صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط چہارم]
تحقیق و تعاقب

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط چہارم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط چہارم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
جو میرا دین میری کتب سے ظاہر ہے کی توضیح.ــــــــــــــــــ
شبہ:
بعض حضرات کو یہ شبہ گزرا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اُس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔
{ وصایا شریف ص : ٢٠}
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کا دین الگ ہے اسی لیے کہا کہ میرا دین یہ نہیں کہا کہ دین اسلام جو قرآن و حدیث کی روشنی میں میری کتب سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے بلکہ اپنے بنائے ہوئے دین کی بات کی اور اس پر قائم رہنے کی تاکید کی اسی لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ مسلک اعلی حضرت ایک نیا مسلک ہے۔
ازالۂ شبہ ـــــــــــــــــ
معترض کو شبہ اس وجہ سے ہوا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ نے دین کی اضافت اپنی طرف کر کے فرمایا ہے کہ میرا دین اس سے نتیجہ معترض نے یہ نکالا کہ اس کا مطلب ہوا امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ کا اپنا الگ دین ہے معاذ اللہ
اگر یہی مان لیا جائے کہ دین کی اضافت اپنی طرف کر کے میرا دین کہنے کا مطلب نیا دین بنانا ہو جائے تو کوئی مسلمان ہی نہیں رہے گا کیونکہ نیا دین جو گڑھے گا وہ دین سے نکل جائے گا جیسے اکبر نے دین الٰہی نیا دین گڑھ لیا ایسے تو پوری دنیا میں مسلمان کا وجود ہی معدوم ہو جائے گا فقط نام کے ہی مسلمان رہ جائیں گے کیونکہ عام طور پر لوگ اپنی گفتگو میں کہتے ہیں میرا دین سچا دین ہے تو کیا وہ مسلمان نہیں رہا؟ کیا اس سے دین اسلام کو جھٹلانا لازم آیا؟ کیا وہ اکبر کی فہرست میں آ گیا؟
معاذ اللہ ہر گز نہیں بلکہ میرا دین کہنے سے مراد ہر شخص کی یہی ہوتی ہے کہ جس دین پر میں عمل پیرا ہوں وہ دین سب سے سچا ہے وہ اسلام ہے
حدیث شریف میں ہے:
قال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم و ذكَر قَبْضَ رُوحِ المُؤمِنِ فقال: يأتيه آتٍ، يعني في قَبْرِه، فيقولُ: مَن رَبُّكَ؟ وما دِينُكَ؟ ومَن نَبيُّكَ؟ فيقولُ: ربِّيَ اللهُ، ودِيني الإسلامُ، ونَبِيِّي مُحمَّدٌ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم
[صحیح البخاری. ١٣٦٩]
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم روح قبض کیے جانے کا ذکر فرمایا:
پھر فرمایا مرنے والے کی قبر میں ایک فرشتہ آتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے مَن رَبُّكَ؟ یعنی تیرا رب کون ہے؟ وما دِينُكَ؟ اور تیرا دین کیا ہے ومَن نَبيُّكَ؟ اور تیرا نبی کون ہے تو مرنے والا کہتا ہے: ربی اللہ یعنی میرا رب اللہ ہے و دینی الاسلام میرا دین اسلام ہے و نبیی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور میرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
قارئین کرام غور فرمائیں:
فرشتے کے پوچھنے پر بندۂ مومن یہ جواب دے گا کہ میرا دین اسلام ہے معلوم ہوا دین کی اضافت اپنی طرف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ دین کی اضافت جو اپنی طرف نہ کرے اس کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوگا ایمان مکمل ہی تب ہوتا ہے جب انسان یہ کہے کہ میرا دین یہ ہے انسان لاکھ کہے تیرا دین یہ ہے اس کا دین یہ ہے بلکہ یہ بھی کہے تیرا دین سچا ہے اس کا دین سچا ہے لیکن پھر بھی اتنا کہنا ایمان کے لیے کافی نہیں ہوگا بلکہ یہ کہنا پڑے گا کہ میرا دین سچا ہے اور وہ اسلام ہے
دیکھیے جناب ابو طالب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب تعریف کی لیکن دین محمدی کو اپنایا نہیں عار کی وجہ سے نار کو پسند کیا اسی لیے جمہور آج بھی ابو طالب کے ایمان کے قائل نہیں ہیں اگر وہ دینی دین محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- کہتے تو ابو طالب کے ایمان پر کوئی کلام نہیں ہوتا۔
مطلب دین کو جب تک اپنا دین نہ مانے تب تک کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ہے لہذا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا میرا دین کہنا بالکل قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے البتہ جو دین اسلام کو میرا دین یعنی اپنا دین نہ کہے اس کو خود اپنے ایمان کا محاسبہ کرنا چاہیے ۔
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ جب دین کی نسبت کسی نبی کی طرف کی جائے جیسے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم دین عیسیٰ علیہ السلام دین موسیٰ علیہ السلام تو اس سے مراد نئی شریعت ہوتی ہے اور جب اسی دین کی اضافت ان کے ماننے والے کی طرف ہوتی ہے جیسے دین ابو بکر رضی اللہ عنہ دین اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تو اس سے مراد نئی شریعت نہیں ہوتی ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ایمان لانا اور اس پر چلنا مراد ہوتی ہے یعنی جس دین کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیروی کی وہ دین، دین محمدی ہے ایسے ہی جس دین کی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے کی نشرو اشاعت کی وہ دین، دین محمدی ہے۔
شبہ:
اب اس پر کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ دینی الاسلام میں دینی یعنی میرا دین کے بعد اس دین کی خبر بھی موجود ہے کہ وہ دین کوئی اور دین نہیں بلکہ دین اسلام ہی ہے لیکن اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت میں یہ بات موجود نہیں بلکہ وہاں تو صرف یہ لکھا ہے کہ میرا دین جو میری کتب سے ظاہر ہے یہاں تو اسلام کی بات ہی نہیں اس لیے اس کو دینی الاسلام سے استدلال کر کے ثابت کرنا صحیح نہیں ہوگا۔
ازالۂ شبہ ــــــــــــــــــــــــ
ہم کہتے ہیں معترض نے میری کتب پر غور نہیں کیا ورنہ اس کو یہ شبہ ہی نہیں ہوتا۔
قارئین اس کو یوں سمجھیں:
ایک شخص نے ایک پرچے میں لکھا:
اللہ ایک ہے، پاک اور بے عیب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل جلالہ کے بندے اور رسول ہیں، اور حضور ہی آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا جو یہ کہے کہ حضور کے بعد بھی نیا نبی آ سکتا ہے تو وہ کافر و مرتد ہو جائے گا۔
اب اس شخص نے جانکنی کے وقت اپنے بیٹے سے وصیت کرتے ہوئے ایک کاغذ میں لکھوایا کہ بیٹا میرا دین و مذہب وہی ہے جو اس پرچے سے ظاہر ہے تم بھی اسی پر قائم رہنا بلکہ اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
اب معترض بتائے کہ وصیت کرنے والے نے پرچے سے جو ظاہر ہے اسی کو اپنا دین و مذہب کہا ہے اور اسی پر قائم رہنے کو ہر فرض سے اہم فرض کہا ہے حالانکہ لفظ اسلام وصیت میں کہیں موجود نہیں ہے تو کیا وصیت کرنے والے کا اسے اپنا دین و مذہب کہنا صحیح نہیں ہوا؟
اگر معترض کہے کہ لفظ اسلام نہیں ہے اسی لیے اس کو دین و مذہب کہنا صحیح نہیں ہوگا تو معترض خود کافر ہو جائے گا کیونکہ اس پرچے میں لکھا ہے
اللہ ایک ہے پاک اور بے عیب ہے حضور آخری نبی ہیں
یہ دین و مذہب نہیں تو اور کیا ہے؟ جو اسے دین و مذہب نہ مانے خود کافر ہے
تو اس کا مطلب کیا ہوا یہی نا کہ اسلام کا لفظ اگر چہ وصیت میں موجود نہیں ہے لیکن پرچے میں جو بات لکھی ہے وہ ساری باتوں کو ماننے کا نام ہی اسلام ہے تو مطلب یہ ہوا وصیت کرنے والے نے گویا یہ کہا کہ بیٹا میرا دین و مذہب وہی ہے جو اس پرچے سے ظاہر ہے یعنی اسلام اور اسی پر یعنی اسلام پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
اب دیکھیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اب کتب سے کیا ظاہر ہے تو وہی ہے جسے اسلام کہتے ہیں یعنی اللہ پاک ہے، بے عیب ہے ، حضور آخری نبی ہیں، ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، حضور کا علم ساری مخلوق میں سب سے زیادہ ہے، اعلی حضرت کی کتابوں سے اسلام کی حقانیت ظاہر ہے ضروریات دین ضروریات اہل سنت موجود ہیں اور یہی اسلام ہے تو اس عبارت کو اب یوں بھی رکھ سکتے ہیں
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے یعنی اسلام اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
دینی الاسلام کو اب یوں رکھیے
میرا دین و مذہب مطلب: دینی
میری کتب سے ظاہر مطلب: الاسلام
یعنی دینی الاسلام
تو ثابت ہوا کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت کی صحت پر دلیل دینی الاسلام سے لانا بالکل صحیح ہے
خلاصہ کے طور پر اتنا سمجھیں کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:
میرا دین و مذہب
اب سوال یہ ہوگا کہ کونسا دین مذہب؟
تو جواب ہوگا وہ جو میری کتب سے ظاہر ہے۔
اب سوال یہ ہوگا کہ کتب سے کونسا مذہب ظاہر ہے؟
تو جواب ہوگا لامحالہ وہ مذہب اسلام ہے۔
اور مذہب اسلام پر قائم رہنا فرض قطعی ہے لہذا یہ ہر فرض سے اہم فرض ہوا اب اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ اعلی حضرت کی کتب سے کوئی دوسرا مذہب ظاہر ہے تو وہ ایک دلیل لے آئے کوئی ایک مسئلہ نکال کر پیش کرے جو اسلام کے خلاف ہو ہم کہہ دیتے ہیں بدمذہبوں کی ساری ذریت مل کر بھی اسلام کے خلاف کوئی ایک مسئلہ بھی نہیں دکھا سکتا۔
کتابوں کی قید کیوں لگائی؟ ـــــــــــــــــ
سوال:
ایک سوال اس پر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ یہ وصیت بھی فرما سکتے تھے کہ قرآن و احادیث پر سختی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تركتُ فيكم أمرين، لن تضلّوا ما تمسَّكتم بهما، كتاب الله وسُنَّة نبيه
[رواه مالك في الموطأ ٢/ ٨٩٩ بلاغاً]
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک ان دونوں کو پکڑے رہوگے ہر گز گمراہ نہیں ہوگے وہ ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ -جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم-
لیکن یہ نہ فرما کر فرمایا میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے آخر ایسا کیوں؟
جواب:
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ نبی پاک صلی علیہ وسلم نے قرآن سنت دونوں کو جمع فرمایا کر فرمایا ہے جو ان دونوں کو مضبوطی سے تھام لے گا وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن پڑھتے اور قرآن کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھتے وہ قرآن کی ایسی تشریح نہیں فرماتے جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی حدیث کے خلاف ہو ایسے ہی تابعین تبع تابعین ائمۂ مجتہدین کا منہج تفہیم رہا ائمۂ مجتہدین نے قرآن و حدیث سے مسائل کا استخراج فرمایا لیکن کبھی کسی مسئلے میں بھی قرآن و حدیث کے خلاف نہیں گئے۔
مگر پھر ایسا زمانہ آیا کہ کچھ شر پسندوں نے اپنی طرف سے قرآن کی شرح کی جس کی وجہ سے کئی فرقے وجود میں آئے
قارئین پر بخوبی واضح ہے کہ بد مذہب بھی قرآن پڑھتے ہیں تفسیر پڑھتے ہیں باوجود اس کے راہ حق پر نہیں ہیں کیا وجہ ہے؟
وجہ یہی ہے کہ وہ قرآن کو اپنے دماغ سے سمجھتے ہیں احادیث کی روشنی میں نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے قعر مذلت میں جا گرے۔ مثلا:
ابو الاعلیٰ مودودی نے قرآن کی تفسیر لکھی لیکن اسلام ہاتھ سے چھوٹ گیا وجہ کیا رہی؟
یہی کہ اس نے اپنے دماغ سے تفسیر کی حدیث سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جیسا کہ فتاوی تاج الشریعہ میں ہے:
ابوالاعلیٰ مودودی اپنے عقائدِ کفریہ کی وجہ سے کافر، مرتد، بد دین ہے، منجملہ اس کے عقائدِ کفریہ ہیں کہ وہ حدیث کا مطلقًا منکر ہے اور حدیث کا مطلقًا انکار کفر ہے۔
تنقیحات میں صاف لکھتا ہے:
’’کتاب و سنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر و حدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں‘‘۔[تنقیحات]
اس عبارت میں اس نے تفسیر و حدیث کا مطلق انکار کیا اور کتبِ تفسیر و حدیث کی توہین بھی کی اور ان کتب کی توہین ظاہر ہے کہ تفسیر و حدیث کی توہین ہے تو یہ دوہرا کفر ہوا
مودودی کا الٹا مذہب" مصنفہ مولانا محبوب علی خاں صاحب منگا کر دیکھیں اس میں اس کے بکثرت کفریات گنائے ہیں.
[فتاوی تاج الشریعہ جلد دوم ص: ٣١٥]
نیز دیکھیے ابو الاعلیٰ مودودی نے کس طرح تفسیر قرآن کو چھوڑ کر جدیدیت کو جگہ دی ہے تنقیحات میں ہے:
قرآن کے لیے کسی تفسیر کی حاجت نہیں۔ ایک اعلیٰ درجے کا پروفیسر کافی ہے جس نے قرآن کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا ہو اور جو طرز جدید پر قرآن پڑھانے اور سمجھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ وہ اپنے لیکچروں سے انٹر میڈیٹ میں طلبہ کے اندر قرآن فہمی کی ضروری استعداد پیدا کرے گا
[تنقیحات ص: ٢٢٩]
تنقیحات میں دوسری جگہ ہے:
میری تجاویز میں فرقی اختلافات کی گنجائش بہت کم ہے۔ تاہم اس باب میں علمائے شیعہ سے استصواب کیا جائے کہ وہ کس حد تک اس طرز تعلیم میں شیعہ طلبہ کو سنی طلبہ کے ساتھ رکھنا پسند کریں گے
[ تنقیحات ص : ٢٣٠ ]
اشرف علی تھانوی نے بھی تفسیر کی کتاب لکھی لیکن حفظ الایمان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو صبی مجنون کے علم سے تشبیہ دی اور کافر و مرتد ہو گیا
قاسم نانوتوی نے بھی قرآن پڑھا لیکن خاتم النبیین کا انکار کیا اور کافر و مرتد ہو گیا
تو سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں نے قرآن کیسے پڑھا حدیث کیسے پڑھی؟ ان لوگوں کی تو تفسیر و حدیث میں تصنیف بھی ملتی ہے پھر کافر و مرتد کیسے ہو گئے؟
یہی جواب ہوگا نا کہ ان لوگوں نے اپنی طبیعت کو شریعت پر غالب رکھا قرآن پڑھا ضرور لیکن احادیث کی روشنی میں قرآن نہیں سمجھا بلکہ طبیعت کی چاشنی میں سمجھا۔
آج بھی بہت ایسے لوگ ملیں گے جو تفسیر میں اپنا بے علم دماغ لگاتے ہیں اور مودودی کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں
دور نہ جائیے ٢٠٢٦ء ماہ جولائی میں ایک خطیب نے اپنے دماغ سے آیت کریمہ
لَن تَنَالُوا۟ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا۟ مِمَّا تُحِبُّونَۚ
[آل عمران ٩٢]
کی ذاتی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی محبوب شئی کو راہ خدا میں تین بار انفاق کیا پہلی مرتبہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اس وقت دوسری بار جب حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور تیسری بار جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اس وقت اپنی محبوب شئی کو راہ خدا میں انفاق کر دیا گویا خطیب صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خلافت کے حقدار حضرت علی تھے لیکن اپنی محبوب شئی خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پھر دوسری مرتبہ خلیفۂ ثانی اور تیسری مرتبہ خلیفۂ ثالث کو سونپ دی معاذ اللہ
یہ کھلی گمراہی ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قارئین دیکھیں قرآن وہی ہے لیکن اپنی من مانی تفسیر کرنے کی وجہ سے کوئی کافر و مرتد ہوا کوئی گمراہ ضال مضل ہوا
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے ان تمام باطل ذہنیت کی تعمیر کردہ عمارات کو منہدم کر دیا اور جو لوگ اہل سنت و جماعت میں عقائد باطلہ کی ملاوٹ کر رہے تھے ان کا پردہ چاک کیا اور خالص عقائد اہل سنت کو اپنی کتب میں قرآن و حدیث اقوال صحابہ و ائمہ کی روشنی میں ثابت کیا
اسی لیے امام نے فرمایا میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے کیونکہ آج کل باطل فرقے دین میں ملاوٹ بہت کر رہے ہیں اور وہ بھی قرآن و حدیث سناتے ہیں لیکن ان کا منشا عوام کو راہ راست سے نکال کر گمراہیت کی طرف لے جانا ہے
الزامی جواب ـــــــــــــــــــــ
اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی معترضین دیابنہ کو سکون نہ ملے اور یہی کہے کہ امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ کی عبارت کا مطلب نیا دین بنانا ہی ہے تو انھیں اپنے گھر کی خبر لینی چاہیے
دیکھیے صحبتے با اولیا ملفوظات مولانا محمد زکریا کاندھلوی میں مولانا تقی الدین ندوی مظاہری نے لکھا ہے :
ہمارے اکابر حضرت گنگوہی حضرت نانوتوی نے جو دین قائم کیا تھا اسے مضبوطی سے تھام لو
[صحبتے با اولیا ص: ١٣٥]
تو اب معترضین بتائیں کہ دین کس نے قائم کیا نیا دین کس نے بنایا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے یا ان کے اکابر نے ؟
بقول خود دیابنہ کے یہ لازم آیا کہ دیابنہ کا دین نیا دین ہے دیکھیے کیسے اپنے ہی منہ قبول دیا کہ دیابنہ کے رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی نے نیا دین قائم کیا۔
یہی وجہ ہے کہ سارے دیابنہ قرآن و حدیث چھوڑ کر طواغیت اربعہ اشرف علی تھانوی قاسم نانوتوی رشید احمد گنگوہی خلیل احمد انبیٹھوی کی پیروی کرتے ہیں انھیں لاکھ سمجھاؤ کہ ان لوگوں نے خاتم النبیین کا انکار کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو جانور کے علم سے تشبیہ دی شیطان کے علم سے کم بتایا، اللہ جل جلالہ کا جھوٹ بولنا ممکن مانا یہ سب قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہیں باوجود اس کے دیابنہ کہتے ہیں یہ سب صحیح ہیں کیونکہ نیا دین جو ٹھہرا معاذ اللہ رب العلمین
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
58
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط پنجم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط سوم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط چہارم] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط چہارم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط چہارم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

“جو میرا دین میری کتب سے ظاہر ہے” کی توضیح.ــــــــــــــــــ

شبہ:
بعض حضرات کو یہ شبہ گزرا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اُس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے”۔
{ وصایا شریف ص : ٢٠}
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کا دین الگ ہے اسی لیے کہا کہ “میرا دین” یہ نہیں کہا کہ دین اسلام جو قرآن و حدیث کی روشنی میں میری کتب سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے بلکہ اپنے بنائے ہوئے دین کی بات کی اور اس پر قائم رہنے کی تاکید کی اسی لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ مسلک اعلی حضرت ایک نیا مسلک ہے۔

ازالۂ شبہ ـــــــــــــــــ
معترض کو شبہ اس وجہ سے ہوا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ نے دین کی اضافت اپنی طرف کر کے فرمایا ہے کہ “میرا دین” اس سے نتیجہ معترض نے یہ نکالا کہ اس کا مطلب ہوا امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ کا اپنا الگ دین ہے معاذ اللہ
اگر یہی مان لیا جائے کہ دین کی اضافت اپنی طرف کر کے “میرا دین” کہنے کا مطلب “نیا دین” بنانا ہو جائے تو کوئی مسلمان ہی نہیں رہے گا کیونکہ نیا دین جو گڑھے گا وہ دین سے نکل جائے گا جیسے اکبر نے دین الٰہی نیا دین گڑھ لیا ایسے تو پوری دنیا میں مسلمان کا وجود ہی معدوم ہو جائے گا فقط نام کے ہی مسلمان رہ جائیں گے کیونکہ عام طور پر لوگ اپنی گفتگو میں کہتے ہیں “میرا دین سچا دین ہے” تو کیا وہ مسلمان نہیں رہا؟ کیا اس سے دین اسلام کو جھٹلانا لازم آیا؟ کیا وہ اکبر کی فہرست میں آ گیا؟
معاذ اللہ ہر گز نہیں بلکہ “میرا دین” کہنے سے مراد ہر شخص کی یہی ہوتی ہے کہ جس دین پر میں عمل پیرا ہوں وہ دین سب سے سچا ہے وہ اسلام ہے

حدیث شریف میں ہے:
قال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم و ذكَر قَبْضَ رُوحِ المُؤمِنِ فقال: يأتيه آتٍ، يعني في قَبْرِه، فيقولُ: مَن رَبُّكَ؟ وما دِينُكَ؟ ومَن نَبيُّكَ؟ فيقولُ: ربِّيَ اللهُ، ودِيني الإسلامُ، ونَبِيِّي مُحمَّدٌ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم
[صحیح البخاری. ١٣٦٩]
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم روح قبض کیے جانے کا ذکر فرمایا:
پھر فرمایا مرنے والے کی قبر میں ایک فرشتہ آتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے مَن رَبُّكَ؟ یعنی تیرا رب کون ہے؟ وما دِينُكَ؟ اور تیرا دین کیا ہے ومَن نَبيُّكَ؟ اور تیرا نبی کون ہے تو مرنے والا کہتا ہے: “ربی اللہ” یعنی میرا رب اللہ ہے “و دینی الاسلام” میرا دین اسلام ہے “و نبیی محمد صلی اللہ علیہ وسلم” اور میرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

قارئین کرام غور فرمائیں:
فرشتے کے پوچھنے پر بندۂ مومن یہ جواب دے گا کہ “میرا دین اسلام ہے” معلوم ہوا دین کی اضافت اپنی طرف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ دین کی اضافت جو اپنی طرف نہ کرے اس کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوگا ایمان مکمل ہی تب ہوتا ہے جب انسان یہ کہے کہ میرا دین یہ ہے انسان لاکھ کہے تیرا دین یہ ہے اس کا دین یہ ہے بلکہ یہ بھی کہے تیرا دین سچا ہے اس کا دین سچا ہے لیکن پھر بھی اتنا کہنا ایمان کے لیے کافی نہیں ہوگا بلکہ یہ کہنا پڑے گا کہ میرا دین سچا ہے اور وہ اسلام ہے
دیکھیے جناب ابو طالب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب تعریف کی لیکن دین محمدی کو اپنایا نہیں عار کی وجہ سے نار کو پسند کیا اسی لیے جمہور آج بھی ابو طالب کے ایمان کے قائل نہیں ہیں اگر وہ “دینی دین محمد” -صلی اللہ علیہ وسلم- کہتے تو ابو طالب کے ایمان پر کوئی کلام نہیں ہوتا۔

مطلب دین کو جب تک اپنا دین نہ مانے تب تک کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ہے لہذا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا “میرا دین” کہنا بالکل قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے البتہ جو دین اسلام کو “میرا دین” یعنی اپنا دین نہ کہے اس کو خود اپنے ایمان کا محاسبہ کرنا چاہیے ۔

اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ جب دین کی نسبت کسی نبی کی طرف کی جائے جیسے “دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم” “دین عیسیٰ علیہ السلام” “دین موسیٰ علیہ السلام” تو اس سے مراد نئی شریعت ہوتی ہے اور جب اسی دین کی اضافت ان کے ماننے والے کی طرف ہوتی ہے جیسے “دین ابو بکر رضی اللہ عنہ” “دین اعلی حضرت رضی اللہ عنہ” تو اس سے مراد نئی شریعت نہیں ہوتی ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ایمان لانا اور اس پر چلنا مراد ہوتی ہے یعنی جس دین کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیروی کی وہ دین، دین محمدی ہے ایسے ہی جس دین کی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے کی نشرو اشاعت کی وہ دین، دین محمدی ہے۔

شبہ:
اب اس پر کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ “دینی الاسلام” میں “دینی” یعنی “میرا دین” کے بعد اس دین کی خبر بھی موجود ہے کہ وہ دین کوئی اور دین نہیں بلکہ دین اسلام ہی ہے لیکن اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت میں یہ بات موجود نہیں بلکہ وہاں تو صرف یہ لکھا ہے کہ “میرا دین جو میری کتب سے ظاہر ہے” یہاں تو اسلام کی بات ہی نہیں اس لیے اس کو “دینی الاسلام” سے استدلال کر کے ثابت کرنا صحیح نہیں ہوگا۔

ازالۂ شبہ ــــــــــــــــــــــــ
ہم کہتے ہیں معترض نے “میری کتب” پر غور نہیں کیا ورنہ اس کو یہ شبہ ہی نہیں ہوتا۔
قارئین اس کو یوں سمجھیں:

ایک شخص نے ایک پرچے میں لکھا:
اللہ ایک ہے، پاک اور بے عیب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل جلالہ کے بندے اور رسول ہیں، اور حضور ہی آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا جو یہ کہے کہ حضور کے بعد بھی نیا نبی آ سکتا ہے تو وہ کافر و مرتد ہو جائے گا۔
اب اس شخص نے جانکنی کے وقت اپنے بیٹے سے وصیت کرتے ہوئے ایک کاغذ میں لکھوایا کہ بیٹا میرا دین و مذہب وہی ہے جو اس پرچے سے ظاہر ہے تم بھی اسی پر قائم رہنا بلکہ اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
اب معترض بتائے کہ وصیت کرنے والے نے پرچے سے جو ظاہر ہے اسی کو اپنا دین و مذہب کہا ہے اور اسی پر قائم رہنے کو ہر فرض سے اہم فرض کہا ہے حالانکہ لفظ اسلام وصیت میں کہیں موجود نہیں ہے تو کیا وصیت کرنے والے کا اسے اپنا دین و مذہب کہنا صحیح نہیں ہوا؟
اگر معترض کہے کہ لفظ اسلام نہیں ہے اسی لیے اس کو دین و مذہب کہنا صحیح نہیں ہوگا تو معترض خود کافر ہو جائے گا کیونکہ اس پرچے میں لکھا ہے
“اللہ ایک ہے پاک اور بے عیب ہے حضور آخری نبی ہیں”
یہ دین و مذہب نہیں تو اور کیا ہے؟ جو اسے دین و مذہب نہ مانے خود کافر ہے
تو اس کا مطلب کیا ہوا یہی نا کہ اسلام کا لفظ اگر چہ وصیت میں موجود نہیں ہے لیکن پرچے میں جو بات لکھی ہے وہ ساری باتوں کو ماننے کا نام ہی اسلام ہے تو مطلب یہ ہوا وصیت کرنے والے نے گویا یہ کہا کہ بیٹا میرا دین و مذہب وہی ہے جو اس پرچے سے ظاہر ہے یعنی اسلام اور اسی پر یعنی اسلام پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے

اب دیکھیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اب کتب سے کیا ظاہر ہے تو وہی ہے جسے اسلام کہتے ہیں یعنی اللہ پاک ہے، بے عیب ہے ، حضور آخری نبی ہیں، ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، حضور کا علم ساری مخلوق میں سب سے زیادہ ہے، اعلی حضرت کی کتابوں سے اسلام کی حقانیت ظاہر ہے ضروریات دین ضروریات اہل سنت موجود ہیں اور یہی اسلام ہے تو اس عبارت کو اب یوں بھی رکھ سکتے ہیں
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے یعنی اسلام اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
” دینی الاسلام” کو اب یوں رکھیے
میرا دین و مذہب مطلب: “دینی”
میری کتب سے ظاہر مطلب: “الاسلام”
یعنی “دینی الاسلام”
تو ثابت ہوا کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت کی صحت پر دلیل “دینی الاسلام” سے لانا بالکل صحیح ہے

خلاصہ کے طور پر اتنا سمجھیں کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:
میرا دین و مذہب
اب سوال یہ ہوگا کہ کونسا دین مذہب؟
تو جواب ہوگا وہ جو میری کتب سے ظاہر ہے۔
اب سوال یہ ہوگا کہ کتب سے کونسا مذہب ظاہر ہے؟
تو جواب ہوگا لامحالہ وہ مذہب اسلام ہے۔
اور مذہب اسلام پر قائم رہنا فرض قطعی ہے لہذا یہ ہر فرض سے اہم فرض ہوا اب اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ اعلی حضرت کی کتب سے کوئی دوسرا مذہب ظاہر ہے تو وہ ایک دلیل لے آئے کوئی ایک مسئلہ نکال کر پیش کرے جو اسلام کے خلاف ہو ہم کہہ دیتے ہیں بدمذہبوں کی ساری ذریت مل کر بھی اسلام کے خلاف کوئی ایک مسئلہ بھی نہیں دکھا سکتا۔

کتابوں کی قید کیوں لگائی؟ ـــــــــــــــــ

سوال:
ایک سوال اس پر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ یہ وصیت بھی فرما سکتے تھے کہ قرآن و احادیث پر سختی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تركتُ فيكم أمرين، لن تضلّوا ما تمسَّكتم بهما، كتاب الله وسُنَّة نبيه
[رواه مالك في “الموطأ” ٢/ ٨٩٩ بلاغاً]
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک ان دونوں کو پکڑے رہوگے ہر گز گمراہ نہیں ہوگے وہ ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ -جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم-

لیکن یہ نہ فرما کر فرمایا میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے آخر ایسا کیوں؟

جواب:
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ نبی پاک صلی علیہ وسلم نے قرآن سنت دونوں کو جمع فرمایا کر فرمایا ہے جو ان دونوں کو مضبوطی سے تھام لے گا وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن پڑھتے اور قرآن کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھتے وہ قرآن کی ایسی تشریح نہیں فرماتے جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی حدیث کے خلاف ہو ایسے ہی تابعین تبع تابعین ائمۂ مجتہدین کا منہج تفہیم رہا ائمۂ مجتہدین نے قرآن و حدیث سے مسائل کا استخراج فرمایا لیکن کبھی کسی مسئلے میں بھی قرآن و حدیث کے خلاف نہیں گئے۔

مگر پھر ایسا زمانہ آیا کہ کچھ شر پسندوں نے اپنی طرف سے قرآن کی شرح کی جس کی وجہ سے کئی فرقے وجود میں آئے
قارئین پر بخوبی واضح ہے کہ بد مذہب بھی قرآن پڑھتے ہیں تفسیر پڑھتے ہیں باوجود اس کے راہ حق پر نہیں ہیں کیا وجہ ہے؟
وجہ یہی ہے کہ وہ قرآن کو اپنے دماغ سے سمجھتے ہیں احادیث کی روشنی میں نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے قعر مذلت میں جا گرے۔ مثلا:
ابو الاعلیٰ مودودی نے قرآن کی تفسیر لکھی لیکن اسلام ہاتھ سے چھوٹ گیا وجہ کیا رہی؟
یہی کہ اس نے اپنے دماغ سے تفسیر کی حدیث سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جیسا کہ فتاوی تاج الشریعہ میں ہے:
“ابوالاعلیٰ مودودی اپنے عقائدِ کفریہ کی وجہ سے کافر، مرتد، بد دین ہے، منجملہ اس کے عقائدِ کفریہ ہیں کہ وہ حدیث کا مطلقًا منکر ہے اور حدیث کا مطلقًا انکار کفر ہے۔
“تنقیحات” میں صاف لکھتا ہے:
’’کتاب و سنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر و حدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں‘‘۔[تنقیحات]
اس عبارت میں اس نے تفسیر و حدیث کا مطلق انکار کیا اور کتبِ تفسیر و حدیث کی توہین بھی کی اور ان کتب کی توہین ظاہر ہے کہ تفسیر و حدیث کی توہین ہے تو یہ دوہرا کفر ہوا
“مودودی کا الٹا مذہب” مصنفہ مولانا محبوب علی خاں صاحب منگا کر دیکھیں اس میں اس کے بکثرت کفریات گنائے ہیں.
[فتاوی تاج الشریعہ جلد دوم ص: ٣١٥]

نیز دیکھیے ابو الاعلیٰ مودودی نے کس طرح تفسیر قرآن کو چھوڑ کر جدیدیت کو جگہ دی ہے “تنقیحات” میں ہے:
قرآن کے لیے کسی تفسیر کی حاجت نہیں۔ ایک اعلیٰ درجے کا پروفیسر کافی ہے جس نے قرآن کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا ہو اور جو طرز جدید پر قرآن پڑھانے اور سمجھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ وہ اپنے لیکچروں سے انٹر میڈیٹ میں طلبہ کے اندر قرآن فہمی کی ضروری استعداد پیدا کرے گا
[تنقیحات ص: ٢٢٩]

تنقیحات میں دوسری جگہ ہے:
میری تجاویز میں فرقی اختلافات کی گنجائش بہت کم ہے۔ تاہم اس باب میں علمائے شیعہ سے استصواب کیا جائے کہ وہ کس حد تک اس طرز تعلیم میں شیعہ طلبہ کو سنی طلبہ کے ساتھ رکھنا پسند کریں گے
[ تنقیحات ص : ٢٣٠ ]

اشرف علی تھانوی نے بھی تفسیر کی کتاب لکھی لیکن حفظ الایمان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو صبی مجنون کے علم سے تشبیہ دی اور کافر و مرتد ہو گیا

قاسم نانوتوی نے بھی قرآن پڑھا لیکن خاتم النبیین کا انکار کیا اور کافر و مرتد ہو گیا
تو سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں نے قرآن کیسے پڑھا حدیث کیسے پڑھی؟ ان لوگوں کی تو تفسیر و حدیث میں تصنیف بھی ملتی ہے پھر کافر و مرتد کیسے ہو گئے؟
یہی جواب ہوگا نا کہ ان لوگوں نے اپنی طبیعت کو شریعت پر غالب رکھا قرآن پڑھا ضرور لیکن احادیث کی روشنی میں قرآن نہیں سمجھا بلکہ طبیعت کی چاشنی میں سمجھا۔

آج بھی بہت ایسے لوگ ملیں گے جو تفسیر میں اپنا بے علم دماغ لگاتے ہیں اور مودودی کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں
دور نہ جائیے ٢٠٢٦ء ماہ جولائی میں ایک خطیب نے اپنے دماغ سے آیت کریمہ
لَن تَنَالُوا۟ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا۟ مِمَّا تُحِبُّونَۚ
[آل عمران ٩٢]
کی ذاتی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی محبوب شئی کو راہ خدا میں تین بار انفاق کیا پہلی مرتبہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اس وقت دوسری بار جب حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور تیسری بار جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اس وقت اپنی محبوب شئی کو راہ خدا میں انفاق کر دیا گویا خطیب صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خلافت کے حقدار حضرت علی تھے لیکن اپنی محبوب شئی خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پھر دوسری مرتبہ خلیفۂ ثانی اور تیسری مرتبہ خلیفۂ ثالث کو سونپ دی معاذ اللہ
یہ کھلی گمراہی ہے

قارئین دیکھیں قرآن وہی ہے لیکن اپنی من مانی تفسیر کرنے کی وجہ سے کوئی کافر و مرتد ہوا کوئی گمراہ ضال مضل ہوا
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے ان تمام باطل ذہنیت کی تعمیر کردہ عمارات کو منہدم کر دیا اور جو لوگ اہل سنت و جماعت میں عقائد باطلہ کی ملاوٹ کر رہے تھے ان کا پردہ چاک کیا اور خالص عقائد اہل سنت کو اپنی کتب میں قرآن و حدیث اقوال صحابہ و ائمہ کی روشنی میں ثابت کیا
اسی لیے امام نے فرمایا میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے کیونکہ آج کل باطل فرقے دین میں ملاوٹ بہت کر رہے ہیں اور وہ بھی قرآن و حدیث سناتے ہیں لیکن ان کا منشا عوام کو راہ راست سے نکال کر گمراہیت کی طرف لے جانا ہے

الزامی جواب ـــــــــــــــــــــ
اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی معترضین دیابنہ کو سکون نہ ملے اور یہی کہے کہ امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ کی عبارت کا مطلب نیا دین بنانا ہی ہے تو انھیں اپنے گھر کی خبر لینی چاہیے
دیکھیے “صحبتے با اولیا” ملفوظات مولانا محمد زکریا کاندھلوی میں مولانا تقی الدین ندوی مظاہری نے لکھا ہے :
“ہمارے اکابر حضرت گنگوہی حضرت نانوتوی نے جو دین قائم کیا تھا اسے مضبوطی سے تھام لو”
[صحبتے با اولیا ص: ١٣٥]
تو اب معترضین بتائیں کہ دین کس نے قائم کیا نیا دین کس نے بنایا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے یا ان کے اکابر نے ؟
بقول خود دیابنہ کے یہ لازم آیا کہ دیابنہ کا دین نیا دین ہے دیکھیے کیسے اپنے ہی منہ قبول دیا کہ دیابنہ کے رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی نے نیا دین قائم کیا۔
یہی وجہ ہے کہ سارے دیابنہ قرآن و حدیث چھوڑ کر طواغیت اربعہ اشرف علی تھانوی قاسم نانوتوی رشید احمد گنگوہی خلیل احمد انبیٹھوی کی پیروی کرتے ہیں انھیں لاکھ سمجھاؤ کہ ان لوگوں نے خاتم النبیین کا انکار کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو جانور کے علم سے تشبیہ دی شیطان کے علم سے کم بتایا، اللہ جل جلالہ کا جھوٹ بولنا ممکن مانا یہ سب قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہیں باوجود اس کے دیابنہ کہتے ہیں یہ سب صحیح ہیں کیونکہ نیا دین جو ٹھہرا معاذ اللہ رب العلمین
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

Scan this QR code to read online:

QR Code