صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
اختلاط نعت و منقبت در تناظر حدیث رسالت
ادبیات

اختلاط نعت و منقبت در تناظر حدیث رسالت

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

اختلاط نعت و منقبت در تناظر حدیث رسالت
دور حاضر کے بعض شعرا کے کلام میں دیکھنے کو ملا کہ وہ ایک ہی کلام میں نعت و منقبت اور مرثیہ وغیرہ کے اشعار بھی شامل کر لیتے ہیں بعض کلام میں شروع کے ایک دو شعر نعت کے رہتے ہیں اس کے بعد ایک ماں کی شان میں ایک باپ کی شان میں اور ایک پیر صاحب کی شان میں بعض شعرا حضرات باضابطہ مشاعرہ کرواتے ہیں اور اس میں قوانین مقرر کرتے ہیں جن قوانین میں سے ایک قانون یہ بھی ہوتا ہے
ہر شاعر کا کلام آٹھ شعر پر مشتمل ہونا لازمی ہوگا جس کی ترکیب اس طرح سے ہوگی کہ پہلے کے تین شعر نعت کے دو فلاں پیر صاحب کی شان میں اور ایک ماں کی شان میں اور ایک شعر بزم کے نام پر اور ایک مقطع اس کے بر خلاف ہو تو کلام شامل بزم نہیں کیا جائے گا
اب یہ کہاں تک درست ہے آئیے ہم حدیث رسالت کے تناظر میں دیکھتے ہیں
مشکوۃ، باب اعلان النکاح، (فصل اول صفحہ 271) کی پہلی حدیث ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام ایک نکاح میں تشریف لے گئے جہاں انصار کی کچھ بچیاں دف بجا کر جنگ بدر کے مقتولین کے مرثیہ کے گیت گانے لگیں۔ ان میں سے کسی نے یہ مصرع پڑھا۔ وفينا نبي يعلم ما في غد ہم میں ایسے نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوڑ دو، وہی گائے جاؤ جو پہلے گا رہی تھیں۔
اس حدیث شریف کے ماتحت مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح (جلد سوم، باب اعلان النکاح، فصل اول، صفحہ 426) میں الشیخ ملا علی بن سلطان محمد القاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
منع فرمایا علم غیب کی نسبت اپنی طرف کرنے کو کیونکہ علم غیب (ذاتی) خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور رسول وہی جانتے ہیں جو اللہ جل و علا بتائے یا یہ ناپسند کیا کہ آپ کا ذکر دف بجانے میں یا مقتولین کے مرثیہ کے درمیان کیا جائے کیونکہ آپ کا درجہ اس سے اعلی ہے۔
نیز اسی حدیث کے ماتحت صاحب مرآۃ المناجیح حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ جاء الحق (حصہ اول صفحہ نمبر 107) میں فرماتے ہیں
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وَفينَا نبيٌ يعلمُ ما في غدٍ اس شعر کو گانے سے کیوں روکا، چار وجہ سے،
اولا____ تو یہ کہ اگر کوئی ہمارے سامنے ہماری تعریف کرے تو بطور انکسار کہتے ہیں۔ ارے میاں! یہ باتیں چھوڑو وہی باتیں کرو ، یہ بھی انکساراً فرمایا۔
دوم_یہ کی کھیل، کود گانے بجانے کے درمیان نعت کے اشعار پڑھنے سے ممانعت فرمائی۔ اس کے لیے ادب چاہئیے۔
سوم_یہ کہ غیب کی نسبت اپنی طرف کرنے کو ناپسند فرمایا۔
چہارم___ یہ کہ مرثیہ کے درمیان نعت ہونا نا پسند فرمایا۔ جیسا کہ آج کل نعت خواں کرتے ہیں کہ نعت (و منقبت و حمد) و مرثیہ کو ملا کر پڑھتے ہیں۔*
اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ صاحب مرقات اور صاحب مرآۃ علیھما الرحمہ نے نعت شریف پڑھنے سے حضور کے منع فرمانے کی ایک علت یہ بھی بیان کی ہے کہ جب حضور کا ذکر کیا جائے تو پھر خلوص و للہیت کے ساتھ حضور کا ذکر کیا جائے اس کے ساتھ مرثیہ یا منقبت و تہنیت نہ ملائے جائیں ایسے ہی اس کے بر عکس اگر منقبت کہیں تو خالص منقبت ہی کہیں یا خالص مرثیہ ہی کہیں یا خالص تہنیت ہی پڑھیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور جو اس کے خلاف کرے تو اس کو روکنا یہ حدیث رسالت سے ثابت ہے
لہذا میں شعراء کرام اور نعت خوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ عوام کو خوش کرنے کے لیے ایک ہی کلام میں اس طرح کا اختلاط نہ کیا کریں کہ نعت پڑھتے پڑھتے اسی نعت میں پیر صاحب یا ماں کی تعریف کرنے لگ جائیں اور اس طرح سے داد و تحسین لوٹیں نعت خوانی میں خلوص و محبت کا ضرور خیال رکھیں۔
وہ اللہ ہی ہے جو بندوں کو عزت و احترام اور ذلت و رسوائی عطا فرماتا ہے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
89
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 98
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

استاد مکرم مفتی صاحب سے ملاقات

لنگر اور کتاب

اختلاط نعت و منقبت در تناظر حدیث رسالت - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

اختلاط نعت و منقبت در تناظر حدیث رسالت

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

اختلاط نعت و منقبت در تناظر حدیث رسالت

دور حاضر کے بعض شعرا کے کلام میں دیکھنے کو ملا کہ وہ ایک ہی کلام میں نعت و منقبت اور مرثیہ وغیرہ کے اشعار بھی شامل کر لیتے ہیں بعض کلام میں شروع کے ایک دو شعر نعت کے رہتے ہیں اس کے بعد ایک ماں کی شان میں ایک باپ کی شان میں اور ایک پیر صاحب کی شان میں بعض شعرا حضرات باضابطہ مشاعرہ کرواتے ہیں اور اس میں قوانین مقرر کرتے ہیں جن قوانین میں سے ایک قانون یہ بھی ہوتا ہے

*ہر شاعر کا کلام آٹھ شعر پر مشتمل ہونا لازمی ہوگا جس کی ترکیب اس طرح سے ہوگی کہ پہلے کے تین شعر نعت کے دو فلاں پیر صاحب کی شان میں اور ایک ماں کی شان میں اور ایک شعر بزم کے نام پر اور ایک مقطع اس کے بر خلاف ہو تو کلام شامل بزم نہیں کیا جائے گا*

اب یہ کہاں تک درست ہے آئیے ہم حدیث رسالت کے تناظر میں دیکھتے ہیں

مشکوۃ، باب اعلان النکاح، (فصل اول صفحہ 271) کی پہلی حدیث ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام ایک نکاح میں تشریف لے گئے جہاں انصار کی کچھ بچیاں دف بجا کر جنگ بدر کے مقتولین کے مرثیہ کے گیت گانے لگیں۔ ان میں سے کسی نے یہ مصرع پڑھا۔ *وفينا نبي يعلم ما في غد* ہم میں ایسے نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں، *تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوڑ دو،* وہی گائے جاؤ جو پہلے گا رہی تھیں۔

اس حدیث شریف کے ماتحت مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح (جلد سوم، باب اعلان النکاح، فصل اول، صفحہ 426) میں الشیخ ملا علی بن سلطان محمد القاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
*منع فرمایا علم غیب کی نسبت اپنی طرف کرنے کو کیونکہ علم غیب (ذاتی) خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور رسول وہی جانتے ہیں جو اللہ جل و علا بتائے یا یہ ناپسند کیا کہ آپ کا ذکر دف بجانے میں یا مقتولین کے مرثیہ کے درمیان کیا جائے کیونکہ آپ کا درجہ اس سے اعلی ہے۔*
نیز اسی حدیث کے ماتحت صاحب مرآۃ المناجیح حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ جاء الحق (حصہ اول صفحہ نمبر 107) میں فرماتے ہیں
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے *وَفينَا نبيٌ يعلمُ ما في غدٍ* اس شعر کو گانے سے کیوں روکا، چار وجہ سے،

*اولا*____ تو یہ کہ اگر کوئی ہمارے سامنے ہماری تعریف کرے تو بطور انکسار کہتے ہیں۔ ارے میاں! یہ باتیں چھوڑو وہی باتیں کرو ، یہ بھی انکساراً فرمایا۔

*دوم_*یہ کی کھیل، کود گانے بجانے کے درمیان نعت کے اشعار پڑھنے سے ممانعت فرمائی۔ اس کے لیے ادب چاہئیے۔

*سوم_*یہ کہ غیب کی نسبت اپنی طرف کرنے کو ناپسند فرمایا۔

*چہارم___ *یہ کہ مرثیہ کے درمیان نعت ہونا نا پسند فرمایا۔ جیسا کہ آج کل نعت خواں کرتے ہیں کہ نعت (و منقبت و حمد) و مرثیہ کو ملا کر پڑھتے ہیں۔*

اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ صاحب مرقات اور صاحب مرآۃ علیھما الرحمہ نے نعت شریف پڑھنے سے حضور کے منع فرمانے کی ایک علت یہ بھی بیان کی ہے کہ جب حضور کا ذکر کیا جائے تو پھر خلوص و للہیت کے ساتھ حضور کا ذکر کیا جائے اس کے ساتھ مرثیہ یا منقبت و تہنیت نہ ملائے جائیں ایسے ہی اس کے بر عکس اگر منقبت کہیں تو خالص منقبت ہی کہیں یا خالص مرثیہ ہی کہیں یا خالص تہنیت ہی پڑھیں۔

اور جو اس کے خلاف کرے تو اس کو روکنا یہ حدیث رسالت سے ثابت ہے
لہذا میں شعراء کرام اور نعت خوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ عوام کو خوش کرنے کے لیے ایک ہی کلام میں اس طرح کا اختلاط نہ کیا کریں کہ نعت پڑھتے پڑھتے اسی نعت میں پیر صاحب یا ماں کی تعریف کرنے لگ جائیں اور اس طرح سے داد و تحسین لوٹیں نعت خوانی میں خلوص و محبت کا ضرور خیال رکھیں۔

وہ اللہ ہی ہے جو بندوں کو عزت و احترام اور ذلت و رسوائی عطا فرماتا ہے

Scan this QR code to read online:

QR Code