صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کشور دل پر کڑکتی بجلی
حکایات

کشور دل پر کڑکتی بجلی

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

کشور دل پر کڑکتی بجلی
تحریر___محمد جسیم اکرم مرکزی رابطہ نمبر__9523788434
نہ دل میں خون نہ آنکھوں میں اشک جاں کے سوا
کوئی اب ان پہ کرے بھی تو کیا نثار کرے
اس ٹھنڈ کے موسم میں بھی دیوانوں کی دیوانگی نہیں جاتی ،.......جہاں لوگ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے گوشۂ گمنامی میں عشرت منامی کے مزے لوٹتے ہیں ، وہیں عاشقان سوختہ ایک جھلک دیدار یار کو تڑپ جاتے ہیں،.......کیوں کہ عشق میں مبتلا شخص کے لیے پوری کائنات کی آبادی محض ایک شخص ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جسے محبوب کہتے ہیں،
اگر محبوب کا دیدار ہو جائے تو پھر جنوری کی سردی بھی کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ دیدار یار کے لیے تو ٹھنڈی، سردی، گرمی، بے قراری، بے چینی، اضطراب، فغاں، آہ، بکا، زاری، ہجو، زخم، نشتر، جفا، غمی، کلفت، درد، گریا، رنج، مصیبت، سب گوارا ہے لیکن رخ زیبائے یار آنکھوں کی کائنات سے اوجھل ہو ہر گز گوارا نہیں
دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو
عجب چیز ہے یہ لذت آشنائی
کاکل و رخ کی دیدِ پر لطف کو آنکھیں بے تاب تھیں کہ آج عاشقان سوختہ نے محبوب کو دیکھنے کے لیے مشورہ کیا اس موسمِ سرما کی بھی پروا نہیں کی جس کی وجہ سے کتنی نازنیں جانیں تہِ مزار چلی گئیں بالآخر سب کے مشوروں سے یہ بات طے پائی کہ اک محفل سجائی جائے اور اس میں محبوبِ گل بہار کو مدعو کیا جائے گویا عاشقان سوختہ اپنے دیار پر بہار میں ایوان محبوب کا عکس اتار کر دیدہائے نا شکیب کے لیے تسکین کی ٹھنڈک مہیا کرنے لگے ہر طرف خوشی کی لہر دور گئی آج کشورِ دل کے در و دیوار سے آنے والی گونج کانوں میں رس گھول رہی تھی
ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش
شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا
امیدوں کی کلیاں کھل اٹھیں تھیں............مشام دماغ زلف جاناں کی ہواؤں سے آنے والی خوشبو محسوس کرنے کے لیے بے تاب تھا............کہ اسی اثنا عاشقان سوختہ کی رائے پر محبوب نظر معشوق جگر کو فون کیا گیا اور بڑے مؤدبانہ، مخلصانہ، عاجزانہ، والہانہ انداز میں پیر طریقت، رہبر راہ شریعت، ہمدرد قوم و ملت مقرر دوسراں صدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرھم القاب سے نوازنے کے بعد گویا ہوئے حضور عالی جاہ ہم آپ کے دیدار کے مشتاق ہیں شدت ہجر سے آنکھیں پتھرانے لگیں ہیں آپ کا جادوئی بیان سنے کے لیے کانیں ترس گئیں ہیں ہم پر نگاہ التفات فرمائیں تاکہ ہماری کائناتِ ہستی کی بہاریں لوٹ آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی ادھر سے جملے پورے ہی ہوئے تھے
کہ ادھر لبہائے مبارکہ پر جنبش کے آثار نمودار ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک نرم گداز آواز آئی کہ روح کو تازگی ملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہنے والے نے کہا ضرور آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔ پھر ادھر سے عاشق دل سوز نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ حضور ساتھ ہی آپ کے شہزادے گرامی وقار کو دعوت محبتانہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جوابا ایک آواز آئی ہاں دونوں آجائیں گے لیکن نذرانہ چھ لاکھ روپے دینا ہوگا تین لاکھ والد کے لیے اور تین لاکھ شہزادے کے لیے
آہ اتنا سنا تھا کہ کائنات دل میں زیر و زبر کی کیفیت پیدا ہو گئی............. امیدوں کی دنیا میں زلزلہ برپا ہو گیا.......... بالآخر خود کو سنبھالا اور سمٹ کر بھرائی ہوئی آواز میں کہا حضور چار لاکھ دے دیں گے تشریف لے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن پیر صاحب مقرر دوراں صدی نے ان کے خلوص و محبت کی فکر نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی آواز کے پیچھے چھپا ہوا درد محسوس نہ کر سکے۔۔۔۔۔۔۔
ایک رات میں چار لاکھ بھی دو شخصیتوں کے لیے کم پڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انھیں یہ خیال نہیں آیا کہ یہ مزدوروں نے اپنا خون پسینہ بہا کر کمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر چندہ کر کے جمع کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے حاشیۂ خیال میں شاید ہی آیا ہو کہ پورے دن مزدوری کرنے کے بعد ایک مزدور کو صرف پانچ سو روپے ملتا ہے لیکن مقرر دوراں صدی نے ان مزدوروں کو اپنے رخِ زیبا کی زیارت کرانے کے لیے تین لاکھ کی مانگ کر بیٹھے ،
آہ آج اس دعوت کو ٹھکراتے ہوئے دیکھ کر زمین پھٹ کیوں نہیں گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمان شق کیوں نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔سورج کے شعلے زمین پر کیوں نہیں برسے۔۔۔۔۔۔۔ چاند اپنی روشنی سمیٹ کر چھپ کیوں نہیں گیا،
کہتے ہیں جس کو زخم محبت کچھ اور ہے
کہنے کو یوں تو گل کا بھی سینہ فگار ہے
اپنے دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر ایک ٹھنڈی سانس لے کر ایک گھڑی سوچیے ان عاشقان سوختہ پر کیسی بجلی گری ہوگی جنھوں نے ہمدرد قوم و ملت کے خطاب سے یاد کر کے آمدِ لالہ زار کی دعوت پیش کی تھی جو ارمانوں کی دنیا سجا کر منتظرِ دیدِ رخِ گلنار تھے،
کیا کوئی غالب دوراں اپنے محبوب کو دعوت دینے ان کی گلیوں میں گیا؟ تھا جسے کہتے ہوئے لوٹنا پڑا
ع_ بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
کیا ہمارے اسلاف نے ہمیں یہی درس دیا تھا کہ ہم تبلیغ دین متین کے لیے تین تین، چھ چھ لاکھ رقم کی مانگ کریں آج تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کی یاد آرہی ہے آپ کو کوئی اگر آنے جانے کا کرایہ بھی دیتا تو آپ فرماتے میں کرایہ کا مولوی نہیں ہوں،
آنکھوں میں اک نمی سی ہے ماضی کی یادگار
گزرا تھا اس مقام سے اک کارواں کبھی
کوئی ہے جو ان بکھرے ہوئے شیرازے کو سمیٹ لے آہ حضرت اشرف الاولیا حضور مجتبی اشرف علیہ الرحمہ آپ نے تو بنجر پتھریلی زمینوں پر پیدل چل چل کر تبلیغ دین متین کی خدمات انجام دیں لیکن ہمارے علما میں یہ بات پیدا کیوں نہیں ہوتی للہ کرم فرمائیں للہ کرم فرمائیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
جس سے جتنا بھی ہوا آکے مجھے لوٹ گیا
دیکھ کر رنگ تماشائی دلم ٹوٹ گیا
یوں تو چھوڑا ہوں زمانے کو بہت خوش ہو کر
مجھے افسوس ہوا اس پہ کہ تو چھوٹ گیا (جسیم)
اللہ جل و علا ہمیں خلوص و للہیت کے ساتھ دین متین کی خدمات انجام دینے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
90
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

تعلیم یافتہ کتا

کائنات حسن

کشور دل پر کڑکتی بجلی - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

کشور دل پر کڑکتی بجلی

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

کشور دل پر کڑکتی بجلی

تحریر___محمد جسیم اکرم مرکزی رابطہ نمبر__9523788434

@ نہ دل میں خون نہ آنکھوں میں اشک جاں کے سوا
کوئی اب ان پہ کرے بھی تو کیا نثار کرے

اس ٹھنڈ کے موسم میں بھی دیوانوں کی دیوانگی نہیں جاتی ،…….جہاں لوگ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے گوشۂ گمنامی میں عشرت منامی کے مزے لوٹتے ہیں ، وہیں عاشقان سوختہ ایک جھلک دیدار یار کو تڑپ جاتے ہیں،…….کیوں کہ عشق میں مبتلا شخص کے لیے پوری کائنات کی آبادی محض ایک شخص ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جسے محبوب کہتے ہیں،

اگر محبوب کا دیدار ہو جائے تو پھر جنوری کی سردی بھی کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ دیدار یار کے لیے تو ٹھنڈی، سردی، گرمی، بے قراری، بے چینی، اضطراب، فغاں، آہ، بکا، زاری، ہجو، زخم، نشتر، جفا، غمی، کلفت، درد، گریا، رنج، مصیبت، سب گوارا ہے لیکن رخ زیبائے یار آنکھوں کی کائنات سے اوجھل ہو ہر گز گوارا نہیں

@دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو
عجب چیز ہے یہ لذت آشنائی

کاکل و رخ کی دیدِ پر لطف کو آنکھیں بے تاب تھیں کہ آج عاشقان سوختہ نے محبوب کو دیکھنے کے لیے مشورہ کیا اس موسمِ سرما کی بھی پروا نہیں کی جس کی وجہ سے کتنی نازنیں جانیں تہِ مزار چلی گئیں بالآخر سب کے مشوروں سے یہ بات طے پائی کہ اک محفل سجائی جائے اور اس میں محبوبِ گل بہار کو مدعو کیا جائے گویا عاشقان سوختہ اپنے دیار پر بہار میں ایوان محبوب کا عکس اتار کر دیدہائے نا شکیب کے لیے تسکین کی ٹھنڈک مہیا کرنے لگے ہر طرف خوشی کی لہر دور گئی آج کشورِ دل کے در و دیوار سے آنے والی گونج کانوں میں رس گھول رہی تھی

@ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش
شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا

امیدوں کی کلیاں کھل اٹھیں تھیں…………مشام دماغ زلف جاناں کی ہواؤں سے آنے والی خوشبو محسوس کرنے کے لیے بے تاب تھا…………کہ اسی اثنا عاشقان سوختہ کی رائے پر محبوب نظر معشوق جگر کو فون کیا گیا اور بڑے مؤدبانہ، مخلصانہ، عاجزانہ، والہانہ انداز میں پیر طریقت، رہبر راہ شریعت، ہمدرد قوم و ملت مقرر دوسراں صدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرھم القاب سے نوازنے کے بعد گویا ہوئے حضور عالی جاہ ہم آپ کے دیدار کے مشتاق ہیں شدت ہجر سے آنکھیں پتھرانے لگیں ہیں آپ کا جادوئی بیان سنے کے لیے کانیں ترس گئیں ہیں ہم پر نگاہ التفات فرمائیں تاکہ ہماری کائناتِ ہستی کی بہاریں لوٹ آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی ادھر سے جملے پورے ہی ہوئے تھے

کہ ادھر لبہائے مبارکہ پر جنبش کے آثار نمودار ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک نرم گداز آواز آئی کہ روح کو تازگی ملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہنے والے نے کہا ضرور آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔ پھر ادھر سے عاشق دل سوز نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ حضور ساتھ ہی آپ کے شہزادے گرامی وقار کو دعوت محبتانہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جوابا ایک آواز آئی ہاں دونوں آجائیں گے لیکن نذرانہ *چھ لاکھ* روپے دینا ہوگا تین لاکھ والد کے لیے اور تین لاکھ شہزادے کے لیے
آہ اتنا سنا تھا کہ کائنات دل میں زیر و زبر کی کیفیت پیدا ہو گئی…………. امیدوں کی دنیا میں زلزلہ برپا ہو گیا………. بالآخر خود کو سنبھالا اور سمٹ کر بھرائی ہوئی آواز میں کہا حضور چار لاکھ دے دیں گے تشریف لے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن پیر صاحب مقرر دوراں صدی نے ان کے خلوص و محبت کی فکر نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی آواز کے پیچھے چھپا ہوا درد محسوس نہ کر سکے۔۔۔۔۔۔۔

ایک رات میں *چار لاکھ* بھی دو شخصیتوں کے لیے کم پڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انھیں یہ خیال نہیں آیا کہ یہ مزدوروں نے اپنا خون پسینہ بہا کر کمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر چندہ کر کے جمع کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے حاشیۂ خیال میں شاید ہی آیا ہو کہ پورے دن مزدوری کرنے کے بعد ایک مزدور کو صرف پانچ سو روپے ملتا ہے لیکن مقرر دوراں صدی نے ان مزدوروں کو اپنے رخِ زیبا کی زیارت کرانے کے لیے تین لاکھ کی مانگ کر بیٹھے ،

آہ آج اس دعوت کو ٹھکراتے ہوئے دیکھ کر زمین پھٹ کیوں نہیں گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمان شق کیوں نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔سورج کے شعلے زمین پر کیوں نہیں برسے۔۔۔۔۔۔۔ چاند اپنی روشنی سمیٹ کر چھپ کیوں نہیں گیا،

@ کہتے ہیں جس کو زخم محبت کچھ اور ہے
کہنے کو یوں تو گل کا بھی سینہ فگار ہے

اپنے دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر ایک ٹھنڈی سانس لے کر ایک گھڑی سوچیے ان عاشقان سوختہ پر کیسی بجلی گری ہوگی جنھوں نے *ہمدرد قوم و ملت* کے خطاب سے یاد کر کے آمدِ لالہ زار کی دعوت پیش کی تھی جو ارمانوں کی دنیا سجا کر منتظرِ دیدِ رخِ گلنار تھے،

کیا کوئی غالب دوراں اپنے محبوب کو دعوت دینے ان کی گلیوں میں گیا؟ تھا جسے کہتے ہوئے لوٹنا پڑا

ع_ بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
کیا ہمارے اسلاف نے ہمیں یہی درس دیا تھا کہ ہم تبلیغ دین متین کے لیے تین تین، چھ چھ لاکھ رقم کی مانگ کریں آج تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کی یاد آرہی ہے آپ کو کوئی اگر آنے جانے کا کرایہ بھی دیتا تو آپ فرماتے میں کرایہ کا مولوی نہیں ہوں،

@ آنکھوں میں اک نمی سی ہے ماضی کی یادگار
گزرا تھا اس مقام سے اک کارواں کبھی

کوئی ہے جو ان بکھرے ہوئے شیرازے کو سمیٹ لے آہ حضرت اشرف الاولیا حضور مجتبی اشرف علیہ الرحمہ آپ نے تو بنجر پتھریلی زمینوں پر پیدل چل چل کر تبلیغ دین متین کی خدمات انجام دیں لیکن ہمارے علما میں یہ بات پیدا کیوں نہیں ہوتی للہ کرم فرمائیں للہ کرم فرمائیں

@ جس سے جتنا بھی ہوا آکے مجھے لوٹ گیا
دیکھ کر رنگ تماشائی دلم ٹوٹ گیا
یوں تو چھوڑا ہوں زمانے کو بہت خوش ہو کر
مجھے افسوس ہوا اس پہ کہ تو چھوٹ گیا (جسیم)

اللہ جل و علا ہمیں خلوص و للہیت کے ساتھ دین متین کی خدمات انجام دینے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

Scan this QR code to read online:

QR Code