صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط سوم]
تحقیق و تعاقب

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط سوم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط سوم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مسلک اور مذہب میں فرق ؟ ــــــــــــــــ
شبہات:
بعض حضرات اس طرح کے سوال کرتے ہیں کہ مسلک اور مذہب میں کیا فرق ہے ؟
اگر کوئی فرق نہیں ہے تو پھر بتائیے کہ کیا یہ مذہب پانچواں مذہب نہیں ہوا ؟ جب کہ چار مذاہب پر اجماع قائم ہو چکا ہے؟ تو کیا مسلک اعلی حضرت یعنی مذہب اعلی حضرت بولنے سے خرق اجماع نہیں ہوا؟
ازالۂ شبہات:
سلك، يسلك کا اسم ظرف مسلک کا معنی راستہ، طریقہ،چلنے کی جگہ ہے
کہا جاتا ہے خذ فی مسالك الحق حق کی راہوں پر چلو
ایسے ہی ذھب، یذھب کا اسم ظرف مذہب کا معنی ہے طریقہ، روش، راستہ، گزرنے کی جگہ
تو پتہ چلا مذہب، مسلک، صراط سب ہم معنی ہیں اور بغیر اضافت کے اس کا معنی مرادی متعین نہیں ہوگا کیونکہ مسلک تمام راستوں پر بولا جا سکتا ہے ایسے ہی مذہب اور صراط کا بھی تمام راہوں پر اطلاق جائز ہے اسی لیے اس کا معنی مراد اسی وقت متعین ہوگا جب اس کا مضاف الیہ ظاہر ہو جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے قرآن میں فرمایا:
صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠
ترجمۂ کنز الایمان: راستہ اُن کا جن پر تُو نے احسان کیا،نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔
دیکھیے یہاں صراط کی اضافت جماعتِ انعمت علیھم یعنی صالحین اور جماعتِ غیر المغضوب و لا الضالین کی طرف کی گئی ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ صراط سے کونسا صراط مراد ہے؟
مسلک اور مذہب سے کونسا مسلک یا مذہب مراد ہے؟
اس کی تعیین اسی وقت ہوگی جب یہ الفاظ کسی کی طرف مضاف ہوں ورنہ ہر گز معنی کی تعیین نہیں ہو سکتی ہے
تو معلوم ہوا جب مذہب کی اضافت اسلام کی طرف ہو جیسے مذہب اسلام تو اس سے مراد اللہ جل جلالہ کا دین ہوگا اور جب کہا جائے مذہب اہل سنت و جماعت تو اس سے بھی مراد وہی مذہب اسلام اللہ جل جلالہ کا دین ہوگا کیونکہ اسی دین کو اغیار سے امتیاز کے لیے مذہب اہل سنت کہا گیا اور اسی کو مسلک اہل سنت بھی کہا جاتا ہے اور اس سے ذہن معتقدات کی طرف متبادر ہوتا ہے
اور جب مذہب حنفی یا مذہب شافعی، مذہب مالکی، مذہب حنبلی کہا جائے تو اس سے ذہن فوراً مسائل فروعیہ کی طرف متبادر ہوتا ہے
اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے جو مذہب مضاف کے طور پر استعمال ہوا وہ معتقدات کے لیے ہوا اور جب چاروں امام کی طرف مذہب مضاف ہوا تو فروعیات کے لیے ہوا اور یہ پہلے واضح ہو چکا کہ مذہب کا معنی مرادی مضاف الیہ سے ہی متعین ہوگا
تو جب مذہب اہل سنت کہا جاتا ہے یا مسلک اہل سنت کہا جاتا ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ یہ پانچواں مذہب ہے بلکہ وہ یہی سمجھتا ہے یہاں مسلک سے مراد معتقدات اسلام ہے اور مذاہب اربعہ مذہب اہل سنت یعنی سواد اعظم کی چار شاخیں ہیں
اور مسلک اعلی حضرت مسلک اہل سنت کا دوسرا نام ہے تو پتہ چلا کہ مسلک اعلی حضرت فروعی مسائل میں کوئی پانچواں مذہب نہیں ہے بلکہ وہ اہل سنت کا دوسرا نام ہے اور اسی کی شاخ چاروں مذاہب ہیں
قارئین اسے یوں سمجھیں :
فرض کریں ایک آدمی ہے اس کا نام ہے عبد اللہ اس کی چار اولاد ہیں ایک کا نام ہے زید رضا حنفی، دوسرے کا نام ہے عمر رضا شافعی، تیسرے کا نام ہے بکر رضا مالکی، اور چوتھے کا نام ہے خالد رضا حنبلی سب اچھی طرح ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے لیکن جس گاؤں میں یہ لوگ رہ رہے تھے اسی گاؤں میں نجد سے ایک آدمی آیا اس کا بھی نام عبد اللہ تھا اور اس کے بھی چار بیٹے تھے ایک کا نام اسمعیل وہابی، دوسرے کا نام قاسم قادیانی، تیسرے کا نام اشرف دیوبندی، اور چوتھے کا نام رشید نیچری اور یہ باپ بیٹے اسی گاؤں میں رہنے لگے ۔
اب پریشانی یہ ہو گئی کہ زید، خالد، بکر، عمر سے کوئی پوچھتا کہ تم کس کے بیٹے ہو تو کہتا عبد اللہ تو پھر سوال یہ ہوتا کہ کون عبد اللہ وہ جو نجد سے آیا ہے یا پھر وہ جو اسی گاؤں کا باشندہ ہے یہ سلسلہ روز بڑھتا گیا یہاں تک چاروں بیٹوں نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ ہم لوگ جب بولتے ہیں کہ ہم عبد اللہ کہ بیٹے ہیں تو لوگ سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ کون عبد اللہ؟ پھر صفائی دینی پڑتی ہے تب جا کر لوگ سمجھتے ہیں
تو باپ نے کہا ایسا کرو تم لوگ عبد اللہ نام مت بتایا کرو بلکہ یہ بولا کرو کہ میں شہد والے کا بیٹا ہوں کیونکہ پورے گاؤں میں مجھے لوگ شھد والے کے نام سے جانتے ہیں اور پورے گاؤں میں شہد کی دکان صرف میری ہے تو تم کہنا کہ شہد والے کا بیٹا ہوں اب جب بھی کوئی ان چاروں بھائیوں سے پوچھتا کہ تم کس کے بیٹے ہو تو وہ کہ دیتا میں شہد والے کا بیٹا ہوں لوگ سمجھ جاتے کہ اچھا اچھا شہد والے کا بیٹا ہے تب تو بہت اچھا لڑکا ہوگا کیونکہ اس کا باپ بہت ایماندار ہے شہد میں ملاوٹ نہیں کرتا ہے
قارئین غور فرمائیں!
عبد اللہ کو پہچان کے لیے شھد والا کہا جانے لگا تو کیا کوئی یہ اعتراض کرے گا کہ عبد اللہ کے تو چار ہی بیٹے تھے زید ، بکر ، عمر ، خالد لیکن یہ پانچواں بیٹا شہد والا کہاں سے آ گیا ؟
یہ اعتراض کوئی نہیں کر سکتا مگر وہی کرے گا جس کا علم صبی مجنون کی طرح ہو یا وہ جسے اصول اور فروع میں فرق معلوم نہ ہو۔
ہاں جوابا اس سے یہی کہا جائے گا کہ شہد والا کوئی عبد اللہ کا بیٹا نہیں بلکہ عبد اللہ ہی کو خط امتیاز کے طور پر شہد والا کہا جاتا ہے
یہ کہاوت فقط تفہیم و افہام کے لیے ہے تاکہ قارئین سمجھ سکیں کہ کس طرح بد مذہب بھولے بھالے سنیوں کو بہکانے کے لیے حربے استعمال کرتے ہیں
تو جان لیجیے! جس طرح یہاں عبد اللہ کو شہد والا کہنے سے پانچواں بیٹا نہیں سمجھا جا سکتا تو ایسے ہی مسلک اہل سنت کو مسلک اعلی حضرت کہنے سے پانچواں مذہب نہیں سمجھا جا سکتا اور جب یہ پانچواں مذہب نہیں ہوا تو خرق اجماع بھی نہیں ہوا
مسلک و مذہب ہم معنی ہیں اس کی تائید فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے درج ذیل اقتباس سے بھی ہوتی ہے مقالات شارح بخاری میں ہے:
ان سب خدمات کو دیکھتے ہوئے مذہب اہل سنت کا دوسرا نام مسلک اعلی حضرت ہے
[مقالات شارح بخاری جلد دوم ص : ٣٢٦]
نیز فتاوی شارح بخاری میں ایک استفتا کے جواب میں ارقام فرماتے ہیں:
اس جاہل پیر سے کہیے کہ حضرت امام اعظم بھی رسول اللہ ﷺ کے مسلک پر تھے ، تو مسلک امام اعظم کہنا بھی صحیح نہیں ہے اس نے بھی غلط کہا، اس کو مسلک رسول اللہ کہنا چاہیے۔ مسلک اور مذہب کے ایک ہی معنی ہیں۔
یہ جاہل پیر ہمارے اس سوال کا جواب دے گا اسی سے مسلک اعلی حضرت کہنے کا بھی جواز ثابت ہو جائے گا۔ آپ اس جاہل پیر سے سوال کر کے چھوڑ دیں، اور آگے جو کچھ میں لکھوا رہا ہوں اسے اپنے ذہن میں محفوظ کر لیں ، اس زمانے میں دیوبندی اکثر مودودی بہت سے نیچیری حتی کہ قادیانی بھی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں، یعنی حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے مسلک کا پابند۔ اس لیے حنفی یا مسلک امام اعظم کہنے سے ان بدمذہبوں اور اہل سنت کے مابین امتیاز نہ ہو سکے گا۔ ان تمام گمراہ فرقوں سے امتیاز لفظ مسلک اعلیٰ حضرت ہی سے ہوتا ہے۔ اس لیے اہل سنت اپنے آپ کو مسلک اعلی حضرت کے ماننے والے کہتے ہیں، جیسے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کے عہد پاک میں رافضی، ناصبی، خارجی، قدری وغیرہ گمراہ فرقے پیدا ہو چکے تھے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے ۔ ان سے امتیاز کے لیے مذہب امام اعظم ، مسلک امام اعظم کا نعرہ دیا۔ اسی طرح اس زمانے میں بدمذہبوں سے امتیاز کے لیے مسلک اعلی حضرت کہا جاتا ہے ۔
[فتاوی شارح بخاری جلد سوم ص : ٣٧٧]
مسلک اعلی حضرت کیا ہےـــــــــ____ـــــــــ
ضروریات دین، ضروریات اہل سنت یعنی مسلک اہل سنت پر سچے طریقے سے قائم رہنے کا نام مسلک اعلی حضرت ہے
خود امام اہل سنت فرماتے ہیں:
بھیڑئیے تمہارے چاروں طرف ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں بھگا دیں تمہیں فتنے میں ڈال دیں ، تمہیں اپنے ساتھ جہنم میں لے جائیں ۔ اُن سے بچو اور دور بھاگو دیوبندی ہوئے رافضی ہوئے نیچری ہوئے قادیانی ہوئے چکڑالوی ہوئے غرض کتنے ہی فرقے ہوئے اور اب سب سے نئے گاندھوی ہوئے جنہوں نے ان سب کو اپنے اندر لے لیا یہ سب بھیڑیے ہیں تمہارے ایمان کی تاک میں ہیں اُن کے حملوں سے اپنا ایمان بچاؤ ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رب العزت جل جلاله کے نور ہیں ، حضور سے صحابہ روشن ہوئے اُن سے تابعین روشن ہوئے تابعین سے تبع تابعین روشن ہوئے اُن سے ائمۂ مجتہدین روشن ہوئے اُن سے ہم روشن ہوئے اب ہم تم سے کہتے ہیں یہ نور ہم سے لو ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ تم ہم سے روشن ہو ۔ وہ نور یہ ہے کہ اللہ و رسول کی سچی محبت اُن کی تعظیم اور ان دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم اور ان کے دشمنوں سے سچی عداوت،
جس سے اللہ و رسول کی شان میں ادنی توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو فوراً اُس سے جدا ہو جاؤ جس کو بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اُسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو۔
{وصایا شریف ص : ١٢}
اس اقتباس میں حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے کیا درس دیا یہی نا کہ جان میں جب تک جان ہے دین متین پر مظبوطی سے قائم رہنا ہے اور یہی حکم ہمیں قرآن دیتا ہے چنانچہ فرمان الٰہی ہے:
وَٱعۡتَصِمُوا۟ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِیعࣰا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ۚ [آل عمران ١٠٣]
ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا
اور کیا درس دیا یہی نا کہ جسے بھی اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں گستاخ پاؤ اس سے فورا جدا ہو جائے یہ بھی فرمان الٰہی ہے چنانچہ قرآن میں ہے:
لَّا تَجِدُ قَوۡمࣰا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ یُوَاۤدُّونَ مَنۡ حَاۤدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوۤا۟ ءَابَاۤءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَاۤءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَ ٰ⁠نَهُمۡ أَوۡ عَشِیرَتَهُمۡۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ كَتَبَ فِی قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِیمَـٰنَ وَأَیَّدَهُم بِرُوحࣲ مِّنۡهُۖ وَیُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتࣲ تَجۡرِی مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَـٰرُ خَـٰلِدِینَ فِیهَاۚ رَضِیَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوا۟ عَنۡهُۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَاۤ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ [المجادلة ٢٢]
ترجمۂ کنز الایمان:
تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے اُن کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں اُن میں ہمیشہ رہیں اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے
بتائیے کیا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے قرآن سے ہٹ کر کوئی اپنی رائے قائم فرمائی ہر گز نہیں ہر گز نہیں بلکہ وہی فرمایا جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور تمام عمر اسی کی نشر و اشاعت کرتے رہے۔
دین میں جو لوگ ملاوٹ کر رہے تھے حضور کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کر رہے تھے حضور کے علم پاک کو پاگلوں بچوں کے علم سے ملا رہے تھے شیطان لعین کے علم کو حضور کے علم پاک سے زیادہ بتا رہے تھے ایسے فتنہ پرور دین کے غداروں کو بے نقاب کیا حسام الحرمین لکھ کر ان گستاخان خدا و رسول کی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی اور اس پر علماء عرب و عجم نے مہر ثبت فرمایا،
اور فرمایا جو ان مرتدین کے کفر و عذاب میں شک بھی کرے تو وہ انھیں کی طرح کافر ہے
حَتَّىٰ یَمِیزَ ٱلۡخَبِیثَ مِنَ ٱلطَّیِّبِۗ [آل عمران ١٧٩]
حق کا انکشاف کیا دین و ملت کی نشر و اشاعت کے لیے ایک ہزار سے زائد کتابیں تصنیف فرمائیں جس سے باطل قوتیں بلبلا اٹھیں یہاں تک حق اور باطل میں فرق سورج سے بھی زیادہ روشن ہو گیا اسی لیے امام نے فرمایا:
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اُس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔
{ وصایا شریف ص : ٢٠}
اب امام کی کتابیں اٹھائیے اور پڑھتے چلے جائیے الامن و العلی لناعتی المصطفی، حسام الحرمین، فتاوی الحرمین، الکوکبۃ الشھابیہ، سبحان السبوح، سل السیوف الہندیہ، اعتقاد الاحباب، تجلی الیقین، الدولۃ المکیہ، رد الرفضہ، السوء و العقاب، تمہید ایمان، مجموعۂ فتاوی جات العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ وغیرھم تمام کتابوں میں ہر مسئلہ قرآن و احادیث اقوال صحابہ ائمہ مجتہدین کی اصول و توضیحات کے مطابق ہیں قیامت آ سکتی ہے لیکن کوئی ایک مسئلہ بھی قرآن و حدیث کے خلاف ثابت نہیں کر سکتا کتنوں نے طبع آزمائی بھی کی لیکن ان سب کو اپنی منہ کی کھانی پڑی۔
سب ان سے جلنے والوں کے گل ہو گئے چراغ
احمد رضا کی شمع فروزاں ہے آج بھی
اسی لیے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ قرآن و حدیث اقوال صحابہ و ائمۂ کلام کے عطر مجموعہ کا نام مسلک اعلی حضرت ہے اور یہ وہی مسلک ہے جسے مسلک اہل سنت و جماعت کہا جاتا ہے
چنانچہ مرشد بر حق سرکار تاج الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی اختر رضا خان قادری بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بلا شبہ مسلک اعلیٰ حضرت اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ مسلک اہل سنت کا دوسرا نام اور اس کی صحیح پہچان ہے اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کا اس زمانے میں نشان ہے۔ اس سے منع کرنا حق و باطل کا امتیاز مٹانا ہے اور اتحاد کے بہانے انتشار و افتراق پھیلانا اور سنیوں کا برا چاہنا ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص : ٢١٣]
نیز فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ رقم طراز ہیں:
مسلک اعلیٰ حضرت کوئی نیا مسلک اور دین نہیں ، مسلک اعلیٰ حضرت حقیقت میں سوار اعظم اہل سنت و جماعت کے اس طریقہ مرضیہ و متوارثہ کا نام ہے جو عہد رسالت سے لے کر آج تک سواد اعظم کا مسلک ہے، جو ھی الجماعۃ اور ما انا علیہ واصحابی کا مصداق ہے۔
[مقالات شارح بخاری جلد دوم ص: ٣٢٦]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
نیز فتاوی شارح بخاری جلد سوم میں ہے:
مسلک اعلیٰ حضرت وہی مسلک اور مذہب ہے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے اور انھیں عقائد و اعمال کا نام ہے جو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا، جسے صحابہ کرام سے تابعین نے لیا تھا، تابعین سے تبع تابعین نے لیا، اور قرنا بعد قرن اسلاف سے منتقل ہوتا ہوا آرہا ہے ۔ جو سرکار غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اور تمام اولیاء کرام و علمائے اہل سنت کا تھا۔ انہیں عقائد و اعمال کی اشاعت اپنے عہد میں مجدد اعظم اعلی حضرت قدس سرو نے فرمائی۔ صرف دیو بندیوں ، مودودیوں، وہابیوں صلح کلیوں سے امتیاز کے لیے اس کا نام مسلک اعلیٰ حضرت رکھا گیا۔
[فتاوی شارح بخاری جلد سوم ص : ٣٧٥]
حضور شیر بہار علامہ مفتی اسلم رضوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
انصاف کی بات یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کا مسلک کسی خود ساختہ دین سے عبارت نہیں ۔ بلکہ وہ کما حقہ دین اسلام کے ہم معنی ، مذہب اہل سنت و جماعت کی درخشاں تصویر ہے۔ ہمارے اس دعوے کا ثبوت خود اعلیٰ حضرت کی زندہ و جاوید خدمات و تصنیفات ہیں جن کا ایک ایک گوشہ حب خدا و رسول سے لبریز اور معارف و حقائق کا حیرت انگیز نمونہ پیش کر رہا ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص : ٣٠١]۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
50
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط چہارم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دوم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط سوم] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط سوم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط سوم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

مسلک اور مذہب میں فرق ؟ ــــــــــــــــ

شبہات:
بعض حضرات اس طرح کے سوال کرتے ہیں کہ مسلک اور مذہب میں کیا فرق ہے ؟
اگر کوئی فرق نہیں ہے تو پھر بتائیے کہ کیا یہ مذہب پانچواں مذہب نہیں ہوا ؟ جب کہ چار مذاہب پر اجماع قائم ہو چکا ہے؟ تو کیا مسلک اعلی حضرت یعنی مذہب اعلی حضرت بولنے سے خرق اجماع نہیں ہوا؟

ازالۂ شبہات:
سلك، يسلك کا اسم ظرف مسلک کا معنی راستہ، طریقہ،چلنے کی جگہ ہے
کہا جاتا ہے “خذ فی مسالك الحق” حق کی راہوں پر چلو
ایسے ہی ذھب، یذھب کا اسم ظرف مذہب کا معنی ہے طریقہ، روش، راستہ، گزرنے کی جگہ
تو پتہ چلا مذہب، مسلک، صراط سب ہم معنی ہیں اور بغیر اضافت کے اس کا معنی مرادی متعین نہیں ہوگا کیونکہ مسلک تمام راستوں پر بولا جا سکتا ہے ایسے ہی مذہب اور صراط کا بھی تمام راہوں پر اطلاق جائز ہے اسی لیے اس کا معنی مراد اسی وقت متعین ہوگا جب اس کا مضاف الیہ ظاہر ہو جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے قرآن میں فرمایا:
صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠
ترجمۂ کنز الایمان: راستہ اُن کا جن پر تُو نے احسان کیا،نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔

دیکھیے یہاں صراط کی اضافت جماعتِ “انعمت علیھم” یعنی صالحین اور جماعتِ “غیر المغضوب و لا الضالین” کی طرف کی گئی ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ صراط سے کونسا صراط مراد ہے؟
مسلک اور مذہب سے کونسا مسلک یا مذہب مراد ہے؟
اس کی تعیین اسی وقت ہوگی جب یہ الفاظ کسی کی طرف مضاف ہوں ورنہ ہر گز معنی کی تعیین نہیں ہو سکتی ہے
تو معلوم ہوا جب مذہب کی اضافت اسلام کی طرف ہو جیسے مذہب اسلام تو اس سے مراد اللہ جل جلالہ کا دین ہوگا اور جب کہا جائے مذہب اہل سنت و جماعت تو اس سے بھی مراد وہی مذہب اسلام اللہ جل جلالہ کا دین ہوگا کیونکہ اسی دین کو اغیار سے امتیاز کے لیے مذہب اہل سنت کہا گیا اور اسی کو مسلک اہل سنت بھی کہا جاتا ہے اور اس سے ذہن معتقدات کی طرف متبادر ہوتا ہے
اور جب مذہب حنفی یا مذہب شافعی، مذہب مالکی، مذہب حنبلی کہا جائے تو اس سے ذہن فوراً مسائل فروعیہ کی طرف متبادر ہوتا ہے

اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے جو مذہب مضاف کے طور پر استعمال ہوا وہ معتقدات کے لیے ہوا اور جب چاروں امام کی طرف مذہب مضاف ہوا تو فروعیات کے لیے ہوا اور یہ پہلے واضح ہو چکا کہ مذہب کا معنی مرادی مضاف الیہ سے ہی متعین ہوگا

تو جب مذہب اہل سنت کہا جاتا ہے یا مسلک اہل سنت کہا جاتا ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ یہ پانچواں مذہب ہے بلکہ وہ یہی سمجھتا ہے یہاں مسلک سے مراد معتقدات اسلام ہے اور مذاہب اربعہ مذہب اہل سنت یعنی سواد اعظم کی چار شاخیں ہیں
اور مسلک اعلی حضرت مسلک اہل سنت کا دوسرا نام ہے تو پتہ چلا کہ مسلک اعلی حضرت فروعی مسائل میں کوئی پانچواں مذہب نہیں ہے بلکہ وہ اہل سنت کا دوسرا نام ہے اور اسی کی شاخ چاروں مذاہب ہیں

قارئین اسے یوں سمجھیں :
فرض کریں ایک آدمی ہے اس کا نام ہے عبد اللہ اس کی چار اولاد ہیں ایک کا نام ہے زید رضا حنفی، دوسرے کا نام ہے عمر رضا شافعی، تیسرے کا نام ہے بکر رضا مالکی، اور چوتھے کا نام ہے خالد رضا حنبلی سب اچھی طرح ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے لیکن جس گاؤں میں یہ لوگ رہ رہے تھے اسی گاؤں میں نجد سے ایک آدمی آیا اس کا بھی نام عبد اللہ تھا اور اس کے بھی چار بیٹے تھے ایک کا نام اسمعیل وہابی، دوسرے کا نام قاسم قادیانی، تیسرے کا نام اشرف دیوبندی، اور چوتھے کا نام رشید نیچری اور یہ باپ بیٹے اسی گاؤں میں رہنے لگے ۔

اب پریشانی یہ ہو گئی کہ زید، خالد، بکر، عمر سے کوئی پوچھتا کہ تم کس کے بیٹے ہو تو کہتا عبد اللہ تو پھر سوال یہ ہوتا کہ کون عبد اللہ وہ جو نجد سے آیا ہے یا پھر وہ جو اسی گاؤں کا باشندہ ہے یہ سلسلہ روز بڑھتا گیا یہاں تک چاروں بیٹوں نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ ہم لوگ جب بولتے ہیں کہ ہم عبد اللہ کہ بیٹے ہیں تو لوگ سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ کون عبد اللہ؟ پھر صفائی دینی پڑتی ہے تب جا کر لوگ سمجھتے ہیں
تو باپ نے کہا ایسا کرو تم لوگ عبد اللہ نام مت بتایا کرو بلکہ یہ بولا کرو کہ میں شہد والے کا بیٹا ہوں کیونکہ پورے گاؤں میں مجھے لوگ شھد والے کے نام سے جانتے ہیں اور پورے گاؤں میں شہد کی دکان صرف میری ہے تو تم کہنا کہ شہد والے کا بیٹا ہوں اب جب بھی کوئی ان چاروں بھائیوں سے پوچھتا کہ تم کس کے بیٹے ہو تو وہ کہ دیتا میں شہد والے کا بیٹا ہوں لوگ سمجھ جاتے کہ اچھا اچھا شہد والے کا بیٹا ہے تب تو بہت اچھا لڑکا ہوگا کیونکہ اس کا باپ بہت ایماندار ہے شہد میں ملاوٹ نہیں کرتا ہے

قارئین غور فرمائیں!
عبد اللہ کو پہچان کے لیے شھد والا کہا جانے لگا تو کیا کوئی یہ اعتراض کرے گا کہ عبد اللہ کے تو چار ہی بیٹے تھے زید ، بکر ، عمر ، خالد لیکن یہ پانچواں بیٹا شہد والا کہاں سے آ گیا ؟
یہ اعتراض کوئی نہیں کر سکتا مگر وہی کرے گا جس کا علم صبی مجنون کی طرح ہو یا وہ جسے اصول اور فروع میں فرق معلوم نہ ہو۔

ہاں جوابا اس سے یہی کہا جائے گا کہ شہد والا کوئی عبد اللہ کا بیٹا نہیں بلکہ عبد اللہ ہی کو خط امتیاز کے طور پر شہد والا کہا جاتا ہے
یہ کہاوت فقط تفہیم و افہام کے لیے ہے تاکہ قارئین سمجھ سکیں کہ کس طرح بد مذہب بھولے بھالے سنیوں کو بہکانے کے لیے حربے استعمال کرتے ہیں
تو جان لیجیے! جس طرح یہاں عبد اللہ کو شہد والا کہنے سے پانچواں بیٹا نہیں سمجھا جا سکتا تو ایسے ہی مسلک اہل سنت کو مسلک اعلی حضرت کہنے سے پانچواں مذہب نہیں سمجھا جا سکتا اور جب یہ پانچواں مذہب نہیں ہوا تو خرق اجماع بھی نہیں ہوا
مسلک و مذہب ہم معنی ہیں اس کی تائید فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے درج ذیل اقتباس سے بھی ہوتی ہے مقالات شارح بخاری میں ہے:
“ان سب خدمات کو دیکھتے ہوئے مذہب اہل سنت کا دوسرا نام مسلک اعلی حضرت ہے”
[مقالات شارح بخاری جلد دوم ص : ٣٢٦]

نیز فتاوی شارح بخاری میں ایک استفتا کے جواب میں ارقام فرماتے ہیں:
اس جاہل پیر سے کہیے کہ حضرت امام اعظم بھی رسول اللہ ﷺ کے مسلک پر تھے ، تو مسلک امام اعظم کہنا بھی صحیح نہیں ہے اس نے بھی غلط کہا، اس کو مسلک رسول اللہ کہنا چاہیے۔ مسلک اور مذہب کے ایک ہی معنی ہیں۔
یہ جاہل پیر ہمارے اس سوال کا جواب دے گا اسی سے مسلک اعلی حضرت کہنے کا بھی جواز ثابت ہو جائے گا۔ آپ اس جاہل پیر سے سوال کر کے چھوڑ دیں، اور آگے جو کچھ میں لکھوا رہا ہوں اسے اپنے ذہن میں محفوظ کر لیں ، اس زمانے میں دیوبندی اکثر مودودی بہت سے نیچیری حتی کہ قادیانی بھی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں، یعنی حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے مسلک کا پابند۔ اس لیے حنفی یا مسلک امام اعظم کہنے سے ان بدمذہبوں اور اہل سنت کے مابین امتیاز نہ ہو سکے گا۔ ان تمام گمراہ فرقوں سے امتیاز لفظ مسلک اعلیٰ حضرت ہی سے ہوتا ہے۔ اس لیے اہل سنت اپنے آپ کو مسلک اعلی حضرت کے ماننے والے کہتے ہیں، جیسے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کے عہد پاک میں رافضی، ناصبی، خارجی، قدری وغیرہ گمراہ فرقے پیدا ہو چکے تھے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے ۔ ان سے امتیاز کے لیے مذہب امام اعظم ، مسلک امام اعظم کا نعرہ دیا۔ اسی طرح اس زمانے میں بدمذہبوں سے امتیاز کے لیے مسلک اعلی حضرت کہا جاتا ہے ۔
[فتاوی شارح بخاری جلد سوم ص : ٣٧٧]

مسلک اعلی حضرت کیا ہےـــــــــ____ـــــــــ

ضروریات دین، ضروریات اہل سنت یعنی مسلک اہل سنت پر سچے طریقے سے قائم رہنے کا نام مسلک اعلی حضرت ہے
خود امام اہل سنت فرماتے ہیں:
بھیڑئیے تمہارے چاروں طرف ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں بھگا دیں تمہیں فتنے میں ڈال دیں ، تمہیں اپنے ساتھ جہنم میں لے جائیں ۔ اُن سے بچو اور دور بھاگو دیوبندی ہوئے رافضی ہوئے نیچری ہوئے قادیانی ہوئے چکڑالوی ہوئے غرض کتنے ہی فرقے ہوئے اور اب سب سے نئے گاندھوی ہوئے جنہوں نے ان سب کو اپنے اندر لے لیا یہ سب بھیڑیے ہیں تمہارے ایمان کی تاک میں ہیں اُن کے حملوں سے اپنا ایمان بچاؤ ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رب العزت جل جلاله کے نور ہیں ، حضور سے صحابہ روشن ہوئے اُن سے تابعین روشن ہوئے تابعین سے تبع تابعین روشن ہوئے اُن سے ائمۂ مجتہدین روشن ہوئے اُن سے ہم روشن ہوئے اب ہم تم سے کہتے ہیں یہ نور ہم سے لو ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ تم ہم سے روشن ہو ۔ وہ نور یہ ہے کہ اللہ و رسول کی سچی محبت اُن کی تعظیم اور ان دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم اور ان کے دشمنوں سے سچی عداوت،
جس سے اللہ و رسول کی شان میں ادنی توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو فوراً اُس سے جدا ہو جاؤ جس کو بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اُسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو۔
{وصایا شریف ص : ١٢}

اس اقتباس میں حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے کیا درس دیا یہی نا کہ جان میں جب تک جان ہے دین متین پر مظبوطی سے قائم رہنا ہے اور یہی حکم ہمیں قرآن دیتا ہے چنانچہ فرمان الٰہی ہے:
وَٱعۡتَصِمُوا۟ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِیعࣰا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ۚ [آل عمران ١٠٣]
ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا
اور کیا درس دیا یہی نا کہ جسے بھی اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں گستاخ پاؤ اس سے فورا جدا ہو جائے یہ بھی فرمان الٰہی ہے چنانچہ قرآن میں ہے:
لَّا تَجِدُ قَوۡمࣰا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ یُوَاۤدُّونَ مَنۡ حَاۤدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوۤا۟ ءَابَاۤءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَاۤءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَ ٰ⁠نَهُمۡ أَوۡ عَشِیرَتَهُمۡۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ كَتَبَ فِی قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِیمَـٰنَ وَأَیَّدَهُم بِرُوحࣲ مِّنۡهُۖ وَیُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتࣲ تَجۡرِی مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَـٰرُ خَـٰلِدِینَ فِیهَاۚ رَضِیَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوا۟ عَنۡهُۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَاۤ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ [المجادلة ٢٢]
ترجمۂ کنز الایمان:
تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے اُن کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں اُن میں ہمیشہ رہیں اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے

بتائیے کیا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے قرآن سے ہٹ کر کوئی اپنی رائے قائم فرمائی ہر گز نہیں ہر گز نہیں بلکہ وہی فرمایا جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور تمام عمر اسی کی نشر و اشاعت کرتے رہے۔

دین میں جو لوگ ملاوٹ کر رہے تھے حضور کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کر رہے تھے حضور کے علم پاک کو پاگلوں بچوں کے علم سے ملا رہے تھے شیطان لعین کے علم کو حضور کے علم پاک سے زیادہ بتا رہے تھے ایسے فتنہ پرور دین کے غداروں کو بے نقاب کیا حسام الحرمین لکھ کر ان گستاخان خدا و رسول کی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی اور اس پر علماء عرب و عجم نے مہر ثبت فرمایا،
اور فرمایا جو ان مرتدین کے کفر و عذاب میں شک بھی کرے تو وہ انھیں کی طرح کافر ہے
حَتَّىٰ یَمِیزَ ٱلۡخَبِیثَ مِنَ ٱلطَّیِّبِۗ [آل عمران ١٧٩]

حق کا انکشاف کیا دین و ملت کی نشر و اشاعت کے لیے ایک ہزار سے زائد کتابیں تصنیف فرمائیں جس سے باطل قوتیں بلبلا اٹھیں یہاں تک حق اور باطل میں فرق سورج سے بھی زیادہ روشن ہو گیا اسی لیے امام نے فرمایا:
“میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اُس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے”۔
{ وصایا شریف ص : ٢٠}

اب امام کی کتابیں اٹھائیے اور پڑھتے چلے جائیے الامن و العلی لناعتی المصطفی، حسام الحرمین، فتاوی الحرمین، الکوکبۃ الشھابیہ، سبحان السبوح، سل السیوف الہندیہ، اعتقاد الاحباب، تجلی الیقین، الدولۃ المکیہ، رد الرفضہ، السوء و العقاب، تمہید ایمان، مجموعۂ فتاوی جات العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ وغیرھم تمام کتابوں میں ہر مسئلہ قرآن و احادیث اقوال صحابہ ائمہ مجتہدین کی اصول و توضیحات کے مطابق ہیں قیامت آ سکتی ہے لیکن کوئی ایک مسئلہ بھی قرآن و حدیث کے خلاف ثابت نہیں کر سکتا کتنوں نے طبع آزمائی بھی کی لیکن ان سب کو اپنی منہ کی کھانی پڑی۔

سب ان سے جلنے والوں کے گل ہو گئے چراغ
احمد رضا کی شمع فروزاں ہے آج بھی

اسی لیے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ قرآن و حدیث اقوال صحابہ و ائمۂ کلام کے عطر مجموعہ کا نام مسلک اعلی حضرت ہے اور یہ وہی مسلک ہے جسے مسلک اہل سنت و جماعت کہا جاتا ہے
چنانچہ مرشد بر حق سرکار تاج الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی اختر رضا خان قادری بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

بلا شبہ مسلک اعلیٰ حضرت اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ مسلک اہل سنت کا دوسرا نام اور اس کی صحیح پہچان ہے اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کا اس زمانے میں نشان ہے۔ اس سے منع کرنا حق و باطل کا امتیاز مٹانا ہے اور اتحاد کے بہانے انتشار و افتراق پھیلانا اور سنیوں کا برا چاہنا ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص : ٢١٣]

نیز فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ رقم طراز ہیں:
مسلک اعلیٰ حضرت کوئی نیا مسلک اور دین نہیں ، مسلک اعلیٰ حضرت حقیقت میں سوار اعظم اہل سنت و جماعت کے اس طریقہ مرضیہ و متوارثہ کا نام ہے جو عہد رسالت سے لے کر آج تک سواد اعظم کا مسلک ہے، جو “ھی الجماعۃ” اور “ما انا علیہ واصحابی” کا مصداق ہے۔
[مقالات شارح بخاری جلد دوم ص: ٣٢٦]

نیز فتاوی شارح بخاری جلد سوم میں ہے:
مسلک اعلیٰ حضرت وہی مسلک اور مذہب ہے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے اور انھیں عقائد و اعمال کا نام ہے جو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا، جسے صحابہ کرام سے تابعین نے لیا تھا، تابعین سے تبع تابعین نے لیا، اور قرنا بعد قرن اسلاف سے منتقل ہوتا ہوا آرہا ہے ۔ جو سرکار غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اور تمام اولیاء کرام و علمائے اہل سنت کا تھا۔ انہیں عقائد و اعمال کی اشاعت اپنے عہد میں مجدد اعظم اعلی حضرت قدس سرو نے فرمائی۔ صرف دیو بندیوں ، مودودیوں، وہابیوں صلح کلیوں سے امتیاز کے لیے اس کا نام مسلک اعلیٰ حضرت رکھا گیا۔
[فتاوی شارح بخاری جلد سوم ص : ٣٧٥]

حضور شیر بہار علامہ مفتی اسلم رضوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
انصاف کی بات یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کا مسلک کسی خود ساختہ دین سے عبارت نہیں ۔ بلکہ وہ کما حقہ دین اسلام کے ہم معنی ، مذہب اہل سنت و جماعت کی درخشاں تصویر ہے۔ ہمارے اس دعوے کا ثبوت خود اعلیٰ حضرت کی زندہ و جاوید خدمات و تصنیفات ہیں جن کا ایک ایک گوشہ حب خدا و رسول سے لبریز اور معارف و حقائق کا حیرت انگیز نمونہ پیش کر رہا ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص : ٣٠١]۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

Scan this QR code to read online:

QR Code