صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
تعلیم یافتہ کتا
احوال قوم وملت

تعلیم یافتہ کتا

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

تعلیم یافتہ کتا
درسگاہ علم و فن مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف میں ہدایہ آخرین مسائل منثورہ کا درس دیتے ہوئے ماہر نقلیات و عقلیات حضرت مولانا محمد شکیل بریلوی دام ظلہ العالی نے فرمایا: (راقم الحروف بھی شریک درس تھا)
ابھی آپ نے پڑھا کہ منتفع بہ کتے چیتے اور درندوں کی بیع جائز ہے خواہ سِدھائے ہوئے ہوں یا سِدھائے نہ ہوں
کتا منتفع بہ ہے کیونکہ اس سے شکار وغیرہ کے کام لیے جاتے ہیں مگر ہاں کتا اگر سدھایا ہوا نہیں ہے تو اس کا شکار کھانا جائز نہیں اگر چہ وہ شکار کر کے اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا ہو اور اگر کتا سدھایا ہوا ہے تو اس کا شکار کھانا جائز ہے،
معزز طلبا! غور کیجیے کہ شکار دونوں کتوں نے کیا جو کلبِ معلَّم (سدھایا ہوا کتا) تھا اس نے بھی کیا اور جو غیر معلَّم (غیر سدھایا ہوا کتا) تھا اس نے بھی شکار کیا لیکن ان میں سے ایک کا شکار کھانا حلال ہے اور دوسرے کا کھانا حرام ہے
پتہ ہے کیوں اس لیے کہ ایک تعلیم یافتہ ہے اور دوسرا غیر تعلیم یافتہ ہے ایک مہذب ہے اور دوسرا غیر مہذب ہے ایک ٹرینڈ ہے اور دوسرا اَن ٹرینڈ ہے ایک سدھایا ہوا ہے اور دوسرا غیر سدھایا ہوا ہے
اب سوچیے کتا جب غیر تعلیم یافتہ تھا تو اس کا شکار کھانا حرام تھا اور جب وہی کتا تعلیم یافتہ ہو گیا تو اس کا شکار کھانا حلال ہو گیا
صرف تعلیم و صحبت کی بات ہے اگر تعلیم ہے تو فتویٰ حلت کا ہے اور اگر تعلیم مفقود ہے تو فتویٰ حرمت کا ہے
جب ایک کتا اپنے مالک کے پاس رہ کر تعلیم حاصل کر لے تو اس کا شکار حرام نہ رہ کر حلال ہو جاتا ہے،
سوچیے اگر انسان تعلیم حاصل کرے تو اس کو کتنا بلند مقام ملے گا ؟
سگ اصحاب کہف روزے چند پئے
نیکاں گرفت و مردم شد
ترجمہ: اصحاب کہف کا کتا چند دن نیکوں کے پیچھے چلا تو وہ آدمی ہو گیا
پسر نوح با بدان نشست
خاندان نبوتش گم شد
ترجمہ: حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بدوں کے ساتھ بیٹھا تو اس سے خاندان نبوت چھوٹ گیا
قارئین کرام: غور کیجیے تعلیم کی کتنی اہمیت ہے کہ کتے کو برائے کار تعلیم دی گئی تو اس کے کیے ہوئے شکار کی حرمت حلت میں تبدیل ہو گئی
لیکن انسان کی تعلیم کا تو اس سے کوئی علاقہ ہی نہیں ہے نہ تشبیہ کی نہ تمثیل کی، کیونکہ انسان تو قال اللہ اور قال الرسول کی تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کا مرتبہ کیا ہوگا اللہ جل و علا نے اس کو کو کیسی عزت و حرمت شان و شوکت رفعت و عظمت بخشی ہوگی
اگر انسان تعلیم یافتہ نہیں ہو تو اس کی تحقیر کفر نہیں لیکن تعلیم یافتہ ہو تو اس کی تحقیر کفر ہے
اسی لیے علامہ جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ علم اور علماء میں بحوالہ فتاوی رضویہ شریف لکھتے ہیں
اور اعلی (حضرت علیہ الرحمہ) تحریر فرماتے ہیں مجمع الانہر میں ہے
من قال لعالم عویلمُٗ استخفافا فقر کفر
جو شخص کسی علم کو مولویا تحقیر کے لیے کہے وہ کافر ہے (فتاوی رضویہ شریف جلد 1 ص 395)
عن أبي بكرة نفيع بن الحارث:اغدُ عالمًا أو متعلِّمًا أو مستمعًا أو محبًّا ولا تكُنِ الخامسةَ فتَهلِكَ. "
ترجمہ: حضرت ابو بکرہ بن نفیع سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عالم بنو یا طالب علم بنو یا ان کو سننے والا بنو یا ان سے محبت کرنے والا بنو پانچواں مت بنو ورنہ ہلاک ہو جاؤگے،
(الهيثمي (ت ٨٠٧)، مجمع الزوائد ١‏/١٢٧ • رجاله موثقون)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
جہالت موت بھی رسوائی بھی انسان کا دشمن
مگر تعلیم عز و شان و شوکت اور تن من دھن
فنا کے بعد بھی وہ زندہ رہتا ہے زمانے میں
طلاطم خیز جس کے دل میں ہے دریائے علم و فن
(جسیم)
اللہ جل و علا ہمیں تعلیم سے مزین فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
99
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

کیا قوم مَلِک سید ہے؟

کشور دل پر کڑکتی بجلی

تعلیم یافتہ کتا - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

تعلیم یافتہ کتا

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

تعلیم یافتہ کتا

درسگاہ علم و فن مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف میں ہدایہ آخرین مسائل منثورہ کا درس دیتے ہوئے ماہر نقلیات و عقلیات حضرت مولانا محمد شکیل بریلوی دام ظلہ العالی نے فرمایا: (راقم الحروف بھی شریک درس تھا)
ابھی آپ نے پڑھا کہ منتفع بہ کتے چیتے اور درندوں کی بیع جائز ہے خواہ سِدھائے ہوئے ہوں یا سِدھائے نہ ہوں

کتا منتفع بہ ہے کیونکہ اس سے شکار وغیرہ کے کام لیے جاتے ہیں مگر ہاں کتا اگر سدھایا ہوا نہیں ہے تو اس کا شکار کھانا جائز نہیں اگر چہ وہ شکار کر کے اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا ہو اور اگر کتا سدھایا ہوا ہے تو اس کا شکار کھانا جائز ہے،

معزز طلبا! غور کیجیے کہ شکار دونوں کتوں نے کیا جو کلبِ معلَّم (سدھایا ہوا کتا) تھا اس نے بھی کیا اور جو غیر معلَّم (غیر سدھایا ہوا کتا) تھا اس نے بھی شکار کیا لیکن ان میں سے ایک کا شکار کھانا حلال ہے اور دوسرے کا کھانا حرام ہے
پتہ ہے کیوں اس لیے کہ ایک تعلیم یافتہ ہے اور دوسرا غیر تعلیم یافتہ ہے ایک مہذب ہے اور دوسرا غیر مہذب ہے ایک ٹرینڈ ہے اور دوسرا اَن ٹرینڈ ہے ایک سدھایا ہوا ہے اور دوسرا غیر سدھایا ہوا ہے

اب سوچیے کتا جب غیر تعلیم یافتہ تھا تو اس کا شکار کھانا حرام تھا اور جب وہی کتا تعلیم یافتہ ہو گیا تو اس کا شکار کھانا حلال ہو گیا
صرف تعلیم و صحبت کی بات ہے اگر تعلیم ہے تو فتویٰ حلت کا ہے اور اگر تعلیم مفقود ہے تو فتویٰ حرمت کا ہے
جب ایک کتا اپنے مالک کے پاس رہ کر تعلیم حاصل کر لے تو اس کا شکار حرام نہ رہ کر حلال ہو جاتا ہے،
سوچیے اگر انسان تعلیم حاصل کرے تو اس کو کتنا بلند مقام ملے گا ؟

سگ اصحاب کہف روزے چند پئے
نیکاں گرفت و مردم شد
ترجمہ: اصحاب کہف کا کتا چند دن نیکوں کے پیچھے چلا تو وہ آدمی ہو گیا

@پسر نوح با بدان نشست
خاندان نبوتش گم شد

ترجمہ: حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بدوں کے ساتھ بیٹھا تو اس سے خاندان نبوت چھوٹ گیا

قارئین کرام: غور کیجیے تعلیم کی کتنی اہمیت ہے کہ کتے کو برائے کار تعلیم دی گئی تو اس کے کیے ہوئے شکار کی حرمت حلت میں تبدیل ہو گئی

لیکن انسان کی تعلیم کا تو اس سے کوئی علاقہ ہی نہیں ہے نہ تشبیہ کی نہ تمثیل کی، کیونکہ انسان تو قال اللہ اور قال الرسول کی تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کا مرتبہ کیا ہوگا اللہ جل و علا نے اس کو کو کیسی عزت و حرمت شان و شوکت رفعت و عظمت بخشی ہوگی

اگر انسان تعلیم یافتہ نہیں ہو تو اس کی تحقیر کفر نہیں لیکن تعلیم یافتہ ہو تو اس کی تحقیر کفر ہے
اسی لیے علامہ جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ علم اور علماء میں بحوالہ فتاوی رضویہ شریف لکھتے ہیں
“اور اعلی (حضرت علیہ الرحمہ) تحریر فرماتے ہیں مجمع الانہر میں ہے”

“من قال لعالم عویلمُٗ استخفافا فقر کفر”
جو شخص کسی علم کو مولویا تحقیر کے لیے کہے وہ کافر ہے” (فتاوی رضویہ شریف جلد 1 ص 395)
“عن أبي بكرة نفيع بن الحارث:اغدُ عالمًا أو متعلِّمًا أو مستمعًا أو محبًّا ولا تكُنِ الخامسةَ فتَهلِكَ. ”

ترجمہ: حضرت ابو بکرہ بن نفیع سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عالم بنو یا طالب علم بنو یا ان کو سننے والا بنو یا ان سے محبت کرنے والا بنو پانچواں مت بنو ورنہ ہلاک ہو جاؤگے،
“(الهيثمي (ت ٨٠٧)، مجمع الزوائد ١‏/١٢٧ • رجاله موثقون)”

@جہالت موت بھی رسوائی بھی انسان کا دشمن
مگر تعلیم عز و شان و شوکت اور تن من دھن
فنا کے بعد بھی وہ زندہ رہتا ہے زمانے میں
طلاطم خیز جس کے دل میں ہے دریائے علم و فن
(جسیم)

اللہ جل و علا ہمیں تعلیم سے مزین فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

Scan this QR code to read online:

QR Code