے رہنے والے میرے دوست مولوی سید شاہ غیاث الدین صاحب چشتی نظامی فخری رجہتی بہاری اور پچھر وکھی کے رہنے والے میرے مخلص محترم مولانا مولوی سید احمد عالم صاحب قادری برکاتی رضوی صدر مدرس مدرسہ قادریہ بسرام پور شیر گھاٹی ہیں۔ یہاں کے باشندے پہلے سب کے سب سنی حنفی تھے تھوڑے دنوں سے کچھ وہابیت کا اثر ہو گیا اور کچھ لوگ غیر مقلد ہو گئے ۔ ان لوگوں کی برادری کی وجہ سے سجادہ نشین صاحب سہسرام کے یہاں آمد و رفت ہے مگر اختلاف مذہب کی وجہ سے مسجد میں اعلان مذہب سے ممنوع تھے۔ تاکہ اختلاف و خلفشار پیدا نہ ہو سب سنی حنفی تھے۔ وہ لوگ جب آتے کمرہ ہی پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ رجہت کے سنیوں نے مولانا قادر بخش صاحب سہسرامی کو ر جہت وعظ کے لیے بلایا۔ وعظ کے بعد کھانا کھانے کے لیے بیٹھے، تو کسی نے پوچھا کہ مولانا سنی اور وہابی کی کیا پہچان ہے؟ ایسی بات بتائیے کہ جس کو ہم لوگ بھی کر سکیں، اور اس کے ذریعہ سنی وہابی کو پہچان سکیں ، کوئی بڑی علمی بات نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا:
ایسا آسان عمدہ اور کھرا قاعدہ آپ لوگوں کو بتا دیتا ہوں کہ اس سے اچھا ملنا مشکل ہے۔ آپ جس کسی کے بارے میں مشتبہ ہوں کہ سنی ہے یا وہابی یا بد مذہب؟ تو اس کے سامنے مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کا تذکرہ چھیڑ دیجیے، اور اس کے چہرے کو بغور دیکھیے اگر چہرہ پر بشاشت اور خوشی کے آثار دیکھئے، تو یقین جانیے کہ سنی ہے۔ اور اگر چہرہ پر پژمردگی اور کورت دیکھئے تو سمجھئے کہ وہابی ہے ، اور اگر وہابی نہیں جب بھی اس میں کسی قسم کی بے دینی ضرور ہے۔ اس زمانہ مين لا يحبه الامؤمن ولا يبغضه الامنافق [اس سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی عداوت کرے گا] میں یہ ضمیریں مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی طرف پھرتی ہیں
[حیات اعلی حضرت کامل ص : ٧٣٨/٧٣٩]
مذکور بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات ستودہ صفات معیار سنیت ہے ۔
اسی لیے فقیہ اعظم ہند شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی ذات گرامی اس دور میں حق و باطل کی معیار ہے ۔ ان سے محبت ان کی عظمت کا اعتراف سنی صحیح العقیدہ ہونے کی علامت ہے اور ان کے ذکر سے چڑھنا اگر حسد اور ذاتی عناد کی وجہ سے نہیں تو بد مذہبی کی دلیل ہے۔
[ فتاوی شارح بخاری جلد سوم ص: ٣٧٦]
قطب وقت حضرت تیغ علی شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلی حضرت ہی میرا مسلک ہے اور جو مسلک اعلی حضرت کا پابند ہے وہی میرا مرید ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٧٨]
عارف باللہ حضرت شاہ جی میاں محمد شیر خان نقشبندی رضی اللہ عنہ سے ان کے مریدوں نے عرض کیا کہ آپ نے تو کوئی کتاب تصنیف نہیں فرمائی؟ تو شاہ جی میاں رضی اللہ عنہ نے جوابا ارشاد فرمایا:
کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ بڑے مولوی صاحب اعلیٰ حضرت نے اپنی کتابوں میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔ ان ہی کی کتابیں پڑھو اور انہیں کے مسلک پر قائم رہو ۔ جو ان کا مسلک وہی میرا مسلک ہے۔ جو شخص ان کا نہیں وہ میرا نہیں
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٢٤]
امانتِ اہل سنت حضرت علامہ امانت رسول قادری پیلی بھیتی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
میرے استاد گرامی خطیب ہلدوانی تلمیذ اعلیٰ حضرت و تلمیذ حضور محدث سورتی علامہ الحاج حافظ قاری مفتی قاضی غلام محی الدین خان صاحب نقشبندی مفتی و قاضی ہلدوانی چشم و چراغ خاندان شیریہ علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ فرمایا قاری امانت رسول سنو !
میرے استاذ شيخ المحدثین استاذ الاولیاء استاذ الاساتذہ علامہ مفتی فقیہ مولانا وصی احمد محدث سورتی حنفی حنیفی انصاری ثم پیلی بھیتی قدس سرہ النورانی اپنی عمر کے اخیر سال میں اکثر اپنے بیانات میں ارشاد فرماتے تھے:
میں تمام مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بریلی شریف کے تاجدار اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجد د دین و ملت علامه فقیه مفتی محمد احمد رضا خان صاحب بریلوی کا جو مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے ۔ مسلمانوں اس مسلک کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اسی پر قائم رہنا۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٢٤-٢٢٣]
حضور محدث سورتی رضی اللہ عنہ کے متعلق ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
حضرت محدث سورتی صاحب اور اعلیٰ حضرت کے تعلقات کو دیکھ کر ایک بار حضرت محدث صاحب کے آخری تلمیذ مولانا سید محمد صاحب کچھوچھوی نے پوچھا کہ آپ کو شرف بیعت حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن صاحب گنج مرادآبادی سے حاصل ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ آپ کا شوق جو اعلیٰ حضرت سے ہے، وہ کسی سے نہیں۔ اعلیٰ حضرت کی یاد، ان کا تذکرہ، ان کے فضل و کمال کا خطبہ آپ کی زندگی کے لیے روح کا مقام رکھتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو فرمایا کہ سب سے بڑی دولت وہ علم نہیں ہے، جو میں نے مولوی اسحاق محشی بخاری سے پائی ، اور وہ بیعت نہیں ہے جو گنج مراد آباد میں نصیب ہوئی، بلکہ وہ ایمان جو مدار نجات ہے، میں نے صرف اعلیٰ حضرت سے پایا، اور میرے سینہ میں پوری عظمت کے ساتھ مدینہ کا بسانے والا اعلیٰ حضرت ہیں۔ اسی لیے ان کے تذکرہ سے میری روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے، اور ان کے ایک ایک کلمہ کو اپنے لیے مشعل ہدایت جانتا ہوں۔
[حیات اعلی حضرت کامل ص: ٧٣٩]
یہی سے ان حضرات کا بھی جواب ہو گیا جو بار بار یہ پوچھتے ہیں کہ آپ سنی حضرات اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا زیادہ ذکر کیوں کرتے ہیں۔
شیخ المشائخ حضرت علامہ سید شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے جو حضور پر نور اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب بریلوی کا ہے۔
[ماہنامہ سنی آواز ، ناگپور مئی، جون ۱۹۹۷ء]
شیر بیشۂ اہل سنت امام المناظرین مظہر اعلیٰ حضرت علامہ مفتی حشمت علی خاں قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
دین ومذہب اہلسنت کا سچا و مختصر خلاصہ مسلک اعلیٰ حضرت ہے یہی وہ مجمع البحار ہے جو آج حنفیت و شافعیت و مالکیت و حنبلیت اور قادریت و چشیت و سہروردیت و نقشبندیت و مجدددیت و برکاتبیت و اشرفیت و غیرہم سب سمندروں کا سنگم ہے ۔
[۵۰ واں خصوصی شماره افکار رضا ممبئی بحوالہ سنی آواز ، ناگپور ]
مرشدی الکریم تاج الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
بلا شبہ مسلک اعلیٰ حضرت اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ مسلک اہل سنت کا دوسرا نام اور اسکی صحیح پہچان ہے اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کا اس زمانے میں نشان ہے۔ اس سے منع کرنا حق و باطل کا امتیاز مٹانا ہے اور اتحاد کے بہانے انتشار و افتراق پھیلانا اور سنیوں کا برا چاہتا ہے
[امتیاز اہل سنت ص: ٢١٣]
حضور فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
"بد مذہبوں سے امتیاز کے لئے مسلک اولیاء امت کہنا کافی نہ ہوگا۔ اس کے لئے اس زمانہ میں مسلک اعلیٰ حضرت ہی کہنا ضروری ہوگا اور اس سے روکنے والا بد مذہب ہوگا یا حاسد۔
[فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص: ٤٣٠]
علامہ مفتی سید شاہد علی رضوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلیٰ حضرت ایک عظیم سچائی ہے، اس سچائی پر جو غبار ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ خود غبار کی تہوں میں دب جائے گا۔
[امتیاز اہل سنت ص: ١٧]
استاذی الکریم مستجاب الدعوات نمونۂ اسلاف تاج الاصفیا عظیم فقیہ و مفتی علامہ شیخ صالح رضوی محدث بریلوی حفظہ اللہ القوی ارقام فرماتے ہیں:
جب بدعت ، وہابیت، دیوبندیت وغیرہ پیدا ہوئی اور بغاوت و سرکشی نے سر ابھارا تو اس سے امتیاز کے لیے ایک عظیم فائدے اور اہم مناسبت کی وجہ سے، مسلک اہل سنت کی تعبیر کے لیے لفظ ”مسلک اعلیٰ حضرت حکماء امت نے تجویز کیا تا کہ وہابیوں اور دوسرے بدعتیوں، دیوبندیوں سے نمایاں امتیاز حاصل ہو جائے ۔ کیوں کہ وہ بھی خود کو اہلسنت کہیے اور اپنے منہ سنی بنتے ہیں۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢١٧]
حضور سراج ملت سید شاہ سراج اظہر قدس سرہ العزیز پھول گلی ممبئی ارقام فرماتے ہیں:
مسلک علیٰ حضرت فی زماننا سوا داعظم اہلسنت و جماعت کی پہچان و علامتی نشان ہے۔ صرف اہلسنت کہنے سے اہل حق کا امتیاز مشکل ہی نہیں بعید الوقوع ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٤٩]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا مشائخ عظام اور وقت کے جید علماء کرام مفتیان ذوی الاحترام نے کیسی کیسی رائے قائم فرمائی جب کہ محض مسلمانان اہل سنت ہی کسی چیز کو اچھی جانیں تو اس پر اچھائی کا حکم لگتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:
ما رأی المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن
یعنی جسے مسلمانان اہل سنت اچھا گمان کرے وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے
تو اب سوچیے جس اصطلاح پر مشائخ خانقاہ، مدرسین، محدثین، محقیقین، صالحین، مفتیانِ کرام کا اتفاق ہو چکا ہو کیا اس کی اچھائی پر بھی کوئی شک کرے گا؟ کوئی نہیں کرے گا ہر گز نہیں کرے گا ہاں مگر وہ جس کے دل میں کجی ہو اس کا کوئی علاج نہیں۔
برصغیر کے سارے علماء کرام مشائخ عظام نے متفقہ طور پر حق و باطل کے درمیان خط امتیاز کھینچنے کے لیے مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح قائم فرمائی اور اس کی نشر و اشاعت کی یہاں تک کہ اب ہر سنی کا بچہ بچہ خود کو مسلک اعلی حضرت والا کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں مسلک اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت میں زندگی بسر کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور اسی پر ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے ۔
ختم شد
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
78
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط نہم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دہم] [اخیر قسط] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دہم] [اخیر قسط]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط دہم]
[تِلۡكَ عَشَرَةࣱ كَامِلَةࣱۗ]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

مسلک اعلی حضرت اکابر کی نظر میں ـــــــــــــــــــ

ایک زمانے تک اکابر علما مسلک اعلی حضرت کو سنیت کی پہچان قرار دیتے رہے مانتے رہے یہاں تک کہ اسی کی نشر و اشاعت اور باطلوں کی سرکوبی میں اپنی زندگیاں گزار دیں لیکن بعض آستینی موذیوں نے انگشت نمائی کی اور خود داغدار ہو گئے لیکن حق کا پرچم ہمیشہ شان و شوکت کے ساتھ لہراتا رہا اور ان شاءاللہ تعالیٰ تا قیام قیامت لہراتا رہے گا
سب ان سے جلنے والوں کے گل ہو گئے چراغ
احمد رضا کی شمع فروزاں ہے آج بھی

جو حضرات مسلک اعلی حضرت پہ چیں بہ جبیں ہوتے ہیں انھیں دیکھنا چاہیے کہ اکابر علما نے مسلک اعلی حضرت کے بارے کیا عندیہ پیش کیا ہے۔ قارئین ملاحظہ فرمائیں:

حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ حضور سید شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی رضی اللہ عنہ کے بارے تحریر فرماتے ہیں:

“حضرت سید شاہ اسمعیل حسن میاں صاحب کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا شاه ابوالحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہ العزیز نے مجھ سے فرمایا کہ اب اس وقت دین داری کی علامت یہ ہے کہ جو شخص مولانا عبد القادر صاحب بدایونی اور مولانا احمد رضا خاں صاحب سے محبت رکھے، اسے دین دار جانو، اور جو ان دونوں سے بغض وعداوت رکھے، اسے سمجھ لو کہ بد مذہب ہے، یا کسی بد مذہب کے پھیر میں پھنسا ہوا ہے۔ اور جس مسئلہ پر ان دونوں کا اتفاق ہو اسے جانو کہ یہ مسئلہ بہت ہی محقق ہے۔ اور جس مسئلہ سے ان دونوں کو اختلاف ہو اسے جان لو کہ یہ غیر محقق اور غلط ہے۔ اور فرماتے کہ ہمارا تواب یہی دستور العمل ہے کہ جو مسئلہ مولانا احمد رضا خاں صاحب نے فرمایا ، اس پر دل فورا مطمئن ہو گیا، اور آپ کی اعلی تحقیق اور غور و تدبر کے کثیر در کثیر مشاہدات و واقعات نے یہ حالت کر دی تھی کہ جو مسئلہ دریافت کرتا اس کی نسبت لکھ دیتا کہ مسئلہ کا حکم لکھ دیجیے دلیل کی ضرورت نہیں۔
[حیات اعلی حضرت کامل ص ٧٣٣]

اہم نکات ــــــــــــ
حضور سیدنا ابو الحسن احمد نوری مارہروی رضی اللہ عنہ کے فرمان سے یہ درج ذیل اہم نکات معلوم ہوئے ۔

١۔ امام احمد رضا خان اور علامہ عبد القادر بدایونی رضی اللہ عنہما کی محبت دین دار یعنی سنی صحیح العقیدہ ہونے کی علامت ہے۔
٢۔ ان سے عداوت بدمذہبیت یا زلت [یعنی پھسلنے] کی علامت ہے
٣۔ اور جس مسئلے میں ان دونوں کا اتفاق ہو وہ مسئلہ محقق ہے
٤۔ اور جس مسئلے سے ان دونوں کو اختلاف ہو وہ غیر محقق غلط ہے
٥۔ سیدنا ابو الحسن احمد نوری رضی اللہ عنہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ پر اس قدر اعتماد تھا کہ فقط حکم مسئلہ دریافت فرماتے تھے گویا ان کے نزدیک خود امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی ذات ہی دلیل بن گئی تھی۔

حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ حیات اعلی حضرت میں عالم کبیر علامہ علامہ قادر بخش سہسرامی رضی اللہ عنہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

مولانا مولوی قادر بخش صاحب سہسرامی جو ایک بہت بڑے مشہور عالم اور زبردست واعظ تھے۔ ایک مرتبہ بسلسلہ وعظ موضع رجہت ضلع گیا تشریف لے گئے۔ یہ بستی سادات کرام کی ہے، اس بستی کے لوگ سجادہ نشینان سہسرام کے رشتہ دار ہیں۔ ان کی شادیاں اس وقت تک رجہت اور پچھر وکھی وغیرہ میں ہوا کرتی ہیں۔ رجہت ہی کے رہنے والے میرے دوست مولوی سید شاہ غیاث الدین صاحب چشتی نظامی فخری رجہتی بہاری اور پچھر وکھی کے رہنے والے میرے مخلص محترم مولانا مولوی سید احمد عالم صاحب قادری برکاتی رضوی صدر مدرس مدرسہ قادریہ بسرام پور شیر گھاٹی ہیں۔ یہاں کے باشندے پہلے سب کے سب سنی حنفی تھے تھوڑے دنوں سے کچھ وہابیت کا اثر ہو گیا اور کچھ لوگ غیر مقلد ہو گئے ۔ ان لوگوں کی برادری کی وجہ سے سجادہ نشین صاحب سہسرام کے یہاں آمد و رفت ہے مگر اختلاف مذہب کی وجہ سے مسجد میں اعلان مذہب سے ممنوع تھے۔ تاکہ اختلاف و خلفشار پیدا نہ ہو سب سنی حنفی تھے۔ وہ لوگ جب آتے کمرہ ہی پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ رجہت کے سنیوں نے مولانا قادر بخش صاحب سہسرامی کو ر جہت وعظ کے لیے بلایا۔ وعظ کے بعد کھانا کھانے کے لیے بیٹھے، تو کسی نے پوچھا کہ مولانا سنی اور وہابی کی کیا پہچان ہے؟ ایسی بات بتائیے کہ جس کو ہم لوگ بھی کر سکیں، اور اس کے ذریعہ سنی وہابی کو پہچان سکیں ، کوئی بڑی علمی بات نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا:
ایسا آسان عمدہ اور کھرا قاعدہ آپ لوگوں کو بتا دیتا ہوں کہ اس سے اچھا ملنا مشکل ہے۔ آپ جس کسی کے بارے میں مشتبہ ہوں کہ سنی ہے یا وہابی یا بد مذہب؟ تو اس کے سامنے مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کا تذکرہ چھیڑ دیجیے، اور اس کے چہرے کو بغور دیکھیے اگر چہرہ پر بشاشت اور خوشی کے آثار دیکھئے، تو یقین جانیے کہ سنی ہے۔ اور اگر چہرہ پر پژمردگی اور کورت دیکھئے تو سمجھئے کہ وہابی ہے ، اور اگر وہابی نہیں جب بھی اس میں کسی قسم کی بے دینی ضرور ہے۔ اس زمانہ مين “لا يحبه الامؤمن ولا يبغضه الامنافق” [اس سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی عداوت کرے گا] میں یہ ضمیریں مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی طرف پھرتی ہیں
[حیات اعلی حضرت کامل ص : ٧٣٨/٧٣٩]

مذکور بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات ستودہ صفات معیار سنیت ہے ۔

اسی لیے فقیہ اعظم ہند شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
” مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی ذات گرامی اس دور میں حق و باطل کی معیار ہے ۔ ان سے محبت ان کی عظمت کا اعتراف سنی صحیح العقیدہ ہونے کی علامت ہے اور ان کے ذکر سے چڑھنا اگر حسد اور ذاتی عناد کی وجہ سے نہیں تو بد مذہبی کی دلیل ہے۔”
[ فتاوی شارح بخاری جلد سوم ص: ٣٧٦]

قطب وقت حضرت تیغ علی شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلی حضرت ہی میرا مسلک ہے اور جو مسلک اعلی حضرت کا پابند ہے وہی میرا مرید ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٧٨]

عارف باللہ حضرت شاہ جی میاں محمد شیر خان نقشبندی رضی اللہ عنہ سے ان کے مریدوں نے عرض کیا کہ آپ نے تو کوئی کتاب تصنیف نہیں فرمائی؟ تو شاہ جی میاں رضی اللہ عنہ نے جوابا ارشاد فرمایا:
“کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ بڑے مولوی صاحب اعلیٰ حضرت نے اپنی کتابوں میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔ ان ہی کی کتابیں پڑھو اور انہیں کے مسلک پر قائم رہو ۔ جو ان کا مسلک وہی میرا مسلک ہے۔ جو شخص ان کا نہیں وہ میرا نہیں”
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٢٤]

امانتِ اہل سنت حضرت علامہ امانت رسول قادری پیلی بھیتی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
میرے استاد گرامی خطیب ہلدوانی تلمیذ اعلیٰ حضرت و تلمیذ حضور محدث سورتی علامہ الحاج حافظ قاری مفتی قاضی غلام محی الدین خان صاحب نقشبندی مفتی و قاضی ہلدوانی چشم و چراغ خاندان شیریہ علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ فرمایا قاری امانت رسول سنو !
میرے استاذ شيخ المحدثین استاذ الاولیاء استاذ الاساتذہ علامہ مفتی فقیہ مولانا وصی احمد محدث سورتی حنفی حنیفی انصاری ثم پیلی بھیتی قدس سرہ النورانی اپنی عمر کے اخیر سال میں اکثر اپنے بیانات میں ارشاد فرماتے تھے:
میں تمام مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بریلی شریف کے تاجدار اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجد د دین و ملت علامه فقیه مفتی محمد احمد رضا خان صاحب بریلوی کا جو مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے ۔ مسلمانوں اس مسلک کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اسی پر قائم رہنا۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٢٤-٢٢٣]

حضور محدث سورتی رضی اللہ عنہ کے متعلق ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
” حضرت محدث سورتی صاحب اور اعلیٰ حضرت کے تعلقات کو دیکھ کر ایک بار حضرت محدث صاحب کے آخری تلمیذ مولانا سید محمد صاحب کچھوچھوی نے پوچھا کہ آپ کو شرف بیعت حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن صاحب گنج مرادآبادی سے حاصل ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ آپ کا شوق جو اعلیٰ حضرت سے ہے، وہ کسی سے نہیں۔ اعلیٰ حضرت کی یاد، ان کا تذکرہ، ان کے فضل و کمال کا خطبہ آپ کی زندگی کے لیے روح کا مقام رکھتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو فرمایا کہ سب سے بڑی دولت وہ علم نہیں ہے، جو میں نے مولوی اسحاق محشی بخاری سے پائی ، اور وہ بیعت نہیں ہے جو گنج مراد آباد میں نصیب ہوئی، بلکہ وہ ایمان جو مدار نجات ہے، میں نے صرف اعلیٰ حضرت سے پایا، اور میرے سینہ میں پوری عظمت کے ساتھ مدینہ کا بسانے والا اعلیٰ حضرت ہیں۔ اسی لیے ان کے تذکرہ سے میری روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے، اور ان کے ایک ایک کلمہ کو اپنے لیے مشعل ہدایت جانتا ہوں۔”
[حیات اعلی حضرت کامل ص: ٧٣٩]
یہی سے ان حضرات کا بھی جواب ہو گیا جو بار بار یہ پوچھتے ہیں کہ آپ سنی حضرات اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا زیادہ ذکر کیوں کرتے ہیں۔

شیخ المشائخ حضرت علامہ سید شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے جو حضور پر نور اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب بریلوی کا ہے۔
[ماہنامہ سنی آواز ، ناگپور مئی، جون ۱۹۹۷ء]

شیر بیشۂ اہل سنت امام المناظرین مظہر اعلیٰ حضرت علامہ مفتی حشمت علی خاں قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
“دین ومذہب اہلسنت کا سچا و مختصر خلاصہ مسلک اعلیٰ حضرت ہے یہی وہ مجمع البحار ہے جو آج حنفیت و شافعیت و مالکیت و حنبلیت اور قادریت و چشیت و سہروردیت و نقشبندیت و مجدددیت و برکاتبیت و اشرفیت و غیرہم سب سمندروں کا سنگم ہے ۔”
[۵۰ واں خصوصی شماره افکار رضا ممبئی بحوالہ سنی آواز ، ناگپور ]

مرشدی الکریم تاج الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
“بلا شبہ مسلک اعلیٰ حضرت اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ مسلک اہل سنت کا دوسرا نام اور اسکی صحیح پہچان ہے اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کا اس زمانے میں نشان ہے۔ اس سے منع کرنا حق و باطل کا امتیاز مٹانا ہے اور اتحاد کے بہانے انتشار و افتراق پھیلانا اور سنیوں کا برا چاہتا ہے”
[امتیاز اہل سنت ص: ٢١٣]

حضور فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
“بد مذہبوں سے امتیاز کے لئے مسلک اولیاء امت کہنا کافی نہ ہوگا۔ اس کے لئے اس زمانہ میں مسلک اعلیٰ حضرت ہی کہنا ضروری ہوگا اور اس سے روکنے والا بد مذہب ہوگا یا حاسد۔
[فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص: ٤٣٠]

علامہ مفتی سید شاہد علی رضوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلیٰ حضرت ایک عظیم سچائی ہے، اس سچائی پر جو غبار ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ خود غبار کی تہوں میں دب جائے گا۔
[امتیاز اہل سنت ص: ١٧]

استاذی الکریم مستجاب الدعوات نمونۂ اسلاف تاج الاصفیا عظیم فقیہ و مفتی علامہ شیخ صالح رضوی محدث بریلوی حفظہ اللہ القوی ارقام فرماتے ہیں:
” جب بدعت ، وہابیت، دیوبندیت وغیرہ پیدا ہوئی اور بغاوت و سرکشی نے سر ابھارا تو اس سے امتیاز کے لیے ایک عظیم فائدے اور اہم مناسبت کی وجہ سے، مسلک اہل سنت کی تعبیر کے لیے لفظ ”مسلک اعلیٰ حضرت حکماء امت نے تجویز کیا تا کہ وہابیوں اور دوسرے بدعتیوں، دیوبندیوں سے نمایاں امتیاز حاصل ہو جائے ۔ کیوں کہ وہ بھی خود کو اہلسنت کہیے اور اپنے منہ سنی بنتے ہیں۔”
[امتیاز اہل سنت ص: ٢١٧]

حضور سراج ملت سید شاہ سراج اظہر قدس سرہ العزیز پھول گلی ممبئی ارقام فرماتے ہیں:
مسلک علیٰ حضرت فی زماننا سوا داعظم اہلسنت و جماعت کی پہچان و علامتی نشان ہے۔ صرف اہلسنت کہنے سے اہل حق کا امتیاز مشکل ہی نہیں بعید الوقوع ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٤٩]

قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا مشائخ عظام اور وقت کے جید علماء کرام مفتیان ذوی الاحترام نے کیسی کیسی رائے قائم فرمائی جب کہ محض مسلمانان اہل سنت ہی کسی چیز کو اچھی جانیں تو اس پر اچھائی کا حکم لگتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:
ما رأی المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن
یعنی جسے مسلمانان اہل سنت اچھا گمان کرے وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے
تو اب سوچیے جس اصطلاح پر مشائخ خانقاہ، مدرسین، محدثین، محقیقین، صالحین، مفتیانِ کرام کا اتفاق ہو چکا ہو کیا اس کی اچھائی پر بھی کوئی شک کرے گا؟ کوئی نہیں کرے گا ہر گز نہیں کرے گا ہاں مگر وہ جس کے دل میں کجی ہو اس کا کوئی علاج نہیں۔
برصغیر کے سارے علماء کرام مشائخ عظام نے متفقہ طور پر حق و باطل کے درمیان خط امتیاز کھینچنے کے لیے مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح قائم فرمائی اور اس کی نشر و اشاعت کی یہاں تک کہ اب ہر سنی کا بچہ بچہ خود کو مسلک اعلی حضرت والا کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے

اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں مسلک اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت میں زندگی بسر کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور اسی پر ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے ۔
ختم شد

Scan this QR code to read online:

QR Code