صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]
اصلاح معاشرہ

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط ہشتم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: الجامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
لفظ رب اردو میں خاص ہے خدا کے لیےــــــــــــــــ
۔۔۔۔۔۔۔بس ایسے ہی اسی عرف کی وجہ سے ہمارے بلاد میں لفظ رب اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہو گیا اب یہ سوائے اللہ کے کسی کے لیے نہیں بولا جاتا نہ کسی کا ذہن سوائے خدا کے کسی کی طرف جاتا ہے تو لہذا اردو میں رب بول کر لغت کے معنی نہیں لیے جائیں گے جیسے خدا بول کر لغت کے معانی نہیں لیے جاتے ہیں اور یہ سب پر واضح ہے مبحوث عنہ مصرع ہمارے بلاد میں اردو میں پڑھا گیا ہے اسی لیے وہاں کے عرف کا ضرور اعتبار کیا جائے گا اور عرف کا اعتبار شریعت میں کس قدر ضروری ہوتا ہے اس کی مثال یہ ہے!
قارئین کرام ! مثال کو آسانی سے سمجھنا چند تمہیدی باتوں کے سمجھنے پر موقوف ہے اس لیے پہلے ان باتوں کو سمجھ لیتے ہیں پھر مثال کی طرف بڑھتے ہیں ،
اصول فقہ میں نص کی چار قسمیں ہیں :
١) عبارۃ النص، ٢) اشارۃ النص، ٣) دلالۃ النص، ٤) اقتضاء النص
١) عبارۃ النص:
عبارۃ النص وہ ہے جس کی وجہ سے کلام کو لایا گیا ہو اور قصدا اس کلام سے وہی حکم مراد ہو۔
٢) اشارۃ النص:
اشارۃ النص وہ ہے جو نص کے الفاظ سے ثابت ہو نص پر زیادتی کیے بغیر، اور وہ من کل وجہ ظاہر نہ ہو۔
جیسے اللہ تعالیٰ کا قول:
لِلۡفُقَرَاۤءِ ٱلۡمُهَـٰجِرِینَ ٱلَّذِینَ أُخۡرِجُوا۟ مِن دِیَـٰرِهِمۡ و اموالھم [الحشر ٨]
ترجمۂ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے
آیت کریمہ اس بات کو بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی کہ مہاجرین فقرا مال غنیمت کے مستحق ہیں یہ عبارۃ النص سے ثابت ہوا اور الفاظِ آیت سے مہاجرین کا فقیر ہونا معلوم ہوا یہ اشارۃ النص سے ثابت ہوا
٢) دلالۃ النص:
دلالۃ النص یہ ہے کہ حکمِ منصوص علیہ کی علت استنباط و اجتہاد کے بغیر فقط لغت کے ذریعے ہی معلوم ہو جائے
جیسے اللہ جل جلالہ کا فرمان عالی شان ہے:
فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا [الإسراء ٢٣]
ترجمہ: تو ان سے اف نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا
اہل لغت اول سماع سے ہی جان لیں گے کہ یہاں اف کہنے کی تحریم والدین سے اذیت و تکلیف کو دور کرنے کے لیے ہے ۔
اقتضاء النص :
اقتضاء النص وہ نص پر زیادتی کرنا ہے کیونکہ بغیر زیادتی کے نص کا معنی متحقق نہیں ہوگا تو گویا نص اس کا اقتضا کرتا ہے کہ اس پر کوئی کلمہ زیادہ کیا جائے تا کہ فی نفسہ اس کا معنی صحیح ہو جائے
جیسے شوہر نے بیوی سے کہا: انتِ طالق یہ عورت کی صفت ہے مگر صفت مصدر کا تقاضا کرتی ہے تو گویا مصدر بطریق اقتضا موجود ہے یعنی یہ انت طالق طلاقا ہے
قارئین جب آپ نے اس کو سمجھ لیا تو اب آتے ہیں مثال کی طرف، اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوۤا۟ إِلَّاۤ إِیَّاهُ وَبِٱلۡوَ ٰ⁠لِدَیۡنِ إِحۡسَـٰنًاۚ إِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَاۤ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلࣰا كَرِیمࣰا [الإسراء ٢٣]
ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں [یعنی اف] نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا
اف کا معنی معجم الغنی میں ہے:
اف: أُفٍّ مِنْ هَذَا العَمَلِ : اِسْمُ فِعْلٍ يُسْتَعْمَلُ بِمَعْنَى التَّضَجُّرِ والتَّكَرُّهِ، وَيُقَالُ: أُفُّ وَأُفَّ وَأُفِّ بالضَّمِ والفَتْحِ والكَسْرِ.
اف من ھذا العمل یعنی اس کام سے اف، اف اسم فعل ہے جو تنگ آنے اور بیزاری کے معنی میں مستعمل ہے
غریب القرآن میں ہے :
كَلِمَةُ تَضَجُّرٍ وَتَبَرُّمٍ.
المحیط میں ہے:
أَفَّ يَؤُفُّ أُفَّ أو اُؤْفُفْ أَفَّاً : قال أُفٍّ تعبيراً عن ضجر أو حزن؛ أَفَّ من حماقة محدِّثه۔
یعنی لفظ اف تنگ کرنے اور بیزاری و حزن و ملال کے معنی میں لغت میں مستعمل ہے تو جب اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ فلا تقل لھما اف تو اہل لغت فورا سمجھ گئے کہ یہاں اللہ جل جلالہ نے اف کہنے کو اس لیے حرام فرمایا کہ ماں باپ کو تکلیف نہ ہو کیونکہ جب کسی سے اف کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے وہ اس سے تنگ آ چکا ہے بیزار ہو چکا ہے اور اس سے والدین کو تکلیف ہوگی اور یہ معنی بآسانی لغت سے معلوم ہو گیا اس میں کسی اجتہاد یا استنباط کی ضرورت نہیں پڑی اسی کو دلالۃ النص کہتے ہیں ۔
لیکن اگر کوئی ایسا علاقہ ہو کوئی شہر ہو یا کوئی ایسا ملک ہو جہاں اف بعمنی تعظیم، عزت و تکریم کے لیے مستعمل ہو تو وہاں اف کہنے کی ممانعت نہیں ہوگی بلکہ اف کہنے کا حکم ہوگا کہ یہ برائے تعظیم و تکریم ہے
اب اس پر سوال یہ ہوگا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اف کہنے کو اللہ جل جلالہ نے منع فرمایا ہے، تو اس کا جواب یہی ہوگا جہاں لوگ اف برائے توہین و تذلیل، تکلیف و اذیت پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہوں وہاں اس کی حرمت کا قول ہوگا اور جہاں لوگ اس کو تعظیم و تکریم کے لیے استعمال کرتے ہوں جہاں کا عرف عزت و احترام کے لیے ہو تو وہاں اس کا استعمال بالکل جائز و مستحسن ہوگا
اصول الشاشی میں ہے:
قال الامام القاضی ابو زید رحمہ اللہ : لو ان قوما یعدون التأفیف کرامۃ لایحرم علیھم تأفیف الابوین
ترجمہ: امام قاضی ابو زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر کوئی قوم اف کو کلمۂ تعظیم سمجھتی ہو تو ان پر والدین کو اف کہنا حرام نہیں ہوگا
[اصول الشاشی فصل فی متعلقات النصوص، ص: ٧٤]
دیکھیے مفتی صاحب یہاں آیت کریمہ میں اللہ جل جلالہ نے اف بولنے سے منع فرمایا جو کہ عبارت النص سے ثابت ہے مگر عرف کے بدلنے کی وجہ سے قاضی ابو زید فرماتے ہیں کہ جن کے یہاں برائے تعظیم مستعمل ہے تو ان کے یہاں اف بولنا حرام بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے جب تعظیم ہے تو اف بولنے میں اب یہاں ثواب ہوگا
کیونکہ آیت کریمہ کو لایا گیا ہے والدین کی عزت و حرمت اور احسان کی عظمت کو بتانے اور اذیت کو دور کرنے کے لیے
اب دیکھیے کلمہ ایک ہے اف لیکن ایک قوم کے لیے یہ بولنا حرام ہے اور دوسری قوم کے لیے اف بولنا ثواب ہے آخر ایسا کیوں ہوا ؟
تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ قومِ ثانی کا عرف لفظ اف میں تعظیم کا ہے اس لیے ان کے یہاں اف بولنے میں کوئی حرج نہیں
اب اسی تناظر میں لفظ رب کو دیکھیے کہ رب عرب کے یہاں خالق و مخلوق دونوں کو بولا جاتا ہے
لیکن ہمارے بلاد میں میں رب صرف اور صرف خدا عز و جل کو ہی بولا جاتا ہے کیونکہ ہمارے بلاد کے عرف میں لفظ رب خاص ہے اللہ جل جلالہ کے ساتھ
لفظ رب اور اف بیان کرنے میں یہاں فرق یہ ہے کہ قرآن میں مخلوق کو رب کہنے کی دلیل ہے اور لفظ اف میں نھیِ اف ہے کہ قرآن سے یہ ثابت ہوا کہ اف مت بولو حرام ہے
لیکن عرف پڑ جائے اف سے تعظیم کا تو اف بول سکتے ہیں اور یہ ثابت ہوا عبارۃ النص سے کیونکہ آیت کو لایا ہی گیا ہے والدین کی تعظیم و تکریم بتانے کے لیے اور ان سے اذیت کو دور کرنے کے لیے اور اس قوم کے عرف کے مطابق اذیت دور کرنے کے اسباب میں سے اف ایک سبب ہے
اور اذکر عند ربك اور انه ربی احسن مثوای اس میں یہ ہے کہ بادشاہ کو رب کہا گیا ہے جس سے یہ دلیل پکڑی جاتی ہے کہ اللہ جل جلالہ کے مخلوق کو رب کہنا جائز ہے
لیکن فقہا نے فرمایا جہاں عرف پڑ جائے کہ وہ لوگ اللہ جل جلالہ کے علاوہ کسی کے لیے رب کا استعمال نہیں کرتے ہوں صرف اللہ ہی کے لیے کرتے ہوں تو وہاں اللہ کے علاوہ کسی غیر کو رب کہنا گناہ بلکہ کفر ہوگا جیسا کہ نزہۃ القاری اور تفسیر نعیمی کے حوالے سے گزرا۔
بتائیے مفتی صاحب کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ہمارے بلاد میں کسی کو رب کہنا جائز نہیں ہوگا بلکہ کفر ہوگا دیکھیے آیت اف میں لغت کو چھوڑ دیا گیا عرف کی وجہ سے تو مفتی صاحب کیا ہمارے بلاد میں عرف کی وجہ سے لغت کو نہیں چھوڑا جائے گا ؟
اگر ہاں تو آپ اپنے فتوی کی تصحیح فرما لیں اور لغت کے معانی سے تاویل کر کے کسی کو کفر پر جری ہونے کا شوشہ نہ چھوڑیں- معاذ اللہ -
اور اگر مفتی صاحب آپ فرمائیں کہ نہیں، تو آپ پر لازم ہے کہ اسے دلائل سے ثابت کریں کہ کیوں نہیں؟ یہاں عرف پر عمل کرنے سے کونسی شئی مانع ہے؟
عرف کی دوسری مثال ــــــــــــــــــــ
دیکھیے مفتی صاحب لفظ خدا فارسی زبان کا لفظ ہے جب فارس میں اسلام پھیلا اللہ جل جلالہ کے لیے اہل فارس نے لفظ خدا کا استعمال کیا پھر اس کا عرف پڑ گیا کہ خدا صرف اللہ کو ہی کہا جانے لگا حالانکہ پہلے یہ لفظ مالک، صاحب وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا پھر اس کو اہل اردو وغیرہ نے بھی استعمال کیا ہزاروں فتاوی فقہا کے ایسے موجود ہیں جس میں صاف صراحت ہے کہ کسی نے اگر غیر خدا کو خدا کہا تو کافر ہو جائے گا خاص کر فتاوی رضویہ شریف، فتاوی مفتی اعظم، فتاوی تاج الشریعہ وغیرھم میں اس کی مثالیں کثیر ہیں
اب سوال یہ ہے مفتی صاحب جہاں کا یہ عرف نہیں ہے یعنی وہ اللہ جل جلالہ کو خدا نہیں کہتے بلکہ بعض ایسی جگہیں جہاں کے لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ خدا کس کو کہا جاتا ہے جیسے مصر میں یہاں عوام سے ہم نے پوچھا من ھو خدا خدا کون ہے؟ تو وہ نہیں بتا سکے پھر ہم نے کہا ھل تعرف خدا کیا تم خدا کو جانتے ہو اس نے کہا نہیں
ایک دکان میں گیا اس سے پوچھا کیا تم خدا کو جانتے ہو ھل تعرف خدا تو اس کو لگا شاید ہم کسی سامان کے نام کو جاننے کے بارے میں بول رہے ہیں تو اس نے ہمیں ایک مٹر پنیر کی تھیلی نکال کر دی جس میں خضارۃ مشکل مجمد لکھا تھا ہم نے کہا لا ہم یہ نہیں کہ رہے ہیں بلکہ ہم کہ رہے ہیں کہ خدا کو جانتے ہو پھر ہم نے اس کو ہر لفظ کو توڑ توڑ کر بتایا خا دال الف یعنی خدا آپ جانتے ہو خدا کو اس نے کہا نہیں میں نہیں جانتا ہوں ہم نے کہا خدا ہمارے یہاں اللہ جل جلالہ کو کہتے ہیں وہ چونک گیا اور اس کے چہرے میں خوشی کی لکیر کھنچ گئی پھر اس نے پوچھا یہ کس زبان میں ہے تو ہم نے بتایا یہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن اردو، ہندی وغیرہ میں بھی مستعمل ہے تو اس نے کہا قد علمت منك میں نے یہ آپ سے جانا پھر ہم نے پوچھا کیا یہاں اللہ جل جلالہ کو خدا کوئی نہیں کہتا تو وہ بولا کہ نہیں پھر کہا عربی زبان میں قرآن نازل ہوا ہم لوگ عربی میں رب، اللہ بولتے ہیں
ہم نے بس ایک کی گفتگو پیش کی ورنہ اور بھی کئی لوگوں سے فقیر راقم الحروف نے لفظ خدا کے بارے میں پوچھا الغرض کسی کو نہیں پتہ شاید فصحا حضرات کو پتہ ہو تو ان کو پتہ ہونے سے بھی عرف اپنی جگہ برقرار ہی رہے گا،
تو اب سوال یہ ہے مفتی صاحب قبلہ اگر کوئی مصری یہ کہے کہ میں خدا ہوں تو کیا اس کی تکفیر ہوگی؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں ؟
اس کا جواب یہی ہوگا نا کہ وہ جانتا ہی نہیں کہ خدا کسے کہتے ہیں وہاں کا عرف لفظ خدا سے اللہ جل جلالہ کی ذات ہے ہی نہیں تو پھر تکفیر کی کوئی بات ہی نہیں تکفیر تو کجا کراہت بھی نہیں ہاں اگر مصر کا عرف خدا سے اللہ جل جلالہ کی ذات مراد ہونے کا رہتا تو تکفیر ہوتی اور ضرور ہوتی ؟
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب ایسے ہی پورا ہندوستان گاؤں گاؤں گھوم لیجیے اور سب سے پوچھیے رب کسے کہتے ہیں سب بنا سوچے سمجھے یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو رب کہتے ہیں ان سے اگر آپ پوچھیں گے کہ زید آپ کا باپ آپ کا رب ہے تو وہ فوراً انکار کریں گے اور ولاحول کا ورد کریں گے
اب بتائیے مفتی صاحب عرف اس کے سوا اور کس چڑیا کا نام ہے؟
اور عرف کو چھوڑ کر لغت کے ذریعے تاویل کرنا کیسا ہے؟اور اگر صحیح ہے تو امام قاضی ابو زید کی بات کا جواب کیا ہوگا؟....................جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
56
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم]

بچپن کا سفر [قسطِ پنجم]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]

قلمکار: Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط ہشتم]

از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: الجامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

لفظ رب اردو میں خاص ہے خدا کے لیےــــــــــــــــ

۔۔۔۔۔۔۔بس ایسے ہی اسی عرف کی وجہ سے ہمارے بلاد میں لفظ رب اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہو گیا اب یہ سوائے اللہ کے کسی کے لیے نہیں بولا جاتا نہ کسی کا ذہن سوائے خدا کے کسی کی طرف جاتا ہے تو لہذا اردو میں رب بول کر لغت کے معنی نہیں لیے جائیں گے جیسے خدا بول کر لغت کے معانی نہیں لیے جاتے ہیں اور یہ سب پر واضح ہے مبحوث عنہ مصرع ہمارے بلاد میں اردو میں پڑھا گیا ہے اسی لیے وہاں کے عرف کا ضرور اعتبار کیا جائے گا اور عرف کا اعتبار شریعت میں کس قدر ضروری ہوتا ہے اس کی مثال یہ ہے!

قارئین کرام ! مثال کو آسانی سے سمجھنا چند تمہیدی باتوں کے سمجھنے پر موقوف ہے اس لیے پہلے ان باتوں کو سمجھ لیتے ہیں پھر مثال کی طرف بڑھتے ہیں ،

اصول فقہ میں نص کی چار قسمیں ہیں :
١) عبارۃ النص، ٢) اشارۃ النص، ٣) دلالۃ النص، ٤) اقتضاء النص
١) عبارۃ النص:
عبارۃ النص وہ ہے جس کی وجہ سے کلام کو لایا گیا ہو اور قصدا اس کلام سے وہی حکم مراد ہو۔

٢) اشارۃ النص:
اشارۃ النص وہ ہے جو نص کے الفاظ سے ثابت ہو نص پر زیادتی کیے بغیر، اور وہ من کل وجہ ظاہر نہ ہو۔
جیسے اللہ تعالیٰ کا قول:
لِلۡفُقَرَاۤءِ ٱلۡمُهَـٰجِرِینَ ٱلَّذِینَ أُخۡرِجُوا۟ مِن دِیَـٰرِهِمۡ و اموالھم [الحشر ٨]
ترجمۂ کنز الایمان: “ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے”
آیت کریمہ اس بات کو بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی کہ مہاجرین فقرا مال غنیمت کے مستحق ہیں یہ عبارۃ النص سے ثابت ہوا اور الفاظِ آیت سے مہاجرین کا فقیر ہونا معلوم ہوا یہ اشارۃ النص سے ثابت ہوا

٢) دلالۃ النص:
دلالۃ النص یہ ہے کہ حکمِ منصوص علیہ کی علت استنباط و اجتہاد کے بغیر فقط لغت کے ذریعے ہی معلوم ہو جائے
جیسے اللہ جل جلالہ کا فرمان عالی شان ہے:
فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا [الإسراء ٢٣]
ترجمہ: تو ان سے اف نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا
اہل لغت اول سماع سے ہی جان لیں گے کہ یہاں اف کہنے کی تحریم والدین سے اذیت و تکلیف کو دور کرنے کے لیے ہے ۔

اقتضاء النص :
اقتضاء النص وہ نص پر زیادتی کرنا ہے کیونکہ بغیر زیادتی کے نص کا معنی متحقق نہیں ہوگا تو گویا نص اس کا اقتضا کرتا ہے کہ اس پر کوئی کلمہ زیادہ کیا جائے تا کہ فی نفسہ اس کا معنی صحیح ہو جائے
جیسے شوہر نے بیوی سے کہا: “انتِ طالق” یہ عورت کی صفت ہے مگر صفت مصدر کا تقاضا کرتی ہے تو گویا مصدر بطریق اقتضا موجود ہے یعنی یہ “انت طالق طلاقا” ہے

قارئین جب آپ نے اس کو سمجھ لیا تو اب آتے ہیں مثال کی طرف، اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوۤا۟ إِلَّاۤ إِیَّاهُ وَبِٱلۡوَ ٰ⁠لِدَیۡنِ إِحۡسَـٰنًاۚ إِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَاۤ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلࣰا كَرِیمࣰا [الإسراء ٢٣]
ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں [یعنی اف] نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا

اف کا معنی معجم الغنی میں ہے:
اف: “أُفٍّ مِنْ هَذَا العَمَلِ” : اِسْمُ فِعْلٍ يُسْتَعْمَلُ بِمَعْنَى التَّضَجُّرِ والتَّكَرُّهِ، وَيُقَالُ: أُفُّ وَأُفَّ وَأُفِّ بالضَّمِ والفَتْحِ والكَسْرِ.
“اف من ھذا العمل” یعنی اس کام سے اف، اف اسم فعل ہے جو تنگ آنے اور بیزاری کے معنی میں مستعمل ہے
غریب القرآن میں ہے :
كَلِمَةُ تَضَجُّرٍ وَتَبَرُّمٍ.
المحیط میں ہے:
أَفَّ يَؤُفُّ أُفَّ أو اُؤْفُفْ أَفَّاً : قال أُفٍّ تعبيراً عن ضجر أو حزن؛ أَفَّ من حماقة محدِّثه۔
یعنی لفظ اف تنگ کرنے اور بیزاری و حزن و ملال کے معنی میں لغت میں مستعمل ہے تو جب اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ “فلا تقل لھما اف” تو اہل لغت فورا سمجھ گئے کہ یہاں اللہ جل جلالہ نے اف کہنے کو اس لیے حرام فرمایا کہ ماں باپ کو تکلیف نہ ہو کیونکہ جب کسی سے اف کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے وہ اس سے تنگ آ چکا ہے بیزار ہو چکا ہے اور اس سے والدین کو تکلیف ہوگی اور یہ معنی بآسانی لغت سے معلوم ہو گیا اس میں کسی اجتہاد یا استنباط کی ضرورت نہیں پڑی اسی کو دلالۃ النص کہتے ہیں ۔

لیکن اگر کوئی ایسا علاقہ ہو کوئی شہر ہو یا کوئی ایسا ملک ہو جہاں اف بعمنی تعظیم، عزت و تکریم کے لیے مستعمل ہو تو وہاں اف کہنے کی ممانعت نہیں ہوگی بلکہ اف کہنے کا حکم ہوگا کہ یہ برائے تعظیم و تکریم ہے
اب اس پر سوال یہ ہوگا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اف کہنے کو اللہ جل جلالہ نے منع فرمایا ہے، تو اس کا جواب یہی ہوگا جہاں لوگ اف برائے توہین و تذلیل، تکلیف و اذیت پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہوں وہاں اس کی حرمت کا قول ہوگا اور جہاں لوگ اس کو تعظیم و تکریم کے لیے استعمال کرتے ہوں جہاں کا عرف عزت و احترام کے لیے ہو تو وہاں اس کا استعمال بالکل جائز و مستحسن ہوگا

اصول الشاشی میں ہے:
قال الامام القاضی ابو زید رحمہ اللہ : لو ان قوما یعدون التأفیف کرامۃ لایحرم علیھم تأفیف الابوین
ترجمہ: امام قاضی ابو زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر کوئی قوم اف کو کلمۂ تعظیم سمجھتی ہو تو ان پر والدین کو اف کہنا حرام نہیں ہوگا
[اصول الشاشی فصل فی متعلقات النصوص، ص: ٧٤]

دیکھیے مفتی صاحب یہاں آیت کریمہ میں اللہ جل جلالہ نے اف بولنے سے منع فرمایا جو کہ عبارت النص سے ثابت ہے مگر عرف کے بدلنے کی وجہ سے قاضی ابو زید فرماتے ہیں کہ جن کے یہاں برائے تعظیم مستعمل ہے تو ان کے یہاں اف بولنا حرام بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے جب تعظیم ہے تو اف بولنے میں اب یہاں ثواب ہوگا
کیونکہ آیت کریمہ کو لایا گیا ہے والدین کی عزت و حرمت اور احسان کی عظمت کو بتانے اور اذیت کو دور کرنے کے لیے

اب دیکھیے کلمہ ایک ہے “اف” لیکن ایک قوم کے لیے یہ بولنا حرام ہے اور دوسری قوم کے لیے اف بولنا ثواب ہے آخر ایسا کیوں ہوا ؟
تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ قومِ ثانی کا عرف لفظ اف میں تعظیم کا ہے اس لیے ان کے یہاں اف بولنے میں کوئی حرج نہیں

اب اسی تناظر میں لفظ رب کو دیکھیے کہ “رب” عرب کے یہاں خالق و مخلوق دونوں کو بولا جاتا ہے
لیکن ہمارے بلاد میں میں رب صرف اور صرف خدا عز و جل کو ہی بولا جاتا ہے کیونکہ ہمارے بلاد کے عرف میں لفظ رب خاص ہے اللہ جل جلالہ کے ساتھ
لفظ رب اور اف بیان کرنے میں یہاں فرق یہ ہے کہ قرآن میں مخلوق کو رب کہنے کی دلیل ہے اور لفظ اف میں نھیِ اف ہے کہ قرآن سے یہ ثابت ہوا کہ اف مت بولو حرام ہے
لیکن عرف پڑ جائے اف سے تعظیم کا تو اف بول سکتے ہیں اور یہ ثابت ہوا عبارۃ النص سے کیونکہ آیت کو لایا ہی گیا ہے والدین کی تعظیم و تکریم بتانے کے لیے اور ان سے اذیت کو دور کرنے کے لیے اور اس قوم کے عرف کے مطابق اذیت دور کرنے کے اسباب میں سے “اف” ایک سبب ہے

اور “اذکر عند ربك” اور “انه ربی احسن مثوای” اس میں یہ ہے کہ بادشاہ کو رب کہا گیا ہے جس سے یہ دلیل پکڑی جاتی ہے کہ اللہ جل جلالہ کے مخلوق کو رب کہنا جائز ہے
لیکن فقہا نے فرمایا جہاں عرف پڑ جائے کہ وہ لوگ اللہ جل جلالہ کے علاوہ کسی کے لیے رب کا استعمال نہیں کرتے ہوں صرف اللہ ہی کے لیے کرتے ہوں تو وہاں اللہ کے علاوہ کسی غیر کو رب کہنا گناہ بلکہ کفر ہوگا جیسا کہ نزہۃ القاری اور تفسیر نعیمی کے حوالے سے گزرا۔

بتائیے مفتی صاحب کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ہمارے بلاد میں کسی کو رب کہنا جائز نہیں ہوگا بلکہ کفر ہوگا دیکھیے “آیت اف” میں لغت کو چھوڑ دیا گیا عرف کی وجہ سے تو مفتی صاحب کیا ہمارے بلاد میں عرف کی وجہ سے لغت کو نہیں چھوڑا جائے گا ؟
اگر ہاں تو آپ اپنے فتوی کی تصحیح فرما لیں اور لغت کے معانی سے تاویل کر کے کسی کو کفر پر جری ہونے کا شوشہ نہ چھوڑیں- معاذ اللہ –
اور اگر مفتی صاحب آپ فرمائیں کہ نہیں، تو آپ پر لازم ہے کہ اسے دلائل سے ثابت کریں کہ کیوں نہیں؟ یہاں عرف پر عمل کرنے سے کونسی شئی مانع ہے؟

عرف کی دوسری مثال ــــــــــــــــــــ

دیکھیے مفتی صاحب لفظ خدا فارسی زبان کا لفظ ہے جب فارس میں اسلام پھیلا اللہ جل جلالہ کے لیے اہل فارس نے لفظ خدا کا استعمال کیا پھر اس کا عرف پڑ گیا کہ خدا صرف اللہ کو ہی کہا جانے لگا حالانکہ پہلے یہ لفظ مالک، صاحب وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا پھر اس کو اہل اردو وغیرہ نے بھی استعمال کیا ہزاروں فتاوی فقہا کے ایسے موجود ہیں جس میں صاف صراحت ہے کہ کسی نے اگر غیر خدا کو خدا کہا تو کافر ہو جائے گا خاص کر فتاوی رضویہ شریف، فتاوی مفتی اعظم، فتاوی تاج الشریعہ وغیرھم میں اس کی مثالیں کثیر ہیں
اب سوال یہ ہے مفتی صاحب جہاں کا یہ عرف نہیں ہے یعنی وہ اللہ جل جلالہ کو خدا نہیں کہتے بلکہ بعض ایسی جگہیں جہاں کے لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ خدا کس کو کہا جاتا ہے جیسے “مصر” میں یہاں عوام سے ہم نے پوچھا “من ھو خدا” خدا کون ہے؟ تو وہ نہیں بتا سکے پھر ہم نے کہا “ھل تعرف خدا” کیا تم خدا کو جانتے ہو اس نے کہا نہیں
ایک دکان میں گیا اس سے پوچھا کیا تم خدا کو جانتے ہو ھل تعرف خدا تو اس کو لگا شاید ہم کسی سامان کے نام کو جاننے کے بارے میں بول رہے ہیں تو اس نے ہمیں ایک مٹر پنیر کی تھیلی نکال کر دی جس میں “خضارۃ مشکل مجمد” لکھا تھا ہم نے کہا “لا” ہم یہ نہیں کہ رہے ہیں بلکہ ہم کہ رہے ہیں کہ خدا کو جانتے ہو پھر ہم نے اس کو ہر لفظ کو توڑ توڑ کر بتایا خا دال الف یعنی خدا آپ جانتے ہو خدا کو اس نے کہا نہیں میں نہیں جانتا ہوں ہم نے کہا خدا ہمارے یہاں اللہ جل جلالہ کو کہتے ہیں وہ چونک گیا اور اس کے چہرے میں خوشی کی لکیر کھنچ گئی پھر اس نے پوچھا یہ کس زبان میں ہے تو ہم نے بتایا یہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن اردو، ہندی وغیرہ میں بھی مستعمل ہے تو اس نے کہا “قد علمت منك” میں نے یہ آپ سے جانا پھر ہم نے پوچھا کیا یہاں اللہ جل جلالہ کو خدا کوئی نہیں کہتا تو وہ بولا کہ نہیں پھر کہا عربی زبان میں قرآن نازل ہوا ہم لوگ عربی میں رب، اللہ بولتے ہیں

ہم نے بس ایک کی گفتگو پیش کی ورنہ اور بھی کئی لوگوں سے فقیر راقم الحروف نے لفظ خدا کے بارے میں پوچھا الغرض کسی کو نہیں پتہ شاید فصحا حضرات کو پتہ ہو تو ان کو پتہ ہونے سے بھی عرف اپنی جگہ برقرار ہی رہے گا،

تو اب سوال یہ ہے مفتی صاحب قبلہ اگر کوئی مصری یہ کہے کہ میں خدا ہوں تو کیا اس کی تکفیر ہوگی؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں ؟
اس کا جواب یہی ہوگا نا کہ وہ جانتا ہی نہیں کہ خدا کسے کہتے ہیں وہاں کا عرف لفظ خدا سے اللہ جل جلالہ کی ذات ہے ہی نہیں تو پھر تکفیر کی کوئی بات ہی نہیں تکفیر تو کجا کراہت بھی نہیں ہاں اگر مصر کا عرف خدا سے اللہ جل جلالہ کی ذات مراد ہونے کا رہتا تو تکفیر ہوتی اور ضرور ہوتی ؟

اب ایسے ہی پورا ہندوستان گاؤں گاؤں گھوم لیجیے اور سب سے پوچھیے رب کسے کہتے ہیں سب بنا سوچے سمجھے یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو رب کہتے ہیں ان سے اگر آپ پوچھیں گے کہ زید آپ کا باپ آپ کا رب ہے تو وہ فوراً انکار کریں گے اور ولاحول کا ورد کریں گے

اب بتائیے مفتی صاحب عرف اس کے سوا اور کس چڑیا کا نام ہے؟
اور عرف کو چھوڑ کر لغت کے ذریعے تاویل کرنا کیسا ہے؟اور اگر صحیح ہے تو امام قاضی ابو زید کی بات کا جواب کیا ہوگا؟………………..جاری

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code