صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف
تاثرات

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
تلمیذ و خلیفۂ اعلی حضرت حضور ملک العلما علامہ سید شاہ ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ چودہویں صدی کے عظیم مفتی، فقیہ، مصنف، مناظر، محدث، مفسر، علم توقیت میں یکتائے روزگار، ماہر ہر فن گزرے ہیں
آپ رضی اللہ عنہ کے نگارشات تاریخ کے سنہرے اوراق میں آج بھی ثبت ہیں حضور ملک العلما کے اشہب قلم سے نکلنے والی ہر تحریر اہل فن کے لیے کسی سنگ میل سے کم نہیں ہے ستر سے زائد کتابیں آپ نے تصنیف فرما کر مسلمانوں پر عظیم احسان کیا صحیح البہاری، فتاوی ملک العلما میں وہ مقناطیسی جاذبیت ہے کہ اہل فن آج بھی ان کی طرف کھنچے جا رہے ہیں۔
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے جہاں تفسیر، حدیث، فقہ، توقیت، میں کتابیں ارقام فرمائی وہیں علم نحو و صرف میں بھی اپنے نگارشات چھوڑے ہیں جو عافیہ، وافیہ کے نام سے موسوم ہیں
عافیہ ـــــــــــــــــ
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے علم صرف میں عافیہ تصنیف فرمائی جو پہلی بار ١٩٢٨ء میں مطبع حسنی سے دوسری بار ٢٠١٤ء میں مخدوم جہاں اکیڈمی سے تیسری بار ٢٠١٦ء میں بزم فیضان سے چھپی۔
اور پانچویں بار جدید اسلوب اور حاشیہ کے ساتھ مخدوم جہاں اکیڈمی سے طباعت ہوئی، جس کا سہرا تلمیذ و خلیفۂ تاج الشریعہ متحرک و فعال شخصیت حضرت مفتی محمد ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی کے سر جاتا ہے آپ نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ حاشیہ اور علامات ترقیم کے اہتمام کا کام انجام دیا ہے، موصوف نے اس کے علاوہ اور بھی حضور ملک العلما کے کئی تصانیف پر محنت طلب کام انجام دے کر بہتوں پر سبقت لے گئے ہیں۔
چھٹی بار یہ کتاب مستطاب جماعت رضائے مصطفی یوکے سے شائع ہوئی جس کے ناشر متحرک و فعال شخصیت تلمیذ امام علم و فن حضرت علامہ محمد نظام الدین مصباحی حفظہ اللہ القوی ہیں
زبدۂ صرف ـــــــــــــ
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے عافیہ میں علم صرف کی ان تمام بحثوں کو اختصارا جمع فرما دیا ہے جو کئی کتابوں میں پھیلی ہوئی ہیں مثلا میزان و منشعب، فصول اکبری، پنج گنج وغیرہ کی بحثیں اختصارا اس میں شامل ہیں جو طلبا کو بآسانی سمجھ میں آ سکتیں ہیں نیز مشکل مقامات پر مفتی ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی نے حاشیہ تحریر فرما کر تسہیل کر دی ہے، علم صرف کے تمام اہم ابواب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کتاب کو علم صرف کا زبدہ اور نچوڑ کہنا بجا ہے
عافیہ حضور مفتی اعظم کی نظر میں ـــــــــــ
یہی وجہ ہے کہ حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ کو بھی یہ کتاب مستطاب بہت پسند آئی فن صرف میں بہتات کتاب ہونے کے باوجود سرکار مفتی اعظم رضی اللہ عنہ نے جب حضرت ساجد میاں قدس سرہ مہتمم مظہر اسلام کو علم صرف پڑھانا چاہا تو حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:
۷۸۶
بریلی ۱۲ شعبان ۵۵ ھ
مولانائے مکرم ذی الکرم زید مجدہ
السلام علیکم ورحمتہ وبر کاتہ
طالب خیر بہ خیر وعافیت ہے۔
عوافی مزاج گرامی مطلوب ۔ مدت سے خط کتابت کا سلسلہ منقطع ہے۔ نہ کسے میرود آں جا نہ کسے می آید ۔ اس وقت یہ خط اس غرض سے لکھ رہا ہوں کہ مجھے اپنے ایک عزیز نور چشم ساجد میاں سلمہ کے لیے عافیہ کی ضرورت ہے۔ اپنی عافیت کے ساتھ عافیہ بھی بھیج دیں۔ والسلام
مصطفی رضا قادری نوری عفی عنہ
[جہان مفتی اعظم ص: ١٠٩٩]
ہمزۂ وصلی اور قطعی ــــــــــــــــ
کتاب مطالعہ کرتے ہوئے جب باب افعال کے ہمزۂ قطعی پر پہنچا تو حضور ملک العلما کا ایک فتوی جو فتاوی ملک العلما میں موجود ہے جسے فقیر نے تقریبا آٹھ، نو سال قبل پڑھا تھا یاد آگیا میں چاہتا ہوں طلبا کے فائدے اور قارئین کے ذوق طبع کے لیے یہاں پیش کر دوں ۔
سوال و جواب من و عن ملاحظہ فرمائیں:
جناب مولانا دام مجده !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته
ضروری گزارش یہ ہے کہ
١۔ اہل صرف کا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے، باب افعال کا ہمزہ قطعی ہے ۔ چنانچہ آپ بھی اپنے رسالہ ص ۲۴ [٢٠١٦ء والے ایڈیشن میں ص: ٩٥ ] میں تحریر فرماتے ہیں : ثلاثی مزید مطلق بے ہمزۂ وصل کے پانچ باب ہیں اور اس کے باب اول کا ہمزہ قطعی ہے، وصلی نہیں ۔ اس لئے حالت وصل میں نہیں گرتا ۔ باب اول افعال۔ پھر لکھتے ہیں :
علامت اس کی فا کلمہ کے قبل همزۂ قطعی ہوتا ہے۔ قطعیت ہمزہ کا مطلب تو یہی ہے کہ حالت وصل میں اس کا قائم رہنا واجب اور ضروری ہے۔ پھر ص ۳۳ [٢٠١٦ء والے ایڈیشن میں ص: ١١١] میں تحریر فرماتے ہیں:
قاعدہ: ہمزہ منفردہ متحرکہ ما قبل صحیح ساکن غیر نون انفعال و یائے تصغیر ہو تو حرکت اس کی نقل کر کے ماقبل کو دے کر اس کو گرا دینا جائز ہے۔ ایک کلمہ میں ہو تو جیسے لیسل یا دو کلمہ میں جیسے قدَ فلح کہ اصل میں قد افلح تھا اور یسأل تھا “ انتخاب ملخصا -
افلح باب افعال کا ماضی ہے مگر اس قاعدے کی رو سے قد کے لانے کے بعد اس کے ہمزہ کا گرا دینا جائز ہے تو پھر قطعیت ہمزہ کا کیا مطلب ہے؟
اور قد فلح قد افلح میں کیا فرق رہا ؟
اس صورت میں ہمزہ کی تقسیم قطعی اور وصلی کی طرف لغو بیکار ہو جاتی ہے ۔۔
٢۔ یہ لفظ قر آن مجید میں متعدد جگہوں میں آیا ہے۔ ہر جگہ باثبات ہمزہ ہے، باسقاط ہمزہ کہیں نہیں ہے۔ اگر کوئی محض آپ کی پیش کردہ مثال کی رو سے قرآن شریف میں قد افلح کی جگہ قد فلح پڑھے تو جائز ہے یا نہیں ؟
اور اس طرح کی قراءت قراء سبعہ میں سے کسی سے مروی ہے یا نہیں ؟
اگر قد فلح پڑھنا جائز ہے تو پھر اس قاعدے کی رو سے قرآن مجید میں جس جگہ اثبات ہمزہ ہے وہاں اسقاط ہمزہ جائز ہے یا نہیں؟
سل بنی اسرائیل کی جگہ اسئل بنی اسرائیل، فاسئلوا اهل الذكر، فسلوا اھل الذکر پڑھنا جائز ہے یا نہیں اگر نہیں جائز ہے تو کیوں ؟
مہربانی فرما کر جواب مع دلائل تحریر کر کے ذیل کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔
الجواب:
(١) ہمزہ وصل وہ ہے کہ وجہ کلام میں اس کا گرانا ضروری ہو، باقی رکھنا خطا ہے ۔ اس لئے قرآن شریف میں مطلقا ہر جگہ باتفاق جميع قراء تمامی همزۂ وصل گرا دیے جاتے ہیں۔ بخلاف ہمزۂ قطعی کے کہ وہ درجہ کی وجہ سے کلام سے نہ گرے گا بلکہ باقی رکھا جائے گا۔
رہا بقاعده تخفیف ہمزہ کا گرنا تو وہ کچھ اس قسم کے ہمزہ پر موقوف نہیں بلکہ اصلی ہمزہ بھی اس قاعدے سے گر جائے گا۔ جیسے یسئل کہ ہمزہ عین کلمہ ہے اور یقرأ کے آخر کا ہمزہ زائد نہیں ۔ پس اسی قاعدے سے یقر ہوگا، لم ار کہ اصل اس قاعدے سے لمر ہو جائے گا ۔ حالانکہ یہ علامات مضارع ہے غرض اس قاعدہ کی رو سے ہر طرح کا ہمزہ وصلی زائد قطعی زائد سب گر جائے گا اور وجہ کلام میں ہمزہ وصلی گر جائے گا ، ہمز قطعی نہ گرے گا کہ ہمزہ وصلی زائد محقق ہے۔ صرف بقدر ابتداء سکون کی وجہ سے لایا جاتا ہے تو جب کوئی کلمۂ اولی میں آئے گا ، یہ ہمزہ گر جائے گا ۔ قد فلح اور قد جتنب میں فرق ظاہر ہے۔ اول یہ کہ قد فلح پڑھنا جائز ہے اور قد جتنب پڑھنا واجب ہے ۔ قد افلح بھی پڑھ سکتے ۔ اس میں کوئی غلطی نہیں۔ جبکہ قرآن شریف میں ہماری قراءت میں اسی طرح وارد ہونے کی وجہ سے قد افلح ہی پڑھنا اولی ہے اور قد اجتنب پڑھنا غلط ہے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ قد فلح کا ہمزہ اس قاعدے سے گرا ہے، نہ فقط اول میں لفظ کے آنے سے ۔ بخلاف قد جتنب کے کہ اگر یہ قاعدہ سرے سے نہ ہوتا جب بھی فقط درج کلام اور اول اس کے کسی لفظ کا آ جانا ہی اس کے گرا دینے کو کافی ہے۔
تو معلوم ہوا کہ ہمزہ کی تقسیم قطعی اور اصلی کی طرف لغو اور بیکار نہیں ہے۔
٢۔ بے شبہ قد فلح پڑھنا جائز ہے اور اسی طرح کی قراءت قراء کی مروی اور منقول ہے۔
تیسیر علامہ ابو عمر و عثمان حرانی متوفی ٤٤٤ ھ مطبع مجتبائی دہلی ص ۳۰ میں فرماتے ہیں:
اعلم ان كان يلقى حركته المهمزة على الساكن يتحرك بحركتها وتسقط من اللفظ الح
پھر اس کی تین قسم کر کے اول و دوم کے بعد تیسری قسم کو بیان کرتے ہیں ۔

والثالث ان يكون سائر حروف المعجم نحو قوله تعالى من امن الخ
امام شاطبی شاطبیہ مطبوعہ مصرص ١٦ میں فرماتے ہیں :
وحرك لورش كل ساكن اخر
صحيح بشكل الهمز واحذفه مسهلا
نیز اسی مجموعہ قراءت میں رسالہ طیبہ حافظ محمد ابی جزری ص ۱۱۰ میں فرماتے ہیں:
وانقل في الآخر غير حرف مد
لورش الا كتابيه اسد
اس قاعدہ عامہ سےاستدلال اگر چہ اثبات مدعی میں تام ہے مگر خاص قد فلح کی تصریح بھی مفسرین نے فرمادی۔
تفسیر روح المعانی علامہ آلوسی بغدادی جلد ۵ ص ٤٨٠ سورہ مومنون میں ہے:
و قرأ ورش عن نافع قد فلح باستبقاء حركة الهمزة على الدال وحذف فيها لفظا لالتقاء الساكنين كما قال ابو البقاء وهي الهمزة الثالثة بعد نقل حركتهما والدال الساكنة بحذف الاصل لانه لا يعتد بحركتها العارضة.

اور بلا شبہ اسی قاعدہ کی رو سے، جس جگہ یہ قاعدہ پایا جاتا ہو اس جگہ ہمزہ کو گرادینا جائز ہے اگر چہ مروی اثبات ہو۔
تیسیر ص ۷۲ میں ہے:
ابن كثير والكسائي وسلوا الله من فضله وسل الذين اذا كان امرا مواجها وكان السين والواو والفاء بغير همزة حيث وقع الوجوه في أتمام القرأت العشرة.
حافظ شیخ محمد ص ۱۶۷ میں ہے: ونقل خلف و اسال و فاسئل وسلوا و فاسئلوا كالكسائي
معلوم ہوا کہ واسئلوا و وسلوا اور فاسئلوا و فسلوا پڑھنا صرف قاعدے کی رو سے جائز ہی نہیں ہے بلکہ عبد اللہ ابن کثیر دارمی مکی اور علی بن ہمزہ نحوی کسانی کوفی اور خلف ابن ہشام بزاز سے مروی و منقول ہے ۔
[فتاوی ملک العلما ص: ٤٧٨-٤٧٩]
وافیہ ـــــــــــــ
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وافیہ فن نحو میں اردو زبان میں نحو کی اولین کتابوں میں سے ہے جسے حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ نے تصنیف فرمائی یہ کتاب بڑے عرصے سے منتظر طباعت رہی جب جہان مفتی اعظم لکھی گئی تو اس میں محشی نے حاشیہ لگایا:
علم نحو میں آپ [ملک العلما] کی تصنیف وافیہ آج تک شائع نہ ہو سکی اس کے دو نسخے کتب خانے میں محفوظ ہیں۔
[جہان مفتی اعظم ص: ١٠٩٩]
پھر حضور ملک العلما کی اس نایاب کتاب کو شائع کرنے کے لیے مفتی ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی نے دن رات یک کر دیا مسودہ اتنا بوسیدہ تھا کہ پڑھنا بہت مشکل امر تھا باوجود اس کے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اس پر کام کیا اور مفہوم تک رسائی حاصل کی یہاں تک کہ مفتی صاحب قبلہ کی محنتوں سے پہلی بار اس کی اشاعت ٢٠٢١ میں ہوئی
بعدہ حضرت علامہ محمد نظام الدین مصباحی صاحب قبلہ یوکے کی محنتوں اور کاوشوں سے جماعت رضائے مصطفی یوکے سے بھی اس کی اشاعت ہوئی۔
یہ کتاب در حقیقت شرح جامی، ہدایۃ النحو، کافیہ ابن حاجب، شرح ابن عقیل، شرح شذور الذھب، اوضح المسالک، مغنی البیب جیسی اہم اور متداول کتابوں کا نچوڑ ہے جسے ہر قاری پڑھ کر بآسانی محسوس کر سکتا ہے
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اہل سنت کے ان دونوں جیالے کو عمر طویل عطا فرمائے اور مزید دینی خدمات کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
79
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف

از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

تلمیذ و خلیفۂ اعلی حضرت حضور ملک العلما علامہ سید شاہ ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ چودہویں صدی کے عظیم مفتی، فقیہ، مصنف، مناظر، محدث، مفسر، علم توقیت میں یکتائے روزگار، ماہر ہر فن گزرے ہیں
آپ رضی اللہ عنہ کے نگارشات تاریخ کے سنہرے اوراق میں آج بھی ثبت ہیں حضور ملک العلما کے اشہب قلم سے نکلنے والی ہر تحریر اہل فن کے لیے کسی سنگ میل سے کم نہیں ہے ستر سے زائد کتابیں آپ نے تصنیف فرما کر مسلمانوں پر عظیم احسان کیا صحیح البہاری، فتاوی ملک العلما میں وہ مقناطیسی جاذبیت ہے کہ اہل فن آج بھی ان کی طرف کھنچے جا رہے ہیں۔

حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے جہاں تفسیر، حدیث، فقہ، توقیت، میں کتابیں ارقام فرمائی وہیں علم نحو و صرف میں بھی اپنے نگارشات چھوڑے ہیں جو عافیہ، وافیہ کے نام سے موسوم ہیں

عافیہ ـــــــــــــــــ
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے علم صرف میں عافیہ تصنیف فرمائی جو پہلی بار ١٩٢٨ء میں مطبع حسنی سے دوسری بار ٢٠١٤ء میں مخدوم جہاں اکیڈمی سے تیسری بار ٢٠١٦ء میں بزم فیضان سے چھپی۔
اور پانچویں بار جدید اسلوب اور حاشیہ کے ساتھ مخدوم جہاں اکیڈمی سے طباعت ہوئی، جس کا سہرا تلمیذ و خلیفۂ تاج الشریعہ متحرک و فعال شخصیت حضرت مفتی محمد ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی کے سر جاتا ہے آپ نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ حاشیہ اور علامات ترقیم کے اہتمام کا کام انجام دیا ہے، موصوف نے اس کے علاوہ اور بھی حضور ملک العلما کے کئی تصانیف پر محنت طلب کام انجام دے کر بہتوں پر سبقت لے گئے ہیں۔
چھٹی بار یہ کتاب مستطاب جماعت رضائے مصطفی یوکے سے شائع ہوئی جس کے ناشر متحرک و فعال شخصیت تلمیذ امام علم و فن حضرت علامہ محمد نظام الدین مصباحی حفظہ اللہ القوی ہیں

زبدۂ صرف ـــــــــــــ
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے عافیہ میں علم صرف کی ان تمام بحثوں کو اختصارا جمع فرما دیا ہے جو کئی کتابوں میں پھیلی ہوئی ہیں مثلا میزان و منشعب، فصول اکبری، پنج گنج وغیرہ کی بحثیں اختصارا اس میں شامل ہیں جو طلبا کو بآسانی سمجھ میں آ سکتیں ہیں نیز مشکل مقامات پر مفتی ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی نے حاشیہ تحریر فرما کر تسہیل کر دی ہے، علم صرف کے تمام اہم ابواب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کتاب کو علم صرف کا زبدہ اور نچوڑ کہنا بجا ہے

عافیہ حضور مفتی اعظم کی نظر میں ـــــــــــ

یہی وجہ ہے کہ حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ کو بھی یہ کتاب مستطاب بہت پسند آئی فن صرف میں بہتات کتاب ہونے کے باوجود سرکار مفتی اعظم رضی اللہ عنہ نے جب حضرت ساجد میاں قدس سرہ مہتمم مظہر اسلام کو علم صرف پڑھانا چاہا تو حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:
۷۸۶
بریلی ۱۲ شعبان ۵۵ ھ
مولانائے مکرم ذی الکرم زید مجدہ
السلام علیکم ورحمتہ وبر کاتہ
طالب خیر بہ خیر وعافیت ہے۔
عوافی مزاج گرامی مطلوب ۔ مدت سے خط کتابت کا سلسلہ منقطع ہے۔ نہ کسے میرود آں جا نہ کسے می آید ۔ اس وقت یہ خط اس غرض سے لکھ رہا ہوں کہ مجھے اپنے ایک عزیز نور چشم ساجد میاں سلمہ کے لیے عافیہ کی ضرورت ہے۔ اپنی عافیت کے ساتھ عافیہ بھی بھیج دیں۔ والسلام

مصطفی رضا قادری نوری عفی عنہ
[جہان مفتی اعظم ص: ١٠٩٩]

ہمزۂ وصلی اور قطعی ــــــــــــــــ

کتاب مطالعہ کرتے ہوئے جب باب افعال کے ہمزۂ قطعی پر پہنچا تو حضور ملک العلما کا ایک فتوی جو فتاوی ملک العلما میں موجود ہے جسے فقیر نے تقریبا آٹھ، نو سال قبل پڑھا تھا یاد آگیا میں چاہتا ہوں طلبا کے فائدے اور قارئین کے ذوق طبع کے لیے یہاں پیش کر دوں ۔
سوال و جواب من و عن ملاحظہ فرمائیں:
جناب مولانا دام مجده !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته
ضروری گزارش یہ ہے کہ
١۔ اہل صرف کا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے، باب افعال کا ہمزہ قطعی ہے ۔ چنانچہ آپ بھی اپنے رسالہ ص ۲۴ [٢٠١٦ء والے ایڈیشن میں ص: ٩٥ ] میں تحریر فرماتے ہیں : ثلاثی مزید مطلق بے ہمزۂ وصل کے پانچ باب ہیں اور اس کے باب اول کا ہمزہ قطعی ہے، وصلی نہیں ۔ اس لئے حالت وصل میں نہیں گرتا ۔ باب اول افعال۔ پھر لکھتے ہیں :
علامت اس کی فا کلمہ کے قبل همزۂ قطعی ہوتا ہے۔ قطعیت ہمزہ کا مطلب تو یہی ہے کہ حالت وصل میں اس کا قائم رہنا واجب اور ضروری ہے۔ پھر ص ۳۳ [٢٠١٦ء والے ایڈیشن میں ص: ١١١] میں تحریر فرماتے ہیں:
قاعدہ: ہمزہ منفردہ متحرکہ ما قبل صحیح ساکن غیر نون انفعال و یائے تصغیر ہو تو حرکت اس کی نقل کر کے ماقبل کو دے کر اس کو گرا دینا جائز ہے۔ ایک کلمہ میں ہو تو جیسے لیسل یا دو کلمہ میں جیسے قدَ فلح کہ اصل میں قد افلح تھا اور یسأل تھا “ انتخاب ملخصا –
افلح باب افعال کا ماضی ہے مگر اس قاعدے کی رو سے قد کے لانے کے بعد اس کے ہمزہ کا گرا دینا جائز ہے تو پھر قطعیت ہمزہ کا کیا مطلب ہے؟
اور قد فلح قد افلح میں کیا فرق رہا ؟
اس صورت میں ہمزہ کی تقسیم قطعی اور وصلی کی طرف لغو بیکار ہو جاتی ہے ۔۔
٢۔ یہ لفظ قر آن مجید میں متعدد جگہوں میں آیا ہے۔ ہر جگہ باثبات ہمزہ ہے، باسقاط ہمزہ کہیں نہیں ہے۔ اگر کوئی محض آپ کی پیش کردہ مثال کی رو سے قرآن شریف میں قد افلح کی جگہ قد فلح پڑھے تو جائز ہے یا نہیں ؟
اور اس طرح کی قراءت قراء سبعہ میں سے کسی سے مروی ہے یا نہیں ؟
اگر قد فلح پڑھنا جائز ہے تو پھر اس قاعدے کی رو سے قرآن مجید میں جس جگہ اثبات ہمزہ ہے وہاں اسقاط ہمزہ جائز ہے یا نہیں؟
سل بنی اسرائیل کی جگہ اسئل بنی اسرائیل، فاسئلوا اهل الذكر، فسلوا اھل الذکر پڑھنا جائز ہے یا نہیں اگر نہیں جائز ہے تو کیوں ؟
مہربانی فرما کر جواب مع دلائل تحریر کر کے ذیل کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔

الجواب:
(١) ہمزہ وصل وہ ہے کہ وجہ کلام میں اس کا گرانا ضروری ہو، باقی رکھنا خطا ہے ۔ اس لئے قرآن شریف میں مطلقا ہر جگہ باتفاق جميع قراء تمامی همزۂ وصل گرا دیے جاتے ہیں۔ بخلاف ہمزۂ قطعی کے کہ وہ درجہ کی وجہ سے کلام سے نہ گرے گا بلکہ باقی رکھا جائے گا۔
رہا بقاعده تخفیف ہمزہ کا گرنا تو وہ کچھ اس قسم کے ہمزہ پر موقوف نہیں بلکہ اصلی ہمزہ بھی اس قاعدے سے گر جائے گا۔ جیسے یسئل کہ ہمزہ عین کلمہ ہے اور یقرأ کے آخر کا ہمزہ زائد نہیں ۔ پس اسی قاعدے سے یقر ہوگا، “لم ار” کہ اصل اس قاعدے سے “لمر” ہو جائے گا ۔ حالانکہ یہ علامات مضارع ہے غرض اس قاعدہ کی رو سے ہر طرح کا ہمزہ وصلی زائد قطعی زائد سب گر جائے گا اور وجہ کلام میں ہمزہ وصلی گر جائے گا ، ہمز قطعی نہ گرے گا کہ ہمزہ وصلی زائد محقق ہے۔ صرف بقدر ابتداء سکون کی وجہ سے لایا جاتا ہے تو جب کوئی کلمۂ اولی میں آئے گا ، یہ ہمزہ گر جائے گا ۔ قد فلح اور قد جتنب میں فرق ظاہر ہے۔ اول یہ کہ قد فلح پڑھنا جائز ہے اور قد جتنب پڑھنا واجب ہے ۔ قد افلح بھی پڑھ سکتے ۔ اس میں کوئی غلطی نہیں۔ جبکہ قرآن شریف میں ہماری قراءت میں اسی طرح وارد ہونے کی وجہ سے قد افلح ہی پڑھنا اولی ہے اور قد اجتنب پڑھنا غلط ہے۔

دوسرا فرق یہ ہے کہ قد فلح کا ہمزہ اس قاعدے سے گرا ہے، نہ فقط اول میں لفظ کے آنے سے ۔ بخلاف قد جتنب کے کہ اگر یہ قاعدہ سرے سے نہ ہوتا جب بھی فقط درج کلام اور اول اس کے کسی لفظ کا آ جانا ہی اس کے گرا دینے کو کافی ہے۔
تو معلوم ہوا کہ ہمزہ کی تقسیم قطعی اور اصلی کی طرف لغو اور بیکار نہیں ہے۔

٢۔ بے شبہ قد فلح پڑھنا جائز ہے اور اسی طرح کی قراءت قراء کی مروی اور منقول ہے۔
تیسیر علامہ ابو عمر و عثمان حرانی متوفی ٤٤٤ ھ مطبع مجتبائی دہلی ص ۳۰ میں فرماتے ہیں:
اعلم ان كان يلقى حركته المهمزة على الساكن يتحرك بحركتها وتسقط من اللفظ الح ”
پھر اس کی تین قسم کر کے اول و دوم کے بعد تیسری قسم کو بیان کرتے ہیں ۔ ”
والثالث ان يكون سائر حروف المعجم نحو قوله تعالى من امن الخ”
امام شاطبی شاطبیہ مطبوعہ مصرص ١٦ میں فرماتے ہیں :
وحرك لورش كل ساكن اخر
صحيح بشكل الهمز واحذفه مسهلا
نیز اسی مجموعہ قراءت میں رسالہ طیبہ حافظ محمد ابی جزری ص ۱۱۰ میں فرماتے ہیں:
وانقل في الآخر غير حرف مد
لورش الا كتابيه اسد
اس قاعدہ عامہ سےاستدلال اگر چہ اثبات مدعی میں تام ہے مگر خاص قد فلح کی تصریح بھی مفسرین نے فرمادی۔
تفسیر روح المعانی علامہ آلوسی بغدادی جلد ۵ ص ٤٨٠ سورہ مومنون میں ہے:
و قرأ ورش عن نافع قد فلح باستبقاء حركة الهمزة على الدال وحذف فيها لفظا لالتقاء الساكنين كما قال ابو البقاء وهي الهمزة الثالثة بعد نقل حركتهما والدال الساكنة بحذف الاصل لانه لا يعتد بحركتها العارضة.”
اور بلا شبہ اسی قاعدہ کی رو سے، جس جگہ یہ قاعدہ پایا جاتا ہو اس جگہ ہمزہ کو گرادینا جائز ہے اگر چہ مروی اثبات ہو۔
تیسیر ص ۷۲ میں ہے:
“ابن كثير والكسائي وسلوا الله من فضله وسل الذين اذا كان امرا مواجها وكان السين والواو والفاء بغير همزة حيث وقع الوجوه في أتمام القرأت العشرة.”
حافظ شیخ محمد ص ۱۶۷ میں ہے: “ونقل خلف و اسال و فاسئل وسلوا و فاسئلوا كالكسائي ”
معلوم ہوا کہ واسئلوا و وسلوا اور فاسئلوا و فسلوا پڑھنا صرف قاعدے کی رو سے جائز ہی نہیں ہے بلکہ عبد اللہ ابن کثیر دارمی مکی اور علی بن ہمزہ نحوی کسانی کوفی اور خلف ابن ہشام بزاز سے مروی و منقول ہے ۔
[فتاوی ملک العلما ص: ٤٧٨-٤٧٩]

وافیہ ـــــــــــــ

وافیہ فن نحو میں اردو زبان میں نحو کی اولین کتابوں میں سے ہے جسے حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ نے تصنیف فرمائی یہ کتاب بڑے عرصے سے منتظر طباعت رہی جب جہان مفتی اعظم لکھی گئی تو اس میں محشی نے حاشیہ لگایا:
علم نحو میں آپ [ملک العلما] کی تصنیف “وافیہ” آج تک شائع نہ ہو سکی اس کے دو نسخے کتب خانے میں محفوظ ہیں۔
[جہان مفتی اعظم ص: ١٠٩٩]
پھر حضور ملک العلما کی اس نایاب کتاب کو شائع کرنے کے لیے مفتی ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی نے دن رات یک کر دیا مسودہ اتنا بوسیدہ تھا کہ پڑھنا بہت مشکل امر تھا باوجود اس کے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اس پر کام کیا اور مفہوم تک رسائی حاصل کی یہاں تک کہ مفتی صاحب قبلہ کی محنتوں سے پہلی بار اس کی اشاعت ٢٠٢١ میں ہوئی
بعدہ حضرت علامہ محمد نظام الدین مصباحی صاحب قبلہ یوکے کی محنتوں اور کاوشوں سے جماعت رضائے مصطفی یوکے سے بھی اس کی اشاعت ہوئی۔
یہ کتاب در حقیقت شرح جامی، ہدایۃ النحو، کافیہ ابن حاجب، شرح ابن عقیل، شرح شذور الذھب، اوضح المسالک، مغنی البیب جیسی اہم اور متداول کتابوں کا نچوڑ ہے جسے ہر قاری پڑھ کر بآسانی محسوس کر سکتا ہے

اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اہل سنت کے ان دونوں جیالے کو عمر طویل عطا فرمائے اور مزید دینی خدمات کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

Scan this QR code to read online:

QR Code