اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی
حدیث واہمیت حدیث

افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
شبہ:
بعض حضرات یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ جب کتاب شروع کرتے ہیں یا جب پڑھ کر ختم کرتے ہیں تو طلبا فاتحہ خوانی کا اہتمام کرتے ہیں یہ ایک بدعت کو جنم دینا ہے ایسا کسی صحابی سے یا حدیث سے ثابت نہیں ہے
ازالۂ شبہ ــــــــــــــــــــــــ
پہلی بات تو یہ کہ جس سے شرع نے منع نہیں کیا اور وہ خلاف شرع نہ ہو تو وہ فی نفسہ جائز ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ شرع نے اس سے نہیں روکا تاہم اگر کوئی یہی دیکھنا چاہتا ہے کہ کس حدیث سے ثابت ہے فاتحہ کرنا تو وہ جان لے حدیث میں ہے:
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ سلم سے سورہ بقرہ بارہ سال میں تمام حقائق واسرار کے ساتھ پڑھی اور جس دن ختم کی اس دن خوشی میں ایک اونٹ ذبح کر کے صحابہ کرام کی خوشی میں دعوت کی۔
[شعب الایمان حدیث نمبر ١٨٠٥]
اسی حدیث کو ذکر کر کے مفسر القرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رضی اللہ عنہ تفسیر نعیمی میں تحریر فرماتے ہیں:
اس سے معلوم ہوا کہ دینی کتا بیں شروع یا ختم کرتے وقت شیرینی تقسیم کرنا اور خوشی منانا سنت صحابہ کرام ہے۔
[ تفسیر نعیمی جلد اول ص: ١١٠]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
لہذا کتاب شروع یا ختم کرتے وقت فاتحہ خوانی کا اہتمام کرنا بدعت نہیں صحابہ کرام کی سنت سے ثابت ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سوا دیگر بعض صحابہ نے بھی ایسا کیا .
دوسری بات یہ کہ اکثر و بیشتر مصنفین اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ قارئین ہمارے لیے دعا کرنا تو اس سے ان کے لیے دعا خوانی بھی ہو جاتی ہے اور طلبا کو مصنفین کرام کے فیوض و برکات بھی مل جاتے ہیں
واضح رہے ہر وہ چیز جو خیر ہو اس پر اعتراض نہیں کرے گا مگر وہ جو خیر سے دور ہو۔
اللہ جل جلالہ ہمیں بزرگوں کی روش پر قائم رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
74
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف

افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی

از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

شبہ:
بعض حضرات یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ جب کتاب شروع کرتے ہیں یا جب پڑھ کر ختم کرتے ہیں تو طلبا فاتحہ خوانی کا اہتمام کرتے ہیں یہ ایک بدعت کو جنم دینا ہے ایسا کسی صحابی سے یا حدیث سے ثابت نہیں ہے

ازالۂ شبہ ــــــــــــــــــــــــ

پہلی بات تو یہ کہ جس سے شرع نے منع نہیں کیا اور وہ خلاف شرع نہ ہو تو وہ فی نفسہ جائز ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ شرع نے اس سے نہیں روکا تاہم اگر کوئی یہی دیکھنا چاہتا ہے کہ کس حدیث سے ثابت ہے فاتحہ کرنا تو وہ جان لے حدیث میں ہے:
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ سلم سے سورہ بقرہ بارہ سال میں تمام حقائق واسرار کے ساتھ پڑھی اور جس دن ختم کی اس دن خوشی میں ایک اونٹ ذبح کر کے صحابہ کرام کی خوشی میں دعوت کی۔
[شعب الایمان حدیث نمبر ١٨٠٥]

اسی حدیث کو ذکر کر کے مفسر القرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رضی اللہ عنہ تفسیر نعیمی میں تحریر فرماتے ہیں:
اس سے معلوم ہوا کہ دینی کتا بیں شروع یا ختم کرتے وقت شیرینی تقسیم کرنا اور خوشی منانا سنت صحابہ کرام ہے۔
[ تفسیر نعیمی جلد اول ص: ١١٠]

لہذا کتاب شروع یا ختم کرتے وقت فاتحہ خوانی کا اہتمام کرنا بدعت نہیں صحابہ کرام کی سنت سے ثابت ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سوا دیگر بعض صحابہ نے بھی ایسا کیا .

دوسری بات یہ کہ اکثر و بیشتر مصنفین اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ قارئین ہمارے لیے دعا کرنا تو اس سے ان کے لیے دعا خوانی بھی ہو جاتی ہے اور طلبا کو مصنفین کرام کے فیوض و برکات بھی مل جاتے ہیں
واضح رہے ہر وہ چیز جو خیر ہو اس پر اعتراض نہیں کرے گا مگر وہ جو خیر سے دور ہو۔
اللہ جل جلالہ ہمیں بزرگوں کی روش پر قائم رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

Scan this QR code to read online:

QR Code