صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
امام محمد بن حسن شیبانی اور فقہ حنفی کی خدمات
شخصیات اسلاف واخلاف

امام محمد بن حسن شیبانی اور فقہ حنفی کی خدمات

✍️ Mufti Zakir Raza Markazi

امام محمد بن حسن شیبانی اور فقہ حنفی کی خدمات
مذہبِ حنفی آج پوری دنیا میں تمام مذاہب میں سب سے زیادہ متداول اور شائع مذہب ہے اور اسی طرح سے فقہی جزئیات واقوال کے اعتبار سے یہ مذہب سب سے زیادہ مالامال ہے ۔ نت نئے قوانین وضوابط کے استنباط، اور قضاء سے متعلق اجتہادات میں اس سے زیادہ نافع مذہب کوئی بھی نہیں ہے ۔
فقہ حنفی کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اس مذہب کو فروغ دینے میں علماءِ عراق کا ہاتھ رہا ہے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد یہ فقہ آپ کے عبقری تلامذۃ کی بدولت اپنے عروج کو پہنچ گیا اور چار دانگِ عالم میں پھیل گیا اور اسلامی قانون کی شکل اختیار کرلیا۔ ان تلامذہ میں امام ابو یوسف و امام محمد علیهما الرحمۃ کا نام سر فہرست نظر آتا ہے چونکہ امام ابو یوسف کا تحریری کارنامہ کتاب الامالی جیسی چند کتب تک ہی محدود رہا اس کے بر عکس امام محمد شیبانی کی تالیفات فقہ و قانون کے سارے زاویوں کو جامع اور نہایت مفصل ہے امام محمد کے ان خدمات کے سبب جملہ متأخر حنفی فقہاء ان کے خوشہ چین ہیں ـ

امام محمد کا مختصر تعارف

امام شیبانی حدیث و فقہ کے استاذ،امام اور مجتہد،عابد و زاہد،جواد و فیاض،صاحب تصانیف کثیرہ جنہوں نے ایک لاکھ سے زائد مسائل کا استنباط کیا تقریباً ایک ہزار کتب تصنیف کیں اور بے شمار تلامذہ چھوڑےـ کتاب الآثار کے تذکرۂ مصنف میں ہے آپ کی ولادت 132ھ میں عراق کے شہر واسط میں ہوئی پھر کچھ عرصہ کے بعد آپ کے والد صاحب کوفہ چلے آئے اور اسی شہر میں آپ کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا اس وقت کوفہ میں امام ابو حنیفہ امام, ابو یوسف اور سفیان ثوری عليهم الرحمة جیسے نابغۂ روزگار حضرات کے علم و فضل کا چرچا تھا آپ نے امام ابو حنیفہ سے شرف تلمذ حاصل کیا ان کے وصال کے بعد امام ابو یوسف سے علم فقہ میں مزید مہارت حاصل کی پھر امام اوزاعی اور امام مالک عليهما الرحمة کی بارگاہ سے علم حدیث حاصل کیا ـ

آپ کی تدریسی خدمات

جب آپ کے علم و فضل کی شہرت اکناف عالم میں ہوئی تو دور دور سے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر تشنگان علم اپنی پیاس بجھاتے رہے آپ سے تکمیل علم کرکے فارغ ہونے والوں کی تعداد معلوم کرنا مشکل ہے ـ اس بات میں ادنی شک کی بھی گنجائش نہیں کیوں کہ آپ نے اپنی تقریبا پوری زندگی حصول علم اور درس و تدریس کے لئے وقف کر رکھی تھی اور خدمت دین کے جذبے سے سرشار تھے اور لوگوں کے لیے احکام دین کو آسان بنانے کی خاطر شب و روز کوشاں رہتے تھےـ لہذا اگر ان جیسی نابغۂ روزگار، ذہانت کو روشن کرنے ،عقلی صلاحیت کو پروان چڑھانے، زہد و ورع کو فروغ دینے اور طلبہ کو مجالس علمیہ کی طرف متوجہ کرنے والی شخصیت استاد ہو تو تلامذہ کا ہجوم لا تعداد ہی ہوگا ـ میٹھے چشمہ پر لوگوں کا ہجوم ہوا ہی کرتا ہےـ امام محمد شیبانی نے تقریبا بیس برس کی عمر میں تدریس شروع کردی اور فقہ و حدیث اور لغت کی امامت کے انتہائی مرتبے پر فائز ہوئے تو لازمی ہے کہ آپ سے حصول علم و کسب فضل کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی ـ چنانچہ آپ کے حلقۂ درس میں بیٹھنے والوں اور آپ سے علمی استفادہ کرنے والوں کو شمار کرنا دشوار کام ہے ـ لہذا کتاب الآثار کے تذکرۂ مصنف میں آپ کے چند مشہور تلامذہ کا ذکر ہے جن متوسلین میں محمد بن ادریس شافعی,ابو سلیمان جوزجانی,ہشام بن عبد اللہ رازی,ابو عبید القاسم بن سلام,اسماعیل بن توبہ اور علی بن مسلم طوسی عليهم الرحمة بھی شامل ہیں ـ

فقہ حنفی کی تدوین و نشر

فقہ حنفی کے تحفظ میں امام شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات آفتاب نیم روز کی مانند عیاں ہیں ـ اگر امام شیبانی کی تدوین خارج میں نہ آتی تو اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا کیوں کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ تصنیف کے بمقابل تربیت رجال پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتے تھے ـ باوجودیکہ ان سے عقیدے کے متعلق چند رسالے منقول ہیں اور امام ابو یوسف سے بھی زیادہ تالیفات وجود میں نہ آئیں جن کو تدوین فقہ کی بنیاد قرار دیا جائے ـ لیکن امام شیبانی نے فقہ حنفی کو تحریری شکل دی ـ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے اقوال کو محفوظ کیا اور ان کی روشنی میں نئے پیش آنے والے مسائل کے احکام واضح کیے اور ان مسائل کو اپنی تصانیف کے ذریعہ عام کیا آپ کی تصانیف کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: ظاہر الروایۃ اور نوادر یا غیر ظاہر الروایۃ۔
القسم الاول: ظاہر الروایۃ وہ چھ بنیادی کتب جو فقہ حنفی کا ستون مانی جاتی ہیں اور جن کی تدوین بعد میں حاکم شہید رحمۃ اللہ علیہ نے الکافی فی فروع الفقہ کے نام سے کی۔ وہ چھ کتب یہ ہیں:
الجامع الصغیر: یہ امام ابو یوسف اور امام محمد عليهما الرحمة دونوں نے ترتیب دی۔ اس میں مختصر فقہی مسائل شامل ہیں۔ اس کی تالیف کا سبب یہ ہے کہ امام ابو یوسف نے امام شیبانی سے ایسی کتاب تالیف کرنے کو کہا جس میں ان کی سند سے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی روایات جمع کریں جب آپ نے اسے تالیف کر کے پیش کیا تو وہ بہت خوش ہوئے یہ کتاب ایک ہزار پانچ سو بتیس 1532 مسائل پر مشتمل ہے ـ(شرح عقود رسم المفتی ص 96)
الجامع الکبیر : اس میں نسبتاً زیادہ تفصیلی اور اہم فقہی مسائل، خصوصاً وہ جن پر ائمۂ ثلاثہ کا اتفاق یا اختلاف ہے، جمع کیے گئے ہیں۔ مگر ان کو نہایت ہی ایجاز و اختصار کے ساتھ بیان کیا جس کی وجہ سے آپ کی وجوہ تفریع سمجھنے میں دشواری پیدا ہوتی اسی وجہ سے بہت سے ائمۂ فقہ نے اس کی شرحیں تالیف کیں جن کی تعداد تراسی ہے جن کی منظومات تلخیصات اور شروح ان کے علاوہ ہیں ـ (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ص 154)
السِیَر الصغیر: یہ بین الاقوامی قانون اور جنگی قوانین سے متعلق امام ابو حنیفہ کے اقوال پر مبنی ہے۔ جو آپ نے ان کے حلقۂ درس میں شریک ہو کر روایت کئے ہیں اور بعض اقوال امام ابو یوسف سے بھی اس میں اخذ کئے ہیں ـ (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ص 158)
السِیَر الکبیر: جہاد، معاہدات، اور جنگ و امن کے قوانین پر ایک تفصیلی اور جامع کتاب ہے۔ امام شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح السیر الکبیر کے آغاز میں ذکر کیا السیر الکبیر فقہ میں امام محمد کی آخری تصنیف ہے پھر فرمایا اس کا سبب تالیف یہ ہے کہ جب آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب السیر الصغیر اہل شام کے عالم امام عبد الرحمٰن بن اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھی تو پوچھا یہ کتاب کس کی ہے ؟ بتایا گیا محمد عراقی کی فرمایا اہل عراق کو اس موضوع سے کیا سروکار! انہیں تو سیرت کا علم ہی نہیں کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کے غزوات تو عراق کے بجائے حجاز اور شام میں ہوئے نیز عراق تو نیا مفتوحہ علاقہ ہے چنانچہ امام محمد علیہ الرحمۃ کو جب یہ بات پہنچی تو ناراضگی کا اظہار کیا اور کام موقوف کرتے ہوئے اسے تالیف کیا کہا جاتا ہے کہ امام اوزاعی علیہ الرحمۃ نے جب اسے ملاحظہ کیا تو فرمایا اگر مصنف نے اس میں احادیث ذکر نہ کی ہوتیں تو میں کہتا کہ یہ خود سے علم گڑھنے والا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے ان کی رائے میں اصابتِ جواب کی سمت متعین فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا وَفَوۡقَ كُلِّ ذِی عِلۡمٍ عَلِیمࣱ پھر امام محمد علیہ الرحمۃ نے اسے ساٹھ دفتروں میں لکھنے کا حکم دیا اور اسے ایک بیل گاڑی پر لاد کر خلیفۂ وقت کے پاس بھجوایا خلیفہ نے بہت پسند کیا اور اسے اپنے زمانے کے باعث فخر کاموں میں شمار کیا (شرح عقود رسم المفتی صفحہ 98)
المبسوط: اس کو الاصل کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کی اولین تصنیف میں سے ہے یہ آپ کی سب سے اہم تصنیف سمجھی جاتی ہے، جو فقہ حنفی کے تمام ابواب پر تفصیلی مباحث پر مشتمل ہے۔ اسے فقہ حنفی کا سرچشمہ کہا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے فقہی مسائل کے موضوعات کے مطابق ابواب قائم کرنے کا اسلوب اختیار کیا امام محمد علیہ الرحمۃ اس کتاب کے آغاز میں اس کے تالیفی منہج کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں میں نے تمہارے سامنے امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف علیہما الرحمۃ اور اپنے مسلک کی وضاحت کر دی ہے اور کسی مذہب میں مسلک کا ذکر نہ ہو تو سمجھ لو کہ وہ ہم سب کا مسلک ہے (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثری فی الفقہی الاسلامی ص146)
الزیادات: یہ ان مسائل کا مجموعہ ہے جو المبسوط، الجامع الصغیر اور الجامع الکبیر میں شامل نہیں ہو سکے یا بعد میں ان کے سامنے آئے۔ اس کا سبب تالیف یہ ہے کہ امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ نے ایک مجلس میں دقیق فروع کی تفریع کرنے کے بعد فرمایا کہ ان مسائل کی تفریع امام محمد کے لئے مشکل ہے جب یہ بات امام محمد کو پہنچی تو آپ نے الزیادات تالیف کی تاکہ اتمام حجت ہو جائے کہ ان جیسے بلکہ ان سے بھی ادق مسائل کی تفریع آپ کے لئے مشکل نہیں (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی 163)
القسم الثانی غیر ظاہر الروایۃ یا نوادر یہ کتابیں پہلی قسم کی کتابوں سے متقابل ہیں مثلاً الاکتساب فی الرزق المستطاب الجرجانیات الرقیات الکیسانیات معاشرات الشیبانی ہارونیات یہ کتابیں ظاہرالروایۃ کی طرح امام محمد سے تواتر کے ساتھ ثابت نہیں ہیں علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ان کتابوں کو غیر ظاہر الروایۃ اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ امام محمد سے روایات ظاہرہ ثابتہ صحیحہ کے ذریعہ مروی نہیں ہیں جس طرح ظاہر الروایۃ مروی ہیں (شرح عقود رسم المفتی ص 83)
نیز ائمۂ حنفیہ میں ان سے زیادہ کسی امام کی تصنیف نہیں اور محض علم فقہ ہی نہیں بلکہ علم حدیث میں بھی آپ نے قلم چلایا جن میں مشہور تصنیف کتاب الآثار ہے جو 106 احادیث اور 718 آثار مع اقوال امام اعظم محتوی ہے

امام محمد منصب قضاء پر

کتاب الآثار میں ہے کہ امام ابو یوسف فقہ حنفی کی ترویج و اشاعت کا انتہائی شوق رکھتے تھے ان کی خواہش تھی کہ ملک کے قوانین فقہ حنفی کے مطابق ہوں اسی سبب آپ نے خلیفہ ہارون رشید کی درخواست پر قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کر لیا کچھ عرصہ بعد ہارون رشید نے شام کے علاقہ کے لئے امام محمد کو بحیثیت قاضی مقرر کیا جب امام محمد کو اس کی خبر ہوئی تو امام ابو یوسف کی بارگاہ میں اعتذار پیش کیا کہ میں اس قابل نہیں امام ابو یوسف نے اپنی خواہش کے پیش نظر کہ مسلک حنفی کی اشاعت ہو ان سے اتفاق نہ کیا اور ان کو مجبوراً منصب قضاء کو قبول کرنا پڑا چنانچہ امام محمد اپنی حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے کچھ عرصہ بعد سبکدوش ہو گئے اسی عرصہ میں ہارون رشید کی زوجہ نے کسی مسئلہ کے متعلق آپ کی بارگاہ میں درخواست پیش کی تو آپ نے فرمایا کہ مجھے افتاء سے روک دیا گیا ہے پھر ہارون رشید سے ان کی زوجہ نے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو ہارون رشید نے امام محمد کو نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ قاضی القضاۃ کا عہدہ پیش کیا

امام محمد قانون بین الممالک کے بانی

امام محمد واحد ایسے فقیہ ہیں جنہوں نے قانون بین الممالک کے اصول کو مکمل تفصیل کے ساتھ لکھا کہ آپ سے پہلے اتنی شرح و بسط کسی نے نہ کی اس لئے آپ کو اسلام کی بین الاقوامی قانونی فکر کا بانی شمار کیا جاتا ہے اس سلسلہ میں آپ نے گروٹیس (huge grotius) پر بھی سبقت کر لی جو اہل یورپ کے نزدیک آٹھ صدیوں سے زائد عرصے سے قانون بین الممالک کا بانی گردانا جا رہا ہے گروٹیس 1645ء میں مرا حالانکہ امام محمد کی وفات 189ھ مطابق 804ء میں ہوئی لہذا امام محمد شیبانی پوری دنیا میں قانون بین الممالک کے بانی ثابت ہوئے بعض علم تاریخ سے شغف رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بسا اوقات ایسا لگتا ہے کہ گروٹیس نے امام محمد کی کتاب السیر الکبیر کا مطالعہ کرکے انہیں اساسی قوانین کے اصول نقل کر دیے جنہیں امام محمد نے بین الممالک تعلقات کے ضمن میں بیان کیا ہے اور اس نے یہ قواعد اپنی طرف منسوب کر لئے اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ امام محمد گروٹیس سے ایک طویل عرصہ پہلے گزرے ہیں آپ نے اپنی کتاب میں شریعت اسلامی کے اصلی مصادر پر اعتماد کیا ہے اور وہ مسائل بھی بیان کیے جنہیں آپ سے پہلے کسی مسلم و غیر مسلم فقیہ نے بیان نہیں کیے اور گروٹیس نے اپنی کتاب میں طبعی قانون پر اعتماد کیا لہذا امام محمد پوری دنیا میں بلا اختلاف قانون بین الممالک کے بانی ہیں امام محمد کا صرف اتنا فضل نہیں کہ وہ پہلے قانون بین الممالک کے مؤسس ہیں بلکہ ان کا فضل تو قانونی فکر کے میدان میں بھی آفتاب نیم روز کی مانند عیاں ہے اور یہ بات بھی ہے کہ موجودہ قانون بین الممالک امام محمد کے قانون بین الممالک سے جدید بھی نہیں (الامام محمد بن الحسن الشيباني و اثره في الفقه الاسلامي ص343)

سانحۂ وصال

کتاب الآثار کے تذکرۂ مصنف میں ہے امام محمد کی اٹھاون سالہ حیات کا بیشتر حصہ فقہی تحقیقات اور مسائل کے استنباط و اجتہاد میں گزارا جب آپ قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز تھے تو ایک مرتبہ ہارون رشید آپ کو اپنی رفاقت میں ایک سفر پر لے گئے لہذا درمیان سفر مقام رے میں آپ کا وصال ہوا اسی سفر میں ہارون رشید کے ہمراہ نحو کے مشہور امام امام کسائی بھی تھے اتفاقاً آپ کا بھی اسی دن وصال ہوا لہذا آپ دونوں حضرات وہیں مدفون ہوئے روایت ہے کہ بعد وصال کسی کو خواب میں آپ کی زیارت نصیب ہوئی تو عرض کی کہ آپ کا نزع کے وقت کیا حال تھا آپ نے فرمایا میں اس وقت مکاتب کے مسائل میں سے ایک مسئلہ پر غور کر رہا تھا مجھ کو روح نکلنے کی خبر نہیں ہوئی
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
امام محمد کی فقہی خدمات کے جس بھی زاویے پر قلم اٹھایا جائے اس کے لئے ایک دفتر بھی کافی نہ ہوگا لہذا اپنے علمی کم مائیگی کے باوجود اس بحر ناپیدا کنار سے کچھ اپنے کانسے میں لینے کے لئے اس مضمون کو قلم بند کیا ہے
اللہ تعالٰی میری اس کوشش کو قبول فرمائے اور ان کے تفقہ فی الدین سے کچھ قطرات عطا فرمائے آمین

امام محمد بن حسن شیبانی اور فقہ حنفی کی خدمات

مضمون نگار: Mufti Zakir Raza Markazi

امام محمد بن حسن شیبانی اور فقہ حنفی کی خدمات
مذہبِ حنفی آج پوری دنیا میں تمام مذاہب میں سب سے زیادہ متداول اور شائع مذہب ہے اور اسی طرح سے فقہی جزئیات واقوال کے اعتبار سے یہ مذہب سب سے زیادہ مالامال ہے ۔ نت نئے قوانین وضوابط کے استنباط، اور قضاء سے متعلق اجتہادات میں اس سے زیادہ نافع مذہب کوئی بھی نہیں ہے ۔
فقہ حنفی کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اس مذہب کو فروغ دینے میں علماءِ عراق کا ہاتھ رہا ہے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد یہ فقہ آپ کے عبقری تلامذۃ کی بدولت اپنے عروج کو پہنچ گیا اور چار دانگِ عالم میں پھیل گیا اور اسلامی قانون کی شکل اختیار کرلیا۔ ان تلامذہ میں امام ابو یوسف و امام محمد علیهما الرحمۃ کا نام سر فہرست نظر آتا ہے چونکہ امام ابو یوسف کا تحریری کارنامہ کتاب الامالی جیسی چند کتب تک ہی محدود رہا اس کے بر عکس امام محمد شیبانی کی تالیفات فقہ و قانون کے سارے زاویوں کو جامع اور نہایت مفصل ہے امام محمد کے ان خدمات کے سبب جملہ متأخر حنفی فقہاء ان کے خوشہ چین ہیں ـ

امام محمد کا مختصر تعارف

امام شیبانی حدیث و فقہ کے استاذ،امام اور مجتہد،عابد و زاہد،جواد و فیاض،صاحب تصانیف کثیرہ جنہوں نے ایک لاکھ سے زائد مسائل کا استنباط کیا تقریباً ایک ہزار کتب تصنیف کیں اور بے شمار تلامذہ چھوڑےـ کتاب الآثار کے تذکرۂ مصنف میں ہے آپ کی ولادت 132ھ میں عراق کے شہر واسط میں ہوئی پھر کچھ عرصہ کے بعد آپ کے والد صاحب کوفہ چلے آئے اور اسی شہر میں آپ کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا اس وقت کوفہ میں امام ابو حنیفہ امام, ابو یوسف اور سفیان ثوری عليهم الرحمة جیسے نابغۂ روزگار حضرات کے علم و فضل کا چرچا تھا آپ نے امام ابو حنیفہ سے شرف تلمذ حاصل کیا ان کے وصال کے بعد امام ابو یوسف سے علم فقہ میں مزید مہارت حاصل کی پھر امام اوزاعی اور امام مالک عليهما الرحمة کی بارگاہ سے علم حدیث حاصل کیا ـ

آپ کی تدریسی خدمات

جب آپ کے علم و فضل کی شہرت اکناف عالم میں ہوئی تو دور دور سے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر تشنگان علم اپنی پیاس بجھاتے رہے آپ سے تکمیل علم کرکے فارغ ہونے والوں کی تعداد معلوم کرنا مشکل ہے ـ اس بات میں ادنی شک کی بھی گنجائش نہیں کیوں کہ آپ نے اپنی تقریبا پوری زندگی حصول علم اور درس و تدریس کے لئے وقف کر رکھی تھی اور خدمت دین کے جذبے سے سرشار تھے اور لوگوں کے لیے احکام دین کو آسان بنانے کی خاطر شب و روز کوشاں رہتے تھےـ لہذا اگر ان جیسی نابغۂ روزگار، ذہانت کو روشن کرنے ،عقلی صلاحیت کو پروان چڑھانے، زہد و ورع کو فروغ دینے اور طلبہ کو مجالس علمیہ کی طرف متوجہ کرنے والی شخصیت استاد ہو تو تلامذہ کا ہجوم لا تعداد ہی ہوگا ـ میٹھے چشمہ پر لوگوں کا ہجوم ہوا ہی کرتا ہےـ امام محمد شیبانی نے تقریبا بیس برس کی عمر میں تدریس شروع کردی اور فقہ و حدیث اور لغت کی امامت کے انتہائی مرتبے پر فائز ہوئے تو لازمی ہے کہ آپ سے حصول علم و کسب فضل کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی ـ چنانچہ آپ کے حلقۂ درس میں بیٹھنے والوں اور آپ سے علمی استفادہ کرنے والوں کو شمار کرنا دشوار کام ہے ـ لہذا کتاب الآثار کے تذکرۂ مصنف میں آپ کے چند مشہور تلامذہ کا ذکر ہے جن متوسلین میں محمد بن ادریس شافعی,ابو سلیمان جوزجانی,ہشام بن عبد اللہ رازی,ابو عبید القاسم بن سلام,اسماعیل بن توبہ اور علی بن مسلم طوسی عليهم الرحمة بھی شامل ہیں ـ

فقہ حنفی کی تدوین و نشر

فقہ حنفی کے تحفظ میں امام شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات آفتاب نیم روز کی مانند عیاں ہیں ـ اگر امام شیبانی کی تدوین خارج میں نہ آتی تو اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا کیوں کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ تصنیف کے بمقابل تربیت رجال پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتے تھے ـ باوجودیکہ ان سے عقیدے کے متعلق چند رسالے منقول ہیں اور امام ابو یوسف سے بھی زیادہ تالیفات وجود میں نہ آئیں جن کو تدوین فقہ کی بنیاد قرار دیا جائے ـ لیکن امام شیبانی نے فقہ حنفی کو تحریری شکل دی ـ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے اقوال کو محفوظ کیا اور ان کی روشنی میں نئے پیش آنے والے مسائل کے احکام واضح کیے اور ان مسائل کو اپنی تصانیف کے ذریعہ عام کیا آپ کی تصانیف کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: ظاہر الروایۃ اور نوادر یا غیر ظاہر الروایۃ۔
القسم الاول: ظاہر الروایۃ وہ چھ بنیادی کتب جو فقہ حنفی کا ستون مانی جاتی ہیں اور جن کی تدوین بعد میں حاکم شہید رحمۃ اللہ علیہ نے الکافی فی فروع الفقہ کے نام سے کی۔ وہ چھ کتب یہ ہیں:
الجامع الصغیر: یہ امام ابو یوسف اور امام محمد عليهما الرحمة دونوں نے ترتیب دی۔ اس میں مختصر فقہی مسائل شامل ہیں۔ اس کی تالیف کا سبب یہ ہے کہ امام ابو یوسف نے امام شیبانی سے ایسی کتاب تالیف کرنے کو کہا جس میں ان کی سند سے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی روایات جمع کریں جب آپ نے اسے تالیف کر کے پیش کیا تو وہ بہت خوش ہوئے یہ کتاب ایک ہزار پانچ سو بتیس 1532 مسائل پر مشتمل ہے ـ(شرح عقود رسم المفتی ص 96)
الجامع الکبیر : اس میں نسبتاً زیادہ تفصیلی اور اہم فقہی مسائل، خصوصاً وہ جن پر ائمۂ ثلاثہ کا اتفاق یا اختلاف ہے، جمع کیے گئے ہیں۔ مگر ان کو نہایت ہی ایجاز و اختصار کے ساتھ بیان کیا جس کی وجہ سے آپ کی وجوہ تفریع سمجھنے میں دشواری پیدا ہوتی اسی وجہ سے بہت سے ائمۂ فقہ نے اس کی شرحیں تالیف کیں جن کی تعداد تراسی ہے جن کی منظومات تلخیصات اور شروح ان کے علاوہ ہیں ـ (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ص 154)
السِیَر الصغیر: یہ بین الاقوامی قانون اور جنگی قوانین سے متعلق امام ابو حنیفہ کے اقوال پر مبنی ہے۔ جو آپ نے ان کے حلقۂ درس میں شریک ہو کر روایت کئے ہیں اور بعض اقوال امام ابو یوسف سے بھی اس میں اخذ کئے ہیں ـ (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ص 158)
السِیَر الکبیر: جہاد، معاہدات، اور جنگ و امن کے قوانین پر ایک تفصیلی اور جامع کتاب ہے۔ امام شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح السیر الکبیر کے آغاز میں ذکر کیا السیر الکبیر فقہ میں امام محمد کی آخری تصنیف ہے پھر فرمایا اس کا سبب تالیف یہ ہے کہ جب آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب السیر الصغیر اہل شام کے عالم امام عبد الرحمٰن بن اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھی تو پوچھا یہ کتاب کس کی ہے ؟ بتایا گیا محمد عراقی کی فرمایا اہل عراق کو اس موضوع سے کیا سروکار! انہیں تو سیرت کا علم ہی نہیں کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کے غزوات تو عراق کے بجائے حجاز اور شام میں ہوئے نیز عراق تو نیا مفتوحہ علاقہ ہے چنانچہ امام محمد علیہ الرحمۃ کو جب یہ بات پہنچی تو ناراضگی کا اظہار کیا اور کام موقوف کرتے ہوئے اسے تالیف کیا کہا جاتا ہے کہ امام اوزاعی علیہ الرحمۃ نے جب اسے ملاحظہ کیا تو فرمایا اگر مصنف نے اس میں احادیث ذکر نہ کی ہوتیں تو میں کہتا کہ یہ خود سے علم گڑھنے والا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے ان کی رائے میں اصابتِ جواب کی سمت متعین فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا وَفَوۡقَ كُلِّ ذِی عِلۡمٍ عَلِیمࣱ پھر امام محمد علیہ الرحمۃ نے اسے ساٹھ دفتروں میں لکھنے کا حکم دیا اور اسے ایک بیل گاڑی پر لاد کر خلیفۂ وقت کے پاس بھجوایا خلیفہ نے بہت پسند کیا اور اسے اپنے زمانے کے باعث فخر کاموں میں شمار کیا (شرح عقود رسم المفتی صفحہ 98)
المبسوط: اس کو الاصل کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کی اولین تصنیف میں سے ہے یہ آپ کی سب سے اہم تصنیف سمجھی جاتی ہے، جو فقہ حنفی کے تمام ابواب پر تفصیلی مباحث پر مشتمل ہے۔ اسے فقہ حنفی کا سرچشمہ کہا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے فقہی مسائل کے موضوعات کے مطابق ابواب قائم کرنے کا اسلوب اختیار کیا امام محمد علیہ الرحمۃ اس کتاب کے آغاز میں اس کے تالیفی منہج کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں میں نے تمہارے سامنے امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف علیہما الرحمۃ اور اپنے مسلک کی وضاحت کر دی ہے اور کسی مذہب میں مسلک کا ذکر نہ ہو تو سمجھ لو کہ وہ ہم سب کا مسلک ہے (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثری فی الفقہی الاسلامی ص146)
الزیادات: یہ ان مسائل کا مجموعہ ہے جو المبسوط، الجامع الصغیر اور الجامع الکبیر میں شامل نہیں ہو سکے یا بعد میں ان کے سامنے آئے۔ اس کا سبب تالیف یہ ہے کہ امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ نے ایک مجلس میں دقیق فروع کی تفریع کرنے کے بعد فرمایا کہ ان مسائل کی تفریع امام محمد کے لئے مشکل ہے جب یہ بات امام محمد کو پہنچی تو آپ نے الزیادات تالیف کی تاکہ اتمام حجت ہو جائے کہ ان جیسے بلکہ ان سے بھی ادق مسائل کی تفریع آپ کے لئے مشکل نہیں (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی 163)
القسم الثانی غیر ظاہر الروایۃ یا نوادر یہ کتابیں پہلی قسم کی کتابوں سے متقابل ہیں مثلاً الاکتساب فی الرزق المستطاب الجرجانیات الرقیات الکیسانیات معاشرات الشیبانی ہارونیات یہ کتابیں ظاہرالروایۃ کی طرح امام محمد سے تواتر کے ساتھ ثابت نہیں ہیں علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ان کتابوں کو غیر ظاہر الروایۃ اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ امام محمد سے روایات ظاہرہ ثابتہ صحیحہ کے ذریعہ مروی نہیں ہیں جس طرح ظاہر الروایۃ مروی ہیں (شرح عقود رسم المفتی ص 83)
نیز ائمۂ حنفیہ میں ان سے زیادہ کسی امام کی تصنیف نہیں اور محض علم فقہ ہی نہیں بلکہ علم حدیث میں بھی آپ نے قلم چلایا جن میں مشہور تصنیف کتاب الآثار ہے جو 106 احادیث اور 718 آثار مع اقوال امام اعظم محتوی ہے

امام محمد منصب قضاء پر

کتاب الآثار میں ہے کہ امام ابو یوسف فقہ حنفی کی ترویج و اشاعت کا انتہائی شوق رکھتے تھے ان کی خواہش تھی کہ ملک کے قوانین فقہ حنفی کے مطابق ہوں اسی سبب آپ نے خلیفہ ہارون رشید کی درخواست پر قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کر لیا کچھ عرصہ بعد ہارون رشید نے شام کے علاقہ کے لئے امام محمد کو بحیثیت قاضی مقرر کیا جب امام محمد کو اس کی خبر ہوئی تو امام ابو یوسف کی بارگاہ میں اعتذار پیش کیا کہ میں اس قابل نہیں امام ابو یوسف نے اپنی خواہش کے پیش نظر کہ مسلک حنفی کی اشاعت ہو ان سے اتفاق نہ کیا اور ان کو مجبوراً منصب قضاء کو قبول کرنا پڑا چنانچہ امام محمد اپنی حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے کچھ عرصہ بعد سبکدوش ہو گئے اسی عرصہ میں ہارون رشید کی زوجہ نے کسی مسئلہ کے متعلق آپ کی بارگاہ میں درخواست پیش کی تو آپ نے فرمایا کہ مجھے افتاء سے روک دیا گیا ہے پھر ہارون رشید سے ان کی زوجہ نے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو ہارون رشید نے امام محمد کو نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ قاضی القضاۃ کا عہدہ پیش کیا

امام محمد قانون بین الممالک کے بانی

امام محمد واحد ایسے فقیہ ہیں جنہوں نے قانون بین الممالک کے اصول کو مکمل تفصیل کے ساتھ لکھا کہ آپ سے پہلے اتنی شرح و بسط کسی نے نہ کی اس لئے آپ کو اسلام کی بین الاقوامی قانونی فکر کا بانی شمار کیا جاتا ہے اس سلسلہ میں آپ نے گروٹیس (huge grotius) پر بھی سبقت کر لی جو اہل یورپ کے نزدیک آٹھ صدیوں سے زائد عرصے سے قانون بین الممالک کا بانی گردانا جا رہا ہے گروٹیس 1645ء میں مرا حالانکہ امام محمد کی وفات 189ھ مطابق 804ء میں ہوئی لہذا امام محمد شیبانی پوری دنیا میں قانون بین الممالک کے بانی ثابت ہوئے بعض علم تاریخ سے شغف رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بسا اوقات ایسا لگتا ہے کہ گروٹیس نے امام محمد کی کتاب السیر الکبیر کا مطالعہ کرکے انہیں اساسی قوانین کے اصول نقل کر دیے جنہیں امام محمد نے بین الممالک تعلقات کے ضمن میں بیان کیا ہے اور اس نے یہ قواعد اپنی طرف منسوب کر لئے اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ امام محمد گروٹیس سے ایک طویل عرصہ پہلے گزرے ہیں آپ نے اپنی کتاب میں شریعت اسلامی کے اصلی مصادر پر اعتماد کیا ہے اور وہ مسائل بھی بیان کیے جنہیں آپ سے پہلے کسی مسلم و غیر مسلم فقیہ نے بیان نہیں کیے اور گروٹیس نے اپنی کتاب میں طبعی قانون پر اعتماد کیا لہذا امام محمد پوری دنیا میں بلا اختلاف قانون بین الممالک کے بانی ہیں امام محمد کا صرف اتنا فضل نہیں کہ وہ پہلے قانون بین الممالک کے مؤسس ہیں بلکہ ان کا فضل تو قانونی فکر کے میدان میں بھی آفتاب نیم روز کی مانند عیاں ہے اور یہ بات بھی ہے کہ موجودہ قانون بین الممالک امام محمد کے قانون بین الممالک سے جدید بھی نہیں (الامام محمد بن الحسن الشيباني و اثره في الفقه الاسلامي ص343)

سانحۂ وصال

کتاب الآثار کے تذکرۂ مصنف میں ہے امام محمد کی اٹھاون سالہ حیات کا بیشتر حصہ فقہی تحقیقات اور مسائل کے استنباط و اجتہاد میں گزارا جب آپ قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز تھے تو ایک مرتبہ ہارون رشید آپ کو اپنی رفاقت میں ایک سفر پر لے گئے لہذا درمیان سفر مقام رے میں آپ کا وصال ہوا اسی سفر میں ہارون رشید کے ہمراہ نحو کے مشہور امام امام کسائی بھی تھے اتفاقاً آپ کا بھی اسی دن وصال ہوا لہذا آپ دونوں حضرات وہیں مدفون ہوئے روایت ہے کہ بعد وصال کسی کو خواب میں آپ کی زیارت نصیب ہوئی تو عرض کی کہ آپ کا نزع کے وقت کیا حال تھا آپ نے فرمایا میں اس وقت مکاتب کے مسائل میں سے ایک مسئلہ پر غور کر رہا تھا مجھ کو روح نکلنے کی خبر نہیں ہوئی
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
امام محمد کی فقہی خدمات کے جس بھی زاویے پر قلم اٹھایا جائے اس کے لئے ایک دفتر بھی کافی نہ ہوگا لہذا اپنے علمی کم مائیگی کے باوجود اس بحر ناپیدا کنار سے کچھ اپنے کانسے میں لینے کے لئے اس مضمون کو قلم بند کیا ہے
اللہ تعالٰی میری اس کوشش کو قبول فرمائے اور ان کے تفقہ فی الدین سے کچھ قطرات عطا فرمائے آمین
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Zakir Raza Markazi

Student - Takhassus 2nd | Jamiatur Raza
39
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Mufti Zakir Raza Markazi
زمرہ جات

فقہ حنفی کی جامعیت

میرا محبوب

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢