صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ
رضویات

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ
اللہ جل و علا نے دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے انبیا علیھم السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ تمام انسان ایک خدا کی پرستش کرے سب سے آخر میں خاتم النبیین حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انسان کو کفر و شرک کی تاریک گھاٹیوں سے نکال کر اسلام کی کھلی فضاؤں میں زندگی بسر کرنے کی ہدایت مرحمت فرمائی،
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات کے بعد تبلیغ اسلام کی نشر و اشاعت کا بیڑا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اٹھایا بعدھم اس عظیم منصب کو علماء کرام نے سنبھالا،
انھیں علماء کرام کی جماعت میں ایک ذات ستودہ صفات کو دنیا منفرد الکمال فقید الجمال عدیم المثال کنز الکرامت جبل الاستقامت عظیم المرتبت نیر برج فقاہت قاطع کفر و ضلالت دافع شرک و بدعت مجدد دین و ملت عاشق شاہ رسالت محب جان نبوت آیت من آیات اللہ معجزۃ من معجزات رسول اللہ اعلی حضرت سیدنا سندنا مولانا المفتی الحافظ القاری الشاہ الامام احمد رضا خان القادری البریلوی علیہ رحمۃ المنان کے نام سے یاد کرتی ہے
جن کی حیات کا ہر ورق نہایت صاف و شفاف ہے جنھوں نے مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع جلائی اور عظمت رسالت سے الجھنے والوں کا شدت سے تعاقب کیا،
وہ زندگی کے ہر شعبے میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حامی و ناصر رہے، سائنسدانوں کے باطل نظریات کی تردید میں کتابیں تصنیف فرما کر سائنسدانوں کو انگشت بدندان کر دیا، جن کی کتاب حیات کے ہر ورق سے عشق رسالت بزرگوں کی عقیدت فصاحت و بلاغت اخوت و محبت کی خوشبو پھوٹتی ہے جس سے ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں جانیں معطر ہو رہیں ہیں
یہی وجہ ہے کہ ان کے عہد میں شرق و غرب شمال و جنوب میں کوئی ان کا ہم پلہ ہمسر نہیں تھا ، پورے عالم اسلام میں ان کی حیثیت فیصل کی تھی ، دنیا کے ہر خطے کے علما، مشائخ ، حکما ، فلاسفہ، مدبرین ، محققین، محدثین، مفکرین، بلکہ بڑے بڑے سائندان بھی ان سے رجوع کرتے تھے اور اپنی نگاہیں ان کی طرف مرکوز رکھتے تھے جو گھتی کہیں نہیں سلجھتی اسے آپ دلائل و براہین سے مزین و آراستہ کر کے بآسانی سلجھا دیا کرتے تھے
اسی لیے تو دنیا آج بھی تسلیم کرتی ہے اور ان شاءاللہ تا قیام قیامت کرتی ل رہے گی
ملک سخن کے شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی علمی جلالت کو دیکھ کر علماء عرب و عجم نے اپنا مرجع و مرکز مانا ،
جس پر کثیر شواہد و دلائل موجود ہیں آئیے ہم سب سے پہلے مرکز کا معنی لغۃ اور اصطلاحا آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں پھر دلائل و شواہد کے ذریعے اس کو ثابت کیا جائے گا کہ حضور اعلی حضرت کی ذات سنیت کا مرکز و معیار ہے،

مرکز کا معنی______*

مرکز کا لغوی معنی :
رکَز، یرکز (شیئا فی شیء) باب نصر ینصر سے ہے،
معنی ہے : جمانا، گاڑنا، مرکوز کرنا، زمین میں گاڑنا، پیدا کرنا جیسے
رکز السھم فی الارض ۔
رکز اللہ المعادن فی الارض او الجبال
ترجمہ: اللہ نے زمین میں دھاتوں کو پیدا کیا ،
ھذا شیء مرکوز فی العقول : یہ چیز عقلوں میں راسخ ہے
[القاموس الوحید ص ٦٦٣]
اللہ جل و علا کا فرمان عالیشان ہے:
و لئن زالتا ان امسكهما من احد من بعده
(سورۂ فاطر آیت ٤١)
ترجمہ: اور اگر وہ (زمین و آسمان سرکیں) تو اللہ کے سوا کوئی نہ روکے،
علامہ نظام الدین حسن نیشاپوری نے رغائب الفرقان میں اس آیۂ کریمہ کی یہ تفسیر فرمائی:
(ان تزولا) کراھۃ زولاھما عن مقر ھما و مرکزھما:
یعنی اللہ تعالیٰ زمین وآسمان آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں اپنے مقر سے ہٹ نہ جائے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا عطف تفسیری مرکزھما زائد کیا مرکز جائے رکز، جمانا، گاڑنا یعنی زمین و آسمان جہاں جمے ہوئے گڑے ہوئے ہیں وہاں سے نہ سرکیں،
[فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ رساله ٣ نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان ص ٦ ]
مرکز کا اصطلاحی معنی:
اصطلاح میں جس شی کا جو مرکز ہوگا اسی کے مطابق اس کی تعریف ہوگی لیکن یہاں دور حاضر میں علما کا مرکز مراد ہے ،
اصطلاحی معنی_
عقائد ونظریات میں علماء اہل سنت کی نظریں جس ذات ستودہ صفات پر مرکوز ہو جائیں قلوب و اذہان جم جائیں کہ ان کے قرآن و احادیث و آثار فقہا سے مزین و آراستہ اقوال کو فیصل سمجھیں وہی مرکز ہے،
اب اس اصطلاحی معنی کے تناظر میں ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ کونسی ذات ہے جس کی طرف علماء اہل سنت و عوام اہل سنت کی نگاہیں مرکوز ہیں ،

علماء عرب کا فیصلہ _____

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب الدولۃ المکیہ فی مادۃ الغیبیہ میں دلائل و براہین کا بحر بیکراں دیکھ کر شیخ مختار عطارد الجاوی (مسجد حرام، مکہ معظمہ) نے امام احمد رضا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:
فکأنہ من معجزات نبینا صلی اللہ علیہ وسلم اظھرہ اللہ تعالیٰ علی ید ھذا الامام الاوحد [الدولۃ المکیہ فی مادۃ الغیبیہ مطبوعہ کراچی ص ٧٢]
ترجمہ: گویا وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ نے اس یکتائے زماں امام کے ہاتھوں ظاہر فرمایا ،
مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھیں اور بحر حیرت و استعجاب میں ڈوب جائیں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے ارقام فرمائے ہوئے دلائل و براہین پر شیخ عرب کی نگاہیں اس طرح مرکوز ہوئیں کہ انھیں حضور کے معجزات میں سے ایک معجزہ کہا اور اس معجزے کا ظہور امام اہل سنت علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوا جس کے سبب مسلمانان عرب و عجم کے ایمان و عقائد کی حفاظت ہوئی،
حضرت سید محمد مغربی رحمۃ اللہ علیہ جو نہایت ہی با صلاحیت ذی شعور عالم دین ہیں، باب السلام کے آس پاس بیٹھ کر درس حدیث دیا کرتے تھے، وہ اعلی حضرت فاضل بریلوی ہی کی ذات مقدسہ کو سنیت کا مرکز و معیار اور حق و صداقت کی کسوٹی قرار دیتے تھے ،
فرماتے ہیں :
اذا جاء رجل من الھند نسئلہ عن الشیخ احمد رضا خان فان مدحہ علمنا انہ من اھل السنۃ و ان ذمہ علمنا انہ من اھل البدع ھذا لمعیار عندنا
ترجمہ: جب کوئی شخص ہندوستان سے آتا ہے تو ہم ان سے شیخ احمد رضا کے بارے میں سوال کرتے ہیں اگر وہ ان کی تعریف کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہ اہل سنت سے ہے اور اگر ان کی برائی کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہ اہل بدعت سے ہے یہ ہی میرے نزدیک (حق و باطل کو پرکھنے کا ) معیار ہے
[مسلک اعلی حضرت منظر پس منظر ص ١٨٣]
ان الفاظ کو پڑھیے اور بار بار پڑھیے کہ حضرت سید محمد مغربی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ میرے نزدیک امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی کی ذات معیار و مرکز حق و صداقت ہے جو ان کی تعریف کرے گا وہی اہل سنت سے ہوگا اور جو ان کی مذمت کرے گا وہ اہل سنت سے خارج ہوگا،
مذکورہ بالا دونوں اقتباس سے واضح ہوتا ہے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کو یہ مقام و معیار دربار رسالت سے عطا ہوا ہے آپ کی ذات میان حق و باطل خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے،
سنیت کی پہچان اسی ذات سے ہوتی ہے،
یہ دو اقتباس محض تمثیل کے لیے قارئین کرام کے نذر ہے ورنہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے متعلق علماء عرب کے تاثرات پر مستقل کتابیں تصنیف کی گئی ہیں جو سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہیں،

علماء عجم کا فیصلہ __

حضور سید شاہ علی حسین اشرفی میاں (کچھوچھہ شریف) فرماتے ہیں:
میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے جو اعلی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ تعالیٰ علیہ کا ہے ، میرے مسلک پر چلنے کے لیے اعلی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے،
شیر بیشۂ اہل سنت علامہ حشمت علی خان (پیلی بھیت شریف) فرماتے ہیں:
دین و اسلام کا سچا خلاصہ مسلک اعلی حضرت ہے ، یہی وہ مجمع البحار ہے جس پر آج حنفیت و شافعیت ، مالکیت و حنبلیت، قادریت و چشتیت ، سہروردیت و نقشبندیت ، مجدد و برکاتیت وغیرھم سب سمندروں کا سنگم ہے ۔
مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
"میں مسلک اہل سنت پر زندہ رہا اور مسلک اہل سنت وہی ہے جو مسلک اعلی حضرت ہے،
اعلی حضرت کی کتابوں میں مرقوم ہے، الحمد للہ اسی پر میری عمر گزری اور الحمد للہ آخری وقت اسی مسلک پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر میرا خاتمہ بالخیر ہو رہا ہے ،
امام الملت و الدین امام العلما علامہ امام الدین کوٹلوی پاکستانی فرماتے ہیں:
بشر مجھ سے مصافحہ کر لو اب میں جانے والا ہوں اور میری تمہارے لیے دعا ہے ، دیکھ تمہارے والد فقیہ اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور تمہارے تایا مولانا عبد اللہ قادری رضوی اور میں اعلی حضرت بریلی شریف والے کے مسلک کی تبلیغ کرتے رہے تم بھی اسی مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہنا ، اللہ تمہاری مدد فرمائے گا ۔
حضور وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
میں تمام مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بریلی شریف کے تاجدار اعلی حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت علامہ فقیہ مفتی محمد احمد رضا خان بریلوی کا جو مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے ۔ مسلمانوں اس مسلک کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اسی پر قائم رہنا ۔
حضرت شاہ جی میاں محمد شیر خان نقشبندی فرماتے ہیں:
جو ان کا مسلک وہی میرا مسلک جو ان کا نہیں وہ میرا نہیں ۔
محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ محمد سردار احمد فرماتے ہیں:
امام اہل سنت مجدد دین و ملت اعلی حضرت عظیم البرکت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب قدس سرہ العزیز کے مسلک پر مضبوطی سے قائم رہیں، ان کا مذہب مسلک اہل سنت و جماعت ہے،
[سنی آواز ناگپور ستمبر، اکتوبر ١٩٩٥ء]
مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ سید احمد قادری فرماتے ہیں:
تعجب ہے اعلی حضرت امام اہل سنت فاضل بریلوی کا فتوٰی ہوتے ہوئے فقیر سے استفسار کیا جا رہا ہے ۔ فقیر کا اور فقیر کے آبا و اجداد کا وہی مسلک ہے جو اعلی حضرت قدس سرہ کا ہے
[ماہنامہ سنی آواز ناگپور ستمبر ، اکتوبر ١٩٩٥ء]
تاج الشریعہ تاج الاسلام علامہ اختر رضا خان ازہری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلی حضرت در حقیقت مسلک حنفی ہے اور حقانیت کی پہچان ہے،۔
رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
سارے فرقہائے باطلہ کے مقابلے میں اپنی دینی جماعتی شناخت کے لیے ہمارے پاس بریلوی یا مسلک اعلی حضرت کے لفظ سے زیادہ جامع کوئی دوسرا لفظ نہیں۔
فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں :
کہ اس زمانہ میں مسلک اعلی حضرت ہی کہنا ضروری ہوگا اور اس سے روکنے والا بدمذیب ہوگا یا حاسد،
[فتاوی فقیہ ملت ج ٢ص ٤٣٠]
[ماخوذ مذکورہ فرامین علماء کرام از تقدیم مسلک اعلی حضرت منظر پس منظر]
مذکورہ بالا فرامین علماء کرام کے مطالعہ سے قارئین پر خوب ظاہر و باہر ہو گیا ہوگا کہ حضور اعلی حضرت کی تعلیمات پر علما کی نگاہیں کس درجہ مرکوز تھیں،
حق و باطل میں فرق اور سنیت کی پہچان کے لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات کی طرف انتساب کافی مانا جاتا رہا ہے اور ہنوز مانا جاتا ہے اور ان شاءاللہ تعالیٰ مانا جاتا رہے گا
قارئین کرام مرکز کا مطلب اوپر پڑھ کر آئے ہیں کہ مرکز اسے کہتے ہیں جس کی طرف ہر چہار جہت کے علماء کرام رجوع کرتے ہیں ،
مذکورہ بالا فرمامین سے یہ آشکار ہوا کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات مرکز العلما تھی مزید شواہد کے لیے فتاوی رضویہ شریف کے فتاوی کے صرف شروع حصے کا مطالعہ فرمائیں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ عوام تو عوام خواص، علماء کرام بھی آپ کو اپنا مرکز و مرجع تسلیم کرتے ہیں،

بریلی شریف مرکز کیوں؟___

مرجع العلما و الفضلاء مجدد دین و ملت عظیم البرکت پروانۂ شمع رسالت سیدنا سندنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمہ ذات ستودہ صفات کی وجہ سے بریلی شریف کو سنیوں کا مرکز کہا جاتا ہے ،
ایسا نہیں ہے کہ نفس بریلی شریف میں از خود ایسی صلاحیت و جاذبیت ہے جس کی وجہ اسے مرکز کہا جاتا ہے بلکہ یہ تمام خوبی بریلی شریف کو حضور اعلی حضرت کی وجہ سے عطا ہوئی ہے،
جیسے کوفہ اور بصرہ نحویوں کا مرکز ہے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ نفس کوفہ اور بصرہ از خود مرکز نحویان ہے بلکہ اسے مرکز اس لیے کہا جاتا ہے کہ امام فرا امام سیبویہ امام خلیل یعنی بڑے بڑے نحویوں نے یہاں سے علم نحو کی نشر و اشاعت کی اور تشنگان نحو کی پیاس بجھائی اسی لیے اللہ جل و علا نے ان اماموں کی برکت سے ان جگہوں کو قبولیت و مرکزیت کے شرف سے مشرف فرمایا،
اگر اعلی حضرت علیہ الرحمہ بریلی میں تشریف نہ لاتے اسے آماجگاہ علم و فن نہ بناتے تو کون ہے جو اسے اپنا مرکز تصور کرتا ؟
کہا جاتا ہے فلاں جگہ سے علم کی کرنیں پھوٹتی ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نفس جگہ سے علم کی کرنیں پھوٹتی ہے نہیں بلکہ وہاں کے علمی شخصیات کی پیشانیوں سے علم و عمل کی کرنیں پھوٹتی ہیں ،

بریلی شریف ہی مرکز کیوں؟ ___

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے زمانے میں بہت سارے فتنے تھے اور سب اہل سنت و جماعت میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، جیسے دیوبندی ، وہابی ، نیچری، قادیانی، غیر مقلد، شیعی، رافضی، ناصبی وغیرھم
تو ایسے نازک وقت میں یہ کیسے پتہ چلتا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل ہے؟
حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے تمام فرقہائے باطلہ کا رد بلیغ فرمایا اور ان کے دھرے نظریے سے نقاب اٹھا کر بے نقاب کر دیا ایسے دلائل و براہین کے ذریعے تردید فرمائی کہ آج بھی ایوان باطلہ میں زلزلہ برپا ہے جواب دینے سے عاجز و قاصر ہیں بلکہ بہتوں نے حضور اعلی حضرت کی چوکھٹ پر سر رکھ دیے اور بولے
# میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو
کہ رستے میں ہے جا بجا تھانے والے
جب آپ ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں گے جن میں فرقہائے باطلہ کی تردید کی گئی ہے تو آپ پر حق کا انکشاف ایسے ہی ہوگا جیسے دن میں سورج کی روشنی کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے،
چند کتابوں کے نام ملاحظہ فرمائیں:
حسام الحرمین ،فتاوی الحرمین الدولۃ المکيہ، الکوکبۃالشہابيۃ، سبحان السبوح، النہی الاکيد ،ازالۃ الاثار،اطائب الصیب، رسالہ في علم العقائد والکلام ،تمہيدايمان، الامن والعلا ،تجلی اليقين ،الصمصام ،رد الرفضہ ،جزاء الله يعجبه ،خالص الاعتقاء، انباء المصطفى، الزبده الزكيه،شمائم العنبر، دوام العيش، انفس الفكر،الفضل الموہبی ۔ مذکورہ بالا سطور کی تائید کے لیے ان ساری کتابوں کا مطالعہ کرنا کافی ہے۔
اسی لیے جو فرقہائے باطلہ ہیں حضور اعلی حضرت کے نام پاک سے چڑھنے لگے اس نام سے ان کی طبیعت میں کوفت ہونے لگی چہرے کا رنگ زرد پڑنے لگا جس سے یہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ فلاں شخص بد مذہب ہے اسی لیے ذات اعلی حضرت کو میان حق و باطل خط امتیاز کی حیثیت حاصل ہوئی جیسا کہ ماقبل میں صراحتا ذکر ہوا اور اسی ذات کی بنا پر بریلی شریف سنیوں کا مرکز بن گیا سنیت کی پہچان یہیں سے ہونے لگی ،
اب رہی بات کہ بریلی شریف ہی مرکز کیوں اگر کوئی دوسری جگہ مرکز بنانا چاہے تو کیا بن نہیں سکتا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی دوسری جگہ بھی سنیوں کا مرکز بن سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ممکن ہے۔۔۔۔۔۔لیکن جس ذات کی وجہ سے مرکز قرار دیں گے تو وہ ذات کس معیار کی ہے یہ تو دیکھا جائے گا اگر واقعی وہ مرکز بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ضرور اس کو مرکز مانا جائے گا
لیکن پہلے یہ تو ثابت ہو کہ علما عوام سب ان کی طرف رجوع کرتے ہوں اور ان کو اپنا مرکز تصور کرتے ہوں اس سے حق و باطل کے درمیان امتیاز ہوتا ہو
اگر اس کسوٹی پر کوئی کھڑا اترے تو ضرور اسے مرکز تصور کیا جائے جیسے ایک زمانے میں دہلی سنیوں کا مرکز رہا ہے ایسے ہی ایک زمانے میں ماہریرہ مطہرہ مرکز رہا ہے پھر بریلی شریف مرکز بنا
تو ہو سکتا ہے کہ مسلک اعلی حضرت میں بھی امتداد زمانہ کی وجہ سے کچھ شر پسند پیدا ہو جائیں اور وہ بھی اپنے کو مسلک اعلی حضرت والے کہتے ہوں پھر اللہ جل و علا کا فضل ہو کہ وہ ایسا بندہ پیدا فرمائے جو مسلک اعلی حضرت میں گھسے ہوئے شر پسندوں کو نکال کر باہر پھینک دے، اور پھر مسلک اعلی حضرت والا کون ہے؟ اس کی شناخت اس ذات سے ہونے لگے، جس نے ان شر پسندوں کو نکال پھینکا، جیسے مسلک اہل سنت کی شناخت مسلک اعلی حضرت سے ہوتی ہے،
لیکن جو یہ دعویٰ کرے تو آنکھ بند کر کے ان کی بات مان تو نہیں لی جائے گی اس کو ضرور ہر زاویے سے پرکھا جائے گا ،
فی زماننا اگر دیکھیں تو ایسا تو کچھ نہیں ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات خط امتیاز نہ ہوں بلکہ آج بھی حق و باطل کے درمیان اعلی حضرت کی ذات خط فاصل ہے سنیوں کی نگاہیں آپ پر مرکوز ہیں یہ اللہ کی عنایت ہے اللہ جسے چاہے عطا فرمائے کوئی لاکھ چاہے مرکز بنانا لیکن بنا نہ پائے کیونکہ لوگ ہی اسے مرکز نہ مانے تو پھر کاہے کا مرکز رہ جائے

بریلی شریف کی مرکزیت پر اکابر کا متفقہ فیصلہ __

یہاں پر ان علماء کرام کے اسماء گرامی ذکر کیے جاتے ہیں جنھوں نے بریلی شریف تا دم اخیر سنیوں کا مرکز مانا،
١) حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز
٢) حضور مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد مصطفی رضا خان قادری قدس سرہ العزیز
٣) حضرت علامہ مفتی سید احمد اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھہ شریف قدس سرہ العزیز
٤) صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
٥) ملک العلما علامہ مفتی سید محمد ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ
٦) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ
٧) برہان ملت علامہ مفتی محمد برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ
٨) حضرت علامہ مفتی مظہر اللہ نقشبندی دہلوی علیہ الرحمہ
٩) حضور مجاہد ملت علامہ مفتی حبیب الرحمن عباسی اڑیسوی علیہ الرحمہ
١٠) امین شریعت مفتی اعظم کانپور حضرت علامہ مفتی رفاقت حسین مظفر پوری قدس سرہ العزیز
١١) حضور حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مرادآبادی قدس سرہ العزیز
١٢) حضرت علامہ مفتی محمد سلیمان بھاگلپوری علیہ الرحمہ
١٣) حضرت علامہ مقبول احمد خان بہاری علیہ الرحمہ
١٤) حضور سید العلماء حضرت علامہ سید آل مصطفی برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ
١٥) حضور احسن العلما حضرت علامہ مفتی سید حیدر حسین مارہروی علیہ الرحمہ
١٦) شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ
١٧) شمس العلما حضرت علامہ مفتی نظام الدین الہ آبادی
١٨) بحر العلوم علامہ مفتی عبد المنان اعظمی قدس سرہ العزیز
١٩) پاسبان ملت حضرت علامہ مفتی محمد مشتاق احمد نظامی الہ آبادی قدس سرہ العزیز
٢٠) حضرت علامہ مفتی خادم حسین گیاوی علیہ الرحمہ
٢١) مرشدنا سیدنا سندنا تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ
اور بھی بہت سارے مقتدر اسما میرے پیش نظر ہیں لیکن طوالت کے خوف سے چھوڑ رہا ہوں بس یوں سمجھیے تمام اکابر علما کرام بریلی شریف کی مرکزیت پر متفق ہیں اگر بعض نہیں ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ مثل مشہور ہے للاکثر حکم الکل
بزرگوں نے فرمایا ہے
کہ مسلک اعلی سے نہیں ہٹتا مگر وہی جس کے دل میں کجی ہوتی ہے
اللہ جل و علا ہمیں اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے
تیرے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

خلاصۂ کلام ___

تمام گفتگو کا زبدہ یہ ہے کہ مرجع العلما حضور اعلی حضرت کی ذات ستودہ صفات کی وجہ سے بریلی شریف کو تمام علماء اکابر مرکز تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اس میں اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ آئینے کی طرح جھلکتی ہے حق و باطل کو جانچنے کے لیے اس سے بہتر کوئی کسوٹی نہیں کہ وہ بریلی شریف کو مرکز مانتا ہے یا نہیں اگر مانتا ہے تو حق پر ہے اور اگر نہیں مانتا ہے تو بقول سید مغربی علیہ الرحمہ وہ بدعتی ہے،
اسی لیے حضور تاج الشریعہ نے فرمایا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے
اللہ جل و علا ہمیں تا دم مرگ مسلک اعلی حضرت پر قائم رکھے اور بریلی شریف کی مرکزیت سلامت رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
85
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

فرقۂ ضالہ “مولائی” کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں

گلابی وہابی مولانا عبد القیوم مجیںی (بڑے مولانا صاحب) کی حقیقت

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ

قلمکار: Mufti Jasim Akram Markazi

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ

اللہ جل و علا نے دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے انبیا علیھم السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ تمام انسان ایک خدا کی پرستش کرے سب سے آخر میں خاتم النبیین حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انسان کو کفر و شرک کی تاریک گھاٹیوں سے نکال کر اسلام کی کھلی فضاؤں میں زندگی بسر کرنے کی ہدایت مرحمت فرمائی،

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات کے بعد تبلیغ اسلام کی نشر و اشاعت کا بیڑا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اٹھایا بعدھم اس عظیم منصب کو علماء کرام نے سنبھالا،

انھیں علماء کرام کی جماعت میں ایک ذات ستودہ صفات کو دنیا منفرد الکمال فقید الجمال عدیم المثال کنز الکرامت جبل الاستقامت عظیم المرتبت نیر برج فقاہت قاطع کفر و ضلالت دافع شرک و بدعت مجدد دین و ملت عاشق شاہ رسالت محب جان نبوت آیت من آیات اللہ معجزۃ من معجزات رسول اللہ اعلی حضرت سیدنا سندنا مولانا المفتی الحافظ القاری الشاہ الامام احمد رضا خان القادری البریلوی علیہ رحمۃ المنان کے نام سے یاد کرتی ہے

جن کی حیات کا ہر ورق نہایت صاف و شفاف ہے جنھوں نے مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع جلائی اور عظمت رسالت سے الجھنے والوں کا شدت سے تعاقب کیا،

وہ زندگی کے ہر شعبے میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حامی و ناصر رہے، سائنسدانوں کے باطل نظریات کی تردید میں کتابیں تصنیف فرما کر سائنسدانوں کو انگشت بدندان کر دیا، جن کی کتاب حیات کے ہر ورق سے عشق رسالت بزرگوں کی عقیدت فصاحت و بلاغت اخوت و محبت کی خوشبو پھوٹتی ہے جس سے ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں جانیں معطر ہو رہیں ہیں

یہی وجہ ہے کہ ان کے عہد میں شرق و غرب شمال و جنوب میں کوئی ان کا ہم پلہ ہمسر نہیں تھا ، پورے عالم اسلام میں ان کی حیثیت فیصل کی تھی ، دنیا کے ہر خطے کے علما، مشائخ ، حکما ، فلاسفہ، مدبرین ، محققین، محدثین، مفکرین، بلکہ بڑے بڑے سائندان بھی ان سے رجوع کرتے تھے اور اپنی نگاہیں ان کی طرف مرکوز رکھتے تھے جو گھتی کہیں نہیں سلجھتی اسے آپ دلائل و براہین سے مزین و آراستہ کر کے بآسانی سلجھا دیا کرتے تھے
اسی لیے تو دنیا آج بھی تسلیم کرتی ہے اور ان شاءاللہ تا قیام قیامت کرتی ل رہے گی

@ملک سخن کے شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی علمی جلالت کو دیکھ کر علماء عرب و عجم نے اپنا مرجع و مرکز مانا ،
جس پر کثیر شواہد و دلائل موجود ہیں آئیے ہم سب سے پہلے مرکز کا معنی لغۃ اور اصطلاحا آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں پھر دلائل و شواہد کے ذریعے اس کو ثابت کیا جائے گا کہ حضور اعلی حضرت کی ذات سنیت کا مرکز و معیار ہے،

#مرکز کا معنی______*

*مرکز کا لغوی معنی :*
رکَز، یرکز (شیئا فی شیء) باب نصر ینصر سے ہے،
معنی ہے : جمانا، گاڑنا، مرکوز کرنا، زمین میں گاڑنا، پیدا کرنا جیسے
“رکز السھم فی الارض ۔
رکز اللہ المعادن فی الارض او الجبال
ترجمہ: اللہ نے زمین میں دھاتوں کو پیدا کیا ،
ھذا شیء مرکوز فی العقول : یہ چیز عقلوں میں راسخ ہے
[القاموس الوحید ص ٦٦٣]”

اللہ جل و علا کا فرمان عالیشان ہے:
” و لئن زالتا ان امسكهما من احد من بعده ”
(سورۂ فاطر آیت ٤١)
ترجمہ: اور اگر وہ (زمین و آسمان سرکیں) تو اللہ کے سوا کوئی نہ روکے،
علامہ نظام الدین حسن نیشاپوری نے رغائب الفرقان میں اس آیۂ کریمہ کی یہ تفسیر فرمائی:
” (ان تزولا) کراھۃ زولاھما عن مقر ھما و مرکزھما:”

یعنی اللہ تعالیٰ زمین وآسمان آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں اپنے مقر سے ہٹ نہ جائے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا عطف تفسیری “مرکزھما” زائد کیا مرکز جائے رکز، جمانا، گاڑنا یعنی زمین و آسمان جہاں جمے ہوئے گڑے ہوئے ہیں وہاں سے نہ سرکیں،
[فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ رساله ٣ نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان ص ٦ ]

*مرکز کا اصطلاحی معنی:*
اصطلاح میں جس شی کا جو مرکز ہوگا اسی کے مطابق اس کی تعریف ہوگی لیکن یہاں دور حاضر میں علما کا مرکز مراد ہے ،
اصطلاحی معنی_
عقائد ونظریات میں علماء اہل سنت کی نظریں جس ذات ستودہ صفات پر مرکوز ہو جائیں قلوب و اذہان جم جائیں کہ ان کے قرآن و احادیث و آثار فقہا سے مزین و آراستہ اقوال کو فیصل سمجھیں وہی مرکز ہے،

اب اس اصطلاحی معنی کے تناظر میں ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ کونسی ذات ہے جس کی طرف علماء اہل سنت و عوام اہل سنت کی نگاہیں مرکوز ہیں ،

#علماء عرب کا فیصلہ _____

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب الدولۃ المکیہ فی مادۃ الغیبیہ میں دلائل و براہین کا بحر بیکراں دیکھ کر *شیخ مختار عطارد الجاوی (مسجد حرام، مکہ معظمہ)* نے امام احمد رضا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:

“فکأنہ من معجزات نبینا صلی اللہ علیہ وسلم اظھرہ اللہ تعالیٰ علی ید ھذا الامام الاوحد [الدولۃ المکیہ فی مادۃ الغیبیہ مطبوعہ کراچی ص ٧٢] ”

ترجمہ: گویا وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ نے اس یکتائے زماں امام کے ہاتھوں ظاہر فرمایا ،

مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھیں اور بحر حیرت و استعجاب میں ڈوب جائیں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے ارقام فرمائے ہوئے دلائل و براہین پر شیخ عرب کی نگاہیں اس طرح مرکوز ہوئیں کہ انھیں حضور کے معجزات میں سے ایک معجزہ کہا اور اس معجزے کا ظہور امام اہل سنت علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوا جس کے سبب مسلمانان عرب و عجم کے ایمان و عقائد کی حفاظت ہوئی،

حضرت سید محمد مغربی رحمۃ اللہ علیہ جو نہایت ہی با صلاحیت ذی شعور عالم دین ہیں، باب السلام کے آس پاس بیٹھ کر درس حدیث دیا کرتے تھے، وہ اعلی حضرت فاضل بریلوی ہی کی ذات مقدسہ کو سنیت کا مرکز و معیار اور حق و صداقت کی کسوٹی قرار دیتے تھے ،

فرماتے ہیں :
“اذا جاء رجل من الھند نسئلہ عن الشیخ احمد رضا خان فان مدحہ علمنا انہ من اھل السنۃ و ان ذمہ علمنا انہ من اھل البدع ھذا لمعیار عندنا ”

ترجمہ: جب کوئی شخص ہندوستان سے آتا ہے تو ہم ان سے شیخ احمد رضا کے بارے میں سوال کرتے ہیں اگر وہ ان کی تعریف کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہ اہل سنت سے ہے اور اگر ان کی برائی کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہ اہل بدعت سے ہے یہ ہی میرے نزدیک (حق و باطل کو پرکھنے کا ) معیار ہے
[مسلک اعلی حضرت منظر پس منظر ص ١٨٣]

ان الفاظ کو پڑھیے اور بار بار پڑھیے کہ حضرت سید محمد مغربی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ میرے نزدیک امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی کی ذات معیار و مرکز حق و صداقت ہے جو ان کی تعریف کرے گا وہی اہل سنت سے ہوگا اور جو ان کی مذمت کرے گا وہ اہل سنت سے خارج ہوگا،

مذکورہ بالا دونوں اقتباس سے واضح ہوتا ہے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کو یہ مقام و معیار دربار رسالت سے عطا ہوا ہے آپ کی ذات میان حق و باطل خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے،
سنیت کی پہچان اسی ذات سے ہوتی ہے،

یہ دو اقتباس محض تمثیل کے لیے قارئین کرام کے نذر ہے ورنہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے متعلق علماء عرب کے تاثرات پر مستقل کتابیں تصنیف کی گئی ہیں جو سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہیں،

#علماء عجم کا فیصلہ __

حضور سید شاہ علی حسین اشرفی میاں (کچھوچھہ شریف) فرماتے ہیں:

میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے جو اعلی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ تعالیٰ علیہ کا ہے ، میرے مسلک پر چلنے کے لیے اعلی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے،

*شیر بیشۂ اہل سنت علامہ حشمت علی خان (پیلی بھیت شریف) فرماتے ہیں:*

دین و اسلام کا سچا خلاصہ “مسلک اعلی حضرت ” ہے ، یہی وہ مجمع البحار ہے جس پر آج حنفیت و شافعیت ، مالکیت و حنبلیت، قادریت و چشتیت ، سہروردیت و نقشبندیت ، مجدد و برکاتیت وغیرھم سب سمندروں کا سنگم ہے ۔

مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

“میں مسلک اہل سنت پر زندہ رہا اور مسلک اہل سنت وہی ہے جو مسلک اعلی حضرت ہے،
اعلی حضرت کی کتابوں میں مرقوم ہے، الحمد للہ اسی پر میری عمر گزری اور الحمد للہ آخری وقت اسی مسلک پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر میرا خاتمہ بالخیر ہو رہا ہے ،

امام الملت و الدین امام العلما علامہ امام الدین کوٹلوی پاکستانی فرماتے ہیں:

بشر مجھ سے مصافحہ کر لو اب میں جانے والا ہوں اور میری تمہارے لیے دعا ہے ، دیکھ تمہارے والد فقیہ اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور تمہارے تایا مولانا عبد اللہ قادری رضوی اور میں اعلی حضرت بریلی شریف والے کے مسلک کی تبلیغ کرتے رہے تم بھی اسی مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہنا ، اللہ تمہاری مدد فرمائے گا ۔

* حضور وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: *
میں تمام مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بریلی شریف کے تاجدار اعلی حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت علامہ فقیہ مفتی محمد احمد رضا خان بریلوی کا جو مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے ۔ مسلمانوں اس مسلک کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اسی پر قائم رہنا ۔

حضرت شاہ جی میاں محمد شیر خان نقشبندی فرماتے ہیں:
جو ان کا مسلک وہی میرا مسلک جو ان کا نہیں وہ میرا نہیں ۔

* محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ محمد سردار احمد فرماتے ہیں:*
امام اہل سنت مجدد دین و ملت اعلی حضرت عظیم البرکت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب قدس سرہ العزیز کے مسلک پر مضبوطی سے قائم رہیں، ان کا مذہب مسلک اہل سنت و جماعت ہے،
[سنی آواز ناگپور ستمبر، اکتوبر ١٩٩٥ء]

* مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ سید احمد قادری فرماتے ہیں:*
تعجب ہے اعلی حضرت امام اہل سنت فاضل بریلوی کا فتوٰی ہوتے ہوئے فقیر سے استفسار کیا جا رہا ہے ۔ فقیر کا اور فقیر کے آبا و اجداد کا وہی مسلک ہے جو اعلی حضرت قدس سرہ کا ہے
[ماہنامہ سنی آواز ناگپور ستمبر ، اکتوبر ١٩٩٥ء]

* تاج الشریعہ تاج الاسلام علامہ اختر رضا خان ازہری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:*
مسلک اعلی حضرت در حقیقت مسلک حنفی ہے اور حقانیت کی پہچان ہے،۔

*رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:*
سارے فرقہائے باطلہ کے مقابلے میں اپنی دینی جماعتی شناخت کے لیے ہمارے پاس بریلوی یا مسلک اعلی حضرت کے لفظ سے زیادہ جامع کوئی دوسرا لفظ نہیں۔

*فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں :*
کہ اس زمانہ میں مسلک اعلی حضرت ہی کہنا ضروری ہوگا اور اس سے روکنے والا بدمذیب ہوگا یا حاسد،
[فتاوی فقیہ ملت ج ٢ص ٤٣٠]

[ماخوذ مذکورہ فرامین علماء کرام از تقدیم مسلک اعلی حضرت منظر پس منظر]

مذکورہ بالا فرامین علماء کرام کے مطالعہ سے قارئین پر خوب ظاہر و باہر ہو گیا ہوگا کہ حضور اعلی حضرت کی تعلیمات پر علما کی نگاہیں کس درجہ مرکوز تھیں،
حق و باطل میں فرق اور سنیت کی پہچان کے لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات کی طرف انتساب کافی مانا جاتا رہا ہے اور ہنوز مانا جاتا ہے اور ان شاءاللہ تعالیٰ مانا جاتا رہے گا

قارئین کرام مرکز کا مطلب اوپر پڑھ کر آئے ہیں کہ مرکز اسے کہتے ہیں جس کی طرف ہر چہار جہت کے علماء کرام رجوع کرتے ہیں ،
مذکورہ بالا فرمامین سے یہ آشکار ہوا کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات مرکز العلما تھی مزید شواہد کے لیے فتاوی رضویہ شریف کے فتاوی کے صرف شروع حصے کا مطالعہ فرمائیں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ عوام تو عوام خواص، علماء کرام بھی آپ کو اپنا مرکز و مرجع تسلیم کرتے ہیں،

#بریلی شریف مرکز کیوں؟___

مرجع العلما و الفضلاء مجدد دین و ملت عظیم البرکت پروانۂ شمع رسالت سیدنا سندنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمہ ذات ستودہ صفات کی وجہ سے بریلی شریف کو سنیوں کا مرکز کہا جاتا ہے ،

ایسا نہیں ہے کہ نفس بریلی شریف میں از خود ایسی صلاحیت و جاذبیت ہے جس کی وجہ اسے مرکز کہا جاتا ہے بلکہ یہ تمام خوبی بریلی شریف کو حضور اعلی حضرت کی وجہ سے عطا ہوئی ہے،

جیسے کوفہ اور بصرہ نحویوں کا مرکز ہے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ نفس کوفہ اور بصرہ از خود مرکز نحویان ہے بلکہ اسے مرکز اس لیے کہا جاتا ہے کہ امام فرا امام سیبویہ امام خلیل یعنی بڑے بڑے نحویوں نے یہاں سے علم نحو کی نشر و اشاعت کی اور تشنگان نحو کی پیاس بجھائی اسی لیے اللہ جل و علا نے ان اماموں کی برکت سے ان جگہوں کو قبولیت و مرکزیت کے شرف سے مشرف فرمایا،

اگر اعلی حضرت علیہ الرحمہ بریلی میں تشریف نہ لاتے اسے آماجگاہ علم و فن نہ بناتے تو کون ہے جو اسے اپنا مرکز تصور کرتا ؟
کہا جاتا ہے فلاں جگہ سے علم کی کرنیں پھوٹتی ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نفس جگہ سے علم کی کرنیں پھوٹتی ہے نہیں بلکہ وہاں کے علمی شخصیات کی پیشانیوں سے علم و عمل کی کرنیں پھوٹتی ہیں ،

#بریلی شریف ہی مرکز کیوں؟ ___

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے زمانے میں بہت سارے فتنے تھے اور سب اہل سنت و جماعت میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، جیسے دیوبندی ، وہابی ، نیچری، قادیانی، غیر مقلد، شیعی، رافضی، ناصبی وغیرھم
تو ایسے نازک وقت میں یہ کیسے پتہ چلتا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل ہے؟

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے تمام فرقہائے باطلہ کا رد بلیغ فرمایا اور ان کے دھرے نظریے سے نقاب اٹھا کر بے نقاب کر دیا ایسے دلائل و براہین کے ذریعے تردید فرمائی کہ آج بھی ایوان باطلہ میں زلزلہ برپا ہے جواب دینے سے عاجز و قاصر ہیں بلکہ بہتوں نے حضور اعلی حضرت کی چوکھٹ پر سر رکھ دیے اور بولے

# میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو
کہ رستے میں ہے جا بجا تھانے والے

جب آپ ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں گے جن میں فرقہائے باطلہ کی تردید کی گئی ہے تو آپ پر حق کا انکشاف ایسے ہی ہوگا جیسے دن میں سورج کی روشنی کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے،
چند کتابوں کے نام ملاحظہ فرمائیں:

“حسام الحرمین ،فتاوی الحرمین الدولۃ المکيہ، الکوکبۃالشہابيۃ، سبحان السبوح، النہی الاکيد ،ازالۃ الاثار،اطائب الصیب، رسالہ في علم العقائد والکلام ،تمہيدايمان، الامن والعلا ،تجلی اليقين ،الصمصام ،رد الرفضہ ،جزاء الله يعجبه ،خالص الاعتقاء، انباء المصطفى، الزبده الزكيه،شمائم العنبر، دوام العيش، انفس الفكر،الفضل الموہبی ۔ مذکورہ بالا سطور کی تائید کے لیے ان ساری کتابوں کا مطالعہ کرنا کافی ہے۔”

اسی لیے جو فرقہائے باطلہ ہیں حضور اعلی حضرت کے نام پاک سے چڑھنے لگے اس نام سے ان کی طبیعت میں کوفت ہونے لگی چہرے کا رنگ زرد پڑنے لگا جس سے یہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ فلاں شخص بد مذہب ہے اسی لیے ذات اعلی حضرت کو میان حق و باطل خط امتیاز کی حیثیت حاصل ہوئی جیسا کہ ماقبل میں صراحتا ذکر ہوا اور اسی ذات کی بنا پر بریلی شریف سنیوں کا مرکز بن گیا سنیت کی پہچان یہیں سے ہونے لگی ،

اب رہی بات کہ بریلی شریف ہی مرکز کیوں اگر کوئی دوسری جگہ مرکز بنانا چاہے تو کیا بن نہیں سکتا ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی دوسری جگہ بھی سنیوں کا مرکز بن سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ممکن ہے۔۔۔۔۔۔لیکن جس ذات کی وجہ سے مرکز قرار دیں گے تو وہ ذات کس معیار کی ہے یہ تو دیکھا جائے گا اگر واقعی وہ مرکز بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ضرور اس کو مرکز مانا جائے گا

لیکن پہلے یہ تو ثابت ہو کہ علما عوام سب ان کی طرف رجوع کرتے ہوں اور ان کو اپنا مرکز تصور کرتے ہوں اس سے حق و باطل کے درمیان امتیاز ہوتا ہو
اگر اس کسوٹی پر کوئی کھڑا اترے تو ضرور اسے مرکز تصور کیا جائے جیسے ایک زمانے میں دہلی سنیوں کا مرکز رہا ہے ایسے ہی ایک زمانے میں ماہریرہ مطہرہ مرکز رہا ہے پھر بریلی شریف مرکز بنا

تو ہو سکتا ہے کہ مسلک اعلی حضرت میں بھی امتداد زمانہ کی وجہ سے کچھ شر پسند پیدا ہو جائیں اور وہ بھی اپنے کو مسلک اعلی حضرت والے کہتے ہوں پھر اللہ جل و علا کا فضل ہو کہ وہ ایسا بندہ پیدا فرمائے جو مسلک اعلی حضرت میں گھسے ہوئے شر پسندوں کو نکال کر باہر پھینک دے، اور پھر مسلک اعلی حضرت والا کون ہے؟ اس کی شناخت اس ذات سے ہونے لگے، جس نے ان شر پسندوں کو نکال پھینکا، جیسے مسلک اہل سنت کی شناخت مسلک اعلی حضرت سے ہوتی ہے،
لیکن جو یہ دعویٰ کرے تو آنکھ بند کر کے ان کی بات مان تو نہیں لی جائے گی اس کو ضرور ہر زاویے سے پرکھا جائے گا ،

فی زماننا اگر دیکھیں تو ایسا تو کچھ نہیں ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات خط امتیاز نہ ہوں بلکہ آج بھی حق و باطل کے درمیان اعلی حضرت کی ذات خط فاصل ہے سنیوں کی نگاہیں آپ پر مرکوز ہیں یہ اللہ کی عنایت ہے اللہ جسے چاہے عطا فرمائے کوئی لاکھ چاہے مرکز بنانا لیکن بنا نہ پائے کیونکہ لوگ ہی اسے مرکز نہ مانے تو پھر کاہے کا مرکز رہ جائے

#بریلی شریف کی مرکزیت پر اکابر کا متفقہ فیصلہ __

یہاں پر ان علماء کرام کے اسماء گرامی ذکر کیے جاتے ہیں جنھوں نے بریلی شریف تا دم اخیر سنیوں کا مرکز مانا،

*١) حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز
٢) حضور مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد مصطفی رضا خان قادری قدس سرہ العزیز
٣) حضرت علامہ مفتی سید احمد اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھہ شریف قدس سرہ العزیز
٤) صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
٥) ملک العلما علامہ مفتی سید محمد ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ
٦) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ
٧) برہان ملت علامہ مفتی محمد برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ
٨) حضرت علامہ مفتی مظہر اللہ نقشبندی دہلوی علیہ الرحمہ
٩) حضور مجاہد ملت علامہ مفتی حبیب الرحمن عباسی اڑیسوی علیہ الرحمہ
١٠) امین شریعت مفتی اعظم کانپور حضرت علامہ مفتی رفاقت حسین مظفر پوری قدس سرہ العزیز
١١) حضور حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مرادآبادی قدس سرہ العزیز
١٢) حضرت علامہ مفتی محمد سلیمان بھاگلپوری علیہ الرحمہ
١٣) حضرت علامہ مقبول احمد خان بہاری علیہ الرحمہ
١٤) حضور سید العلماء حضرت علامہ سید آل مصطفی برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ
١٥) حضور احسن العلما حضرت علامہ مفتی سید حیدر حسین مارہروی علیہ الرحمہ
١٦) شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ
١٧) شمس العلما حضرت علامہ مفتی نظام الدین الہ آبادی
١٨) بحر العلوم علامہ مفتی عبد المنان اعظمی قدس سرہ العزیز
١٩) پاسبان ملت حضرت علامہ مفتی محمد مشتاق احمد نظامی الہ آبادی قدس سرہ العزیز
٢٠) حضرت علامہ مفتی خادم حسین گیاوی علیہ الرحمہ
٢١) مرشدنا سیدنا سندنا تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ*

اور بھی بہت سارے مقتدر اسما میرے پیش نظر ہیں لیکن طوالت کے خوف سے چھوڑ رہا ہوں بس یوں سمجھیے تمام اکابر علما کرام بریلی شریف کی مرکزیت پر متفق ہیں اگر بعض نہیں ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ مثل مشہور ہے “للاکثر حکم الکل”

*بزرگوں نے فرمایا ہے *
کہ مسلک اعلی سے نہیں ہٹتا مگر وہی جس کے دل میں کجی ہوتی ہے
اللہ جل و علا ہمیں اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے

@تیرے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

#خلاصۂ کلام ___

تمام گفتگو کا زبدہ یہ ہے کہ مرجع العلما حضور اعلی حضرت کی ذات ستودہ صفات کی وجہ سے بریلی شریف کو تمام علماء اکابر مرکز تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اس میں اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ آئینے کی طرح جھلکتی ہے حق و باطل کو جانچنے کے لیے اس سے بہتر کوئی کسوٹی نہیں کہ وہ بریلی شریف کو مرکز مانتا ہے یا نہیں اگر مانتا ہے تو حق پر ہے اور اگر نہیں مانتا ہے تو بقول سید مغربی علیہ الرحمہ وہ بدعتی ہے،

اسی لیے حضور تاج الشریعہ نے فرمایا

@مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے

اللہ جل و علا ہمیں تا دم مرگ مسلک اعلی حضرت پر قائم رکھے اور بریلی شریف کی مرکزیت سلامت رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code