یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
احوال قوم وملت
فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟
فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟
اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت تمام تر خرافات لہو و لعب سے پاک و منزہ ہے
جس کا شارع شریعت نے حکم دیا وہ جائز اور جس سے منع فرمایا وہ ناجائز۔
جس کا شارع شریعت نے حکم دیا وہ جائز اور جس سے منع فرمایا وہ ناجائز۔
اولیاء اللہ سے صاحب شرع نے وسیلہ مانگنے کو جائز قرار دیا تو ہمیشہ جائز ہی رہے گا اسی لیے مزارات پر حاضری باعث ثواب و خیر و برکت نجات و فلاح و بہبود کا ذریعہ ہے اولیاء اللہ کے مزارات کا سالانہ عرس منانا یہ بھی جائز و مستحب امر ہے
دیکھیے سورۂ کہف کی تفسیر میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد قوم کی حالت بہت ابتر ہو گئی قوم بت پرستی کرنے لگی اور جو بت پرستی نہیں کرتا اس سے جبرا کرواتی اس وقت دقیانوس بادشاہ تھا جو بہت ہی ظالم و جابر بادشاہ تھا غیر خدا کی عبادت میں مشغول رہا کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتا تھا جو غیر خدا کی عبادت نہیں کرتا اسے سزا دیتا تھا اصحاب کہف اسی لیے کوہ کہف کے ایک غار میں جا کر چھپ گئے جب دقیانوس بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے غار کا منہ بند کروا دیا اصحاب کہف غار میں تین سو برس سے زیادہ عرصہ تک سوئے رہے باشاہ بیدروس کے زمانے میں قوم بعث بعد الموت (یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونا) کا انکار کرنے لگی تو بادشاہ بیدروس نے دعا کی اے اللہ تو بعث بعد الموت پر کوئی نشانی کوئی دلیل دکھا دے تا کہ قوم راہ یاب ہو جائے تو اللہ جل و علا نے بادشاہ کی دعا قبول کی اور تین سو برس کے بعد اصحاب کہف بیدار ہوئے جسے دیکھ کر لوگوں کو بعث بعد الموت کا یقین ہو گیا تو بادشاہ نے اس پر اللہ جل وعلا کا شکر بجا لایا کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کی اصحاب کہف نے بادشاہ سے معانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں و السلام علیک ورحمة الله وبركاته، اللہ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن وانس کے شر سے بچائے بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنی خوابگاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروف خواب ہوئے اور اللہ تعالی نے انہیں وفات دی۔ بادشاہ نے سال ( نامی ایک درخت ) کے صندوق میں ان کے اجساد ( جسموں ) کو محفوظ کیا اور اللہ تعالی نے رعب ( جلال و شان و شوکت ) سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔ بادشاہ نے سر غار ( غار کے سرے پر ) مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک سرور ( خوشی ) کا دن معین کیا ، ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں ۔ (خازن وغیرہ)
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صالحین میں عرس کا معمول قدیم (پہلے) سے ہے
[تلخیصا خزائن العرفان سورۃ الکہف تحت آیت ١٠]
دیکھیے سورۂ کہف کی تفسیر میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد قوم کی حالت بہت ابتر ہو گئی قوم بت پرستی کرنے لگی اور جو بت پرستی نہیں کرتا اس سے جبرا کرواتی اس وقت دقیانوس بادشاہ تھا جو بہت ہی ظالم و جابر بادشاہ تھا غیر خدا کی عبادت میں مشغول رہا کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتا تھا جو غیر خدا کی عبادت نہیں کرتا اسے سزا دیتا تھا اصحاب کہف اسی لیے کوہ کہف کے ایک غار میں جا کر چھپ گئے جب دقیانوس بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے غار کا منہ بند کروا دیا اصحاب کہف غار میں تین سو برس سے زیادہ عرصہ تک سوئے رہے باشاہ بیدروس کے زمانے میں قوم بعث بعد الموت (یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونا) کا انکار کرنے لگی تو بادشاہ بیدروس نے دعا کی اے اللہ تو بعث بعد الموت پر کوئی نشانی کوئی دلیل دکھا دے تا کہ قوم راہ یاب ہو جائے تو اللہ جل و علا نے بادشاہ کی دعا قبول کی اور تین سو برس کے بعد اصحاب کہف بیدار ہوئے جسے دیکھ کر لوگوں کو بعث بعد الموت کا یقین ہو گیا تو بادشاہ نے اس پر اللہ جل وعلا کا شکر بجا لایا کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کی اصحاب کہف نے بادشاہ سے معانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں و السلام علیک ورحمة الله وبركاته، اللہ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن وانس کے شر سے بچائے بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنی خوابگاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروف خواب ہوئے اور اللہ تعالی نے انہیں وفات دی۔ بادشاہ نے سال ( نامی ایک درخت ) کے صندوق میں ان کے اجساد ( جسموں ) کو محفوظ کیا اور اللہ تعالی نے رعب ( جلال و شان و شوکت ) سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔ بادشاہ نے سر غار ( غار کے سرے پر ) مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک سرور ( خوشی ) کا دن معین کیا ، ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں ۔ (خازن وغیرہ)
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صالحین میں عرس کا معمول قدیم (پہلے) سے ہے
[تلخیصا خزائن العرفان سورۃ الکہف تحت آیت ١٠]
اس تفسیر سے ثابت ہوا کہ سالانہ عرس منانا یہ بادشاہ بیدروس کے زمانے ہی سے جاری و ساری ہے تاکہ قوم دین کی طرف راغب ہو آخرت کو یاد کرے اللہ والوں سے فیوض و برکات حاصل کرے
لیکن اب یہ مقصود فوت ہوتا نظر آتا ہے کیونکہ اب اعراس خالی اعراس نہیں رہے اس کے اندر لہو و لعب ناچ گانوں نے جگہ بنا لی ہے اب تو چند عرس کے علاوہ اکثر عرسوں کے حالات ابتر سے ابتر ہیں مزارات کو تو مجاوروں نے کمائی کے اڈے بنا لیے ہیں
لیکن اب یہ مقصود فوت ہوتا نظر آتا ہے کیونکہ اب اعراس خالی اعراس نہیں رہے اس کے اندر لہو و لعب ناچ گانوں نے جگہ بنا لی ہے اب تو چند عرس کے علاوہ اکثر عرسوں کے حالات ابتر سے ابتر ہیں مزارات کو تو مجاوروں نے کمائی کے اڈے بنا لیے ہیں
فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟
اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت تمام تر خرافات لہو و لعب سے پاک و منزہ ہے
جس کا شارع شریعت نے حکم دیا وہ جائز اور جس سے منع فرمایا وہ ناجائز۔
جس کا شارع شریعت نے حکم دیا وہ جائز اور جس سے منع فرمایا وہ ناجائز۔
اولیاء اللہ سے صاحب شرع نے وسیلہ مانگنے کو جائز قرار دیا تو ہمیشہ جائز ہی رہے گا اسی لیے مزارات پر حاضری باعث ثواب و خیر و برکت نجات و فلاح و بہبود کا ذریعہ ہے اولیاء اللہ کے مزارات کا سالانہ عرس منانا یہ بھی جائز و مستحب امر ہے
دیکھیے سورۂ کہف کی تفسیر میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد قوم کی حالت بہت ابتر ہو گئی قوم بت پرستی کرنے لگی اور جو بت پرستی نہیں کرتا اس سے جبرا کرواتی اس وقت دقیانوس بادشاہ تھا جو بہت ہی ظالم و جابر بادشاہ تھا غیر خدا کی عبادت میں مشغول رہا کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتا تھا جو غیر خدا کی عبادت نہیں کرتا اسے سزا دیتا تھا اصحاب کہف اسی لیے کوہ کہف کے ایک غار میں جا کر چھپ گئے جب دقیانوس بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے غار کا منہ بند کروا دیا اصحاب کہف غار میں تین سو برس سے زیادہ عرصہ تک سوئے رہے باشاہ بیدروس کے زمانے میں قوم بعث بعد الموت (یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونا) کا انکار کرنے لگی تو بادشاہ بیدروس نے دعا کی اے اللہ تو بعث بعد الموت پر کوئی نشانی کوئی دلیل دکھا دے تا کہ قوم راہ یاب ہو جائے تو اللہ جل و علا نے بادشاہ کی دعا قبول کی اور تین سو برس کے بعد اصحاب کہف بیدار ہوئے جسے دیکھ کر لوگوں کو بعث بعد الموت کا یقین ہو گیا تو بادشاہ نے اس پر اللہ جل وعلا کا شکر بجا لایا کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کی اصحاب کہف نے بادشاہ سے معانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں و السلام علیک ورحمة الله وبركاته، اللہ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن وانس کے شر سے بچائے بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنی خوابگاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروف خواب ہوئے اور اللہ تعالی نے انہیں وفات دی۔ بادشاہ نے سال ( نامی ایک درخت ) کے صندوق میں ان کے اجساد ( جسموں ) کو محفوظ کیا اور اللہ تعالی نے رعب ( جلال و شان و شوکت ) سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔ بادشاہ نے سر غار ( غار کے سرے پر ) مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک سرور ( خوشی ) کا دن معین کیا ، ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں ۔ (خازن وغیرہ)
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صالحین میں عرس کا معمول قدیم (پہلے) سے ہے
[تلخیصا خزائن العرفان سورۃ الکہف تحت آیت ١٠]
دیکھیے سورۂ کہف کی تفسیر میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد قوم کی حالت بہت ابتر ہو گئی قوم بت پرستی کرنے لگی اور جو بت پرستی نہیں کرتا اس سے جبرا کرواتی اس وقت دقیانوس بادشاہ تھا جو بہت ہی ظالم و جابر بادشاہ تھا غیر خدا کی عبادت میں مشغول رہا کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتا تھا جو غیر خدا کی عبادت نہیں کرتا اسے سزا دیتا تھا اصحاب کہف اسی لیے کوہ کہف کے ایک غار میں جا کر چھپ گئے جب دقیانوس بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے غار کا منہ بند کروا دیا اصحاب کہف غار میں تین سو برس سے زیادہ عرصہ تک سوئے رہے باشاہ بیدروس کے زمانے میں قوم بعث بعد الموت (یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونا) کا انکار کرنے لگی تو بادشاہ بیدروس نے دعا کی اے اللہ تو بعث بعد الموت پر کوئی نشانی کوئی دلیل دکھا دے تا کہ قوم راہ یاب ہو جائے تو اللہ جل و علا نے بادشاہ کی دعا قبول کی اور تین سو برس کے بعد اصحاب کہف بیدار ہوئے جسے دیکھ کر لوگوں کو بعث بعد الموت کا یقین ہو گیا تو بادشاہ نے اس پر اللہ جل وعلا کا شکر بجا لایا کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کی اصحاب کہف نے بادشاہ سے معانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں و السلام علیک ورحمة الله وبركاته، اللہ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن وانس کے شر سے بچائے بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنی خوابگاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروف خواب ہوئے اور اللہ تعالی نے انہیں وفات دی۔ بادشاہ نے سال ( نامی ایک درخت ) کے صندوق میں ان کے اجساد ( جسموں ) کو محفوظ کیا اور اللہ تعالی نے رعب ( جلال و شان و شوکت ) سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔ بادشاہ نے سر غار ( غار کے سرے پر ) مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک سرور ( خوشی ) کا دن معین کیا ، ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں ۔ (خازن وغیرہ)
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صالحین میں عرس کا معمول قدیم (پہلے) سے ہے
[تلخیصا خزائن العرفان سورۃ الکہف تحت آیت ١٠]
اس تفسیر سے ثابت ہوا کہ سالانہ عرس منانا یہ بادشاہ بیدروس کے زمانے ہی سے جاری و ساری ہے تاکہ قوم دین کی طرف راغب ہو آخرت کو یاد کرے اللہ والوں سے فیوض و برکات حاصل کرے
لیکن اب یہ مقصود فوت ہوتا نظر آتا ہے کیونکہ اب اعراس خالی اعراس نہیں رہے اس کے اندر لہو و لعب ناچ گانوں نے جگہ بنا لی ہے اب تو چند عرس کے علاوہ اکثر عرسوں کے حالات ابتر سے ابتر ہیں مزارات کو تو مجاوروں نے کمائی کے اڈے بنا لیے ہیں
لیکن اب یہ مقصود فوت ہوتا نظر آتا ہے کیونکہ اب اعراس خالی اعراس نہیں رہے اس کے اندر لہو و لعب ناچ گانوں نے جگہ بنا لی ہے اب تو چند عرس کے علاوہ اکثر عرسوں کے حالات ابتر سے ابتر ہیں مزارات کو تو مجاوروں نے کمائی کے اڈے بنا لیے ہیں
اور جس کے باپ دادا میں کوئی ولی نہیں گزرا تو اس نے ایک آسان سا راستہ اختیار کیا کہ رات کو خواب دیکھا اور دن میں ایک مزار بنا لیا کسی نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا تو بول دیا میں نے رات کو سویا تو میری قسمت کا چاند چمکا ایک بزرگ میرے خواب میں آ دھمکا انھوں نے مجھ سے کہا میں فلاں جگہ پر ہوں سویا، چل بیٹا اٹھ اور جا کر وہاں میرے نام کا مزار بنا سو میں نے مزار بنا دیا
پھر کچھ ہی دنوں بعد چادر چڑھانا لنگر لٹانا شروع ہو جاتا ہے ایک دو سال گزرتا ہے کہ عرس منانے کے لیے مجاور بڑا بے تاب ہوتا ہے کیونکہ فقط مجاور چادر چڑھا چڑھا کر کیا کرے مزار جب بنایا ہے تو جھولی بھی تو بھرنی چاہیے اور اس کے لیے واحد ذریعہ عرس ہے جب ایک بار عرس ہو گیا پھر اس کے بعد روزانہ وہاں تو عوام کی بھیڑ جمع ہوگی ہی کیونکہ عوام کالانعام
لیکن افسوس ایسے لوگوں پر جو فرضی قبر محض خواب کے اشارے پر بناتے ہیں اور افسوس بالائے افسوس خواص پر کہ اس فرضی قبر کے عرس میں پیران کرام علما عظام تشریف لاتے ہیں اور لچھے دار تقریر کرتے ہیں
پھر کچھ ہی دنوں بعد چادر چڑھانا لنگر لٹانا شروع ہو جاتا ہے ایک دو سال گزرتا ہے کہ عرس منانے کے لیے مجاور بڑا بے تاب ہوتا ہے کیونکہ فقط مجاور چادر چڑھا چڑھا کر کیا کرے مزار جب بنایا ہے تو جھولی بھی تو بھرنی چاہیے اور اس کے لیے واحد ذریعہ عرس ہے جب ایک بار عرس ہو گیا پھر اس کے بعد روزانہ وہاں تو عوام کی بھیڑ جمع ہوگی ہی کیونکہ عوام کالانعام
لیکن افسوس ایسے لوگوں پر جو فرضی قبر محض خواب کے اشارے پر بناتے ہیں اور افسوس بالائے افسوس خواص پر کہ اس فرضی قبر کے عرس میں پیران کرام علما عظام تشریف لاتے ہیں اور لچھے دار تقریر کرتے ہیں
ایک وقت تھا جب کسی عالم دین کو کہا جاتا تھا کہ آپ کی فلاں جگہ جلسے میں دعوت ہے تو وہ تفتیش کرتے تھے کہ جلسہ کس موقع پر رکھے ہیں؟
اگر عرس ہے تو صاحب مزار کون ہیں؟
میرا موضوع کیا رہے گا؟
لیکن اب کسی مقرر کو دعوت دی جاتی ہے تو وہ سب سے پہلے اس بات کی تفتیش کرتے ہیں کہ نذرانہ کتنا ملے گا؟
فلائٹ سے بلائیں گے یا ٹرین سے؟
تقریر کے رات کتنے بجے مجھے وقت ملے گا؟
کچھ ایسا ہی کچھ دن قبل شہر پورنیہ کا ایک شہرت یافتہ علمی و فنی گاؤں لعل گنج میں در پیش ہوا ایک شخص نے وہاں کی بڑی قبرستان میں ایک فرضی قبر بنایا [اس قبر کے فرضی ہونے پر وہاں کے سن رسیدہ حضرات گواہ ہیں] اور پھر عرس منانے کے لیے علما کو دعوتیں دیں اسی موقع پر ایک پیر صاحب کو بھی دعوت دی پیر صاحب قبلہ نے دعوت قبول فرما لی جب ان کے معتقدین کو پتہ چلا کہ پیر صاحب اس فرضی قبر کے عرس میں جانا چاہتے ہیں تو ان سے معتقدین نے کہا حضور وہاں آپ تشریف نہ لے جائیں وہ فرضی قبر ہے
تو پیر صاحب نے فرمایا:
ارے کیا ہوا یہ تو غوث پاک کا مہینہ ہے میں تو حضور غوث پاک کے متعلق تقریر کروں گا
افسوس ہائے افسوس کیا زمانہ ہے جہاں علما کو اس ناجائز فعل سے روکنا تھا وہاں اور بھی شرکت کے لیے مصر ہیں یاد رہے اس طرح کی قبر بنانا مزار بنانا ناجائز ہے بنانے والا فاسق ہے اور جو جانتے ہوئے بھی کہ فرضی مزار ہے عرس میں شرکت کرے تو وہ بھی فاسق ہے بلکہ وہ بھی فاسق ہے جو قدرت ہونے کے باوجود منع نہ کیا اور خاموش رہا
اسی سے متعلق فتاوی رضویہ شریف سے من و عن سوال و جواب نقل کر دیتا ہوں تاکہ آپ بھی بخوبی نفس مسئلہ سے واقفیت حاصل کر سکیں اور ایسی بلاؤں سے بچ سکیں
دیکھیے فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
اگر عرس ہے تو صاحب مزار کون ہیں؟
میرا موضوع کیا رہے گا؟
لیکن اب کسی مقرر کو دعوت دی جاتی ہے تو وہ سب سے پہلے اس بات کی تفتیش کرتے ہیں کہ نذرانہ کتنا ملے گا؟
فلائٹ سے بلائیں گے یا ٹرین سے؟
تقریر کے رات کتنے بجے مجھے وقت ملے گا؟
کچھ ایسا ہی کچھ دن قبل شہر پورنیہ کا ایک شہرت یافتہ علمی و فنی گاؤں لعل گنج میں در پیش ہوا ایک شخص نے وہاں کی بڑی قبرستان میں ایک فرضی قبر بنایا [اس قبر کے فرضی ہونے پر وہاں کے سن رسیدہ حضرات گواہ ہیں] اور پھر عرس منانے کے لیے علما کو دعوتیں دیں اسی موقع پر ایک پیر صاحب کو بھی دعوت دی پیر صاحب قبلہ نے دعوت قبول فرما لی جب ان کے معتقدین کو پتہ چلا کہ پیر صاحب اس فرضی قبر کے عرس میں جانا چاہتے ہیں تو ان سے معتقدین نے کہا حضور وہاں آپ تشریف نہ لے جائیں وہ فرضی قبر ہے
تو پیر صاحب نے فرمایا:
ارے کیا ہوا یہ تو غوث پاک کا مہینہ ہے میں تو حضور غوث پاک کے متعلق تقریر کروں گا
افسوس ہائے افسوس کیا زمانہ ہے جہاں علما کو اس ناجائز فعل سے روکنا تھا وہاں اور بھی شرکت کے لیے مصر ہیں یاد رہے اس طرح کی قبر بنانا مزار بنانا ناجائز ہے بنانے والا فاسق ہے اور جو جانتے ہوئے بھی کہ فرضی مزار ہے عرس میں شرکت کرے تو وہ بھی فاسق ہے بلکہ وہ بھی فاسق ہے جو قدرت ہونے کے باوجود منع نہ کیا اور خاموش رہا
اسی سے متعلق فتاوی رضویہ شریف سے من و عن سوال و جواب نقل کر دیتا ہوں تاکہ آپ بھی بخوبی نفس مسئلہ سے واقفیت حاصل کر سکیں اور ایسی بلاؤں سے بچ سکیں
دیکھیے فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
مسئلہ ۱۳۵: ازنوشتہ ضلع علی گڑھ ڈاک خانہ دتاؤلی مرسلہ محمد عمر خاں ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلاًزید نے ایک قبر فرضی اور مصنوعی جس کا پہلے سے کوئی وجود نہ تھا،بنواکر یہ بات مشہور کی کہ اس قبر میں امروہہ کے زین العابدین تشریف لائے ہیں مجھ کو خواب میں بشارت ہوئی ہے، ایسی روایات سے اس قبر کی عظمت لوگوں کے سامنے بیان کرکے قبر پرستی کی طرف بلانے لگا۔حتی کہ اس میں اس کو کامیابی ہونے لگی اور بہت سی مخلوق اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔ اس قبرپر چادریں اور مرغ اور بکری ا و رمٹھائیاں، روپیہ ا ور پیسہ چڑھانے لگے۔ا ور اپنی مرادیں اورمنتیں اس قبر سے مانگنے لگے۔ اور زید اس آمدنی سے متمتع ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے واسطے شریعت کیا حکم لگا تی ہے؟
آیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
کیا ایسا شخص فاجرو فاسق کافر ہے؟
کیا ایسا شخص کا نکاح باطل ہوتا ہے؟
کیا ایسے شخص کے جلسوں میں شریعت شرکت کی اجازت دیتی ہے؟
آیا ایسے شخص سے رشتہ قرابت رکھا جائے؟
نیز اس شخص کے متعلق بھی استفسار کیا جاتا ہے جو زید کے اس معاملہ سے خوش ہے اور اس کاممدو معاون اس معاملہ میں ہے یا ایک ایسا شخص ہے جو زید کو اس معاملہ سے باز رکھ سکتا ہے مگر ساکت ہے ۔بینواتو جروا
آیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
کیا ایسا شخص فاجرو فاسق کافر ہے؟
کیا ایسا شخص کا نکاح باطل ہوتا ہے؟
کیا ایسے شخص کے جلسوں میں شریعت شرکت کی اجازت دیتی ہے؟
آیا ایسے شخص سے رشتہ قرابت رکھا جائے؟
نیز اس شخص کے متعلق بھی استفسار کیا جاتا ہے جو زید کے اس معاملہ سے خوش ہے اور اس کاممدو معاون اس معاملہ میں ہے یا ایک ایسا شخص ہے جو زید کو اس معاملہ سے باز رکھ سکتا ہے مگر ساکت ہے ۔بینواتو جروا
الجواب:
قبر بلا مقبور کی طرف بلانا اور اس کےلئے وہ افعال کرانا گناہ ہے، اور جبکہ وہ اس پر مصر ہے اورباعلان اسے کررہا ہے تو فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور پھیرنی واجب ۔ اس جلسہ زیارت قبربے مقبور میں شرکت جائز نہیں، زید کے اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصاً وہ جو ممدومعاون ہیں سب گنہگار وفاسق ہیں
قال تعالٰی: ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان
(۱؎ القرآن ۵/ ۶)
ترجمہ: گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
بلکہ وہ بھی جو باوصفِ قدرت ساکت ہے،ق
قبر بلا مقبور کی طرف بلانا اور اس کےلئے وہ افعال کرانا گناہ ہے، اور جبکہ وہ اس پر مصر ہے اورباعلان اسے کررہا ہے تو فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور پھیرنی واجب ۔ اس جلسہ زیارت قبربے مقبور میں شرکت جائز نہیں، زید کے اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصاً وہ جو ممدومعاون ہیں سب گنہگار وفاسق ہیں
قال تعالٰی: ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان
(۱؎ القرآن ۵/ ۶)
ترجمہ: گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
بلکہ وہ بھی جو باوصفِ قدرت ساکت ہے،ق
قال تعالٰی : کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون ( القرآن ۵/ ۷۹)
ترجمہ:
وہ برے کام سے ایک دوسرے کو روکتے نہ تھے، کیا ہی برا کام وہ کرتے تھے ۔
مگر ان میں سے کوئی بات کفر نہیں کہ اس سے نکاح باطل ہو سکے۔ قرابت اپنے اختیار کی نہیں کہ چاہے رکھی چاہے توڑی،۔ یو نہی مرد سے رشتہ کہ اختیاری رشتہ بذریعہ نکاح ہوتا ہے اس کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے،
وہ برے کام سے ایک دوسرے کو روکتے نہ تھے، کیا ہی برا کام وہ کرتے تھے ۔
مگر ان میں سے کوئی بات کفر نہیں کہ اس سے نکاح باطل ہو سکے۔ قرابت اپنے اختیار کی نہیں کہ چاہے رکھی چاہے توڑی،۔ یو نہی مرد سے رشتہ کہ اختیاری رشتہ بذریعہ نکاح ہوتا ہے اس کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے،
قال تعالٰی: بیدہ عقدۃ النکاح
( القرآن ۲/ ۲۳۷)
اسی کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔
ہاں عزیز داری کا برتاؤ اگر یہ سمجھیں کہ اس کے چھوڑنے سے اس پر اثر پڑے گا تو چھوڑدیں یہاں تک کہ باز آئے اور اگر سمجھیں کہ اسے قائم رکھ کر سمجھا نا موثر ہوگا تو یوں کریں۔
واﷲ تعالٰی اعلم
[فتاوی رضویہ شریف کتاب الجنائز ج ٩ ص ٩٣]
( القرآن ۲/ ۲۳۷)
اسی کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔
ہاں عزیز داری کا برتاؤ اگر یہ سمجھیں کہ اس کے چھوڑنے سے اس پر اثر پڑے گا تو چھوڑدیں یہاں تک کہ باز آئے اور اگر سمجھیں کہ اسے قائم رکھ کر سمجھا نا موثر ہوگا تو یوں کریں۔
واﷲ تعالٰی اعلم
[فتاوی رضویہ شریف کتاب الجنائز ج ٩ ص ٩٣]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
پڑھیے اور بار بار پڑھیے اس فتوے کو روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ جس نے مزار بنایا پھر عرس کا انعقاد کیا اور جو جو اس عرس میں جان بوجھ کر شریک ہوا اور جو قدرت کے با وجود خاموشی اختیار کیے رہا سب کہ سب فاسق ہوئے سب پر ضروری ہے کہ اس کار فسق سے توبہ کرے اور مخلوق کو ناجائز کام سے روکے اور آخرت کے لیے توشۂ خیر تیار کرے
مخلوق کو خوش کرنے کے لیے اللہ جل و علا کو ناراض نہ کرے ورنہ آخرت میں سخت پکڑ ہوگی
مخلوق کو خوش کرنے کے لیے اللہ جل و علا کو ناراض نہ کرے ورنہ آخرت میں سخت پکڑ ہوگی
اللہ ہمیں سیدھی راہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام خرافات سے محفوظ و مامون فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم