صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)
ادبیات

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)
یہ دنیا ہے، ایک کتاب ہے۔
ایک ایسی کتاب جس کا نہ کوئی معلوم عنوان ہے، نہ اس کے ابواب کی کوئی ترتیب سمجھ میں آتی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا کہاں سے ہوئی اور اختتام کہاں ہوگا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے، اس کتاب کو پڑھتا جا رہا ہوں، پڑھتا جا رہا ہوں، مگر عجیب بات ہے کہ ایک عبارت بھی پوری طرح سمجھ نہیں آتی۔ ایک صفحہ پلٹتا ہوں تو دوسرا سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، ایک گتھی سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں تو دس نئی گتھیاں ذہن کو گھیر لیتی ہیں۔ کبھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید ابھی کم پڑھا ہے، شاید وقت کے ساتھ سمجھ آ جائے گی، شاید عمر کی پختگی کچھ پردے اٹھا دے گی، شاید تجربات کے بعد ان سطروں کا مفہوم کھل جائے گا۔ مگر مدت دراز گزر گئی، موسم بدلتے رہے، لوگ آتے جاتے رہے، اور میں اسی کتاب کے ایک ہی باب میں بیٹھا سوچتا رہا کہ آخر یہاں لکھا کیا ہے؟
شاید ہم سے پہلے کے لوگوں نے اسے سمجھا ہو۔
شاید ان کے پاس زندگی کے ان سوالوں کے جواب ہوں جن کے سامنے آج ہم خاموش کھڑے ہیں۔ شاید انہوں نے بھی ہماری طرح کبھی کسی رات جاگ کر سوچا ہو کہ انسان آخر انسان کیوں نہیں رہتا؟ محبت میں اتنی تلخی کیوں آ جاتی ہے؟ اپنائیت کے دعوے اتنی جلدی بیگانگی میں کیوں بدل جاتے ہیں؟ چہرے مسکراہٹ لیے کیوں آتے ہیں اور دل میں کیا لیے جاتے ہیں، یہ کیوں معلوم نہیں ہوتا؟ شاید انہوں نے بھی یہ سوال اٹھایا ہو کہ دنیا میں اتنی بھیڑ کے باوجود انسان اتنا تنہا کیوں ہے؟
اور شاید ہمارے زمانے کے لوگ بھی اسے سمجھتے ہوں۔
وہ جو ہر بات پر رائے رکھتے ہیں، ہر معاملے پر تبصرہ کرتے ہیں، ہر شخص کی زندگی کا تجزیہ کرنے کو تیار رہتے ہیں، شاید انہیں معلوم ہو کہ زندگی کی اس کتاب کا اصل مفہوم کیا ہے۔ شاید وہ جانتے ہوں کہ کس موڑ پر کیا کرنا چاہیے، کس شخص پر اعتبار کرنا چاہیے، کس کے سامنے دل کھولنا چاہیے اور کس کے سامنے خاموش رہنا چاہیے۔ شاید انہیں معلوم ہو کہ خوشی کہاں ملتی ہے اور سکون کس صفحے پر لکھا ہے۔
اور شاید ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی اسے سمجھ جائیں۔
شاید وہ ہم سے زیادہ سمجھ دار ہوں گے، شاید وہ ان سوالوں کے جواب تلاش کر لیں گے جنہیں ہم اپنی پوری زندگی لیے پھرتے رہے۔ شاید آنے والی نسلیں ہماری الجھنوں کو دیکھ کر مسکرائیں گی اور کہیں گی کہ یہ لوگ بھی عجیب تھے، اتنی سادہ دنیا کو سمجھ نہ سکے۔
لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ دنیا مجھے کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔
یہ عجیب و غریب موسم!
کبھی دھوپ اتنی تیز کہ آدمی اپنے ہی سائے کی پناہ مانگے، کبھی بادل اتنے گھنے کہ راستہ دکھائی نہ دے۔ کبھی بہار کا سا سماں، کبھی خزاں کی سی ویرانی۔ کبھی کوئی شخص زندگی میں ایسے داخل ہوتا ہے جیسے برسوں سے اسی کا انتظار تھا، اور پھر ایک دن یوں نکل جاتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا۔ کبھی ایک اجنبی اپنوں سے بڑھ کر اپنا معلوم ہوتا ہے اور کبھی اپنا ہی کوئی شخص اجنبیوں سے بھی زیادہ اجنبی نکلتا ہے۔
یہ رنگ بدلتے چہرے بھی تو میری سمجھ سے باہر ہیں۔
کل جو آنکھیں محبت سے بھری ہوئی تھیں، آج انہی میں اجنبیت کیوں ہے؟ جو شخص کل تک ہماری بات سنے بغیر نہیں رہ سکتا تھا، آج ہماری آہ و بکا سے بھی بے نیاز کیوں ہے؟ جو ہاتھ کبھی تھامنے کا وعدہ کرتے تھے، وہی ہاتھ مشکل کی گھڑی میں جیبوں میں کیوں چھپ جاتے ہیں؟ جو لوگ ہماری مسکراہٹ کے سبب مسکراتے تھے، وہی ہماری آنکھوں میں نمی دیکھ کر نظریں کیوں چرا لیتے ہیں؟ میں سوچتا ہوں، شاید چہرے بدلتے نہیں، ہماری پہچان بدل جاتی ہے۔ شاید انسان وہی رہتا ہے، بس وقت اس کے چہرے سے پردہ ہٹا دیتا ہے۔ شاید تعلقات ختم نہیں ہوتے، ان کے دعوے ختم ہوتے ہیں۔
اور شاید محبت کم نہیں ہوتی، صرف ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
یہ ظاہر و باطن کا تقابل بھی عجیب ہے۔ زبان پر الفاظ کچھ اور، دل میں معنی کچھ اور۔ لبوں پر خیر خواہی، اندر کہیں حسد۔ چہرے پر مسکراہٹ، دل میں شکایت۔ سامنے تعریف، پیچھے تنقید۔ پاس بیٹھ کر اپنائیت، دور جا کر بے اعتنائی۔ انسان آخر اتنا پیچیدہ کیوں ہے؟ اگر دل میں محبت نہیں تو محبت کا دعویٰ کیوں؟ اگر ساتھ نہیں دینا تو ساتھ چلنے کا وعدہ کیوں؟ اگر ہاتھ پکڑنا نہیں تو ہاتھ بڑھانے کی اداکاری کیوں؟ شاید یہی دنیا ہے۔
یہاں ہر شخص اپنے چہرے کے ساتھ ایک اور چہرہ لیے پھرتا ہے۔ ایک وہ جو دنیا کو دکھاتا ہے، اور ایک وہ جسے دنیا سے چھپاتا ہے۔ کبھی کبھی تو انسان خود بھی فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔
اور پھر اپنوں کا بیگانہ پن!
یہ شاید دنیا کی سب سے مشکل عبارت ہے۔
اجنبی سے شکوہ کیا کیجیے؟ اس نے تو کبھی اپنا ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا تھا۔ مگر وہ شخص جسے اپنا سمجھا، جس کے سامنے دل کی گرہیں کھولیں، جس کے سامنے اپنے دکھ رکھے، جس کے ساتھ خاموشی بھی گفتگو معلوم ہوتی تھی، جب وہی شخص بدل جائے تو انسان شکایت کس سے کرے؟
درد کا سب سے بھاری حصہ شاید درد نہیں ہوتا، بلکہ یہ احساس ہوتا ہے کہ جسے درد سنانا تھا، وہ سننے کے لیے موجود نہیں۔
آدمی زخمی ہو تو زخم دکھا سکتا ہے، آنسو ہوں تو آنکھیں انہیں چھپا نہیں سکتیں، مگر دل کا زخم کہاں دکھایا جائے؟ دل کے نہاں خانے میں جو کچھ ٹوٹتا ہے، اس کی آواز باہر کہاں آتی ہے؟ آدمی ہنستا رہتا ہے، باتیں کرتا ہے، لوگوں میں بیٹھتا ہے، اپنے معمولات پورے کرتا ہے، مگر اس کے اندر کہیں ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں مسلسل شور برپا رہتا ہے۔ اور کبھی کبھی یہی شور انسان کو اپنے اندر سے نکال کر دنیا کے ایک ایسے بھنور میں لے جاتا ہے جہاں نہ کوئی کنارہ دکھائی دیتا ہے، نہ کوئی سمت۔ شاید میں بھی اسی بھنور میں کہیں کھو گیا ہوں۔
ایک بہت گہری ندی ہے، جس کا پانی اوپر سے خاموش دکھائی دیتا ہے، مگر اندر نہ جانے کتنے تیز دھارے ہیں۔ میں اس میں ڈوبا جا رہا ہوں۔ ہاتھ پاؤں مارتا ہوں، کسی کنارے کی تلاش کرتا ہوں، مگر پانی ہر بار مجھے اپنے ساتھ اور اندر لے جاتا ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ کنارے پر لوگ کھڑے ہیں۔ بہت سے لوگ۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ میں ڈوب رہا ہوں۔ کچھ حیرت سے دیکھ رہے ہیں، کچھ دلچسپی سے، کچھ افسوس سے، کچھ شاید اس انتظار میں کہ کب میں مکمل طور پر پانی کے حوالے ہو جاؤں۔ کوئی کہتا ہے: اسے تیرنا نہیں آتا۔ کوئی کہتا ہے: خود ہی گیا ہوگا۔ کوئی مشورہ دیتا ہے کہ ہمت کرنی چاہیے تھی۔ کوئی میری غلطیاں گنواتا ہے، کوئی میری کمزوریاں بیان کرتا ہے، کوئی میرے ڈوبنے کے اسباب پر ایک مکمل تقریر کر دیتا ہے۔
مگر کوئی ہاتھ نہیں بڑھاتا۔
کتنی عجیب دنیا ہے!
لوگ ڈوبتے ہوئے انسان کو دیکھ کر اس کی تیراکی پر بحث کرتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پہلے اسے باہر نکال لیں، پھر بیٹھ کر اسے سمجھائیں گے کہ تیرنا کیسے سیکھنا چاہیے تھا۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی ضرورت کسی بڑے فلسفے کی نہیں، صرف ایک ہاتھ کی ہے۔
ایک ایسا ہاتھ، جس کے ساتھ یہ آواز ہو: آؤ، پہلے باہر نکل آؤ۔ باقی باتیں بعد میں کریں گے۔ مگر شاید ہمارے پاس وقت نہیں۔
ہم دوسروں کی زندگی کے فیصلے سنانے میں بہت مصروف ہیں۔ کسی کے آنسو دیکھ کر اس کے صبر کا امتحان لینے لگتے ہیں، کسی کی خاموشی کو تکبر کہہ دیتے ہیں، کسی کی بے بسی کو کمزوری، کسی کی غلطی کو کردار، کسی کے گرنے کو انجام اور کسی کی شکست کو اس کی نااہلی قرار دے دیتے ہیں۔ ہمیں کسی کا ہاتھ پکڑنے سے زیادہ اس بات میں دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ گرا کیوں۔ ہم یہ جاننے سے پہلے کہ کوئی ڈوبا کیوں، یہ ثابت کرنے لگتے ہیں کہ اسے تیرنا چاہیے تھا۔ ہم کسی کے زخم پر مرہم رکھنے سے پہلے اس کے زخم کی وجہ تلاش کرتے ہیں، اور پھر شاید یہ فیصلہ بھی سناتے ہیں کہ زخم کا مستحق کون تھا۔ انسانی دنیا میں انسانیت شاید اسی مقام پر سب سے زیادہ محتاج ہے۔
کاش!
کوئی ایسا بھی ہو جو طعنہ دینے سے پہلے ہاتھ بڑھا دے۔ کوئی ایسا ہو جو یہ نہ پوچھے کہ تم یہاں تک کیسے پہنچے، بلکہ یہ کہے کہ آؤ، میں تمہیں یہاں سے نکالتا ہوں۔ کوئی ایسا ہو جو تمہاری داستان سننے سے پہلے تمہاری خاموشی سمجھنے کی کوشش کرے۔ کوئی ایسا ہو جو تمہارے بکھرے ہوئے وجود کو دیکھ کر تمہیں مزید ٹکڑوں میں تقسیم نہ کرے۔ کوئی ایسا ہو جو تمہاری کمزوری کو تمہارے خلاف دلیل نہ بنائے۔ اور اگر محبت نہ ہو تو کم از کم انسانیت ہی ہو۔ دھوکا ہی دینا ہو تو دھوکے ہی کے لیے ہاتھ بڑھا دے! کم از کم دل کے نہاں خانے میں یہ افسوس تو نہ رہ جائے کہ جب میں ڈوب رہا تھا تو کوئی ہاتھ بڑھانے والا بھی نہ ملا۔
کبھی کبھی انسان کو یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ سامنے والا ہاتھ سچ مچ اسے بچانے کے لیے بڑھا ہے یا محض اسے چند لمحوں کے لیے تھامنے کے لیے۔ لیکن اس لمحے میں آدمی کو حقیقت سے زیادہ امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ہاتھ شاید اسے ہمیشہ نہ بچا سکے، مگر اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ ڈوبتے ہوئے انسان کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ بالکل اکیلا ہے۔ اور شاید تنہائی کا اصل عذاب یہی ہے۔ لوگوں کے درمیان رہ کر یہ محسوس ہونا کہ تمہارے لیے کوئی نہیں۔ آوازیں بہت ہوں مگر تمہاری آواز سننے والا کوئی نہ ہو۔ آنکھیں بہت ہوں مگر تمہارا چہرہ پڑھنے والی کوئی نہ ہو۔ ہاتھ بہت ہوں مگر تمہاری طرف بڑھنے والا کوئی نہ ہو۔ رشتے بہت ہوں مگر تمہارا درد سمجھنے والا کوئی نہ ہو۔
یہ دنیا شاید اسی کا نام ہے۔ ایک کتاب، جسے ہر شخص اپنے اپنے تجربے سے پڑھتا ہے۔ کسی کے لیے ایک ہی صفحہ بہار ہے، کسی کے لیے وہی صفحہ خزاں۔ کسی کے لیے تنہائی عبادت ہے، کسی کے لیے عذاب۔ کسی کے لیے جدائی ایک نیا آغاز ہے، کسی کے لیے پوری زندگی کا اختتام۔ ایک شخص جس چیز کو نعمت سمجھتا ہے، دوسرا اسی کو آزمائش سمجھ کر جیتا ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کا کوئی ایک مفہوم نہیں۔ ہر شخص اپنے حصے کی سطروں سے اس کا مطلب نکالتا ہے۔ اور میں؟ میں اب بھی پڑھ رہا ہوں۔ ورق پلٹتا ہوں تو نئی عبارت سامنے آتی ہے۔
کبھی کوئی شخص ملتا ہے، ایک پورا باب بن جاتا ہے، پھر اچانک کتاب سے غائب ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی حادثہ چند سطروں میں پوری زندگی کا مفہوم بدل دیتا ہے۔ کبھی ایک ملاقات برسوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے، اور کبھی ایک جملہ برسوں کی قربت کو اجنبیت میں بدل دیتا ہے۔ کبھی خوشی کا صفحہ آتا ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ بھی چند سطروں بعد ختم نہ ہو جائے۔ کبھی غم کا باب شروع ہوتا ہے تو دل کہتا ہے شاید یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لیکن ہر باب ختم ہوتا ہے۔ یہ بھی شاید اس کتاب کا ایک راز ہے۔
کچھ لوگ ہمیں سبق دینے آتے ہیں، کچھ آزمائش بن کر، کچھ محبت بن کر، کچھ جدائی بن کر۔ کچھ ہمارے ہاتھ میں ہاتھ دے کر چند قدم چلتے ہیں اور پھر کسی موڑ پر مڑ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ نہیں رہتے مگر ہمیں اپنے بعد بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے اندر ایک ایسی خاموشی چھوڑ جاتے ہیں جسے ہم ساری عمر پڑھتے رہتے ہیں۔ شاید زندگی کو سمجھنے کا مطلب ہر عبارت کا مفہوم جان لینا نہیں۔ شاید زندگی کا کمال یہی ہے کہ کچھ سوال بے جواب رہیں۔
کچھ لوگ کیوں آئے؟ کچھ کیوں چلے گئے؟ کچھ نے محبت کیوں کی؟ کچھ نے محبت کے نام پر زخم کیوں دیے؟ کچھ نے وعدہ کیوں کیا؟ کچھ نے وعدہ کیوں توڑا؟ کچھ نے ہمارا ہاتھ کیوں چھوڑ دیا؟ اور کچھ نے ہاتھ بڑھایا ہی کیوں نہیں؟
شاید ان سب سوالوں کے جواب ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ ہم اس کتاب کے صرف قاری ہیں، مصنف نہیں۔ ہمیں ہر سطر کا راز جاننے کا اختیار نہیں۔ ہمیں ہر واقعے کا سبب معلوم ہونا ضروری نہیں۔ ہمیں بس پڑھتے رہنا ہے۔ ورق پلٹتے رہنا ہے۔
کبھی آنکھوں میں آنسو لیے، کبھی لبوں پر مسکراہٹ لیے، کبھی سوالوں کے بوجھ کے ساتھ، کبھی امید کی ایک ننھی سی روشنی تھامے۔ اور شاید ایک دن، کتاب کا آخری ورق پلٹتے ہوئے ہمیں معلوم ہو کہ جن عبارتوں کو ہم ساری عمر ناقابلِ فہم سمجھتے رہے، وہ دراصل ہمیں ہی پڑھ رہی تھیں۔ ہم دنیا کو نہیں پڑھ رہے تھے، دنیا ہمیں پڑھ رہی تھی۔ ہم لوگوں کے چہرے سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، اور وقت ہمارے چہرے پر زندگی کی عبارت لکھ رہا تھا۔ ہم دوسروں کے بدلنے پر حیران تھے، اور خود ہر روز بدل رہے تھے۔ ہم اپنوں کے بیگانہ ہونے کا شکوہ کر رہے تھے، اور شاید کہیں نہ کہیں کسی دوسرے کے لیے ہم بھی اجنبی ہو رہے تھے۔ ہم ہاتھ نہ ملنے کا گلہ کر رہے تھے، شاید کسی ڈوبتے ہوئے انسان کی طرف ہمارا اپنا ہاتھ بھی کبھی نہیں بڑھا۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کی یہ پیچیدہ کتاب ذرا سی آسان ہونے لگتی ہے۔ جب انسان دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو سمجھنے لگے۔ جب شکایت سے پہلے اپنا احتساب کرے۔ جب کسی کے گرنے پر انگلی اٹھانے کے بجائے ہاتھ بڑھائے۔ جب کسی کے آنسو دیکھ کر یہ نہ پوچھے کہ کیوں رو رہے ہو؟ بلکہ خاموشی سے اتنا کہہ دے: رو لو، میں یہیں ہوں۔ شاید دنیا پھر بھی پوری طرح سمجھ میں نہ آئے۔ مگر شاید دل پر بوجھ کچھ کم ہو جائے۔ شاید بھنور وہیں رہے، مگر کنارے کی امید پیدا ہو جائے۔ شاید ندی کی گہرائی وہی رہے، مگر کسی ہاتھ کی حرارت محسوس ہونے لگے۔ شاید کھائی اپنی جگہ موجود رہے، مگر گرنے والے کو یہ یقین ہو کہ اوپر کوئی اسے دیکھنے والا ہی نہیں، اٹھانے والا بھی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور شاید زندگی کی اس بے شمار صفحات والی کتاب میں یہی ایک عبارت سب سے زیادہ ضروری ہے:
انسان، انسان کے کام آئے۔
باقی سب عبارتیں شاید ہم عمر بھر پڑھتے رہیں گے۔
شاید سمجھیں گے بھی نہیں۔
اور شاید یہی نہ سمجھ پانا بھی زندگی کی کتاب کا ایک ایسا راز ہے، جسے سمجھنے کے لیے پوری زندگی بھی کم ہے۔
نگارشِ فکر
محمد شعیب خان نجمی ؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)
یہ دنیا ہے، ایک کتاب ہے۔
ایک ایسی کتاب جس کا نہ کوئی معلوم عنوان ہے، نہ اس کے ابواب کی کوئی ترتیب سمجھ میں آتی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا کہاں سے ہوئی اور اختتام کہاں ہوگا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے، اس کتاب کو پڑھتا جا رہا ہوں، پڑھتا جا رہا ہوں، مگر عجیب بات ہے کہ ایک عبارت بھی پوری طرح سمجھ نہیں آتی۔ ایک صفحہ پلٹتا ہوں تو دوسرا سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، ایک گتھی سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں تو دس نئی گتھیاں ذہن کو گھیر لیتی ہیں۔ کبھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید ابھی کم پڑھا ہے، شاید وقت کے ساتھ سمجھ آ جائے گی، شاید عمر کی پختگی کچھ پردے اٹھا دے گی، شاید تجربات کے بعد ان سطروں کا مفہوم کھل جائے گا۔ مگر مدت دراز گزر گئی، موسم بدلتے رہے، لوگ آتے جاتے رہے، اور میں اسی کتاب کے ایک ہی باب میں بیٹھا سوچتا رہا کہ آخر یہاں لکھا کیا ہے؟
شاید ہم سے پہلے کے لوگوں نے اسے سمجھا ہو۔
شاید ان کے پاس زندگی کے ان سوالوں کے جواب ہوں جن کے سامنے آج ہم خاموش کھڑے ہیں۔ شاید انہوں نے بھی ہماری طرح کبھی کسی رات جاگ کر سوچا ہو کہ انسان آخر انسان کیوں نہیں رہتا؟ محبت میں اتنی تلخی کیوں آ جاتی ہے؟ اپنائیت کے دعوے اتنی جلدی بیگانگی میں کیوں بدل جاتے ہیں؟ چہرے مسکراہٹ لیے کیوں آتے ہیں اور دل میں کیا لیے جاتے ہیں، یہ کیوں معلوم نہیں ہوتا؟ شاید انہوں نے بھی یہ سوال اٹھایا ہو کہ دنیا میں اتنی بھیڑ کے باوجود انسان اتنا تنہا کیوں ہے؟
اور شاید ہمارے زمانے کے لوگ بھی اسے سمجھتے ہوں۔
وہ جو ہر بات پر رائے رکھتے ہیں، ہر معاملے پر تبصرہ کرتے ہیں، ہر شخص کی زندگی کا تجزیہ کرنے کو تیار رہتے ہیں، شاید انہیں معلوم ہو کہ زندگی کی اس کتاب کا اصل مفہوم کیا ہے۔ شاید وہ جانتے ہوں کہ کس موڑ پر کیا کرنا چاہیے، کس شخص پر اعتبار کرنا چاہیے، کس کے سامنے دل کھولنا چاہیے اور کس کے سامنے خاموش رہنا چاہیے۔ شاید انہیں معلوم ہو کہ خوشی کہاں ملتی ہے اور سکون کس صفحے پر لکھا ہے۔
اور شاید ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی اسے سمجھ جائیں۔
شاید وہ ہم سے زیادہ سمجھ دار ہوں گے، شاید وہ ان سوالوں کے جواب تلاش کر لیں گے جنہیں ہم اپنی پوری زندگی لیے پھرتے رہے۔ شاید آنے والی نسلیں ہماری الجھنوں کو دیکھ کر مسکرائیں گی اور کہیں گی کہ یہ لوگ بھی عجیب تھے، اتنی سادہ دنیا کو سمجھ نہ سکے۔
لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ دنیا مجھے کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔
یہ عجیب و غریب موسم!
کبھی دھوپ اتنی تیز کہ آدمی اپنے ہی سائے کی پناہ مانگے، کبھی بادل اتنے گھنے کہ راستہ دکھائی نہ دے۔ کبھی بہار کا سا سماں، کبھی خزاں کی سی ویرانی۔ کبھی کوئی شخص زندگی میں ایسے داخل ہوتا ہے جیسے برسوں سے اسی کا انتظار تھا، اور پھر ایک دن یوں نکل جاتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا۔ کبھی ایک اجنبی اپنوں سے بڑھ کر اپنا معلوم ہوتا ہے اور کبھی اپنا ہی کوئی شخص اجنبیوں سے بھی زیادہ اجنبی نکلتا ہے۔
یہ رنگ بدلتے چہرے بھی تو میری سمجھ سے باہر ہیں۔
کل جو آنکھیں محبت سے بھری ہوئی تھیں، آج انہی میں اجنبیت کیوں ہے؟ جو شخص کل تک ہماری بات سنے بغیر نہیں رہ سکتا تھا، آج ہماری آہ و بکا سے بھی بے نیاز کیوں ہے؟ جو ہاتھ کبھی تھامنے کا وعدہ کرتے تھے، وہی ہاتھ مشکل کی گھڑی میں جیبوں میں کیوں چھپ جاتے ہیں؟ جو لوگ ہماری مسکراہٹ کے سبب مسکراتے تھے، وہی ہماری آنکھوں میں نمی دیکھ کر نظریں کیوں چرا لیتے ہیں؟ میں سوچتا ہوں، شاید چہرے بدلتے نہیں، ہماری پہچان بدل جاتی ہے۔ شاید انسان وہی رہتا ہے، بس وقت اس کے چہرے سے پردہ ہٹا دیتا ہے۔ شاید تعلقات ختم نہیں ہوتے، ان کے دعوے ختم ہوتے ہیں۔
اور شاید محبت کم نہیں ہوتی، صرف ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
یہ ظاہر و باطن کا تقابل بھی عجیب ہے۔ زبان پر الفاظ کچھ اور، دل میں معنی کچھ اور۔ لبوں پر خیر خواہی، اندر کہیں حسد۔ چہرے پر مسکراہٹ، دل میں شکایت۔ سامنے تعریف، پیچھے تنقید۔ پاس بیٹھ کر اپنائیت، دور جا کر بے اعتنائی۔ انسان آخر اتنا پیچیدہ کیوں ہے؟ اگر دل میں محبت نہیں تو محبت کا دعویٰ کیوں؟ اگر ساتھ نہیں دینا تو ساتھ چلنے کا وعدہ کیوں؟ اگر ہاتھ پکڑنا نہیں تو ہاتھ بڑھانے کی اداکاری کیوں؟ شاید یہی دنیا ہے۔
یہاں ہر شخص اپنے چہرے کے ساتھ ایک اور چہرہ لیے پھرتا ہے۔ ایک وہ جو دنیا کو دکھاتا ہے، اور ایک وہ جسے دنیا سے چھپاتا ہے۔ کبھی کبھی تو انسان خود بھی فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔
اور پھر اپنوں کا بیگانہ پن!
یہ شاید دنیا کی سب سے مشکل عبارت ہے۔
اجنبی سے شکوہ کیا کیجیے؟ اس نے تو کبھی اپنا ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا تھا۔ مگر وہ شخص جسے اپنا سمجھا، جس کے سامنے دل کی گرہیں کھولیں، جس کے سامنے اپنے دکھ رکھے، جس کے ساتھ خاموشی بھی گفتگو معلوم ہوتی تھی، جب وہی شخص بدل جائے تو انسان شکایت کس سے کرے؟
درد کا سب سے بھاری حصہ شاید درد نہیں ہوتا، بلکہ یہ احساس ہوتا ہے کہ جسے درد سنانا تھا، وہ سننے کے لیے موجود نہیں۔
آدمی زخمی ہو تو زخم دکھا سکتا ہے، آنسو ہوں تو آنکھیں انہیں چھپا نہیں سکتیں، مگر دل کا زخم کہاں دکھایا جائے؟ دل کے نہاں خانے میں جو کچھ ٹوٹتا ہے، اس کی آواز باہر کہاں آتی ہے؟ آدمی ہنستا رہتا ہے، باتیں کرتا ہے، لوگوں میں بیٹھتا ہے، اپنے معمولات پورے کرتا ہے، مگر اس کے اندر کہیں ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں مسلسل شور برپا رہتا ہے۔ اور کبھی کبھی یہی شور انسان کو اپنے اندر سے نکال کر دنیا کے ایک ایسے بھنور میں لے جاتا ہے جہاں نہ کوئی کنارہ دکھائی دیتا ہے، نہ کوئی سمت۔ شاید میں بھی اسی بھنور میں کہیں کھو گیا ہوں۔
ایک بہت گہری ندی ہے، جس کا پانی اوپر سے خاموش دکھائی دیتا ہے، مگر اندر نہ جانے کتنے تیز دھارے ہیں۔ میں اس میں ڈوبا جا رہا ہوں۔ ہاتھ پاؤں مارتا ہوں، کسی کنارے کی تلاش کرتا ہوں، مگر پانی ہر بار مجھے اپنے ساتھ اور اندر لے جاتا ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ کنارے پر لوگ کھڑے ہیں۔ بہت سے لوگ۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ میں ڈوب رہا ہوں۔ کچھ حیرت سے دیکھ رہے ہیں، کچھ دلچسپی سے، کچھ افسوس سے، کچھ شاید اس انتظار میں کہ کب میں مکمل طور پر پانی کے حوالے ہو جاؤں۔ کوئی کہتا ہے: اسے تیرنا نہیں آتا۔ کوئی کہتا ہے: خود ہی گیا ہوگا۔ کوئی مشورہ دیتا ہے کہ ہمت کرنی چاہیے تھی۔ کوئی میری غلطیاں گنواتا ہے، کوئی میری کمزوریاں بیان کرتا ہے، کوئی میرے ڈوبنے کے اسباب پر ایک مکمل تقریر کر دیتا ہے۔
مگر کوئی ہاتھ نہیں بڑھاتا۔
کتنی عجیب دنیا ہے!
لوگ ڈوبتے ہوئے انسان کو دیکھ کر اس کی تیراکی پر بحث کرتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پہلے اسے باہر نکال لیں، پھر بیٹھ کر اسے سمجھائیں گے کہ تیرنا کیسے سیکھنا چاہیے تھا۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی ضرورت کسی بڑے فلسفے کی نہیں، صرف ایک ہاتھ کی ہے۔
ایک ایسا ہاتھ، جس کے ساتھ یہ آواز ہو: آؤ، پہلے باہر نکل آؤ۔ باقی باتیں بعد میں کریں گے۔ مگر شاید ہمارے پاس وقت نہیں۔
ہم دوسروں کی زندگی کے فیصلے سنانے میں بہت مصروف ہیں۔ کسی کے آنسو دیکھ کر اس کے صبر کا امتحان لینے لگتے ہیں، کسی کی خاموشی کو تکبر کہہ دیتے ہیں، کسی کی بے بسی کو کمزوری، کسی کی غلطی کو کردار، کسی کے گرنے کو انجام اور کسی کی شکست کو اس کی نااہلی قرار دے دیتے ہیں۔ ہمیں کسی کا ہاتھ پکڑنے سے زیادہ اس بات میں دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ گرا کیوں۔ ہم یہ جاننے سے پہلے کہ کوئی ڈوبا کیوں، یہ ثابت کرنے لگتے ہیں کہ اسے تیرنا چاہیے تھا۔ ہم کسی کے زخم پر مرہم رکھنے سے پہلے اس کے زخم کی وجہ تلاش کرتے ہیں، اور پھر شاید یہ فیصلہ بھی سناتے ہیں کہ زخم کا مستحق کون تھا۔ انسانی دنیا میں انسانیت شاید اسی مقام پر سب سے زیادہ محتاج ہے۔
کاش!
کوئی ایسا بھی ہو جو طعنہ دینے سے پہلے ہاتھ بڑھا دے۔ کوئی ایسا ہو جو یہ نہ پوچھے کہ تم یہاں تک کیسے پہنچے، بلکہ یہ کہے کہ آؤ، میں تمہیں یہاں سے نکالتا ہوں۔ کوئی ایسا ہو جو تمہاری داستان سننے سے پہلے تمہاری خاموشی سمجھنے کی کوشش کرے۔ کوئی ایسا ہو جو تمہارے بکھرے ہوئے وجود کو دیکھ کر تمہیں مزید ٹکڑوں میں تقسیم نہ کرے۔ کوئی ایسا ہو جو تمہاری کمزوری کو تمہارے خلاف دلیل نہ بنائے۔ اور اگر محبت نہ ہو تو کم از کم انسانیت ہی ہو۔ دھوکا ہی دینا ہو تو دھوکے ہی کے لیے ہاتھ بڑھا دے! کم از کم دل کے نہاں خانے میں یہ افسوس تو نہ رہ جائے کہ جب میں ڈوب رہا تھا تو کوئی ہاتھ بڑھانے والا بھی نہ ملا۔
کبھی کبھی انسان کو یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ سامنے والا ہاتھ سچ مچ اسے بچانے کے لیے بڑھا ہے یا محض اسے چند لمحوں کے لیے تھامنے کے لیے۔ لیکن اس لمحے میں آدمی کو حقیقت سے زیادہ امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ہاتھ شاید اسے ہمیشہ نہ بچا سکے، مگر اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ ڈوبتے ہوئے انسان کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ بالکل اکیلا ہے۔ اور شاید تنہائی کا اصل عذاب یہی ہے۔ لوگوں کے درمیان رہ کر یہ محسوس ہونا کہ تمہارے لیے کوئی نہیں۔ آوازیں بہت ہوں مگر تمہاری آواز سننے والا کوئی نہ ہو۔ آنکھیں بہت ہوں مگر تمہارا چہرہ پڑھنے والی کوئی نہ ہو۔ ہاتھ بہت ہوں مگر تمہاری طرف بڑھنے والا کوئی نہ ہو۔ رشتے بہت ہوں مگر تمہارا درد سمجھنے والا کوئی نہ ہو۔
یہ دنیا شاید اسی کا نام ہے۔ ایک کتاب، جسے ہر شخص اپنے اپنے تجربے سے پڑھتا ہے۔ کسی کے لیے ایک ہی صفحہ بہار ہے، کسی کے لیے وہی صفحہ خزاں۔ کسی کے لیے تنہائی عبادت ہے، کسی کے لیے عذاب۔ کسی کے لیے جدائی ایک نیا آغاز ہے، کسی کے لیے پوری زندگی کا اختتام۔ ایک شخص جس چیز کو نعمت سمجھتا ہے، دوسرا اسی کو آزمائش سمجھ کر جیتا ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کا کوئی ایک مفہوم نہیں۔ ہر شخص اپنے حصے کی سطروں سے اس کا مطلب نکالتا ہے۔ اور میں؟ میں اب بھی پڑھ رہا ہوں۔ ورق پلٹتا ہوں تو نئی عبارت سامنے آتی ہے۔
کبھی کوئی شخص ملتا ہے، ایک پورا باب بن جاتا ہے، پھر اچانک کتاب سے غائب ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی حادثہ چند سطروں میں پوری زندگی کا مفہوم بدل دیتا ہے۔ کبھی ایک ملاقات برسوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے، اور کبھی ایک جملہ برسوں کی قربت کو اجنبیت میں بدل دیتا ہے۔ کبھی خوشی کا صفحہ آتا ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ بھی چند سطروں بعد ختم نہ ہو جائے۔ کبھی غم کا باب شروع ہوتا ہے تو دل کہتا ہے شاید یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لیکن ہر باب ختم ہوتا ہے۔ یہ بھی شاید اس کتاب کا ایک راز ہے۔
کچھ لوگ ہمیں سبق دینے آتے ہیں، کچھ آزمائش بن کر، کچھ محبت بن کر، کچھ جدائی بن کر۔ کچھ ہمارے ہاتھ میں ہاتھ دے کر چند قدم چلتے ہیں اور پھر کسی موڑ پر مڑ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ نہیں رہتے مگر ہمیں اپنے بعد بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے اندر ایک ایسی خاموشی چھوڑ جاتے ہیں جسے ہم ساری عمر پڑھتے رہتے ہیں۔ شاید زندگی کو سمجھنے کا مطلب ہر عبارت کا مفہوم جان لینا نہیں۔ شاید زندگی کا کمال یہی ہے کہ کچھ سوال بے جواب رہیں۔
کچھ لوگ کیوں آئے؟ کچھ کیوں چلے گئے؟ کچھ نے محبت کیوں کی؟ کچھ نے محبت کے نام پر زخم کیوں دیے؟ کچھ نے وعدہ کیوں کیا؟ کچھ نے وعدہ کیوں توڑا؟ کچھ نے ہمارا ہاتھ کیوں چھوڑ دیا؟ اور کچھ نے ہاتھ بڑھایا ہی کیوں نہیں؟
شاید ان سب سوالوں کے جواب ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ ہم اس کتاب کے صرف قاری ہیں، مصنف نہیں۔ ہمیں ہر سطر کا راز جاننے کا اختیار نہیں۔ ہمیں ہر واقعے کا سبب معلوم ہونا ضروری نہیں۔ ہمیں بس پڑھتے رہنا ہے۔ ورق پلٹتے رہنا ہے۔
کبھی آنکھوں میں آنسو لیے، کبھی لبوں پر مسکراہٹ لیے، کبھی سوالوں کے بوجھ کے ساتھ، کبھی امید کی ایک ننھی سی روشنی تھامے۔ اور شاید ایک دن، کتاب کا آخری ورق پلٹتے ہوئے ہمیں معلوم ہو کہ جن عبارتوں کو ہم ساری عمر ناقابلِ فہم سمجھتے رہے، وہ دراصل ہمیں ہی پڑھ رہی تھیں۔ ہم دنیا کو نہیں پڑھ رہے تھے، دنیا ہمیں پڑھ رہی تھی۔ ہم لوگوں کے چہرے سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، اور وقت ہمارے چہرے پر زندگی کی عبارت لکھ رہا تھا۔ ہم دوسروں کے بدلنے پر حیران تھے، اور خود ہر روز بدل رہے تھے۔ ہم اپنوں کے بیگانہ ہونے کا شکوہ کر رہے تھے، اور شاید کہیں نہ کہیں کسی دوسرے کے لیے ہم بھی اجنبی ہو رہے تھے۔ ہم ہاتھ نہ ملنے کا گلہ کر رہے تھے، شاید کسی ڈوبتے ہوئے انسان کی طرف ہمارا اپنا ہاتھ بھی کبھی نہیں بڑھا۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کی یہ پیچیدہ کتاب ذرا سی آسان ہونے لگتی ہے۔ جب انسان دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو سمجھنے لگے۔ جب شکایت سے پہلے اپنا احتساب کرے۔ جب کسی کے گرنے پر انگلی اٹھانے کے بجائے ہاتھ بڑھائے۔ جب کسی کے آنسو دیکھ کر یہ نہ پوچھے کہ کیوں رو رہے ہو؟ بلکہ خاموشی سے اتنا کہہ دے: رو لو، میں یہیں ہوں۔ شاید دنیا پھر بھی پوری طرح سمجھ میں نہ آئے۔ مگر شاید دل پر بوجھ کچھ کم ہو جائے۔ شاید بھنور وہیں رہے، مگر کنارے کی امید پیدا ہو جائے۔ شاید ندی کی گہرائی وہی رہے، مگر کسی ہاتھ کی حرارت محسوس ہونے لگے۔ شاید کھائی اپنی جگہ موجود رہے، مگر گرنے والے کو یہ یقین ہو کہ اوپر کوئی اسے دیکھنے والا ہی نہیں، اٹھانے والا بھی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور شاید زندگی کی اس بے شمار صفحات والی کتاب میں یہی ایک عبارت سب سے زیادہ ضروری ہے:
انسان، انسان کے کام آئے۔
باقی سب عبارتیں شاید ہم عمر بھر پڑھتے رہیں گے۔
شاید سمجھیں گے بھی نہیں۔
اور شاید یہی نہ سمجھ پانا بھی زندگی کی کتاب کا ایک ایسا راز ہے، جسے سمجھنے کے لیے پوری زندگی بھی کم ہے۔
نگارشِ فکر
محمد شعیب خان نجمی ؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
23
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 49
Kalam 41
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

بچپن کا سفر [قسطِ ہفتم]

اصول تکفیر اور تحقیقات امام احمد رضا خان

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢