اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم]
تحقیق و تعاقب

صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط نہم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
فتاوی شارح بخاری سے استدلال کا تعاقب ـــــــــــــــــــــ
مفتی صاحب نے فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا فتوی اپنی دلیل میں ارقام کیا کہ باعتبار لغت رب مجازی معنی میں بولنے میں حرج نہیں ہے اس معنی کر درست ہے مفتی صاحب لکھتے ہیں:
حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ سے ایک سوال ہوا کہ اللہ تعالی کے لیے رب الارباب کا استعمال درست ہے یا نہیں " اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا:
اللہ عز و جل پر اس کے اطلاق میں کوئی حرج نہیں، شرک تو بہت دور ہے ، نا جائز ہونے کی بھی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ جس نے اسے شرک کہا، اس بنا پر کہا کہ اس کا گمان یہ ہے کہ رب کا اطلاق غیر خدا پر جائز نہیں اور رب الارباب کا مطلب یہ ہوا کہ حقیقت میں بہت سے رب ہیں اللہ عز و جل کے علاوہ تو یہ شرک ہوا کہ اللہ عزوجل کے غیر کو رب مانا۔
لیکن قرآن واحادیث میں رب کا اطلاق اضافت کے ساتھ غیر خدا پر وارد ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا قول مذکور ہے: إِنَّه رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ . وہ عزیز (مصر) تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے ، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا۔ اور فرمایا: اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا۔ اور فرمایا: ارْجِعْ إِلى رَبِّكَ. اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا۔
ان تینوں آیتوں میں سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی مراد رب سے بادشاہ مصر ہے۔ یہاں رب بمعنی مجازی ہے۔ اس لحاظ سے رب الارباب کہنے میں کوئی حرج نہیں، جو شخص اسے شرک کہے وہ خاطی ہے ۔
(فتاوی شارح بخاری ، ج:۱، ص: ۱۳۴، عقائد متعلقہ ذات وصفات الہی، ط: دائرة البرکات گھوسی )
اور جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں یا سننے میں کوئی حرج نہیں
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: عن عائشۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقول:
مفتی صاحب نے جس انداز میں اپنی عبارتوں کو رکھا ہے کہ پہلے لغت کے اعتبار سے تاویلا معنی کی درستگی دکھائی اور فرمایا کہ اس معنی کر مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کو رب کہنا درست ہے
پھر غیر اللہ پر رب کے اطلاق کے لیے شارح بخاری علیہ الرحمہ کے فتوی سے استدلال کیا اور بالکل اسی کے بعد لکھا"
اور جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں یا سننے میں کوئی حرج نہیں
باعتبار لغت درست ہے اور پھر حرج نہیں کیا یہ نہیں بتا رہا ہے کہ جس شعر کو آپ نے بظاہر کفر فرمایا تھا اسے اب تاویل کے بعد مباح قرار دے دیا اور تاویل بھی ایسی جس کی حقیقت گزشتہ تحریر سے واضح ہو چکی ہے
اب اس پر کوئی یہ اشکال پیش نہ کرے کہ یہاں مفتی صاحب نے تو ان اشعار کے بارے میں فرمایا ہے جو مباح ہیں مبحوث عنہ شعر کے بارے میں کہاں فرمایا ہے؟
تو ان سے میرا سوال یہ ہے پھر اس عبارت کی مطابقت گزشتہ عبارت سے کیسے ہوگی؟
مثلا کوئی بات کر رہا تھا کہ
فلاں صاحب بہت بڑے جانکار ہیں بڑی شخصیتوں میں سے ہیں ان کی ہر بات دلائل کے میزان سے نپی تلی ہوتی ہے
اور جونہی چور کو میں نے مارا تو بہت رویا جیسا کہ ...........
اب بتائیے اگر ایسی بے تکی کوئی بات کرے کہ پہلے کسی کی تعریف کر رہا تھا پھر اور جونہی کے بعد ایسی بات کہے جس کا پیچھے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو تو اس کو آپ کیا کہیں گے یہی نا کہ دماغ ٹھکانے میں نہیں ہے جنون کا غلبہ ہے اسی لیے بے ربط کلام کیے جا رہا ہے
تو ثابت ہوا کہ اس طرح کی تاویل مجنون لوگوں کے کلام میں صحیح ہے لیکن ایک مفتی کے کلام میں ایسی بے تکی بات نہیں ہو سکتی ہے اس لیے ماننا پڑے گا کہ مفتی صاحب دلائل کے ذریعے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مبحوث عنہ شعر مباح ہے اور جو مباح شعر ہو اس کے پڑھنے میں سننے میں کوئی حرج نہیں اسی لیے مفتی صاحب نے پڑھنے والے اور سننے والے پر کوئی حکم نہیں لگایا بلکہ مباح اشعار پڑھنے کی تائید میں جزئیات بھی پیش کیے۔
اس کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں:
جیسے کہا جائے کہ نعت پڑھنا کار خیر ہے اور جو کار خیر ہے اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
جھوٹ بولنا حرام ہے اور جو جھوٹ بولے اس کو فاسق کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
سبیل لگانا مباح ہے اور جو مباح ہے اس کے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
تو اب مفتی صاحب کی عبارت سیاق و سباق کو دیکھتے ہوئے یوں ہوگی
فتاوی شارح بخاری سے ثابت ہوا کہ رب کہنے میں حرج نہیں تو شعر مباح ہوا اور جو اشعار مباح ہوں ان کے سننے میں یا پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
تو اب بتائیں معترض صاحب آپ کا اشکال درست ہے ؟ یا جو راقم الحروف نے کہا وہ صحیح ہے؟ فتدبر
اب کوئی یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ نہیں نہیں سیاق کے اعتبار سے کیسے آپ کی بات مانی جا سکتی ہے جب کہ مفتی صاحب نے شعر کو بظاہر کفر کہا ہے اور سیاق میں بھی لکھا ہے:
البته نعت خواں پر لازم ہے کہ حدود شرع میں رہ کر نعت خوانی کریں اور ہر گز ہر گز آئندہ اپنی زبان پر اس طرح کا شعر نہ لائیں جو کفر و حرام کے معنی کا احتمال رکھتا ہو۔
اقول:
اگر معترض صاحب آپ کی بات مان لی جائے تو اب آپ ہی خود بتائیے کہ جو شعر بظاہر کفر ہو اس پر صرف اتنا ہی حکم لگے گا کہ
ہر گز ہر گز آئندہ اپنی زبان پر اس طرح کا شعر نہ لائیں
بس! توبہ، تجدید ایمان کچھ بھی نہیں
یہ تو ایسے ہی ہو گیا جب گاؤں وغیرہ میں دو بچوں میں لڑائی ہو جاتی ہے ان دونوں بچوں میں سے ایک کی ماں آتی ہے اور اپنے بچے سے کہتی ہے ہر گز اپنے پڑوسی کو تکلیف مت دینا ٹھیک ہے جاؤ جاؤ گھر جاؤ اور پھر اپنے بیٹے کے پیچھے پیچھے چلی جاتی ہے اور اتنی سی ڈانٹ اپنے بچے کو اس لیے لگاتی ہے تاکہ دوسرے بچے کو لگے کہ ہاں اپنے بچے کو ڈانٹ تو دی میری خیر خواہی کی خاطر،
لیکن وہیں اگر دوسرے کا بیٹا اس عورت کے بیٹے کو مار دے اور وہ عورت یہ جان لے میرے بیٹے کو فلاں کے بیٹے نے مارا اور اتفاق سے اس کے بیٹے کو مارنے والا لڑکا مل گیا تو وہیں دو چار طمانچہ رسید کر دیتی ہے اور کہتی ہے تم کو نہیں پتہ زید کس کا بیٹا ہے آئندہ آنکھ اٹھا کر بھی مت دیکھنا میرے بیٹے کی طرف ورنہ آنکھ نکال لیں گے
اب دیکھیے عورت ایک ہی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کی بات آئی تو صرف ہر گز ہر گز ایسا مت کرنا بولی اور جب دوسرے کے بیٹے کی بات آئی تو پہلے طمانچہ پھر دھمکی تاکہ آج ہی باز آجائے اور آیندہ جرأت نہ کرے
لیکن اس میں ایک بات غور کرنے کی ہے کہ عورت نے اپنے بیٹے کو صرف دکھاوے کے لیے ڈانٹ کر بھگا دی تو اب یہ بچہ اور جری ہوگا اب جا کر دوسرے کو بھی مارے گا کیونکہ اس کو پتہ ہے میری ماں تو سب سنبھال لے گی
لیکن وہیں وہ دوسرا بچہ طمانچہ کھانے کے بعد اب کسی کو نہیں مارے گا وہ سدھر جائے گا، کاش وہ اپنائیت میں مستقبل کا خیال کرتی تو اس کا بیٹا جری نہ ہوتا ۔
بس اس کو بھی یونہی سمجھیے کہ فقہاء کرام نے جو کفر فقہی پر رجوع ، توبہ، تجدید ایمان، تجدید نکاح وغیرہ کا حکم لگایا ہے وہ احتیاطا زجر و توبیخ کے لیے لگایا ہے تاکہ اس سے وہ بعض آجائے راہ راست پر گامزن ہو جائے
جیسے انسان طمانچہ کھانے کے بعد سدھرنے لگتا ہے ایسے ہی جب کوئی سخت حکم سنتا ہے تو اپنے کو ملامت کرتا ہے اور صراط مستقیم کی طرف آنے کی سعی کرتا ہے لیکن جب کوئی حکم بیان نہ ہو تو شتر بے مہار بن جاتا ہے جیسے بچہ لاڈ پیار کی وجہ سے بسا اوقات بے کار بن جاتا ہے
الدر المختار میں ہے :
ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح وأولاده أولاد زنا، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح
کفر اتفاقی جس کفر میں فقہا اور متکلمین سب متفق ہوتے ہیں یعنی کفر کلامی تو اس میں سارے اعمال اور نکاح باطل ہو جاتے ہیں اور جس میں فقہا اور متکلمین کا اختلاف ہوتا ہے یعنی کفر فقہی تو اس میں توبہ استغفار اور تجدید نکاح کا حکم دیا جاتا۔
رد المحتار میں ہے:
قوْلُهُ وَالتَّوْبَةِ أَيْ تَجْدِيدِ الْإِسْلَامِ قَوْلُهُ وَتَجْدِيدِ النِّكَاحِ أَيْ احْتِيَاطًا
[ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - المجلد ٤ - الصفحة ٢٤٧ - جامع الكتب الإسلامية]
توبہ اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا حکم احتیاطا دیا جاتا ہے
فقہا جس پر حکم کفر لگاتے ہیں متکلمین بھی اس پر زجر و توبیخ روا رکھتے ہیں
جیسا کہ قاضی عیاض رضی اللہ عنہ نے شفا شریف میں فرمایا کہ جس کی متکلمین تکفیر نہیں کرتے ہیں ان پر زجر و توبیخ ضرور روا رکھتے ہیں
لكنهم يغلظ عليهم بوجيع الادب وشديد الزجر والهجر حتى يرجعوا عن بدعتهم .
[جلد دوم، ص: ۲۹۴]
لیکن ان بدعتیوں پر سخت ڈانٹ ڈپٹ اور شدید زجر و توبیخ کی جائے نیز بائکاٹ کیا جائے یہاں تک کہ وہ اپنی گمراہیت سے رجوع کر لے
اب بتائیے معترض صاحب مفتی صاحب نے تو یہ بتایا کہ مبحوث عنہ مصرع متکلمین کے نزدیک کفر نہیں ہے لیکن یہ کیوں نہیں بتایا کہ کفر نہیں ہے پھر بھی اس پر سختی کی جائے گی زجر کیا جائے گا نہ مانے تو اس کا سماجی مقاطعہ [بائکاٹ] کیا جائے گا یہاں تک کہ بظاہر کفریہ مصرع سے رجوع کر لے آخر اس میں کیا وجہ ہے؟
الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
الصواب أنه لا يكفر في مسألتي التشبيه انتهى. ولا يغتر بذلك وإن فعله أكثر الناس حتى من له نسبة إلى العلم، فإنه يصير مرتداً على قول جماعة، وكفى بهذا خساراً وتفريطاً.
[لإعلام بقواطع الإسلام - المجلد 1 - الصفحة 123 - جامع الكتب الإسلاميه]
درست یہ ہے کہ تشبیہ کے دونوں مسئلوں میں تکفیر نہیں ہوگی۔ ہاں مگر اس پر خوش نہ ہوا جائے اگر چہ بہت سے لوگ یہاں تک کہ بعض علما کہلانے والے بھی اس میں مبتلا ہوئے ، کیوں کہ علما کی ایک جماعت کے نزدیک یہ ارتداد ہے جو ہلاک و برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔
یعنی علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں کہ کفر فقہی سمجھ کر خوش نہ ہوا جائے کہ یہ تو فقہا کے نزدیک ہے متکلمین کے نزدیک تو نہیں جیسا کہ بعض علما بھی اس میں مبتلا ہیں تو واضح رہے کہ جب فقہا کے نزدیک کفر و ارتداد ہے تو یہی ہلاک و برباد کرنے کے لیے کافی ہے اس لیے خدا سے ڈرو اور توبہ و رجوع کرو اسی میں بھلائی ہے
حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ فتاوی مصطفویہ میں فرماتے ہیں:
فی الواقع صورت مسئولہ میں عمر پر توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم تھی اسی کا عالم دین نے حکم دیا۔ اگر عمرو اپنے اس بیان میں سچا بھی ہو کہ اس نے یہ ہازلا کہا تھا جب بھی یہی حکم ہے۔ جب لفظ معنی کفر میں ظاہر ہو تو نیت و عدم نیت کا فرق نہیں ہوتا ۔ اس کے قائل پر توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح ہی کا حکم ہوتا ہے۔
[فتاوی مصطفویہ ص: ١٦]
دور نہ جائیے بلکہ خود فتاوی مرکز تربیت و افتا میں ملاحظہ فرمائیے کہ بظاہر کفر یعنی کفر فقہی پر کیسا حکم نافذ کیا گیا ہے :
یہ کہنا کہ اپنا اسلام اپنے پاس رکھو، بظاہر مذہب اسلام کی توہین ہے اور اسلام کی توہین کفر ہے البتہ اس میں احتمال تاویل بھی ہے اس لئے قائل پر از راہ احتیاط علانیہ توبہ واستغفار و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو تمام مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں
[فتاوی مرکز تربیت و افتا ص ٧٩]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تو اب بتائیے معترض صاحب سیاق سے اگر وہی مستفاد ہوتا کہ مفتی صاحب نے بظاہر کفر ہی مانا ہے تو حکم صرف اتنا ہی لگاتے کہ آئندہ خیال رکھیں یا حکم ایسا لگاتے جیسا کہ کفر فقہی کا حکم فتاوی مرکز تربیت و افتا میں موجود ہے جو خود مفتی صاحب کا مصدقہ فتوی ہے
اب بتائیے آئندہ ہر گز ہر گز اس طرح کا شعر نہ پڑھے کہنے سے یہ ثابت ہو گیا کہ توبہ تجدید نکاح تجدید ایمان رجوع لازم ہے؟
بلکہ مفتی صاحب کے مصدقہ فتوی سے یہ بھی واضح ہے کہ نہ مانے تو بائکاٹ کیا جائے ؟ تو بتائیے ہر ہر گز آیندہ نہ پڑھنے کہنے سے بائکاٹ کا حکم مستفاد ہو گیا؟
آخر وہ کونسی چیز ہے جو مبحوث عنہ مصرع کو بظاہر کفر تسلیم کرنے کے باوجود حکم کفر فقہی جس طرح مذکور بالا فتوی میں لگایا گیا مبحوث عنہ مصرع میں نہیں لگایا گیا؟
مذکور بالا فتوی میں از راہ احتیاط توبہ تجدید ایمان تجدید نکاح سب کا حکم لگایا گیا نہ ماننے پر بائکاٹ کا حکم لگایا گیا تو اب سوال یہ ہے کہ یہاں نہ مانے تو بائکاٹ کا حکم دیا جائے گا ؟ یا پھر شریعت میں رو رعایت کی گنجائش ہے؟
دور نہ جائیے معترض صاحب خود مفتی صاحب نے جس کتاب مستطاب فتاوی شارح بخاری سے استدلال کیا ہے اسی کتاب کو دیکھ لیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
61
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دہم]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]

صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط نہم]

از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

فتاوی شارح بخاری سے استدلال کا تعاقب ـــــــــــــــــــــ

مفتی صاحب نے فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا فتوی اپنی دلیل میں ارقام کیا کہ باعتبار لغت رب مجازی معنی میں بولنے میں حرج نہیں ہے “اس معنی کر درست ہے” مفتی صاحب لکھتے ہیں:

“حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ سے ایک سوال ہوا کہ ” اللہ تعالی کے لیے رب الارباب کا استعمال درست ہے یا نہیں ” اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا:
اللہ عز و جل پر اس کے اطلاق میں کوئی حرج نہیں، شرک تو بہت دور ہے ، نا جائز ہونے کی بھی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ جس نے اسے شرک کہا، اس بنا پر کہا کہ اس کا گمان یہ ہے کہ رب کا اطلاق غیر خدا پر جائز نہیں اور رب الارباب کا مطلب یہ ہوا کہ حقیقت میں بہت سے رب ہیں اللہ عز و جل کے علاوہ تو یہ شرک ہوا کہ اللہ عزوجل کے غیر کو رب مانا۔

لیکن قرآن واحادیث میں رب کا اطلاق اضافت کے ساتھ غیر خدا پر وارد ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا قول مذکور ہے: إِنَّه رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ . وہ عزیز (مصر) تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے ، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا۔ اور فرمایا: ” اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ ” اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا۔ اور فرمایا: ” ارْجِعْ إِلى رَبِّكَ”. اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا۔

ان تینوں آیتوں میں سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی مراد رب سے بادشاہ مصر ہے۔ یہاں رب بمعنی مجازی ہے۔ اس لحاظ سے رب الارباب کہنے میں کوئی حرج نہیں، جو شخص اسے شرک کہے وہ خاطی ہے ” ۔
(فتاوی شارح بخاری ، ج:۱، ص: ۱۳۴، عقائد متعلقہ ذات وصفات الہی، ط: دائرة البرکات گھوسی )
اور جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں یا سننے میں کوئی حرج نہیں
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: عن عائشۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اقول:
مفتی صاحب نے جس انداز میں اپنی عبارتوں کو رکھا ہے کہ پہلے لغت کے اعتبار سے تاویلا معنی کی درستگی دکھائی اور فرمایا کہ اس معنی کر مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کو رب کہنا درست ہے
پھر غیر اللہ پر رب کے اطلاق کے لیے شارح بخاری علیہ الرحمہ کے فتوی سے استدلال کیا اور بالکل اسی کے بعد لکھا”

“اور جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں یا سننے میں کوئی حرج نہیں”

“باعتبار لغت درست ہے” اور پھر “حرج نہیں” کیا یہ نہیں بتا رہا ہے کہ جس شعر کو آپ نے بظاہر کفر فرمایا تھا اسے اب تاویل کے بعد مباح قرار دے دیا اور تاویل بھی ایسی جس کی حقیقت گزشتہ تحریر سے واضح ہو چکی ہے

اب اس پر کوئی یہ اشکال پیش نہ کرے کہ یہاں مفتی صاحب نے تو ان اشعار کے بارے میں فرمایا ہے جو مباح ہیں مبحوث عنہ شعر کے بارے میں کہاں فرمایا ہے؟
تو ان سے میرا سوال یہ ہے پھر اس عبارت کی مطابقت گزشتہ عبارت سے کیسے ہوگی؟
مثلا کوئی بات کر رہا تھا کہ
” فلاں صاحب بہت بڑے جانکار ہیں بڑی شخصیتوں میں سے ہیں ان کی ہر بات دلائل کے میزان سے نپی تلی ہوتی ہے
اور جونہی چور کو میں نے مارا تو بہت رویا جیسا کہ ………..”

اب بتائیے اگر ایسی بے تکی کوئی بات کرے کہ پہلے کسی کی تعریف کر رہا تھا پھر “اور جونہی” کے بعد ایسی بات کہے جس کا پیچھے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو تو اس کو آپ کیا کہیں گے یہی نا کہ دماغ ٹھکانے میں نہیں ہے جنون کا غلبہ ہے اسی لیے بے ربط کلام کیے جا رہا ہے

تو ثابت ہوا کہ اس طرح کی تاویل مجنون لوگوں کے کلام میں صحیح ہے لیکن ایک مفتی کے کلام میں ایسی بے تکی بات نہیں ہو سکتی ہے اس لیے ماننا پڑے گا کہ مفتی صاحب دلائل کے ذریعے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مبحوث عنہ شعر مباح ہے اور جو مباح شعر ہو اس کے پڑھنے میں سننے میں کوئی حرج نہیں اسی لیے مفتی صاحب نے پڑھنے والے اور سننے والے پر کوئی حکم نہیں لگایا بلکہ مباح اشعار پڑھنے کی تائید میں جزئیات بھی پیش کیے۔

اس کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں:
جیسے کہا جائے کہ نعت پڑھنا کار خیر ہے اور جو کار خیر ہے اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
جھوٹ بولنا حرام ہے اور جو جھوٹ بولے اس کو فاسق کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
سبیل لگانا مباح ہے اور جو مباح ہے اس کے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
تو اب مفتی صاحب کی عبارت سیاق و سباق کو دیکھتے ہوئے یوں ہوگی
فتاوی شارح بخاری سے ثابت ہوا کہ رب کہنے میں حرج نہیں تو شعر مباح ہوا اور جو اشعار مباح ہوں ان کے سننے میں یا پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
تو اب بتائیں معترض صاحب آپ کا اشکال درست ہے ؟ یا جو راقم الحروف نے کہا وہ صحیح ہے؟ فتدبر

اب کوئی یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ نہیں نہیں سیاق کے اعتبار سے کیسے آپ کی بات مانی جا سکتی ہے جب کہ مفتی صاحب نے شعر کو بظاہر کفر کہا ہے اور سیاق میں بھی لکھا ہے:

“البته نعت خواں پر لازم ہے کہ حدود شرع میں رہ کر نعت خوانی کریں اور ہر گز ہر گز آئندہ اپنی زبان پر اس طرح کا شعر نہ لائیں جو کفر و حرام کے معنی کا احتمال رکھتا ہو۔”

اقول:
اگر معترض صاحب آپ کی بات مان لی جائے تو اب آپ ہی خود بتائیے کہ جو شعر بظاہر کفر ہو اس پر صرف اتنا ہی حکم لگے گا کہ
“ہر گز ہر گز آئندہ اپنی زبان پر اس طرح کا شعر نہ لائیں”
بس! توبہ، تجدید ایمان کچھ بھی نہیں
یہ تو ایسے ہی ہو گیا جب گاؤں وغیرہ میں دو بچوں میں لڑائی ہو جاتی ہے ان دونوں بچوں میں سے ایک کی ماں آتی ہے اور اپنے بچے سے کہتی ہے ہر گز اپنے پڑوسی کو تکلیف مت دینا ٹھیک ہے جاؤ جاؤ گھر جاؤ اور پھر اپنے بیٹے کے پیچھے پیچھے چلی جاتی ہے اور اتنی سی ڈانٹ اپنے بچے کو اس لیے لگاتی ہے تاکہ دوسرے بچے کو لگے کہ ہاں اپنے بچے کو ڈانٹ تو دی میری خیر خواہی کی خاطر،
لیکن وہیں اگر دوسرے کا بیٹا اس عورت کے بیٹے کو مار دے اور وہ عورت یہ جان لے میرے بیٹے کو فلاں کے بیٹے نے مارا اور اتفاق سے اس کے بیٹے کو مارنے والا لڑکا مل گیا تو وہیں دو چار طمانچہ رسید کر دیتی ہے اور کہتی ہے تم کو نہیں پتہ “زید” کس کا بیٹا ہے آئندہ آنکھ اٹھا کر بھی مت دیکھنا میرے بیٹے کی طرف ورنہ آنکھ نکال لیں گے

اب دیکھیے عورت ایک ہی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کی بات آئی تو صرف ہر گز ہر گز ایسا مت کرنا بولی اور جب دوسرے کے بیٹے کی بات آئی تو پہلے طمانچہ پھر دھمکی تاکہ آج ہی باز آجائے اور آیندہ جرأت نہ کرے
لیکن اس میں ایک بات غور کرنے کی ہے کہ عورت نے اپنے بیٹے کو صرف دکھاوے کے لیے ڈانٹ کر بھگا دی تو اب یہ بچہ اور جری ہوگا اب جا کر دوسرے کو بھی مارے گا کیونکہ اس کو پتہ ہے میری ماں تو سب سنبھال لے گی
لیکن وہیں وہ دوسرا بچہ طمانچہ کھانے کے بعد اب کسی کو نہیں مارے گا وہ سدھر جائے گا، کاش وہ اپنائیت میں مستقبل کا خیال کرتی تو اس کا بیٹا جری نہ ہوتا ۔
بس اس کو بھی یونہی سمجھیے کہ فقہاء کرام نے جو کفر فقہی پر رجوع ، توبہ، تجدید ایمان، تجدید نکاح وغیرہ کا حکم لگایا ہے وہ احتیاطا زجر و توبیخ کے لیے لگایا ہے تاکہ اس سے وہ بعض آجائے راہ راست پر گامزن ہو جائے
جیسے انسان طمانچہ کھانے کے بعد سدھرنے لگتا ہے ایسے ہی جب کوئی سخت حکم سنتا ہے تو اپنے کو ملامت کرتا ہے اور صراط مستقیم کی طرف آنے کی سعی کرتا ہے لیکن جب کوئی حکم بیان نہ ہو تو شتر بے مہار بن جاتا ہے جیسے بچہ لاڈ پیار کی وجہ سے بسا اوقات بے کار بن جاتا ہے

الدر المختار میں ہے :
ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح وأولاده أولاد زنا، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح
کفر اتفاقی جس کفر میں فقہا اور متکلمین سب متفق ہوتے ہیں یعنی کفر کلامی تو اس میں سارے اعمال اور نکاح باطل ہو جاتے ہیں اور جس میں فقہا اور متکلمین کا اختلاف ہوتا ہے یعنی کفر فقہی تو اس میں توبہ استغفار اور تجدید نکاح کا حکم دیا جاتا۔
رد المحتار میں ہے:
قوْلُهُ وَالتَّوْبَةِ أَيْ تَجْدِيدِ الْإِسْلَامِ قَوْلُهُ وَتَجْدِيدِ النِّكَاحِ أَيْ احْتِيَاطًا
[ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – المجلد ٤ – الصفحة ٢٤٧ – جامع الكتب الإسلامية]
توبہ اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا حکم احتیاطا دیا جاتا ہے

فقہا جس پر حکم کفر لگاتے ہیں متکلمین بھی اس پر زجر و توبیخ روا رکھتے ہیں
جیسا کہ قاضی عیاض رضی اللہ عنہ نے شفا شریف میں فرمایا کہ جس کی متکلمین تکفیر نہیں کرتے ہیں ان پر زجر و توبیخ ضرور روا رکھتے ہیں
لكنهم يغلظ عليهم بوجيع الادب وشديد الزجر والهجر حتى يرجعوا عن بدعتهم .
[جلد دوم، ص: ۲۹۴]
لیکن ان بدعتیوں پر سخت ڈانٹ ڈپٹ اور شدید زجر و توبیخ کی جائے نیز بائکاٹ کیا جائے یہاں تک کہ وہ اپنی گمراہیت سے رجوع کر لے

اب بتائیے معترض صاحب مفتی صاحب نے تو یہ بتایا کہ مبحوث عنہ مصرع متکلمین کے نزدیک کفر نہیں ہے لیکن یہ کیوں نہیں بتایا کہ کفر نہیں ہے پھر بھی اس پر سختی کی جائے گی زجر کیا جائے گا نہ مانے تو اس کا سماجی مقاطعہ [بائکاٹ] کیا جائے گا یہاں تک کہ “بظاہر کفریہ مصرع” سے رجوع کر لے آخر اس میں کیا وجہ ہے؟

الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
الصواب أنه لا يكفر في مسألتي التشبيه انتهى. ولا يغتر بذلك وإن فعله أكثر الناس حتى من له نسبة إلى العلم، فإنه يصير مرتداً على قول جماعة، وكفى بهذا خساراً وتفريطاً.
[لإعلام بقواطع الإسلام – المجلد 1 – الصفحة 123 – جامع الكتب الإسلاميه]
درست یہ ہے کہ تشبیہ کے دونوں مسئلوں میں تکفیر نہیں ہوگی۔ ہاں مگر اس پر خوش نہ ہوا جائے اگر چہ بہت سے لوگ یہاں تک کہ بعض علما کہلانے والے بھی اس میں مبتلا ہوئے ، کیوں کہ علما کی ایک جماعت کے نزدیک یہ ارتداد ہے جو ہلاک و برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔

یعنی علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں کہ کفر فقہی سمجھ کر خوش نہ ہوا جائے کہ یہ تو فقہا کے نزدیک ہے متکلمین کے نزدیک تو نہیں جیسا کہ بعض علما بھی اس میں مبتلا ہیں تو واضح رہے کہ جب فقہا کے نزدیک کفر و ارتداد ہے تو یہی ہلاک و برباد کرنے کے لیے کافی ہے اس لیے خدا سے ڈرو اور توبہ و رجوع کرو اسی میں بھلائی ہے

حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ فتاوی مصطفویہ میں فرماتے ہیں:
فی الواقع صورت مسئولہ میں عمر پر توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم تھی اسی کا عالم دین نے حکم دیا۔ اگر عمرو اپنے اس بیان میں سچا بھی ہو کہ اس نے یہ ہازلا کہا تھا جب بھی یہی حکم ہے۔ جب لفظ معنی کفر میں ظاہر ہو تو نیت و عدم نیت کا فرق نہیں ہوتا ۔ اس کے قائل پر توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح ہی کا حکم ہوتا ہے۔
[فتاوی مصطفویہ ص: ١٦]

دور نہ جائیے بلکہ خود “فتاوی مرکز تربیت و افتا” میں ملاحظہ فرمائیے کہ بظاہر کفر یعنی کفر فقہی پر کیسا حکم نافذ کیا گیا ہے :
“یہ کہنا کہ اپنا اسلام اپنے پاس رکھو، بظاہر مذہب اسلام کی توہین ہے اور اسلام کی توہین کفر ہے البتہ اس میں احتمال تاویل بھی ہے اس لئے قائل پر از راہ احتیاط علانیہ توبہ واستغفار و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو تمام مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں ”
[فتاوی مرکز تربیت و افتا ص ٧٩]

تو اب بتائیے معترض صاحب سیاق سے اگر وہی مستفاد ہوتا کہ مفتی صاحب نے بظاہر کفر ہی مانا ہے تو حکم صرف اتنا ہی لگاتے کہ آئندہ خیال رکھیں یا حکم ایسا لگاتے جیسا کہ کفر فقہی کا حکم “فتاوی مرکز تربیت و افتا” میں موجود ہے جو خود مفتی صاحب کا مصدقہ فتوی ہے
اب بتائیے آئندہ ہر گز ہر گز اس طرح کا شعر نہ پڑھے کہنے سے یہ ثابت ہو گیا کہ توبہ تجدید نکاح تجدید ایمان رجوع لازم ہے؟
بلکہ مفتی صاحب کے مصدقہ فتوی سے یہ بھی واضح ہے کہ نہ مانے تو بائکاٹ کیا جائے ؟ تو بتائیے ہر ہر گز آیندہ نہ پڑھنے کہنے سے بائکاٹ کا حکم مستفاد ہو گیا؟
آخر وہ کونسی چیز ہے جو مبحوث عنہ مصرع کو بظاہر کفر تسلیم کرنے کے باوجود حکم کفر فقہی جس طرح مذکور بالا فتوی میں لگایا گیا مبحوث عنہ مصرع میں نہیں لگایا گیا؟
مذکور بالا فتوی میں از راہ احتیاط توبہ تجدید ایمان تجدید نکاح سب کا حکم لگایا گیا نہ ماننے پر بائکاٹ کا حکم لگایا گیا تو اب سوال یہ ہے کہ یہاں نہ مانے تو بائکاٹ کا حکم دیا جائے گا ؟ یا پھر شریعت میں رو رعایت کی گنجائش ہے؟

دور نہ جائیے معترض صاحب خود مفتی صاحب نے جس کتاب مستطاب فتاوی شارح بخاری سے استدلال کیا ہے اسی کتاب کو دیکھ لیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

Scan this QR code to read online:

QR Code