صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے(صدیوں کے جھروکوں سے)
ادبیات

کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے(صدیوں کے جھروکوں سے)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے (صدیوں کے جھروکوں سے)
ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ اظہار کے لیے الفاظ ضروری ہیں۔ محبت ہو تو اقرار، شکوہ ہو تو گلہ اور دکھ ہو تو آنسو درکار ہوتے ہیں؛ مگر زندگی کے بعض لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب زبان ساکت رہتی ہے اور دل اپنی پوری داستان سنا دیتا ہے۔ لبوں پر کوئی حرف نہیں ہوتا، مگر آنکھیں ایک طویل گفتگو میں مصروف ہوتی ہیں۔ چہرہ خاموش ہوتا ہے، مگر اس کے نقوش پر کئی موسموں کی آمد و رفت صاف دکھائی دیتی ہے۔
کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے۔
یہ ایسی زبان ہے جسے سننے کے لیے کان نہیں، دل چاہیے۔ اس کے جملے ہونٹوں سے ادا نہیں ہوتے؛ نگاہوں کی نمی، چہرے کی اداسی، لہجے کی شکستگی اور رویے کی تبدیلی انہیں آشکار کر دیتی ہے۔ بظاہر یہ ایک خاموش کتاب ہوتی ہے، مگر اس کے سفید صفحات کے درمیان ایک پوری داستان سانس لے رہی ہوتی ہے۔
کسی محفل میں بیٹھا ہوا شخص سب کی باتیں سنتا، مسکراتا اور سر ہلاتا رہتا ہے، مگر اس کی مسکراہٹ میں وہ زندگی نہیں ہوتی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ لوگ اسے خاموش سمجھتے ہیں، حالاں کہ وہ اپنے اندر ایک شور سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان تک لانا بھی دشوار ہوتا ہے؛ انسان انہیں سینے میں یوں چھپا لیتا ہے جیسے تیز ہوا میں کوئی چراغ اپنی لو بچا رہا ہو۔
ہم سب نے ایسی خاموشی کبھی نہ کبھی دیکھی ہے۔ ماں کے چہرے پر وہ ٹھہرا ہوا سکوت، جب بیٹا گھر سے دور ہو؛ باپ کی آنکھوں میں چھپی ہوئی فکر، جب وہ اپنی پریشانی اولاد سے چھپا کر مسکراتا ہے؛ کسی دوست کی اچانک کم ہوتی گفتگو، جس کے پیچھے شاید ٹوٹا ہوا اعتماد ہو؛ کسی اپنے کے بدلتے لہجے میں دبی ہوئی شکایت؛ یا رخصت ہوتے ہوئے عزیز کی وہ آخری نظر، جس میں جانے کتنی باتیں کہی اور سنی جا چکی ہوتی ہیں۔
بسا اوقات ایک نظر، پوری گفتگو سے زیادہ کہہ جاتی ہے۔
انسان اپنے الفاظ پر پردہ ڈال سکتا ہے، مگر آنکھوں سے دل کی خبر چھپانا آسان نہیں۔ خوشی ہو تو ان میں روشنی اتر آتی ہے، غم آئے تو بادل ٹھہر جاتے ہیں، محبت ہو تو بہار سی کھل اٹھتی ہے اور جدائی چھا جائے تو جیسے پورا آسمان خالی ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کبھی کسی کی زبان سے زیادہ اس کی آنکھوں کو پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ممکن ہے وہ جواب نہ دے رہا ہو، مگر اس کا جواب اس کے چہرے پر لکھا ہو۔ شاید وہ شکایت نہ کر رہا ہو، لیکن اس کی دوری خود ایک شکوہ بن چکی ہو۔ ممکن ہے آنکھوں میں آنسو نہ ہوں، مگر ان کے کناروں پر کسی پوشیدہ طوفان کی نمی موجود ہو۔ ہماری عادت ہے کہ بولنے والے کی بات فوراً سن لیتے ہیں، مگر خاموش شخص کے حال تک پہنچنے کی زحمت کم کرتے ہیں۔ ہمیں دکھائی دینے والے آنسو یقین دلاتے ہیں کہ کوئی غم میں ہے، حالاں کہ ہر درد آنکھوں سے نہیں بہتا۔ بعض زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انسان انہیں چھپانے کے لیے مسکرانا سیکھ لیتا ہے۔
اس لیے ہر مسکراہٹ کو خوشی کی علامت نہ سمجھیں؛ ممکن ہے وہ کسی شکست کا پردہ ہو۔ خاموشی ہمیشہ رضامندی بھی نہیں ہوتی۔ کبھی یہ تھکن ہوتی ہے، کبھی مایوسی، کبھی انتظار اور کبھی ایسی شکایت جس کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ انسان بار بار سمجھانے کی کوشش کرے اور اس کی بات ہر بار بے اثر لوٹے تو ایک وقت آتا ہے جب زبان خود خاموش ہو جاتی ہے۔ یہ خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی؛ بعض اوقات یہ اس احساس کا آخری مقام ہوتی ہے کہ اب مزید کچھ کہنا بے سود ہے۔
رشتوں میں بھی ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب بحث ختم ہو جاتی ہے، سوال باقی نہیں رہتے اور شکایتیں بھی دم توڑ دیتی ہیں۔ بظاہر سکون ہوتا ہے، مگر اندر کہیں تعلق کی ڈور کمزور پڑ چکی ہوتی ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ بھی کبھی احساس کی دنیا میں ایک دوسرے سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔ جہاں شکوہ باقی ہو، وہاں تعلق کی کوئی ڈور ابھی سلامت ہوتی ہے؛ مگر جب دل امید ہی چھوڑ دے تو خاموشی گہری ہو جاتی ہے۔
البتہ ہر سکوت فاصلے کی علامت نہیں۔ کبھی خاموشی محبت کی سب سے خوب صورت صورت بھی ہوتی ہے۔ کسی کی تکلیف دیکھ کر خود کو روک لینا، اس کی عزت کی خاطر اپنا شکوہ پی جانا، اس کی مجبوری سمجھ کر سوال نہ کرنا، یا کسی کے زخم کو کریدنے کے بجائے خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ جانا؛ یہ بھی محبت ہے۔ محبت ہمیشہ بڑے دعووں کی محتاج نہیں ہوتی۔ کبھی یہ صرف اتنا جان لینے کا نام ہے کہ سامنے والا آج بات کرنے کے حال میں نہیں۔
دنیا میں وہ لوگ بہت قیمتی ہیں جو ہماری گفتگو سے زیادہ ہماری کیفیت سمجھتے ہیں؛ جو پوچھنے کے بجائے محسوس کرتے ہیں، اور تسلی کے لمبے جملوں کے بجائے خاموش رفاقت کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ پھر کچھ خاموشیاں دعا کی طرح ہوتی ہیں۔ انسان کسی کے لیے دل سے خیر چاہتا ہے، مگر اسے بتاتا نہیں۔ کسی کی کامیابی پر تنہائی میں خوش ہوتا ہے، کسی کی پریشانی میں بے آواز دعا کرتا ہے۔ ایسی محبتیں شور نہیں کرتیں؛ خوشبو کی مانند ہوتی ہیں۔ نظر نہیں آتیں، مگر اپنا وجود محسوس کرا دیتی ہیں۔
اسی طرح کچھ لوگ زندگی سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر دل سے نہیں جاتے۔ وقت ملاقاتوں کو کم کر دیتا ہے، فاصلے راستے بدل دیتے ہیں، مگر یاد کے دریچے کبھی کبھی اچانک کھل جاتے ہیں۔ کوئی خوشبو، کوئی دھن، کوئی موسم یا کسی گلی کا موڑ گزرے ہوئے زمانے کو سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ انسان چند لمحوں کے لیے ٹھہر جاتا ہے اور ماضی سے وہ گفتگو شروع ہو جاتی ہے جو برسوں پہلے ادھوری رہ گئی تھی۔ کچھ تعلقات وقت کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔
خاموشی انسان کو اپنے اندر اترنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ شور میں ہم دنیا کو سنتے ہیں، سکوت میں اپنے دل کی آواز پہچانتے ہیں۔ رات کے پچھلے پہر جب دن کی مصروفیات تھم جاتی ہیں اور انسان تنہا اپنے خیالوں کے ساتھ رہ جاتا ہے، تب وہ سوال سامنے آتے ہیں جنہیں دن بھر کی ہنگامہ خیزی نے دبا رکھا تھا۔ وہاں کچھ پچھتاوے ہوتے ہیں، کچھ خواب، کچھ خواہشیں اور کچھ ایسے جواب جن کی تلاش میں انسان برسوں بھٹکتا رہتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ انسان باہر سے جتنا پرسکون دکھائی دیتا ہے، اندر سے اتنا ہی بے قرار بھی ہو سکتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس لیے کسی خاموش شخص کو معمولی نہ سمجھیں۔ ممکن ہے اس کے سینے میں ایک ایسا جہان آباد ہو جس کی خبر کسی کو نہ ہو۔ شاید وہ کسی ایسے غم سے گزر رہا ہو جسے بیان کرنے کے لیے الفاظ میسر نہ ہوں۔ ممکن ہے وہ خود شکستہ ہو اور پھر بھی دوسروں کے لیے سہارا بنا کھڑا ہو۔ بعض لوگ اپنے زخموں کا چرچا نہیں کرتے؛ وہ انہیں سینے میں لیے دوسروں کے لیے چراغ بنے رہتے ہیں۔ شاید زندگی کی خوب صورتی بھی یہی ہے کہ ہر بات کہی نہیں جاتی۔ کچھ احساسات آنکھوں میں رہتے ہیں، کچھ دعاؤں میں، کچھ یادوں میں اور کچھ دل کی تہہ میں اتر کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔
ہمیں صرف اتنا سیکھنا ہے کہ ہر سکوت کو تکبر نہ سمجھیں، ہر فاصلے کو بے وفائی کا نام نہ دیں، ہر مسکراہٹ کو خوشی نہ جانیں اور ہر خاموشی کو رضامندی نہ سمجھیں۔ کبھی کسی کے پاس بیٹھ کر صرف خاموش رہیں۔ ممکن ہے آپ کی بے لفظ رفاقت وہ بات کہہ دے جس کے لیے ہزاروں الفاظ بھی ناکافی تھے۔ آخرکار زندگی صرف کہے ہوئے جملوں کا نام نہیں؛ اس میں ان باتوں کا حصہ بھی بہت بڑا ہے جو دل میں پیدا ہوئیں، آنکھوں تک آئیں، ہونٹوں پر ٹھہریں اور پھر خاموشی کے دامن میں اتر گئیں۔
کبھی کبھی خاموشی واقعی بولتی ہے؛ بس اسے سننے کے لیے کان نہیں، ایک حساس دل چاہیے۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری)

کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے(صدیوں کے جھروکوں سے)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے (صدیوں کے جھروکوں سے)
ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ اظہار کے لیے الفاظ ضروری ہیں۔ محبت ہو تو اقرار، شکوہ ہو تو گلہ اور دکھ ہو تو آنسو درکار ہوتے ہیں؛ مگر زندگی کے بعض لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب زبان ساکت رہتی ہے اور دل اپنی پوری داستان سنا دیتا ہے۔ لبوں پر کوئی حرف نہیں ہوتا، مگر آنکھیں ایک طویل گفتگو میں مصروف ہوتی ہیں۔ چہرہ خاموش ہوتا ہے، مگر اس کے نقوش پر کئی موسموں کی آمد و رفت صاف دکھائی دیتی ہے۔
کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے۔
یہ ایسی زبان ہے جسے سننے کے لیے کان نہیں، دل چاہیے۔ اس کے جملے ہونٹوں سے ادا نہیں ہوتے؛ نگاہوں کی نمی، چہرے کی اداسی، لہجے کی شکستگی اور رویے کی تبدیلی انہیں آشکار کر دیتی ہے۔ بظاہر یہ ایک خاموش کتاب ہوتی ہے، مگر اس کے سفید صفحات کے درمیان ایک پوری داستان سانس لے رہی ہوتی ہے۔
کسی محفل میں بیٹھا ہوا شخص سب کی باتیں سنتا، مسکراتا اور سر ہلاتا رہتا ہے، مگر اس کی مسکراہٹ میں وہ زندگی نہیں ہوتی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ لوگ اسے خاموش سمجھتے ہیں، حالاں کہ وہ اپنے اندر ایک شور سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان تک لانا بھی دشوار ہوتا ہے؛ انسان انہیں سینے میں یوں چھپا لیتا ہے جیسے تیز ہوا میں کوئی چراغ اپنی لو بچا رہا ہو۔
ہم سب نے ایسی خاموشی کبھی نہ کبھی دیکھی ہے۔ ماں کے چہرے پر وہ ٹھہرا ہوا سکوت، جب بیٹا گھر سے دور ہو؛ باپ کی آنکھوں میں چھپی ہوئی فکر، جب وہ اپنی پریشانی اولاد سے چھپا کر مسکراتا ہے؛ کسی دوست کی اچانک کم ہوتی گفتگو، جس کے پیچھے شاید ٹوٹا ہوا اعتماد ہو؛ کسی اپنے کے بدلتے لہجے میں دبی ہوئی شکایت؛ یا رخصت ہوتے ہوئے عزیز کی وہ آخری نظر، جس میں جانے کتنی باتیں کہی اور سنی جا چکی ہوتی ہیں۔
بسا اوقات ایک نظر، پوری گفتگو سے زیادہ کہہ جاتی ہے۔
انسان اپنے الفاظ پر پردہ ڈال سکتا ہے، مگر آنکھوں سے دل کی خبر چھپانا آسان نہیں۔ خوشی ہو تو ان میں روشنی اتر آتی ہے، غم آئے تو بادل ٹھہر جاتے ہیں، محبت ہو تو بہار سی کھل اٹھتی ہے اور جدائی چھا جائے تو جیسے پورا آسمان خالی ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کبھی کسی کی زبان سے زیادہ اس کی آنکھوں کو پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ممکن ہے وہ جواب نہ دے رہا ہو، مگر اس کا جواب اس کے چہرے پر لکھا ہو۔ شاید وہ شکایت نہ کر رہا ہو، لیکن اس کی دوری خود ایک شکوہ بن چکی ہو۔ ممکن ہے آنکھوں میں آنسو نہ ہوں، مگر ان کے کناروں پر کسی پوشیدہ طوفان کی نمی موجود ہو۔ ہماری عادت ہے کہ بولنے والے کی بات فوراً سن لیتے ہیں، مگر خاموش شخص کے حال تک پہنچنے کی زحمت کم کرتے ہیں۔ ہمیں دکھائی دینے والے آنسو یقین دلاتے ہیں کہ کوئی غم میں ہے، حالاں کہ ہر درد آنکھوں سے نہیں بہتا۔ بعض زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انسان انہیں چھپانے کے لیے مسکرانا سیکھ لیتا ہے۔
اس لیے ہر مسکراہٹ کو خوشی کی علامت نہ سمجھیں؛ ممکن ہے وہ کسی شکست کا پردہ ہو۔ خاموشی ہمیشہ رضامندی بھی نہیں ہوتی۔ کبھی یہ تھکن ہوتی ہے، کبھی مایوسی، کبھی انتظار اور کبھی ایسی شکایت جس کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ انسان بار بار سمجھانے کی کوشش کرے اور اس کی بات ہر بار بے اثر لوٹے تو ایک وقت آتا ہے جب زبان خود خاموش ہو جاتی ہے۔ یہ خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی؛ بعض اوقات یہ اس احساس کا آخری مقام ہوتی ہے کہ اب مزید کچھ کہنا بے سود ہے۔
رشتوں میں بھی ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب بحث ختم ہو جاتی ہے، سوال باقی نہیں رہتے اور شکایتیں بھی دم توڑ دیتی ہیں۔ بظاہر سکون ہوتا ہے، مگر اندر کہیں تعلق کی ڈور کمزور پڑ چکی ہوتی ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ بھی کبھی احساس کی دنیا میں ایک دوسرے سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔ جہاں شکوہ باقی ہو، وہاں تعلق کی کوئی ڈور ابھی سلامت ہوتی ہے؛ مگر جب دل امید ہی چھوڑ دے تو خاموشی گہری ہو جاتی ہے۔
البتہ ہر سکوت فاصلے کی علامت نہیں۔ کبھی خاموشی محبت کی سب سے خوب صورت صورت بھی ہوتی ہے۔ کسی کی تکلیف دیکھ کر خود کو روک لینا، اس کی عزت کی خاطر اپنا شکوہ پی جانا، اس کی مجبوری سمجھ کر سوال نہ کرنا، یا کسی کے زخم کو کریدنے کے بجائے خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ جانا؛ یہ بھی محبت ہے۔ محبت ہمیشہ بڑے دعووں کی محتاج نہیں ہوتی۔ کبھی یہ صرف اتنا جان لینے کا نام ہے کہ سامنے والا آج بات کرنے کے حال میں نہیں۔
دنیا میں وہ لوگ بہت قیمتی ہیں جو ہماری گفتگو سے زیادہ ہماری کیفیت سمجھتے ہیں؛ جو پوچھنے کے بجائے محسوس کرتے ہیں، اور تسلی کے لمبے جملوں کے بجائے خاموش رفاقت کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ پھر کچھ خاموشیاں دعا کی طرح ہوتی ہیں۔ انسان کسی کے لیے دل سے خیر چاہتا ہے، مگر اسے بتاتا نہیں۔ کسی کی کامیابی پر تنہائی میں خوش ہوتا ہے، کسی کی پریشانی میں بے آواز دعا کرتا ہے۔ ایسی محبتیں شور نہیں کرتیں؛ خوشبو کی مانند ہوتی ہیں۔ نظر نہیں آتیں، مگر اپنا وجود محسوس کرا دیتی ہیں۔
اسی طرح کچھ لوگ زندگی سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر دل سے نہیں جاتے۔ وقت ملاقاتوں کو کم کر دیتا ہے، فاصلے راستے بدل دیتے ہیں، مگر یاد کے دریچے کبھی کبھی اچانک کھل جاتے ہیں۔ کوئی خوشبو، کوئی دھن، کوئی موسم یا کسی گلی کا موڑ گزرے ہوئے زمانے کو سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ انسان چند لمحوں کے لیے ٹھہر جاتا ہے اور ماضی سے وہ گفتگو شروع ہو جاتی ہے جو برسوں پہلے ادھوری رہ گئی تھی۔ کچھ تعلقات وقت کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔
خاموشی انسان کو اپنے اندر اترنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ شور میں ہم دنیا کو سنتے ہیں، سکوت میں اپنے دل کی آواز پہچانتے ہیں۔ رات کے پچھلے پہر جب دن کی مصروفیات تھم جاتی ہیں اور انسان تنہا اپنے خیالوں کے ساتھ رہ جاتا ہے، تب وہ سوال سامنے آتے ہیں جنہیں دن بھر کی ہنگامہ خیزی نے دبا رکھا تھا۔ وہاں کچھ پچھتاوے ہوتے ہیں، کچھ خواب، کچھ خواہشیں اور کچھ ایسے جواب جن کی تلاش میں انسان برسوں بھٹکتا رہتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ انسان باہر سے جتنا پرسکون دکھائی دیتا ہے، اندر سے اتنا ہی بے قرار بھی ہو سکتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس لیے کسی خاموش شخص کو معمولی نہ سمجھیں۔ ممکن ہے اس کے سینے میں ایک ایسا جہان آباد ہو جس کی خبر کسی کو نہ ہو۔ شاید وہ کسی ایسے غم سے گزر رہا ہو جسے بیان کرنے کے لیے الفاظ میسر نہ ہوں۔ ممکن ہے وہ خود شکستہ ہو اور پھر بھی دوسروں کے لیے سہارا بنا کھڑا ہو۔ بعض لوگ اپنے زخموں کا چرچا نہیں کرتے؛ وہ انہیں سینے میں لیے دوسروں کے لیے چراغ بنے رہتے ہیں۔ شاید زندگی کی خوب صورتی بھی یہی ہے کہ ہر بات کہی نہیں جاتی۔ کچھ احساسات آنکھوں میں رہتے ہیں، کچھ دعاؤں میں، کچھ یادوں میں اور کچھ دل کی تہہ میں اتر کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔
ہمیں صرف اتنا سیکھنا ہے کہ ہر سکوت کو تکبر نہ سمجھیں، ہر فاصلے کو بے وفائی کا نام نہ دیں، ہر مسکراہٹ کو خوشی نہ جانیں اور ہر خاموشی کو رضامندی نہ سمجھیں۔ کبھی کسی کے پاس بیٹھ کر صرف خاموش رہیں۔ ممکن ہے آپ کی بے لفظ رفاقت وہ بات کہہ دے جس کے لیے ہزاروں الفاظ بھی ناکافی تھے۔ آخرکار زندگی صرف کہے ہوئے جملوں کا نام نہیں؛ اس میں ان باتوں کا حصہ بھی بہت بڑا ہے جو دل میں پیدا ہوئیں، آنکھوں تک آئیں، ہونٹوں پر ٹھہریں اور پھر خاموشی کے دامن میں اتر گئیں۔
کبھی کبھی خاموشی واقعی بولتی ہے؛ بس اسے سننے کے لیے کان نہیں، ایک حساس دل چاہیے۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
35
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 63
Kalam 60
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

حضور غوث اعظم کی تعلیمات اور نوجوانوں کی اصلاح

وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں (صدیوں کے جھروکوں سے)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 60
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢