صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط نہم]
تحقیق و تعاقب

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط نہم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط نہم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مسلک اعلی حضرت اور عرف ـــــــــــــــــ
شبہ:
بعض حضرات یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ مسلک اعلی حضرت نہ کہا جائے مسلک اہل سنت و جماعت ہی کہا جائے کیونکہ بہت سی جگہوں میں لوگ مسلک اعلی حضرت کا نام تک نہیں جانتے ہیں جیسے مصر وغیرہ اور دوسرے ممالک میں لوگ مسلک اعلی حضرت سے واقف نہیں ہیں حتی کہ ہند و پاک کے بعض علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ مسلک اعلی حضرت کو نہیں جانتے ہیں اس لیے یہی چاہیے کہ مسلک اہل سنت و جماعت کہا جائے مسلک اعلی حضرت نہ کہا جائے۔
ازالۂ شبہ:
پہلا جواب:
دوسرے ممالک تو دور کی بات خود ہند میں بہار کی بات کریں تو بہار میں ہی بہت ایسے علاقے ہیں جہاں کے لوگوں سے پوچھا جائے کہ آپ مسلک اہل سنت و جماعت کے پابند ہیں تو وہ دیر تلک چہرے تکتے رہیں گے لیکن ان کو یہ سمجھ میں نہیں آئے گا کہ جواب کیا دوں؟ مسلک اہل سنت کا کیا مطلب ہے ؟
تو اب سوال یہ ہے کہ ان حضرات کے لیے کیا کہا جائے کیا ان کے پاس مسلک اہل سنت و جماعت کا نام نہ لیا جائے کیونکہ وہ یہ نام نہیں جانتے ہیں لہذا فقط دین اسلام کہا جائے ؟
اچھا اگر انھیں حضرات کے پاس یہ کہا جائے کہ آپ مسلک اعلی حضرت کے پابند ہیں تو وہ فوراً کہیں گے ہاں اور اگر دوسری جماعت کے ماننے والے ہوں گے تو صاف انکار کر دیں گے یہ راقم الحروف کا تجربہ بھی ہے
اب سوال یہ ہے کہ آخر ایسا ہوا کیوں ؟
تو اس کا جواب یہی ہے کہ ان علاقوں میں عرف پڑ گیا ہے کہ مسلک اہل سنت و جماعت کی جگہ مسلک اعلی حضرت عوام و خواص استعمال کرتے ہیں اور عوام کو بھی پتہ ہے جو مسلک اعلی حضرت والے ہوتے ہیں وہ پکے سنی ہوتے ہیں تو پتہ چلا جہاں جس عرف سے سنیوں کی پہچان ہوتی ہے وہاں وہی عرف استعمال کیا جائے
دوسرا جواب:
اگر یہی مان لیا جائے کہ بہت سے لوگ دیگر ممالک کے مسلک اعلی حضرت کے نام کو نہیں جانتے ہیں جیسے مصر وغیرہ اس لیے مسلک اعلی حضرت نہ کہا جائے بلکہ اہل سنت و جماعت ہی کہا جائے۔
تو اب سوال یہ ہے کہ لفظ خدا پر یہ عرف پڑ چکا ہے کہ یہ فقط اللہ جل جلالہ ہی کے لیے بولا جاتا ہے پاک و ہند اور دیگر ممالک میں بھی لیکن بہت سی ایسی جگہ ہے جہاں لوگ لفظ خدا سے بھی واقف نہیں ہیں جیسے مصر تو کیا یہ کہا جائے کہ پاک و ہند اور دوسری جگہوں کے لوگ جو لفظ خدا استعمال کرتے ہیں اللہ جل جلالہ کی ذات کے لیے وہ نہ کریں کیونکہ مصر وغیرہ کے لوگ لفظ خدا نہیں جانتے ہیں ؟
اس کا کیا جواب ہوگا یہی نا کہ مصر میں جب لوگ نہیں جانتے ہیں تو لفظ خدا بولنے کی ضرورت ہی نہیں ہے وہاں وہی لفظ بولیے جس سے وہ اللہ جل جلالہ کی ذات کو سمجھتے ہیں جیسے لفظ اللہ، لفظ رب وغیرہ
تو کیا اسی بات کو یہاں نہیں کہی جا سکتی ہے کہ مسلک اعلی حضرت جہاں کا عرف وہاں بولا جائے جیسے پاک و ہند اور دوسری جگہوں میں اور جہاں لوگ مسلک اعلی حضرت کو کسی دوسرے نام سے جانتے ہیں جیسے مسلک اہل سنت وغیرہ تو وہاں وہی کہا جائے
جیسے مصر میں لوگ لفظ خدا نہیں جانتے ہیں وہ اللہ بولتے ہیں لیکن اللہ بولنے سے خدا کا انکار ہر گز نہیں ہوتا کیونکہ دونوں مترادف ہے تو جو اللہ کو مانتا ہے تو صاف ہے کہ خدا کو مانتا ہے اگر چہ وہ لفظ خدا سے واقف نہیں ہے
ایسے ہی جو مسلک اہل سنت و جماعت کو مانتا ہے تو صاف ہے کہ مسلک اعلی حضرت کو مانتا ہے اگر چہ وہ مسلک اعلی حضرت کے نام سے واقف نہیں ہے
تیسرا جواب:
عرف عام ہو تو حکم بھی عام ثابت ہوتا ہے اور عرف اگر خاص ہو تو حکم بھی خاص ثابت ہوتا ہے
اسی لیے خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لا فرق بينهما هنا الا من جهة ان العرف العام يثبت به الحكم العام و العرف الخاص يثبت به الحكم الخاص
یعنی ان دونوں کے درمیان یہاں کوئی فرق نہیں ہے مگر یہ کہ عرف عام سے حکم عام ثابت ہوتا ہے اور عرف خاص سے حکم خاص ثابت ہوتا ہے ۔
[رسائل ابن عابدین ص ۱۳۰ ج ۲ رساله نشر العرف]
اس لیے جہاں کا عرف جس طرح ہے وہاں ویسے ہی بولا جائے جیسے بعض جگہوں میں سنیوں کی پہچان اعتقادی اور وہابیوں کی جماعتی سے ہوتی ہے تو ہاں وہی استعمال کیا جائے بعض جگہ سنیوں کی پہچان صوفی سے ہوتی ہے اور وہابیوں کی پہچان اہل توھب سے ہوتی ہے تو وہاں صوفی استعمال کیا جائے اور بر صغیر میں سنیوں کی پہچان مسلک اعلی حضرت سے ہوتی ہے تو یہاں مسلک اعلی حضرت ہی کہا جائے اس پہچان کو مٹانا اور اس پر اعتراض قائم کرنا ہی در حقیقت بدمذہبیت کو ہوا دینا اور اختلاف و انتشار پیدا کرنا ہے
لوگ بر اعظم کے عرف کو بر صغیر پر اور بر صغیر کے عرف کو بر اعظم کے عرف پر رکھ کر سوچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم باہر ملک میں اپنا تعارف کرائیں تو کیسے کرائیں گے وہ تو مسلک اعلی حضرت کو جانتے ہی نہیں ہے اور پھر کہتے ہیں اس لیے مسلک اعلی حضرت نہ کہا جائے مسلک اہل سنت کہا جائے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایسے حضرات کو میں کہنا چاہوں گا کہ آپ وہاں اپنا تعارف کراتے ہوئے مسلک اعلی حضرت اگر کہیں تو یہ بھی کہ دیں کہ بر صغیر میں سنی صحیح العقیدہ حضرات کو مسلک اعلی حضرت والا کہا جاتا ہے یا پھر آپ وہاں یہ دیکھیں یہاں جو حضرات سنی صحیح العقیدہ ہیں ان کو کیا کہا جاتا ہے اگر صوفی کہا جاتا ہے تو کہیں میں صوفی ہوں اور اگر اعتقادی کہا جاتا ہے تو کہیں میں اعتقادی ہوں اگر وہاں مسلک اہل سنت و جماعت ہی کہا جاتا ہے تو کہیں میں مسلک اہل سنت و جماعت کا پابند ہوں اور یہی درس ہمیں ہمارے حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا کہ ہمیں لوگوں کی عقلوں کے موافق بات کرنی چاہیے تاکہ وہ سمجھ سکیں چنانچہ حدیث میں ہے:
حدثوا الناس بما یعرفون
لوگوں سے وہی بیان کرو جو وہ جانتے ہیں
[کنز العمال حدیث ۲۹۳۱۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ / ۲۴۷]
اسی لیے وہاں سنی صحیح العقیدہ کو جو کہا جاتا ہے اپنا تعارف اسی سے کرائیں اور اگر آپ کسی کے پاس مسلک اعلی حضرت کہیں گے اور سامنے والا نہیں جانے گا اور آپ کچھ انھیں مزید بتائیں گے بھی نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ کچھ اور بھی سمجھ سکتا ہے اسی لیے ایسی جگہ جہاں مسلک اعلی حضرت متعارف نہ ہو تو وہاں اگر آپ اپنا تعارف مسلک اعلی حضرت سے کرائیں تو اس کی تشریح و توضیح بھی کر دیں اور اگر اتنا وقت نہیں ہو تو وہاں جو اصطلاح سنیوں کے لیے ہو وہ استعمال کریں۔
اور ایسا نہیں ہے کہ آپ کہیں گے تو آپ کی بات سمجھی اور سنی نہیں جائے گی ضرور سنی جائے گی لیکن اس کا موقع محل بھی ہونا چاہیے ہر کام طریقے سے ہونا چاہیے مختصر یوں سمجھ لیجیے:
کون سی بات کہاں کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
65
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دہم] [اخیر قسط]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ہشتم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط نہم] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط نہم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط نہم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

مسلک اعلی حضرت اور عرف ـــــــــــــــــ

شبہ:
بعض حضرات یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ مسلک اعلی حضرت نہ کہا جائے مسلک اہل سنت و جماعت ہی کہا جائے کیونکہ بہت سی جگہوں میں لوگ مسلک اعلی حضرت کا نام تک نہیں جانتے ہیں جیسے مصر وغیرہ اور دوسرے ممالک میں لوگ مسلک اعلی حضرت سے واقف نہیں ہیں حتی کہ ہند و پاک کے بعض علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ مسلک اعلی حضرت کو نہیں جانتے ہیں اس لیے یہی چاہیے کہ مسلک اہل سنت و جماعت کہا جائے مسلک اعلی حضرت نہ کہا جائے۔

ازالۂ شبہ:
پہلا جواب:
دوسرے ممالک تو دور کی بات خود ہند میں بہار کی بات کریں تو بہار میں ہی بہت ایسے علاقے ہیں جہاں کے لوگوں سے پوچھا جائے کہ آپ مسلک اہل سنت و جماعت کے پابند ہیں تو وہ دیر تلک چہرے تکتے رہیں گے لیکن ان کو یہ سمجھ میں نہیں آئے گا کہ جواب کیا دوں؟ مسلک اہل سنت کا کیا مطلب ہے ؟
تو اب سوال یہ ہے کہ ان حضرات کے لیے کیا کہا جائے کیا ان کے پاس مسلک اہل سنت و جماعت کا نام نہ لیا جائے کیونکہ وہ یہ نام نہیں جانتے ہیں لہذا فقط دین اسلام کہا جائے ؟

اچھا اگر انھیں حضرات کے پاس یہ کہا جائے کہ آپ مسلک اعلی حضرت کے پابند ہیں تو وہ فوراً کہیں گے ہاں اور اگر دوسری جماعت کے ماننے والے ہوں گے تو صاف انکار کر دیں گے یہ راقم الحروف کا تجربہ بھی ہے
اب سوال یہ ہے کہ آخر ایسا ہوا کیوں ؟
تو اس کا جواب یہی ہے کہ ان علاقوں میں عرف پڑ گیا ہے کہ مسلک اہل سنت و جماعت کی جگہ مسلک اعلی حضرت عوام و خواص استعمال کرتے ہیں اور عوام کو بھی پتہ ہے جو مسلک اعلی حضرت والے ہوتے ہیں وہ پکے سنی ہوتے ہیں تو پتہ چلا جہاں جس عرف سے سنیوں کی پہچان ہوتی ہے وہاں وہی عرف استعمال کیا جائے

دوسرا جواب:
اگر یہی مان لیا جائے کہ بہت سے لوگ دیگر ممالک کے مسلک اعلی حضرت کے نام کو نہیں جانتے ہیں جیسے مصر وغیرہ اس لیے مسلک اعلی حضرت نہ کہا جائے بلکہ اہل سنت و جماعت ہی کہا جائے۔
تو اب سوال یہ ہے کہ لفظ خدا پر یہ عرف پڑ چکا ہے کہ یہ فقط اللہ جل جلالہ ہی کے لیے بولا جاتا ہے پاک و ہند اور دیگر ممالک میں بھی لیکن بہت سی ایسی جگہ ہے جہاں لوگ لفظ خدا سے بھی واقف نہیں ہیں جیسے مصر تو کیا یہ کہا جائے کہ پاک و ہند اور دوسری جگہوں کے لوگ جو لفظ خدا استعمال کرتے ہیں اللہ جل جلالہ کی ذات کے لیے وہ نہ کریں کیونکہ مصر وغیرہ کے لوگ لفظ خدا نہیں جانتے ہیں ؟

اس کا کیا جواب ہوگا یہی نا کہ مصر میں جب لوگ نہیں جانتے ہیں تو لفظ خدا بولنے کی ضرورت ہی نہیں ہے وہاں وہی لفظ بولیے جس سے وہ اللہ جل جلالہ کی ذات کو سمجھتے ہیں جیسے لفظ اللہ، لفظ رب وغیرہ
تو کیا اسی بات کو یہاں نہیں کہی جا سکتی ہے کہ مسلک اعلی حضرت جہاں کا عرف وہاں بولا جائے جیسے پاک و ہند اور دوسری جگہوں میں اور جہاں لوگ مسلک اعلی حضرت کو کسی دوسرے نام سے جانتے ہیں جیسے مسلک اہل سنت وغیرہ تو وہاں وہی کہا جائے
جیسے مصر میں لوگ لفظ خدا نہیں جانتے ہیں وہ اللہ بولتے ہیں لیکن اللہ بولنے سے خدا کا انکار ہر گز نہیں ہوتا کیونکہ دونوں مترادف ہے تو جو اللہ کو مانتا ہے تو صاف ہے کہ خدا کو مانتا ہے اگر چہ وہ لفظ خدا سے واقف نہیں ہے
ایسے ہی جو مسلک اہل سنت و جماعت کو مانتا ہے تو صاف ہے کہ مسلک اعلی حضرت کو مانتا ہے اگر چہ وہ مسلک اعلی حضرت کے نام سے واقف نہیں ہے

تیسرا جواب:
عرف عام ہو تو حکم بھی عام ثابت ہوتا ہے اور عرف اگر خاص ہو تو حکم بھی خاص ثابت ہوتا ہے
اسی لیے خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“لا فرق بينهما هنا الا من جهة ان العرف العام يثبت به الحكم العام و العرف الخاص يثبت به الحكم الخاص”
یعنی ان دونوں کے درمیان یہاں کوئی فرق نہیں ہے مگر یہ کہ عرف عام سے حکم عام ثابت ہوتا ہے اور عرف خاص سے حکم خاص ثابت ہوتا ہے ۔
[رسائل ابن عابدین ص ۱۳۰ ج ۲ رساله نشر العرف]

اس لیے جہاں کا عرف جس طرح ہے وہاں ویسے ہی بولا جائے جیسے بعض جگہوں میں سنیوں کی پہچان اعتقادی اور وہابیوں کی جماعتی سے ہوتی ہے تو ہاں وہی استعمال کیا جائے بعض جگہ سنیوں کی پہچان صوفی سے ہوتی ہے اور وہابیوں کی پہچان اہل توھب سے ہوتی ہے تو وہاں صوفی استعمال کیا جائے اور بر صغیر میں سنیوں کی پہچان مسلک اعلی حضرت سے ہوتی ہے تو یہاں مسلک اعلی حضرت ہی کہا جائے اس پہچان کو مٹانا اور اس پر اعتراض قائم کرنا ہی در حقیقت بدمذہبیت کو ہوا دینا اور اختلاف و انتشار پیدا کرنا ہے

لوگ بر اعظم کے عرف کو بر صغیر پر اور بر صغیر کے عرف کو بر اعظم کے عرف پر رکھ کر سوچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم باہر ملک میں اپنا تعارف کرائیں تو کیسے کرائیں گے وہ تو مسلک اعلی حضرت کو جانتے ہی نہیں ہے اور پھر کہتے ہیں اس لیے مسلک اعلی حضرت نہ کہا جائے مسلک اہل سنت کہا جائے

ایسے حضرات کو میں کہنا چاہوں گا کہ آپ وہاں اپنا تعارف کراتے ہوئے مسلک اعلی حضرت اگر کہیں تو یہ بھی کہ دیں کہ بر صغیر میں سنی صحیح العقیدہ حضرات کو مسلک اعلی حضرت والا کہا جاتا ہے یا پھر آپ وہاں یہ دیکھیں یہاں جو حضرات سنی صحیح العقیدہ ہیں ان کو کیا کہا جاتا ہے اگر صوفی کہا جاتا ہے تو کہیں میں صوفی ہوں اور اگر اعتقادی کہا جاتا ہے تو کہیں میں اعتقادی ہوں اگر وہاں مسلک اہل سنت و جماعت ہی کہا جاتا ہے تو کہیں میں مسلک اہل سنت و جماعت کا پابند ہوں اور یہی درس ہمیں ہمارے حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا کہ ہمیں لوگوں کی عقلوں کے موافق بات کرنی چاہیے تاکہ وہ سمجھ سکیں چنانچہ حدیث میں ہے:
“حدثوا الناس بما یعرفون”
لوگوں سے وہی بیان کرو جو وہ جانتے ہیں
[کنز العمال حدیث ۲۹۳۱۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ / ۲۴۷]
اسی لیے وہاں سنی صحیح العقیدہ کو جو کہا جاتا ہے اپنا تعارف اسی سے کرائیں اور اگر آپ کسی کے پاس مسلک اعلی حضرت کہیں گے اور سامنے والا نہیں جانے گا اور آپ کچھ انھیں مزید بتائیں گے بھی نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ کچھ اور بھی سمجھ سکتا ہے اسی لیے ایسی جگہ جہاں مسلک اعلی حضرت متعارف نہ ہو تو وہاں اگر آپ اپنا تعارف مسلک اعلی حضرت سے کرائیں تو اس کی تشریح و توضیح بھی کر دیں اور اگر اتنا وقت نہیں ہو تو وہاں جو اصطلاح سنیوں کے لیے ہو وہ استعمال کریں۔
اور ایسا نہیں ہے کہ آپ کہیں گے تو آپ کی بات سمجھی اور سنی نہیں جائے گی ضرور سنی جائے گی لیکن اس کا موقع محل بھی ہونا چاہیے ہر کام طریقے سے ہونا چاہیے مختصر یوں سمجھ لیجیے:

کون سی بات کہاں کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔جاری

Scan this QR code to read online:

QR Code