صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]
تحقیق و تعاقب

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط یازدہم]
احد عشر کوکبا
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
فتاوی شارح بخاری میں تلاش و جستجو کے باوجود حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا کوئی ایسا فتوی نہیں ملا جس میں انھوں نے اردو میں کہیں لفظ رب کی لغوی تاویل کر کے کسی شعر کو یا کسی قول کو درست قرار دیا ہو مگر ہاں ایک فتوی ایسا ضرور ملا جو نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری کی عبارت
بلا اضافت رب کا اطلاق اللہ عزو جل کے علاوہ دوسرے پر جائز نہیں۔ بلکہ کفر ہے ۔ غیر خدا پر اضافت کے ساتھ اس کا اطلاق یہ عربی کے ساتھ خاص ہے۔ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں۔
[نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد اول ٣٤٨/٣٤٧]
کی تائید کرتا ہے۔
حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ سے بعض اشعار کے بارے میں سوال ہوا کہ
کچھ نو جوان مسلم مندرجہ ذیل اشعار بہت شوق سے گاتے ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ ان اشعار کے مفہوم کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں یا یوں ہی صرف زبان پر لاتے ہیں۔ بہر حال شریعت طاہرہ کی روشنی میں ان پر کیا احکام لاگو ہوں گے؟
پھر اس کے بعد اشعار رقم کیے گئے جس میں تیسرا شعر یہ ہے
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
اس کے جواب میں حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ ارقام فرماتے ہیں:
جتنے اشعار سوال میں درج کیے گئے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ہے جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہو کر کا فر و مرتد ہو گئے ، ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہو گئے ، ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں ، ان سب پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر ان اشعار میں جو کفریات ہیں ان سے توبہ کریں، کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں ، اپنی بیویوں کو رکھنا منظور ہو تو ان سے دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کریں
پھر اشعار میں کفریہ باتوں کی وضاحت فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
یہ کہنا کہ رب نے مجھ پرستم کیا اللہ عز و جل کو ظالم بنانا ہے، جو صریح کفر ہے
[فتاوی شارح بخاری جلد اول صفحہ ٢٥٧/٢٥٨]
قارئین ملاحظہ فرمائیں فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے شعر مذکور کی تاویل نہیں فرمائی یہ نہیں فرمایا کہ رب کا مجازی لغوی معنی پالنے والا ہے لہذا قائل کی تکفیر نہیں ہوگی،
اس کا مطلب یہی ہے کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے اردو میں لفظ رب کو قابل تاویل نہیں گردانا اور جہاں جہاں عربی میں غیر اللہ کے لیے لفظ رب کے استعمال کی بات آئی وہاں وہاں آپ نے فرمایا کہ اس میں تاویل ہو سکتی ہے
اگر اردو میں واقعی تاویل کی گنجائش ہوتی تو ہر گز یہ حکم نہ لگاتے کہ
جو یہ شعر پڑھتا ہے وہ کافر و مرتد ہو گیا اس کے تمام اعمال اکارت گئے کافر بھی ایسا کہ کافر کلامی کیونکہ اعمال کا اکارت ہوجانے کا حکم کفر کلامی میں لگایا جاتا ہے کفر فقہی میں نہیں اور ننانوے ہی نہیں نناونوے ہزار احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال بھی اسلام کا ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ اسے اسلام پر محمول کرے اور حکم کفر کلامی لگانے میں احتیاط برتے
اگر اردو میں لفظ رب کا لغوی معنی مراد لے کر تاویل کی جا سکتی تھی تو پھر حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے تاویل کیوں نہیں کی؟
فرما دیتے کہ یہاں معنی لغوی سردار یا پالنے والا مراد ہے کفر کا حکم نہیں لگتا کیوں کہ شبہ موجود ہے کسی کو کافر کہنا قتل کر دینے کے مترادف ہے کیونکہ جب کافر کلامی کہا تو حاکم اسلام کے لیے وہ شخص مباح الدم ہو گیا اگر وہ رجوع نہ کرے تو حاکم اسلام کو اجازت ہے کہ اسے قتل کر دے
عند المتکلمین ادنی شبہ بھی ہو تو کفر کلامی کا حکم نہیں لگایا جاتا ہے اور حد میں بھی اگر ادنی شبہ پایا جائے تو حد ساقط ہو جاتی ہے
اس کو یوں سمجھیے کہ اگر غیر شادی شدہ شخص نے زنا کیا اور اس نے زنا کا خود اقرار کیا یا پھر اس پر گواہان شرعی گزرے تو حاکم اسلام کو حکم ہے کہ زانی اور زانیہ کو سو کوڑے لگائے جیسا کہ سورۂ نور میں ہے:
اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ۪-وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِۚ-وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ [سورۂ آیت ٢]
اور اگر شادی شدہ نے زنا کیا تو اسے سنگسار کیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے ۔
جیسا کہ تلمیذ ابن حجر عسقلانی شمس الدین السخاوی المصری اپنی کتاب المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرہ میں حدیث نقل کرتے ہیں:
٦١٩ - حديث: الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة بما قضيا من اللذة.
الطبراني وابن منده في المعرفة عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف، عن خالته العجماء، قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول: فذكره۔
[٣ - ص٣٤٧ - المقاصد الحسنة]
واضح ہوا کہ شریعت کا حکم ہے کہ شادی شدہ اگر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے لیکن اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کی باندی سے زنا کر لیا تو اسے رجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ کسی پر حد قائم کرنا بہت بڑی سزا ہے تو اس کے تمام شبہات کا ارتفاع بھی ضروری ہے لیکن یہاں شبہ ہے ایک حدیث کی وجہ سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انت و مالك لابيك
کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لیے ہے،
اس سے باندی کا مال میں شمار ہونے کا شبہ ہوا اور اسی شبہ کی وجہ سے لڑکے کے باپ سے حد ساقط ہو گئی
جیسا کہ رد المحتار میں ہے:
(لَا حَدَّ) بِلَازِمٍ (بِشُبْهَةِ الْمَحِلِّ) أَيْ الْمِلْكِ وَتُسَمَّى شُبْهَةً حُكْمِيَّةً أَيْ الثَّابِتُ حُكْمُ الشَّرْعِ بِحِلِّهِ (وَإِنْ ظَنَّ حُرْمَتَهُ كَوَطْءِ أَمَةِ وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ) وَإِنْ سَفَلَ وَلَوْ وَلَدُهُ حَيًّا فَتْحٌ، لِحَدِيثِ «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيك» (وَمُعْتَدَّةِ الْكِنَايَاتِ) وَلَوْ خُلْعًا خَلَا عَنْ مَالٍ
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - المجلد ٤- الصفحة ١٩ - جامع الكتب الإسلامية]
بہار شریعت میں ہے:
جس عورت سے وطی کی گئی اُس میں مِلک کا شبہہ ہو تو حد قائم نہ ہوگی اگرچہ اوس کو حرام ہونے کا گمان ہو، جیسے اپنی اولاد کی باندی۔ [حصہ نہم صفحہ ٣٧٨]
ایسے ہی کسی پر حکم کفر کلامی لگانے کے لیے احتمال فی الکلام، احتمال فی التکلم، احتمال فی المتکلم تینوں احتمالات کا ارتفاع ضروری ہے ورنہ حکم کفر کلامی لگانا ہر گز صحیح نہیں ہوگا
اور اگر اردو میں رب کا لغوی معنی لینا درست ہو تو ظاہر ہے کہ شعر مذکور کا مصرع اول
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
اس میں احتمال فی الکلام ہوگا کیونکہ رب کئی معنوں میں مشترک ہے لیکن حضور شارح بخاری نے اس کی طرف التفات نہیں فرمایا کہ لغوی معنی سے شعر درست ہو جائے کیونکہ وہ جانتے ہیں یہاں اس کا احتمال ہی نہیں ہے اس لیے کہ عرف نے معنی پروردگار کی تعیین کر دی اس لیے کہ عرف میں رب سے اللہ جل جلالہ کی ذات مراد ہوتی ہے اور المعتقد المنتقد میں ہے کہ قرائن خارجیہ سے معنی کی تعیین ہو جاتی ہے۔
امام المتکلمین اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی المستند المعتمد میں فرماتے ہیں:
فان القرائن السابقة واللاحقة ربما تعين على تعين المراد - (ص: ۱۵۷)
یعنی بسا اوقات قرائن سابقه و لاحقہ معنی مراد کی تعیین پر معین ہوتے ہیں۔
مسلم الثبوت مع فواتح الرحموت میں مدقق بہاری علامہ محب اللہ بہاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان القرينة قد تفيد القطع ( ج: ۲ص: ۲۱۳) یعنی کبھی قرینہ بھی یقین کا افادہ کرتا ہے ۔
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں ہے :
و انت لا يذهب عليك ان القرائن الخارجية ربما تفيد العلم عادة ۔ ( ج: ۲ص:۲۶۸)
یعنی تم سے یہ بات مخفی نہیں کہ بسا اوقات قرائن خارجیہ سے بھی یقین حاصل ہو جاتا ہے۔
اور یہاں عرف قرائن خارجیہ میں سے ہے جو اس بات کی تعیین کرتا ہے کہ شعر مذکور میں رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہی ہے
تو اس فتوی سے معلوم ہوا کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ اردو میں لفظ رب کا استعمال غیر خدا کے لیے روا نہیں رکھتے ہیں اسی لیے حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے رب الارباب والے فتویٰ سے استدلال کرنا اور لغت کے حوالے سے تاویل کر کے لفظ رب سے معنی دیگر مراد لینا صحیح نہیں ہے
رب بمعنی مجازی ــــــــــــــــ
اب اس پر کوئی یہ اشکال پیش کر سکتا ہے کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے رب الارباب والے فتویٰ میں فرمایا ہے کہ یہاں رب بمعنی مجازی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجازی معنی میں رب کا استعمال ہو سکتا ہے اگر چہ حقیقی معنی میں نہ ہو؟
اقول:
قارئین حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے فتوی پر غور فرمائیں کہ انھوں نے پہلے سورۂ یوسف کی آیتیں پیش کی ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہاں یعنی جو سورۂ یوسف میں اذکر عند رب انه ربی احسن مثوای ربه خمرا مذکور ہے تو یہاں رب بمعنی مجازی ہے
اور مجاز کا دار و مدار عرف یا قرینے پر ہے لغت پر نہیں جیسا کہ اس کی تعریف سے ہی معلوم ہوتا ہے
اصول الشاشی میں ہے:
کل لفظ وضعه واضع اللغۃ بازاء شیئ فہو حقیقۃ له و لو استعمل فی غیرہ یکون مجازاً لا حقیقۃ [اصول الشاشی ص : ٣٢]
ہر وہ لفظ جس کو واضع لغت نے کسی شی کے مقابلے میں وضع کیا ہو تو وہ حقیقت ہے اور اگر معنی حقیقی کے علاوہ دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگ جائے تو مجاز ہے حقیقت نہیں
جیسے کسی نے قسم کھائی کہ میں زید کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا اب اگر اس نے زید کے گھر میں دائیں یا بائیں قدم رکھا اور پھر باہر کر لیا یا پھر کسی نے اس کو پکڑ کر رکھا اور اس نے اپنے دونوں قدم گھر کے اندر رکھے پھر باہر کر لیے تو وہ حانث نہیں ہوگا یعنی اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی حالانکہ قسم ٹوٹ جانا چاہیے کیونکہ اس نے اپنا قدم گھر کے اندر رکھا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ یہاں قدم رکھنے سے مراد داخل ہونا ہے تو جب تک گھر کے اندر داخل نہیں ہوگا تب تک فقط قدم کے رکھ دینے سے حانث نہیں ہوگا جب داخل ہوگا تبھی حانث ہوگا
اسی کے بارے میں اصول الشاشی میں ہے:
وضع القدم صار مجازا عن الدخول بحکم العرف
[اصول الشاشی ص : ٣٥]
باعتبار عرف قدم رکھنا داخل ہونے سے مجاز ہو گیا
قارئین آپ نے جب یہ جان لیا مجاز کا دار و مدار عرف یا قرینے پر ہے اور آپ نے گزشتہ تحریر میں امام نووی رضی اللہ عنہ کی کتاب الاذکار من کلام سید الابرار کے حوالے سے یہ بھی جان لیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ان کے یہاں یہ عرف تھا کہ بادشاہ کو رب کہتے تھے تو لہذا ان کے یہاں رب بمعنی مجازی ہوا اسی کو شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہاں رب بمعنی مجازی ہے اور ہمارے زمانے میں اردو میں رب بمعنی مجازی کا عرف نہیں ہے تو یہاں رب کا معنی حقیقی یعنی اللہ جل جلالہ کی ذات متعین ہوگی
نیز آگے حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اس لحاظ سے رب الارباب کہنے میں کوئی حرج نہیں یہ نہیں فرمایا کہ اردو میں رب کہنے میں کوئی حرج نہیں فتدبر!
اب جب بات قرینے کی آگئی تو کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
اس میں ایسا کوئی قرینہ ہے جو رب کا معنی مجازی مراد لینے میں دلالت کرتا ہو
تو وہ جان لے کہ اس شعر میں ایسا تو کوئی قرینہ نہیں ہے جو رب کا معنی مجازی مراد لینے پر دلالت کرے لیکن ہاں ایسا قرینہ ضرور ہے جو رب کا معنی حقیقی مراد لینے پر ضرور دلالت کرتا ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
شعر : عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
مصرع اول میں لفظ کعبہ قرینہ ہے اس بات پر کہ مصرع ثانی میں رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہے
رہی بات شعر میں تاویل کی گنجائش کیوں ہے جس کی وجہ سے فقط بظاہر کفر کہا گیا ہے تو کہ اس کی وجہ دوسری ہے
لہذا ان تمام دلائل و براہین توضیحات و تشریحات کے پیش نظر مفتی صاحب کا فتوی محل نظر ہے چاہیے کہ اس پر مزید غور و فکر فرما لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
65
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دہم]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]

قلمکار: Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط یازدہم]
احد عشر کوکبا

از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر

فتاوی شارح بخاری میں تلاش و جستجو کے باوجود حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا کوئی ایسا فتوی نہیں ملا جس میں انھوں نے اردو میں کہیں لفظ رب کی لغوی تاویل کر کے کسی شعر کو یا کسی قول کو درست قرار دیا ہو مگر ہاں ایک فتوی ایسا ضرور ملا جو “نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری” کی عبارت
” بلا اضافت رب کا اطلاق اللہ عزو جل کے علاوہ دوسرے پر جائز نہیں۔ بلکہ کفر ہے ۔ غیر خدا پر اضافت کے ساتھ اس کا اطلاق یہ عربی کے ساتھ خاص ہے۔ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں۔”
[نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد اول ٣٤٨/٣٤٧]
کی تائید کرتا ہے۔

حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ سے بعض اشعار کے بارے میں سوال ہوا کہ
” کچھ نو جوان مسلم مندرجہ ذیل اشعار بہت شوق سے گاتے ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ ان اشعار کے مفہوم کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں یا یوں ہی صرف زبان پر لاتے ہیں۔ بہر حال شریعت طاہرہ کی روشنی میں ان پر کیا احکام لاگو ہوں گے؟”
پھر اس کے بعد اشعار رقم کیے گئے جس میں تیسرا شعر یہ ہے

رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے

اس کے جواب میں حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ ارقام فرماتے ہیں:
“جتنے اشعار سوال میں درج کیے گئے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ہے جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہو کر کا فر و مرتد ہو گئے ، ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہو گئے ، ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں ، ان سب پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر ان اشعار میں جو کفریات ہیں ان سے توبہ کریں، کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں ، اپنی بیویوں کو رکھنا منظور ہو تو ان سے دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کریں”

پھر اشعار میں کفریہ باتوں کی وضاحت فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
“یہ کہنا کہ رب نے مجھ پرستم کیا اللہ عز و جل کو ظالم بنانا ہے، جو صریح کفر ہے”
[فتاوی شارح بخاری جلد اول صفحہ ٢٥٧/٢٥٨]

قارئین ملاحظہ فرمائیں فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے شعر مذکور کی تاویل نہیں فرمائی یہ نہیں فرمایا کہ رب کا مجازی لغوی معنی پالنے والا ہے لہذا قائل کی تکفیر نہیں ہوگی،
اس کا مطلب یہی ہے کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے اردو میں لفظ رب کو قابل تاویل نہیں گردانا اور جہاں جہاں عربی میں غیر اللہ کے لیے لفظ رب کے استعمال کی بات آئی وہاں وہاں آپ نے فرمایا کہ اس میں تاویل ہو سکتی ہے

اگر اردو میں واقعی تاویل کی گنجائش ہوتی تو ہر گز یہ حکم نہ لگاتے کہ
جو یہ شعر پڑھتا ہے وہ کافر و مرتد ہو گیا اس کے تمام اعمال اکارت گئے کافر بھی ایسا کہ کافر کلامی کیونکہ اعمال کا اکارت ہوجانے کا حکم کفر کلامی میں لگایا جاتا ہے کفر فقہی میں نہیں اور ننانوے ہی نہیں نناونوے ہزار احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال بھی اسلام کا ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ اسے اسلام پر محمول کرے اور حکم کفر کلامی لگانے میں احتیاط برتے
اگر اردو میں لفظ رب کا لغوی معنی مراد لے کر تاویل کی جا سکتی تھی تو پھر حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے تاویل کیوں نہیں کی؟
فرما دیتے کہ یہاں معنی لغوی سردار یا پالنے والا مراد ہے کفر کا حکم نہیں لگتا کیوں کہ شبہ موجود ہے کسی کو کافر کہنا قتل کر دینے کے مترادف ہے کیونکہ جب کافر کلامی کہا تو حاکم اسلام کے لیے وہ شخص مباح الدم ہو گیا اگر وہ رجوع نہ کرے تو حاکم اسلام کو اجازت ہے کہ اسے قتل کر دے

عند المتکلمین ادنی شبہ بھی ہو تو کفر کلامی کا حکم نہیں لگایا جاتا ہے اور حد میں بھی اگر ادنی شبہ پایا جائے تو حد ساقط ہو جاتی ہے
اس کو یوں سمجھیے کہ اگر غیر شادی شدہ شخص نے زنا کیا اور اس نے زنا کا خود اقرار کیا یا پھر اس پر گواہان شرعی گزرے تو حاکم اسلام کو حکم ہے کہ زانی اور زانیہ کو سو کوڑے لگائے جیسا کہ سورۂ نور میں ہے:
اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ۪-وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِۚ-وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ [سورۂ آیت ٢]

اور اگر شادی شدہ نے زنا کیا تو اسے سنگسار کیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے ۔
جیسا کہ تلمیذ ابن حجر عسقلانی شمس الدین السخاوی المصری اپنی کتاب ” المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرہ” میں حدیث نقل کرتے ہیں:
٦١٩ – حديث: “الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة بما قضيا من اللذة”.
الطبراني وابن منده في “المعرفة” عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف، عن خالته العجماء، قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول: فذكره۔
[٣ – ص٣٤٧ – المقاصد الحسنة]

واضح ہوا کہ شریعت کا حکم ہے کہ شادی شدہ اگر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے لیکن اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کی باندی سے زنا کر لیا تو اسے رجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ کسی پر حد قائم کرنا بہت بڑی سزا ہے تو اس کے تمام شبہات کا ارتفاع بھی ضروری ہے لیکن یہاں شبہ ہے ایک حدیث کی وجہ سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انت و مالك لابيك
کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لیے ہے،
اس سے باندی کا مال میں شمار ہونے کا شبہ ہوا اور اسی شبہ کی وجہ سے لڑکے کے باپ سے حد ساقط ہو گئی

جیسا کہ رد المحتار میں ہے:
(لَا حَدَّ) بِلَازِمٍ (بِشُبْهَةِ الْمَحِلِّ) أَيْ الْمِلْكِ وَتُسَمَّى شُبْهَةً حُكْمِيَّةً أَيْ الثَّابِتُ حُكْمُ الشَّرْعِ بِحِلِّهِ (وَإِنْ ظَنَّ حُرْمَتَهُ كَوَطْءِ أَمَةِ وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ) وَإِنْ سَفَلَ وَلَوْ وَلَدُهُ حَيًّا فَتْحٌ، لِحَدِيثِ «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيك» (وَمُعْتَدَّةِ الْكِنَايَاتِ) وَلَوْ خُلْعًا خَلَا عَنْ مَالٍ
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – المجلد ٤- الصفحة ١٩ – جامع الكتب الإسلامية]

بہار شریعت میں ہے:
جس عورت سے وطی کی گئی اُس میں مِلک کا شبہہ ہو تو حد قائم نہ ہوگی اگرچہ اوس کو حرام ہونے کا گمان ہو، جیسے اپنی اولاد کی باندی۔ [حصہ نہم صفحہ ٣٧٨]

ایسے ہی کسی پر حکم کفر کلامی لگانے کے لیے احتمال فی الکلام، احتمال فی التکلم، احتمال فی المتکلم تینوں احتمالات کا ارتفاع ضروری ہے ورنہ حکم کفر کلامی لگانا ہر گز صحیح نہیں ہوگا

اور اگر اردو میں رب کا لغوی معنی لینا درست ہو تو ظاہر ہے کہ شعر مذکور کا مصرع اول
“رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے”
اس میں احتمال فی الکلام ہوگا کیونکہ رب کئی معنوں میں مشترک ہے لیکن حضور شارح بخاری نے اس کی طرف التفات نہیں فرمایا کہ لغوی معنی سے شعر درست ہو جائے کیونکہ وہ جانتے ہیں یہاں اس کا احتمال ہی نہیں ہے اس لیے کہ عرف نے معنی پروردگار کی تعیین کر دی اس لیے کہ عرف میں رب سے اللہ جل جلالہ کی ذات مراد ہوتی ہے اور المعتقد المنتقد میں ہے کہ قرائن خارجیہ سے معنی کی تعیین ہو جاتی ہے۔

امام المتکلمین اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی “المستند المعتمد” میں فرماتے ہیں:
فان القرائن السابقة واللاحقة ربما تعين على تعين المراد – (ص: ۱۵۷)
یعنی بسا اوقات قرائن سابقه و لاحقہ معنی مراد کی تعیین پر معین ہوتے ہیں۔
مسلم الثبوت مع فواتح الرحموت میں مدقق بہاری علامہ محب اللہ بہاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان القرينة قد تفيد القطع ( ج: ۲ص: ۲۱۳) یعنی کبھی قرینہ بھی یقین کا افادہ کرتا ہے ۔
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں ہے :
و انت لا يذهب عليك ان القرائن الخارجية ربما تفيد العلم عادة ۔ ( ج: ۲ص:۲۶۸)
یعنی تم سے یہ بات مخفی نہیں کہ بسا اوقات قرائن خارجیہ سے بھی یقین حاصل ہو جاتا ہے۔
اور یہاں عرف قرائن خارجیہ میں سے ہے جو اس بات کی تعیین کرتا ہے کہ شعر مذکور میں رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہی ہے

تو اس فتوی سے معلوم ہوا کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ اردو میں لفظ رب کا استعمال غیر خدا کے لیے روا نہیں رکھتے ہیں اسی لیے حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے رب الارباب والے فتویٰ سے استدلال کرنا اور لغت کے حوالے سے تاویل کر کے لفظ رب سے معنی دیگر مراد لینا صحیح نہیں ہے

رب بمعنی مجازی ــــــــــــــــ

اب اس پر کوئی یہ اشکال پیش کر سکتا ہے کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے “رب الارباب” والے فتویٰ میں فرمایا ہے کہ “یہاں رب بمعنی مجازی ہے” اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجازی معنی میں رب کا استعمال ہو سکتا ہے اگر چہ حقیقی معنی میں نہ ہو؟

اقول:
قارئین حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے فتوی پر غور فرمائیں کہ انھوں نے پہلے سورۂ یوسف کی آیتیں پیش کی ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہاں یعنی جو سورۂ یوسف میں “اذکر عند رب” “انه ربی احسن مثوای” “ربه خمرا” مذکور ہے تو یہاں رب بمعنی مجازی ہے
اور مجاز کا دار و مدار عرف یا قرینے پر ہے لغت پر نہیں جیسا کہ اس کی تعریف سے ہی معلوم ہوتا ہے
اصول الشاشی میں ہے:
“کل لفظ وضعه واضع اللغۃ بازاء شیئ فہو حقیقۃ له و لو استعمل فی غیرہ یکون مجازاً لا حقیقۃ” [اصول الشاشی ص : ٣٢]
ہر وہ لفظ جس کو واضع لغت نے کسی شی کے مقابلے میں وضع کیا ہو تو وہ حقیقت ہے اور اگر معنی حقیقی کے علاوہ دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگ جائے تو مجاز ہے حقیقت نہیں
جیسے کسی نے قسم کھائی کہ میں زید کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا اب اگر اس نے زید کے گھر میں دائیں یا بائیں قدم رکھا اور پھر باہر کر لیا یا پھر کسی نے اس کو پکڑ کر رکھا اور اس نے اپنے دونوں قدم گھر کے اندر رکھے پھر باہر کر لیے تو وہ حانث نہیں ہوگا یعنی اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی حالانکہ قسم ٹوٹ جانا چاہیے کیونکہ اس نے اپنا قدم گھر کے اندر رکھا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ یہاں قدم رکھنے سے مراد داخل ہونا ہے تو جب تک گھر کے اندر داخل نہیں ہوگا تب تک فقط قدم کے رکھ دینے سے حانث نہیں ہوگا جب داخل ہوگا تبھی حانث ہوگا
اسی کے بارے میں اصول الشاشی میں ہے:
” وضع القدم صار مجازا عن الدخول بحکم العرف”
[اصول الشاشی ص : ٣٥]
باعتبار عرف قدم رکھنا داخل ہونے سے مجاز ہو گیا

قارئین آپ نے جب یہ جان لیا مجاز کا دار و مدار عرف یا قرینے پر ہے اور آپ نے گزشتہ تحریر میں امام نووی رضی اللہ عنہ کی کتاب ” الاذکار من کلام سید الابرار ” کے حوالے سے یہ بھی جان لیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ان کے یہاں یہ عرف تھا کہ بادشاہ کو رب کہتے تھے تو لہذا ان کے یہاں رب بمعنی مجازی ہوا اسی کو شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ “یہاں رب بمعنی مجازی ہے” اور ہمارے زمانے میں اردو میں رب بمعنی مجازی کا عرف نہیں ہے تو یہاں رب کا معنی حقیقی یعنی اللہ جل جلالہ کی ذات متعین ہوگی
نیز آگے حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اس لحاظ سے رب الارباب کہنے میں کوئی حرج نہیں” یہ نہیں فرمایا کہ اردو میں رب کہنے میں کوئی حرج نہیں فتدبر!

اب جب بات قرینے کی آگئی تو کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
اس میں ایسا کوئی قرینہ ہے جو رب کا معنی مجازی مراد لینے میں دلالت کرتا ہو
تو وہ جان لے کہ اس شعر میں ایسا تو کوئی قرینہ نہیں ہے جو رب کا معنی مجازی مراد لینے پر دلالت کرے لیکن ہاں ایسا قرینہ ضرور ہے جو رب کا معنی حقیقی مراد لینے پر ضرور دلالت کرتا ہے

شعر : عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا

مصرع اول میں لفظ کعبہ قرینہ ہے اس بات پر کہ مصرع ثانی میں رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہے
رہی بات شعر میں تاویل کی گنجائش کیوں ہے جس کی وجہ سے فقط بظاہر کفر کہا گیا ہے تو کہ اس کی وجہ دوسری ہے
لہذا ان تمام دلائل و براہین توضیحات و تشریحات کے پیش نظر مفتی صاحب کا فتوی محل نظر ہے چاہیے کہ اس پر مزید غور و فکر فرما لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code