صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کتاب بہترین ہمنشیں ہے
ادبیات

کتاب بہترین ہمنشیں ہے

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

کتاب بہترین ہمنشیں ہے
رات کی تاریکی میں اک جہان سوتا ہے اک جہان جاگتا ہے لیکن جاگنے کا انداز الگ ہوتا ہے کوئی محبوب کی آغوش میں جاگتا ہے کوئی کتابوں کی حسین پر کیف بہاروں میں جاگتا ہے
محبوب ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ محبوب میں حواس خمسہ [قوت سامعہ، شامہ، ذائقہ، لامسہ، باصرہ] کی پر لطف صلاحیت ہو بلکہ محبوب تو ہر وہ شئی ہے جس سے محبت ہو جاتی ہے خواہ وہ صاحب حواس خمسہ ہو یا نہ ہو لیکن ان اشیا میں بھی سب سے بہترین محبوب کتاب ہے جو کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑتی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتی ہے کبھی یاد بن کر کبھی ساتھی بن کر آپ کے ذہن و دماغ میں طرح طرح کی باتیں ازبر کراتی ہے کبھی آپ روٹھ جاتے ہیں تو ہنساتی ہے
رات کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں اک جہان محبوب کی زلفیں سنوارنے میں مصروف رہتا ہے لیکن وہیں کوئی خوش بخت ایسا بھی ہے جو کتابوں کی ورق گردانی میں مصروف رہتا ہے
کوئی دیدار یار سے اپنی بے تاب نگاہوں کو تسکین فراہم کرتا ہے تو کوئی کتابوں کے سنہرے الفاظ کی دید سے آنکھوں کو جلا بخشتا ہے
کوئی شب دیجور میں محبوب سے ہمکلام ہوتا ہے شوخ باتیں کرتا ہے تو کوئی کتابوں سے محو گفتگو رہتا ہے اور مسائل کی گتھیاں سلجھاتا ہے یہ بہت ہی پرکشش دلفریب منظر ہوتا ہے کہ وہ کبھی علامہ شامی سے گفتگو کرتا ہے تو کبھی اعلی حضرت سے، آپ سوچتے ہوں گے یہ کیسے ہو سکتا ہے تو سنیں یہ ضرور ہو سکتا ہے آپ بھی اپنے محبوب بزرگوں سے لو لگائیں انھیں دنیائے تصورات میں لائیں اور پھر ہمکلام ہو جائیں رد المحتار فتاوی رضویہ کی حسین وادیوں میں گم ہو جائیں
ہمارے درمیاں علامہ ابن عابدین شامی نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں فتاوی شامی، رسم المفتی کی شکل میں ہیں
ہمارے درمیاں ملا جیون احمد نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں تفسیرات احمدیہ کی شکل میں ہیں
ہمارے درمیاں اعلی حضرت امام احمد رضا خان تو نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں فتاوی رضویہ کی صورت میں ہیں
ہمارے درمیاں صدر الشریعہ نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں بہار شریعت کی شکل میں ہیں
ان کتابوں کو دیکھنے کے بعد آنکھوں کو سکون ملتا ہے دل کو چین ملتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جب ایک بیٹے کے پاس مہینوں بعد خط آتا ہے ہے تو بیٹا کتنا خوش ہوتا ہے اور جب وہ خط پڑھتا ہے تو یہ نہیں سوچتا ہے کہ میں محض ایک تحریر جو لفظوں کی موتیوں میں پروئی گئی ہے اسی کا مشاہدہ کر رہا ہوں بلکہ اسے لگتا ہے میرے والد بزرگوار میرے سامنے بول رہے ہیں اور میں سن رہا ہوں یہ خط نہیں میرے والد کا درد ہے جو اس میں پنہاں ہے پھر ہر ہر لفظ بیٹے کے دل سے چھو جاتا ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بس ایسے ہی کسی کے لیے کتابیں ہیں وہ سوچتے ہیں کہ یہ کتابیں میرے لیے میرے بزرگوں نے لکھی ہے جو کہ ایک خط ضخیم جلدوں کی صورت میں ہے
پھر وہ کبھی علامہ شامی سے بات کرتا ہے تو کبھی اعلی حضرت سے کبھی رات کی تاریکی میں وہ صدر الشریعہ کی شفقتیں دیکھتا ہے کہ ان کو میری طہارت و عبادت کی کتنی فکر تھی وہ میرے لیے کیا کیا جواہر پارے چھوڑے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتیں ہیں بزرگوں کی شفقتوں کو یاد کر کے
کوئی شب کی سیاہی میں محبوب کا بوسہ لے کر محو خواب ہو جاتا ہے تو کوئی سرہانے رکھے کتاب کا بوسہ لے کر روح حیوانی کو مذکورہ بالا یادوں کی سیر و سیاحت کے لیے بھیج دیتا ہے
ہاں اک جہان جاگتا ہے لیکن انداز الگ الگ ہوتا ہے
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
تاریخ 18/08/2024
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
85
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار

یاد ساحل میں سفر شہسرام

کتاب بہترین ہمنشیں ہے - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

کتاب بہترین ہمنشیں ہے

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

کتاب بہترین ہمنشیں ہے

رات کی تاریکی میں اک جہان سوتا ہے اک جہان جاگتا ہے لیکن جاگنے کا انداز الگ ہوتا ہے کوئی محبوب کی آغوش میں جاگتا ہے کوئی کتابوں کی حسین پر کیف بہاروں میں جاگتا ہے
محبوب ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ محبوب میں حواس خمسہ [قوت سامعہ، شامہ، ذائقہ، لامسہ، باصرہ] کی پر لطف صلاحیت ہو بلکہ محبوب تو ہر وہ شئی ہے جس سے محبت ہو جاتی ہے خواہ وہ صاحب حواس خمسہ ہو یا نہ ہو لیکن ان اشیا میں بھی سب سے بہترین محبوب کتاب ہے جو کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑتی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتی ہے کبھی یاد بن کر کبھی ساتھی بن کر آپ کے ذہن و دماغ میں طرح طرح کی باتیں ازبر کراتی ہے کبھی آپ روٹھ جاتے ہیں تو ہنساتی ہے
رات کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں اک جہان محبوب کی زلفیں سنوارنے میں مصروف رہتا ہے لیکن وہیں کوئی خوش بخت ایسا بھی ہے جو کتابوں کی ورق گردانی میں مصروف رہتا ہے
کوئی دیدار یار سے اپنی بے تاب نگاہوں کو تسکین فراہم کرتا ہے تو کوئی کتابوں کے سنہرے الفاظ کی دید سے آنکھوں کو جلا بخشتا ہے

کوئی شب دیجور میں محبوب سے ہمکلام ہوتا ہے شوخ باتیں کرتا ہے تو کوئی کتابوں سے محو گفتگو رہتا ہے اور مسائل کی گتھیاں سلجھاتا ہے یہ بہت ہی پرکشش دلفریب منظر ہوتا ہے کہ وہ کبھی علامہ شامی سے گفتگو کرتا ہے تو کبھی اعلی حضرت سے، آپ سوچتے ہوں گے یہ کیسے ہو سکتا ہے تو سنیں یہ ضرور ہو سکتا ہے آپ بھی اپنے محبوب بزرگوں سے لو لگائیں انھیں دنیائے تصورات میں لائیں اور پھر ہمکلام ہو جائیں رد المحتار فتاوی رضویہ کی حسین وادیوں میں گم ہو جائیں

ہمارے درمیاں علامہ ابن عابدین شامی نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں فتاوی شامی، رسم المفتی کی شکل میں ہیں
ہمارے درمیاں ملا جیون احمد نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں تفسیرات احمدیہ کی شکل میں ہیں
ہمارے درمیاں اعلی حضرت امام احمد رضا خان تو نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں فتاوی رضویہ کی صورت میں ہیں
ہمارے درمیاں صدر الشریعہ نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں بہار شریعت کی شکل میں ہیں
ان کتابوں کو دیکھنے کے بعد آنکھوں کو سکون ملتا ہے دل کو چین ملتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جب ایک بیٹے کے پاس مہینوں بعد خط آتا ہے ہے تو بیٹا کتنا خوش ہوتا ہے اور جب وہ خط پڑھتا ہے تو یہ نہیں سوچتا ہے کہ میں محض ایک تحریر جو لفظوں کی موتیوں میں پروئی گئی ہے اسی کا مشاہدہ کر رہا ہوں بلکہ اسے لگتا ہے میرے والد بزرگوار میرے سامنے بول رہے ہیں اور میں سن رہا ہوں یہ خط نہیں میرے والد کا درد ہے جو اس میں پنہاں ہے پھر ہر ہر لفظ بیٹے کے دل سے چھو جاتا ہے

بس ایسے ہی کسی کے لیے کتابیں ہیں وہ سوچتے ہیں کہ یہ کتابیں میرے لیے میرے بزرگوں نے لکھی ہے جو کہ ایک خط ضخیم جلدوں کی صورت میں ہے
پھر وہ کبھی علامہ شامی سے بات کرتا ہے تو کبھی اعلی حضرت سے کبھی رات کی تاریکی میں وہ صدر الشریعہ کی شفقتیں دیکھتا ہے کہ ان کو میری طہارت و عبادت کی کتنی فکر تھی وہ میرے لیے کیا کیا جواہر پارے چھوڑے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتیں ہیں بزرگوں کی شفقتوں کو یاد کر کے
کوئی شب کی سیاہی میں محبوب کا بوسہ لے کر محو خواب ہو جاتا ہے تو کوئی سرہانے رکھے کتاب کا بوسہ لے کر روح حیوانی کو مذکورہ بالا یادوں کی سیر و سیاحت کے لیے بھیج دیتا ہے
ہاں اک جہان جاگتا ہے لیکن انداز الگ الگ ہوتا ہے

@از: محمد جسیم اکرم مرکزی
تاریخ 18/08/2024

Scan this QR code to read online:

QR Code