صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
تیسرے قطب: شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
و سید شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

حُبِّ اہل بیت دے آل محمد کے لیے
کر شہیدِ عشقِ ”حمزہ“ پیشوا کے واسطے (آمین)
حضرتِ حمزہ شیرِ خدا و رسول ﷺ
زینتِ قادریت پہ لاکھوں سلام
(سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ)
نام و نسب:
آپ کا نام سید شاہ ”حمزہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ القاب: اسد العارفین، قطب الکاملین اور بڑے میاں ہے۔ تخلص عینیؔ ہے۔ کلام
غوث اعظم بمن بے سر و ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے
آپ کا لکھا کلام ہے۔ حضور حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور برہان الموحّدین حضور آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں تیسرے قطب ہیں جن کی بشارت محبوبِ سبحانی، قندیلِ نورانی حضور غوث اعظم جیلانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دی تھی۔ سرکار حمزہ عینی علیہ الرحمۃ والرضوان کے برادر کا نام حضرت سید شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہے۔
ولادتِ مبارکہ:
حضرت سید شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت ١٤؍ربیع الآخر ؁١١٣١ھ میں مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت:
حضور شاہ حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تربیت حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمائی۔ حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل والد بزرگوار حضرت سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے اور شمس العلماء حضرت محمد باقر رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے حاصل فرمائی۔ فن طب علماً و عملاً حکیم عطاء اللّٰہ صاحب سے سیکھا اور شیخ ڈھڈھا لاہوری سے بھی متعدد درسیات کو حاصل فرمایا۔
بیعت و خلافت:
اجازت و خلافت والد بزرگوار حضور سیدنا آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہوئی۔ مقاماتِ سلوک و معرفت بھی والد بزرگوار نے اپنے شہزادے کو عطا فرمائے۔ بچپن دادا جان حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں گزرا۔ حضور حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی عمر مبارک جب چار سال ہوئی تو سرکار سلطان العاشقین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ٹوپی اور اور سیلی (ایک طرح کا کمر میں باندھنے والا پٹہ) عطا فرمایا۔ بچپن سے ہی ذہانت و کرامت کے آثار پیشانی مبارک پر نمایاں تھے۔
فضائل و کمالات:
اسدُ العارفین، قطبُ الکاملین، حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے پینتیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علم و فضل کے آسمان پر آفتابِ درخشاں، معرفت و ولایت کے میدان میں یکتائے روزگار، اور تصنیف و تالیف کی دنیا میں ایک ممتاز و منفرد شخصیت ہی ہیں۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکابر اولیاء میں شمار ہوتے ہیں اور کرامت و تصرف کے مالک ہیں۔ ریاضت و مجاہدہ کی دشوار منزلیں حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طے فرمائیں اور سلوک و معرفت کے بلند مقامات حاصل فرمائے۔
قدرت نے حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غیر معمولی ذہانت اور فطانت سے نوازا تھا۔ صرف گیارہ برس کی عمرِ مبارک میں آپ جملہ علوم و فنون سے فراغت حاصل کر چکے تھے۔ اس کے بعد مسلسل گیارہ سال تک اپنے جدِ امجد، حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تربیت و نگرانی میں رہ کر روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔
اگرچہ حضرت شاہ برکت اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار برس کی عمر ہی میں اپنی مبارک کلاہ آپ کے سرِ اقدس پر رکھ دی تھی اور خلافت کی ابتدائی بشارت عطا فرما دی تھی، لیکن بعد کے سالوں میں آپ کو ظاہری و باطنی تربیت کے ذریعے اس منصبِ عظیم کے لیے مکمل طور پر تیار فرمایا۔
حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بالخصوص شیخ الشیوخ محی الدین عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تصانیف سے گہرا شغف تھا۔ آپ خود بھی ان کا مطالعہ فرمایا کرتے اور اپنے خاص خدام و تلامذہ کو ان کا درس دیتے تھے۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی عظمت کا اندازہ آپ کی مشہور تصنیف ”فصّ الکلمات“ سے بخوبی ہوتا ہے۔ یہ کتاب علوم و معارف کا ایک عظیم خزانہ ہے، جس میں مختلف فنون، اصول، کلیات اور ضروری مسائل نہایت دلنشیں اور محققانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ دو جلدوں پر مشتمل یہ تصنیف حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی گہرائی اور فکری وسعت کی روشن دلیل ہے۔
حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کی جامعیت اور ہمہ گیری حیران کن تھی۔ کبھی حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ایسے عالمِ ربانی نظر آتے جو پوری قوت کے ساتھ شریعتِ مطہرہ کی خدمت اور حمایت میں مصروف ہیں، اور کبھی ایک ایسے شہنشاہِ دلنواز کہ محتاجوں، بے کسوں اور ضرورت مندوں کی دستگیری میں مشغول ہیں۔ ایک طرف آپ کامل شیخِ طریقت ہیں جن سے ہزاروں طالبانِ حق روحانی فیض حاصل کرتے ہیں، تو دوسری جانب ایسے طبیبِ انفس ہیں کہ بے شمار دلوں کے امراض کا علاج آپ کی صحبت سے ہوتا ہے۔ کبھی آپ سخاوت و کرم کے سمندر دکھائی دیتے ہیں اور حاجت مندوں کی تلاش میں رہتے ہیں، اور کبھی ایسے مدبر و شجاع کہ بڑے بڑے اہلِ عقل و دانش مشکل معاملات میں آپ سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔ اہم فیصلوں اور پیچیدہ امور میں آپ کی رائے کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آپ کی تمام شانوں اور مختلف اوصاف میں ایک خاص وحدت اور توازن نمایاں تھا۔ دنیا و دین، فقر و سلطنت، زہد و قیادت اور علم و عمل کا ایسا حسین امتزاج کم ہی شخصیات میں نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقیری اور شہنشاہی کو ایک ساتھ جمع کرنا نہایت دشوار امر ہے، مگر یہ امتیاز حضرت شاہ سید حمزہ قدس سرہٗ کے خصائص میں سے تھا۔
عبادت و ریاضت:
عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ دس برس کی عمرِ مبارک میں نمازِ تہجد کا آغاز فرمایا، اور پھر وصالِ مبارک تک ایسا کبھی نہ ہوا کہ تہجد کی نماز قضا ہوئی ہو۔ آپ کی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی، عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، خدمتِ خلق اور رشد و ہدایت کا روشن نمونہ تھی۔
مسندِ خلافت:
حضور سیدنا شاہ حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر ٣٢؍سال تھی، سرِ اقدس پر تاجِ خلافت رکھا گیا۔ والد بزرگوار حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عرشِ چہلم شریف میں مشائخِ کرام کے مقدس ہاتھوں سے سر پر دستارِ فضیلت باندھی گئی۔ حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں: ”٣٤؍برس ہوئے کہ میں نے اِس مکان میں اقامت اختیار فرمائی اور اب میری عمر ٦٣؍برس کو پہنچی۔“
ساداتِ مارہرہ مطہرہ کی سیادت پر مہر
حضور سیدنا شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے وصف کو ہمیشہ اخفا میں رکھتے اور اظہار سے پرہیز فرماتے، اور اپنی نسبتِ خاندان کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”ایک روز فقیر کو خیال آیا کہ نسبت ظنی سے ہر چند کہ سادات بلگرام مشہور و مسلم ہے لیکن یقین و وثوق نہیں، معا دیکھتا ہوں کہ حضور مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تشریف فرما ہیں اور دونوں بازو چوکھٹ سنگی کے جو خانقاہِ برکاتیہ میں نصب ہے تھامے کھڑے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ: تم ہمارے بیٹے ہو اور پیارے بیٹے ہو۔ الحمد للہ علی ذالک۔“
سجادہ نشین بنتے ہی آل محمدی رنگ میں ڈھل گئے۔
حبیبِ کبریا ﷺ کی زیارت
درودِ شریف کی برکت اور زیارتِ مصطفیٰ ﷺ: منقول ہے کہ ایک باکمال پشاوری درویش نے حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمتِ اقدس میں ایک خاص درود شریف بطورِ نذرانہ پیش کیا۔ حضور علیہ الرحمۃ والرضوان نے اسے پسند فرمایا اور اپنے پاس محفوظ رکھ لیا۔ اسی شب حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہایت شفقت کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”صاحبزادے! اٹھو اور درود شریف پڑھو۔“ یہ مبارک ارشاد سن کر حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً بیدار ہو گئے۔ غسل فرمایا، خوشبو لگائی، بخور روشن کیا اور نہایت ادب و عقیدت کے ساتھ اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا۔ ابھی درود شریف مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ بیداری کی حالت میں دوبارہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ جب نگاہِ عقیدت سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آرا پر پڑی تو آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور بقیہ درود شریف حالتِ قیام میں مکمل کیا۔
درود شریف ختم ہونے تک حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کے پاس جلوہ افروز رہے۔ یہ سعادتِ عظمیٰ حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ایک عظیم روحانی انعام اور بے مثال شرف تھا۔ اس مبارک موقع پر شہزادۂ شہنشاہِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں چند اشعار بھی عرض کیے۔ ان اشعار کو سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پسند فرمایا اور اپنے خصوصی الطاف و عنایات سے نوازا۔ روایت ہے کہ اس کے نتیجے میں حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دونوں جہانوں کی نعمتوں اور سعادتوں سے مالا مال فرما دیا گیا۔ یہ واقعہ اور اس موقع پر کہے گئے اشعار حضرت شاہ مہدی حسن اور حضرت سید شاہ کے دعا خوانوں کے پاس منقول ہیں۔
جس پشاوری درویش نے وہ درود شریف پیش کیا تھا، ان کا نام مولوی محمد مکرم مرید شاہ پشاوری تھا۔ وہ احمد شاہ درانی کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے اور حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر درودِ صلوٰۃ الختام پیش کرنے کی سعادت سے مشرف ہوئے۔
شاعری میں مہارت:
حضرت عیؔنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ادبی صلاحیتیں کیسی روشن تھیں اس کی دلیل ان کے کمال سے ظاہر ہیں، حضرت حمزہ عینؔی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں جو شاعری فرمائی اس کی سلاست اور روانی دیکھنے کے قابل ہے۔ قصیدہ غوثیہ ان کا ایک عظیم شاہکار ہے جس کی پوری عبارت سرکار قادریت کے عقیدت مندوں کے لیے وظیفہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
غوثِ اعظم بمن بے سر و ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے
مظہر سر ازل گوشتہ چشمے کرمے
مہیطِ فیضِ ادب وقف پنہاں مددے
ما گدایم تو سلطانِ دو عالم ہستی
از تو داریم تمنا شہِ جیلاں مددے
انتظارِ کرم تست بعیؔنی مارا
اے خدا بین خدا جو جدا داں مددے
جود و سخا اور مہمان نوازی:
حضور شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جود و سخا، فیاضی اور مہمان نوازی میں اپنے عہد کی ایک بے مثال شخصیت تھے۔ آپ کی بخشش و عطا کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا، اور آپ نے اپنے والدِ گرامی کے عرس مبارک کے موقع پر مہمان نوازی اور خدمتِ خلق کی ایسی یادگار قائم فرمائی کہ اس زمانے کے بڑے بڑے سلاطین اور شہنشاہ بھی اس شان کی دعوت کا اہتمام نہ کر سکتے تھے۔ مارہرہ شریف کے عرس مبارک میں ہر سال ملک کے مختلف علاقوں سے زائرین اور عقیدت مندوں کا ایک عظیم ہجوم جمع ہوتا تھا۔ حاضرین کی کثرت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سال عرس کے موقع پر آستانہ کے باغات کے بیر اور آم تقسیم کیے گئے۔ ہر شخص کو صرف ایک بیر دیا گیا، بعد میں جب ان بیروں کی تعداد شمار کی گئی تو وہ چوبیس ہزار نکلی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرس مبارک میں کس قدر بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے۔
عرسِ مبارک کا انتظام نہایت شان و شوکت اور حسنِ انتظام کے ساتھ کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ پورے ہندوستان میں اس عرس کی شہرت تھی۔ حضور حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اور مہمان نوازی کو سعادت سمجھتے تھے۔ عرس کے دنوں میں بلا مبالغہ سو سے زائد اقسام کے کھانے تیار کیے جاتے اور حاضرین کی خدمت میں پیش کیے جاتے تھے۔
زندگی کے آخری دور میں اگرچہ آپ نے عرس کے اخراجات میں خاصی کمی فرما دی تھی، لیکن اس کے باوجود ہر سال پچیس مختلف اقسام کے کھانے مہمانوں میں تقسیم کیے جاتے رہے۔ اس دسترخوانِ کرم میں امیر و غریب، شاہ و گدا، بزرگ و نووارد، سب یکساں شریک ہوتے تھے اور کسی قسم کی تخصیص یا امتیاز روا نہ رکھا جاتا تھا۔
شانِ بے نیازی:
حضور قطب الکاملین حضرت شاہ سید حمزہ قدس سرہٗ اپنے اسلافِ کرام کے اوصاف و کمالات کے حقیقی وارث تھے۔ آپ کی خانقاہ روحانی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ اہلِ محبت و عقیدت کا مرجع بھی ہے۔ بڑے بڑے امراء، رؤساء اور سلاطینِ وقت اپنے خدام، لشکروں اور مصاحبین کے ساتھ مارہرہ شریف حاضر ہوتے اور بسا اوقات کئی کئی ماہ خانقاہ میں قیام پذیر رہتے۔ ان تمام مہمانوں کی نہایت عزت و اکرام کے ساتھ خدمت کی جاتی، ان کے قیام و طعام کا بہترین انتظام ہوتا اور انواع و اقسام کے کھانوں سے ان کی ضیافت کی جاتی، لیکن حضرت کی شانِ استغناء اور بے نیازی کا عالم یہ تھا کہ آپ دنیاوی جاہ و منصب رکھنے والوں سے کسی قسم کی مرعوبیت محسوس نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ بڑے بڑے حکمران اور صاحبِ اقتدار افراد آپ کی زیارت اور ملاقات کے خواہش مند ہوتے، حضرت اپنے معمولاتِ عبادت، اذکار اور دینی مشاغل میں مشغول رہتے اور محض دنیاوی حیثیت یا سلطنت کی بنیاد پر کسی کو خصوصی باریابی کا شرف عطا نہ فرماتے۔ آپ کی نگاہ میں عزت و فضیلت کا معیار صرف تقویٰ، اخلاص اور قربِ الٰہی تھا، نہ کہ دنیاوی اقتدار و حکومت۔
حضور شاہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے خلفاء میں چھوٹے بھائی اور شہزادگان کے علاوہ حضرت شاہ نصیر الدین لنگ، حضرت شاہ حفظ اللّٰہ، حضرت شاہ رحمت اللّٰہ، حضرت شاہ دیدار علی و حضرت شاہ سیف اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہم کے نام موجود ہیں۔
شاہ عینی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی زندگی مبارکہ کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ کی سخاوت بڑی انوکھی تھی۔ سرکار حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ہی زمانۂ مبارکہ میں پیارے حبیب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدم مبارک کا نشان، موئے مبارک اور نعل شریف کے تبرکات مارہرہ شریف میں آئے۔ یہ تبرکات حاجی جمال الدین صاحب علیہ الرحمۃ کے ذریعے مارہرہ مطہرہ میں آئے، یہ صحابئ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یا ان کے بھائی کے خاندان سے تھے۔ نیز مولائے کائنات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے مزار اقدس کا ٹکڑا اور سرکار غوث پاک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی لکھی بسم اللّٰہ شریف بھی حضور شاہ عینیؔ قدس سرہٗ نے جمع فرمائی۔ ان تبرکات کی زیارت عرسِ قاسمی برکاتی و عرسِ نوری برکاتی میں کرائی جاتی ہے۔
حضور شاہ عینی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی چند تصانیف یہ ہیں: کاشف الاستار، فص الکلمات، مثنوی اتفاقیہ، قصیدہ گوہر بار (اردو)، رسالہ عقائد۔
وصالِ ظاہری:
حضور شاہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا ظاہری وصال ١٤؍محرم الحرام ؁١١٩٨ھ کو مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ مزار شریف: حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ سے داہنی طرف ایک راستہ گیا ہے، چہرہ کا رخ داہنی جانب کرتے ہی سفید رنگ کے ایک خوبصورت گنبد میں ہے۔
نکاح و شہزادگان:
حضور اسد العارفین حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح سیدہ دیانت فاطمہ قدس سرہا بنت حضرت سید محمد محسن بلگرامی عرف سید محمد روشن قدس سرہٗ سے ہوا۔ حضور شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے ہوئے: (١) حضور سیدنا و ماوانا آل احمد اچھے میاں، (٢) حضور سیدنا و مولانا آل برکات ستھرے میاں (٣) حضور سیدنا و ملجانا آل حسنین سچے میاں (٤) حضرت سیدنا علی (ان کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا) رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔

حضرت سید شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

آپ کا نام حضرت سید ”محمد حقانی“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ حضور آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے چھوٹے شہزادے اور حضور شاہ عینؔی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی ہیں۔ والدہ ماجدہ کا نام سیدہ غنیمت فاطمہ اور نانا جان کا نام سید شاہ عظمت اللّٰہ ہے جو حضور صاحب البرکات کے منجھلے بھائی تھے۔
ولادت: ١١٤٥ھ میں ولادت ہوئی۔ شاہ حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے والد ماجد اور برادر اکبر سے علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کی۔ شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے وصالِ ظاہری کے وقت عمر شریف فقط ٢٠؍سال تھی۔ بیعت و خلافت والد ماجد اور برادرِ اکبر سے حاصل ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
سیدنا شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی دو اہم تصانیف ہیں:
(١) عنایت رسول ﷺ کی:
۹۰۰؍صفحات پر قرآنِ حکیم کی تفسیر آپ نے ساٹھ سال کی عمر میں صرف چار مہینے میں فرمائی۔ اس کی جدید اشاعت حضرت امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی و النورانی ( سجادہ نشین: خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ) کے دست مبارک سے ہوئی ہے۔
(٢) نعت رسول ﷺ کی:
حدیثوں کے انتخاب ”کتاب الاخیار“ کا ترجمہ ہے۔ اس میں ٤٠٠؍حدیثیں جمع ہیں۔
حضور شاہ حقانی علیہ الرحمۃ والرضوان نے نہ کسی کو مرید فرمایا نہ خلافت عطا فرمائی۔ خانقاہ کا دیوان خانہ، حویلی سجادہ نشینی، نئی نئی عمارتیں بنوانا آپ کی زندگی کے نمایاں کارنامے ہیں۔ حضور شرف ملت مدظلہ العالی فرماتے ہیں: ”حضرت شاہ محمد حقانی مارہرہ مطہرہ کے شاہ جہاں ہیں“
حضور سیدنا شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٧؍ذی الحجہ ١٢٠١ھ بروز جمعہ کو ہوا۔ مارہرہ مطہرہ میں آخری قیام گاہ ہے۔
حضور شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چچا کی شہزادی سے منسوب تھے، ان سکے نکاح نہ ہوا تو پوری زندگی سادگی میں گزارنے کا فیصلہ فرمایا۔
✍🏻: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
242
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی

یومِ عاشوراء کے تقدس کی پامالی

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
تیسرے قطب: شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
و سید شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

# شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

@حُبِّ اہل بیت دے آل محمد کے لیے
کر شہیدِ عشقِ* ”حمزہ“ * پیشوا کے واسطے (آمین)
حضرتِ حمزہ شیرِ خدا و رسول ﷺ
زینتِ قادریت پہ لاکھوں سلام
(سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ)

*نام و نسب:*
آپ کا نام سید شاہ ”حمزہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ *القاب:* اسد العارفین، قطب الکاملین اور بڑے میاں ہے۔ *تخلص* عینیؔ ہے۔ کلام

@غوث اعظم بمن بے سر و ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے

آپ کا لکھا کلام ہے۔ حضور حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور برہان الموحّدین حضور آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں تیسرے قطب ہیں جن کی بشارت محبوبِ سبحانی، قندیلِ نورانی حضور غوث اعظم جیلانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دی تھی۔ سرکار حمزہ عینی علیہ الرحمۃ والرضوان کے برادر کا نام حضرت سید شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہے۔

*ولادتِ مبارکہ:*
حضرت سید شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت ١٤؍ربیع الآخر ؁١١٣١ھ میں مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔

*تعلیم و تربیت:*
حضور شاہ حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تربیت حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمائی۔ حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل والد بزرگوار حضرت سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے اور شمس العلماء حضرت محمد باقر رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے حاصل فرمائی۔ فن طب علماً و عملاً حکیم عطاء اللّٰہ صاحب سے سیکھا اور شیخ ڈھڈھا لاہوری سے بھی متعدد درسیات کو حاصل فرمایا۔

*بیعت و خلافت:*
اجازت و خلافت والد بزرگوار حضور سیدنا آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہوئی۔ مقاماتِ سلوک و معرفت بھی والد بزرگوار نے اپنے شہزادے کو عطا فرمائے۔ بچپن دادا جان حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں گزرا۔ حضور حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی عمر مبارک جب چار سال ہوئی تو سرکار سلطان العاشقین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ٹوپی اور اور سیلی (ایک طرح کا کمر میں باندھنے والا پٹہ) عطا فرمایا۔ بچپن سے ہی ذہانت و کرامت کے آثار پیشانی مبارک پر نمایاں تھے۔

*فضائل و کمالات:*
اسدُ العارفین، قطبُ الکاملین، حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے پینتیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علم و فضل کے آسمان پر آفتابِ درخشاں، معرفت و ولایت کے میدان میں یکتائے روزگار، اور تصنیف و تالیف کی دنیا میں ایک ممتاز و منفرد شخصیت ہی ہیں۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکابر اولیاء میں شمار ہوتے ہیں اور کرامت و تصرف کے مالک ہیں۔ ریاضت و مجاہدہ کی دشوار منزلیں حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طے فرمائیں اور سلوک و معرفت کے بلند مقامات حاصل فرمائے۔
قدرت نے حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غیر معمولی ذہانت اور فطانت سے نوازا تھا۔ صرف گیارہ برس کی عمرِ مبارک میں آپ جملہ علوم و فنون سے فراغت حاصل کر چکے تھے۔ اس کے بعد مسلسل گیارہ سال تک اپنے جدِ امجد، حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تربیت و نگرانی میں رہ کر روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔
اگرچہ حضرت شاہ برکت اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار برس کی عمر ہی میں اپنی مبارک کلاہ آپ کے سرِ اقدس پر رکھ دی تھی اور خلافت کی ابتدائی بشارت عطا فرما دی تھی، لیکن بعد کے سالوں میں آپ کو ظاہری و باطنی تربیت کے ذریعے اس منصبِ عظیم کے لیے مکمل طور پر تیار فرمایا۔
حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بالخصوص شیخ الشیوخ محی الدین عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تصانیف سے گہرا شغف تھا۔ آپ خود بھی ان کا مطالعہ فرمایا کرتے اور اپنے خاص خدام و تلامذہ کو ان کا درس دیتے تھے۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی عظمت کا اندازہ آپ کی مشہور تصنیف *”فصّ الکلمات“* سے بخوبی ہوتا ہے۔ یہ کتاب علوم و معارف کا ایک عظیم خزانہ ہے، جس میں مختلف فنون، اصول، کلیات اور ضروری مسائل نہایت دلنشیں اور محققانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ دو جلدوں پر مشتمل یہ تصنیف حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی گہرائی اور فکری وسعت کی روشن دلیل ہے۔
حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کی جامعیت اور ہمہ گیری حیران کن تھی۔ کبھی حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ایسے عالمِ ربانی نظر آتے جو پوری قوت کے ساتھ شریعتِ مطہرہ کی خدمت اور حمایت میں مصروف ہیں، اور کبھی ایک ایسے شہنشاہِ دلنواز کہ محتاجوں، بے کسوں اور ضرورت مندوں کی دستگیری میں مشغول ہیں۔ ایک طرف آپ کامل شیخِ طریقت ہیں جن سے ہزاروں طالبانِ حق روحانی فیض حاصل کرتے ہیں، تو دوسری جانب ایسے طبیبِ انفس ہیں کہ بے شمار دلوں کے امراض کا علاج آپ کی صحبت سے ہوتا ہے۔ کبھی آپ سخاوت و کرم کے سمندر دکھائی دیتے ہیں اور حاجت مندوں کی تلاش میں رہتے ہیں، اور کبھی ایسے مدبر و شجاع کہ بڑے بڑے اہلِ عقل و دانش مشکل معاملات میں آپ سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔ اہم فیصلوں اور پیچیدہ امور میں آپ کی رائے کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آپ کی تمام شانوں اور مختلف اوصاف میں ایک خاص وحدت اور توازن نمایاں تھا۔ دنیا و دین، فقر و سلطنت، زہد و قیادت اور علم و عمل کا ایسا حسین امتزاج کم ہی شخصیات میں نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقیری اور شہنشاہی کو ایک ساتھ جمع کرنا نہایت دشوار امر ہے، مگر یہ امتیاز حضرت شاہ سید حمزہ قدس سرہٗ کے خصائص میں سے تھا۔

*عبادت و ریاضت:*
عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ دس برس کی عمرِ مبارک میں نمازِ تہجد کا آغاز فرمایا، اور پھر وصالِ مبارک تک ایسا کبھی نہ ہوا کہ تہجد کی نماز قضا ہوئی ہو۔ آپ کی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی، عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، خدمتِ خلق اور رشد و ہدایت کا روشن نمونہ تھی۔

*مسندِ خلافت:*
حضور سیدنا شاہ حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر ٣٢؍سال تھی، سرِ اقدس پر تاجِ خلافت رکھا گیا۔ والد بزرگوار حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عرشِ چہلم شریف میں مشائخِ کرام کے مقدس ہاتھوں سے سر پر دستارِ فضیلت باندھی گئی۔ حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں: *”٣٤؍برس ہوئے کہ میں نے اِس مکان میں اقامت اختیار فرمائی اور اب میری عمر ٦٣؍برس کو پہنچی۔“*

*ساداتِ مارہرہ مطہرہ کی سیادت پر مہر*
حضور سیدنا شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے وصف کو ہمیشہ اخفا میں رکھتے اور اظہار سے پرہیز فرماتے، اور اپنی نسبتِ خاندان کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ: *”ایک روز فقیر کو خیال آیا کہ نسبت ظنی سے ہر چند کہ سادات بلگرام مشہور و مسلم ہے لیکن یقین و وثوق نہیں، معا دیکھتا ہوں کہ حضور مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تشریف فرما ہیں اور دونوں بازو چوکھٹ سنگی کے جو خانقاہِ برکاتیہ میں نصب ہے تھامے کھڑے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ: تم ہمارے بیٹے ہو اور پیارے بیٹے ہو۔ ” الحمد للہ علی ذالک۔”“*
سجادہ نشین بنتے ہی آل محمدی رنگ میں ڈھل گئے۔

*حبیبِ کبریا ﷺ کی زیارت*
*درودِ شریف کی برکت اور زیارتِ مصطفیٰ ﷺ: * منقول ہے کہ ایک باکمال پشاوری درویش نے حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمتِ اقدس میں ایک خاص درود شریف بطورِ نذرانہ پیش کیا۔ حضور علیہ الرحمۃ والرضوان نے اسے پسند فرمایا اور اپنے پاس محفوظ رکھ لیا۔ اسی شب حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہایت شفقت کے ساتھ ارشاد فرمایا: *”صاحبزادے! اٹھو اور درود شریف پڑھو۔“* یہ مبارک ارشاد سن کر حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً بیدار ہو گئے۔ غسل فرمایا، خوشبو لگائی، بخور روشن کیا اور نہایت ادب و عقیدت کے ساتھ اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا۔ ابھی درود شریف مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ بیداری کی حالت میں دوبارہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ جب نگاہِ عقیدت سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آرا پر پڑی تو آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور بقیہ درود شریف حالتِ قیام میں مکمل کیا۔
درود شریف ختم ہونے تک حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کے پاس جلوہ افروز رہے۔ یہ سعادتِ عظمیٰ حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ایک عظیم روحانی انعام اور بے مثال شرف تھا۔ اس مبارک موقع پر شہزادۂ شہنشاہِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں چند اشعار بھی عرض کیے۔ ان اشعار کو سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پسند فرمایا اور اپنے خصوصی الطاف و عنایات سے نوازا۔ روایت ہے کہ اس کے نتیجے میں حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دونوں جہانوں کی نعمتوں اور سعادتوں سے مالا مال فرما دیا گیا۔ یہ واقعہ اور اس موقع پر کہے گئے اشعار حضرت شاہ مہدی حسن اور حضرت سید شاہ کے دعا خوانوں کے پاس منقول ہیں۔
جس پشاوری درویش نے وہ درود شریف پیش کیا تھا، ان کا نام مولوی محمد مکرم مرید شاہ پشاوری تھا۔ وہ احمد شاہ درانی کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے اور حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر درودِ صلوٰۃ الختام پیش کرنے کی سعادت سے مشرف ہوئے۔

*شاعری میں مہارت:*
حضرت عیؔنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ادبی صلاحیتیں کیسی روشن تھیں اس کی دلیل ان کے کمال سے ظاہر ہیں، حضرت حمزہ عینؔی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں جو شاعری فرمائی اس کی سلاست اور روانی دیکھنے کے قابل ہے۔ قصیدہ غوثیہ ان کا ایک عظیم شاہکار ہے جس کی پوری عبارت سرکار قادریت کے عقیدت مندوں کے لیے وظیفہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

@غوثِ اعظم بمن بے سر و ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے
مظہر سر ازل گوشتہ چشمے کرمے
مہیطِ فیضِ ادب وقف پنہاں مددے
ما گدایم تو سلطانِ دو عالم ہستی
از تو داریم تمنا شہِ جیلاں مددے
انتظارِ کرم تست بعیؔنی مارا
اے خدا بین خدا جو جدا داں مددے

*جود و سخا اور مہمان نوازی:*
حضور شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جود و سخا، فیاضی اور مہمان نوازی میں اپنے عہد کی ایک بے مثال شخصیت تھے۔ آپ کی بخشش و عطا کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا، اور آپ نے اپنے والدِ گرامی کے عرس مبارک کے موقع پر مہمان نوازی اور خدمتِ خلق کی ایسی یادگار قائم فرمائی کہ اس زمانے کے بڑے بڑے سلاطین اور شہنشاہ بھی اس شان کی دعوت کا اہتمام نہ کر سکتے تھے۔ مارہرہ شریف کے عرس مبارک میں ہر سال ملک کے مختلف علاقوں سے زائرین اور عقیدت مندوں کا ایک عظیم ہجوم جمع ہوتا تھا۔ حاضرین کی کثرت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سال عرس کے موقع پر آستانہ کے باغات کے بیر اور آم تقسیم کیے گئے۔ ہر شخص کو صرف ایک بیر دیا گیا، بعد میں جب ان بیروں کی تعداد شمار کی گئی تو وہ چوبیس ہزار نکلی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرس مبارک میں کس قدر بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے۔
عرسِ مبارک کا انتظام نہایت شان و شوکت اور حسنِ انتظام کے ساتھ کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ پورے ہندوستان میں اس عرس کی شہرت تھی۔ حضور حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اور مہمان نوازی کو سعادت سمجھتے تھے۔ عرس کے دنوں میں بلا مبالغہ سو سے زائد اقسام کے کھانے تیار کیے جاتے اور حاضرین کی خدمت میں پیش کیے جاتے تھے۔
زندگی کے آخری دور میں اگرچہ آپ نے عرس کے اخراجات میں خاصی کمی فرما دی تھی، لیکن اس کے باوجود ہر سال پچیس مختلف اقسام کے کھانے مہمانوں میں تقسیم کیے جاتے رہے۔ اس دسترخوانِ کرم میں امیر و غریب، شاہ و گدا، بزرگ و نووارد، سب یکساں شریک ہوتے تھے اور کسی قسم کی تخصیص یا امتیاز روا نہ رکھا جاتا تھا۔

*شانِ بے نیازی:*
حضور قطب الکاملین حضرت شاہ سید حمزہ قدس سرہٗ اپنے اسلافِ کرام کے اوصاف و کمالات کے حقیقی وارث تھے۔ آپ کی خانقاہ روحانی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ اہلِ محبت و عقیدت کا مرجع بھی ہے۔ بڑے بڑے امراء، رؤساء اور سلاطینِ وقت اپنے خدام، لشکروں اور مصاحبین کے ساتھ مارہرہ شریف حاضر ہوتے اور بسا اوقات کئی کئی ماہ خانقاہ میں قیام پذیر رہتے۔ ان تمام مہمانوں کی نہایت عزت و اکرام کے ساتھ خدمت کی جاتی، ان کے قیام و طعام کا بہترین انتظام ہوتا اور انواع و اقسام کے کھانوں سے ان کی ضیافت کی جاتی، لیکن حضرت کی شانِ استغناء اور بے نیازی کا عالم یہ تھا کہ آپ دنیاوی جاہ و منصب رکھنے والوں سے کسی قسم کی مرعوبیت محسوس نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ بڑے بڑے حکمران اور صاحبِ اقتدار افراد آپ کی زیارت اور ملاقات کے خواہش مند ہوتے، حضرت اپنے معمولاتِ عبادت، اذکار اور دینی مشاغل میں مشغول رہتے اور محض دنیاوی حیثیت یا سلطنت کی بنیاد پر کسی کو خصوصی باریابی کا شرف عطا نہ فرماتے۔ آپ کی نگاہ میں عزت و فضیلت کا معیار صرف تقویٰ، اخلاص اور قربِ الٰہی تھا، نہ کہ دنیاوی اقتدار و حکومت۔

*حضور شاہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے خلفاء* میں چھوٹے بھائی اور شہزادگان کے علاوہ حضرت شاہ نصیر الدین لنگ، حضرت شاہ حفظ اللّٰہ، حضرت شاہ رحمت اللّٰہ، حضرت شاہ دیدار علی و حضرت شاہ سیف اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہم کے نام موجود ہیں۔
*شاہ عینی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی زندگی مبارکہ کا سب سے نمایاں وصف* یہ تھا کہ آپ کی سخاوت بڑی انوکھی تھی۔ سرکار حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ہی زمانۂ مبارکہ میں پیارے حبیب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدم مبارک کا نشان، موئے مبارک اور نعل شریف کے تبرکات مارہرہ شریف میں آئے۔ یہ تبرکات حاجی جمال الدین صاحب علیہ الرحمۃ کے ذریعے مارہرہ مطہرہ میں آئے، یہ صحابئ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یا ان کے بھائی کے خاندان سے تھے۔ نیز مولائے کائنات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے مزار اقدس کا ٹکڑا اور سرکار غوث پاک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی لکھی بسم اللّٰہ شریف بھی حضور شاہ عینیؔ قدس سرہٗ نے جمع فرمائی۔ ان تبرکات کی زیارت عرسِ قاسمی برکاتی و عرسِ نوری برکاتی میں کرائی جاتی ہے۔

*حضور شاہ عینی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی چند تصانیف یہ ہیں:* کاشف الاستار، فص الکلمات، مثنوی اتفاقیہ، قصیدہ گوہر بار (اردو)، رسالہ عقائد۔

*وصالِ ظاہری:*
حضور شاہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا ظاہری وصال ١٤؍محرم الحرام ؁١١٩٨ھ کو مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ *مزار شریف:* حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ سے داہنی طرف ایک راستہ گیا ہے، چہرہ کا رخ داہنی جانب کرتے ہی سفید رنگ کے ایک خوبصورت گنبد میں ہے۔

*نکاح و شہزادگان:*
حضور اسد العارفین حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح سیدہ دیانت فاطمہ قدس سرہا بنت حضرت سید محمد محسن بلگرامی عرف سید محمد روشن قدس سرہٗ سے ہوا۔ حضور شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے ہوئے: (١) حضور سیدنا و ماوانا آل احمد اچھے میاں، (٢) حضور سیدنا و مولانا آل برکات ستھرے میاں (٣) حضور سیدنا و ملجانا آل حسنین سچے میاں (٤) حضرت سیدنا علی (ان کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا) رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔

#حضرت سید شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

آپ کا نام حضرت سید *”محمد حقانی“* ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ حضور آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے چھوٹے شہزادے اور حضور شاہ عینؔی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی ہیں۔ والدہ ماجدہ کا نام سیدہ غنیمت فاطمہ اور نانا جان کا نام سید شاہ عظمت اللّٰہ ہے جو حضور صاحب البرکات کے منجھلے بھائی تھے۔

*ولادت:* ١١٤٥ھ میں ولادت ہوئی۔ شاہ حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے والد ماجد اور برادر اکبر سے علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کی۔ شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے وصالِ ظاہری کے وقت عمر شریف فقط ٢٠؍سال تھی۔ بیعت و خلافت والد ماجد اور برادرِ اکبر سے حاصل ہے۔

*سیدنا شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی دو اہم تصانیف ہیں:*
“(١) عنایت رسول ﷺ کی:”
۹۰۰؍صفحات پر قرآنِ حکیم کی تفسیر آپ نے ساٹھ سال کی عمر میں صرف چار مہینے میں فرمائی۔ اس کی جدید اشاعت حضرت امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی و النورانی ( سجادہ نشین: خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ) کے دست مبارک سے ہوئی ہے۔
“(٢) نعت رسول ﷺ کی:”
حدیثوں کے انتخاب ”کتاب الاخیار“ کا ترجمہ ہے۔ اس میں ٤٠٠؍حدیثیں جمع ہیں۔
حضور شاہ حقانی علیہ الرحمۃ والرضوان نے نہ کسی کو مرید فرمایا نہ خلافت عطا فرمائی۔ خانقاہ کا دیوان خانہ، حویلی سجادہ نشینی، نئی نئی عمارتیں بنوانا آپ کی زندگی کے نمایاں کارنامے ہیں۔ حضور شرف ملت مدظلہ العالی فرماتے ہیں: *”حضرت شاہ محمد حقانی مارہرہ مطہرہ کے شاہ جہاں ہیں“*
حضور سیدنا شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا *وصالِ ظاہری* ١٧؍ذی الحجہ ١٢٠١ھ بروز جمعہ کو ہوا۔ مارہرہ مطہرہ میں آخری قیام گاہ ہے۔
حضور شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چچا کی شہزادی سے منسوب تھے، ان سکے نکاح نہ ہوا تو پوری زندگی سادگی میں گزارنے کا فیصلہ فرمایا۔

✍🏻: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

Scan this QR code to read online:

QR Code