صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ششم]
تحقیق و تعاقب

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ششم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط ششم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مسلک اعلی حضرت اور فروعیات ـــــــــــــــــــــــــــ
مسلک اعلی حضرت جب مسلک اہل سنت، سواد اعظم کے مترادف ہے تو فرعیات میں اختلاف کرنے سے کوئی مسلک اعلی حضرت سے خارج نہیں ہوگا
چنانچہ خود اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرماتے ہیں:
اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ في النار کی وعید صرف دربارۂ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں صحابہ کرام سے ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین تک کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مطلقا جمع زر کو حرام ٹھہرانا۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مسئلۂ ربا،
امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا مسئلۂ مدت رضاع۔
امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کا مسئلۂ متروک التسمیہ عمدا۔
امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا مسئلۂ طہارتِ سورِ کلب و تعبد غسلات سبع۔
امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسئلۂ نقض وضو بلحم جزور و غیر ذلک مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا مورد جانے خود شذ في النار [جہنم میں جانے] کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف اور نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاۤءَتۡ مَصِیرًا کا مستوجب ہوگا۔
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی تحریر صاف بتا رہی ہے کہ فروعیات میں اختلاف کرنے سے کوئی مسلک سے نہیں نکلتا ہے اور اس کی تائید فتاوی شامی سے بھی ہوتی ہے۔
رد المحتار علی الدر المختار میں علامہ ابن عابدین شامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قوله: ( عن معتقدنا) أي عما نعتقده من غير المسائل الفرعية مما يجب اعتقاده على كل مكلّف وهو ما عليه «أهل السُّنَّة والجماعة» وهم الأشاعرة والماتريدية، وهم متوافقون إلا في مسائل يسيرة أرجعها بعضهم إلى الخلاف اللفظي
[در المختار علی الرد المحتار، جلد اول ص: ١٣٩]
عقیدے سے مراد غیرِ مسائل فرعیہ ہیں اور وہ عقائد ہیں جن پر اعتقاد رکھنا ہر مکلف پر واجب ہے اور وہ وہی عقائد ہیں جن پر اہل سنت و جماعت قائم ہیں اور اہل سنت و جماعت اشاعرہ اور ماتریدیہ ہیں یہ حضرات چند مسائل کے سوا تمام عقائد پر باہم متفق ہیں بلکہ بعض نے فرمایا کہ بعض مسائل میں جو اشاعرہ اور ماتریدیہ کا قدرے اختلاف ہے تو وہ اختلاف بھی اختلافی لفظی ہے۔
فروعیات میں اختلاف کا مطلب ـــــــــــــــ
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت میں ایک بات قابل غور ہے آپ نے فرمایا:
صحابہ کرام سے ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین تک کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں
معلوم ہوا یہاں بات مجتہدین کی ہے اور جب بات مجتہدین کی ہے تو ظاہر ہے ہر مجتھد کو اپنی رائے پر عمل کرنا واجب ہے جیسا کہ مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رضی اللہ عنہ جاء الحق میں ارقام فرماتے ہیں:
مجتہد کو تقلید کرنا حرام ہے
[جاء الحق ص: ٢٤]
اسی لیے مجتہدین اگر فروعیات میں اختلاف کرے تو یہ ان کا حق ہے بلکہ ان کو اپنی رائے پر عمل چاہئیے ان کے لیے یہی صواب و درست ہے اور ان پر ان کو دو اجر و ثواب دیا جائے اگر وہ اپنی رائے پر صحیح ہیں ورنہ ایک اجر دیا جائے گا
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
إذا حكَم الحاكمُ فاجتَهَد ثمَّ أصاب فله أجرانِ وإذا حكَم فاجتَهَد ثمَّ أخطأ فله أجرٌ
[مسلم شریف رقم الحدیث ١٧١٦]
یعنی جب حاکم فیصلہ کرے تو اجتہاد کرے پھر اگر وہ اپنے اجتہاد میں درست ہوا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب فیصلہ کرنے میں اجتہاد میں خطا ہو گئی تو اس کے لیے ایک اجر ہے
مطلب یہ نکلا کہ فرعیات میں اگر مجتھد سے خطا بھی ہو جائے تو گناہ نہیں بلکہ ثواب ہی ہے
تو جو غیر مجتھد ہیں جیسے ہما و شما وہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی اس عبارت سے یہ نہ سمجھے کہ فروعیات میں اپنی رائے قائم کرنے کی ان کو اجازت مل گئی ہے فروعیات میں اختلاف کرنے کی وجہ سے مسلک سے نہ نکلنا یہ الگ بات ہے جو سب کے لیے مسلم ہے اور فرعیات میں اختلاف کرنا یہ ایک الگ مسئلہ ہے،
جو صاحب رائے نہیں ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے امام کی تقلید کرے جیسے اگر کوئی حنفی ہے تو وہ اپنے مذہب کے متفق علیہ، مفتی بہ، قول راجح مسئلہ پر عمل کرے۔
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قسم اول [حکم شرعی] میں پھر دو صورتیں ہیں، کتب میں اس کا حکم مصرح ہے یا حادثہ جدیدہ ہے کہ اس کا حکم نصوص فقہی سے نکالنا محتاجِ نظرِ تفقہ ہے پھر جس کا حکم مصرح ہے وہ ایک ہی حکم ہے جس سے تجاوز ناجائز یا دونوں طرح کے حکم ہیں اور مکلف کو روا ہے ان میں جس پر چاہے عمل کرے، پہلی صورت یہ کہ حکم واحد متفق علیہ ہو، یا اگرچہ اختلاف ہے مگر قول راجح و معتمد ایک ہی ہے خواہ یوں کہ فتوٰی ایک ہی جانب دیا گیا یا دوسرے جانب کی ترجیح ان وجوہ پر کہ خادم فقہ جانتا ہے ضعیف و مضمحل ہے بہر حال دوسرا قول ناقابل اخذ ہے،
فان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع درمختار عن تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم۔
[ تو بالتحقیق فتوی اور فیصلہ مرجوح قول پر کرنا جہالت ہے اور اجماع کے خلاف ہے،یہ درمختار میں علامہ قاسم کی تصحیح القدوری کے حوالہ سے ہے]
اس صورت میں اسی حکم کا اتباع واجب ہے خواہ وہ رائے صدر ہو یا رائے اراکین کل یا بعض ہو یا سب کے خلا ف ہو اذ لا حکم لاحد مع الشرع المطہر [شریعت مطہرہ کے مقابلہ میں کوئی حکم معتبر نہیں].
[فتاوی رضویہ شریف جلد ہفتم ص: ٤٨٦]
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ کسی مسئلے میں ایک حکم شرعی متفق علیہ ہو یا دو طرح کے حکم ہوں مگر ایک جانب راجح ہو تو اسی پر عمل کرنا واجب ہے
بعض حضرات کا ذہن یہ بن گیا ہے کہ مسئلہ فروعی ہے تو اختلاف کر سکتے ہیں مسلک اعلی حضرت سے تو نہیں نکلیں گے کیونکہ مسلک اعلی حضرت تو عقائد کا نام ہے لہذا فروعی مسئلے میں اختلاف کر لیتے ہیں پھر وہ قلم چلانا شروع کر دیتے ہیں اور کئی کئی صفحات سیاہ کر دیتے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا ایسے حضرات کو جاننا چاہیے اگر چہ وہ مسلک اعلی حضرت سے نہیں نکلیں گے مگر اب بھی وہ اصول کے پابند ہیں انھیں اپنے امام کی تقلید واجب ہے مثلا:
کوئی فرعی مسئلہ ہے مگر ائمہ کے نزدیک متفق علیہ مسئلہ ہے تو اگر چہ کوئی کتنا بھی بڑا عالم دین ہے اگر وہ مجتھد نہیں ہے تو اسے اس بات کی ہر گز اجازت نہیں ہے کہ وہ اس مسئلے کے خلاف اپنی رائے قائم کرے۔
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے فتاوی رضویہ شریف میں سوال ہوا کہ:
ایسا شخص جو خدا کے سوا دوسرے کو سجدہ کرنا جائز سمجھے تو ایسا شخص کافر ہے یا مسلمان ؟
آپ رضی اللہ عنہ نے جوابا تحریر فرمایا:
غیر خدا کو سجدہ تحیت کا جائز کرنے والا ہرگز کافر نہیں اور اب جو اہل حدیث کہلاتے ہیں ضرور اسمٰعیلی وگمراہ ہیں اور دیوبندیہ ان سے گمراہ تر صریح مرتدین ہیں، علمائے حرمین شریفین نے ان کی نسبت تصریح فرمائی کہ:
من شك فی کفرہ فقد کفر ۔
جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شك ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔
دربارۂ سجدہ حق و تحقیق یہ ہے کہ غیر خدا کو سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرام، کتب فقہ میں اس کی تصریح ہے اور آج کوئی مجتہد نہیں کہ متفق علیہ ارشادات ائمہ کے خلاف دلیل سے مسئلہ نکالنا چاہے افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں۔
[ فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص : ٧٠]
قارئین ملاحظہ فرمائیں مسئلہ فرعی ہے اور متفق علیہ ہے اب اگر اس پر کوئی دلیل بھی پیش کرے تو اس کی بات نہیں سنی جائے گی کیونکہ وہ مجتھد نہیں یہ کام مجتہد کا ہے اور آج کوئی مجتھد نہیں ہے اس لیے ایسے مسائل جو کتب فقہ میں مصرح ہیں متفق علیہ ہیں کوئی دلائل و براہین قائم کر کے بھی اس کے خلاف حکم صادر نہیں کر سکتا ۔
اب اس میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک یہ کہ مسئلہ میں اختلاف کرنے والا عالم دین خیر خواہ متاؤل ہے تو اس کو متفق علیہ مسئلے میں اختلاف کرنے کی وجہ سے خاطی ضرور کہیں گے مگر تفسیق نہیں کی جائے گی،
جیسا کہ فتاوی تاج الشریعہ میں ہے کہ سرکار تاج الشریعہ مرشدی الکریم علامہ اختر رضا خان قادری بریلوی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ:
اگر زید عالم نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں سجدہ تعظیمی کے جواز کا فتوی دیا اور دلیل میں حدیث پاک و دیگر علماء و محدثین کے اقوال بھی نقل کئے اور عدم جواز پر جو دلیلیں ملیں ان کی تاویلات بھی کیں اور تاویلات میں بھی نیت بخیر رہی ہو تو کیا ایسے عالم سے حسن عقیدت رکھنا، ان کی تعریف و توصیف کرنا قبر پر فاتحہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
آپ رضی اللہ عنہ اس سوال کے جواب میں ارقام فرماتے ہیں:
زید عالم نے اگر بے وجہ شرعی مخالفت جمہور کا فیصلہ نہ کیا بلکہ وہ اس میں متأول ہے تو اس کی تفسیق جائز نہیں بلکہ حسن ظن لازم ہے اوراس کے علم و فضل کی تعریف بے مبالغہ اور قبر پر فاتحہ خوانی جائز ہے اور مرغوب ہے مگر اس مسئلہ میں اسے غلطی پر جانے اور جمہور علماء کا اتباع کرے۔ در مختار میں ہے: علينا اتباع ما رجحوه ما صححوه كما لو افتو في حياتهم"
[ فتاوی تاج الشریعہ جلد اول ص: ٢٢٥-٢٢٦]
دوسرے یہ کہ اگر کوئی بنا تاویل کے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ سجدۂ تحیت حرام ہے جواز کا فتویٰ دے تو اس کی تفسیق کی جائے گی
جیسا کہ اسی فتاوی تاج الشریعہ میں حضور تاج الشریعہ بدر الطریقہ مرشدی علامہ اختر رضا خان ازہری قادری رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
ان عبارتوں سے صاف ظاہر کہ قول مرجوح پر فتوی دینا باطل و نا جائز و حرام اور خود سائل کی منقولہ عبارتوں سے سجدہ تحیت کا جواز مرجوح و نا صواب ہونا ظاہر، تو مذہب صحیح و معتمد سے صرف نظر کر کے سجدہ تحیت کے جواز کا فتوی دینا حرام اور اس کا مرتکب فاسق ۔
[فتاوی تاج الشریعہ جلد اول ص :٢٦٨]
قارئین دیکھیں دونوں جگہ سجدۂ تحیت کے جواز کے فتوے کی بات ہے لیکن ایک جگہ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عالم دین کی تفسیق نہیں کی جائے گی اور دوسری جگہ فرمایا کہ اس کا مرتکب فاسق ہے آخر ایسا کیوں؟
تو اس کا جواب یہی ہے کہ دونوں حضرات کی حالت میں فرق ہے ایک متأول ہے دوسرا نہیں ہے اس لیے ایک کی تفسیق نہیں دوسرے کی تفسیق ہوئی۔
اور یہ فقہا کی تصریحات کے عین مطابق ہے چنانچہ
در مختار میں ہے:
الفتيا بالقول المرجوح جهل و خرق للاجماع
[ الدر المختار، ج ۱، ص ۱۷۶ ، ۱۷۷ ، المقدمه، دار الكتب العلميه، بيروت]
یعنی مذہب مرجوح پر فتوی دینا جہل اور اجماع کی مخالفت ہے
اس پر طحطاوی میں ہے:
”قوله (جهل) اى من القاضى والمفتى بما نصوا عليه من ان ذالك لا يعمل به قوله وخرق للاجماع فهو باطل و حرام
[حاشية الطحطاوي على الدر المختار ج ١ ، ص ٥٠ ، المقدمة مطبع دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت]
نیز فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
ہر عاقل مسلمان جانتاہے کہ نوع بشر میں عصمت خاصہ انبیاء ہے نبی کے سوا کوئی کیسے ہی عالی مرتبے والا ایسا نہیں جس سے کوئی نہ کوئی قول ضعیف خلاف دلیل یا خلاف جمہور نہ صاد ر ہواہو کل ماخوز من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ھذا القبر صلی اﷲ تعلٰی علیہ وسلم
[ہر آدمی کی اس کے کہنے سے گرفت ہوگی،اور اس پر وہ قول لوٹا دیا جائے گا سوائے اس قبر والےکے کہ ان پر اﷲ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو یعنی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات اقدس پر] اتباع جمہور کا ہوگا علیکم بالسواد الاعظم
[لوگو! بڑی جماعت کو اختیار کرو]
اور قول شاذ ماننے والے پر شرعی الزام شدید عائد ہوگا نہ کہ معاذ اللہ، صاحب قول پر۔
تصحیح قدوری و در مختار اور بکر کی مسلم نہایت معتمد محقق منقح کتاب 'رد المحتار' میں ہے: الحکم و الفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للإجماع. قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہل ہے اور اجماع کا توڑنا اور قطعا معلوم کہ اجماع امت کا توڑنے والا، کم از کم فاسق.
ائمہ میں کون ایسا ہے حتی کہ صحابہ جس کا کوئی نہ کوئی قول مرجوح نہیں وہ معاذاﷲ نہ جاہل نہ فاسق لیکن جو قول جمہور کے خلاف ان میں کسی کے قول مرجوح پر حکم یا فتوٰی دے وہ ضرور جاہل و فاسق ہے۔
{فتاوی رضویہ شریف، کتاب الحظر و الاباحۃ، جلد ٢٢ ص: ٥١٥}
آج کل بہت سے حضرات قسم ثانی میں آتے ہیں کہ جمہور کے خلاف فتویٰ صادر کرتے ہیں اور جو بھولے بھالے لوگ ہیں وہ ان کے دام فریب میں آ جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ فلاں صاحب نے بھی دلائل پیش کی ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دلائل ہیں تبھی تو اختلاف ہوا ہے جب یہ کہا جا رہا ہے جمہور کا قول یہ ہے تو اس کا صاف مطلب یہی نکلتا کہ کچھ اہل نظر ہیں جنھوں نے اس کے بر خلاف فتوی دیا ہے ظاہر ہے انھوں نے اس مسئلے پر دلائل و براہین بھی قائم کیے ہوں گے اور وہی دلائل اٹھا کر آج کے بعض حضرات رکھ دیتے ہیں اور قول مرجوح پر فتوی دے دیتے ہیں جب کہ ان پر واضح ہے کہ ہمارے علما کا جمہور کا یہ مذہب نہیں ہے اور ہم پر جمہور کا اتباع واجب ہے
پھر جب ان کی تردید کی جائے دلائل پیش کی جائیں تو ان دلائل کی تاویل کیے بغیر اپنی دلیل لیے بیٹھے رہتے ہیں اور اسی قول مرجوح پر فتوی صادر کرتے ہیں اور ابھی آپ نے پڑھا کہ قول مرجوح پر فتوی دینا حرام ہے اور اس کا مرتکب فاسق ہے
تو اسی فسق کی وجہ سے ہمارے علما ان کو اپنی حال پر چھوڑ دیتے ہیں تو اب وہ سمجھ بیٹھتے کہ مجھے مسلک سے نکال دیا اسی لیے میرے پاس فلاں حضرات نہیں آتے میری بات نہیں سنتے ہیں،
کیا کسی سے نہ ملنا ان سے بات نہ کرنا اسے مسلک سے نکالنے پر دلالت کرتا ہے کیا فسق کی وجہ سے میل جول بند کرنے کا حکم نہیں ہے دیکھیے قرآن میں ہے :
وَإِمَّا یُنسِیَنَّكَ ٱلشَّیۡطَـٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِینَ [الأنعام ٦٨]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں کن کن لوگوں کے پاس نہ بیٹھنے کا حکم ہے تو دیکھیے تفسیرات احمدیہ ملا احمد جیون رضی اللہ عنہ اسی آیت کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع كلهم ممتنع
[تفسيرات احمدیه، ص ٢٥٥ ، مطبع رحيميه]
یعنی الظالمین میں گمراہ، فاسق، کافر تینوں شامل ہیں اور ان سب کے ساتھ بیٹھنا ممنوع ہے
تو جمہور کے خلاف جو فتوی دیتے ہیں اگر ان سے کوئی میل جول کلام سلام بند کرتا ہے تو گویا قرآن پر عمل کرتا ہے تو ایسے شخص کو چاہیے کہ جہاں وہ یہ غور کرتے ہیں کہ فلاں فلاں نے مجھے چھوڑ دیا وہی ایک لمحے کے لیے اس پر بھی غور فرما لیں کہ کیوں چھوڑ دیا ؟ تو مسئلہ حتی الامکان حل ہو سکتا ہے لیکن اس مقاطعہ سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسے مسلک سے ہی نکال دیا گیا ہر گز نہیں کبھی کوئی سنت کے خلاف کام کرتا ہے اور اسے منع کیا جائے پھر بھی وہ وہی کام کرے تو اس سے بھی سلام، کلام بند کر لیا جاتا ہے
جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْخَذْفِ، أَوْ كَانَ يَكْرَهُ الْخَذْفَ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ، وَلَا يُنْكَى بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَن"، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ أَوْ كَرِهَ الْخَذْفَ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا.
[ بخاری شریف / کتاب الذبائح و الصید/ رقم الحدیث ٥٤٧٩]
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو کنکری پھینکتے دیکھا تو فرمایا کہ کنکری نہ پھینکو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا ہے یا (انہوں نے بیان کیا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنکری پھینکنے کو پسند نہیں کرتے تھے اور کہا کہ اس سے نہ شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے البتہ یہ کبھی کسی کا دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے۔ اس کے بعد بھی انہوں نے اس شخص کو کنکریاں پھینکتے دیکھا تو کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمہیں سنا رہا ہوں کہ آپ نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا یا کنکری پھینکنے کو ناپسند کیا اور تم اب بھی پھینکے جا رہے ہو، میں تم سے اتنے اتنے دنوں تک کلام نہیں کروں گا۔
ابن ماجہ شریف میں لَا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا کی جگہ لَا أُكَلِّمُكَ ابدا ہے کہ تم سے کبھی بات نہ کروں گا
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ جو کنکری پھینک رہا تھا وہ راوی کے بھتیجے تھے کیونکہ ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں :
كانَ جالسًا إلى جنبِهِ ابنُ أخٍ لَهُ
اب بتائیں کیا حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ نے اپنے بھتیجے کو مسلک سواد اعظم سے نکال دیا؟ اسی لیے بات چیت بند کر دی اور وہ بھی تاکید کے ساتھ
اس کا جواب کیا ہوگا یہی نا! مسلک سواد اعظم، مسلک اہل سنت جسے اس دور میں پہچان کے لیے مسلک اعلی حضرت کہتے ہیں اس سے حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجے کو نہیں نکالا بلکہ تعلیم اور اس کی ہدایت کے لیے فرمایا تاکہ وہ باز آ جائے اور حکم شرعی کی پیروی کرے۔
ایسے ہی جب کوئی جمہور کے خلاف فتویٰ دیتا ہے اور پھر سمجھانے پر وہ نہیں مانتا ہے تو ہمارے علما اسے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ اسی اپنی غلطی کا احساس ہو نہ یہ کہ اسے مسلک اعلی حضرت سے نکال دیا جاتا ہے جو ایسا سوچتا ہے یہ خود اس کے دماغ کا اختراع ہوتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تصلب اور تشدد ـــــــــــــــــــ
قارئین ذرا غور فرمائیں! اگر کوئی جمہور کے خلاف فتویٰ دے پھر اسے سمجھایا جائے پھر بھی وہ رجوع نہ کرے اور اس سے بات چیت بند کر دی جائے تو لوگ اسے تشدد کہتے ہیں پھر تو اس اعتبار سے سب سے بڑے متشدد حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ہوئے معاذ اللہ
اگر اس زمانے میں حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ اپنے بھتیجے سے کہتے کہ میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا تو ضرور یہ لوگ انھیں بھی متشدد کہتے ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کنکری پھینکنے کی ممانعت تو باب اخلاقیات میں سے ہے کیونکہ اس میں اندیشہ ہے کہ کہیں کسی کی آنکھ میں نہ لگ جائے یا پھر زیادہ سے زیادہ باب استحباب سے ہوگا پھر بھی حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بات چیت بند کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن خلاف قول جمہور فتوی دینا تو باب حرمت سے ہے تو کیا یہاں بات چیت بند کرنا تشدد کی نشانی ہو جائے گی؟ اگر ہاں تو پھر بتائیں اس میں وجہ تفریق کیا ہے ؟
اگر نہیں تو یہ مانیں کہ جس طرح عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے تصلب اختیار کیا ایسے ہی ان علما نے تصلب اختیار کیا اور ان حضرات سے بات چیت بند کی، جنھوں نے خلاف جمہور فتوی دیا کیونکہ باب اخلاقیات سے زیادہ ضروری ہے کہ باب حرمت میں تصلب فی الدین اختیار کیا جانا اسے تشدد نہیں کہے گا مگر وہی جو معاند ہوگا
تمہارا بے وفا کہنا ہمیں منظور ہے لیکن
تمہارے ساتھ رہنے سے تصلب چھوٹ جائے گا

[تصرف مع یسیر]۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
57
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ہفتم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط پنجم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ششم] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ششم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط ششم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

مسلک اعلی حضرت اور فروعیات ـــــــــــــــــــــــــــ

مسلک اعلی حضرت جب مسلک اہل سنت، سواد اعظم کے مترادف ہے تو فرعیات میں اختلاف کرنے سے کوئی مسلک اعلی حضرت سے خارج نہیں ہوگا

چنانچہ خود اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرماتے ہیں:
اتباع سواد اعظم کا حکم اور “من شذ شذ في النار” کی وعید صرف دربارۂ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں صحابہ کرام سے ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین تک کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مطلقا جمع زر کو حرام ٹھہرانا۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مسئلۂ ربا،
امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا مسئلۂ مدت رضاع۔
امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کا مسئلۂ متروک التسمیہ عمدا۔
امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا مسئلۂ طہارتِ سورِ کلب و تعبد غسلات سبع۔
امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسئلۂ “نقض وضو بلحم جزور” و غیر ذلک مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا مورد جانے خود “شذ في النار” [جہنم میں جانے] کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف اور “نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاۤءَتۡ مَصِیرًا” کا مستوجب ہوگا۔

حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی تحریر صاف بتا رہی ہے کہ فروعیات میں اختلاف کرنے سے کوئی مسلک سے نہیں نکلتا ہے اور اس کی تائید فتاوی شامی سے بھی ہوتی ہے۔

رد المحتار علی الدر المختار میں علامہ ابن عابدین شامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قوله: ( عن معتقدنا) أي عما نعتقده من غير المسائل الفرعية مما يجب اعتقاده على كل مكلّف وهو ما عليه «أهل السُّنَّة والجماعة» وهم الأشاعرة والماتريدية، وهم متوافقون إلا في مسائل يسيرة أرجعها بعضهم إلى الخلاف اللفظي
[در المختار علی الرد المحتار، جلد اول ص: ١٣٩]

عقیدے سے مراد غیرِ مسائل فرعیہ ہیں اور وہ عقائد ہیں جن پر اعتقاد رکھنا ہر مکلف پر واجب ہے اور وہ وہی عقائد ہیں جن پر اہل سنت و جماعت قائم ہیں اور اہل سنت و جماعت اشاعرہ اور ماتریدیہ ہیں یہ حضرات چند مسائل کے سوا تمام عقائد پر باہم متفق ہیں بلکہ بعض نے فرمایا کہ بعض مسائل میں جو اشاعرہ اور ماتریدیہ کا قدرے اختلاف ہے تو وہ اختلاف بھی اختلافی لفظی ہے۔

فروعیات میں اختلاف کا مطلب ـــــــــــــــ

اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت میں ایک بات قابل غور ہے آپ نے فرمایا:

“صحابہ کرام سے ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین تک کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں”

معلوم ہوا یہاں بات مجتہدین کی ہے اور جب بات مجتہدین کی ہے تو ظاہر ہے ہر مجتھد کو اپنی رائے پر عمل کرنا واجب ہے جیسا کہ مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رضی اللہ عنہ جاء الحق میں ارقام فرماتے ہیں:
مجتہد کو تقلید کرنا حرام ہے
[جاء الحق ص: ٢٤]
اسی لیے مجتہدین اگر فروعیات میں اختلاف کرے تو یہ ان کا حق ہے بلکہ ان کو اپنی رائے پر عمل چاہئیے ان کے لیے یہی صواب و درست ہے اور ان پر ان کو دو اجر و ثواب دیا جائے اگر وہ اپنی رائے پر صحیح ہیں ورنہ ایک اجر دیا جائے گا
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
إذا حكَم الحاكمُ فاجتَهَد ثمَّ أصاب فله أجرانِ وإذا حكَم فاجتَهَد ثمَّ أخطأ فله أجرٌ
[مسلم شریف رقم الحدیث ١٧١٦]
یعنی جب حاکم فیصلہ کرے تو اجتہاد کرے پھر اگر وہ اپنے اجتہاد میں درست ہوا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب فیصلہ کرنے میں اجتہاد میں خطا ہو گئی تو اس کے لیے ایک اجر ہے
مطلب یہ نکلا کہ فرعیات میں اگر مجتھد سے خطا بھی ہو جائے تو گناہ نہیں بلکہ ثواب ہی ہے

تو جو غیر مجتھد ہیں جیسے ہما و شما وہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی اس عبارت سے یہ نہ سمجھے کہ فروعیات میں اپنی رائے قائم کرنے کی ان کو اجازت مل گئی ہے فروعیات میں اختلاف کرنے کی وجہ سے مسلک سے نہ نکلنا یہ الگ بات ہے جو سب کے لیے مسلم ہے اور فرعیات میں اختلاف کرنا یہ ایک الگ مسئلہ ہے،
جو صاحب رائے نہیں ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے امام کی تقلید کرے جیسے اگر کوئی حنفی ہے تو وہ اپنے مذہب کے متفق علیہ، مفتی بہ، قول راجح مسئلہ پر عمل کرے۔

حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قسم اول [حکم شرعی] میں پھر دو صورتیں ہیں، کتب میں اس کا حکم مصرح ہے یا حادثہ جدیدہ ہے کہ اس کا حکم نصوص فقہی سے نکالنا محتاجِ نظرِ تفقہ ہے پھر جس کا حکم مصرح ہے وہ ایک ہی حکم ہے جس سے تجاوز ناجائز یا دونوں طرح کے حکم ہیں اور مکلف کو روا ہے ان میں جس پر چاہے عمل کرے، پہلی صورت یہ کہ حکم واحد متفق علیہ ہو، یا اگرچہ اختلاف ہے مگر قول راجح و معتمد ایک ہی ہے خواہ یوں کہ فتوٰی ایک ہی جانب دیا گیا یا دوسرے جانب کی ترجیح ان وجوہ پر کہ خادم فقہ جانتا ہے ضعیف و مضمحل ہے بہر حال دوسرا قول ناقابل اخذ ہے،
فان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع درمختار عن تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم۔
[ تو بالتحقیق فتوی اور فیصلہ مرجوح قول پر کرنا جہالت ہے اور اجماع کے خلاف ہے،یہ درمختار میں علامہ قاسم کی تصحیح القدوری کے حوالہ سے ہے]
اس صورت میں اسی حکم کا اتباع واجب ہے خواہ وہ رائے صدر ہو یا رائے اراکین کل یا بعض ہو یا سب کے خلا ف ہو “اذ لا حکم لاحد مع الشرع المطہر” [شریعت مطہرہ کے مقابلہ میں کوئی حکم معتبر نہیں].
[فتاوی رضویہ شریف جلد ہفتم ص: ٤٨٦]

حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ کسی مسئلے میں ایک حکم شرعی متفق علیہ ہو یا دو طرح کے حکم ہوں مگر ایک جانب راجح ہو تو اسی پر عمل کرنا واجب ہے

بعض حضرات کا ذہن یہ بن گیا ہے کہ مسئلہ فروعی ہے تو اختلاف کر سکتے ہیں مسلک اعلی حضرت سے تو نہیں نکلیں گے کیونکہ مسلک اعلی حضرت تو عقائد کا نام ہے لہذا فروعی مسئلے میں اختلاف کر لیتے ہیں پھر وہ قلم چلانا شروع کر دیتے ہیں اور کئی کئی صفحات سیاہ کر دیتے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا ایسے حضرات کو جاننا چاہیے اگر چہ وہ مسلک اعلی حضرت سے نہیں نکلیں گے مگر اب بھی وہ اصول کے پابند ہیں انھیں اپنے امام کی تقلید واجب ہے مثلا:

کوئی فرعی مسئلہ ہے مگر ائمہ کے نزدیک متفق علیہ مسئلہ ہے تو اگر چہ کوئی کتنا بھی بڑا عالم دین ہے اگر وہ مجتھد نہیں ہے تو اسے اس بات کی ہر گز اجازت نہیں ہے کہ وہ اس مسئلے کے خلاف اپنی رائے قائم کرے۔

اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے فتاوی رضویہ شریف میں سوال ہوا کہ:
ایسا شخص جو خدا کے سوا دوسرے کو سجدہ کرنا جائز سمجھے تو ایسا شخص کافر ہے یا مسلمان ؟

آپ رضی اللہ عنہ نے جوابا تحریر فرمایا:
غیر خدا کو سجدہ تحیت کا جائز کرنے والا ہرگز کافر نہیں اور اب جو اہل حدیث کہلاتے ہیں ضرور اسمٰعیلی وگمراہ ہیں اور دیوبندیہ ان سے گمراہ تر صریح مرتدین ہیں، علمائے حرمین شریفین نے ان کی نسبت تصریح فرمائی کہ:
من شك فی کفرہ فقد کفر ۔
جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شك ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔
دربارۂ سجدہ حق و تحقیق یہ ہے کہ غیر خدا کو سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرام، کتب فقہ میں اس کی تصریح ہے اور آج کوئی مجتہد نہیں کہ متفق علیہ ارشادات ائمہ کے خلاف دلیل سے مسئلہ نکالنا چاہے افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں۔
[ فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص : ٧٠]

قارئین ملاحظہ فرمائیں مسئلہ فرعی ہے اور متفق علیہ ہے اب اگر اس پر کوئی دلیل بھی پیش کرے تو اس کی بات نہیں سنی جائے گی کیونکہ وہ مجتھد نہیں یہ کام مجتہد کا ہے اور آج کوئی مجتھد نہیں ہے اس لیے ایسے مسائل جو کتب فقہ میں مصرح ہیں متفق علیہ ہیں کوئی دلائل و براہین قائم کر کے بھی اس کے خلاف حکم صادر نہیں کر سکتا ۔

اب اس میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک یہ کہ مسئلہ میں اختلاف کرنے والا عالم دین خیر خواہ متاؤل ہے تو اس کو متفق علیہ مسئلے میں اختلاف کرنے کی وجہ سے خاطی ضرور کہیں گے مگر تفسیق نہیں کی جائے گی،
جیسا کہ فتاوی تاج الشریعہ میں ہے کہ سرکار تاج الشریعہ مرشدی الکریم علامہ اختر رضا خان قادری بریلوی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ:
اگر زید عالم نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں سجدہ تعظیمی کے جواز کا فتوی دیا اور دلیل میں حدیث پاک و دیگر علماء و محدثین کے اقوال بھی نقل کئے اور عدم جواز پر جو دلیلیں ملیں ان کی تاویلات بھی کیں اور تاویلات میں بھی نیت بخیر رہی ہو تو کیا ایسے عالم سے حسن عقیدت رکھنا، ان کی تعریف و توصیف کرنا قبر پر فاتحہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

آپ رضی اللہ عنہ اس سوال کے جواب میں ارقام فرماتے ہیں:
زید عالم نے اگر بے وجہ شرعی مخالفت جمہور کا فیصلہ نہ کیا بلکہ وہ اس میں متأول ہے تو اس کی تفسیق جائز نہیں بلکہ حسن ظن لازم ہے اوراس کے علم و فضل کی تعریف بے مبالغہ اور قبر پر فاتحہ خوانی جائز ہے اور مرغوب ہے مگر اس مسئلہ میں اسے غلطی پر جانے اور جمہور علماء کا اتباع کرے۔ در مختار میں ہے: علينا اتباع ما رجحوه ما صححوه كما لو افتو في حياتهم”
[ فتاوی تاج الشریعہ جلد اول ص: ٢٢٥-٢٢٦]

دوسرے یہ کہ اگر کوئی بنا تاویل کے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ سجدۂ تحیت حرام ہے جواز کا فتویٰ دے تو اس کی تفسیق کی جائے گی
جیسا کہ اسی فتاوی تاج الشریعہ میں حضور تاج الشریعہ بدر الطریقہ مرشدی علامہ اختر رضا خان ازہری قادری رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
“ان عبارتوں سے صاف ظاہر کہ قول مرجوح پر فتوی دینا باطل و نا جائز و حرام اور خود سائل کی منقولہ عبارتوں سے سجدہ تحیت کا جواز مرجوح و نا صواب ہونا ظاہر، تو مذہب صحیح و معتمد سے صرف نظر کر کے سجدہ تحیت کے جواز کا فتوی دینا حرام اور اس کا مرتکب فاسق” ۔
[فتاوی تاج الشریعہ جلد اول ص :٢٦٨]

قارئین دیکھیں دونوں جگہ سجدۂ تحیت کے جواز کے فتوے کی بات ہے لیکن ایک جگہ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عالم دین کی تفسیق نہیں کی جائے گی اور دوسری جگہ فرمایا کہ اس کا مرتکب فاسق ہے آخر ایسا کیوں؟

تو اس کا جواب یہی ہے کہ دونوں حضرات کی حالت میں فرق ہے ایک متأول ہے دوسرا نہیں ہے اس لیے ایک کی تفسیق نہیں دوسرے کی تفسیق ہوئی۔

اور یہ فقہا کی تصریحات کے عین مطابق ہے چنانچہ
در مختار میں ہے:
“الفتيا بالقول المرجوح جهل و خرق للاجماع”
[ الدر المختار، ج ۱، ص ۱۷۶ ، ۱۷۷ ، المقدمه، دار الكتب العلميه، بيروت]
یعنی مذہب مرجوح پر فتوی دینا جہل اور اجماع کی مخالفت ہے
اس پر طحطاوی میں ہے:
”قوله (جهل) اى من القاضى والمفتى بما نصوا عليه من ان ذالك لا يعمل به قوله وخرق للاجماع فهو باطل و حرام
[حاشية الطحطاوي على الدر المختار ج ١ ، ص ٥٠ ، المقدمة مطبع دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت]

نیز فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
ہر عاقل مسلمان جانتاہے کہ نوع بشر میں عصمت خاصہ انبیاء ہے نبی کے سوا کوئی کیسے ہی عالی مرتبے والا ایسا نہیں جس سے کوئی نہ کوئی قول ضعیف خلاف دلیل یا خلاف جمہور نہ صاد ر ہواہو کل ماخوز من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ھذا القبر صلی اﷲ تعلٰی علیہ وسلم
[ہر آدمی کی اس کے کہنے سے گرفت ہوگی،اور اس پر وہ قول لوٹا دیا جائے گا سوائے اس قبر والےکے کہ ان پر اﷲ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو یعنی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات اقدس پر] اتباع جمہور کا ہوگا “علیکم بالسواد الاعظم”
[لوگو! بڑی جماعت کو اختیار کرو]

اور قول شاذ ماننے والے پر شرعی الزام شدید عائد ہوگا نہ کہ معاذ اللہ، صاحب قول پر۔
تصحیح قدوری و در مختار اور بکر کی مسلم نہایت معتمد محقق منقح کتاب ‘رد المحتار’ میں ہے: الحکم و الفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للإجماع. قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہل ہے اور اجماع کا توڑنا اور قطعا معلوم کہ اجماع امت کا توڑنے والا، کم از کم فاسق.
ائمہ میں کون ایسا ہے حتی کہ صحابہ جس کا کوئی نہ کوئی قول مرجوح نہیں وہ معاذاﷲ نہ جاہل نہ فاسق لیکن جو قول جمہور کے خلاف ان میں کسی کے قول مرجوح پر حکم یا فتوٰی دے وہ ضرور جاہل و فاسق ہے۔
{فتاوی رضویہ شریف، کتاب الحظر و الاباحۃ، جلد ٢٢ ص: ٥١٥}

آج کل بہت سے حضرات قسم ثانی میں آتے ہیں کہ جمہور کے خلاف فتویٰ صادر کرتے ہیں اور جو بھولے بھالے لوگ ہیں وہ ان کے دام فریب میں آ جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ فلاں صاحب نے بھی دلائل پیش کی ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دلائل ہیں تبھی تو اختلاف ہوا ہے جب یہ کہا جا رہا ہے جمہور کا قول یہ ہے تو اس کا صاف مطلب یہی نکلتا کہ کچھ اہل نظر ہیں جنھوں نے اس کے بر خلاف فتوی دیا ہے ظاہر ہے انھوں نے اس مسئلے پر دلائل و براہین بھی قائم کیے ہوں گے اور وہی دلائل اٹھا کر آج کے بعض حضرات رکھ دیتے ہیں اور قول مرجوح پر فتوی دے دیتے ہیں جب کہ ان پر واضح ہے کہ ہمارے علما کا جمہور کا یہ مذہب نہیں ہے اور ہم پر جمہور کا اتباع واجب ہے
پھر جب ان کی تردید کی جائے دلائل پیش کی جائیں تو ان دلائل کی تاویل کیے بغیر اپنی دلیل لیے بیٹھے رہتے ہیں اور اسی قول مرجوح پر فتوی صادر کرتے ہیں اور ابھی آپ نے پڑھا کہ قول مرجوح پر فتوی دینا حرام ہے اور اس کا مرتکب فاسق ہے
تو اسی فسق کی وجہ سے ہمارے علما ان کو اپنی حال پر چھوڑ دیتے ہیں تو اب وہ سمجھ بیٹھتے کہ مجھے مسلک سے نکال دیا اسی لیے میرے پاس فلاں حضرات نہیں آتے میری بات نہیں سنتے ہیں،
کیا کسی سے نہ ملنا ان سے بات نہ کرنا اسے مسلک سے نکالنے پر دلالت کرتا ہے کیا فسق کی وجہ سے میل جول بند کرنے کا حکم نہیں ہے دیکھیے قرآن میں ہے :
وَإِمَّا یُنسِیَنَّكَ ٱلشَّیۡطَـٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِینَ [الأنعام ٦٨]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں کن کن لوگوں کے پاس نہ بیٹھنے کا حکم ہے تو دیکھیے تفسیرات احمدیہ ملا احمد جیون رضی اللہ عنہ اسی آیت کے تحت تحریر فرماتے ہیں:

“الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع كلهم ممتنع”
[تفسيرات احمدیه، ص ٢٥٥ ، مطبع رحيميه]

یعنی الظالمین میں گمراہ، فاسق، کافر تینوں شامل ہیں اور ان سب کے ساتھ بیٹھنا ممنوع ہے
تو جمہور کے خلاف جو فتوی دیتے ہیں اگر ان سے کوئی میل جول کلام سلام بند کرتا ہے تو گویا قرآن پر عمل کرتا ہے تو ایسے شخص کو چاہیے کہ جہاں وہ یہ غور کرتے ہیں کہ فلاں فلاں نے مجھے چھوڑ دیا وہی ایک لمحے کے لیے اس پر بھی غور فرما لیں کہ کیوں چھوڑ دیا ؟ تو مسئلہ حتی الامکان حل ہو سکتا ہے لیکن اس مقاطعہ سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسے مسلک سے ہی نکال دیا گیا ہر گز نہیں کبھی کوئی سنت کے خلاف کام کرتا ہے اور اسے منع کیا جائے پھر بھی وہ وہی کام کرے تو اس سے بھی سلام، کلام بند کر لیا جاتا ہے

جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْخَذْفِ، أَوْ كَانَ يَكْرَهُ الْخَذْفَ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ، وَلَا يُنْكَى بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَن”، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ أَوْ كَرِهَ الْخَذْفَ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا.
[ بخاری شریف / کتاب الذبائح و الصید/ رقم الحدیث ٥٤٧٩]
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو کنکری پھینکتے دیکھا تو فرمایا کہ کنکری نہ پھینکو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا ہے یا (انہوں نے بیان کیا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنکری پھینکنے کو پسند نہیں کرتے تھے اور کہا کہ اس سے نہ شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے البتہ یہ کبھی کسی کا دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے۔ اس کے بعد بھی انہوں نے اس شخص کو کنکریاں پھینکتے دیکھا تو کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمہیں سنا رہا ہوں کہ آپ نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا یا کنکری پھینکنے کو ناپسند کیا اور تم اب بھی پھینکے جا رہے ہو، میں تم سے اتنے اتنے دنوں تک کلام نہیں کروں گا۔

ابن ماجہ شریف میں “لَا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا” کی جگہ “لَا أُكَلِّمُكَ ابدا” ہے کہ تم سے کبھی بات نہ کروں گا
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ جو کنکری پھینک رہا تھا وہ راوی کے بھتیجے تھے کیونکہ ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں :
كانَ جالسًا إلى جنبِهِ ابنُ أخٍ لَهُ
اب بتائیں کیا حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ نے اپنے بھتیجے کو مسلک سواد اعظم سے نکال دیا؟ اسی لیے بات چیت بند کر دی اور وہ بھی تاکید کے ساتھ
اس کا جواب کیا ہوگا یہی نا! مسلک سواد اعظم، مسلک اہل سنت جسے اس دور میں پہچان کے لیے مسلک اعلی حضرت کہتے ہیں اس سے حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجے کو نہیں نکالا بلکہ تعلیم اور اس کی ہدایت کے لیے فرمایا تاکہ وہ باز آ جائے اور حکم شرعی کی پیروی کرے۔
ایسے ہی جب کوئی جمہور کے خلاف فتویٰ دیتا ہے اور پھر سمجھانے پر وہ نہیں مانتا ہے تو ہمارے علما اسے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ اسی اپنی غلطی کا احساس ہو نہ یہ کہ اسے مسلک اعلی حضرت سے نکال دیا جاتا ہے جو ایسا سوچتا ہے یہ خود اس کے دماغ کا اختراع ہوتا ہے۔

تصلب اور تشدد ـــــــــــــــــــ

قارئین ذرا غور فرمائیں! اگر کوئی جمہور کے خلاف فتویٰ دے پھر اسے سمجھایا جائے پھر بھی وہ رجوع نہ کرے اور اس سے بات چیت بند کر دی جائے تو لوگ اسے تشدد کہتے ہیں پھر تو اس اعتبار سے سب سے بڑے متشدد حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ہوئے معاذ اللہ
اگر اس زمانے میں حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ اپنے بھتیجے سے کہتے کہ “میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا” تو ضرور یہ لوگ انھیں بھی متشدد کہتے ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کنکری پھینکنے کی ممانعت تو باب اخلاقیات میں سے ہے کیونکہ اس میں اندیشہ ہے کہ کہیں کسی کی آنکھ میں نہ لگ جائے یا پھر زیادہ سے زیادہ باب استحباب سے ہوگا پھر بھی حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بات چیت بند کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن خلاف قول جمہور فتوی دینا تو باب حرمت سے ہے تو کیا یہاں بات چیت بند کرنا تشدد کی نشانی ہو جائے گی؟ اگر ہاں تو پھر بتائیں اس میں وجہ تفریق کیا ہے ؟
اگر نہیں تو یہ مانیں کہ جس طرح عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے تصلب اختیار کیا ایسے ہی ان علما نے تصلب اختیار کیا اور ان حضرات سے بات چیت بند کی، جنھوں نے خلاف جمہور فتوی دیا کیونکہ باب اخلاقیات سے زیادہ ضروری ہے کہ باب حرمت میں تصلب فی الدین اختیار کیا جانا اسے تشدد نہیں کہے گا مگر وہی جو معاند ہوگا
” تمہارا بے وفا کہنا ہمیں منظور ہے لیکن
تمہارے ساتھ رہنے سے تصلب چھوٹ جائے گا”
[تصرف مع یسیر]۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

Scan this QR code to read online:

QR Code