صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]
تحقیق و تعاقب

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط دوازدہم-اخیر قسط]
[اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَیۡنࣰا]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
شعر:
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل
دونوں شعر میں جب لفظ رب سے مراد ذات الہی ہے تو پھر شعر اول متعین فی الکفر اور شعر ثانی متبین فی الکفر کیوں ہے ؟
اقول:
قارئین آپ جان چکے ہیں کہ لفظ رب اردو میں اللہ جل جلالہ کے لیے متعین ہے اور شعر اول میں صریح طور پر رب جل جلالہ کو ظالم کہا گیا ہے اسی لیے یہ شعر ناقابل تاویل متعین فی الکفر ہے
اور شعر ثانی کے مصرع ثانی میں تاویل بعید کی گنجائش یہ ہے کہ رب ہمارا مل گیا سے مراد جلوۂ رب ہمارا مل گیا رب سے مراد اللہ ہی ہے لیکن اس سے پہلے تجلی یا جلوے کو محذوف نکالا گیا ہے تاکہ معنی صحیح ہو جائے کیونکہ انسان ذات الہی کا جلوۂ اتم و اکمل ہے لیکن یہ تاویل کلمہ کو متبین فی الکفر ہونے سے نہیں بچائے گا جیسا کہ امام المتکلمین حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرماتے ہیں:
مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمۂ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قائل کو اشد حرام کے ارتکاب سے
{ فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص : ٢٠٧}
بریلی شریف کا فتویٰ ـــــــــــــــ
مفتیِ مرکزی دار الافتاء خلیفۂ تاج الشریعہ ابو حنظلہ مفتی محمد بلال انور پلاموی حفظہ اللہ القوی سے اسی شعر کے متعلق سوال ہوا:
عاشقوں کے واسطے کعبہ درِ مخدوم ہے
صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
مذکورہ بالا شعر پر حکم شرع؟
مفتی صاحب قبلہ جوابا رقمطراز ہیں:
اس شعر کے ثانی مصرعے کا ظاہر کفر ہے، گرچہ تاویل بعید (رب کی تجلی) کی بنا پر قائل کو کافر نہ کہیں گے مگر ایسا شعر پڑھنا ضرور حرام سخت حرام اور عوام مسلمین کے لیے گمرہی کے دروازے کھولنا ہے۔ مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔
جس کسی نے ایسا شعر پڑھا اس پر توبہ لازم احتیاطا تجدید ایمان بھی کرے۔
جن لوگوں نے سن کر پسند کیا وہ بھی توبہ کریں۔
تفصیل کے لیے فتاویٰ رضویہ ششم ص ٢٠٧/٢٠٨دیکھیں
۔
مبحوث عنہ مصرع کے متعلق مفتی صاحب قبلہ نے جو مختصر اور جامع حکم بیان فرمایا فقہاء کرام کی تصریحات و توضیحات خصوصا فتاوی رضویہ شریف کے عین مطابق ہے
قارئین: فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں مذکور بالا فتوی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا شریعت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے مفتی صاحب قبلہ نے فتوی صادر فرمایا ہے،
فتاوی رضویہ شریف میں امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
ہمارے سرور عالم کا رتبہ کوئی کیا جانے
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ شعر عام طور پر حضور سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محفل میلاد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
امام اہل سنت جوابا ارقام فرماتے ہیں:
الجواب :
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے۔ ہاں اگر بقرینۂ مصرعۂ اولٰی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مرتبہ کو الله ہی جانتاہے تو یہ معنی صحیح ہے ، مگر ایسا موہم لفظ بولنا جائز نہیں۔ ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع

[فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص: ٢٠٨]
قارئین ملاحظہ فرمائیں
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ مصرع بظاہر صریح کفر ہے کیونکہ محمد کو خدا جانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا مانے اگر خدا سے ملنا چاہے تو، یہ صریح کفر ہوا اور جو اس کا معتقد ہوگا وہ یقینا کافر ہوگا
مگر اس میں تاویل کی گنجائش یہ ہے کہ مصرع ثانی میں محمد کو خدا جانے سے مراد یہ لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو خدا ہی جانے, کوئی کیا جانے, تو یہ بالکل صحیح و صواب ہوگا
اب مبحوث عنہ مصرع اور فتوے میں مذکور مصرع کو ملائیے
ع: صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
ع: خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
پہلا مصرع بظاہر کفر ہے لیکن تاویل کی صورت یہ ہے کہ رب مل گیا سے مراد رب کا جلوہ مل گیا اسی کو مفتی صاحب قبلہ نے اپنے فتوی یوں لکھا:
گرچہ تاویل بعید(رب کی تجلی) کی بنا پر قائل کو کافر نہ کہیں گے
یعنی رب سے مراد تجلی رب
اب مصرع ثانی کو دیکھیے محمد کو خدا جانے سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو خدا جانے
اسی کو امام اہل سنت نے یوں فرمایا :
محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مرتبہ کو الله ہی جانتا ہے
یعنی مرتبۂ محمد کو خدا جانے مطلب یہ ہوا مبحوث عنہ مصرع میں رب کو تجلی رب کر دیا گیا اور فتاوی رضویہ شریف میں مذکور شعر میں محمد کو مرتبۂ محمد ﷺ کر دیا گیا تو ثابت ہوا کہ مضاف کو دونوں جگہ محذوف نکالا گیا تو اب تاویل کے بعد دونوں مصرع کی اصل عبارت یہ ہوگی
ع: صورت اشرف میں ہم کو جلوۂ رب ہمارا مل گیا
ع: خدا سے ملنا چاہے تو مرتبۂ محمد کو خدا جانے
تو پتہ چلا رب کو مضاف الیہ اور اس سے پہلے جلوہ یا تجلی کو مضاف بنا کر شعر کی تاویل کرنا فتاوی رضویہ شریف کے عین مطابق ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں محمد ﷺ کو مضاف الیہ بنا کر اس سے پہلے مضاف مرتبہ کو محذوف مانا گیا ہے مگر جو دونوں مصرعوں کا ظاہری مفہوم ہے وہ بہت قبیح بلکہ صریح کفر ہے اسی لیے اس کا پڑھنا حرام ہے اور اس کا معتقد کافر ہے۔
ایسے ہی امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ بعض بظاہر کفریہ اشعار پر حکم شرع بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں؛
ان اشعار کا پڑھنا حرام حرام سخت حرام ہے ، ان میں بعض کلمہ کفریہ ہیں اگرچہ تاویل کے سبب قائل کوکافر نہ کہیں اور بعض موہم کفر ہیں اور یہ بھی حرام ہے ، ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔
[فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ششم ص ٢٠٧]
قارئین کرام فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں مفتی صاحب قبلہ کا بیان کردہ حکم ملاحظہ فرمائیے کہ کتنا واضح اور فقہا کی تصریحات کی ترجمانی ہے
جس کسی نے ایسا شعر پڑھا اس پر توبہ لازم احتیاطا تجدید ایمان بھی کرے۔
جن لوگوں نے سن کر پسند کیا وہ بھی توبہ کریں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
کیا بظاہر کفر پر احتیاطا تجدید ایمان کا حکم دیا نہیں جائے گا؟
کیا حرام شعر پڑھنے، اور سننے پر حکم توبہ نہیں ہے؟
خاتمۂ تحقیق:
بحمدہ تعالیٰ و تقدس فقہاء کرام کی تصریحات و تشریحات عرف عام کی تنقیحات سے یہ ثابت ہو گیا کہ مبحوث عنہ مصرع صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا اس کا ظاہر کفر ہے اگر چہ قابلِ تاویل ہونے کی وجہ سے قائل کو کافر نہ کہیں گے لیکن اس کا پڑھنا حرام سخت حرام لہذا جس جس نے اس شعر کو پڑھا اور جس جس نے سن کر پسند کیا ان سب پر توبہ لازم اور چاہیے کہ احتیاطا تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کرے، واللہ تعالیٰ اعلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
54
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صحیح البہاری آبروئے حنفیت

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]

قلمکار: Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط دوازدہم-اخیر قسط]
[اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَیۡنࣰا]

از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

شعر:
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے

عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل

دونوں شعر میں جب لفظ رب سے مراد ذات الہی ہے تو پھر شعر اول متعین فی الکفر اور شعر ثانی متبین فی الکفر کیوں ہے ؟

اقول:
قارئین آپ جان چکے ہیں کہ لفظ رب اردو میں اللہ جل جلالہ کے لیے متعین ہے اور شعر اول میں صریح طور پر رب جل جلالہ کو ظالم کہا گیا ہے اسی لیے یہ شعر ناقابل تاویل متعین فی الکفر ہے
اور شعر ثانی کے مصرع ثانی میں تاویل بعید کی گنجائش یہ ہے کہ “رب ہمارا مل گیا” سے مراد “جلوۂ رب ہمارا مل گیا” رب سے مراد اللہ ہی ہے لیکن اس سے پہلے تجلی یا جلوے کو محذوف نکالا گیا ہے تاکہ معنی صحیح ہو جائے کیونکہ انسان ذات الہی کا جلوۂ اتم و اکمل ہے لیکن یہ تاویل کلمہ کو متبین فی الکفر ہونے سے نہیں بچائے گا جیسا کہ امام المتکلمین حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرماتے ہیں:

“مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمۂ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قائل کو اشد حرام کے ارتکاب سے”
{ فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص : ٢٠٧}

بریلی شریف کا فتویٰ ـــــــــــــــ

مفتیِ مرکزی دار الافتاء خلیفۂ تاج الشریعہ ابو حنظلہ مفتی محمد بلال انور پلاموی حفظہ اللہ القوی سے اسی شعر کے متعلق سوال ہوا:

“عاشقوں کے واسطے کعبہ درِ مخدوم ہے
صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
مذکورہ بالا شعر پر حکم شرع؟”

مفتی صاحب قبلہ جوابا رقمطراز ہیں:

“اس شعر کے ثانی مصرعے کا ظاہر کفر ہے، گرچہ تاویل بعید (رب کی تجلی) کی بنا پر قائل کو کافر نہ کہیں گے مگر ایسا شعر پڑھنا ضرور حرام سخت حرام اور عوام مسلمین کے لیے گمرہی کے دروازے کھولنا ہے۔ مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔
جس کسی نے ایسا شعر پڑھا اس پر توبہ لازم احتیاطا تجدید ایمان بھی کرے۔
جن لوگوں نے سن کر پسند کیا وہ بھی توبہ کریں۔
تفصیل کے لیے فتاویٰ رضویہ ششم ص ٢٠٧/٢٠٨دیکھیں”۔

مبحوث عنہ مصرع کے متعلق مفتی صاحب قبلہ نے جو مختصر اور جامع حکم بیان فرمایا فقہاء کرام کی تصریحات و توضیحات خصوصا فتاوی رضویہ شریف کے عین مطابق ہے

قارئین: فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں مذکور بالا فتوی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا شریعت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے مفتی صاحب قبلہ نے فتوی صادر فرمایا ہے،

فتاوی رضویہ شریف میں امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

ہمارے سرور عالم کا رتبہ کوئی کیا جانے
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے

یہ شعر عام طور پر حضور سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محفل میلاد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

امام اہل سنت جوابا ارقام فرماتے ہیں:
” الجواب :
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے۔ ہاں اگر بقرینۂ مصرعۂ اولٰی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مرتبہ کو الله ہی جانتاہے تو یہ معنی صحیح ہے ، مگر ایسا موہم لفظ بولنا جائز نہیں۔ ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع”
[فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص: ٢٠٨]

قارئین ملاحظہ فرمائیں
“خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے”
یہ مصرع بظاہر صریح کفر ہے کیونکہ محمد کو خدا جانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا مانے اگر خدا سے ملنا چاہے تو، یہ صریح کفر ہوا اور جو اس کا معتقد ہوگا وہ یقینا کافر ہوگا
مگر اس میں تاویل کی گنجائش یہ ہے کہ مصرع ثانی میں “محمد کو خدا جانے” سے مراد یہ لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو خدا ہی جانے, کوئی کیا جانے, تو یہ بالکل صحیح و صواب ہوگا
اب مبحوث عنہ مصرع اور فتوے میں مذکور مصرع کو ملائیے
ع: “صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا”
ع: “خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے”

پہلا مصرع بظاہر کفر ہے لیکن تاویل کی صورت یہ ہے کہ رب مل گیا سے مراد رب کا جلوہ مل گیا اسی کو مفتی صاحب قبلہ نے اپنے فتوی یوں لکھا:
“گرچہ تاویل بعید(رب کی تجلی) کی بنا پر قائل کو کافر نہ کہیں گے”
یعنی رب سے مراد “تجلی رب”
اب مصرع ثانی کو دیکھیے “محمد کو خدا جانے” سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو خدا جانے
اسی کو امام اہل سنت نے یوں فرمایا :
“محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مرتبہ کو الله ہی جانتا ہے ”
یعنی “مرتبۂ محمد کو خدا جانے” مطلب یہ ہوا مبحوث عنہ مصرع میں رب کو “تجلی رب” کر دیا گیا اور فتاوی رضویہ شریف میں مذکور شعر میں “محمد” کو “مرتبۂ محمد ﷺ” کر دیا گیا تو ثابت ہوا کہ مضاف کو دونوں جگہ محذوف نکالا گیا تو اب تاویل کے بعد دونوں مصرع کی اصل عبارت یہ ہوگی
ع: “صورت اشرف میں ہم کو جلوۂ رب ہمارا مل گیا”
ع: “خدا سے ملنا چاہے تو مرتبۂ محمد کو خدا جانے”

تو پتہ چلا رب کو مضاف الیہ اور اس سے پہلے جلوہ یا تجلی کو مضاف بنا کر شعر کی تاویل کرنا فتاوی رضویہ شریف کے عین مطابق ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں محمد ﷺ کو مضاف الیہ بنا کر اس سے پہلے مضاف مرتبہ کو محذوف مانا گیا ہے مگر جو دونوں مصرعوں کا ظاہری مفہوم ہے وہ بہت قبیح بلکہ صریح کفر ہے اسی لیے اس کا پڑھنا حرام ہے اور اس کا معتقد کافر ہے۔
ایسے ہی امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ بعض “بظاہر کفریہ” اشعار پر حکم شرع بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں؛
ان اشعار کا پڑھنا حرام حرام سخت حرام ہے ، ان میں بعض کلمہ کفریہ ہیں اگرچہ تاویل کے سبب قائل کوکافر نہ کہیں اور بعض موہم کفر ہیں اور یہ بھی حرام ہے ، ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔
[فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ششم ص ٢٠٧]
قارئین کرام فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں مفتی صاحب قبلہ کا بیان کردہ حکم ملاحظہ فرمائیے کہ کتنا واضح اور فقہا کی تصریحات کی ترجمانی ہے
“جس کسی نے ایسا شعر پڑھا اس پر توبہ لازم احتیاطا تجدید ایمان بھی کرے۔
جن لوگوں نے سن کر پسند کیا وہ بھی توبہ کریں۔”

کیا “بظاہر کفر” پر احتیاطا تجدید ایمان کا حکم دیا نہیں جائے گا؟
کیا حرام شعر پڑھنے، اور سننے پر حکم توبہ نہیں ہے؟

خاتمۂ تحقیق:
بحمدہ تعالیٰ و تقدس فقہاء کرام کی تصریحات و تشریحات عرف عام کی تنقیحات سے یہ ثابت ہو گیا کہ مبحوث عنہ مصرع “صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا” اس کا ظاہر کفر ہے اگر چہ قابلِ تاویل ہونے کی وجہ سے قائل کو کافر نہ کہیں گے لیکن اس کا پڑھنا حرام سخت حرام لہذا جس جس نے اس شعر کو پڑھا اور جس جس نے سن کر پسند کیا ان سب پر توبہ لازم اور چاہیے کہ احتیاطا تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کرے، واللہ تعالیٰ اعلم

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code