صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ردِ الحاد
نمایاں مضامین

ردِ الحاد

✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

ردِ الحاد
​الحاد (Atheism) محض ایک انفرادی انکار یا خدا کی غیر موجودگی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک باقاعدہ کائناتی ورلڈ ویو (Worldview) ہے جو کائنات کی تشریح صرف اور صرف مادی اور طبیعیاتی قوانین کے تحت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاریخِ انسانی میں الحاد مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے، لیکن نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد یورپ میں کلیسا کے جبر کے خلاف جو تحریک پیدا ہوئی، اس نے الحاد کو ایک نئی فکری بنیاد فراہم کی۔
​جدید دور کا الحاد ایک جارحانہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ رچرڈ ڈاؤکنز (Richard Dawkins)، کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens) اور سیم ہیرس (Sam Harris) جیسے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذہب نہ صرف غیر عقلی ہے بلکہ انسانیت کے لیے خطرناک بھی ہے۔ ان کا بنیادی استدلال سائنٹی ازم (Scientism) پر ہے، یعنی یہ عقیدہ کہ صرف وہی علم معتبر ہے جو تجرباتی سائنس (Empirical Science) کی کسوٹی پر پورا اترے۔ زیرِ نظر مضمون ان تمام مغالطوں کا عقلی، منطقی اور سائنسی بنیادوں پر جائزہ پیش کرتا ہے۔
​#وجودِ باری تعالیٰ اور عقلی مقدمات
​انسانی عقل فطری طور پر سبب و مسبب (Cause and Effect) کے اصول پر کام کرتی ہے۔ وجودِ باری تعالیٰ کے حق میں دیے جانے والے دلائل دراصل اسی فطری عقل کا اظہار ہیں۔
1. دلیلِ امکان و وجوب (Argument from Contingency)
​یہ دلیل منطق کی دنیا میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا بنیادی مقدمہ یہ ہے:
کائنات میں موجود ہر چیز ممکن الوجود (Contingent) ہے، یعنی اس کا ہونا یا نہ ہونا برابر تھا۔ اسے وجود میں آنے کے لیے کسی بیرونی سبب کی ضرورت تھی۔
لامتناہی اسباب کا سلسلہ (Infinite Regress) ناممکن ہے۔ اگر ہم کہیں کہ 'الف' کو 'ب' نے بنایا اور 'ب' کو 'ج' نے، اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو، تو عملاً کوئی بھی چیز وجود میں نہ آتی۔
لہٰذا، ایک ایسی ہستی کا ہونا ناگزیر ہے جو واجب الوجود (Necessary Being) ہو، یعنی جو خود کسی کی محتاج نہ ہو بلکہ سب اس کے محتاج ہوں۔ اسے ہم خدا کہتے ہیں۔
2. کلامی دلیلِ کائنات (Kalam Cosmological Argument)
​اس دلیل کو ائمہ دین اور عصرِ حاضر میں ولیم لین کریگ (William Lane Craig) نے اپنی کتابThe Kalam Cosmological Argument میں نہایت مدلل انداز کے ساتھ پیش کیا ہے۔
جس چیز کا آغاز ہوتا ہے، اس کا کوئی خالق یا سبب ہوتا ہے۔
کائنات کا ایک آغاز ہے (سائنسی طور پر بگ بینگ نے ثابت کیا کہ وقت، مادہ اور مکان عدم سے وجود میں آئے)۔
لہٰذا، کائنات کا ایک خالق ہے۔
​اگر کائنات لامتناہی ماضی سے ہوتی تو ہم کبھی آج تک نہ پہنچ سکتے۔ ریاضیاتی طور پر لامتناہی ماضی (Actual Infinite) کا تصور کائنات میں مادی طور پر ممکن نہیں ہے۔
3. ریاضیاتی حسن اور کائنات کی تفہیم (Mathematical Intelligibility)
​آئن سٹائن کا مشہور قول ہے کہ کائنات کے بارے میں سب سے ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ یہ قابلِ فہم ہے۔ کائنات کے قوانین ریاضیاتی طور پر اتنے دقیق ہیں کہ یہ ایک عظیم ریاضی دان (Great Mathematician) کے شعور کا پتہ دیتے ہیں۔ مادہ اپنے طور پر بے وقوف ہے، وہ ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں (جیسے E=mc^2) پر عمل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جب تک کہ اس کے پیچھے کوئی شعوری قوت نہ ہو۔
​#مادہ پرستی کا سائنسی بطلان
​ملحدین کا دعویٰ ہے کہ مادہ ازلی اور ابدی ہے، لیکن جدید سائنس نے اس نظریے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
​1. تھرمو ڈائنامکس کا دوسرا قانون اور اینٹروپی
​اینٹروپی (Entropy) کا قانون بتاتا ہے کہ کائنات کی مفید توانائی (Useful Energy) مسلسل کم ہو رہی ہے۔ (تفصیل کے لیے LibreTexts نامی ویبسائٹ پر 2nd Law of Thermodynamics کی طرف رجوع کریں)
اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ کائنات ایک ختم ہونے والے سیل کی طرح ہے۔ اگر کائنات ہمیشہ سے ہوتی تو یہ ایک ہی حالت پر رہتی جو باطل محض ہے یا اب تک اس کی تمام توانائی ختم ہو کر یہ حرارتی موت (Heat Death) کا شکار ہو چکی ہوتی۔ کائنات میں ابھی تک توانائی کا موجود ہونا ثابت کرتا ہے کہ اسے ایک مخصوص وقت پہلے چابی دی گئی تھی، یعنی اسے تخلیق کیا گیا تھا۔
​2. حیاتیاتی پیچیدگی اور ڈی این اے (DNA)
​ڈارون کے ارتقاء نے یہ تاثر دیا کہ زندگی محض حادثاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، لیکن جدید سالماتی حیاتیات (Molecular Biology) نے دکھایا ہے کہ ایک سادہ سے خلیے کے اندر موجود ڈی این اے میں معلومات (Information) کا ایک ایسا سمندر ہے جو ہزاروں انسائیکلوپیڈیا کے برابر ہے۔
معلومات (Information) ہمیشہ ایک
ذہن (Mind) سے آتی ہیں۔ مادہ معلومات پیدا نہیں کر سکتا، وہ صرف معلومات کو منتقل کر سکتا ہے۔ ڈی این اے کی کوڈنگ* ثابت کرتی ہے کہ اس کے پیچھے ایک عظیم کوڈر (Coder) موجود ہے۔
​#فائن ٹیوننگ اور کونیاتی توازن
​کائنات کی تخلیق میں اس قدر باریک بینی سے کام لیا گیا ہے کہ اسے حادثہ کہنا عقل کی توہین ہے۔
​1. کونیاتی ثوابت (Cosmological Constants)
​اگر بگ بینگ کے وقت کائنات کے پھیلنے کی شرح میں 10^⁶⁰ کے ایک حصے کے برابر بھی فرق ہوتا تو کائنات یا تو اپنی ہی کششِ ثقل سے سکڑ جاتی یا اتنی تیزی سے پھیلتی کہ ستارے نہ بن سکتے۔
اسی طرح، اگر ایٹم کے اندر موجود پروٹان اور الیکٹران کے ماس کے تناسب میں ذرہ برابر تبدیلی ہوتی تو کیمیائی تعاملات ممکن نہ ہوتے۔ یہ فائن ٹیوننگ (Fine Tuning) پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ کائنات کو زندگی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
​2. کاربن کی پیدائش
​ستاروں کے اندر کاربن کی پیدائش کے لیے ایک مخصوص ریزوننس لیول کی ضرورت ہوتی ہے۔ فریڈ ہوئل (Fred Hoyle)، جو خود ملحد تھا، اس توازن کو دیکھ کر پکار اٹھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی سپر انٹیلیکٹ نے فزکس، کیمسٹری اور بایولوجی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے۔

#شعور اور اخلاقیات کی مابعد الطبیعات
​الحاد کی سب سے بڑی ناکامی انسان کی حقیقت کو واضح کرنے میں ہے۔
​1. شعور کا معمہ (Hard Problem of Consciousness)
​سائنس دان یہ تو بتا سکتے ہیں کہ دماغ کے کون سے خلیے کب حرکت کرتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ احساس (Feeling) کیسے پیدا ہوتا ہے۔ مادہ بے جان ہے، ایٹموں کا کوئی مجموعہ خود بخود میں کا شعور کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ شعور مادی دماغ کی پیداوار نہیں بلکہ ایک غیر مادی حقیقت (روح) کی گواہی ہے۔
​2. اختیار (Free Will)
​اگر الحاد سچ ہے اور ہم صرف مادے کے ذرات سے بنے ہیں، تو ہمارا ہر فعل فزکس کے قوانین کا پابند ہے۔ اس صورت میں اختیار ایک دھوکہ بن جاتا ہے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ہم فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ یہ آزادی ثابت کرتی ہے کہ ہم صرف مادی روبوٹ نہیں ہیں۔
​3. اخلاقیات کا ماخذ
​اگر کائنات میں کوئی خدا نہیں، تو اخلاقیات محض ذائقے کا نام رہ جاتی ہیں۔ اگر ہٹلر نے قتلِ عام کیا تو ملحدانہ بنیاد پر اسے غلط نہیں کہا جا سکتا، صرف ناپسندیدہ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ کوئی معروضی معیار (Objective Standard) موجود نہیں۔ لیکن انسانی ضمیر جانتا ہے کہ ظلم حقیقت میں برا ہے۔ یہ آفاقی اخلاقی قانون ایک آفاقی قانون دہندہ کی گواہی دیتا ہے۔

ملحدانہ شبہات کا علمی و منطقی تجزیہ

​1. شر (Evil) کا مسئلہ
سوال: اگر خدا مہربان ہے تو کائنات میں دکھ اور تکلیف کیوں ہے؟
جواب:
دنیا دار الامتحان ہے: یہاں آزمائش کے بغیر انسان کے ارتقاء کا تصور ممکن نہیں۔
خیر کے ادراک کے لیے شر ضروری ہے: اگر بیماری نہ ہو تو صحت کی قدر معلوم نہیں ہو سکتی۔
انسانی اختیار: شر کا ایک بڑا حصہ انسان کے اپنے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
ادھوری تصویر: ہم کائنات کی تصویر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دیکھ رہے ہیں۔ جس طرح ایک جراح کا چھری چلانا بظاہر برا لگتا ہے لیکن مریض کی جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے، اسی طرح کائنات کے وسیع نظام میں تکالیف کی کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔
​2. خدا کو کس نے بنایا؟
​یہ سوال منطقی مغالطے پر مبنی ہے۔ خالقِ حقیقی کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ غیر مخلوق ہو۔ اگر ہم کہیں کہ خدا کو کسی نے بنایا، تو وہ خدا نہ رہا۔ یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ گول چوکور (Square Circle) کا رنگ کیا ہے؟ جو وقت اور مکان (Time and Space) کا خالق ہے، وہ خود وقت کا پابند نہیں ہو سکتا کہ اس کا کوئی آغاز تلاش کیا جائے۔
​3. ملٹی ورس (Multiverse) کا مغالطہ
​جب ملحدین فائن ٹیوننگ کی دلیل کے سامنے لاجواب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ شاید ایسی کروڑوں کائناتیں ہیں اور ہم اتفاق سے اس میں آ گئے جو رہنے کے قابل ہے۔
یہ نظریہ سائنسی نہیں بلکہ ایک عقیدہ ہے کیونکہ اسے کبھی تجربے سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ اگر ملٹی ورس ہو بھی، تو اس نظام کو چلانے کے لیے بھی عظیم شعور کی ضرورت ہوگی۔

#قرآن اور عقلِ سلیم کا باہمی ربط
​قرآن مجید کا فیصلہ ہے کہ ایمان اندھی تقلید نہیں بلکہ عقل کا آخری نتیجہ ہے۔
نشانیوں پر غور: قرآن بار بار کہتا ہے افلا تعقلون (کیا تم عقل نہیں رکھتے؟)۔ یہ انسان کو آفاق اور انفس میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
فطرتِ انسانی: قرآن کہتا ہے کہ خدا کا وجود انسانی فطرت میں ودیعت کر دیا گیا ہے۔ جب انسان کسی بڑی مصیبت میں پھنستا ہے تو اس کا لاشعور پکار اٹھتا ہے کہ کوئی بچانے والا موجود ہے۔

#الحاد کے نفسیاتی اور سماجی اثرات
​الحاد انسان کو ایک ایسی کائنات میں تنہا چھوڑ دیتا ہے جہاں کوئی مقصد نہیں، کوئی امید نہیں اور موت کے بعد کوئی حساب نہیں۔ اس کے نتیجے میں:
نیہل ازم (Nihilism): زندگی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے، جس سے ذہنی تناؤ اور خودکشی کے رجحانات بڑھتے ہیں۔
اخلاقی انارکی: جب کوئی پوچھنے والا خدا نہ ہو، تو انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔
سرمایہ دارانہ استحصال: الحاد مادیت پرستی کو فروغ دیتا ہے، جہاں طاقتور ہی حق پر سمجھا جاتا ہے۔
​ایمان باللہ انسان کو زندگی کا مقصد (Purpose)، سکونِ قلب (Inner Peace) اور ایک مضبوط اخلاقی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔

​حاصلِ کلام یہ کہ الحاد دراصل علم کی کمی کا نہیں بلکہ تکبر یا فکری فرار کا نتیجہ ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اس کا ایک خالق ہے۔ ایٹم کی ترتیب ہو یا کہکشاؤں کی گردش، ہر چیز ایک باقاعدہ پروگرام کے تحت چل رہی ہے۔
​عقلِ سلیم ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ:
عدم سے وجود خود بخود نہیں آ سکتا۔
بے شعور مادہ شعور کو جنم نہیں دے سکتا۔
بے مقصد حادثہ اتنا عظیم نظم پیدا نہیں کر سکتا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
​لہٰذا، خدا کا وجود کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے، اور اس حقیقت کا اعتراف ہی انسانی عقل کی معراج ہے۔ کائنات ایک کتاب ہے اور اس کا موجد خدا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا ہی سائنس ہے، اور اس کے موجد کو پہچاننا ہی ایمان ہے۔
(فقیر کے مقالہ اسلام اور جدید چیلنجز سے کچھ حذف و اضافہ کے ساتھ ماخوذ)
از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

ردِ الحاد

مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

ردِ الحاد
​الحاد (Atheism) محض ایک انفرادی انکار یا خدا کی غیر موجودگی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک باقاعدہ کائناتی ورلڈ ویو (Worldview) ہے جو کائنات کی تشریح صرف اور صرف مادی اور طبیعیاتی قوانین کے تحت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاریخِ انسانی میں الحاد مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے، لیکن نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد یورپ میں کلیسا کے جبر کے خلاف جو تحریک پیدا ہوئی، اس نے الحاد کو ایک نئی فکری بنیاد فراہم کی۔
​جدید دور کا الحاد ایک جارحانہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ رچرڈ ڈاؤکنز (Richard Dawkins)، کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens) اور سیم ہیرس (Sam Harris) جیسے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذہب نہ صرف غیر عقلی ہے بلکہ انسانیت کے لیے خطرناک بھی ہے۔ ان کا بنیادی استدلال سائنٹی ازم (Scientism) پر ہے، یعنی یہ عقیدہ کہ صرف وہی علم معتبر ہے جو تجرباتی سائنس (Empirical Science) کی کسوٹی پر پورا اترے۔ زیرِ نظر مضمون ان تمام مغالطوں کا عقلی، منطقی اور سائنسی بنیادوں پر جائزہ پیش کرتا ہے۔
​#وجودِ باری تعالیٰ اور عقلی مقدمات
​انسانی عقل فطری طور پر سبب و مسبب (Cause and Effect) کے اصول پر کام کرتی ہے۔ وجودِ باری تعالیٰ کے حق میں دیے جانے والے دلائل دراصل اسی فطری عقل کا اظہار ہیں۔
1. دلیلِ امکان و وجوب (Argument from Contingency)
​یہ دلیل منطق کی دنیا میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا بنیادی مقدمہ یہ ہے:
کائنات میں موجود ہر چیز ممکن الوجود (Contingent) ہے، یعنی اس کا ہونا یا نہ ہونا برابر تھا۔ اسے وجود میں آنے کے لیے کسی بیرونی سبب کی ضرورت تھی۔
لامتناہی اسباب کا سلسلہ (Infinite Regress) ناممکن ہے۔ اگر ہم کہیں کہ 'الف' کو 'ب' نے بنایا اور 'ب' کو 'ج' نے، اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو، تو عملاً کوئی بھی چیز وجود میں نہ آتی۔
لہٰذا، ایک ایسی ہستی کا ہونا ناگزیر ہے جو واجب الوجود (Necessary Being) ہو، یعنی جو خود کسی کی محتاج نہ ہو بلکہ سب اس کے محتاج ہوں۔ اسے ہم خدا کہتے ہیں۔
2. کلامی دلیلِ کائنات (Kalam Cosmological Argument)
​اس دلیل کو ائمہ دین اور عصرِ حاضر میں ولیم لین کریگ (William Lane Craig) نے اپنی کتابThe Kalam Cosmological Argument میں نہایت مدلل انداز کے ساتھ پیش کیا ہے۔
جس چیز کا آغاز ہوتا ہے، اس کا کوئی خالق یا سبب ہوتا ہے۔
کائنات کا ایک آغاز ہے (سائنسی طور پر بگ بینگ نے ثابت کیا کہ وقت، مادہ اور مکان عدم سے وجود میں آئے)۔
لہٰذا، کائنات کا ایک خالق ہے۔
​اگر کائنات لامتناہی ماضی سے ہوتی تو ہم کبھی آج تک نہ پہنچ سکتے۔ ریاضیاتی طور پر لامتناہی ماضی (Actual Infinite) کا تصور کائنات میں مادی طور پر ممکن نہیں ہے۔
3. ریاضیاتی حسن اور کائنات کی تفہیم (Mathematical Intelligibility)
​آئن سٹائن کا مشہور قول ہے کہ کائنات کے بارے میں سب سے ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ یہ قابلِ فہم ہے۔ کائنات کے قوانین ریاضیاتی طور پر اتنے دقیق ہیں کہ یہ ایک عظیم ریاضی دان (Great Mathematician) کے شعور کا پتہ دیتے ہیں۔ مادہ اپنے طور پر بے وقوف ہے، وہ ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں (جیسے E=mc^2) پر عمل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جب تک کہ اس کے پیچھے کوئی شعوری قوت نہ ہو۔
​#مادہ پرستی کا سائنسی بطلان
​ملحدین کا دعویٰ ہے کہ مادہ ازلی اور ابدی ہے، لیکن جدید سائنس نے اس نظریے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
​1. تھرمو ڈائنامکس کا دوسرا قانون اور اینٹروپی
​اینٹروپی (Entropy) کا قانون بتاتا ہے کہ کائنات کی مفید توانائی (Useful Energy) مسلسل کم ہو رہی ہے۔ (تفصیل کے لیے LibreTexts نامی ویبسائٹ پر 2nd Law of Thermodynamics کی طرف رجوع کریں)
اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ کائنات ایک ختم ہونے والے سیل کی طرح ہے۔ اگر کائنات ہمیشہ سے ہوتی تو یہ ایک ہی حالت پر رہتی جو باطل محض ہے یا اب تک اس کی تمام توانائی ختم ہو کر یہ حرارتی موت (Heat Death) کا شکار ہو چکی ہوتی۔ کائنات میں ابھی تک توانائی کا موجود ہونا ثابت کرتا ہے کہ اسے ایک مخصوص وقت پہلے چابی دی گئی تھی، یعنی اسے تخلیق کیا گیا تھا۔
​2. حیاتیاتی پیچیدگی اور ڈی این اے (DNA)
​ڈارون کے ارتقاء نے یہ تاثر دیا کہ زندگی محض حادثاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، لیکن جدید سالماتی حیاتیات (Molecular Biology) نے دکھایا ہے کہ ایک سادہ سے خلیے کے اندر موجود ڈی این اے میں معلومات (Information) کا ایک ایسا سمندر ہے جو ہزاروں انسائیکلوپیڈیا کے برابر ہے۔
معلومات (Information) ہمیشہ ایک
ذہن (Mind) سے آتی ہیں۔ مادہ معلومات پیدا نہیں کر سکتا، وہ صرف معلومات کو منتقل کر سکتا ہے۔ ڈی این اے کی کوڈنگ* ثابت کرتی ہے کہ اس کے پیچھے ایک عظیم کوڈر (Coder) موجود ہے۔
​#فائن ٹیوننگ اور کونیاتی توازن
​کائنات کی تخلیق میں اس قدر باریک بینی سے کام لیا گیا ہے کہ اسے حادثہ کہنا عقل کی توہین ہے۔
​1. کونیاتی ثوابت (Cosmological Constants)
​اگر بگ بینگ کے وقت کائنات کے پھیلنے کی شرح میں 10^⁶⁰ کے ایک حصے کے برابر بھی فرق ہوتا تو کائنات یا تو اپنی ہی کششِ ثقل سے سکڑ جاتی یا اتنی تیزی سے پھیلتی کہ ستارے نہ بن سکتے۔
اسی طرح، اگر ایٹم کے اندر موجود پروٹان اور الیکٹران کے ماس کے تناسب میں ذرہ برابر تبدیلی ہوتی تو کیمیائی تعاملات ممکن نہ ہوتے۔ یہ فائن ٹیوننگ (Fine Tuning) پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ کائنات کو زندگی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
​2. کاربن کی پیدائش
​ستاروں کے اندر کاربن کی پیدائش کے لیے ایک مخصوص ریزوننس لیول کی ضرورت ہوتی ہے۔ فریڈ ہوئل (Fred Hoyle)، جو خود ملحد تھا، اس توازن کو دیکھ کر پکار اٹھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی سپر انٹیلیکٹ نے فزکس، کیمسٹری اور بایولوجی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے۔

#شعور اور اخلاقیات کی مابعد الطبیعات
​الحاد کی سب سے بڑی ناکامی انسان کی حقیقت کو واضح کرنے میں ہے۔
​1. شعور کا معمہ (Hard Problem of Consciousness)
​سائنس دان یہ تو بتا سکتے ہیں کہ دماغ کے کون سے خلیے کب حرکت کرتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ احساس (Feeling) کیسے پیدا ہوتا ہے۔ مادہ بے جان ہے، ایٹموں کا کوئی مجموعہ خود بخود میں کا شعور کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ شعور مادی دماغ کی پیداوار نہیں بلکہ ایک غیر مادی حقیقت (روح) کی گواہی ہے۔
​2. اختیار (Free Will)
​اگر الحاد سچ ہے اور ہم صرف مادے کے ذرات سے بنے ہیں، تو ہمارا ہر فعل فزکس کے قوانین کا پابند ہے۔ اس صورت میں اختیار ایک دھوکہ بن جاتا ہے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ہم فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ یہ آزادی ثابت کرتی ہے کہ ہم صرف مادی روبوٹ نہیں ہیں۔
​3. اخلاقیات کا ماخذ
​اگر کائنات میں کوئی خدا نہیں، تو اخلاقیات محض ذائقے کا نام رہ جاتی ہیں۔ اگر ہٹلر نے قتلِ عام کیا تو ملحدانہ بنیاد پر اسے غلط نہیں کہا جا سکتا، صرف ناپسندیدہ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ کوئی معروضی معیار (Objective Standard) موجود نہیں۔ لیکن انسانی ضمیر جانتا ہے کہ ظلم حقیقت میں برا ہے۔ یہ آفاقی اخلاقی قانون ایک آفاقی قانون دہندہ کی گواہی دیتا ہے۔

ملحدانہ شبہات کا علمی و منطقی تجزیہ

​1. شر (Evil) کا مسئلہ
سوال: اگر خدا مہربان ہے تو کائنات میں دکھ اور تکلیف کیوں ہے؟
جواب:
دنیا دار الامتحان ہے: یہاں آزمائش کے بغیر انسان کے ارتقاء کا تصور ممکن نہیں۔
خیر کے ادراک کے لیے شر ضروری ہے: اگر بیماری نہ ہو تو صحت کی قدر معلوم نہیں ہو سکتی۔
انسانی اختیار: شر کا ایک بڑا حصہ انسان کے اپنے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
ادھوری تصویر: ہم کائنات کی تصویر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دیکھ رہے ہیں۔ جس طرح ایک جراح کا چھری چلانا بظاہر برا لگتا ہے لیکن مریض کی جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے، اسی طرح کائنات کے وسیع نظام میں تکالیف کی کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔
​2. خدا کو کس نے بنایا؟
​یہ سوال منطقی مغالطے پر مبنی ہے۔ خالقِ حقیقی کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ غیر مخلوق ہو۔ اگر ہم کہیں کہ خدا کو کسی نے بنایا، تو وہ خدا نہ رہا۔ یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ گول چوکور (Square Circle) کا رنگ کیا ہے؟ جو وقت اور مکان (Time and Space) کا خالق ہے، وہ خود وقت کا پابند نہیں ہو سکتا کہ اس کا کوئی آغاز تلاش کیا جائے۔
​3. ملٹی ورس (Multiverse) کا مغالطہ
​جب ملحدین فائن ٹیوننگ کی دلیل کے سامنے لاجواب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ شاید ایسی کروڑوں کائناتیں ہیں اور ہم اتفاق سے اس میں آ گئے جو رہنے کے قابل ہے۔
یہ نظریہ سائنسی نہیں بلکہ ایک عقیدہ ہے کیونکہ اسے کبھی تجربے سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ اگر ملٹی ورس ہو بھی، تو اس نظام کو چلانے کے لیے بھی عظیم شعور کی ضرورت ہوگی۔

#قرآن اور عقلِ سلیم کا باہمی ربط
​قرآن مجید کا فیصلہ ہے کہ ایمان اندھی تقلید نہیں بلکہ عقل کا آخری نتیجہ ہے۔
نشانیوں پر غور: قرآن بار بار کہتا ہے افلا تعقلون (کیا تم عقل نہیں رکھتے؟)۔ یہ انسان کو آفاق اور انفس میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
فطرتِ انسانی: قرآن کہتا ہے کہ خدا کا وجود انسانی فطرت میں ودیعت کر دیا گیا ہے۔ جب انسان کسی بڑی مصیبت میں پھنستا ہے تو اس کا لاشعور پکار اٹھتا ہے کہ کوئی بچانے والا موجود ہے۔

#الحاد کے نفسیاتی اور سماجی اثرات
​الحاد انسان کو ایک ایسی کائنات میں تنہا چھوڑ دیتا ہے جہاں کوئی مقصد نہیں، کوئی امید نہیں اور موت کے بعد کوئی حساب نہیں۔ اس کے نتیجے میں:
نیہل ازم (Nihilism): زندگی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے، جس سے ذہنی تناؤ اور خودکشی کے رجحانات بڑھتے ہیں۔
اخلاقی انارکی: جب کوئی پوچھنے والا خدا نہ ہو، تو انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔
سرمایہ دارانہ استحصال: الحاد مادیت پرستی کو فروغ دیتا ہے، جہاں طاقتور ہی حق پر سمجھا جاتا ہے۔
​ایمان باللہ انسان کو زندگی کا مقصد (Purpose)، سکونِ قلب (Inner Peace) اور ایک مضبوط اخلاقی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔

​حاصلِ کلام یہ کہ الحاد دراصل علم کی کمی کا نہیں بلکہ تکبر یا فکری فرار کا نتیجہ ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اس کا ایک خالق ہے۔ ایٹم کی ترتیب ہو یا کہکشاؤں کی گردش، ہر چیز ایک باقاعدہ پروگرام کے تحت چل رہی ہے۔
​عقلِ سلیم ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ:
عدم سے وجود خود بخود نہیں آ سکتا۔
بے شعور مادہ شعور کو جنم نہیں دے سکتا۔
بے مقصد حادثہ اتنا عظیم نظم پیدا نہیں کر سکتا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
​لہٰذا، خدا کا وجود کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے، اور اس حقیقت کا اعتراف ہی انسانی عقل کی معراج ہے۔ کائنات ایک کتاب ہے اور اس کا موجد خدا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا ہی سائنس ہے، اور اس کے موجد کو پہچاننا ہی ایمان ہے۔
(فقیر کے مقالہ اسلام اور جدید چیلنجز سے کچھ حذف و اضافہ کے ساتھ ماخوذ)
از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
96
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 35
Kalam 39
Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
زمرہ جات

تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

سفر بلگرام کچھ یادیں کچھ باتیں

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 29 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
تاثرات 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢