صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں
احوال قوم وملت

بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں
بعض حضرات کی مثال اس مکھی کی طرح ہے جو سارا بدن چھوڑ کر زخم پر ہی بیٹھتی ہے یا اس بلی کی طرح ہے جو مرغا چھوڑ کر چوہے پر لپکتی ہے یا اس موچی کی طرح ہے جس کی نظر سارا بدن چھوڑ کر فقط چپل اور جوتے پر ہی پڑتی ہے اس کی نظر اور جگہوں پر بھی جاتی ہے لیکن ان سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس کا اپنا ذاتی مفاد انھیں چیزوں سے متعلق ہوتا ہے
ایسے ہی بعض حضرات شیخی دکھانے کے لیے مکمل تحریر یا کلام چھوڑ کر تذکیر و تانیث پر جھپٹ پڑتے ہیں چہ می گوئیاں کرتے ہیں لیکن انھیں کیا پتہ ۔۔۔۔۔۔ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کلام و تحریر کی خوبی اسے کیوں نظر نہیں آتی جس طرح تذکیر و تانیث پر زبان دراز کیا کرتے ہیں اسی طرح تحریر و کلام کی معنویت ، فکر پاروں، جواہر پاروں، نکتہ دانی، سلاست و روانی، شائستگی و شگفتگی پر لبہائے مبارک کو جنبش دینے کی جسارت کیوں نہیں کرتے ہیں وجہ میں بتاتا ہوں در اصل ایسے حضرات کی تفہیم کلام کا دائرہ تذکیر و تانیث تک ہی محدود ہے اور اسی میں انھیں غرور ہے انھیں کون بتائے؟
سنائی کے ادب سے تو نے غواصی نہ کی ورنہ
ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولؤ و لالہ
لیکن کبھی ایسے افکار و نظریات کے حاملین حضرات اپنے دامن لگے داغ بھی دیکھے ہیں ؟
میرا تجربہ ہے اپنی زبان پر غرور کرنے والے حضرات بالفاظ دیگر ماہرین تذکیر و تانیث جب اپنے درمیان گفتگو کرتے ہیں تو یوں گویا ہوتے ہیں
۔۔۔۔۔آپ بیٹھو۔۔۔۔۔۔آپ لکھو۔۔۔۔۔آپ بولونا۔۔۔۔۔۔آپ کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سنتے نہیں ہو۔۔۔۔۔۔آپ اردو بولنا نہیں جانتے ہو ۔۔۔۔۔۔آپ بڑے چاپلوس ہو۔۔۔۔۔آپ صرف اغلاط تذکیر و تانیث ہی پکڑتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔اب انہیں کون سمجھائے دنیائے اردو ادب میں اس طرح کے جملے کے استعمال پر سو کوڑے لگائے جاتے ہیں اسی لیے کبھی بھی مرزا غالب۔۔۔۔۔ذوق دہلوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جگر مرادآبادی۔۔۔۔فیض احمد فیض۔۔۔۔میر تقی میر۔۔۔۔۔۔بہادر شاہ ظفر۔۔۔۔۔۔نے ایسے جملے استعمال نہیں کیے لیکن اب ان کی حکومت نہیں رہی تو بتائیے ایسے جملے استعمال کرنے والے کو کونسی سزا دی جائے عمر قید کی یا یہ کہہ کر رہائی دلا دی جائے کہ۔۔۔۔۔۔۔ الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا ۔۔۔۔۔۔ اس لیے اپنا گریبان بھی جھانک کر دیکھنا چاہیے
اپنے دامن میں لگے داغ نہ دیکھے تم نے
کیسے کہہ ڈالا فلاں شخص تماشائی ہے
ایسے ہی حضرات کو متنبہ کرتے ہوئے امیر القلم ماہر رضویات علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی دام ظلہ العالی مؤسس امام احمد رضا یونیورسٹی فرماتے ہیں:
شستہ، پختہ سلیس، رواں اردو زبان ... دہلی، لکھنو والوں کا حق ہے۔ یہ حق وہ اپنے حق میں محفوظ رکھیں ۔
دوسروں۔۔۔۔۔۔۔۔ دیہاتیوں کو نہ گھسیٹیں دوسرے بھی منھ میں زبان رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ پلٹ کر کہہ دیں ۔۔۔۔۔ چونکہ دیہاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس لیے ان کا لب ولہجہ بھی وہی ہوگا ... کیا عرب میں صرف اسپ چابک ہی پیدا ہوتے ہیں ..... دراز گوش نہیں ؟ اگر نہیں ، تو یہ دو پہر کی تیز دھوپ میں سفید جھوٹ ہوگا پھر اگر اس وائٹم وائٹ جھوٹ پر اصرار بڑھا پھر تو اس زبان کا قطعاً کوئی اعتبار نہیں ...سب جانتے ہیں ... ماہ عرب، شاہِ کنعان، ولد عدنان نے دراز گوش کی سواری فرمائی ہے، پھر یہ تو مشاہدہ ہی ہے۔ اردو کے اپنے گھر سے ہنہناتے گھوڑے ہی نہیں نکلتے ڈھیچوں ڈھیچوں کرتے گدھے بھی خوب برآمد ہوتے ہیں ..... جو دندناتے یہاں وہاں جہاں تہاں پھرتے ہیں ... دہلی لکھنو والے ... اگر اردو کی ٹانگ توڑے ..... مانگ بگاڑے سندور اُڑائے تو قیامت سے پہلے قیامت والی بات ہے۔ جو بے وقت بر پا کرنے والا بدترین سزا کا مستحق ہے۔
[بولتی تصویریں ص 68]
ایک جگہ فرماتے ہیں:
در اصل اردو والوں کی نظر تانیث، تذکیر، تلفظ پر اٹکی رہتی ہے. دیہاتی ، غیر اردو والے کی نگاہ ہمیشہ معنی پر ٹکی ہوتی ہے۔ وہ صدف کو نہیں دیکھتے۔ موتی پر نظر کرتے ہیں۔ لفافہ کوڑے دان کی نذر ہوتا ہے ... ملفوف کی قدر و حفاظت ہوتی ہے۔ جب تک اردو والے تانیث، تذکیر ، تلفظ کی تلاش یا مشق کرتے ہیں ...تیز اردو والے اتنی دیر میں اپنی بات فٹافٹ کہہ چکا ہوتا ہے۔ بھلے وہ گھوڑا، کو گھورا لڑکا کو لرکا ، چائے ٹھنڈا ہے کیوں نہ بولیں ... سامنے والے کو اس کا مفہوم کچھ جاننا چاہیے اگر وہ سرک پر گھورا دورا اور چائے ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ جملے نہ سمجھ سکیں تو یہ کتنے بھوندو گوندو ہیں تو اردو دانوں کو ہر آسان جملے سمجھانے میں بھیجہ فرائی ... یاد ماغ خوری کون کرے۔ پنڈولم کی طرح بلاوجہ پریکٹس کون کرتے رہے۔ جو چاہے . کرے ہمارے اور بھی کام ہیں اس کے سوا ... الفاظ کے چکر میں پڑتے نہیں دانا
[بولتی تصویریں ص 71]
اس لیے آپ تذکیر و تانیث کے غرور میں مغرور نہ ہو جائیں کیونکہ یہ بے شعور لوگوں کا کام ہے اہل شعور کا انداز الگ ہوتا ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی تذکیر و تانیث میں غلطی کرے تو آپ اصلاح نہ کریں اصلاح کریں ضرور کریں لیکن محرر و متکلم کا مذاق نہ اڑائیں کیونکہ آپ مصلح ہیں۔۔۔۔۔۔ مزاح نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ رہبر ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جوکر نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ انسان ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ حیوان نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے والا آپ کا بھائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی پرائی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے ان چیزوں کا لحاظ کریں اور بحسن و خوبی اصلاح کی کوشش کریں اور جہان غلطیوں پر تنقید کریں وہیں اچھائیوں پر سراہنے کی بھی کوشش کریں تاکہ آپ کے مسلم بھائی کی ہمت برقرار رہے اور وہ آگے بڑھنے کے لیے مزید محنت کرے
خود کو بھی اتنا سنوارو سے جسم قادری
داد و تحسیں سے نوازے خود جناب زندگی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
79
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

جامعۃ الرضا اور حسام الحرمین

عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات

بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں

بعض حضرات کی مثال اس مکھی کی طرح ہے جو سارا بدن چھوڑ کر زخم پر ہی بیٹھتی ہے یا اس بلی کی طرح ہے جو مرغا چھوڑ کر چوہے پر لپکتی ہے یا اس موچی کی طرح ہے جس کی نظر سارا بدن چھوڑ کر فقط چپل اور جوتے پر ہی پڑتی ہے اس کی نظر اور جگہوں پر بھی جاتی ہے لیکن ان سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس کا اپنا ذاتی مفاد انھیں چیزوں سے متعلق ہوتا ہے

ایسے ہی بعض حضرات شیخی دکھانے کے لیے مکمل تحریر یا کلام چھوڑ کر تذکیر و تانیث پر جھپٹ پڑتے ہیں چہ می گوئیاں کرتے ہیں لیکن انھیں کیا پتہ ۔۔۔۔۔۔ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کلام و تحریر کی خوبی اسے کیوں نظر نہیں آتی جس طرح تذکیر و تانیث پر زبان دراز کیا کرتے ہیں اسی طرح تحریر و کلام کی معنویت ، فکر پاروں، جواہر پاروں، نکتہ دانی، سلاست و روانی، شائستگی و شگفتگی پر لبہائے مبارک کو جنبش دینے کی جسارت کیوں نہیں کرتے ہیں وجہ میں بتاتا ہوں در اصل ایسے حضرات کی تفہیم کلام کا دائرہ تذکیر و تانیث تک ہی محدود ہے اور اسی میں انھیں غرور ہے انھیں کون بتائے؟

@سنائی کے ادب سے تو نے غواصی نہ کی ورنہ
ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولؤ و لالہ

لیکن کبھی ایسے افکار و نظریات کے حاملین حضرات اپنے دامن لگے داغ بھی دیکھے ہیں ؟
میرا تجربہ ہے اپنی زبان پر غرور کرنے والے حضرات بالفاظ دیگر ماہرین تذکیر و تانیث جب اپنے درمیان گفتگو کرتے ہیں تو یوں گویا ہوتے ہیں

۔۔۔۔۔آپ بیٹھو۔۔۔۔۔۔آپ لکھو۔۔۔۔۔آپ بولونا۔۔۔۔۔۔آپ کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سنتے نہیں ہو۔۔۔۔۔۔آپ اردو بولنا نہیں جانتے ہو ۔۔۔۔۔۔آپ بڑے چاپلوس ہو۔۔۔۔۔آپ صرف اغلاط تذکیر و تانیث ہی پکڑتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔اب انہیں کون سمجھائے دنیائے اردو ادب میں اس طرح کے جملے کے استعمال پر سو کوڑے لگائے جاتے ہیں اسی لیے کبھی بھی مرزا غالب۔۔۔۔۔ذوق دہلوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جگر مرادآبادی۔۔۔۔فیض احمد فیض۔۔۔۔میر تقی میر۔۔۔۔۔۔بہادر شاہ ظفر۔۔۔۔۔۔نے ایسے جملے استعمال نہیں کیے لیکن اب ان کی حکومت نہیں رہی تو بتائیے ایسے جملے استعمال کرنے والے کو کونسی سزا دی جائے عمر قید کی یا یہ کہہ کر رہائی دلا دی جائے کہ۔۔۔۔۔۔۔ الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا ۔۔۔۔۔۔ اس لیے اپنا گریبان بھی جھانک کر دیکھنا چاہیے

@اپنے دامن میں لگے داغ نہ دیکھے تم نے
کیسے کہہ ڈالا فلاں شخص تماشائی ہے

ایسے ہی حضرات کو متنبہ کرتے ہوئے امیر القلم ماہر رضویات علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی دام ظلہ العالی مؤسس امام احمد رضا یونیورسٹی فرماتے ہیں:
* شستہ، پختہ سلیس، رواں اردو زبان … دہلی، لکھنو والوں کا حق ہے۔ یہ حق وہ اپنے حق میں محفوظ رکھیں ۔ *

دوسروں۔۔۔۔۔۔۔۔ دیہاتیوں کو نہ گھسیٹیں دوسرے بھی منھ میں زبان رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ پلٹ کر کہہ دیں ۔۔۔۔۔ چونکہ دیہاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس لیے ان کا لب ولہجہ بھی وہی ہوگا … کیا عرب میں صرف اسپ چابک ہی پیدا ہوتے ہیں ….. دراز گوش نہیں ؟ اگر نہیں ، تو یہ دو پہر کی تیز دھوپ میں سفید جھوٹ ہوگا پھر اگر اس وائٹم وائٹ جھوٹ پر اصرار بڑھا پھر تو اس زبان کا قطعاً کوئی اعتبار نہیں …سب جانتے ہیں … ماہ عرب، شاہِ کنعان، ولد عدنان نے دراز گوش کی سواری فرمائی ہے، پھر یہ تو مشاہدہ ہی ہے۔ اردو کے اپنے گھر سے ہنہناتے گھوڑے ہی نہیں نکلتے ڈھیچوں ڈھیچوں کرتے گدھے بھی خوب برآمد ہوتے ہیں ….. جو دندناتے یہاں وہاں جہاں تہاں پھرتے ہیں … دہلی لکھنو والے … اگر اردو کی ٹانگ توڑے ….. مانگ بگاڑے سندور اُڑائے تو قیامت سے پہلے قیامت والی بات ہے۔ جو بے وقت بر پا کرنے والا بدترین سزا کا مستحق ہے۔
[بولتی تصویریں ص 68]

* ایک جگہ فرماتے ہیں:*
در اصل اردو والوں کی نظر تانیث، تذکیر، تلفظ پر اٹکی رہتی ہے. دیہاتی ، غیر اردو والے کی نگاہ ہمیشہ معنی پر ٹکی ہوتی ہے۔ وہ صدف کو نہیں دیکھتے۔ موتی پر نظر کرتے ہیں۔ لفافہ کوڑے دان کی نذر ہوتا ہے … ملفوف کی قدر و حفاظت ہوتی ہے۔ جب تک اردو والے تانیث، تذکیر ، تلفظ کی تلاش یا مشق کرتے ہیں …تیز اردو والے اتنی دیر میں اپنی بات فٹافٹ کہہ چکا ہوتا ہے۔ بھلے وہ گھوڑا، کو گھورا لڑکا کو لرکا ، چائے ٹھنڈا ہے کیوں نہ بولیں … سامنے والے کو اس کا مفہوم کچھ جاننا چاہیے اگر وہ “سرک پر گھورا دورا” اور چائے ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ جملے نہ سمجھ سکیں تو یہ کتنے بھوندو گوندو ہیں تو اردو دانوں کو ہر آسان جملے سمجھانے میں بھیجہ فرائی … یاد ماغ خوری کون کرے۔ پنڈولم کی طرح بلاوجہ پریکٹس کون کرتے رہے۔ جو چاہے . کرے ہمارے اور بھی کام ہیں اس کے سوا … الفاظ کے چکر میں پڑتے نہیں دانا
[بولتی تصویریں ص 71]

اس لیے آپ تذکیر و تانیث کے غرور میں مغرور نہ ہو جائیں کیونکہ یہ بے شعور لوگوں کا کام ہے اہل شعور کا انداز الگ ہوتا ہے

میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی تذکیر و تانیث میں غلطی کرے تو آپ اصلاح نہ کریں اصلاح کریں ضرور کریں لیکن محرر و متکلم کا مذاق نہ اڑائیں کیونکہ آپ مصلح ہیں۔۔۔۔۔۔ مزاح نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ رہبر ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جوکر نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ انسان ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ حیوان نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے والا آپ کا بھائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی پرائی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے ان چیزوں کا لحاظ کریں اور بحسن و خوبی اصلاح کی کوشش کریں اور جہان غلطیوں پر تنقید کریں وہیں اچھائیوں پر سراہنے کی بھی کوشش کریں تاکہ آپ کے مسلم بھائی کی ہمت برقرار رہے اور وہ آگے بڑھنے کے لیے مزید محنت کرے

@خود کو بھی اتنا سنوارو سے جسم قادری
داد و تحسیں سے نوازے خود جناب زندگی

Scan this QR code to read online:

QR Code