صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط سوم)
تحقیق و تعاقب

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط سوم)

✍️ Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط سوم)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد!

کیا محض کثرتِ استعمال سے عمومِ بلویٰ ثابت ہوجاتا ہے؟

گزشتہ قسط میں آرٹیفیشل جیولری کا مفہوم، اس میں استعمال ہونے والے مختلف مادّوں اور دھاتوں کی بنیادی وضاحت کی گئی، تاکہ یہ بات واضح ہو کہ ہر مصنوعی زیور ایک ہی حکم میں داخل نہیں ہوتا۔
اب اصل بحث کی طرف آتے ہیں۔
جواز کے قائل حضرات کی طرف سے ایک اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ موجودہ زمانے میں مصنوعی زیورات کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے، لہٰذا اس مسئلہ میں عرف، تعامل اور عمومِ بلویٰ پایا جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا محض کسی چیز کا معاشرے میں عام ہوجانا ہی عمومِ بلویٰ کہلاتا ہے؟
اس کا جواب واضح طور پر نہیں ہے۔عمومِ بلویٰ کے لیے صرف کثرتِ استعمال کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا:
▪ کیا عوام و خواص دونوں اس میں مبتلا ہیں؟
▪ کیا اس سے بچنا حقیقتاً دشوار ہے؟
▪ کیا اس سے اجتناب معتد بہ مشقت اور حرج کا باعث ہے؟
▪ کیا اس ابتلاء کی نوعیت ایسی ہے کہ شریعت کے اصولوں کے تحت تخفیف کی ضرورت پیدا ہوتی ہے؟
صرف یہ کہنا کہ لوگ بہت استعمال کرتے ہیں عمومِ بلویٰ کے تحقق کے لیے کافی نہیں۔
فقیہ العصر مفتی آل مصطفیٰ رحمہ اللہ کی بیان کردہ تعریف بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ عمومِ بلویٰ ایسی حالت ہے جس میں ممنوع امر سے احتراز معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو۔ اسی طرح فتاویٰ حافظ ملت میں بھی یہ وضاحت موجود ہے کہ صرف عوام کا مبتلا ہونا کافی نہیں، بلکہ عمومِ بلویٰ کے لیے عوام و خواص دونوں کا ابتلا اور گناہ سے بچنے میں دشواری معتبر ہے۔

لہٰذا یہاں عام ہونا اور عمومِ بلویٰ ہونا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

آرٹیفیشل جیولری کے استعمال کی نوعیت
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ عام مشاہدے کے مطابق بہت سی خواتین دیگر دھاتوں سے بنے مصنوعی زیورات، مثلاً مختلف قسم کے دھاتی ہار، کنگن، بالیاں، جھمکے، انگوٹھیاں وغیرہ، عموماً شادی بیاہ، دعوت، تقریب، تہوار، کسی خاص لباس کی مناسبت یا کسی دوسرے مخصوص موقع پر زیب و زینت کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
یعنی کسی چیز کا کبھی کبھار، موقع بہ موقع یا تقریباً استعمال ہونا، خواہ معاشرے میں اس کے استعمال والے افراد کی تعداد زیادہ ہو، خود بخود عمومِ بلویٰ ثابت نہیں کرتا۔
بلکہ یہاں یہ سوال ہوگا : اگر کوئی خاتون ایسے زیورات استعمال نہ کرے تو کیا اس کے لیے واقعی قابلِ اعتبار شرعی یا عرفی حرج پیدا ہوتا ہے؟
اگر وہ ان زیورات کے بغیر بھی معمول کی زندگی، معاشرت، گھر، ملازمت، شادی بیاہ اور دیگر معاملات بآسانی انجام دے سکتی ہے، تو صرف کثرتِ استعمال کو عمومِ بلویٰ قرار دینا مزید دلیل کا محتاج ہوگا۔

کانچ اور پلاسٹک کی چوڑیوں کا معاملہ

البتہ یہاں ایک اہم تفریق بھی ضروری ہے۔ کانچ اور پلاسٹک کی چوڑیوں کا استعمال بعض علاقوں اور خاندانوں میں مستقل یا معمول کی زینت کے طور پر بھی پایا جاتا ہے۔ ان کا حکم بھی محض اس وجہ سے دیگر دھاتی زیورات کے ساتھ خلط نہیں کیا جاسکتا کہ سب کو عرفاً آرٹیفیشل جیولری کہا جاتا ہے۔لہٰذا ایک ہی لفظ آرٹیفیشل جیولری کے تحت مختلف اشیاء کو جمع کرکے پھر سب پر ایک ہی اصول لاگو کرنا درست طریقۂ تحقیق نہیں۔
پہلے ہر چیز کی حقیقت، مادہ، استعمال اور شرعی حکم الگ متعین ہوگا، پھر عمومِ بلویٰ کے دعوے کا جائزہ لیا جائے گا۔ ہمیشہ پہننا بھی کافی نہیں ۔ فرض کرلیجیے کہ بعض خواتین کسی دھاتی مصنوعی زیور کو ہمیشہ یا کثرت سے پہنتی ہیں، تب بھی محض پہننے کی کثرت سے عمومِ بلویٰ ثابت نہیں ہوگا۔
کیونکہ عمومِ بلویٰ کا مدار صرف اس بات پر نہیں کہ: کتنے لوگ اسے استعمال کرتے ہیں؟بلکہ اصل سوال یہ ہے:اس سے بچنا ان لوگوں کے لیے کس درجے میں دشوار ہے؟
اگر کسی چیز کو چھوڑنے سے کوئی معتد بہ حرج پیدا نہیں ہوتا تو محض اس کا عام ہونا عمومِ بلویٰ کے لیے کافی نہیں۔ اسی لیے فقہی اصطلاح میں ابتلاء، عموم، حرج اور مشقت کے تمام پہلوؤں کو یکجا دیکھنا ضروری ہے۔
ایک ملک کا عرف دوسرے ملک پر لازم نہیں
یہاں ایک اور نہایت اہم اصولی نکتہ سامنے آتا ہے۔ اگر کسی خاص ملک، شہر، علاقے یا معاشرے میں کسی چیز کا استعمال بہت زیادہ عام ہو، تو کیا اسی بنیاد پر دوسرے ملک یا علاقے کے لوگوں کے لیے بھی عمومِ بلویٰ ثابت ہوجائے گا؟
ایسا خود بخود نہیں ہوسکتا۔
عرف اور تعامل کی بحث میں مقامی حالات، معاشرتی رواج اور لوگوں کے حقیقی ابتلاء کو دیکھا جاتا ہے۔ مثلاً ہندوستان کے کسی خاص علاقے میں اگر کسی مصنوعی زیور کا استعمال بہت زیادہ ہو، تو صرف اس بنیاد پر یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ پورے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش یا دنیا کے تمام مسلمانوں میں بھی اسی درجے کا عمومِ بلویٰ متحقق ہے۔
ہر دعوے کے لیے اس کے محل اور معاشرے کی حقیقت کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اور چونکہ زیرِ بحث مسئلہ ہندوستان میں پیش کیا جارہا ہے، اس لیے ہندوستان کے اندر موجود فقہی نظائر، مقامی عرف، معاشرتی حالات اور اہلِ علم کے فتاویٰ کو بھی خاص طور پر سامنے رکھنا ضروری ہے۔
اصل اصول اب تک کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے: کثرتِ استعمال = لازماً عمومِ بلویٰ نہیں۔بلکہ عمومِ بلویٰ کے لیے عمومی ابتلاء کے ساتھ قابلِ اعتبار حرج و مشقت بھی ضروری ہے، اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ابتلاء عوام و خواص دونوں کو کس درجے میں ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی ممنوع چیز کے عام ہوجانے سے وہ محض عام ہونے کی وجہ سے حلال نہیں ہوجاتی۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کے کلام کا حاصل بھی یہی ہے کہ: عام مسلمانوں کے مبتلا ہوجانے سے حرام، حلال نہیں ہوجاتا؛ البتہ مختلف فیہ مسئلہ میں عمومِ بلویٰ اور مشقت کی صورت میں شرعی اصول کے دائرے میں جانبِ یسر کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔
لہٰذا آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں ابھی یہ ثابت کرنا باقی ہے کہ:
① زیرِ بحث زیورات کا استعمال کس درجے میں عام ہے؟
② کیا عوام و خواص دونوں اس میں مبتلا ہیں؟
③ کیا ان کے ترک سے واقعی معتد بہ حرج پیدا ہوتا ہے؟
④ کیا یہ ابتلاء عمومی اور مستقل نوعیت کا ہے یا زیادہ تر تقریبات اور خاص مواقع تک محدود ہے؟
⑤ اور سب سے اہم: جن زیورات کے بارے میں اصل شرعی ممانعت فقہی نصوص سے ثابت ہے، ان پر عمومِ بلویٰ کا اطلاق کس اصول کے تحت کیا جائے گا؟
یہ آخری سوال اصل مسئلہ کی کنجی ہے۔ ان شاء اللہ الرحمن اگلی قسط میں ہندوستان کے موجود فقہی فیصلوں اور معتبر فتاویٰ کی روشنی میں یہ دیکھا جائے گا کہ لوہا، تانبا، پیتل، اسٹیل وغیرہ کے زیورات کا اصل شرعی حکم کیا ہے، اور اگر ان دھاتوں پر سونے یا چاندی کا پانی، ملمع یا مکمل خول چڑھا دیا جائے تو حکم میں کیا فرق پیدا ہوتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ کون سے مصنوعی زیورات عورتوں کے لیے جائز ہیں، کون سے ناجائز یا مکروہ تحریمی ہیں، اور کن صورتوں میں اصل دھات چھپ جانے کی وجہ سے حکم تبدیل ہوجاتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
رشحات قلم : سـرفـراز احمد قــادری امجدی 2 ربیع النور 1448ھ 16 اگست 2026ءبانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار [خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی۔ واٹس ایپ نمبر : 9336775641

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط سوم)

مضمون نگار: Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط سوم)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد!

کیا محض کثرتِ استعمال سے عمومِ بلویٰ ثابت ہوجاتا ہے؟

گزشتہ قسط میں آرٹیفیشل جیولری کا مفہوم، اس میں استعمال ہونے والے مختلف مادّوں اور دھاتوں کی بنیادی وضاحت کی گئی، تاکہ یہ بات واضح ہو کہ ہر مصنوعی زیور ایک ہی حکم میں داخل نہیں ہوتا۔
اب اصل بحث کی طرف آتے ہیں۔
جواز کے قائل حضرات کی طرف سے ایک اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ موجودہ زمانے میں مصنوعی زیورات کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے، لہٰذا اس مسئلہ میں عرف، تعامل اور عمومِ بلویٰ پایا جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا محض کسی چیز کا معاشرے میں عام ہوجانا ہی عمومِ بلویٰ کہلاتا ہے؟
اس کا جواب واضح طور پر نہیں ہے۔عمومِ بلویٰ کے لیے صرف کثرتِ استعمال کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا:
▪ کیا عوام و خواص دونوں اس میں مبتلا ہیں؟
▪ کیا اس سے بچنا حقیقتاً دشوار ہے؟
▪ کیا اس سے اجتناب معتد بہ مشقت اور حرج کا باعث ہے؟
▪ کیا اس ابتلاء کی نوعیت ایسی ہے کہ شریعت کے اصولوں کے تحت تخفیف کی ضرورت پیدا ہوتی ہے؟
صرف یہ کہنا کہ لوگ بہت استعمال کرتے ہیں عمومِ بلویٰ کے تحقق کے لیے کافی نہیں۔
فقیہ العصر مفتی آل مصطفیٰ رحمہ اللہ کی بیان کردہ تعریف بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ عمومِ بلویٰ ایسی حالت ہے جس میں ممنوع امر سے احتراز معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو۔ اسی طرح فتاویٰ حافظ ملت میں بھی یہ وضاحت موجود ہے کہ صرف عوام کا مبتلا ہونا کافی نہیں، بلکہ عمومِ بلویٰ کے لیے عوام و خواص دونوں کا ابتلا اور گناہ سے بچنے میں دشواری معتبر ہے۔

لہٰذا یہاں عام ہونا اور عمومِ بلویٰ ہونا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

آرٹیفیشل جیولری کے استعمال کی نوعیت
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ عام مشاہدے کے مطابق بہت سی خواتین دیگر دھاتوں سے بنے مصنوعی زیورات، مثلاً مختلف قسم کے دھاتی ہار، کنگن، بالیاں، جھمکے، انگوٹھیاں وغیرہ، عموماً شادی بیاہ، دعوت، تقریب، تہوار، کسی خاص لباس کی مناسبت یا کسی دوسرے مخصوص موقع پر زیب و زینت کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
یعنی کسی چیز کا کبھی کبھار، موقع بہ موقع یا تقریباً استعمال ہونا، خواہ معاشرے میں اس کے استعمال والے افراد کی تعداد زیادہ ہو، خود بخود عمومِ بلویٰ ثابت نہیں کرتا۔
بلکہ یہاں یہ سوال ہوگا : اگر کوئی خاتون ایسے زیورات استعمال نہ کرے تو کیا اس کے لیے واقعی قابلِ اعتبار شرعی یا عرفی حرج پیدا ہوتا ہے؟
اگر وہ ان زیورات کے بغیر بھی معمول کی زندگی، معاشرت، گھر، ملازمت، شادی بیاہ اور دیگر معاملات بآسانی انجام دے سکتی ہے، تو صرف کثرتِ استعمال کو عمومِ بلویٰ قرار دینا مزید دلیل کا محتاج ہوگا۔

کانچ اور پلاسٹک کی چوڑیوں کا معاملہ

البتہ یہاں ایک اہم تفریق بھی ضروری ہے۔ کانچ اور پلاسٹک کی چوڑیوں کا استعمال بعض علاقوں اور خاندانوں میں مستقل یا معمول کی زینت کے طور پر بھی پایا جاتا ہے۔ ان کا حکم بھی محض اس وجہ سے دیگر دھاتی زیورات کے ساتھ خلط نہیں کیا جاسکتا کہ سب کو عرفاً آرٹیفیشل جیولری کہا جاتا ہے۔لہٰذا ایک ہی لفظ آرٹیفیشل جیولری کے تحت مختلف اشیاء کو جمع کرکے پھر سب پر ایک ہی اصول لاگو کرنا درست طریقۂ تحقیق نہیں۔
پہلے ہر چیز کی حقیقت، مادہ، استعمال اور شرعی حکم الگ متعین ہوگا، پھر عمومِ بلویٰ کے دعوے کا جائزہ لیا جائے گا۔ ہمیشہ پہننا بھی کافی نہیں ۔ فرض کرلیجیے کہ بعض خواتین کسی دھاتی مصنوعی زیور کو ہمیشہ یا کثرت سے پہنتی ہیں، تب بھی محض پہننے کی کثرت سے عمومِ بلویٰ ثابت نہیں ہوگا۔
کیونکہ عمومِ بلویٰ کا مدار صرف اس بات پر نہیں کہ: کتنے لوگ اسے استعمال کرتے ہیں؟بلکہ اصل سوال یہ ہے:اس سے بچنا ان لوگوں کے لیے کس درجے میں دشوار ہے؟
اگر کسی چیز کو چھوڑنے سے کوئی معتد بہ حرج پیدا نہیں ہوتا تو محض اس کا عام ہونا عمومِ بلویٰ کے لیے کافی نہیں۔ اسی لیے فقہی اصطلاح میں ابتلاء، عموم، حرج اور مشقت کے تمام پہلوؤں کو یکجا دیکھنا ضروری ہے۔
ایک ملک کا عرف دوسرے ملک پر لازم نہیں
یہاں ایک اور نہایت اہم اصولی نکتہ سامنے آتا ہے۔ اگر کسی خاص ملک، شہر، علاقے یا معاشرے میں کسی چیز کا استعمال بہت زیادہ عام ہو، تو کیا اسی بنیاد پر دوسرے ملک یا علاقے کے لوگوں کے لیے بھی عمومِ بلویٰ ثابت ہوجائے گا؟
ایسا خود بخود نہیں ہوسکتا۔
عرف اور تعامل کی بحث میں مقامی حالات، معاشرتی رواج اور لوگوں کے حقیقی ابتلاء کو دیکھا جاتا ہے۔ مثلاً ہندوستان کے کسی خاص علاقے میں اگر کسی مصنوعی زیور کا استعمال بہت زیادہ ہو، تو صرف اس بنیاد پر یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ پورے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش یا دنیا کے تمام مسلمانوں میں بھی اسی درجے کا عمومِ بلویٰ متحقق ہے۔
ہر دعوے کے لیے اس کے محل اور معاشرے کی حقیقت کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اور چونکہ زیرِ بحث مسئلہ ہندوستان میں پیش کیا جارہا ہے، اس لیے ہندوستان کے اندر موجود فقہی نظائر، مقامی عرف، معاشرتی حالات اور اہلِ علم کے فتاویٰ کو بھی خاص طور پر سامنے رکھنا ضروری ہے۔
اصل اصول اب تک کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے: کثرتِ استعمال = لازماً عمومِ بلویٰ نہیں۔بلکہ عمومِ بلویٰ کے لیے عمومی ابتلاء کے ساتھ قابلِ اعتبار حرج و مشقت بھی ضروری ہے، اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ابتلاء عوام و خواص دونوں کو کس درجے میں ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی ممنوع چیز کے عام ہوجانے سے وہ محض عام ہونے کی وجہ سے حلال نہیں ہوجاتی۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کے کلام کا حاصل بھی یہی ہے کہ: عام مسلمانوں کے مبتلا ہوجانے سے حرام، حلال نہیں ہوجاتا؛ البتہ مختلف فیہ مسئلہ میں عمومِ بلویٰ اور مشقت کی صورت میں شرعی اصول کے دائرے میں جانبِ یسر کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔
لہٰذا آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں ابھی یہ ثابت کرنا باقی ہے کہ:
① زیرِ بحث زیورات کا استعمال کس درجے میں عام ہے؟
② کیا عوام و خواص دونوں اس میں مبتلا ہیں؟
③ کیا ان کے ترک سے واقعی معتد بہ حرج پیدا ہوتا ہے؟
④ کیا یہ ابتلاء عمومی اور مستقل نوعیت کا ہے یا زیادہ تر تقریبات اور خاص مواقع تک محدود ہے؟
⑤ اور سب سے اہم: جن زیورات کے بارے میں اصل شرعی ممانعت فقہی نصوص سے ثابت ہے، ان پر عمومِ بلویٰ کا اطلاق کس اصول کے تحت کیا جائے گا؟
یہ آخری سوال اصل مسئلہ کی کنجی ہے۔ ان شاء اللہ الرحمن اگلی قسط میں ہندوستان کے موجود فقہی فیصلوں اور معتبر فتاویٰ کی روشنی میں یہ دیکھا جائے گا کہ لوہا، تانبا، پیتل، اسٹیل وغیرہ کے زیورات کا اصل شرعی حکم کیا ہے، اور اگر ان دھاتوں پر سونے یا چاندی کا پانی، ملمع یا مکمل خول چڑھا دیا جائے تو حکم میں کیا فرق پیدا ہوتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ کون سے مصنوعی زیورات عورتوں کے لیے جائز ہیں، کون سے ناجائز یا مکروہ تحریمی ہیں، اور کن صورتوں میں اصل دھات چھپ جانے کی وجہ سے حکم تبدیل ہوجاتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
رشحات قلم : سـرفـراز احمد قــادری امجدی 2 ربیع النور 1448ھ 16 اگست 2026ءبانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار [خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی۔ واٹس ایپ نمبر : 9336775641
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi

جان ہے عشقِ مصطفٰی روز فزوں کرے خدا جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں
52
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 5
Kalam 0
Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi
زمرہ جات

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط دوم)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢