صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
درد درون دل
خیر وخبر

درد درون دل

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

درد درون دل
ایک دن گھر کے سارے باشندے نانی کے یہاں گئے تھے میری ماں نے جاتے وقت مجھ سے کہا بیٹا تم گھر میں رہنا اور گھر کا خیال رکھنا
میں نے کہا ٹھیک ہے ماں آپ مطمئن رہیں میں خیال رکھ لوں گا
سب چلے گئے میں گھر میں اکیلے بچ گیا تھا
گھر میں اکیلے رہنا ہر چیز کا خیال رکھنا میرے لیے یہ غالبا پہلی مرتبہ تھا
اچانک بکری کے چیخنے چلانے کی آواز کانوں سے ٹکرائی میں جا کر دیکھا تو بکری ایک کھٹے سے بندھی ہوئی تھی میں نے اسے امرود کے پتے توڑ کر دیے لیکن وہ نہیں کھائی پھر مار (چاول کو پکانے کے بعد جو پانی اس سے نکلتا ہے وہ) دیا لیکن وہ بھی نہیں پی، اور چیختی رہی کچھ دیر بعد خود چپ ہو گئی
مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی میں آخر اس بکری کے ساتھ ماجرا کیا تھا؟
ایک دن ہم سب گھر میں تھے اور پھر ویسے ہی بکری چیخنے لگی میں نے اپنی ماں سے پوچھا
ماں یہ بکری چیختی چلاتی کیوں ہے اتنا آواز کیوں کرتی ہے اتنا شور کیوں مچاتی ہے ؟
تو میری ماں نے کہا بیٹا دو بکری ہے جب ایک بکری کہیں چلی جاتی ہے اور وہ نظر نہیں آتی ہے تو دوسری بکری اسے ڈھونڈنے کے لیے آواز بلند کرتی ہے چیختی چلاتی ہے
تب مجھے اس دن کی بات یاد آئی کہ جو بکری چارہ دیکھ کر چپ نہیں ہوئی تھی وہ اچانک چپ کیسے ہو گئی تھی ؟
وہ اس لیے کہ دوسری بکری چھت کے اوپر چلی گئی تھی میں اس کو وہاں سے بھگا کر دوسری بکری کے پاس بھیج دیا تھا جس کو دیکھنے کے بعد وہ بکری چپ ہو گئی تھی
یہ ایک جانور بے زبان کی محبت دوسرے جانور کے لیے ہے
کہ بنا دیکھے اسے چین نہیں ملتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سوچتا ہے کہ اسے کچھ ہو تو نہیں گیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں کسی نے مار تو نہیں دیا؟
بنا اس کے چارہ کھانا بھی پسند نہیں کرتا
لیکن افسوس انسان پر سارا جہاں ماتم کناں ہے کہیں بیٹا مارا جا رہا ہے کہیں باپ بندوق کا رزق بن رہا ہے کہیں چاچا کی نعش شاہ راہ عام پر تڑپ رہی ہے لیکن انسان تماشائی بنا دیکھ رہا ہے جانور تو آواز اٹھاتا ہے لیکن انسان آواز نہیں اٹھاتا ہے
جانور تو دوسرے کے بغیر چارہ کھانا بھی گوارہ نہیں کرتا ہے لیکن انسان تو دوسرے انسان کا حق مار کر کھانے میں کچھ تامل نہیں کرتا سی جان جا رہی ہے لیکن اسے کچھ فکر نہیں ہے اگر فکر ہے تو بس اپنی فکر ہے
جبکہ ان تڑپتے ہوئے تن بے جان سے آواز آتی ہے
ہماری فریاد کو پہنچو اے مسلمانو جاگو ہمیں انصاف دو ورنہ تمہاری بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی تم بھی ایسے شاہ راہ عام پر بے یار و مددگار پڑے رہوگے کوئی پرسان حال نہ ہوگا ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہو جائیں گی
یہ زمین قیامت زدہ ہولناک وحشت ناک گھٹا ٹوپ بادلوں سے ڈھانپ دی جائے گی
ابھی وقت ہے ہمارا کیا ہم تو چل بسے لیکن خدارا ہماری آنے والی نسل پر رحم کھاؤ ہماریوں بیٹیوں کی عزت پر پہرہ دو
ہماری آہ و زاری سن کے بھی خاموش ہو کیونکر
ہماری اجڑی بستی دیکھ کر مدہوش ہو کیونکر
ستم کے یہ نظارے دیکھ کر بھی سوچتے کیا ہو
کبھی گردن کبھی چہرہ کبھی سر نوچتے کیا ہو
خلافِ ظلم واعظ گر نہیں آواز اٹھاؤ گے
وہ ساعت آنے والی ہے کہ تم بھی مارے جاؤ گے
اگر احساس باقی ہے تمہارے دل میں یک ذرہ
نبھاؤ رسم شبیری بدل دو نقشۂ دنیا
کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام میں مسلمان کی عزت و حرمت کا کیا مقام ہے؟
احکام القرآن جلد ۲ ص ۸۷۶ میں ابوبکر ابن العربی رقمطراز ہیں
اگر چہ ان کے علاقے اور ممالک مختلف ہی ہوں اور جیسے بھی ممکن ہو یہ مدد کرنا ضروری ہے جملہ ائمہ کرام اور علما اس بات پر متفق ہیں کہ جو مسلمان اپنے غریب مظلوم اور کمزور مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے پر قادر ہوں اگر چہ یہ دنیا کے کسی کونے میں ہوں اور پھر بھی انہوں نے اگر مظلوم و مقہور مسلمانوں کی مدد نہ کی تو یہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں گے۔
ابو بکر ابن العربی فرماتے ہیں: جب مسلمان قیدی ہوں یا مظلوم تو شرعی ولایت کا تعلق ان کے ساتھ بھی قائم ہے اور بدن کے اعتبار سے ان کی نصرت واجب ہے ہم پر لازم ہے کہ ہم انھیں طاقت کے ساتھ قید سے چھٹکارا دلائیں ورنہ اپنے جمیع اموال خرچ کرکے ان کو نجات دلائیں حتی کہ کسی کے پاس کوئی درہم نہ بچے۔
کیا آج کے سارے قائدین رہبر و رہنما و سردار، صاحب جبۂ و دستار خطباء شعلہ بار امراء کبار اپنے سارے اموال راہ حق میں خرچ دیے اور ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں بچا؟
کیا ان کے پاس جسمانی قوت نہیں،
کیا ان کے منہ میں زبان نہیں خدارا اب ہم سے نعرۂ مصلحت نہ لگوائیں
ہماری زبان سے مصلحت کے ترانے سن کر صلاح الدین ایوبی خالد بن ولید محمد ابن قاسم ٹیپو سلطان علھہم الرحمۃ و الرضوان کی روحیں کہیں شرمندہ نہ ہو جائیں
ہمارے مصلحت آمیز ترانے سن کر کہیں شاہ راہ عام پر تڑپتی ہوئی نعشیں ہمیں دھتکار نہ دیں
للہ للہ اب بھی وقت ہے ایک ہو جاؤ امت مسلمہ کی خیر خواہی کے لیے کمر بستہ ہو جاؤ
گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے شیر کی ایک دن کی زندگی جی کر دنیا کو یہ پیغام دے جاؤ
نہ سر جھکا کے جیے نہ منہ چھپا کے جیے
ستمگروں کی نظر سے نظر ملا کے جیے
ہم دو دن کم جیے تو اس میں حیرت کیا
ہم اس کے ساتھ ہیں جو شمع جلا کے جیے
کیا اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی کچھ مصلحتیں باقی رہ گئیں ہیں اب کس دن کے انتظار میں ہیں ؟
کیا ان تڑپتے ہوئے نعشوں کو دیکھ کر آپ کا دل نہیں کہتا
مظلوم کا سینہ ہے یا دنیائے فغاں ہے
ہر آہ میں کہرام بپا در تن و جاں ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
روتی ہوئی آنکھوں سے یہ آتی ہیں صدائیں
آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے
یہ اہل حکومت ہے ترا حامی و ناصر
یہ خانۂ اذہان کا بس وہم و گماں ہے
الفاظ کی بندش نہیں شیوہ ہے ہمارا
اک درد ہے جو دل میں وہ لفظوں سے عیاں ہے
دیکھو گے جسیم اس کو وہ لٹ جائے گا اک دن
ہاتھوں میں دھرے ہاتھ جو خاموش زباں ہے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
88
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مفتیِ_دیوبند_اور_جامعۃ_الرضا_کا_امتحانی_پرچہ

استاذنا المکرم خلیفۂ تاج شریعت پیکر خلوص و محبت حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد شاعر رضا رضوی دارجلنگوی حفظہ اللہ القوی کی کتاب مستنیر

درد درون دل - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

درد درون دل

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

درد درون دل

ایک دن گھر کے سارے باشندے نانی کے یہاں گئے تھے میری ماں نے جاتے وقت مجھ سے کہا بیٹا تم گھر میں رہنا اور گھر کا خیال رکھنا
میں نے کہا ٹھیک ہے ماں آپ مطمئن رہیں میں خیال رکھ لوں گا
سب چلے گئے میں گھر میں اکیلے بچ گیا تھا
گھر میں اکیلے رہنا ہر چیز کا خیال رکھنا میرے لیے یہ غالبا پہلی مرتبہ تھا

اچانک بکری کے چیخنے چلانے کی آواز کانوں سے ٹکرائی میں جا کر دیکھا تو بکری ایک کھٹے سے بندھی ہوئی تھی میں نے اسے امرود کے پتے توڑ کر دیے لیکن وہ نہیں کھائی پھر “مار” (چاول کو پکانے کے بعد جو پانی اس سے نکلتا ہے وہ) دیا لیکن وہ بھی نہیں پی، اور چیختی رہی کچھ دیر بعد خود چپ ہو گئی

مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی میں آخر اس بکری کے ساتھ ماجرا کیا تھا؟

ایک دن ہم سب گھر میں تھے اور پھر ویسے ہی بکری چیخنے لگی میں نے اپنی ماں سے پوچھا
ماں یہ بکری چیختی چلاتی کیوں ہے اتنا آواز کیوں کرتی ہے اتنا شور کیوں مچاتی ہے ؟

تو میری ماں نے کہا بیٹا دو بکری ہے جب ایک بکری کہیں چلی جاتی ہے اور وہ نظر نہیں آتی ہے تو دوسری بکری اسے ڈھونڈنے کے لیے آواز بلند کرتی ہے چیختی چلاتی ہے

تب مجھے اس دن کی بات یاد آئی کہ جو بکری چارہ دیکھ کر چپ نہیں ہوئی تھی وہ اچانک چپ کیسے ہو گئی تھی ؟

وہ اس لیے کہ دوسری بکری چھت کے اوپر چلی گئی تھی میں اس کو وہاں سے بھگا کر دوسری بکری کے پاس بھیج دیا تھا جس کو دیکھنے کے بعد وہ بکری چپ ہو گئی تھی

یہ ایک جانور بے زبان کی محبت دوسرے جانور کے لیے ہے
کہ بنا دیکھے اسے چین نہیں ملتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سوچتا ہے کہ اسے کچھ ہو تو نہیں گیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں کسی نے مار تو نہیں دیا؟
بنا اس کے چارہ کھانا بھی پسند نہیں کرتا
لیکن افسوس انسان پر سارا جہاں ماتم کناں ہے کہیں بیٹا مارا جا رہا ہے کہیں باپ بندوق کا رزق بن رہا ہے کہیں چاچا کی نعش شاہ راہ عام پر تڑپ رہی ہے لیکن انسان تماشائی بنا دیکھ رہا ہے جانور تو آواز اٹھاتا ہے لیکن انسان آواز نہیں اٹھاتا ہے
جانور تو دوسرے کے بغیر چارہ کھانا بھی گوارہ نہیں کرتا ہے لیکن انسان تو دوسرے انسان کا حق مار کر کھانے میں کچھ تامل نہیں کرتا سی جان جا رہی ہے لیکن اسے کچھ فکر نہیں ہے اگر فکر ہے تو بس اپنی فکر ہے

جبکہ ان تڑپتے ہوئے تن بے جان سے آواز آتی ہے

ہماری فریاد کو پہنچو اے مسلمانو جاگو ہمیں انصاف دو ورنہ تمہاری بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی تم بھی ایسے شاہ راہ عام پر بے یار و مددگار پڑے رہوگے کوئی پرسان حال نہ ہوگا ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہو جائیں گی
یہ زمین قیامت زدہ ہولناک وحشت ناک گھٹا ٹوپ بادلوں سے ڈھانپ دی جائے گی

ابھی وقت ہے ہمارا کیا ہم تو چل بسے لیکن خدارا ہماری آنے والی نسل پر رحم کھاؤ ہماریوں بیٹیوں کی عزت پر پہرہ دو

@ہماری آہ و زاری سن کے بھی خاموش ہو کیونکر
ہماری اجڑی بستی دیکھ کر مدہوش ہو کیونکر
ستم کے یہ نظارے دیکھ کر بھی سوچتے کیا ہو
کبھی گردن کبھی چہرہ کبھی سر نوچتے کیا ہو
خلافِ ظلم واعظ گر نہیں آواز اٹھاؤ گے
وہ ساعت آنے والی ہے کہ تم بھی مارے جاؤ گے
اگر احساس باقی ہے تمہارے دل میں یک ذرہ
نبھاؤ رسم شبیری بدل دو نقشۂ دنیا

کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام میں مسلمان کی عزت و حرمت کا کیا مقام ہے؟

احکام القرآن جلد ۲ ص ۸۷۶ میں ابوبکر ابن العربی رقمطراز ہیں

اگر چہ ان کے علاقے اور ممالک مختلف ہی ہوں اور جیسے بھی ممکن ہو یہ مدد کرنا ضروری ہے جملہ ائمہ کرام اور علما اس بات پر متفق ہیں کہ جو مسلمان اپنے غریب مظلوم اور کمزور مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے پر قادر ہوں اگر چہ یہ دنیا کے کسی کونے میں ہوں اور پھر بھی انہوں نے اگر مظلوم و مقہور مسلمانوں کی مدد نہ کی تو یہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں گے۔

ابو بکر ابن العربی فرماتے ہیں: جب مسلمان قیدی ہوں یا مظلوم تو شرعی ولایت کا تعلق ان کے ساتھ بھی قائم ہے اور بدن کے اعتبار سے ان کی نصرت واجب ہے ہم پر لازم ہے کہ ہم انھیں طاقت کے ساتھ قید سے چھٹکارا دلائیں ورنہ اپنے جمیع اموال خرچ کرکے ان کو نجات دلائیں حتی کہ کسی کے پاس کوئی درہم نہ بچے۔

کیا آج کے سارے قائدین رہبر و رہنما و سردار، صاحب جبۂ و دستار خطباء شعلہ بار امراء کبار اپنے سارے اموال راہ حق میں خرچ دیے اور ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں بچا؟

کیا ان کے پاس جسمانی قوت نہیں،
کیا ان کے منہ میں زبان نہیں خدارا اب ہم سے نعرۂ مصلحت نہ لگوائیں

ہماری زبان سے مصلحت کے ترانے سن کر صلاح الدین ایوبی خالد بن ولید محمد ابن قاسم ٹیپو سلطان علھہم الرحمۃ و الرضوان کی روحیں کہیں شرمندہ نہ ہو جائیں

ہمارے مصلحت آمیز ترانے سن کر کہیں شاہ راہ عام پر تڑپتی ہوئی نعشیں ہمیں دھتکار نہ دیں

للہ للہ اب بھی وقت ہے ایک ہو جاؤ امت مسلمہ کی خیر خواہی کے لیے کمر بستہ ہو جاؤ
گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے شیر کی ایک دن کی زندگی جی کر دنیا کو یہ پیغام دے جاؤ

@نہ سر جھکا کے جیے نہ منہ چھپا کے جیے
ستمگروں کی نظر سے نظر ملا کے جیے
ہم دو دن کم جیے تو اس میں حیرت کیا
ہم اس کے ساتھ ہیں جو شمع جلا کے جیے

کیا اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی کچھ مصلحتیں باقی رہ گئیں ہیں اب کس دن کے انتظار میں ہیں ؟

کیا ان تڑپتے ہوئے نعشوں کو دیکھ کر آپ کا دل نہیں کہتا

@مظلوم کا سینہ ہے یا دنیائے فغاں ہے
ہر آہ میں کہرام بپا در تن و جاں ہے

@روتی ہوئی آنکھوں سے یہ آتی ہیں صدائیں
آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے
یہ اہل حکومت ہے ترا حامی و ناصر
یہ خانۂ اذہان کا بس وہم و گماں ہے
الفاظ کی بندش نہیں شیوہ ہے ہمارا

@اک درد ہے جو دل میں وہ لفظوں سے عیاں ہے
دیکھو گے جسیم اس کو وہ لٹ جائے گا اک دن
ہاتھوں میں دھرے ہاتھ جو خاموش زباں ہے

Scan this QR code to read online:

QR Code