اسلام اور رزقِ حلال
✍️ Muhammad Anas Raza Haami
یاد رکھیں! حرام مال کمانے اور کھانے کھلانے سے صرف اسلام نے روکا کسی اور باطل مذہب نے نہیں، کیوں ؟ اسلام ہی حق ہے اور اسلام ہی درس دیتا ہے کہ دوسروں کو اُس کا حق ملے، کسی سے کسی کا حق نہ چھینا جائے، اور آپس میں سب پیار و محبت سے رہیں اور انسانیت برقرار رہے۔ اسلام صرف امن کا پیغام دیتا ہے اور امن ہی سکھاتا ہے۔ اے مسلمانو! اپنے آپ کو جہنم سے دور رکھو! یاد رکھو حرام کمانے اور کھلانے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ حدیثِ پاک ہے:
عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ جَسَدٌ غُذِّیَ بِالْحَرَامِ۔
[مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الکسب و طلب الحلال، الحدیث:٢٧٨٧]
ترجمہ: حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ رحمت علیہ التحیۃ والثناء نے ارشاد فرمایا: وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کو حرام غذا دی گئی۔
اس حدیثِ پاک میں صاف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں وہی داخل ہوگا جس نے حلال کمایا اور حلال کھایا اور کھلایا۔
اِس زمانے میں یہ حدیثِ پاک صاف ظاہر نظر آتی ہے:
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِ الْمَرْءُ مَا اَخَذَ مِنْہُ أَ مِنَ الْحَلَالِ اَمْ مِنَ الْحَرَامِ۔
[صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب مَنْ لَمْ یُبَالِ مِنْ حَیْثُ کَسَبَ الْمَالَ، الحدیث:٢٠٥٩، جلد:٢ و مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث: ٢٧٦١]
ترجمہ: حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ کون و مکاں علیہ التحیۃ والثناء ارشاد فرماتے ہیں: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب کوئی اس بات کی پرواہ نہ کرے گا کہ اُس نے جو مال حاصل کیا وہ حلال کا ہے یا حرام کا۔
اے مسلمانو! غفلت کی نیند سے جاگو اور اپنے مال، کمائی، کھانا، پانی، لباس، مکان، دکان، برتن یہاں تک کہ چپل بھی، سب میں غور کرو کہ حلال کا ہے یا حرام کا۔
اِس مضمون میں تین بیانات ہوں گے: (١) قرآنِ پاک سے رزقِ حلال کی اہمیت اور حرام کی حرمت کے دلائل (٢) احادیثِ کریمہ سے ثبوت (٣) ہر آیت و حدیث کے بعد مختصر تشریح۔
قرآنِ پاک اور رزقِ حلال:
﴿١﴾ مولیٰ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یَآ اَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۔
[پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٧٢]
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو۔
اگر آپ سچ میں اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے ہیں تو مولیٰ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ پھر ہماری دی ہوئی ستھری یعنی حلال چیزیں کھاؤ۔ اگر آپ حرام کھانا کھا کر زندگی گزار رہے ہیں تو یہ اللہ پاک کی عبادت نہیں بلکہ شیطان کے بتائے راستے پر چلنا ہے، لہٰذا اس سے خود کو بچائیں۔
﴿٢﴾ فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۔
[پارہ:١٤، سورہ:النحل، آیت:١١٤]
ترجمۂ کنزالایمان: تو اللہ کی دی ہوئی روزی حلال یا پاکیزہ کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو۔
اگر آپ مسلمان ہو کر بھی کسی کا مال چھین کر، چوری کر کے کھائیں تو گویا آپ نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو ٹھکرا دیا، نعمت کا شکر کرنے کے بجائے حرام کھا کر آپ نے اپنے رب کو ناراض کیا، تو جو رب کو ناراض کر دے اُس کو جنت کیسے مل سکتی ہے ؟ اور پڑھیں!
﴿٣﴾ یَآ اَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔
[پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٦٨]
ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
پچھلی جو دو آیتیں ذکر ہوئیں اُس میں تو ایمان والوں کو حلال روزی و حلال کمائی کا حکم تھا اِس آیت میں سبھی سے خدائے تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ حلال روزی کھاؤ، اور جو حرام سے اپنا گھر چلائے اور پیٹ بھرے گویا وہ اپنے کھلے دشمن شیطان کی راہ پر چل رہا ہے۔ کسی سے کسی کی دشمنی ہو جائے تو وہ چہرہ بھی نہیں دیکھتا تو لوگوں نے شیطان جیسے دشمن کو دوست کیوں اور کیسے بنا رکھا ہے ؟
﴿٤)﴾ حلال روزی کا حکم عام لوگوں کو ہی نہیں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی دیا گیا تھا تاکہ لوگ جان لیں کہ حلال روزی و کمائی کی کتنی اہمیت و فضیلت ہے کہ جو حکم انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دیا گیا وہی ہمیں بھی، چنانچہ ہر عیب سے پاک خالقِ کائنات نے پارہ:18، سورہ المؤمنون، آیت:51؍میں ارشاد فرمایا اور انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے کلام فرمایا:
یٰآَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو مَیں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔
گویا حلال رزق اور اعمالِ صالحہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت بھی ہے، سبحان اللہ تعالیٰ۔
﴿١﴾ پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٨٨؍میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
وَ لَا تَاْكُلُوْآ اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لیے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔
تفسیرِ خزائن العرفان میں ہے: اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا چاہے وہ لوٹ کر، چھین کر، یا چوری سے یا جھوٹ سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے ہو، یہ سب ممنوع و حرام ہے۔
یہ ہے اسلام کا درس ! کہ کسی بھی غلط طریقے سے کسی دوسرے کا مال نہ کھاؤ، اگر کھاؤ گے گویا جسم کو حرام غذا دو گے اور وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
﴿٢﴾ اگر آپ سچے مسلمان ہیں تو یہی ایک آیت حرام کمائی سے آپ کو روک دے گی کہ اس میں اللہ جل و علا نے ایمان والوں سے خطاب فرمایا ہے: پارہ:٥، سورہ:النساء، آیت:٢٩؍میں ہے:
یٰآَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْآ اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْوَ وَ لَا تَقْتُلُوْآ اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو۔
یعنی کوئی چیز آپس میں مل کر کے خرید و فروخت کرے تب تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اور اگر کسی دوسرے کا مال ظلم کر کے یا چوری کر کےیا کوئی بھی غلط قدم اٹھا کر چھین لے تو وہ مال حرام ہے، حرام مال سے خریدا ہوا کھانا حرام، پانی حرام، کپڑا حرام، گھر حرام بلکہ سب حرام، اور حرام ؛ جسم میں گیا وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جیسا کہ نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان سے ظاہر ہے۔ نیز مسلم شریف کی ٢٣٤٦؍حدیثِ پاک ہے: حرام خور (حرام کھانے والے) کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
رشوت سے ممانعت:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک پارہ:١٦، سورہ:طه، آیت:٨١؍میں ارشاد فرمایا:
کُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِىْ ۖ وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِىْ فَقَدْ هَوىٰ۔
ترجمۂ کنزالایمان: کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اُس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترے بے شک وہ گرا (گرا جہنم میں یعنی وہ ہلاک ہوا)
ابوداؤد شریف کی ٣٥٨٠؍حدیثِ پاک: رشوت دینے اور لینے والے پر اللہ جل و علا و رسول ﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔
سود کی حرمت:
سود بھی عام ہو چکا ہے۔ اِس حرام چیز سے دور رہیں۔ ﴿١﴾ خدائے تعالیٰ نے پارہ:٤، سورہ: آل عمران، آیت:١٣٠؍میں ارشاد فرمایا:
يٰآَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْكُلُوْا الرِّبوٰٓا أَضْعٰفًا مُّضَٰعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو سود دونا دون نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے۔
﴿٢﴾ نیز پارہ:٣، سورہ: البقرہ، آیت:٢٧٥؍میں خدائے پاک کا مقدس فرمان ہے کہ سود والوں کا حشر کیا ہوگا، فرمایا:
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْآ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا. وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑے ہوتے ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مضبوط کر دیا ہو یہ اس لیے کہ انھوں (کافروں) نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے۔ اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود۔
بیع یعنی: خرید و فروخت سے، ایمانداری سے کما کر اپنا گھر چلائیں۔ سود سے اور غضبِ الٰہی سے خود کو اور اہلِ خانہ کو بچائیں۔
احادیثِ کریمہ اور رزقِ حلال:
﴿١﴾ حلال روزی ہر فرض کے بعد فرض ہے: شعب الایمان للبیہقی، الحدیث:٨٤٤١؍اور مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٨١؍کی حدیثِ پاک ہے:
عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَلْبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال روزی کی طلب (حلال رزق حاصل کرنا شریعت کے دیگر) فرائض کے بعد فرض ہے۔
﴿٢﴾ آپ کی ایمانداری سے کمایا ہوا ہی حلال اور آپ کا ہے: مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٧٠؍میں فرمانِ مصطفیٰ صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسَبِکُمْ وَ اِنْ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسَبِکُمْ
ترجمہ: حضرتِ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہت پاکیزہ غذا جو تم کھاؤ تمہاری اپنی کمائی، اور تمہاری اپنی اولاد تمہاری اپنی کمائی ہے۔
﴿٣﴾ حرام کمائی سے کچھ فائدہ نہیں صرف خسارہ اور سببِ غضبِ الٰہی اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے: مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٧١؍میں ہے:
عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَکْسِبُ عَبْدٌ مَالَ حَرَامَ فَتَیَصْدِقُ مِنْہُ فَیُقْبَلُ مِنْہُ لَایُنْفِقُ مِنْہُ قُبَا بَارَکَ لَهٗ وَ لَایَتْرُکُهٗ خَلْفَ ظَھْرِہٖ اِلَّا کَانَ زَادَہٗ اِلَی النَّارِ اِنَّ اللہَ لَا یَمْحُوْا السَّیِّئَ بِالسَّیِّئِ وَ لٰکِنْ یَمْحُوْا السَّیِّئَ بِالْحَسَنِ اِنَّ الْخَبِیْثَ لَایَمْحُوْا الْخَبِیْثَ۔
ترجمہ: حضرتِ سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ پیارے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی بندہ حرام مال کمائے پھر اس سے خیرات (زکوٰۃ و صدقات) کرے تو وہ قبول ہو جائے اور نہ یہ کہ اُس (حرام مال) سے خرچ کرے تو اس میں برکت ہو، اور اس حرام مال کو اپنے موت کے بعد کے لیے نہ چھوڑے ورنہ یہ اس کا آگ کا توشہ ہے، بے شک اللہ تعالیٰ برائی سے برائی نہیں مٹاتا لیکن بھلائی سے برائی مٹاتا ہے، یقینا پلید پلید کو نہیں مٹاتا ہے۔
جو اپنے رزق اور اپنی کمائی میں غور و فکر نہیں کرتے وہ اس حدیثِ پاک سے اپنے آپ میں غور و فکر کریں۔ ہر کوئی اپنی کمائی میں نظر کرے کہ جو ان کے پاس آیا کہاں سے آیا ؟ کتنے کا خرید رہے تھے ؟ کتنا ملا؟ زیادہ تو نہیں ؟ وغیرہ۔ اگر حرام لقمہ جسم میں گیا تو جنت سے دور ہو جائیں گے، برکت ختم ہو جائے گی، لہٰذا اپنے رزق میں غور و فکر کریں!
﴿٤﴾ حلال رزق و کمائی کے لیے کوشش انبیاء بھی کرتے تھے؛ مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٥٩، جلد:١؍کی حدیثِ پاک ہے:
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ مَعَدِیْ کَرِبَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَکَلَ اَحَدٌ طَعَاماً قَطُّ خَیْراً مِنْ اَنْ یَاْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ وَ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ دَاؤُدُ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ.
ترجمہ: حضرت مقداد ابن مادیکرب سے روایت ہے کہ حضور پُرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص نے کبھی کوئی کھانا اس سے اچھا نہ کھایا کہ انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے کھائے، اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت سیدنا داؤد علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتے تھے۔
حضرتِ سیدنا داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام بادشاہ تھے مگر پھر بھی اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے کماتے اور تناول فرماتے، کبھی خزانہ سے خود پر خرچ نہ فرمایا، روزانہ ایک زرّہ بناتے تھے جسے چھ ہزار درہم میں فروخت فرماتے۔ ایک ہزار اپنے اہلِ خانہ پر خرچ فرماتے تھے اور چار ہزار فقرائے بنی اسرائیل پر صَرف فرماتے تھے۔
غور کریں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام رزقِ حلال اور حلال و جائز کمائی کے لیے اتنی محنت فرماتے تو ہماری کیا اوقات کہ ہم ان پاکیزہ حضرات کے طریقے کی خلاف ورزی کر سکیں ؟
[١] جو بھی کمائی ہو رہی ہو خوب غور و فکر کریں کہ کہاں سے آیا ؟کیسے آیا ؟ اور کتنا آیا ؟ [٢] جو حلال کما کر گھر لائیں حساب سے خرچ بھی کریں، جمع کرنے کی نیت رکھ کر اہلِ خانہ پر بخیل نہ بنیں۔ [٣)] کسی کا مال غصب نہ کریں کہ وہ بھی مال حرام کا ہوگا۔ [٤] چوری اور ظلم سے مال حاصل کرنا بھی حرام ہے۔ [٥] اپنی محنت کی کمائی سے کھائیں اور زندگی گزاریں۔ [٦] وہ Job جس میں نماز و جملہ عبادات کے لیے بھی وقت نہ دیا جائے وہ بھی حرام ہے۔ [٧] نشہ اور خراب چیزیں جیسے سیگریٹ، بیڑی، گٹکھا، تمباکو وغیرہ پر مال خرچ کرنا فقط مال کو ضائع کرنا ہے، جو جائز نہیں!
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت پر زندگی گزارنے اور حلال کمانے اور کھانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
اسلام اور رزقِ حلال
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
یاد رکھیں! حرام مال کمانے اور کھانے کھلانے سے صرف اسلام نے روکا کسی اور باطل مذہب نے نہیں، کیوں ؟ اسلام ہی حق ہے اور اسلام ہی درس دیتا ہے کہ دوسروں کو اُس کا حق ملے، کسی سے کسی کا حق نہ چھینا جائے، اور آپس میں سب پیار و محبت سے رہیں اور انسانیت برقرار رہے۔ اسلام صرف امن کا پیغام دیتا ہے اور امن ہی سکھاتا ہے۔ اے مسلمانو! اپنے آپ کو جہنم سے دور رکھو! یاد رکھو حرام کمانے اور کھلانے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ حدیثِ پاک ہے:
عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ جَسَدٌ غُذِّیَ بِالْحَرَامِ۔
[مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الکسب و طلب الحلال، الحدیث:٢٧٨٧]
ترجمہ: حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ رحمت علیہ التحیۃ والثناء نے ارشاد فرمایا: وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کو حرام غذا دی گئی۔
اس حدیثِ پاک میں صاف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں وہی داخل ہوگا جس نے حلال کمایا اور حلال کھایا اور کھلایا۔
اِس زمانے میں یہ حدیثِ پاک صاف ظاہر نظر آتی ہے:
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِ الْمَرْءُ مَا اَخَذَ مِنْہُ أَ مِنَ الْحَلَالِ اَمْ مِنَ الْحَرَامِ۔
[صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب مَنْ لَمْ یُبَالِ مِنْ حَیْثُ کَسَبَ الْمَالَ، الحدیث:٢٠٥٩، جلد:٢ و مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث: ٢٧٦١]
ترجمہ: حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ کون و مکاں علیہ التحیۃ والثناء ارشاد فرماتے ہیں: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب کوئی اس بات کی پرواہ نہ کرے گا کہ اُس نے جو مال حاصل کیا وہ حلال کا ہے یا حرام کا۔
اے مسلمانو! غفلت کی نیند سے جاگو اور اپنے مال، کمائی، کھانا، پانی، لباس، مکان، دکان، برتن یہاں تک کہ چپل بھی، سب میں غور کرو کہ حلال کا ہے یا حرام کا۔
اِس مضمون میں تین بیانات ہوں گے: (١) قرآنِ پاک سے رزقِ حلال کی اہمیت اور حرام کی حرمت کے دلائل (٢) احادیثِ کریمہ سے ثبوت (٣) ہر آیت و حدیث کے بعد مختصر تشریح۔
قرآنِ پاک اور رزقِ حلال:
﴿١﴾ مولیٰ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یَآ اَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۔
[پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٧٢]
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو۔
اگر آپ سچ میں اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے ہیں تو مولیٰ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ پھر ہماری دی ہوئی ستھری یعنی حلال چیزیں کھاؤ۔ اگر آپ حرام کھانا کھا کر زندگی گزار رہے ہیں تو یہ اللہ پاک کی عبادت نہیں بلکہ شیطان کے بتائے راستے پر چلنا ہے، لہٰذا اس سے خود کو بچائیں۔
﴿٢﴾ فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۔
[پارہ:١٤، سورہ:النحل، آیت:١١٤]
ترجمۂ کنزالایمان: تو اللہ کی دی ہوئی روزی حلال یا پاکیزہ کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو۔
اگر آپ مسلمان ہو کر بھی کسی کا مال چھین کر، چوری کر کے کھائیں تو گویا آپ نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو ٹھکرا دیا، نعمت کا شکر کرنے کے بجائے حرام کھا کر آپ نے اپنے رب کو ناراض کیا، تو جو رب کو ناراض کر دے اُس کو جنت کیسے مل سکتی ہے ؟ اور پڑھیں!
﴿٣﴾ یَآ اَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔
[پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٦٨]
ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
پچھلی جو دو آیتیں ذکر ہوئیں اُس میں تو ایمان والوں کو حلال روزی و حلال کمائی کا حکم تھا اِس آیت میں سبھی سے خدائے تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ حلال روزی کھاؤ، اور جو حرام سے اپنا گھر چلائے اور پیٹ بھرے گویا وہ اپنے کھلے دشمن شیطان کی راہ پر چل رہا ہے۔ کسی سے کسی کی دشمنی ہو جائے تو وہ چہرہ بھی نہیں دیکھتا تو لوگوں نے شیطان جیسے دشمن کو دوست کیوں اور کیسے بنا رکھا ہے ؟
﴿٤)﴾ حلال روزی کا حکم عام لوگوں کو ہی نہیں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی دیا گیا تھا تاکہ لوگ جان لیں کہ حلال روزی و کمائی کی کتنی اہمیت و فضیلت ہے کہ جو حکم انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دیا گیا وہی ہمیں بھی، چنانچہ ہر عیب سے پاک خالقِ کائنات نے پارہ:18، سورہ المؤمنون، آیت:51؍میں ارشاد فرمایا اور انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے کلام فرمایا:
یٰآَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو مَیں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔
گویا حلال رزق اور اعمالِ صالحہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت بھی ہے، سبحان اللہ تعالیٰ۔
﴿١﴾ پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٨٨؍میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
وَ لَا تَاْكُلُوْآ اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لیے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔
تفسیرِ خزائن العرفان میں ہے: اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا چاہے وہ لوٹ کر، چھین کر، یا چوری سے یا جھوٹ سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے ہو، یہ سب ممنوع و حرام ہے۔
یہ ہے اسلام کا درس ! کہ کسی بھی غلط طریقے سے کسی دوسرے کا مال نہ کھاؤ، اگر کھاؤ گے گویا جسم کو حرام غذا دو گے اور وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
﴿٢﴾ اگر آپ سچے مسلمان ہیں تو یہی ایک آیت حرام کمائی سے آپ کو روک دے گی کہ اس میں اللہ جل و علا نے ایمان والوں سے خطاب فرمایا ہے: پارہ:٥، سورہ:النساء، آیت:٢٩؍میں ہے:
یٰآَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْآ اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْوَ وَ لَا تَقْتُلُوْآ اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو۔
یعنی کوئی چیز آپس میں مل کر کے خرید و فروخت کرے تب تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اور اگر کسی دوسرے کا مال ظلم کر کے یا چوری کر کےیا کوئی بھی غلط قدم اٹھا کر چھین لے تو وہ مال حرام ہے، حرام مال سے خریدا ہوا کھانا حرام، پانی حرام، کپڑا حرام، گھر حرام بلکہ سب حرام، اور حرام ؛ جسم میں گیا وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جیسا کہ نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان سے ظاہر ہے۔ نیز مسلم شریف کی ٢٣٤٦؍حدیثِ پاک ہے: حرام خور (حرام کھانے والے) کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
رشوت سے ممانعت:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک پارہ:١٦، سورہ:طه، آیت:٨١؍میں ارشاد فرمایا:
کُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِىْ ۖ وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِىْ فَقَدْ هَوىٰ۔
ترجمۂ کنزالایمان: کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اُس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترے بے شک وہ گرا (گرا جہنم میں یعنی وہ ہلاک ہوا)
ابوداؤد شریف کی ٣٥٨٠؍حدیثِ پاک: رشوت دینے اور لینے والے پر اللہ جل و علا و رسول ﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔
سود کی حرمت:
سود بھی عام ہو چکا ہے۔ اِس حرام چیز سے دور رہیں۔ ﴿١﴾ خدائے تعالیٰ نے پارہ:٤، سورہ: آل عمران، آیت:١٣٠؍میں ارشاد فرمایا:
يٰآَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْكُلُوْا الرِّبوٰٓا أَضْعٰفًا مُّضَٰعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو سود دونا دون نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے۔
﴿٢﴾ نیز پارہ:٣، سورہ: البقرہ، آیت:٢٧٥؍میں خدائے پاک کا مقدس فرمان ہے کہ سود والوں کا حشر کیا ہوگا، فرمایا:
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْآ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا. وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑے ہوتے ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مضبوط کر دیا ہو یہ اس لیے کہ انھوں (کافروں) نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے۔ اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود۔
بیع یعنی: خرید و فروخت سے، ایمانداری سے کما کر اپنا گھر چلائیں۔ سود سے اور غضبِ الٰہی سے خود کو اور اہلِ خانہ کو بچائیں۔
احادیثِ کریمہ اور رزقِ حلال:
﴿١﴾ حلال روزی ہر فرض کے بعد فرض ہے: شعب الایمان للبیہقی، الحدیث:٨٤٤١؍اور مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٨١؍کی حدیثِ پاک ہے:
عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَلْبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال روزی کی طلب (حلال رزق حاصل کرنا شریعت کے دیگر) فرائض کے بعد فرض ہے۔
﴿٢﴾ آپ کی ایمانداری سے کمایا ہوا ہی حلال اور آپ کا ہے: مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٧٠؍میں فرمانِ مصطفیٰ صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسَبِکُمْ وَ اِنْ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسَبِکُمْ
ترجمہ: حضرتِ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہت پاکیزہ غذا جو تم کھاؤ تمہاری اپنی کمائی، اور تمہاری اپنی اولاد تمہاری اپنی کمائی ہے۔
﴿٣﴾ حرام کمائی سے کچھ فائدہ نہیں صرف خسارہ اور سببِ غضبِ الٰہی اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے: مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٧١؍میں ہے:
عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَکْسِبُ عَبْدٌ مَالَ حَرَامَ فَتَیَصْدِقُ مِنْہُ فَیُقْبَلُ مِنْہُ لَایُنْفِقُ مِنْہُ قُبَا بَارَکَ لَهٗ وَ لَایَتْرُکُهٗ خَلْفَ ظَھْرِہٖ اِلَّا کَانَ زَادَہٗ اِلَی النَّارِ اِنَّ اللہَ لَا یَمْحُوْا السَّیِّئَ بِالسَّیِّئِ وَ لٰکِنْ یَمْحُوْا السَّیِّئَ بِالْحَسَنِ اِنَّ الْخَبِیْثَ لَایَمْحُوْا الْخَبِیْثَ۔
ترجمہ: حضرتِ سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ پیارے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی بندہ حرام مال کمائے پھر اس سے خیرات (زکوٰۃ و صدقات) کرے تو وہ قبول ہو جائے اور نہ یہ کہ اُس (حرام مال) سے خرچ کرے تو اس میں برکت ہو، اور اس حرام مال کو اپنے موت کے بعد کے لیے نہ چھوڑے ورنہ یہ اس کا آگ کا توشہ ہے، بے شک اللہ تعالیٰ برائی سے برائی نہیں مٹاتا لیکن بھلائی سے برائی مٹاتا ہے، یقینا پلید پلید کو نہیں مٹاتا ہے۔
جو اپنے رزق اور اپنی کمائی میں غور و فکر نہیں کرتے وہ اس حدیثِ پاک سے اپنے آپ میں غور و فکر کریں۔ ہر کوئی اپنی کمائی میں نظر کرے کہ جو ان کے پاس آیا کہاں سے آیا ؟ کتنے کا خرید رہے تھے ؟ کتنا ملا؟ زیادہ تو نہیں ؟ وغیرہ۔ اگر حرام لقمہ جسم میں گیا تو جنت سے دور ہو جائیں گے، برکت ختم ہو جائے گی، لہٰذا اپنے رزق میں غور و فکر کریں!
﴿٤﴾ حلال رزق و کمائی کے لیے کوشش انبیاء بھی کرتے تھے؛ مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٥٩، جلد:١؍کی حدیثِ پاک ہے:
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ مَعَدِیْ کَرِبَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَکَلَ اَحَدٌ طَعَاماً قَطُّ خَیْراً مِنْ اَنْ یَاْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ وَ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ دَاؤُدُ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ.
ترجمہ: حضرت مقداد ابن مادیکرب سے روایت ہے کہ حضور پُرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص نے کبھی کوئی کھانا اس سے اچھا نہ کھایا کہ انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے کھائے، اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت سیدنا داؤد علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتے تھے۔
حضرتِ سیدنا داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام بادشاہ تھے مگر پھر بھی اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے کماتے اور تناول فرماتے، کبھی خزانہ سے خود پر خرچ نہ فرمایا، روزانہ ایک زرّہ بناتے تھے جسے چھ ہزار درہم میں فروخت فرماتے۔ ایک ہزار اپنے اہلِ خانہ پر خرچ فرماتے تھے اور چار ہزار فقرائے بنی اسرائیل پر صَرف فرماتے تھے۔
غور کریں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام رزقِ حلال اور حلال و جائز کمائی کے لیے اتنی محنت فرماتے تو ہماری کیا اوقات کہ ہم ان پاکیزہ حضرات کے طریقے کی خلاف ورزی کر سکیں ؟
[١] جو بھی کمائی ہو رہی ہو خوب غور و فکر کریں کہ کہاں سے آیا ؟کیسے آیا ؟ اور کتنا آیا ؟ [٢] جو حلال کما کر گھر لائیں حساب سے خرچ بھی کریں، جمع کرنے کی نیت رکھ کر اہلِ خانہ پر بخیل نہ بنیں۔ [٣)] کسی کا مال غصب نہ کریں کہ وہ بھی مال حرام کا ہوگا۔ [٤] چوری اور ظلم سے مال حاصل کرنا بھی حرام ہے۔ [٥] اپنی محنت کی کمائی سے کھائیں اور زندگی گزاریں۔ [٦] وہ Job جس میں نماز و جملہ عبادات کے لیے بھی وقت نہ دیا جائے وہ بھی حرام ہے۔ [٧] نشہ اور خراب چیزیں جیسے سیگریٹ، بیڑی، گٹکھا، تمباکو وغیرہ پر مال خرچ کرنا فقط مال کو ضائع کرنا ہے، جو جائز نہیں!
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت پر زندگی گزارنے اور حلال کمانے اور کھانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
- 1 تنہائی میں بھی ہجوم
- 2 ہجوم کی قسمیں [قسطِ اخیر]
- 3 ہجوم کی قسمیں [قسطِ سوم]
- 4 ہجوم کی قسمیں [قسطِ دوم]
- 5 برکاتِ قرآن علامہ علی قاری کا فیضان
- 6 ہجوم کی قسمیں [قسطِ اوّل]
- 7 کتاب لکھنے کی اہمیت، ایک لازوال خدمت
- 8 ہجوم میں بھی تنہائی
- 9 کاوشِ تلمیذ کی بارگاہِ شیخ میں حاضری
- 10 اربعینِ نکاح مفتی جسیم اکرم مرکزی کی عظیم کاوش
- 11 تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا رسالہ
- 12 رسالہ حلالہ اور طلاقِ ثلاثہ کا شرعی و عقلی تجزیہ امت کے لیے مفید تر کتاب
- 13 کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی
- 14 ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب
- 15 مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
- 16 سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
- 17 حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
- 18 واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
- 19 فیصلہ کرنے سے پہلے
- 20 اخلاص
- 21 کسی کا انتظار ہے
- 22 انتظار
- 23 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
- 24 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
- 25 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
- 26 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
- 27 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
- 28 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
- 29 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
- 30 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
- 31 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
- 32 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
- 33 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
- 34 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
- 35 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
- 36 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
- 37 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
- 38 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
- 39 حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
- 40 اسلام اور رزقِ حلال
- 41 دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
- 1 برکاتِ قرآن
- 2 واقعاتِ رضویہ
- 3 آپ پر ہے رب کی رحمت
- 4 دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا
- 5 تنہائی میں
- 6 خالقِ کل کی عطا قرآن ہے
- 7 رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری
- 8 خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری
- 9 ہیں عطائےخدا شاہ اختر رضا
- 10 آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ
- 11 لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت
- 12 تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء
- 13 ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک
موقعہ پرست لوگ
#موقعہ پرست لوگ دنیا میں انسانوں کی بہت سی اقسام ہیں، مگر ان میں ایک قسم ایسے قبیلۂ بشر کی بھی ہے جو سب سے زیادہ خطرناک، سب سے زیادہ خودغرض اور سب سے زیادہ...
سکون کیسے حاصل کریں ؟ (1)
#سکون کیسے حاصل کریں (قسط 1) شہر کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان، جہاں صبح کی اذان ہوا میں گونجتی تھی اور شام کی چکاچوند روشنیوں میں دب جاتی تھی، ایک نوجوان، عرفان، اپنے...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 29

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔
Explore Top Platform Insights & Outstanding Creators
All Authors
Explore the complete directory of our talented scholars and writers.
Top Authors
Learn about famous scholars, writers, and highly active personalities.
All Articles
Read the newest research, articles, and comprehensive scholarly publications.
Featured Articles
Discover the most read and trending topics actively engaging the community.
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













زاد راہ علم
مؤلف: مولانا محمد جاوید رضا مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us