یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

نمایاں مضامین
انعامی مقابلہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
انعامی مقابلہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
امسال ماہ دسمبر ٢٠٢٥ء مادر علمی مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف میں عرس صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پر بہار موقع پر تحریری، تقریری، شعری انعامی مقابلہ کی جماعت ثالثہ کی طرف سے محفل منعقد ہوئی جس میں طلباء کرام نے انوکھے انداز میں اپنی کاوشوں کا مظاہرہ کیا
اس طرح کی محفلوں سے مقصود طلبا کے اندر چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور دوسروں کو ترغیب دینا ہوتا ہے، بسا اوقات جو طلبا جامعہ میں رہتے ہوئے پردۂ خفا میں رہتے ہیں ان کی صلاحیتیں ان کے سینوں میں مخفی رہتی ہیں ایسے موقع پر دیگر طلباء کو ان کی صلاحیت و استعداد کا جوہر میدان تحریر و تقریر میں چمکتا دمکتا دکھائی دیتا ہے

انعامی مقابلہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
انعامی مقابلہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
امسال ماہ دسمبر ٢٠٢٥ء مادر علمی مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف میں عرس صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پر بہار موقع پر تحریری، تقریری، شعری انعامی مقابلہ کی جماعت ثالثہ کی طرف سے محفل منعقد ہوئی جس میں طلباء کرام نے انوکھے انداز میں اپنی کاوشوں کا مظاہرہ کیا
اس طرح کی محفلوں سے مقصود طلبا کے اندر چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور دوسروں کو ترغیب دینا ہوتا ہے، بسا اوقات جو طلبا جامعہ میں رہتے ہوئے پردۂ خفا میں رہتے ہیں ان کی صلاحیتیں ان کے سینوں میں مخفی رہتی ہیں ایسے موقع پر دیگر طلباء کو ان کی صلاحیت و استعداد کا جوہر میدان تحریر و تقریر میں چمکتا دمکتا دکھائی دیتا ہے
تقریرــــــــــــــــــــ
عام بول چال میں عام لوگوں کے سامنے عام طور پر کسی بات کی تشریح و توضیح کسی مسئلے کی تفہیم ایک آسان مسئلہ ہے لیکن اسی مسئلے کو خاص طور پر لوگوں کو جمع کر کے بیان کرنا اس سے مشکل ہے پھر خاص طور پر خاص لوگوں میں بیان کرنا اور زیادہ مشکل ہے پھر اسی کو اپنے اساتذہ کی موجودگی میں طلبا کے سامنے پیش کرنا سخت تر مشکل ہے اور پھر انعامی مقابلے کی نشست میں جہاں فیصل حضرات فیصلہ نویسی کا فریضہ انجام دے رہے ہوں حرکات و سکنات کو امعان نظر سے دیکھ رہے ہوں وہاں اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کرنا مشکل نہیں بلکہ مشکل ترین امر ہے
عام بول چال میں عام لوگوں کے سامنے عام طور پر کسی بات کی تشریح و توضیح کسی مسئلے کی تفہیم ایک آسان مسئلہ ہے لیکن اسی مسئلے کو خاص طور پر لوگوں کو جمع کر کے بیان کرنا اس سے مشکل ہے پھر خاص طور پر خاص لوگوں میں بیان کرنا اور زیادہ مشکل ہے پھر اسی کو اپنے اساتذہ کی موجودگی میں طلبا کے سامنے پیش کرنا سخت تر مشکل ہے اور پھر انعامی مقابلے کی نشست میں جہاں فیصل حضرات فیصلہ نویسی کا فریضہ انجام دے رہے ہوں حرکات و سکنات کو امعان نظر سے دیکھ رہے ہوں وہاں اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کرنا مشکل نہیں بلکہ مشکل ترین امر ہے
مقالہ نگاری ــــــــــــــــــ
تحریر کا میدان تقریر کے میدان سے کہیں زیادہ سنگلاخ ہے کہ یہاں ہر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے کبھی کبھار تھوڑی سی لغزش پوری تحریر پر پانی پھیر دیتی ہے تقریر کسی حد میں محدود ہوتی ہے لیکن تحریر کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے تقریر ایک زمانے تک چلتی ہے پھر لوگ بھول جاتے ہیں ختم ہو جاتی ہے لیکن تحریر ہر زمانے میں باقی رہتی ہے لوگ بھول بھی جائیں تو مضمون ضرور سینۂ قرطاس میں محفوظ رہتا ہے پھر ایک زمانے کے بعد کسی با ذوق کے ہاتھ لگ جاتی ہے اور سینۂ قرطاس سے سینۂ انسان میں منتقل ہو جاتی ہے لیکن تقریر میں یہ بقا نہیں ہے اس لیے تحریر میں ہر ہر جملہ، لفظ لفظ بلکہ حرف حرف کی رعایت کرنی پڑتی ہے ہر زاویے سے پرکھنا پڑتا ہے
تحریر کا میدان تقریر کے میدان سے کہیں زیادہ سنگلاخ ہے کہ یہاں ہر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے کبھی کبھار تھوڑی سی لغزش پوری تحریر پر پانی پھیر دیتی ہے تقریر کسی حد میں محدود ہوتی ہے لیکن تحریر کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے تقریر ایک زمانے تک چلتی ہے پھر لوگ بھول جاتے ہیں ختم ہو جاتی ہے لیکن تحریر ہر زمانے میں باقی رہتی ہے لوگ بھول بھی جائیں تو مضمون ضرور سینۂ قرطاس میں محفوظ رہتا ہے پھر ایک زمانے کے بعد کسی با ذوق کے ہاتھ لگ جاتی ہے اور سینۂ قرطاس سے سینۂ انسان میں منتقل ہو جاتی ہے لیکن تقریر میں یہ بقا نہیں ہے اس لیے تحریر میں ہر ہر جملہ، لفظ لفظ بلکہ حرف حرف کی رعایت کرنی پڑتی ہے ہر زاویے سے پرکھنا پڑتا ہے
نظم نگاری ــــــــــــــــــــــــ
اور تحریر میں نثر سے زیادہ نظم نگاری مشکل ہے کہ اس میں اوزان و بحور، ردیف و قافیہ، محاسن و معائب، مزاج و طبیعت، نازکی و نرمی، خنکی و سختی، مفاہیم و معانی، مطالب و مضامین، فکر و نظر، اصناف و صنعات ہر ہر نوع کو بہت سلیقے سے رکھا جاتا ہے خاص کر حمد و نعت لکھنا تلوار کی دھار پہ چلنے کے مترادف ہے
اور تحریر میں نثر سے زیادہ نظم نگاری مشکل ہے کہ اس میں اوزان و بحور، ردیف و قافیہ، محاسن و معائب، مزاج و طبیعت، نازکی و نرمی، خنکی و سختی، مفاہیم و معانی، مطالب و مضامین، فکر و نظر، اصناف و صنعات ہر ہر نوع کو بہت سلیقے سے رکھا جاتا ہے خاص کر حمد و نعت لکھنا تلوار کی دھار پہ چلنے کے مترادف ہے
بحمدہ تعالیٰ اتنی سنگلاخ زمین ہونے کے باجود طلباء جامعۃ الرضا نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور اچھی تعداد میں مسابقے میں شریک ہوئے اور اپنی کاوشوں کا مظاہرہ کیا نیز انعام و اکرام سے نوازے گئے جس میں فقیر راقم الحروف جسیم اکرم مرکزی غفر لہ القدیر نے بھی تقریر، مقالہ نگاری، شعر و سخن تینوں میں حصہ لیا اور بفضل خدا بعنایت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تقریر میں تیسرا مقام، مقالہ نگاری میں اول مقام اور شعر و سخن میں مابین کل طلبا اول مقام سے شرفیاب ہوا
میں سراپا حزن و ملال تھا نہیں مجھ میں کوئی کمال تھا
ملا تیرے در سے یہ مرتبہ یہ مقام جامعۃ الرضا
ملا تیرے در سے یہ مرتبہ یہ مقام جامعۃ الرضا
[جسیم اکرم]
اس سعادت سے شرفیابی پر فقیر راقم الحروف اپنے تمام اساتذہ، طلبا خصوصاً جماعت ثالثہ کا تہ دل سے شکر گزار ہے
الفاظ سے تو شکریہ ہوگا نہیں ادا
تو نے کرم اے ماہ جبیں اتنا کر دیا
تو نے کرم اے ماہ جبیں اتنا کر دیا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
لیکن اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ طلبا کے لیے سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ ان کے دلوں میں مقالہ نگاری، پند و وعظ کا شوق و ذوق شباب پر ہے جو ہر بے ہنگم صورت میں تڑپ اٹھتا ہے اور ہمیں متحرک و فعال رکھتا ہے اور یہی انسان کی کامیابی ہے کہ اس کا وقت رائگاں نہ جائے بلکہ کسی نہ کسی کام کے کام آجائے
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمارے اساتذہ سلامت رہیں ہم طلبا کے علم و عمل اور میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے اور دین متین کا سچا خادم بنائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم










