صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مووی اور ویڈیو کا شرعی حکم کے عنوان سے مفتی شازلی القادری صاحب کے مضمون کا تحقیقی جواب
تحقیق و تعاقب

مووی اور ویڈیو کا شرعی حکم کے عنوان سے مفتی شازلی القادری صاحب کے مضمون کا تحقیقی جواب

✍️ خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

مووی اور ویڈیو کا شرعی حکم کے عنوان سے مفتی شازلی القادری صاحب کے مضمون کا تحقیقی جواب

ٹی وی کا کردار سوز اور مہلک مرض

کچھ جدید اختراعی تحقیقات کی حاشیہ نگاری پر ایک تحقیقی مقالہ باصرہ نواز ہوا اس کی سرخی تھی ٹی وی اور ویڈیو سے متعلق زبردست تحقیقی فتوٰی از مفتی ابوبکر صدیق شاذلی القادری صاحب قبلہ
اس مقالہ کو دراصل محب گرامی شریف خان صاحب ممبئ نے میرے پاس ارسال کیاتھا اور اس عظیم تحقیق پر حقیر سے اظھار رائے کا مطالبہ کیاگیاتھا لیکن میری ناقص فہم و ادراک کی پرواز اس تحقیق کے اعلیٰ مقام تک نہ ہو سکی اور میں اس سے اپنا اتفاق نہ کر سکا بایں وجہ اظھار رائے سے گریز کیا لیکن پیہم تقاضہ سے مجبور ہوکر چند سطور حاضر بارگاہ ہیں اس گرانقدر مقالہ کی سرخی میں گرچہ لاؤڈسپیکر کا کوئ تذکرہ نہیں ہے شاید انکسارا اسے سرخی میں شامل نہ کیا گیا ہو لیکن تحقیقات کے دلفریب جلؤوں سے وہ بھی خوب روشن ہے ۔
یعنی تحقیقات ببانگ دہل اعلان کررہی ہیں کہ نماز میں لاؤڈسپیکر کی آواز پر اقتداء بھی جائز ہے جبکہ ٹی وی اور ویڈیو میں نظر آنے والا عکس ھے تصویر نہیں اس نایاب تحقیق کی تائید میں مزید امام اہلسنت و صدرالشریعۃ کے فرمودات نے اس کے پر لطف حسن کو اور دوبالا کردیا ہے۔ یوں تو اس تحقیق پر‌ سیر حاصل گفتگو کا حق صرف کسی روشن خیال محقق کو ہی میسر ہو سکتا ہےاس کے باوجود حسب تقاضہ اظہار رائے پر یہ ناچیز مجبور ہوا کہ لوگ اعلٰی حضرت و صدرالشریعۃ کے فرمان کو بھی اسی طرح نہ سمجھ لیں جس طرح یہاں اس کی نشاندہی گئی ہے لہذا اس میں یمین و شمال انحراف کئے بغیر جدالممتار اور بہار شریعت کی اسی دلیل کو ہی پیش نظر رکھیں جس سے فاضل محقق کو ‌ٹی وی کی اسکرین میں عکس نظر آیا تو اس تحقیق کے لبادے میں ایک خوفناک ہیکل کا مشاہدہ ہر ایک کرسکتا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تحقیق کا لازمی نتیجہ بھیانک صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔
اب مسجدوں میں امام کے پاس کیمرہ نصب ہوگا اور اس کی ہر ایک منزل میں بڑی بڑی درجنوں اسکرینیں ہونگی ہر ایک نمازی اپنے امام کو سامنے دیکھے گا بھی اور اسے سنے گا بھی کہ مائک کی آواز پر اقتداء کے جواز پر بھی جدید محقق صاحب کا زور ہے ۔اور ویڈیو میں نظر آنے والا عکس ھے تصویر نہیں لہذا اسے ناجائز کہنے کی کوئ وجہ نہیں ایسی نمازوں میں نفس کو تو بڑا لطف آئےگا لیکن عبادت کی روحانی پاکیزگی تڑپ جائےگی اور یہ صرف کوئ مفروضہ نتیجہ نہیں بلکہ دور حاضر کے متعدد ملکوں میں اس کامشاہدہ بھی ہو سکتا ہے مزید شاذلی صاحب کے فرمان عالی شان کی روشنی میں اگر ان جدید طرق عبادت کو جائز نہ کہا جائے تو اسلام کے انجماد کا خطرہ رونما ہوجائیگا الامان والحفیظ ۔
شاذلی صاحب فرماتے ہیں اجتہادی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے نہ تو کسی کو گمراہ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو فاسق ۔سوفیصد میں اس فرمان کی تائید میں ہوں لیکن کیا کسی نے فروعی اجتھادی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے تضلیل یاتفسیق کی ہے؟ اگر ہاں تو نشاندہی فرمائیں ۔ مفتی شاذلی صاحب نےاپنے اس طویل مقالہ میں ٹی وی اور ویڈیو کےساتھ نماز میں لاؤڈسپیکر کی آواز پر اقتداء کے جواز میں بھی کافی ایسی تحقیقی روشنی عطافرمائی ہے ہر ایک صاحب علم جس کی دلکشی سے خوب آشنا ہے۔انداز تحقیق پر داد دیئے بغیر میں بھی نہیں رہ سکا لیکن اس عظیم تحقیقی بارگاہ میں عرض ہے کہ ناواقف دوستوں کے لئے آپ کا یہ حکم ہی کافی تھا دلیل کی ضرورت نہیں تھی اور تحقیق کی آراستگی کے لئے سائنس دانوں کی انگلش تزئین کاری بھی زیورات کا کام دے رہی ہیں۔
لہذا فاضل بریلوی اور صدرالشریعۃ کے حوالے کی کوئی ضرورت نہیں
پھربھی اگر آپ اسلاف کے اسقدر گرویدہ ہیں کہ ان کے حوالہ دینے پر مصر ہیں جو ہرایک سعادت مند کے لئے سرمایئہ عقیدت ہے
تو ان کی نورانی ایمان افروز عبارتوں کو اپنی تحقیقی قینچی کی تراش و خراش سے محفوظ رکھنے میں ہی اتباع اسلاف ہے نہ کہ ہوس نفس کے اتباع میں معنوی تحریف میں بھی کوئی کمال ہے ؟

محقق بے نظیر مفتی شاذلی صاحب کا ارشاد گہربار ہے

راقم الحروف نے اسلاف کرام رحمھم اللہ تعالی خاص طور پر امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان اور صدرالشریعۃ رحمھمااللہ تعالی کی بعض کتب میں غور کیا تو ظاہر ہوا کہ ٹی وی اور کمپیوٹر مونیٹر کی اسکرین پر نظر آنے والے عکوس ان تصاویر کے مثل نہیں ہیں اگر چہ سائنسی حقائق سے ناواقف شخص اسے تصویر ہی سمجھے ۔اللہ اکبر
تحقیق کی جولانیت کا کسقدر ذہن و فکر پر قبضہ ہے اس کا خمار ایک ایک لفظ سے یہاں مترشح ہے یعنی ٹی وی جائز ہے اس میں تصویر نہیں بلکہ عکس ہے

اس دعوی پر دلیل میں امام احمد رضا اور صدرالشریعۃ ہیں

پھر جو اسے عکس نہ مانے تو وہ سائنسی حقائق سے ناواقف شخص ہے ۔
یعنی حضرت محقق صاحب کی طرح صاحب علم وہ ہرگز نہیں ھے کہ شاذلی صاحب تو علم شریعت کے اسرار و رموز کے پیکر ہیں ہی سائنسی حقائق بھی حضرت کی بصارت سے مخفی نہیں ہیں اس لئے تو اسے تصویر کہنے والےکو سائنسی حقائق سے ناواقف شخص قرار دے رہے ہیں۔ اللہ تعالی عقل سلیم عطافرمائے
اب آئیے امام احمد رضا کی وہ عبارت دیکھیں جس میں ٹی وی کی اسکرین پر نظر آنے والے کو عکس کہا گیا ہے تصویر نہیں اور اسی عبارت کو محقق صاحب نے اپنی دلیل بنایا ہے اور امام احمد رضا کی مائہ ناز کتاب جدالممتار سے نقل فرمایا ھے ۔
سئلت عمن صلی وامامہ مرأۃ، فاجبت بالجوازمما ھاھنا، اذالمرأۃ لاتعبد ولاالشبح المنطبع فیھا، ولاھو من صنیع الکفار، نعم ان کان بحیث یبدو لہ فیہ صورتہ، وافعالہ، رکوعا و سجودا وقیاما و قعودا، وظن ان ذالک یشغلہ و یلہی فاذن لاینبغی قطعا
اسی پاکیزہ عبارت کی روشنی میں محقق صاحب کو ٹی وی کی اسکرین پر عکس نظر آیا ہے جبکہ ناواقف شخص اب بھی اس کو تصویر کہنےپر مصر ہے ۔تحقیق کے اس جنازہ پر اب ماتم ہی شعار محبت رہ گیا ہے اس روح پرور عبارت میں خاص دو جملے ایسے ہیں جس کی وجہ سے محقق صاحب نے ٹی وی میں عکس کو دیکھاھے وہ دونوں جملے یہ ہیں اذالمرأۃ لاتعبد، ولاالشبح المنطبع فیھایعنی نہ آئینہ کی عبادت ہوتی ہے اور نہ اس میں کوئ شبیہ ہے اور اس سے نتیجہ نکال لیا گیا کہ ٹی وی کی اسکرین میں عکس ہے یعنی آئینہ اور ٹی وی ایک جیسے ہیں حالانکہ اس سے تو صرف اسقدر وضاحت ہے کہ امام اہلسنت فرماتے ہیں کہ مجھ سے سوال ہوا اس نمازی کے بارے میں جس کے سامنے آئینہ رکھا ہو تو میں نے جواز کا حکم دیا ۔اور اسی کی دلیل میں آپ نے ان دونوں جملوں کا بھی استعمال فرمایا ھےکہ آئینہ کی کہیں عبادت نہیں ہوتی ہے (کہ اس کے سامنے ہونے کومشرکین کی مشابہت کی وجہ سےناجائز کہا جائے )اور جبکہ مشرکین شبیہ کی عبادت کرتے ہیں
اس لئے دوسراجملہ ارشاد فرمایا کہ اس میں شبیہ بھی نہیں ہے(کہ اس کی وجہ سے مشابہت ہو لہذا نفس آئینہ کے سامنے ہونے سے عدم جواز کی کوئ صورت نہیں )اس لئے آپ نے جواز کا حکم دیا اور یہی حکم آج ٹی وی کے جواز پر دلیل قرار پاگیا جبکہ شاذلی صاحب نے ٹی وی کو آئینہ پر قیاس نہ کرنے والوں کو ناواقف قرار دیا میں تو یہ نہیں کہ سکتا کہ شاذلی صاحب اپنی پیش کردہ اس دلیل سے ناواقف ہیں لیکن مجھے اس پرنور عبارت میں جو نظر آیا وہ احباب کی نذر ہے امام احمد رضا کی اس نورانی عبارت کے عرشی مفاہیم کی تصویر کشی میں یہاں ایک تمہید کی ضرورت ہے تاکہ سب کے سامنے یہ مسئلہ واضح ہو جائےکسی بھی جسم سے متعلقمثال خارجی نفس الامری کی تین صورتیں واضح ہیں ظل، عکس، اور صورت، پہلی اور دوسری قسم کے جواز پر اور تیسری قسم کے عدم جواز پر علماء کرام کا اتفاق ہے اس میں اختلاف کرنے والا کوئ نہیں یہاں تک کہ شاذلی صاحب و دیگر جدید محققین کا بھی اس میں اتفاق ہے لیکن تصویر کے تحقق میں شاذلی صاحب کو اس میں کچھ اختلاف ہے ٹی وی کی اسکرین پر رقص کرنے والا ان کی نظر میں عکس ھے صورت نہیں جبکہ اس کے ظل ہونے کے قائل محقق صاحب بھی نہیں ہیں بہر حال اس تمثیل خارجی کاسبب اگر نفس جسم ہے تو وہ ظل ہے کہ جسم اگر روشنی کی ترسیل میں حجاب بنے تو سمت مخالف میں اس کا سایہ نظر آئیگا یہی اس کا ظل ہے اور اگر انکسارِ شعاع بصری سے اس مثل کا وجود ہو تو یہ عکس ھےحقیقت میں اس کا کوئ وجود اس مقام میں ھے ہی نہیں جہاں وہ ابھی نظر آرہاہے یہ دراصل شعاع بصری کے انکسار کا کمال ہے جیساکہ سورج کا زیر زمیں ہونے کے باوجود مشرق و مغرب میں بالائے افق نظر آنا یہ بھی اسی انکسار کا کمال ھے ۔
اور اگر یہ دونوں صورتیں نہیں ہیں بلکہ دیگر ترسیمی آلات اختراعیہ کی وجہ سے اس مثال کا وجود ہے تو وہ صورت ہے اس کے حرام ہونے پر سب کا اتفاق ہے ٹی وی میں ظل نہیں یہی موقف شاذلی صاحب کا بھی ہے کہ یہاں کوئی جسم حجاب نہیں بنا کہ ظل کہا جائے اب اگر عکس بھی نہ ہو تو ٹی وی میں رقص کرنے والے کو صورت کہنے کے علاوہ اور کوئ چارہ نہیں اور عکس کے بارے میں گزرا کہ جہاں نظر آرہاہے اس وقت وہاں اس کا کوئ وجود نہیں بلکہ شعاع بصری کےانکسارکا یہ کمال ہے تو شاذلی صاحب بتائیں
کیا آئینہ پر ٹی وی کے قیاس کو صحیح مان لیا جائے ؟
کیا ٹی وی کی اسکرین میں کچھ نہیں ہے؟
اگر رضوی فرمان کی گہر شناسی میں کوئ دقت تھی تو ان امجدی موتیوں سے ہی استفادہ کرتےجنھیں آپ نے ٹی وی میں نمایاں مثل کے عکس ہونے پر دلیل بنایا ہے کاش حضور صدرالشریعۃ کے فرمان کو آپ سمجھ گئے ہوتے اگر سمجھ گئے ہیں تو کاش حق بیانی سے نتیجہ اخذ کرتے تو آپ بھی وہی کہتےآپ کے بقول نا ناواقف اشخآص نے جو کہا ہے عکس جہاں نظر آرہاہے وہاں اس وقت اس کا کوئ وجود نہیں ہوتا ہے جیسے آئینہ کے سامنے کھڑا شخص اپنے کو دیکھتا ہے حالانکہ آئینہ کے پیچھے اتنے فاصلہ پر وہ صورت نظر آتی ہے آئینہ سے جتنے بعد پر دیکھنے والا موجود ہے یہ اس لئے کہ آنکھوں کی شعائیں آئینہ تک سیدھی گئیں اس کی صقالت کی وجہ سے یہاں شعاعوں میں پورے
° 180 کا انکسار ہوا اور رائی خود مرئی بن گیا کار میں ڈرائیور کے پاس عقب نماں آئینہ میں پیچھے آنے والی گاڑیاں دائیں طرف سے آتی نظر آرہی ہیں جبکہ دائیں طرف کوئ روڈ نہیں ہے اور نہ ان گاڑیوں کا کوئی وہاں وجود ھے یہاں بھی شعاع بصری کا انکسار ہوا لیکن یہ °180کا نہیں تھا کم کا تھا اور پیچھے کی گاڑیاں دائیں نظر آئیں بہر حال آئینہ میں مرئی کا کوئ وجود نہیں جبکہ ٹی وی کی اسکرین پر شاذلی صاحب بھی ایک وجود کو مان رہے ہیں لہذا یہ آئینہ کی طرح ہرگز نہیں۔
ہاں کسی مجبوری کی وجہ سے شاذلی صاحب اس کو صورت نہیں عکس کہ رہے ہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہوگا پھر اس ذاتی خیال پر بطور دلیل امام احمد رضا کے علاوہ صدرالشریعۃ کو بھی پیش کیاگیا ہے فتاوائے امجدیہ کی جس عبارت کو مفتی صاحب نے دلیل بنایا ہے اس کا اقتباس ملاحظہ ہو : حقیقت امر یہ ہے کہ وہاں تصویر ہوتی ہی نہیں بلکہ خطوط شعاعی آئینہ کی صقالت کی وجہ سے لوٹ کر چہرے پر آتے ہیں گویا یہ شخص اپنے کو دیکھتا ہے اس عبارت سے شاذلی صاحب نے ٹی وی کی صورت کو عکس بنانے کی ناکام سعی کی ھے اس میں تو صاف فرمان ھے کہ آئینہ میں کچھ نہیں ہے انکسارِ شعاع کی وجہ سے رائی یہاں خود مرئ بن گیا کیا شاذلی صاحب بتانے کی جرأت کر سکینگے کہ ٹی وی میں بھی شعاع بصری کا انکسار ہوا؟ اگرہاں تو اس کی مقدار بتائیں تاکہ یہ بحث جاری رھے اور اگر نہیں (اور یہی برحق ہے )تو مرئی سطح پر نظر آیا لہذا یہ تصویر ہے نہ کہ عکس کہ انکسار کا یہاں کوئی وجود نہیں جس کی وجہ سے عکس کہا جائے لہذا اس کا وجود ترسیمی آلات اختراعیہ کا مرہون منت ہے نہ کہ نفس جسم یا انکسار سے اس کا کوئ تعلق ثابت ہوا کہ یہ مثل ظل یا عکس نہیں بلکہ صورت ہی ہے ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ھواللہ الھادی الی سبیل الرشاد
17ذی القعدۃ 1438ھجری
از محمد رفیق الاسلام النوری المنظری
جامعہ شکوریہ بلہور کانپور یوپی

مووی اور ویڈیو کا شرعی حکم کے عنوان سے مفتی شازلی القادری صاحب کے مضمون کا تحقیقی جواب

مضمون نگار: خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

مووی اور ویڈیو کا شرعی حکم کے عنوان سے مفتی شازلی القادری صاحب کے مضمون کا تحقیقی جواب

ٹی وی کا کردار سوز اور مہلک مرض

کچھ جدید اختراعی تحقیقات کی حاشیہ نگاری پر ایک تحقیقی مقالہ باصرہ نواز ہوا اس کی سرخی تھی ٹی وی اور ویڈیو سے متعلق زبردست تحقیقی فتوٰی از مفتی ابوبکر صدیق شاذلی القادری صاحب قبلہ
اس مقالہ کو دراصل محب گرامی شریف خان صاحب ممبئ نے میرے پاس ارسال کیاتھا اور اس عظیم تحقیق پر حقیر سے اظھار رائے کا مطالبہ کیاگیاتھا لیکن میری ناقص فہم و ادراک کی پرواز اس تحقیق کے اعلیٰ مقام تک نہ ہو سکی اور میں اس سے اپنا اتفاق نہ کر سکا بایں وجہ اظھار رائے سے گریز کیا لیکن پیہم تقاضہ سے مجبور ہوکر چند سطور حاضر بارگاہ ہیں اس گرانقدر مقالہ کی سرخی میں گرچہ لاؤڈسپیکر کا کوئ تذکرہ نہیں ہے شاید انکسارا اسے سرخی میں شامل نہ کیا گیا ہو لیکن تحقیقات کے دلفریب جلؤوں سے وہ بھی خوب روشن ہے ۔
یعنی تحقیقات ببانگ دہل اعلان کررہی ہیں کہ نماز میں لاؤڈسپیکر کی آواز پر اقتداء بھی جائز ہے جبکہ ٹی وی اور ویڈیو میں نظر آنے والا عکس ھے تصویر نہیں اس نایاب تحقیق کی تائید میں مزید امام اہلسنت و صدرالشریعۃ کے فرمودات نے اس کے پر لطف حسن کو اور دوبالا کردیا ہے۔ یوں تو اس تحقیق پر‌ سیر حاصل گفتگو کا حق صرف کسی روشن خیال محقق کو ہی میسر ہو سکتا ہےاس کے باوجود حسب تقاضہ اظہار رائے پر یہ ناچیز مجبور ہوا کہ لوگ اعلٰی حضرت و صدرالشریعۃ کے فرمان کو بھی اسی طرح نہ سمجھ لیں جس طرح یہاں اس کی نشاندہی گئی ہے لہذا اس میں یمین و شمال انحراف کئے بغیر جدالممتار اور بہار شریعت کی اسی دلیل کو ہی پیش نظر رکھیں جس سے فاضل محقق کو ‌ٹی وی کی اسکرین میں عکس نظر آیا تو اس تحقیق کے لبادے میں ایک خوفناک ہیکل کا مشاہدہ ہر ایک کرسکتا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تحقیق کا لازمی نتیجہ بھیانک صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔
اب مسجدوں میں امام کے پاس کیمرہ نصب ہوگا اور اس کی ہر ایک منزل میں بڑی بڑی درجنوں اسکرینیں ہونگی ہر ایک نمازی اپنے امام کو سامنے دیکھے گا بھی اور اسے سنے گا بھی کہ مائک کی آواز پر اقتداء کے جواز پر بھی جدید محقق صاحب کا زور ہے ۔اور ویڈیو میں نظر آنے والا عکس ھے تصویر نہیں لہذا اسے ناجائز کہنے کی کوئ وجہ نہیں ایسی نمازوں میں نفس کو تو بڑا لطف آئےگا لیکن عبادت کی روحانی پاکیزگی تڑپ جائےگی اور یہ صرف کوئ مفروضہ نتیجہ نہیں بلکہ دور حاضر کے متعدد ملکوں میں اس کامشاہدہ بھی ہو سکتا ہے مزید شاذلی صاحب کے فرمان عالی شان کی روشنی میں اگر ان جدید طرق عبادت کو جائز نہ کہا جائے تو اسلام کے انجماد کا خطرہ رونما ہوجائیگا الامان والحفیظ ۔
شاذلی صاحب فرماتے ہیں اجتہادی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے نہ تو کسی کو گمراہ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو فاسق ۔سوفیصد میں اس فرمان کی تائید میں ہوں لیکن کیا کسی نے فروعی اجتھادی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے تضلیل یاتفسیق کی ہے؟ اگر ہاں تو نشاندہی فرمائیں ۔ مفتی شاذلی صاحب نےاپنے اس طویل مقالہ میں ٹی وی اور ویڈیو کےساتھ نماز میں لاؤڈسپیکر کی آواز پر اقتداء کے جواز میں بھی کافی ایسی تحقیقی روشنی عطافرمائی ہے ہر ایک صاحب علم جس کی دلکشی سے خوب آشنا ہے۔انداز تحقیق پر داد دیئے بغیر میں بھی نہیں رہ سکا لیکن اس عظیم تحقیقی بارگاہ میں عرض ہے کہ ناواقف دوستوں کے لئے آپ کا یہ حکم ہی کافی تھا دلیل کی ضرورت نہیں تھی اور تحقیق کی آراستگی کے لئے سائنس دانوں کی انگلش تزئین کاری بھی زیورات کا کام دے رہی ہیں۔
لہذا فاضل بریلوی اور صدرالشریعۃ کے حوالے کی کوئی ضرورت نہیں
پھربھی اگر آپ اسلاف کے اسقدر گرویدہ ہیں کہ ان کے حوالہ دینے پر مصر ہیں جو ہرایک سعادت مند کے لئے سرمایئہ عقیدت ہے
تو ان کی نورانی ایمان افروز عبارتوں کو اپنی تحقیقی قینچی کی تراش و خراش سے محفوظ رکھنے میں ہی اتباع اسلاف ہے نہ کہ ہوس نفس کے اتباع میں معنوی تحریف میں بھی کوئی کمال ہے ؟

محقق بے نظیر مفتی شاذلی صاحب کا ارشاد گہربار ہے

راقم الحروف نے اسلاف کرام رحمھم اللہ تعالی خاص طور پر امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان اور صدرالشریعۃ رحمھمااللہ تعالی کی بعض کتب میں غور کیا تو ظاہر ہوا کہ ٹی وی اور کمپیوٹر مونیٹر کی اسکرین پر نظر آنے والے عکوس ان تصاویر کے مثل نہیں ہیں اگر چہ سائنسی حقائق سے ناواقف شخص اسے تصویر ہی سمجھے ۔اللہ اکبر
تحقیق کی جولانیت کا کسقدر ذہن و فکر پر قبضہ ہے اس کا خمار ایک ایک لفظ سے یہاں مترشح ہے یعنی ٹی وی جائز ہے اس میں تصویر نہیں بلکہ عکس ہے

اس دعوی پر دلیل میں امام احمد رضا اور صدرالشریعۃ ہیں

پھر جو اسے عکس نہ مانے تو وہ سائنسی حقائق سے ناواقف شخص ہے ۔
یعنی حضرت محقق صاحب کی طرح صاحب علم وہ ہرگز نہیں ھے کہ شاذلی صاحب تو علم شریعت کے اسرار و رموز کے پیکر ہیں ہی سائنسی حقائق بھی حضرت کی بصارت سے مخفی نہیں ہیں اس لئے تو اسے تصویر کہنے والےکو سائنسی حقائق سے ناواقف شخص قرار دے رہے ہیں۔ اللہ تعالی عقل سلیم عطافرمائے
اب آئیے امام احمد رضا کی وہ عبارت دیکھیں جس میں ٹی وی کی اسکرین پر نظر آنے والے کو عکس کہا گیا ہے تصویر نہیں اور اسی عبارت کو محقق صاحب نے اپنی دلیل بنایا ہے اور امام احمد رضا کی مائہ ناز کتاب جدالممتار سے نقل فرمایا ھے ۔
سئلت عمن صلی وامامہ مرأۃ، فاجبت بالجوازمما ھاھنا، اذالمرأۃ لاتعبد ولاالشبح المنطبع فیھا، ولاھو من صنیع الکفار، نعم ان کان بحیث یبدو لہ فیہ صورتہ، وافعالہ، رکوعا و سجودا وقیاما و قعودا، وظن ان ذالک یشغلہ و یلہی فاذن لاینبغی قطعا
اسی پاکیزہ عبارت کی روشنی میں محقق صاحب کو ٹی وی کی اسکرین پر عکس نظر آیا ہے جبکہ ناواقف شخص اب بھی اس کو تصویر کہنےپر مصر ہے ۔تحقیق کے اس جنازہ پر اب ماتم ہی شعار محبت رہ گیا ہے اس روح پرور عبارت میں خاص دو جملے ایسے ہیں جس کی وجہ سے محقق صاحب نے ٹی وی میں عکس کو دیکھاھے وہ دونوں جملے یہ ہیں اذالمرأۃ لاتعبد، ولاالشبح المنطبع فیھایعنی نہ آئینہ کی عبادت ہوتی ہے اور نہ اس میں کوئ شبیہ ہے اور اس سے نتیجہ نکال لیا گیا کہ ٹی وی کی اسکرین میں عکس ہے یعنی آئینہ اور ٹی وی ایک جیسے ہیں حالانکہ اس سے تو صرف اسقدر وضاحت ہے کہ امام اہلسنت فرماتے ہیں کہ مجھ سے سوال ہوا اس نمازی کے بارے میں جس کے سامنے آئینہ رکھا ہو تو میں نے جواز کا حکم دیا ۔اور اسی کی دلیل میں آپ نے ان دونوں جملوں کا بھی استعمال فرمایا ھےکہ آئینہ کی کہیں عبادت نہیں ہوتی ہے (کہ اس کے سامنے ہونے کومشرکین کی مشابہت کی وجہ سےناجائز کہا جائے )اور جبکہ مشرکین شبیہ کی عبادت کرتے ہیں
اس لئے دوسراجملہ ارشاد فرمایا کہ اس میں شبیہ بھی نہیں ہے(کہ اس کی وجہ سے مشابہت ہو لہذا نفس آئینہ کے سامنے ہونے سے عدم جواز کی کوئ صورت نہیں )اس لئے آپ نے جواز کا حکم دیا اور یہی حکم آج ٹی وی کے جواز پر دلیل قرار پاگیا جبکہ شاذلی صاحب نے ٹی وی کو آئینہ پر قیاس نہ کرنے والوں کو ناواقف قرار دیا میں تو یہ نہیں کہ سکتا کہ شاذلی صاحب اپنی پیش کردہ اس دلیل سے ناواقف ہیں لیکن مجھے اس پرنور عبارت میں جو نظر آیا وہ احباب کی نذر ہے امام احمد رضا کی اس نورانی عبارت کے عرشی مفاہیم کی تصویر کشی میں یہاں ایک تمہید کی ضرورت ہے تاکہ سب کے سامنے یہ مسئلہ واضح ہو جائےکسی بھی جسم سے متعلقمثال خارجی نفس الامری کی تین صورتیں واضح ہیں ظل، عکس، اور صورت، پہلی اور دوسری قسم کے جواز پر اور تیسری قسم کے عدم جواز پر علماء کرام کا اتفاق ہے اس میں اختلاف کرنے والا کوئ نہیں یہاں تک کہ شاذلی صاحب و دیگر جدید محققین کا بھی اس میں اتفاق ہے لیکن تصویر کے تحقق میں شاذلی صاحب کو اس میں کچھ اختلاف ہے ٹی وی کی اسکرین پر رقص کرنے والا ان کی نظر میں عکس ھے صورت نہیں جبکہ اس کے ظل ہونے کے قائل محقق صاحب بھی نہیں ہیں بہر حال اس تمثیل خارجی کاسبب اگر نفس جسم ہے تو وہ ظل ہے کہ جسم اگر روشنی کی ترسیل میں حجاب بنے تو سمت مخالف میں اس کا سایہ نظر آئیگا یہی اس کا ظل ہے اور اگر انکسارِ شعاع بصری سے اس مثل کا وجود ہو تو یہ عکس ھےحقیقت میں اس کا کوئ وجود اس مقام میں ھے ہی نہیں جہاں وہ ابھی نظر آرہاہے یہ دراصل شعاع بصری کے انکسار کا کمال ہے جیساکہ سورج کا زیر زمیں ہونے کے باوجود مشرق و مغرب میں بالائے افق نظر آنا یہ بھی اسی انکسار کا کمال ھے ۔
اور اگر یہ دونوں صورتیں نہیں ہیں بلکہ دیگر ترسیمی آلات اختراعیہ کی وجہ سے اس مثال کا وجود ہے تو وہ صورت ہے اس کے حرام ہونے پر سب کا اتفاق ہے ٹی وی میں ظل نہیں یہی موقف شاذلی صاحب کا بھی ہے کہ یہاں کوئی جسم حجاب نہیں بنا کہ ظل کہا جائے اب اگر عکس بھی نہ ہو تو ٹی وی میں رقص کرنے والے کو صورت کہنے کے علاوہ اور کوئ چارہ نہیں اور عکس کے بارے میں گزرا کہ جہاں نظر آرہاہے اس وقت وہاں اس کا کوئ وجود نہیں بلکہ شعاع بصری کےانکسارکا یہ کمال ہے تو شاذلی صاحب بتائیں
کیا آئینہ پر ٹی وی کے قیاس کو صحیح مان لیا جائے ؟
کیا ٹی وی کی اسکرین میں کچھ نہیں ہے؟
اگر رضوی فرمان کی گہر شناسی میں کوئ دقت تھی تو ان امجدی موتیوں سے ہی استفادہ کرتےجنھیں آپ نے ٹی وی میں نمایاں مثل کے عکس ہونے پر دلیل بنایا ہے کاش حضور صدرالشریعۃ کے فرمان کو آپ سمجھ گئے ہوتے اگر سمجھ گئے ہیں تو کاش حق بیانی سے نتیجہ اخذ کرتے تو آپ بھی وہی کہتےآپ کے بقول نا ناواقف اشخآص نے جو کہا ہے عکس جہاں نظر آرہاہے وہاں اس وقت اس کا کوئ وجود نہیں ہوتا ہے جیسے آئینہ کے سامنے کھڑا شخص اپنے کو دیکھتا ہے حالانکہ آئینہ کے پیچھے اتنے فاصلہ پر وہ صورت نظر آتی ہے آئینہ سے جتنے بعد پر دیکھنے والا موجود ہے یہ اس لئے کہ آنکھوں کی شعائیں آئینہ تک سیدھی گئیں اس کی صقالت کی وجہ سے یہاں شعاعوں میں پورے
° 180 کا انکسار ہوا اور رائی خود مرئی بن گیا کار میں ڈرائیور کے پاس عقب نماں آئینہ میں پیچھے آنے والی گاڑیاں دائیں طرف سے آتی نظر آرہی ہیں جبکہ دائیں طرف کوئ روڈ نہیں ہے اور نہ ان گاڑیوں کا کوئی وہاں وجود ھے یہاں بھی شعاع بصری کا انکسار ہوا لیکن یہ °180کا نہیں تھا کم کا تھا اور پیچھے کی گاڑیاں دائیں نظر آئیں بہر حال آئینہ میں مرئی کا کوئ وجود نہیں جبکہ ٹی وی کی اسکرین پر شاذلی صاحب بھی ایک وجود کو مان رہے ہیں لہذا یہ آئینہ کی طرح ہرگز نہیں۔
ہاں کسی مجبوری کی وجہ سے شاذلی صاحب اس کو صورت نہیں عکس کہ رہے ہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہوگا پھر اس ذاتی خیال پر بطور دلیل امام احمد رضا کے علاوہ صدرالشریعۃ کو بھی پیش کیاگیا ہے فتاوائے امجدیہ کی جس عبارت کو مفتی صاحب نے دلیل بنایا ہے اس کا اقتباس ملاحظہ ہو : حقیقت امر یہ ہے کہ وہاں تصویر ہوتی ہی نہیں بلکہ خطوط شعاعی آئینہ کی صقالت کی وجہ سے لوٹ کر چہرے پر آتے ہیں گویا یہ شخص اپنے کو دیکھتا ہے اس عبارت سے شاذلی صاحب نے ٹی وی کی صورت کو عکس بنانے کی ناکام سعی کی ھے اس میں تو صاف فرمان ھے کہ آئینہ میں کچھ نہیں ہے انکسارِ شعاع کی وجہ سے رائی یہاں خود مرئ بن گیا کیا شاذلی صاحب بتانے کی جرأت کر سکینگے کہ ٹی وی میں بھی شعاع بصری کا انکسار ہوا؟ اگرہاں تو اس کی مقدار بتائیں تاکہ یہ بحث جاری رھے اور اگر نہیں (اور یہی برحق ہے )تو مرئی سطح پر نظر آیا لہذا یہ تصویر ہے نہ کہ عکس کہ انکسار کا یہاں کوئی وجود نہیں جس کی وجہ سے عکس کہا جائے لہذا اس کا وجود ترسیمی آلات اختراعیہ کا مرہون منت ہے نہ کہ نفس جسم یا انکسار سے اس کا کوئ تعلق ثابت ہوا کہ یہ مثل ظل یا عکس نہیں بلکہ صورت ہی ہے ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ھواللہ الھادی الی سبیل الرشاد
17ذی القعدۃ 1438ھجری
از محمد رفیق الاسلام النوری المنظری
جامعہ شکوریہ بلہور کانپور یوپی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
31
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 4
Kalam 1

وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں (صدیوں کے جھروکوں سے)

زندگی! ذرا ٹھہر کر گزر (صدیوں کے جھروکوں سے)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 60
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢