صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا
انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر بھی بہت قریب ہوتا ہے آج کل مسلم قوم دور دراز کا سفر کرنا بڑی بڑی جگہوں میں حاضری دینا اپنے لیے ضروری سمجھتی ہے اور اسی کو محبت کی دلیل سمجھتی ہے حالانکہ محبت کی دلیل یہ نہیں ہے کہ سب کچھ نظر انداز کر کے آپ کبھی یہاں کا کبھی وہاں کا سفر طے کرتے رہیں بلکہ محبت کی دلیل یہ ہے جو آپ کی ذمہ داری ہے اسے پوری کی جائے اگر آپ کے گھر میں ماں بیمار ہے تو ماں کی تیمار داری کی جائے دیوہ شریف نہ جایا جائے
اگر باپ کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے تو باپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں اجمیر کی گلیوں کی خاک نہ چھانی جائے
اگر آپ کی بیوی، اولاد آپ کے بغیر نہ رہ پائیں تو ان کی پرورش کی جائے کلیر شریف کی نہر میں ڈبکی نہ لگائی جائے
اگر ملک میں فتنہ بڑھ رہا ہو اور آپ عالم دین ہیں تو ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں قیام پذیر نہ رہیں بلکہ اپنے ملک کے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے لائحۂ عمل تیار کریں
اگر آپ کو اللہ نے مال و دولت عطا کی ہے تو اسے اپنے پڑوس کے مسلمانوں کو روتا سسکتا چھوڑ کر کہیں اور خرچ نہ کریں بلکہ ان کی مدد کو پہنچیں
اپنی ذمہ داری کو سمجھیں کہ کس طرح فتنۂ ارتداد کا سد باب ہوگا
کس طرح بلڈوزر کا خاتمہ ہوگا
کس طرح گستاخ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان بند ہوگی
ایسا کیا کیا جائے گستاخان نبی کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے
کیا آپ مجدد وقت کنز الکرامت جبل الاستقامت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کی زندگی نہیں دیکھتے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو حضور پُرنور سرکار غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے کیسی غایت درجہ محبت تھی ان کے نام کی شیرینی گر گئی تو اپنی زبان مبارک کو زمین سے لگا کر چاٹ لیا لیکن تاریخ گواہ ہے اتنی محبت و انسیت ہونے کے باوجود کبھی بغداد شریف حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضری نہیں دی اگر آپ چاہتے تو کہاں کہاں نہیں جا سکتے تھے لیکن آپ کے دل میں امت کا درد تھا کہیں ناموس رسالت پر حملہ ہو رہا تھا تو آپ اس کی حفاظت و صیانت کے لیے سینہ سپر رہے پورے ملک بیرون ملک کے سوالات کے جوابات دینے میں مصروف عمل رہے کہیں عقائد اسلام پر سائنسی ٹیکنالوجی سے حملہ کیا گیا تو آپ اس کا جواب دینے میں سرگرم عمل رہے اتنی مصروفیات میں آپ کہیں کیسے جا سکتے تھے آپ کی یہی خدمات حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے محبت کی سچی دلیل ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی کو خلق خدا کی خدمت ناموس رسالت کی حفاظت عقائد اسلام کی صیانت کے لیے وقف کر دی اور یہیں سے پہریداری کا حق انجام دیا اسی لیے فرماتے ہیں
میری قسمت کے قسم کھائیں سگانِ بغداد
ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا
کاش آج بھی کوئی امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے والا ہوتا جو اپنے ملک کے حالات کا جائزہ لیتا اور اس کی بہتری کے لیے تدبیر کرتا ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے سینہ سپر رہتا
یاد رہے کہ فقط چادر چومنے کا نام محبت نہیں ہے دست بوسی کا نام الفت نہیں بلکہ ان چیزوں کو دور کرنے کا نام محبت ہے جن سے محبوب کو اذیت و تکلیف پہنچتی ہے
کیا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے مریدین کے گھروں پر بلڈوزر چلایا جائے تو حضور غوث الاعظم خوش رہیں گے
خوش تو تب ہوں گے جب آپ ان کے مریدین کی حمایت میں کھڑے رہیں گے
کتنی مائیں ہیں جو آج بلک رہیں ہیں سسک رہیں ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اگر ماؤں کی محبت و خدمت کو چھوڑ کر اونچا مقام مل جاتا تو حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کبھی خیر التابعین نہ ہوتے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
معلوم ہوا عشق نام ہے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و قوانین کو بجا لانے کا عشق نام ہے گستاخ رسول کو قوانین رسول کے مطابق سزا دینے کا عشق نام امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و حمایت کا عشق نام ہے احکام خداوندی پر پہرا دینے کا اگر چہ کوئی اپنے محبوب سے میلوں دور کیوں نہ ہو اگر ان کے نقش قدم پر گامزن ہے تو وہ عاشق صادق ہے اور کوئی قریب ہی کیوں نہ ہو لیکن دل میں ابو جہلیت ابو لہبیت ہو تو قریب رہنے کا کوئی فایدہ نہیں فایدہ تو تب ہے کہ
ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
90
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

قلمکار: Mufti Jasim Akram Markazi

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر بھی بہت قریب ہوتا ہے آج کل مسلم قوم دور دراز کا سفر کرنا بڑی بڑی جگہوں میں حاضری دینا اپنے لیے ضروری سمجھتی ہے اور اسی کو محبت کی دلیل سمجھتی ہے حالانکہ محبت کی دلیل یہ نہیں ہے کہ سب کچھ نظر انداز کر کے آپ کبھی یہاں کا کبھی وہاں کا سفر طے کرتے رہیں بلکہ محبت کی دلیل یہ ہے جو آپ کی ذمہ داری ہے اسے پوری کی جائے اگر آپ کے گھر میں ماں بیمار ہے تو ماں کی تیمار داری کی جائے دیوہ شریف نہ جایا جائے

اگر باپ کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے تو باپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں اجمیر کی گلیوں کی خاک نہ چھانی جائے
اگر آپ کی بیوی، اولاد آپ کے بغیر نہ رہ پائیں تو ان کی پرورش کی جائے کلیر شریف کی نہر میں ڈبکی نہ لگائی جائے
اگر ملک میں فتنہ بڑھ رہا ہو اور آپ عالم دین ہیں تو ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں قیام پذیر نہ رہیں بلکہ اپنے ملک کے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے لائحۂ عمل تیار کریں

اگر آپ کو اللہ نے مال و دولت عطا کی ہے تو اسے اپنے پڑوس کے مسلمانوں کو روتا سسکتا چھوڑ کر کہیں اور خرچ نہ کریں بلکہ ان کی مدد کو پہنچیں
اپنی ذمہ داری کو سمجھیں کہ کس طرح فتنۂ ارتداد کا سد باب ہوگا

*کس طرح بلڈوزر کا خاتمہ ہوگا*
کس طرح گستاخ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان بند ہوگی
ایسا کیا کیا جائے گستاخان نبی کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے
کیا آپ مجدد وقت کنز الکرامت جبل الاستقامت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کی زندگی نہیں دیکھتے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو حضور پُرنور سرکار غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے کیسی غایت درجہ محبت تھی ان کے نام کی شیرینی گر گئی تو اپنی زبان مبارک کو زمین سے لگا کر چاٹ لیا لیکن تاریخ گواہ ہے اتنی محبت و انسیت ہونے کے باوجود کبھی بغداد شریف حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضری نہیں دی اگر آپ چاہتے تو کہاں کہاں نہیں جا سکتے تھے لیکن آپ کے دل میں امت کا درد تھا کہیں ناموس رسالت پر حملہ ہو رہا تھا تو آپ اس کی حفاظت و صیانت کے لیے سینہ سپر رہے پورے ملک بیرون ملک کے سوالات کے جوابات دینے میں مصروف عمل رہے کہیں عقائد اسلام پر سائنسی ٹیکنالوجی سے حملہ کیا گیا تو آپ اس کا جواب دینے میں سرگرم عمل رہے اتنی مصروفیات میں آپ کہیں کیسے جا سکتے تھے آپ کی یہی خدمات حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے محبت کی سچی دلیل ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی کو خلق خدا کی خدمت ناموس رسالت کی حفاظت عقائد اسلام کی صیانت کے لیے وقف کر دی اور یہیں سے پہریداری کا حق انجام دیا اسی لیے فرماتے ہیں

@میری قسمت کے قسم کھائیں سگانِ بغداد
ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

کاش آج بھی کوئی امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے والا ہوتا جو اپنے ملک کے حالات کا جائزہ لیتا اور اس کی بہتری کے لیے تدبیر کرتا ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے سینہ سپر رہتا

یاد رہے کہ فقط چادر چومنے کا نام محبت نہیں ہے دست بوسی کا نام الفت نہیں بلکہ ان چیزوں کو دور کرنے کا نام محبت ہے جن سے محبوب کو اذیت و تکلیف پہنچتی ہے
کیا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے مریدین کے گھروں پر بلڈوزر چلایا جائے تو حضور غوث الاعظم خوش رہیں گے

خوش تو تب ہوں گے جب آپ ان کے مریدین کی حمایت میں کھڑے رہیں گے
کتنی مائیں ہیں جو آج بلک رہیں ہیں سسک رہیں ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اگر ماؤں کی محبت و خدمت کو چھوڑ کر اونچا مقام مل جاتا تو حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کبھی خیر التابعین نہ ہوتے

معلوم ہوا عشق نام ہے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و قوانین کو بجا لانے کا عشق نام ہے گستاخ رسول کو قوانین رسول کے مطابق سزا دینے کا عشق نام امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و حمایت کا عشق نام ہے احکام خداوندی پر پہرا دینے کا اگر چہ کوئی اپنے محبوب سے میلوں دور کیوں نہ ہو اگر ان کے نقش قدم پر گامزن ہے تو وہ عاشق صادق ہے اور کوئی قریب ہی کیوں نہ ہو لیکن دل میں ابو جہلیت ابو لہبیت ہو تو قریب رہنے کا کوئی فایدہ نہیں فایدہ تو تب ہے کہ

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code