صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی
تحقیق و تعاقب

ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی

✍️ Amir Fuzail Markazi

ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی
باسمہ تعالٰی ونصلی علی نبیہ الاعلی
میں آج اس سوال کے جواب کے درپے ہوں جو ان دنوں دیوبندیوں کے طوفانِ بدتمیزی کا موضوعِ خاص بنا ہوا ہے۔ ان کی طرف سے مسلسل سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے کہ حسام الحرمین میں جو رشید احمد گنگوہی کی طرف وقوعِ کذب والا فتوی منسوب ہے، اس کا آخر کیا ثبوت ہے؟ یہ فتویٰ کہاں ہے؟ اس سلسلے میں دیوبندیوں کے چند نمایاں اعتراضات درج ذیل ہیں:
1. یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے؟
2. اگر واقعی یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ “فتاویٰ رشیدیہ” میں ضرور ہوتا۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے۔
3 .فتاوی رشیدیہ میں اس کے برخلاف فتوی موجود ہے ۔لہٰذا وہ ثبوت پیش کیا جائے جو یہ ثابت کرے کہ یہ فتوی واقعی رشید احمد گنگوہی ہی کا ہے۔
4. اور اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ فتوی کسی کاغذ پر لکھا ہوا ہے تو محض کسی تحریر یا خط کی مشابہت کو بنیاد بنا کر اسے قطعی فتوی کہنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے۔ چاند کی رویت جیسے مسئلہ میں بھی خط و کتابت کا اعتبار نہیں ہوتا، کیونکہ الخط یشبه الخط تو کیا کفر و اسلام جیسے نازک اور حسّاس معاملے میں ایسی مشتبہ تحریر کو بنیاد بنا کر کسی کے کفر کا حکم لگا دینا انصاف کے دائرے میں آتا ہے؟
اب ذیل میں ان اعتراضات کا مفصل بالترتیب جواب دیاجاتا ہے جس سے حق کے متلاشی راہیاب ہونگے اور دیابنہ ذلیل وخوار ۔
# اعتراض1
یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے؟
# جواب:
یہ اعتراض ہی کج فہمی اور عناد پر مبنی اور غلط ہے، کیونکہ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے حسام الحرمین میں رشید احمد گنگوہی کے فتویٰ کا حوالہ کسی مطبوعہ کتاب سے نہیں دیا بلکہ اس فتویٰ کی قلمی تحریر کی فوٹو کاپی کا مشاہدہ فرما کر اس کا ذکر فرمایا۔ چنانچہ خود اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں :
پھر تو ظلم گمراہی میں اس کا یہاں تک بڑھا کہ اپنے ایک فتوے میں جو اس کا مہری دستخط میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا۔ جوممبی وغیرہ میں بارہا مع ردکے چھپا صاف لکھ گیا کہ جو اللہ سجنہ و تعالی کو بالفعل چھوٹا مانے اور تصریح کرے کہ (معاذ اللہ تعالی اللہ تعالی جھوٹ بولا اور یہ بڑا عیب اُس سے صادر ہو چکا تو اسے کفر بالائے طاق گمراہی در کنار فاسق بھی نہ کہو اسلئے کہ بہت سے امام ایسا ہی کہ چکے ہیں جیسا اُس نے کہا اور بس نہایت کار یہ ہے کہ اُس نے تادیل میں خطا کی.
(حسام الحرمین مع تمہید ایمان ص 15)
پس یہ واضح ہوا کہ اعلیٰ حضرت نے فتویٰ کی فوٹو کاپی کو بنیاد بنایا، اور دیوبندی آج تک اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں، صرف صَغریٰ کبریٰ کی شعبدہ بازیاں کر کے اصل بات سے فرار چاہتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت تو فرماتے ہیں: میں نے اپنی آنکھ سے مہری دستخط والا فتویٰ دیکھا. اب سوال یہ ہے کہ جب امام نے مشاہدہ کی بنیاد پر بات کی تو اعتراض کی گنجائش کہاں رہتی ہےکہ دکھاؤں کس کتاب میں ہے ؟اور اس فتوی کا فوٹو ہندوستان میں پیلی بھیت شریف اور پاکستان میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہور اور دیگر جگہ موجود ہے اور ہمارے اکابر تو صد سال سے للکار رہے ہیں کہ:آؤ! ہم تمہیں وہی فتویٰ دکھاتے ہیں لیکن دیوبندی ہمیشہ کی طرح جان بچاؤ کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے فرار اختیار کر لیتے ہیں۔
اب میں وہی قلمی فتویٰ (جس کا امام احمد رضا نے حوالہ دیا ہے) مکمل نقل کرتا ہوں، تاکہ قارئین کے لیے حجت تمام ہو جائے۔ دستخط و مہری فتویٰ یہ ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ما قولكم رحمكم الله - دو شخص كذب باری میں گفتگو کرتے تھے ایک کی طرف داری کے واسطے تیسرے شخص نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان الله لا يغفران يشرك به ويغفر ما دون ذالك الخ لفظ ما عام ہے ، شامل ہے معصیت قتل مومن کو ، پس آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ پروردگار مغفرت مومن قاتل بالعمد بھی فرما دیگا۔ اور دوسری آیت میں ہے من قتل مومنا متعمدا فجزاءه جهنم خالدا - الخ لفظ من عام ہے شامل ہے مومن قاتل بالعمد کو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن قاتل مومن بالعمد کی مغفرت نہ ہوگی ۔ اس قائل کے خصم نے کہا کہ ۔آپ کے استدلال سے وقوع کذب باری ثابت ہوتا ہے کیونکر آیت میں ویغفر ہے نہ ویمکن ان یغفر یہ سنکر اس قائل نے جواب دیا میں نے کب کہا ہے کہ میں وقوع کا قائل نہیں ہوں۔ اور دوسرا قول اسی قائل کا یہ ہے کہ کذب علی العموم قبیح معنی منافر لطبع نہیں ہے۔اللہ تعالی نے بعض مواضع میں جائز رکھا ہے اور توریہ و عین کذب معنی بعض مواضع میں دونوں اولی ہیں۔ نہ فقط تو ریہ - آیا یہ قائل مسلمان ہے یا کافر ؟ اور مسلمان ہے تو بدعتی ضال یا اہلسنت و جماعت با وجود قبول کرنےکذب باری تعالیٰ کے ۔ بینوا وتوجروا۔الجواب : (رشید احمد گنگوھی صاحب لکھتے ہیں)اگر چہ شخص ثالث نے تاویل آیات میں خطا کی، مگر تا ہم اس کو کافر کہنا یا بدعتی ضال کہنا نہیں چاہئے کیونکہ وقوع خلف و عید کو جماعت کثیرہ علماء سلف کی قبول کرتی ہے چنانچہ مولوی احمد حسن صاحب ، رسالہ تنزیہ الرحمن اپنے رسالہ میں تصریح کرتے ہیں، بقولہ علاوہ اس کے مجوزین خلف وعید وقوع خلف کے بھی قائل ہیں چنانچہ ان کے دلائل سے ظاہر ہے حيث قالوا لانه ليس بنقص بل هو كمال الخ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ بعض علماء وقوع خلف وعید کے قائل ہیں۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ خلف و عید خاص ہے اور کذب عام ہے کیونکہ کذب بولتے ہیں قول خلاف واقع کو، سووہ گاہ وعید ہوتا ہے گاہ وعدہ گاہ خبر، اور سب کذب کے انواع ہیں اور وجود نوع کا وجو د جنس کو مستلزم ہے انسان اگر ہو گا تو حیوان بالضرور موجود ہو یگا لہذا وقوع کذب کے معنی درست ہو گئے اگر چہ بضمن کسی فرد کے ہو۔ پس بناء علیہ اس ثالث کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہئے کہ اس میں تکفیر علماء سلف کی لازم آ تی ہے۔ ہر چندیہ قول ضعیف ہے، مگر تا ہم متقدمین کے مذاہب پر صاحب دلیل قوی کو تقلیل صاحب دلیل ضعیف کی درست نہیں۔ دیکھو کہ حنفی، شافعی پر اور بعکس بوجہ قوت دلیل اپنی کے طعن و تضلیل نہیں کر سکتا۔ انا مومن انشا اللہ کا مسئلہ کتب عقائد میں خود لکھتے ۔ لہذا اس ثالث کو تضلیل تفسیق سے مامون کرنا چاہئے البتہ بنرمی اگر فہمائش ہو بہتر ہے۔ البتہ قدرة على الكذب مع امتناع الوقوع مسئلہ اتفاقیہ ہے کہ اس میں کسی کا خلاف نہیں۔ اگر چہ اس زمانے میں لوگوں کو ابعاد بیجا ہو گیا ہے۔ قال الله ولو شئنا لاتينا كل نفس هداها ولكن حق القول منى لا ملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين الاية - فقط والله تعالى اعلم كتبه الاحقر رشید احمد گنگوهی عفی عنه
نشان مہر ۔رشید احمد
عکس فتوی گنگوھی
#اعتراض 2.
اگر واقعی یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ “فتاویٰ رشیدیہ” میں ضرور ہوتا۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے۔
جواب:
# فتاوی رشیدیہ میں گنگوھی کا سب فتوی موجود نہیں
اس سوال کے جواب میں صرف اتنی گذارش ہے کہ کیا آج کے مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں وہ سب فتاوی موجود ہیں جو انھوں نے اپنی حیات میں لکھے تھے ۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی ہی ہے تو پھر مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں نہ ہونے سے کہاں لازم آتا ہے کہ یہ فتویٰ ان کا لکھا ہوا نہ ہو۔ فتاوی رشیدیہ گنگوہی صاحب کی وفات کے برسوں بعد جمع کیا گیا ہے۔ اس وقت تک اس فتوے کے زہر یلے اثرات ظاہر ہو چکے تھے۔ تو کیا فتاوی رشیدیہ کے جامع اور شائع کنندہ اپنے مذہب اور اپنے مذہب کے بانی کے دشمن تھے کہ اسے چھاپ دیتے ۔
اور اگر آپ کہیں کہ نہیں، گنگوہی صاحب نے اپنی حیات میں جتنے فتوے لکھے تھے سب اس میں چھپ چکے ہیں تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں قادیانی پر کفر والا فتوی فتاویٰ رشیدیہ کے کس صفحہ پر ہے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے خلیل احمد انبیٹھوی نے المہند علی المفند ص 82میں لکھا ہے :
ہمارے مشائخ نے اس (مرزا غلام احمد)کے کافر ہونے کا فتوی دیا قادیانی کے کافر ہونے کے بابت ہمارے حضرت مولانا رشید احمد گنگوھی کا فتوی طبع ہوکر شائع بھی ہوچکا ہے بکثرت لوگوں کے پاس موجود ہے
اگر دیابنہ قادیانی پر کفر کا فتوٰی رشید احمد گنگوھی کے فتاوی رشیدیہ میں دیکھا دیتے ہیں تو ہم بھی فتاوی رشیدیہ میں اس فتوی کو دیکھا دینگے لیکن ہمیں معلوم ہے ع
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار تم سے
یہ بازوں میرے آزمائے ہوۓ ہے

اعتراض 3

فتاوی رشیدیہ میں یہ فتوی نہیں ہے بلکہ اس میں اس کے برخلاف فتوی موجود ہے ۔لہٰذا وہ ثبوت پیش کیا جائے جو یہ ثابت کرے کہ یہ فتوی واقعی رشید احمد گنگوہی ہی کا ہے۔
جواب
# فتاوی رشیدیہ میں تحریف کی گئ
یہ سوال اس وقت درست ہوتا جبکہ فتاوی رشیدیہ میں ردوبدل نہ کیا گیا ہوتا مگر بکثرت اس کے نظائر موجود ہے کہ اس میں ردوبدل اور تحریف کی گئ تو اس فتوی کے خلاف مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ یہ فتوی ان کا ہو، ہوسکتا ہے کسی دیوبندی نے ان کے نام سے فتوی گڑھ کر اس میں شامل کردیا ہو جیسا کہ دیابنہ کی عادت ہے کہ وہ مکمل کتاب گڑھ کر کسی سنی عالم کی طرف منسوب کردیتے ہے اس کے شواہد رد شہاب الثاقب میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اور یہ خود کفر کا اقرار ہے کیونکہ اگر کوئ کسی کو گالی دے پھر بعد میں اس کی تعریف کردیں تو تو گالی دینے کی نحوست سے وہ پاک نہیں ہوگا ۔
مزید برآں فتاوی رشیدیہ میں چھپنے کے بعد بھی ردوبدل کیا گیا ہے بطور شہادت دو مثال حاضر ہے

شہادت 1

فتاوی رشیدیہ کے پرانے چھاپے مطبوعہ رحیمیہ ، دہلی میں یہ عبارت تھی : امکان کذب ( جھوٹ ) بایں معنی کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ، اس کے خلاف پر قادر ہے، مگر خود اس کو نہ کرے گا یہ عقیدہ بندہ کا ہے۔“
( فتاوی رشیدیه حصه 1 صفحه 10 سطر 19 مطبوعه رحیمیه (دہلی )
یہی فتاوی رشیدیہ کودیوبندیوں کی مجلس عالمی مجلس تحفظ اسلام ، کراچی نے چھاپا تو اس میں سے یہ عبارت ہی غائب کر دی ۔ یہ ہے دیوبندیوں کی جدید تحریف ۔ جب یہ اس طرح ہیرا پھیری کر سکتے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے گنگوہی کے نام سے کفر والا فتویٰ فتاوی رشیدیہ میں ڈال دیا ہو۔ واللہ اعلم ۔

شہادت2

پھر فتاوی رشیدیہ کا وہ فتوی جس میں وقوع کذب کے قائل کو کافر کہا گیا تھا ، اس کے نیچے تاریخ دی گئی تھی1307 اور یہ تاریخ اس فتوی سے پہلے کی تھی جس میں گنگوہی صاحب نے قائلِ وقوع کذب کو کافر و گمراہ کہنے سے منع کیا تھا۔کیونکہ اس فتوی کے نیچےتاریخ 1308تھی جو میڑٹھ سے چھپی تھی ۔جب فتاوی رشیدیہ عالمی مجلس تحفظ اسلام، کراچی نے چھاپا تو انہوں نے فتویٰ کے نیچے سے تاریخ ہی اڑادی تا کہ اہل سنت جو دلیل بناتے ہیں کہ وقوع کذب کی تائید والافتوی بعد کا ہے اور وقوع کذب کو کافر کہنے والا فتویٰ پہلے کا ہے اس کا ثبوت ہی ختم ہو جائے۔
جب فتاوی رشیدیہ میں دیوبندی چھپنے کے بعد ردوبدل کرسکتے ہیں تو کیا چھپنے سے پہلے اپنے اکابر کو کفر سے بچانے کیلئے یہ کام نہیں کیا ہوگا ؟
رشید احمد گنگوھی پندرہ سال تک اپنے کفر سے راضی رہا
اور یہ سوال کہ ہم نہیں مانتے کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کا ہے ۔ثابت کریں کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کاہی ہے تو اس کے جواب علامہ اجمل القادری فرماتے ہیں :
اگر ان امور سے بھی قطع نظر کیجئے تو مصنف کو یا کسی دیو بندی کو گنگوہی جی کے اس فتوے سے انکار کرنے کا کوئی حق ہی حاصل نہیں کہ جن کو اس فتوی سے انکار کرنے کا حق تھا وہ صرف ایک گنگوہی صاحب تھے۔ تو گنگوہی صاحب کی حیات ہی میں پہلے یہ فتوی ان کی قلمرو ااور ان کے معتقدین کے شہر خاص میرٹھ میں چھپا اور 1308ھ ہی میں اس کا رد میں رسالہ صيانة الناس مطبع حديقة العلوم میرٹھ طبع ہو کر شائع ہوا ۔ گنگوہی جی نے نہ اس فتوی کا انکار کیا نہ اس رد کا جواب دیا۔ ۔ ۔ لوگ ان کو اس فتوی کی بنا پر کافر کہتے اور اعلان کرتے رہے اور گنگوہی پندرہ سال تک اپنے آپ کو کا فر کہلواتے رہے، بالکل خاموش اور ساکت رہے ، دم سادے پڑے رہے ، اپنی طرف اس فتوی کی نسبت کراتے رہے، اس کا رد کرنے والے رد کرتے رہے، شائع کرنے والے اس رد کو شائع کرتے رہے، اس پر ہر طرف سے ان کے پاس اعتراضات پہنچتے رہے، علماء دین اس فتوے پر حکم کفر دیتے رہے، دنیا بھر میں ان کو اس گستاخی کے شور مچتے رہے لیکن گنگوہی جی نہ کہہ سکے کہ یہ میرافتوی نہیں ، میری طرف اس فتوی کی نسبت غلط اور جھوٹ ہے۔
(رد الشهاب الثاقب 250، رضا اکیدمی ممبئ)
دیوبندیو!جب خود رشید احمد گنگوھی نے اس فتوی کی نسبت اپنی جانب ہونے سے انکار نہیں کیا اور السکوت کالرضا کا ثبوت دیتا رہا تو تمہارا انکار کیا فائدہ دیگا ؟تمہارا انکارکیا اس کو کفر کے گھاٹ سے نکالنے میں معاون ہوگا ؟

اعتراض 4

اور اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ فتوی کسی کاغذ پر لکھا ہوا ہے تو محض کسی تحریر یا خط کی مشابہت کو بنیاد بناکراسے قطعی فتوی کہنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے۔ چاند کی رویت جیسے مسئلہ میں بھی خط و کتابت کا اعتبار نہیں ہوتا، کیوں کہ الخط یشبه الخط تو کیا کفر و اسلام جیسے نازک اور حسّاس معاملے میں ایسی مشتبہ تحریر کو بنیاد بنا کر کسی کے کفر کا حکم لگا دینا انصاف کے دائرے میں آتا ہے؟
جواب

مفتی کا خط مع مہر حجت ہے

اگر دیوبندیو کی یہ بات صحیح مان لی جائیں تو پھر دیوبندیوں کے دارالافتاء سے جاری کئے ہوئے سارے فتاوی غیر معتبر اور لغو اور خود گنگوہی صاحب کا مجموعہ فتاوی ردی کی ٹوکری ۔ ۔ دیوبندیو تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ فقہا نے جن جن لوگوں کے خط کو معتبر مانا ہے ان میں امراء اکابراور مفتی بھی ہیں :۔ رد المختار جلد رابع ص ۳۵ پر ہے :
يفيد عدم الاقتصار على الصراف والسمسار والبياع بل مثله كل ما جرت العادة فيه في داخل فيه ما يكتبه الامراء و الاكابر ممن يتعذر الاشهاد فاذا كتب وصولا او مكا بدين عليه وختمه بخاتمه المعروف فانه في العادة يكون حجة عليه بحيث لا يمكن الانكار ولوانكر یعد بین الناس مکابرا
(ترجمہ )اس سے یہ افادہ ہوا کہ صرف صراف دلال بیاع ہی کا خط معتبر نہیں بلکہ جن جن لوگوں کے خط کے حجت ہونے کی عادت جاری ہے سب حجت ہیں۔ اسی میں وہ بھی داخل ہے جو امرا او اور اکابر لکھتے ہیں جنھیں گواہ بنانا متعذر ہوا، اگر وصولیابی کی رسید یا قرض کا دستاویز لکھا اور اس پر اپنی مشہور و معروف مہر کر دی تو اس پر حجت ہے یہی عادت ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں اور اگر انکار کریگا تو لوگوں میں مکابرہ شمار کیا جاۓ گا ۔
نیز اسی میں ص306 پر ہے:
ان القاضي اذا اشكل عليه الامريكتب الى فقها مصر آخربان المشاورة بالکتاب سنة قديمة في الحوادث
( ترجمہ )قاضی پر جب کوئی معاملہ مشکل ہو جاۓ تو دوسرے شہر کے فقہا کو لکھے ۔ اسلئے کہ حوادث میں بذریعہ خط باہمی مشورہ سنت قدیمہ ہے۔

الخط یشبه الخط کامحل

اور یہ کہنا کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے تو یہ حجت کیسے ہوگا ،تو جواباعرض ہے دیوبندیو آپ کو کچھ خبر بھی ہے کہ فقہاء نے الخط یشبه الخط کہاں غیر معتبر مانا ہے۔ آپ اسے بخوبی جانتے ہیں مگر حیلہ جوئی کے لئے کلمہ حق بول کر باطل مراد نہ لیتے تو کیا کرتے ۔ جناب ! یہ اس وقت ہے جبکہ جس کی طرف خط منسوب ہے وہ انکار کرے ۔ مثلاً زید نے عمرپر کوئی دعوی کیا ۔ عمرو و نے دعویٰ سے انکار کیا۔ زید نے ثبوت میں عمر کی تحریر پیش کی عمر اس تحریری سے بھی انکار کیا، تو وہ تحریر معتبر ہوگی یا نہیں ۔ اس موقع پر فرمایاگیا کہ الخط يشبه الخط -
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہاں پہلے تو یہ بات ثابت کیجئے کہ گنگوہی صاحب نے انکار کیا ہے۔ ہم فقہاء کے ارشاد سے ثابت کر آئے کہ خط مفتی حجت ہے ۔ جب اس فتوی پرگنگوہی صاحب کے دستخط بھی ہیں مہر بھی ہے تو بلا کسی دغدغہ کے ثابت ہے کہ یہ انھیں کا فتوی ہے۔ اور اعلی حضرت کا اس کی طرف نسبت کرنا اورعلماۓ حرمین شریفین کا فتوی کفر دینا بالکل حق اور صداقت پر مبنی ہے اور دیوبندیو کا انکار مکابرہ ہے ۔
از قلم محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیۃ جامعۃ الرضا بریلی شریف

ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی
باسمہ تعالٰی ونصلی علی نبیہ الاعلی
میں آج اس سوال کے جواب کے درپے ہوں جو ان دنوں دیوبندیوں کے طوفانِ بدتمیزی کا موضوعِ خاص بنا ہوا ہے۔ ان کی طرف سے مسلسل سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے کہ حسام الحرمین میں جو رشید احمد گنگوہی کی طرف وقوعِ کذب والا فتوی منسوب ہے، اس کا آخر کیا ثبوت ہے؟ یہ فتویٰ کہاں ہے؟ اس سلسلے میں دیوبندیوں کے چند نمایاں اعتراضات درج ذیل ہیں:
1. یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے؟
2. اگر واقعی یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ “فتاویٰ رشیدیہ” میں ضرور ہوتا۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے۔
3 .فتاوی رشیدیہ میں اس کے برخلاف فتوی موجود ہے ۔لہٰذا وہ ثبوت پیش کیا جائے جو یہ ثابت کرے کہ یہ فتوی واقعی رشید احمد گنگوہی ہی کا ہے۔
4. اور اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ فتوی کسی کاغذ پر لکھا ہوا ہے تو محض کسی تحریر یا خط کی مشابہت کو بنیاد بنا کر اسے قطعی فتوی کہنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے۔ چاند کی رویت جیسے مسئلہ میں بھی خط و کتابت کا اعتبار نہیں ہوتا، کیونکہ الخط یشبه الخط تو کیا کفر و اسلام جیسے نازک اور حسّاس معاملے میں ایسی مشتبہ تحریر کو بنیاد بنا کر کسی کے کفر کا حکم لگا دینا انصاف کے دائرے میں آتا ہے؟
اب ذیل میں ان اعتراضات کا مفصل بالترتیب جواب دیاجاتا ہے جس سے حق کے متلاشی راہیاب ہونگے اور دیابنہ ذلیل وخوار ۔
# اعتراض1
یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے؟
# جواب:
یہ اعتراض ہی کج فہمی اور عناد پر مبنی اور غلط ہے، کیونکہ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے حسام الحرمین میں رشید احمد گنگوہی کے فتویٰ کا حوالہ کسی مطبوعہ کتاب سے نہیں دیا بلکہ اس فتویٰ کی قلمی تحریر کی فوٹو کاپی کا مشاہدہ فرما کر اس کا ذکر فرمایا۔ چنانچہ خود اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں :
پھر تو ظلم گمراہی میں اس کا یہاں تک بڑھا کہ اپنے ایک فتوے میں جو اس کا مہری دستخط میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا۔ جوممبی وغیرہ میں بارہا مع ردکے چھپا صاف لکھ گیا کہ جو اللہ سجنہ و تعالی کو بالفعل چھوٹا مانے اور تصریح کرے کہ (معاذ اللہ تعالی اللہ تعالی جھوٹ بولا اور یہ بڑا عیب اُس سے صادر ہو چکا تو اسے کفر بالائے طاق گمراہی در کنار فاسق بھی نہ کہو اسلئے کہ بہت سے امام ایسا ہی کہ چکے ہیں جیسا اُس نے کہا اور بس نہایت کار یہ ہے کہ اُس نے تادیل میں خطا کی.
(حسام الحرمین مع تمہید ایمان ص 15)
پس یہ واضح ہوا کہ اعلیٰ حضرت نے فتویٰ کی فوٹو کاپی کو بنیاد بنایا، اور دیوبندی آج تک اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں، صرف صَغریٰ کبریٰ کی شعبدہ بازیاں کر کے اصل بات سے فرار چاہتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت تو فرماتے ہیں: میں نے اپنی آنکھ سے مہری دستخط والا فتویٰ دیکھا. اب سوال یہ ہے کہ جب امام نے مشاہدہ کی بنیاد پر بات کی تو اعتراض کی گنجائش کہاں رہتی ہےکہ دکھاؤں کس کتاب میں ہے ؟اور اس فتوی کا فوٹو ہندوستان میں پیلی بھیت شریف اور پاکستان میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہور اور دیگر جگہ موجود ہے اور ہمارے اکابر تو صد سال سے للکار رہے ہیں کہ:آؤ! ہم تمہیں وہی فتویٰ دکھاتے ہیں لیکن دیوبندی ہمیشہ کی طرح جان بچاؤ کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے فرار اختیار کر لیتے ہیں۔
اب میں وہی قلمی فتویٰ (جس کا امام احمد رضا نے حوالہ دیا ہے) مکمل نقل کرتا ہوں، تاکہ قارئین کے لیے حجت تمام ہو جائے۔ دستخط و مہری فتویٰ یہ ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ما قولكم رحمكم الله - دو شخص كذب باری میں گفتگو کرتے تھے ایک کی طرف داری کے واسطے تیسرے شخص نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان الله لا يغفران يشرك به ويغفر ما دون ذالك الخ لفظ ما عام ہے ، شامل ہے معصیت قتل مومن کو ، پس آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ پروردگار مغفرت مومن قاتل بالعمد بھی فرما دیگا۔ اور دوسری آیت میں ہے من قتل مومنا متعمدا فجزاءه جهنم خالدا - الخ لفظ من عام ہے شامل ہے مومن قاتل بالعمد کو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن قاتل مومن بالعمد کی مغفرت نہ ہوگی ۔ اس قائل کے خصم نے کہا کہ ۔آپ کے استدلال سے وقوع کذب باری ثابت ہوتا ہے کیونکر آیت میں ویغفر ہے نہ ویمکن ان یغفر یہ سنکر اس قائل نے جواب دیا میں نے کب کہا ہے کہ میں وقوع کا قائل نہیں ہوں۔ اور دوسرا قول اسی قائل کا یہ ہے کہ کذب علی العموم قبیح معنی منافر لطبع نہیں ہے۔اللہ تعالی نے بعض مواضع میں جائز رکھا ہے اور توریہ و عین کذب معنی بعض مواضع میں دونوں اولی ہیں۔ نہ فقط تو ریہ - آیا یہ قائل مسلمان ہے یا کافر ؟ اور مسلمان ہے تو بدعتی ضال یا اہلسنت و جماعت با وجود قبول کرنےکذب باری تعالیٰ کے ۔ بینوا وتوجروا۔الجواب : (رشید احمد گنگوھی صاحب لکھتے ہیں)اگر چہ شخص ثالث نے تاویل آیات میں خطا کی، مگر تا ہم اس کو کافر کہنا یا بدعتی ضال کہنا نہیں چاہئے کیونکہ وقوع خلف و عید کو جماعت کثیرہ علماء سلف کی قبول کرتی ہے چنانچہ مولوی احمد حسن صاحب ، رسالہ تنزیہ الرحمن اپنے رسالہ میں تصریح کرتے ہیں، بقولہ علاوہ اس کے مجوزین خلف وعید وقوع خلف کے بھی قائل ہیں چنانچہ ان کے دلائل سے ظاہر ہے حيث قالوا لانه ليس بنقص بل هو كمال الخ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ بعض علماء وقوع خلف وعید کے قائل ہیں۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ خلف و عید خاص ہے اور کذب عام ہے کیونکہ کذب بولتے ہیں قول خلاف واقع کو، سووہ گاہ وعید ہوتا ہے گاہ وعدہ گاہ خبر، اور سب کذب کے انواع ہیں اور وجود نوع کا وجو د جنس کو مستلزم ہے انسان اگر ہو گا تو حیوان بالضرور موجود ہو یگا لہذا وقوع کذب کے معنی درست ہو گئے اگر چہ بضمن کسی فرد کے ہو۔ پس بناء علیہ اس ثالث کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہئے کہ اس میں تکفیر علماء سلف کی لازم آ تی ہے۔ ہر چندیہ قول ضعیف ہے، مگر تا ہم متقدمین کے مذاہب پر صاحب دلیل قوی کو تقلیل صاحب دلیل ضعیف کی درست نہیں۔ دیکھو کہ حنفی، شافعی پر اور بعکس بوجہ قوت دلیل اپنی کے طعن و تضلیل نہیں کر سکتا۔ انا مومن انشا اللہ کا مسئلہ کتب عقائد میں خود لکھتے ۔ لہذا اس ثالث کو تضلیل تفسیق سے مامون کرنا چاہئے البتہ بنرمی اگر فہمائش ہو بہتر ہے۔ البتہ قدرة على الكذب مع امتناع الوقوع مسئلہ اتفاقیہ ہے کہ اس میں کسی کا خلاف نہیں۔ اگر چہ اس زمانے میں لوگوں کو ابعاد بیجا ہو گیا ہے۔ قال الله ولو شئنا لاتينا كل نفس هداها ولكن حق القول منى لا ملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين الاية - فقط والله تعالى اعلم كتبه الاحقر رشید احمد گنگوهی عفی عنه
نشان مہر ۔رشید احمد
عکس فتوی گنگوھی
#اعتراض 2.
اگر واقعی یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ “فتاویٰ رشیدیہ” میں ضرور ہوتا۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے۔
جواب:
# فتاوی رشیدیہ میں گنگوھی کا سب فتوی موجود نہیں
اس سوال کے جواب میں صرف اتنی گذارش ہے کہ کیا آج کے مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں وہ سب فتاوی موجود ہیں جو انھوں نے اپنی حیات میں لکھے تھے ۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی ہی ہے تو پھر مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں نہ ہونے سے کہاں لازم آتا ہے کہ یہ فتویٰ ان کا لکھا ہوا نہ ہو۔ فتاوی رشیدیہ گنگوہی صاحب کی وفات کے برسوں بعد جمع کیا گیا ہے۔ اس وقت تک اس فتوے کے زہر یلے اثرات ظاہر ہو چکے تھے۔ تو کیا فتاوی رشیدیہ کے جامع اور شائع کنندہ اپنے مذہب اور اپنے مذہب کے بانی کے دشمن تھے کہ اسے چھاپ دیتے ۔
اور اگر آپ کہیں کہ نہیں، گنگوہی صاحب نے اپنی حیات میں جتنے فتوے لکھے تھے سب اس میں چھپ چکے ہیں تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں قادیانی پر کفر والا فتوی فتاویٰ رشیدیہ کے کس صفحہ پر ہے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے خلیل احمد انبیٹھوی نے المہند علی المفند ص 82میں لکھا ہے :
ہمارے مشائخ نے اس (مرزا غلام احمد)کے کافر ہونے کا فتوی دیا قادیانی کے کافر ہونے کے بابت ہمارے حضرت مولانا رشید احمد گنگوھی کا فتوی طبع ہوکر شائع بھی ہوچکا ہے بکثرت لوگوں کے پاس موجود ہے
اگر دیابنہ قادیانی پر کفر کا فتوٰی رشید احمد گنگوھی کے فتاوی رشیدیہ میں دیکھا دیتے ہیں تو ہم بھی فتاوی رشیدیہ میں اس فتوی کو دیکھا دینگے لیکن ہمیں معلوم ہے ع
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار تم سے
یہ بازوں میرے آزمائے ہوۓ ہے

اعتراض 3

فتاوی رشیدیہ میں یہ فتوی نہیں ہے بلکہ اس میں اس کے برخلاف فتوی موجود ہے ۔لہٰذا وہ ثبوت پیش کیا جائے جو یہ ثابت کرے کہ یہ فتوی واقعی رشید احمد گنگوہی ہی کا ہے۔
جواب
# فتاوی رشیدیہ میں تحریف کی گئ
یہ سوال اس وقت درست ہوتا جبکہ فتاوی رشیدیہ میں ردوبدل نہ کیا گیا ہوتا مگر بکثرت اس کے نظائر موجود ہے کہ اس میں ردوبدل اور تحریف کی گئ تو اس فتوی کے خلاف مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ یہ فتوی ان کا ہو، ہوسکتا ہے کسی دیوبندی نے ان کے نام سے فتوی گڑھ کر اس میں شامل کردیا ہو جیسا کہ دیابنہ کی عادت ہے کہ وہ مکمل کتاب گڑھ کر کسی سنی عالم کی طرف منسوب کردیتے ہے اس کے شواہد رد شہاب الثاقب میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اور یہ خود کفر کا اقرار ہے کیونکہ اگر کوئ کسی کو گالی دے پھر بعد میں اس کی تعریف کردیں تو تو گالی دینے کی نحوست سے وہ پاک نہیں ہوگا ۔
مزید برآں فتاوی رشیدیہ میں چھپنے کے بعد بھی ردوبدل کیا گیا ہے بطور شہادت دو مثال حاضر ہے

شہادت 1

فتاوی رشیدیہ کے پرانے چھاپے مطبوعہ رحیمیہ ، دہلی میں یہ عبارت تھی : امکان کذب ( جھوٹ ) بایں معنی کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ، اس کے خلاف پر قادر ہے، مگر خود اس کو نہ کرے گا یہ عقیدہ بندہ کا ہے۔“
( فتاوی رشیدیه حصه 1 صفحه 10 سطر 19 مطبوعه رحیمیه (دہلی )
یہی فتاوی رشیدیہ کودیوبندیوں کی مجلس عالمی مجلس تحفظ اسلام ، کراچی نے چھاپا تو اس میں سے یہ عبارت ہی غائب کر دی ۔ یہ ہے دیوبندیوں کی جدید تحریف ۔ جب یہ اس طرح ہیرا پھیری کر سکتے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے گنگوہی کے نام سے کفر والا فتویٰ فتاوی رشیدیہ میں ڈال دیا ہو۔ واللہ اعلم ۔

شہادت2

پھر فتاوی رشیدیہ کا وہ فتوی جس میں وقوع کذب کے قائل کو کافر کہا گیا تھا ، اس کے نیچے تاریخ دی گئی تھی1307 اور یہ تاریخ اس فتوی سے پہلے کی تھی جس میں گنگوہی صاحب نے قائلِ وقوع کذب کو کافر و گمراہ کہنے سے منع کیا تھا۔کیونکہ اس فتوی کے نیچےتاریخ 1308تھی جو میڑٹھ سے چھپی تھی ۔جب فتاوی رشیدیہ عالمی مجلس تحفظ اسلام، کراچی نے چھاپا تو انہوں نے فتویٰ کے نیچے سے تاریخ ہی اڑادی تا کہ اہل سنت جو دلیل بناتے ہیں کہ وقوع کذب کی تائید والافتوی بعد کا ہے اور وقوع کذب کو کافر کہنے والا فتویٰ پہلے کا ہے اس کا ثبوت ہی ختم ہو جائے۔
جب فتاوی رشیدیہ میں دیوبندی چھپنے کے بعد ردوبدل کرسکتے ہیں تو کیا چھپنے سے پہلے اپنے اکابر کو کفر سے بچانے کیلئے یہ کام نہیں کیا ہوگا ؟
رشید احمد گنگوھی پندرہ سال تک اپنے کفر سے راضی رہا
اور یہ سوال کہ ہم نہیں مانتے کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کا ہے ۔ثابت کریں کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کاہی ہے تو اس کے جواب علامہ اجمل القادری فرماتے ہیں :
اگر ان امور سے بھی قطع نظر کیجئے تو مصنف کو یا کسی دیو بندی کو گنگوہی جی کے اس فتوے سے انکار کرنے کا کوئی حق ہی حاصل نہیں کہ جن کو اس فتوی سے انکار کرنے کا حق تھا وہ صرف ایک گنگوہی صاحب تھے۔ تو گنگوہی صاحب کی حیات ہی میں پہلے یہ فتوی ان کی قلمرو ااور ان کے معتقدین کے شہر خاص میرٹھ میں چھپا اور 1308ھ ہی میں اس کا رد میں رسالہ صيانة الناس مطبع حديقة العلوم میرٹھ طبع ہو کر شائع ہوا ۔ گنگوہی جی نے نہ اس فتوی کا انکار کیا نہ اس رد کا جواب دیا۔ ۔ ۔ لوگ ان کو اس فتوی کی بنا پر کافر کہتے اور اعلان کرتے رہے اور گنگوہی پندرہ سال تک اپنے آپ کو کا فر کہلواتے رہے، بالکل خاموش اور ساکت رہے ، دم سادے پڑے رہے ، اپنی طرف اس فتوی کی نسبت کراتے رہے، اس کا رد کرنے والے رد کرتے رہے، شائع کرنے والے اس رد کو شائع کرتے رہے، اس پر ہر طرف سے ان کے پاس اعتراضات پہنچتے رہے، علماء دین اس فتوے پر حکم کفر دیتے رہے، دنیا بھر میں ان کو اس گستاخی کے شور مچتے رہے لیکن گنگوہی جی نہ کہہ سکے کہ یہ میرافتوی نہیں ، میری طرف اس فتوی کی نسبت غلط اور جھوٹ ہے۔
(رد الشهاب الثاقب 250، رضا اکیدمی ممبئ)
دیوبندیو!جب خود رشید احمد گنگوھی نے اس فتوی کی نسبت اپنی جانب ہونے سے انکار نہیں کیا اور السکوت کالرضا کا ثبوت دیتا رہا تو تمہارا انکار کیا فائدہ دیگا ؟تمہارا انکارکیا اس کو کفر کے گھاٹ سے نکالنے میں معاون ہوگا ؟

اعتراض 4

اور اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ فتوی کسی کاغذ پر لکھا ہوا ہے تو محض کسی تحریر یا خط کی مشابہت کو بنیاد بناکراسے قطعی فتوی کہنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے۔ چاند کی رویت جیسے مسئلہ میں بھی خط و کتابت کا اعتبار نہیں ہوتا، کیوں کہ الخط یشبه الخط تو کیا کفر و اسلام جیسے نازک اور حسّاس معاملے میں ایسی مشتبہ تحریر کو بنیاد بنا کر کسی کے کفر کا حکم لگا دینا انصاف کے دائرے میں آتا ہے؟
جواب

مفتی کا خط مع مہر حجت ہے

اگر دیوبندیو کی یہ بات صحیح مان لی جائیں تو پھر دیوبندیوں کے دارالافتاء سے جاری کئے ہوئے سارے فتاوی غیر معتبر اور لغو اور خود گنگوہی صاحب کا مجموعہ فتاوی ردی کی ٹوکری ۔ ۔ دیوبندیو تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ فقہا نے جن جن لوگوں کے خط کو معتبر مانا ہے ان میں امراء اکابراور مفتی بھی ہیں :۔ رد المختار جلد رابع ص ۳۵ پر ہے :
يفيد عدم الاقتصار على الصراف والسمسار والبياع بل مثله كل ما جرت العادة فيه في داخل فيه ما يكتبه الامراء و الاكابر ممن يتعذر الاشهاد فاذا كتب وصولا او مكا بدين عليه وختمه بخاتمه المعروف فانه في العادة يكون حجة عليه بحيث لا يمكن الانكار ولوانكر یعد بین الناس مکابرا
(ترجمہ )اس سے یہ افادہ ہوا کہ صرف صراف دلال بیاع ہی کا خط معتبر نہیں بلکہ جن جن لوگوں کے خط کے حجت ہونے کی عادت جاری ہے سب حجت ہیں۔ اسی میں وہ بھی داخل ہے جو امرا او اور اکابر لکھتے ہیں جنھیں گواہ بنانا متعذر ہوا، اگر وصولیابی کی رسید یا قرض کا دستاویز لکھا اور اس پر اپنی مشہور و معروف مہر کر دی تو اس پر حجت ہے یہی عادت ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں اور اگر انکار کریگا تو لوگوں میں مکابرہ شمار کیا جاۓ گا ۔
نیز اسی میں ص306 پر ہے:
ان القاضي اذا اشكل عليه الامريكتب الى فقها مصر آخربان المشاورة بالکتاب سنة قديمة في الحوادث
( ترجمہ )قاضی پر جب کوئی معاملہ مشکل ہو جاۓ تو دوسرے شہر کے فقہا کو لکھے ۔ اسلئے کہ حوادث میں بذریعہ خط باہمی مشورہ سنت قدیمہ ہے۔

الخط یشبه الخط کامحل

اور یہ کہنا کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے تو یہ حجت کیسے ہوگا ،تو جواباعرض ہے دیوبندیو آپ کو کچھ خبر بھی ہے کہ فقہاء نے الخط یشبه الخط کہاں غیر معتبر مانا ہے۔ آپ اسے بخوبی جانتے ہیں مگر حیلہ جوئی کے لئے کلمہ حق بول کر باطل مراد نہ لیتے تو کیا کرتے ۔ جناب ! یہ اس وقت ہے جبکہ جس کی طرف خط منسوب ہے وہ انکار کرے ۔ مثلاً زید نے عمرپر کوئی دعوی کیا ۔ عمرو و نے دعویٰ سے انکار کیا۔ زید نے ثبوت میں عمر کی تحریر پیش کی عمر اس تحریری سے بھی انکار کیا، تو وہ تحریر معتبر ہوگی یا نہیں ۔ اس موقع پر فرمایاگیا کہ الخط يشبه الخط -
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہاں پہلے تو یہ بات ثابت کیجئے کہ گنگوہی صاحب نے انکار کیا ہے۔ ہم فقہاء کے ارشاد سے ثابت کر آئے کہ خط مفتی حجت ہے ۔ جب اس فتوی پرگنگوہی صاحب کے دستخط بھی ہیں مہر بھی ہے تو بلا کسی دغدغہ کے ثابت ہے کہ یہ انھیں کا فتوی ہے۔ اور اعلی حضرت کا اس کی طرف نسبت کرنا اورعلماۓ حرمین شریفین کا فتوی کفر دینا بالکل حق اور صداقت پر مبنی ہے اور دیوبندیو کا انکار مکابرہ ہے ۔
از قلم محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیۃ جامعۃ الرضا بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
81
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 23
Kalam 1
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 29 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
تاثرات 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢