اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر
احوال وطن

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مصر، صوبہ مِنیا، سر زمین بَہْنَسا جو قاہرہ سے تقریبا ١٦٠ کلو میٹر دور جنوب مغرب کی جانب دریائے نیل کے غربی کنارے پر واقع ہے "بہنسا'وہ شہر ہے جس کی پاک سر زمین میں پانچ ہزار صحابہ، تابعین، شہدا کے مزارات موجود ہیں جنت البقیع کی نسبت سے اس جگہ کا نام بقیع مصر بھی ہے، کہا جاتا ہے ان مزارات میں ٧٠ بدری صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مزارات ہیں بہنسا کو مدینۃ الشہدا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے جب اسلامی لشکر صحابی رسول حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مصر میں داخل ہوا تو خون ریز لڑائی ہوئی، بہت سے صحابہ کرام اور تابعین عظام شہید ہوئے جس کے بعد یہ شہر فتح ہوا۔
روایت کے مطابق بہنسا میں جن مزارات پر گنبد بنے ہوئے ہیں ان سے صحابہ کرام کے مزارات کی طرف نشاندھی ہوتی ہے ان گنبد نما مقامات میں میں حضرت محمد بن عقبی بن عامر الجھنی، زیاد بن حارث بن عبد المطلب، فضل بن عباس عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مقامات منسوب ہیں، نیز خولہ بنت ازور رضی اللہ عنہا کے نام سے بھی منسوب ایک مقام ہے
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن واقد واقدی رضی اللہ عنہ متوفی ٤٠٧ھ ارض بہنسا کے فضائل بیان کرتے ہوئے فتوح الشام میں تحریر فرماتے ہیں:
کہ اللہ جل جلالہ نے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق فرمایا: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ [المؤمنون ٥٠] ای ارض البھنسا،
یعنی اس آیت میں جس جگہ کی بات کی گئی ہے اس سے مراد سر زمین بہنسا ہے
نیز فرماتے ہیں:
وذكر جماعة من السادات الأخيار أن من زار جبانة البهنسا خاض في الرحمة حتى يعود ومن زارها خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه وأنه لا يزورها مهموم إلا فرج الله همه، ولا مغموم إلا أذهب الله غمه، ولا صاحب حاجة إلا قضيت بإذن الله عز وجل، والأماكن المستجاب فيها الدعاء منها عند مجرى الحصى ومقطع السيل وأن هناك خلقا كثيرا من الشهداء۔
اور ساداتِ اخیار کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے کہ جو شخص بہنسا کے قبرستان کی زیارت کرتا ہے، وہ واپسی تک رحمتِ الٰہی میں ڈوبا رہتا ہے، اور جو شخص اس کی زیارت کرتا ہے وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہو۔
اور کوئی مغموم زیارت کو نہیں جاتا ہے مگر یہ کہ اللہ جل جلالہ اس کا غم دور فرما دیتا ہے، اور جو شخص کسی پریشانی میں مبتلا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم فرما دیتا ہے؛ اور جو شخص کسی حاجت کے ساتھ وہاں حاضر ہو، اس کی حاجت اللہ عزوجل کے اذن سے پوری کر دی جاتی ہے۔
اور وہاں دعاؤں کی قبولیت کے مقامات میں سے ایک مقام مجرى الحصى اور دوسرا مقطع السيل ہے۔ اور وہاں شہدا کی بڑی تعداد ہے۔
نیز اسی میں ہے:
واستشهد بها زهاء من خمسة آلاف من أصحاب رسول الله ﷺ منهم من الأعيان والأمراء زهاء من أربعمائة، ويتبعهم من الأشراف والصحابة نفر كثير۔
اور اس (بہنسا) میں رسول اللہ ﷺ کے تقریباً پانچ ہزار صحابۂ کرام شہید ہوئے، جن میں معزز شخصیات اور امراء کی تعداد تقریباً چار سو تھی، اور ان کے علاوہ اشراف اور صحابۂ کرام میں سے بھی بہت سے افراد تھے۔
[فتوح الشام جلد ثانی ص : ١٩٨]
ضریح السبع بنات ـــــــــــ
١٠ جولائی ٢٠٢٦ء بروز جمعہ بوقت صبح تاکی سے بہنسا کے لیے روانہ ہوا تقریبا دس بجے بہنسا پہنچا اور سب سے پہلے ضریح السبع بنات یعنی سات بیٹیوں کے مزارات میں حاضری دی فاتحہ اور دعا خوانی کی ۔
ضریح السبع بنات یعنی سات بیٹیوں کے مزارات تاریخ کے مطابق یہ سات بیٹیاں مصر کی فتح کے لیے معرکۂ جنگ اسلامی میں جام شہادت نوش فرمائیں۔
عجیب منظرــــــــــ
یہاں پر ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے کو ملا ضریح السبع بنات کے قریب جو ریت ہے اس میں لوگ لوٹ رہے تھے میں نے اس کے بارے میں معلوم کیا تو پتہ چلا اس زمین ہی میں ایسی کشش ہے کہ اگر کوئی اس میں لیٹ جائے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پیچھے گردن کی طرف کر کے ہاتھوں کی قینچی بنا کر سر کو پکڑ لے اور خود ایک بار پلٹی کھائے تو اس کے بعد وہ خود ہی پلٹتا چلا جائے گا اور وہاں کے لوگ کثرت سے اس زمین پر لوٹ رہے تھے لیکن اس پر بھروسہ کرنا ایک امر مشکل تھا میرے قافلے میں ایک سید صاحب قبلہ تھے انھوں نے جائزہ لینے کے لیے لوٹنا چاہا ایک بار خود سے کیا پھر وہ خود بخود لوٹتے چلے گئے ان کو روکا پھر ان سے پوچھا کیسا لگا تو اب تک وہ انکار کر رہے تھے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے لیکن جب خود آزما لیے تو سید صاحب قبلہ فرمانے لگے کہ بات بالکل صحیح ہے ایک بار لوٹ جائیے تو ایسا لگتا ہے کہ زمین خود بخود کھینچ رہی ہے اپنی طرف، پھر لوٹتے چلے جائیں گے
پھر اس کے دو تین اشخاص نے ایسے ہی کیا تاکہ وہ بھی اندازہ کر سکے جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو انھوں بھی تصدیق کی کہ بات صحیح ہے
لیکن میرے رفیق درس محمد الیاس ازہری صاحب نے تجربہ کر کے اس کی نفی کی راقم الحروف نے اس کا تجربہ نہیں کیا جو اپنی طرف سے کوئی رائے قائم کر سکے البتہ اکثر نے جو کہا فقیر اس سے اتفاق رکھتا ہے واقعی زمین میں کوئی کشش ہوگی اور یہ کوئی بعید نہیں۔
بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک قسم کی بیماری ہے جو غالبا خارش وغیرہ کی طرح ہے اگر وہ کسی کو ہو اور وہ لوٹ جائے تو اس کو اس بیماری سے شفا مل جائے گی
مزارات بہنسا میں حاضری ـــــــــــــــ
پھر اس کے بعد وہیں قریب ایک مسجد میں گئے اور نماز جمعہ ادا کی یہ مسجد صحابہ کرام کے مزارات کے قریب میں ہی میں واقع ہے
پھر حاضری کے لیے مزارات کی طرف گیا مزارات اس قدر ہیں کہ اس سے پہلے زندگی میں ایک جگہ اتنے مزارات میں نے کہیں نہیں دیکھا، اور اس میں سب سے بڑی بات یہ کہ ان مزارات میں تقریبا ستر مزارات اصحاب بدر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہیں۔
دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی رحمتیں آسمان سے اس ارض مقدس پر مسلسل برس رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ جو بھی وہاں جاتا ہے خدا کی رحمتوں میں ڈھانپ لیا جاتا ہے مرادیں پوری ہوتی ہیں بیمار شفا پاتے ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔
شجرۂ مریم کی زیارت ـــــــــــــ
تاریخی روایات کے مطابق بادشاہ کے ظلم و ستم سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے حضرت عیسی علیہ السلام جو عہد طفولیت میں تھے لے کر اسی درخت کے نیچے پناہ لی جو درخت انھیں مزارت سے متصل آج بھی ہرا بھرا لوگوں کو سایہ فراہم کر رہا ہے اور روحانی منظر سے لوگ محظوظ ہو رہے ہیں میں نے اس درخت کی زیارت کی اور دیکھ کر تعجب کیا کہ دو ہزار سال سے زائد ہو چکے لیکن آج بھی درخت ایسے ہی ہرا بھرا ہے جیسے کوئی فقط سو یا پچاس سال قبل کا درخت ہو اسی درخت کے نیچے ایک کنواں بھی موجود جس سے حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے پانی نوش کیا تھا۔ اس درخت کے نیچے بیٹھ جائیے تو آج بھی الگ ہی سکون ملتا ہے بچے نیچے کھیلتے ہیں درخت پر چڑھتے ہیں، بہت سے لوگ وہی بیٹھ کر کھانا وغیرہ بھی کھا رہے ہوتے ہیں اس منظر کو دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید یہ جمعہ کے دن کی وجہ سے ہے کہ اس دن یہ حضرات اس درخت کے نیچے جمع ہوتے ہیں اور خورد و نوش کرتے ہیں ۔
مزارِ امام قرطبی ـــــــــــــــــــ
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بعدہ پھر بس میں سوار ہوئے اور تقریبا دو تین گھنٹا سفر کرنے کے بعد مفسر القرآن الفقیہ، المحدث ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابو بکر القرطبی المالکی رضی اللہ عنہ کے مزار شریف پر پہنچے امام قرطبی رضی اللہ عنہ کو زمانے میں تفسیر القران الجامع لاحکام القرآن کی وجہ سے بہت شہرت ملی اسی تفسیر کو علما، تفسیر قرطبی کے نام سے یاد کرتے ہیں اس کے علاوہ ان کی تصانیف میں التذکرۃ فی احوال الموتی و امور الآخرہ، کتاب الاسماء الحسنی، کتاب القواعد وغیرہ بھی شامل ہیں امام قرطبی کی با برکت بارگاہ میں حاضری دی اور فیوضات و برکات سے مستفید ہو کر اپنی منزل کی طرف واپس ہو گیا
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ان صحابہ کرام شہدائے عظام اولیاء امت کے فیوض وبرکات سے ہمارے سینوں کو منور و مجلا فرمائے قیامت میں ان کے ساتھ اٹھائے اور انھیں کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
67
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف

واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر

از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

مصر، صوبہ مِنیا، سر زمین بَہْنَسا جو قاہرہ سے تقریبا ١٦٠ کلو میٹر دور جنوب مغرب کی جانب دریائے نیل کے غربی کنارے پر واقع ہے “بہنسا’وہ شہر ہے جس کی پاک سر زمین میں پانچ ہزار صحابہ، تابعین، شہدا کے مزارات موجود ہیں جنت البقیع کی نسبت سے اس جگہ کا نام “بقیع مصر” بھی ہے، کہا جاتا ہے ان مزارات میں ٧٠ بدری صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مزارات ہیں بہنسا کو مدینۃ الشہدا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے جب اسلامی لشکر صحابی رسول حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مصر میں داخل ہوا تو خون ریز لڑائی ہوئی، بہت سے صحابہ کرام اور تابعین عظام شہید ہوئے جس کے بعد یہ شہر فتح ہوا۔

روایت کے مطابق بہنسا میں جن مزارات پر گنبد بنے ہوئے ہیں ان سے صحابہ کرام کے مزارات کی طرف نشاندھی ہوتی ہے ان گنبد نما مقامات میں میں حضرت محمد بن عقبی بن عامر الجھنی، زیاد بن حارث بن عبد المطلب، فضل بن عباس عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مقامات منسوب ہیں، نیز خولہ بنت ازور رضی اللہ عنہا کے نام سے بھی منسوب ایک مقام ہے

حضرت ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن واقد واقدی رضی اللہ عنہ متوفی ٤٠٧ھ ارض بہنسا کے فضائل بیان کرتے ہوئے فتوح الشام میں تحریر فرماتے ہیں:

کہ اللہ جل جلالہ نے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق فرمایا: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ [المؤمنون ٥٠] ای ارض البھنسا،
یعنی اس آیت میں جس جگہ کی بات کی گئی ہے اس سے مراد سر زمین بہنسا ہے
نیز فرماتے ہیں:
وذكر جماعة من السادات الأخيار أن من زار جبانة البهنسا خاض في الرحمة حتى يعود ومن زارها خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه وأنه لا يزورها مهموم إلا فرج الله همه، ولا مغموم إلا أذهب الله غمه، ولا صاحب حاجة إلا قضيت بإذن الله عز وجل، والأماكن المستجاب فيها الدعاء منها عند مجرى الحصى ومقطع السيل وأن هناك خلقا كثيرا من الشهداء۔

اور ساداتِ اخیار کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے کہ جو شخص بہنسا کے قبرستان کی زیارت کرتا ہے، وہ واپسی تک رحمتِ الٰہی میں ڈوبا رہتا ہے، اور جو شخص اس کی زیارت کرتا ہے وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہو۔
اور کوئی مغموم زیارت کو نہیں جاتا ہے مگر یہ کہ اللہ جل جلالہ اس کا غم دور فرما دیتا ہے، اور جو شخص کسی پریشانی میں مبتلا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم فرما دیتا ہے؛ اور جو شخص کسی حاجت کے ساتھ وہاں حاضر ہو، اس کی حاجت اللہ عزوجل کے اذن سے پوری کر دی جاتی ہے۔
اور وہاں دعاؤں کی قبولیت کے مقامات میں سے ایک مقام “مجرى الحصى” اور دوسرا “مقطع السيل” ہے۔ اور وہاں شہدا کی بڑی تعداد ہے۔

نیز اسی میں ہے:
واستشهد بها زهاء من خمسة آلاف من أصحاب رسول الله ﷺ منهم من الأعيان والأمراء زهاء من أربعمائة، ويتبعهم من الأشراف والصحابة نفر كثير۔
اور اس (بہنسا) میں رسول اللہ ﷺ کے تقریباً پانچ ہزار صحابۂ کرام شہید ہوئے، جن میں معزز شخصیات اور امراء کی تعداد تقریباً چار سو تھی، اور ان کے علاوہ اشراف اور صحابۂ کرام میں سے بھی بہت سے افراد تھے۔
[فتوح الشام جلد ثانی ص : ١٩٨]

ضریح السبع بنات ـــــــــــ

١٠ جولائی ٢٠٢٦ء بروز جمعہ بوقت صبح تاکی سے بہنسا کے لیے روانہ ہوا تقریبا دس بجے بہنسا پہنچا اور سب سے پہلے “ضریح السبع بنات” یعنی سات بیٹیوں کے مزارات میں حاضری دی فاتحہ اور دعا خوانی کی ۔
“ضریح السبع بنات” یعنی سات بیٹیوں کے مزارات تاریخ کے مطابق یہ سات بیٹیاں مصر کی فتح کے لیے معرکۂ جنگ اسلامی میں جام شہادت نوش فرمائیں۔

عجیب منظرــــــــــ
یہاں پر ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے کو ملا ضریح السبع بنات کے قریب جو ریت ہے اس میں لوگ لوٹ رہے تھے میں نے اس کے بارے میں معلوم کیا تو پتہ چلا اس زمین ہی میں ایسی کشش ہے کہ اگر کوئی اس میں لیٹ جائے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پیچھے گردن کی طرف کر کے ہاتھوں کی قینچی بنا کر سر کو پکڑ لے اور خود ایک بار پلٹی کھائے تو اس کے بعد وہ خود ہی پلٹتا چلا جائے گا اور وہاں کے لوگ کثرت سے اس زمین پر لوٹ رہے تھے لیکن اس پر بھروسہ کرنا ایک امر مشکل تھا میرے قافلے میں ایک سید صاحب قبلہ تھے انھوں نے جائزہ لینے کے لیے لوٹنا چاہا ایک بار خود سے کیا پھر وہ خود بخود لوٹتے چلے گئے ان کو روکا پھر ان سے پوچھا کیسا لگا تو اب تک وہ انکار کر رہے تھے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے لیکن جب خود آزما لیے تو سید صاحب قبلہ فرمانے لگے کہ بات بالکل صحیح ہے ایک بار لوٹ جائیے تو ایسا لگتا ہے کہ زمین خود بخود کھینچ رہی ہے اپنی طرف، پھر لوٹتے چلے جائیں گے
پھر اس کے دو تین اشخاص نے ایسے ہی کیا تاکہ وہ بھی اندازہ کر سکے جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو انھوں بھی تصدیق کی کہ بات صحیح ہے
لیکن میرے رفیق درس محمد الیاس ازہری صاحب نے تجربہ کر کے اس کی نفی کی راقم الحروف نے اس کا تجربہ نہیں کیا جو اپنی طرف سے کوئی رائے قائم کر سکے البتہ اکثر نے جو کہا فقیر اس سے اتفاق رکھتا ہے واقعی زمین میں کوئی کشش ہوگی اور یہ کوئی بعید نہیں۔
بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک قسم کی بیماری ہے جو غالبا خارش وغیرہ کی طرح ہے اگر وہ کسی کو ہو اور وہ لوٹ جائے تو اس کو اس بیماری سے شفا مل جائے گی

مزارات بہنسا میں حاضری ـــــــــــــــ
پھر اس کے بعد وہیں قریب ایک مسجد میں گئے اور نماز جمعہ ادا کی یہ مسجد صحابہ کرام کے مزارات کے قریب میں ہی میں واقع ہے
پھر حاضری کے لیے مزارات کی طرف گیا مزارات اس قدر ہیں کہ اس سے پہلے زندگی میں ایک جگہ اتنے مزارات میں نے کہیں نہیں دیکھا، اور اس میں سب سے بڑی بات یہ کہ ان مزارات میں تقریبا ستر مزارات اصحاب بدر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہیں۔
دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی رحمتیں آسمان سے اس ارض مقدس پر مسلسل برس رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ جو بھی وہاں جاتا ہے خدا کی رحمتوں میں ڈھانپ لیا جاتا ہے مرادیں پوری ہوتی ہیں بیمار شفا پاتے ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

شجرۂ مریم کی زیارت ـــــــــــــ

تاریخی روایات کے مطابق بادشاہ کے ظلم و ستم سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے حضرت عیسی علیہ السلام جو عہد طفولیت میں تھے لے کر اسی درخت کے نیچے پناہ لی جو درخت انھیں مزارت سے متصل آج بھی ہرا بھرا لوگوں کو سایہ فراہم کر رہا ہے اور روحانی منظر سے لوگ محظوظ ہو رہے ہیں میں نے اس درخت کی زیارت کی اور دیکھ کر تعجب کیا کہ دو ہزار سال سے زائد ہو چکے لیکن آج بھی درخت ایسے ہی ہرا بھرا ہے جیسے کوئی فقط سو یا پچاس سال قبل کا درخت ہو اسی درخت کے نیچے ایک کنواں بھی موجود جس سے حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے پانی نوش کیا تھا۔ اس درخت کے نیچے بیٹھ جائیے تو آج بھی الگ ہی سکون ملتا ہے بچے نیچے کھیلتے ہیں درخت پر چڑھتے ہیں، بہت سے لوگ وہی بیٹھ کر کھانا وغیرہ بھی کھا رہے ہوتے ہیں اس منظر کو دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید یہ جمعہ کے دن کی وجہ سے ہے کہ اس دن یہ حضرات اس درخت کے نیچے جمع ہوتے ہیں اور خورد و نوش کرتے ہیں ۔

مزارِ امام قرطبی ـــــــــــــــــــ

بعدہ پھر بس میں سوار ہوئے اور تقریبا دو تین گھنٹا سفر کرنے کے بعد مفسر القرآن الفقیہ، المحدث ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابو بکر القرطبی المالکی رضی اللہ عنہ کے مزار شریف پر پہنچے امام قرطبی رضی اللہ عنہ کو زمانے میں تفسیر القران الجامع لاحکام القرآن کی وجہ سے بہت شہرت ملی اسی تفسیر کو علما، تفسیر قرطبی کے نام سے یاد کرتے ہیں اس کے علاوہ ان کی تصانیف میں التذکرۃ فی احوال الموتی و امور الآخرہ، کتاب الاسماء الحسنی، کتاب القواعد وغیرہ بھی شامل ہیں امام قرطبی کی با برکت بارگاہ میں حاضری دی اور فیوضات و برکات سے مستفید ہو کر اپنی منزل کی طرف واپس ہو گیا

اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ان صحابہ کرام شہدائے عظام اولیاء امت کے فیوض وبرکات سے ہمارے سینوں کو منور و مجلا فرمائے قیامت میں ان کے ساتھ اٹھائے اور انھیں کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

Scan this QR code to read online:

QR Code