صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟
اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت تمام تر خرافات لہو و لعب سے پاک و منزہ ہے
جس کا شارع شریعت نے حکم دیا وہ جائز اور جس سے منع فرمایا وہ ناجائز۔
اولیاء اللہ سے صاحب شرع نے وسیلہ مانگنے کو جائز قرار دیا تو ہمیشہ جائز ہی رہے گا اسی لیے مزارات پر حاضری باعث ثواب و خیر و برکت نجات و فلاح و بہبود کا ذریعہ ہے اولیاء اللہ کے مزارات کا سالانہ عرس منانا یہ بھی جائز و مستحب امر ہے
دیکھیے سورۂ کہف کی تفسیر میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد قوم کی حالت بہت ابتر ہو گئی قوم بت پرستی کرنے لگی اور جو بت پرستی نہیں کرتا اس سے جبرا کرواتی اس وقت دقیانوس بادشاہ تھا جو بہت ہی ظالم و جابر بادشاہ تھا غیر خدا کی عبادت میں مشغول رہا کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتا تھا جو غیر خدا کی عبادت نہیں کرتا اسے سزا دیتا تھا اصحاب کہف اسی لیے کوہ کہف کے ایک غار میں جا کر چھپ گئے جب دقیانوس بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے غار کا منہ بند کروا دیا اصحاب کہف غار میں تین سو برس سے زیادہ عرصہ تک سوئے رہے باشاہ بیدروس کے زمانے میں قوم بعث بعد الموت (یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونا) کا انکار کرنے لگی تو بادشاہ بیدروس نے دعا کی اے اللہ تو بعث بعد الموت پر کوئی نشانی کوئی دلیل دکھا دے تا کہ قوم راہ یاب ہو جائے تو اللہ جل و علا نے بادشاہ کی دعا قبول کی اور تین سو برس کے بعد اصحاب کہف بیدار ہوئے جسے دیکھ کر لوگوں کو بعث بعد الموت کا یقین ہو گیا تو بادشاہ نے اس پر اللہ جل وعلا کا شکر بجا لایا کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کی اصحاب کہف نے بادشاہ سے معانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں و السلام علیک ورحمة الله وبركاته، اللہ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن وانس کے شر سے بچائے بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنی خوابگاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروف خواب ہوئے اور اللہ تعالی نے انہیں وفات دی۔ بادشاہ نے سال ( نامی ایک درخت ) کے صندوق میں ان کے اجساد ( جسموں ) کو محفوظ کیا اور اللہ تعالی نے رعب ( جلال و شان و شوکت ) سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔ بادشاہ نے سر غار ( غار کے سرے پر ) مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک سرور ( خوشی ) کا دن معین کیا ، ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں ۔ (خازن وغیرہ)
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صالحین میں عرس کا معمول قدیم (پہلے) سے ہے
[تلخیصا خزائن العرفان سورۃ الکہف تحت آیت ١٠]
اس تفسیر سے ثابت ہوا کہ سالانہ عرس منانا یہ بادشاہ بیدروس کے زمانے ہی سے جاری و ساری ہے تاکہ قوم دین کی طرف راغب ہو آخرت کو یاد کرے اللہ والوں سے فیوض و برکات حاصل کرے
لیکن اب یہ مقصود فوت ہوتا نظر آتا ہے کیونکہ اب اعراس خالی اعراس نہیں رہے اس کے اندر لہو و لعب ناچ گانوں نے جگہ بنا لی ہے اب تو چند عرس کے علاوہ اکثر عرسوں کے حالات ابتر سے ابتر ہیں مزارات کو تو مجاوروں نے کمائی کے اڈے بنا لیے ہیں
اور جس کے باپ دادا میں کوئی ولی نہیں گزرا تو اس نے ایک آسان سا راستہ اختیار کیا کہ رات کو خواب دیکھا اور دن میں ایک مزار بنا لیا کسی نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا تو بول دیا میں نے رات کو سویا تو میری قسمت کا چاند چمکا ایک بزرگ میرے خواب میں آ دھمکا انھوں نے مجھ سے کہا میں فلاں جگہ پر ہوں سویا، چل بیٹا اٹھ اور جا کر وہاں میرے نام کا مزار بنا سو میں نے مزار بنا دیا
پھر کچھ ہی دنوں بعد چادر چڑھانا لنگر لٹانا شروع ہو جاتا ہے ایک دو سال گزرتا ہے کہ عرس منانے کے لیے مجاور بڑا بے تاب ہوتا ہے کیونکہ فقط مجاور چادر چڑھا چڑھا کر کیا کرے مزار جب بنایا ہے تو جھولی بھی تو بھرنی چاہیے اور اس کے لیے واحد ذریعہ عرس ہے جب ایک بار عرس ہو گیا پھر اس کے بعد روزانہ وہاں تو عوام کی بھیڑ جمع ہوگی ہی کیونکہ عوام کالانعام
لیکن افسوس ایسے لوگوں پر جو فرضی قبر محض خواب کے اشارے پر بناتے ہیں اور افسوس بالائے افسوس خواص پر کہ اس فرضی قبر کے عرس میں پیران کرام علما عظام تشریف لاتے ہیں اور لچھے دار تقریر کرتے ہیں
ایک وقت تھا جب کسی عالم دین کو کہا جاتا تھا کہ آپ کی فلاں جگہ جلسے میں دعوت ہے تو وہ تفتیش کرتے تھے کہ جلسہ کس موقع پر رکھے ہیں؟
اگر عرس ہے تو صاحب مزار کون ہیں؟
میرا موضوع کیا رہے گا؟
لیکن اب کسی مقرر کو دعوت دی جاتی ہے تو وہ سب سے پہلے اس بات کی تفتیش کرتے ہیں کہ نذرانہ کتنا ملے گا؟
فلائٹ سے بلائیں گے یا ٹرین سے؟
تقریر کے رات کتنے بجے مجھے وقت ملے گا؟
کچھ ایسا ہی کچھ دن قبل شہر پورنیہ کا ایک شہرت یافتہ علمی و فنی گاؤں لعل گنج میں در پیش ہوا ایک شخص نے وہاں کی بڑی قبرستان میں ایک فرضی قبر بنایا [اس قبر کے فرضی ہونے پر وہاں کے سن رسیدہ حضرات گواہ ہیں] اور پھر عرس منانے کے لیے علما کو دعوتیں دیں اسی موقع پر ایک پیر صاحب کو بھی دعوت دی پیر صاحب قبلہ نے دعوت قبول فرما لی جب ان کے معتقدین کو پتہ چلا کہ پیر صاحب اس فرضی قبر کے عرس میں جانا چاہتے ہیں تو ان سے معتقدین نے کہا حضور وہاں آپ تشریف نہ لے جائیں وہ فرضی قبر ہے
تو پیر صاحب نے فرمایا:
ارے کیا ہوا یہ تو غوث پاک کا مہینہ ہے میں تو حضور غوث پاک کے متعلق تقریر کروں گا
افسوس ہائے افسوس کیا زمانہ ہے جہاں علما کو اس ناجائز فعل سے روکنا تھا وہاں اور بھی شرکت کے لیے مصر ہیں یاد رہے اس طرح کی قبر بنانا مزار بنانا ناجائز ہے بنانے والا فاسق ہے اور جو جانتے ہوئے بھی کہ فرضی مزار ہے عرس میں شرکت کرے تو وہ بھی فاسق ہے بلکہ وہ بھی فاسق ہے جو قدرت ہونے کے باوجود منع نہ کیا اور خاموش رہا
اسی سے متعلق فتاوی رضویہ شریف سے من و عن سوال و جواب نقل کر دیتا ہوں تاکہ آپ بھی بخوبی نفس مسئلہ سے واقفیت حاصل کر سکیں اور ایسی بلاؤں سے بچ سکیں
دیکھیے فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
مسئلہ ۱۳۵: ازنوشتہ ضلع علی گڑھ ڈاک خانہ دتاؤلی مرسلہ محمد عمر خاں ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلاًزید نے ایک قبر فرضی اور مصنوعی جس کا پہلے سے کوئی وجود نہ تھا،بنواکر یہ بات مشہور کی کہ اس قبر میں امروہہ کے زین العابدین تشریف لائے ہیں مجھ کو خواب میں بشارت ہوئی ہے، ایسی روایات سے اس قبر کی عظمت لوگوں کے سامنے بیان کرکے قبر پرستی کی طرف بلانے لگا۔حتی کہ اس میں اس کو کامیابی ہونے لگی اور بہت سی مخلوق اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔ اس قبرپر چادریں اور مرغ اور بکری ا و رمٹھائیاں، روپیہ ا ور پیسہ چڑھانے لگے۔ا ور اپنی مرادیں اورمنتیں اس قبر سے مانگنے لگے۔ اور زید اس آمدنی سے متمتع ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے واسطے شریعت کیا حکم لگا تی ہے؟
آیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
کیا ایسا شخص فاجرو فاسق کافر ہے؟
کیا ایسا شخص کا نکاح باطل ہوتا ہے؟
کیا ایسے شخص کے جلسوں میں شریعت شرکت کی اجازت دیتی ہے؟
آیا ایسے شخص سے رشتہ قرابت رکھا جائے؟
نیز اس شخص کے متعلق بھی استفسار کیا جاتا ہے جو زید کے اس معاملہ سے خوش ہے اور اس کاممدو معاون اس معاملہ میں ہے یا ایک ایسا شخص ہے جو زید کو اس معاملہ سے باز رکھ سکتا ہے مگر ساکت ہے ۔بینواتو جروا
الجواب:
قبر بلا مقبور کی طرف بلانا اور اس کےلئے وہ افعال کرانا گناہ ہے، اور جبکہ وہ اس پر مصر ہے اورباعلان اسے کررہا ہے تو فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور پھیرنی واجب ۔ اس جلسہ زیارت قبربے مقبور میں شرکت جائز نہیں، زید کے اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصاً وہ جو ممدومعاون ہیں سب گنہگار وفاسق ہیں
قال تعالٰی: ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان
(۱؎ القرآن ۵/ ۶)
ترجمہ: گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
بلکہ وہ بھی جو باوصفِ قدرت ساکت ہے،ق
قال تعالٰی : کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون ( القرآن ۵/ ۷۹)
ترجمہ:
وہ برے کام سے ایک دوسرے کو روکتے نہ تھے، کیا ہی برا کام وہ کرتے تھے ۔
مگر ان میں سے کوئی بات کفر نہیں کہ اس سے نکاح باطل ہو سکے۔ قرابت اپنے اختیار کی نہیں کہ چاہے رکھی چاہے توڑی،۔ یو نہی مرد سے رشتہ کہ اختیاری رشتہ بذریعہ نکاح ہوتا ہے اس کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے،
قال تعالٰی: بیدہ عقدۃ النکاح
( القرآن ۲/ ۲۳۷)

اسی کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔
ہاں عزیز داری کا برتاؤ اگر یہ سمجھیں کہ اس کے چھوڑنے سے اس پر اثر پڑے گا تو چھوڑدیں یہاں تک کہ باز آئے اور اگر سمجھیں کہ اسے قائم رکھ کر سمجھا نا موثر ہوگا تو یوں کریں۔
واﷲ تعالٰی اعلم
[فتاوی رضویہ شریف کتاب الجنائز ج ٩ ص ٩٣]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
پڑھیے اور بار بار پڑھیے اس فتوے کو روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ جس نے مزار بنایا پھر عرس کا انعقاد کیا اور جو جو اس عرس میں جان بوجھ کر شریک ہوا اور جو قدرت کے با وجود خاموشی اختیار کیے رہا سب کہ سب فاسق ہوئے سب پر ضروری ہے کہ اس کار فسق سے توبہ کرے اور مخلوق کو ناجائز کام سے روکے اور آخرت کے لیے توشۂ خیر تیار کرے
مخلوق کو خوش کرنے کے لیے اللہ جل و علا کو ناراض نہ کرے ورنہ آخرت میں سخت پکڑ ہوگی
اللہ ہمیں سیدھی راہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام خرافات سے محفوظ و مامون فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟
اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت تمام تر خرافات لہو و لعب سے پاک و منزہ ہے
جس کا شارع شریعت نے حکم دیا وہ جائز اور جس سے منع فرمایا وہ ناجائز۔
اولیاء اللہ سے صاحب شرع نے وسیلہ مانگنے کو جائز قرار دیا تو ہمیشہ جائز ہی رہے گا اسی لیے مزارات پر حاضری باعث ثواب و خیر و برکت نجات و فلاح و بہبود کا ذریعہ ہے اولیاء اللہ کے مزارات کا سالانہ عرس منانا یہ بھی جائز و مستحب امر ہے
دیکھیے سورۂ کہف کی تفسیر میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد قوم کی حالت بہت ابتر ہو گئی قوم بت پرستی کرنے لگی اور جو بت پرستی نہیں کرتا اس سے جبرا کرواتی اس وقت دقیانوس بادشاہ تھا جو بہت ہی ظالم و جابر بادشاہ تھا غیر خدا کی عبادت میں مشغول رہا کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتا تھا جو غیر خدا کی عبادت نہیں کرتا اسے سزا دیتا تھا اصحاب کہف اسی لیے کوہ کہف کے ایک غار میں جا کر چھپ گئے جب دقیانوس بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے غار کا منہ بند کروا دیا اصحاب کہف غار میں تین سو برس سے زیادہ عرصہ تک سوئے رہے باشاہ بیدروس کے زمانے میں قوم بعث بعد الموت (یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونا) کا انکار کرنے لگی تو بادشاہ بیدروس نے دعا کی اے اللہ تو بعث بعد الموت پر کوئی نشانی کوئی دلیل دکھا دے تا کہ قوم راہ یاب ہو جائے تو اللہ جل و علا نے بادشاہ کی دعا قبول کی اور تین سو برس کے بعد اصحاب کہف بیدار ہوئے جسے دیکھ کر لوگوں کو بعث بعد الموت کا یقین ہو گیا تو بادشاہ نے اس پر اللہ جل وعلا کا شکر بجا لایا کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کی اصحاب کہف نے بادشاہ سے معانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں و السلام علیک ورحمة الله وبركاته، اللہ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن وانس کے شر سے بچائے بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنی خوابگاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروف خواب ہوئے اور اللہ تعالی نے انہیں وفات دی۔ بادشاہ نے سال ( نامی ایک درخت ) کے صندوق میں ان کے اجساد ( جسموں ) کو محفوظ کیا اور اللہ تعالی نے رعب ( جلال و شان و شوکت ) سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔ بادشاہ نے سر غار ( غار کے سرے پر ) مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک سرور ( خوشی ) کا دن معین کیا ، ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں ۔ (خازن وغیرہ)
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صالحین میں عرس کا معمول قدیم (پہلے) سے ہے
[تلخیصا خزائن العرفان سورۃ الکہف تحت آیت ١٠]
اس تفسیر سے ثابت ہوا کہ سالانہ عرس منانا یہ بادشاہ بیدروس کے زمانے ہی سے جاری و ساری ہے تاکہ قوم دین کی طرف راغب ہو آخرت کو یاد کرے اللہ والوں سے فیوض و برکات حاصل کرے
لیکن اب یہ مقصود فوت ہوتا نظر آتا ہے کیونکہ اب اعراس خالی اعراس نہیں رہے اس کے اندر لہو و لعب ناچ گانوں نے جگہ بنا لی ہے اب تو چند عرس کے علاوہ اکثر عرسوں کے حالات ابتر سے ابتر ہیں مزارات کو تو مجاوروں نے کمائی کے اڈے بنا لیے ہیں
اور جس کے باپ دادا میں کوئی ولی نہیں گزرا تو اس نے ایک آسان سا راستہ اختیار کیا کہ رات کو خواب دیکھا اور دن میں ایک مزار بنا لیا کسی نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا تو بول دیا میں نے رات کو سویا تو میری قسمت کا چاند چمکا ایک بزرگ میرے خواب میں آ دھمکا انھوں نے مجھ سے کہا میں فلاں جگہ پر ہوں سویا، چل بیٹا اٹھ اور جا کر وہاں میرے نام کا مزار بنا سو میں نے مزار بنا دیا
پھر کچھ ہی دنوں بعد چادر چڑھانا لنگر لٹانا شروع ہو جاتا ہے ایک دو سال گزرتا ہے کہ عرس منانے کے لیے مجاور بڑا بے تاب ہوتا ہے کیونکہ فقط مجاور چادر چڑھا چڑھا کر کیا کرے مزار جب بنایا ہے تو جھولی بھی تو بھرنی چاہیے اور اس کے لیے واحد ذریعہ عرس ہے جب ایک بار عرس ہو گیا پھر اس کے بعد روزانہ وہاں تو عوام کی بھیڑ جمع ہوگی ہی کیونکہ عوام کالانعام
لیکن افسوس ایسے لوگوں پر جو فرضی قبر محض خواب کے اشارے پر بناتے ہیں اور افسوس بالائے افسوس خواص پر کہ اس فرضی قبر کے عرس میں پیران کرام علما عظام تشریف لاتے ہیں اور لچھے دار تقریر کرتے ہیں
ایک وقت تھا جب کسی عالم دین کو کہا جاتا تھا کہ آپ کی فلاں جگہ جلسے میں دعوت ہے تو وہ تفتیش کرتے تھے کہ جلسہ کس موقع پر رکھے ہیں؟
اگر عرس ہے تو صاحب مزار کون ہیں؟
میرا موضوع کیا رہے گا؟
لیکن اب کسی مقرر کو دعوت دی جاتی ہے تو وہ سب سے پہلے اس بات کی تفتیش کرتے ہیں کہ نذرانہ کتنا ملے گا؟
فلائٹ سے بلائیں گے یا ٹرین سے؟
تقریر کے رات کتنے بجے مجھے وقت ملے گا؟
کچھ ایسا ہی کچھ دن قبل شہر پورنیہ کا ایک شہرت یافتہ علمی و فنی گاؤں لعل گنج میں در پیش ہوا ایک شخص نے وہاں کی بڑی قبرستان میں ایک فرضی قبر بنایا [اس قبر کے فرضی ہونے پر وہاں کے سن رسیدہ حضرات گواہ ہیں] اور پھر عرس منانے کے لیے علما کو دعوتیں دیں اسی موقع پر ایک پیر صاحب کو بھی دعوت دی پیر صاحب قبلہ نے دعوت قبول فرما لی جب ان کے معتقدین کو پتہ چلا کہ پیر صاحب اس فرضی قبر کے عرس میں جانا چاہتے ہیں تو ان سے معتقدین نے کہا حضور وہاں آپ تشریف نہ لے جائیں وہ فرضی قبر ہے
تو پیر صاحب نے فرمایا:
ارے کیا ہوا یہ تو غوث پاک کا مہینہ ہے میں تو حضور غوث پاک کے متعلق تقریر کروں گا
افسوس ہائے افسوس کیا زمانہ ہے جہاں علما کو اس ناجائز فعل سے روکنا تھا وہاں اور بھی شرکت کے لیے مصر ہیں یاد رہے اس طرح کی قبر بنانا مزار بنانا ناجائز ہے بنانے والا فاسق ہے اور جو جانتے ہوئے بھی کہ فرضی مزار ہے عرس میں شرکت کرے تو وہ بھی فاسق ہے بلکہ وہ بھی فاسق ہے جو قدرت ہونے کے باوجود منع نہ کیا اور خاموش رہا
اسی سے متعلق فتاوی رضویہ شریف سے من و عن سوال و جواب نقل کر دیتا ہوں تاکہ آپ بھی بخوبی نفس مسئلہ سے واقفیت حاصل کر سکیں اور ایسی بلاؤں سے بچ سکیں
دیکھیے فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
مسئلہ ۱۳۵: ازنوشتہ ضلع علی گڑھ ڈاک خانہ دتاؤلی مرسلہ محمد عمر خاں ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلاًزید نے ایک قبر فرضی اور مصنوعی جس کا پہلے سے کوئی وجود نہ تھا،بنواکر یہ بات مشہور کی کہ اس قبر میں امروہہ کے زین العابدین تشریف لائے ہیں مجھ کو خواب میں بشارت ہوئی ہے، ایسی روایات سے اس قبر کی عظمت لوگوں کے سامنے بیان کرکے قبر پرستی کی طرف بلانے لگا۔حتی کہ اس میں اس کو کامیابی ہونے لگی اور بہت سی مخلوق اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔ اس قبرپر چادریں اور مرغ اور بکری ا و رمٹھائیاں، روپیہ ا ور پیسہ چڑھانے لگے۔ا ور اپنی مرادیں اورمنتیں اس قبر سے مانگنے لگے۔ اور زید اس آمدنی سے متمتع ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے واسطے شریعت کیا حکم لگا تی ہے؟
آیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
کیا ایسا شخص فاجرو فاسق کافر ہے؟
کیا ایسا شخص کا نکاح باطل ہوتا ہے؟
کیا ایسے شخص کے جلسوں میں شریعت شرکت کی اجازت دیتی ہے؟
آیا ایسے شخص سے رشتہ قرابت رکھا جائے؟
نیز اس شخص کے متعلق بھی استفسار کیا جاتا ہے جو زید کے اس معاملہ سے خوش ہے اور اس کاممدو معاون اس معاملہ میں ہے یا ایک ایسا شخص ہے جو زید کو اس معاملہ سے باز رکھ سکتا ہے مگر ساکت ہے ۔بینواتو جروا
الجواب:
قبر بلا مقبور کی طرف بلانا اور اس کےلئے وہ افعال کرانا گناہ ہے، اور جبکہ وہ اس پر مصر ہے اورباعلان اسے کررہا ہے تو فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور پھیرنی واجب ۔ اس جلسہ زیارت قبربے مقبور میں شرکت جائز نہیں، زید کے اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصاً وہ جو ممدومعاون ہیں سب گنہگار وفاسق ہیں
قال تعالٰی: ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان
(۱؎ القرآن ۵/ ۶)
ترجمہ: گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
بلکہ وہ بھی جو باوصفِ قدرت ساکت ہے،ق
قال تعالٰی : کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون ( القرآن ۵/ ۷۹)
ترجمہ:
وہ برے کام سے ایک دوسرے کو روکتے نہ تھے، کیا ہی برا کام وہ کرتے تھے ۔
مگر ان میں سے کوئی بات کفر نہیں کہ اس سے نکاح باطل ہو سکے۔ قرابت اپنے اختیار کی نہیں کہ چاہے رکھی چاہے توڑی،۔ یو نہی مرد سے رشتہ کہ اختیاری رشتہ بذریعہ نکاح ہوتا ہے اس کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے،
قال تعالٰی: بیدہ عقدۃ النکاح
( القرآن ۲/ ۲۳۷)

اسی کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔
ہاں عزیز داری کا برتاؤ اگر یہ سمجھیں کہ اس کے چھوڑنے سے اس پر اثر پڑے گا تو چھوڑدیں یہاں تک کہ باز آئے اور اگر سمجھیں کہ اسے قائم رکھ کر سمجھا نا موثر ہوگا تو یوں کریں۔
واﷲ تعالٰی اعلم
[فتاوی رضویہ شریف کتاب الجنائز ج ٩ ص ٩٣]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
پڑھیے اور بار بار پڑھیے اس فتوے کو روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ جس نے مزار بنایا پھر عرس کا انعقاد کیا اور جو جو اس عرس میں جان بوجھ کر شریک ہوا اور جو قدرت کے با وجود خاموشی اختیار کیے رہا سب کہ سب فاسق ہوئے سب پر ضروری ہے کہ اس کار فسق سے توبہ کرے اور مخلوق کو ناجائز کام سے روکے اور آخرت کے لیے توشۂ خیر تیار کرے
مخلوق کو خوش کرنے کے لیے اللہ جل و علا کو ناراض نہ کرے ورنہ آخرت میں سخت پکڑ ہوگی
اللہ ہمیں سیدھی راہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام خرافات سے محفوظ و مامون فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
78
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

اشک فشاں گفت و شنید

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢