دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی
✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی
اس دھوکے کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ نسل پرستی، فاشزم، کمیونزم جیسے متشدد نظریات اور تصادم پر مبنی بہت سے دوسرے وحشیانہ عالمی نظریات نے اسی دھوکے سے طاقت حاصل کی ہے۔
#ڈارونی فریب: زندگی ایک تصادم ہے
جانداروں کی ترقی کا تمام تر انحصار بقا کی جنگ پر ہے۔ اس کشمکش میں صرف طاقتور ہی جیتتا ہے، جبکہ کمزور شکست اور فنا کے گھاٹ اترنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ڈارون کے بقول، فطرت میں جینے کے لیے ایک بے رحم جدوجہد اور دائمی تصادم پایا جاتا ہے۔ طاقتور ہمیشہ کمزور کو دبا دیتا ہے، اور یہی وہ عمل ہے جس سے ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس کی مشہورِ زمانہ کتاب اصلِ انواع (The Origin of Species) کا ذیلی عنوان ہی اس کے اس نقطہ نظر کا لبِ لباب ہے: قدرتی انتخاب کے ذریعے انواع کا ظہور، یا زندگی کی جدوجہد میں پسندیدہ نسلوں کا تحفظ۔
مزید برآں، ڈارون نے یہ تجویز پیش کی کہ بقا کی جنگ کا یہ اصول انسانی نسلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس کے خیالی دعوے کے مطابق، اس جنگ میں پسندیدہ نسلیں ہی فتح یاب ہوتی ہیں۔ ڈارون کی نظر میں یہ پسندیدہ اور برتر نسلیں سفید فام یورپی تھے۔ اس کے برعکس افریقی یا ایشیائی نسلیں بقا کی اس دوڑ میں پیچھے رہ گئی تھیں۔ ڈارون نے یہاں تک کہہ دیا کہ مستقبل قریب میں یہ نسلیں بقا کی جنگ پوری طرح ہار کر دنیا سے مٹ جائیں گی:
آنے والے وقت میں، جس کا فاصلہ صدیوں کے حساب سے زیادہ دور نہیں، مہذب انسانی نسلیں پوری دنیا میں وحشی نسلوں کو نیست و نابود کر کے ان کی جگہ لے لیں گی۔ اسی وقت بن مانسوں جیسی نسلیں بھی ختم کر دی جائیں گی۔ تب انسان اور اس کے قریب ترین جانوروں کے درمیان خلیج مزید بڑھ جائے گی، کیونکہ ایک طرف (یورپی) سفید فاموں سے بھی زیادہ مہذب انسان ہوں گے اور دوسری طرف لنگوروں کی طرح کا کوئی پست جانور ہوگا، بجائے اس کے کہ جیسا اب ہے کہ ایک طرف حبشی یا آسٹریلوی باشندہ ہے اور دوسری طرف گوریلا۔ (The Descent of Man, Part 01, Chapter 03, Page No 156)
ڈارون کے طاقتور کی بقا کے نظریے کو اس دور کے سماجی ماہرین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کا ماننا تھا کہ انسانیت ارتقا کے مختلف مراحل طے کر چکی ہے جس کا عروج سفید فام انسان کی تہذیب ہے۔ انیسویں صدی کے نصف تک، مغربی سائنسدانوں کی اکثریت نے نسل پرستی کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ (Racism Science and Pseudo-Science, Page No 54)
ڈارون کے الہام کا ذریعہ: مالتھس کا سفاکانہ نظریہ
یوں وجود کا مطلب مستقل جنگ بن کر رہ گیا۔ انیسویں صدی میں مالتھس کے خیالات کو وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا۔ خاص طور پر یورپ کے اشرافیہ اور دانشوروں نے ان ظالمانہ خیالات کی حمایت کی۔ نازیوں کے نسلی پاکیزگی کے پروگرام کے سائنسی پس منظر پر لکھے گئے ایک مضمون میں اس دور کے یورپ کی مالتھس پسندی کو یوں بیان کیا گیا ہے:
انیسویں صدی کے نصف اول میں، پورے یورپ میں حکمران طبقے کے افراد آبادی کے مسئلے پر بحث کرنے اور مالتھس کے اس ایجنڈے پر عمل درآمد کے طریقے ڈھونڈنے کے لیے جمع ہوئے کہ غریبوں کی شرحِ اموات میں کیسے اضافہ کیا جائے۔ وہ کہتے تھے: غریبوں کو صفائی ستھرائی کی ترغیب دینے کے بجائے، ہمیں ان میں گندی عادات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے شہروں کی گلیوں کو تنگ بنانا چاہیے، گھروں میں زیادہ سے زیادہ لوگ ٹھونس دینے چاہئیں، اور طاعون کی واپسی کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ دیہات میں ہمیں اپنے گاؤں تعفن زدہ تالابوں کے قریب بسانے چاہئیں اور خاص طور پر ایسی جگہوں پر آباد کاری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو دلدلی ہوں اور صحت کے لیے مضر ہوں۔
(The Scientific Background of the Nazi Race Purification Program)
جنگل کے قانون کا انجام: فاشزم (Fascism)
نازی نظریہ سازوں پر ڈارون ازم کے گہرے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب ہم اس نظریے کا جائزہ لیتے ہیں جسے ایڈولف ہٹلر اور الفریڈ روزنبرگ نے تشکیل دیا، تو ہمیں قدرتی انتخاب (Natural Selection)، انتخابی ملاپ (Selective Mating or Breeding) اور نسلوں کے درمیان بقا کی جنگ (The struggle for survival between the races) جیسے تصورات ملتے ہیں، جن کا ذکر ڈارون کی تصانیف میں درجنوں بار آیا ہے۔ ہٹلر نے جب اپنی کتاب کا نام میرا سنگھرش یا میری جدوجہد (Mein Kampf) رکھا، تو وہ دراصل ڈارون کے بقا کی جنگ والے تصور اور اس اصول سے متاثر تھا کہ کامیابی صرف طاقتور اور موزوں ترین کا مقدر بنتی ہے۔ وہ خاص طور پر نسلوں کے درمیان تصادم کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے:
تاریخ کا اختتام ایک ایسی ہزار سالہ عظیم سلطنت پر ہوگا جس کی شان و شوکت بے مثال ہوگی، اور اس کی بنیاد قدرت کے اپنے طے کردہ ایک نئے نسلی نظام (Racial Hierarchy) پر ہوگی۔
(Adolf Hitler, The Complete Totalitarian by L. H. Gann)
(ہٹلر) ارتقا پر پختہ یقین رکھتا تھا اور اس کی تبلیغ کرتا تھا۔ اس کی ذہنی کیفیت کی پیچیدگیاں اپنی جگہ، مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس کے نزدیک جدوجہد کا تصور بہت اہم تھا... کیونکہ اس کی کتاب میری جدوجہد میں واضح طور پر کئی ارتقائی خیالات ملتے ہیں، خاص طور پر وہ جو بقا کی جنگ، طاقتور کی جیت اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے کمزوروں کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔
(Islam Denounces Terrorism by Harun Yahya, Page No 134)
خونیں اتحاد: ڈارون ازم اور کمیونزم
مختصراً یہ کہ نظریہ ارتقا اور کمیونزم کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ یہ نظریہ دعویٰ کرتا ہے کہ جاندار اتفاق کی پیداوار ہیں، اور یوں الحاد کو ایک نام نہاد سائنسی سہارا فراہم کرتا ہے۔ کمیونزم، جو کہ ایک ملحدانہ نظریہ ہے، اسی لیے ڈارون ازم سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ مزید برآں، نظریہ ارتقا یہ تجویز کرتا ہے کہ فطرت میں ترقی تصادم (بقا کی جنگ) کی بدولت ممکن ہے، جو کمیونزم کے بنیادی فلسفے جدلیات (Dialectics) کی تائید کرتا ہے۔ اگر ہم کمیونزم کے جدلیاتی تصادم کے تصور کو، جس نے بیسویں صدی میں تقریباً 12 کروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، ایک قتل کرنے والی مشین تصور کریں، تو ہم اس تباہی کی وسعت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جو ڈارون ازم نے اس سیارے پر نازل کی۔
ڈارون ازم اور دہشت گردی
اس کی وضاحت ہم اس طرح کر سکتے ہیں: دنیا میں مختلف عقائد، نظریات اور فلسفے موجود ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ ان متنوع خیالات میں ایک دوسرے کے مخالف پہلو ہوں گے۔ تاہم، یہ مختلف موقف ایک دوسرے کو دو میں سے کسی ایک نظر سے دیکھ سکتے ہیں:
۱۔ وہ اپنے سے مختلف لوگوں کے وجود کا احترام کر سکتے ہیں اور انسانیت کے ناطے ان کے ساتھ مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یقیناً یہی وہ طریقہ ہے جو قرآن کریم کے اخلاق کے عین مطابق ہے۔
۲۔ وہ دوسروں کے ساتھ لڑنے کا راستہ منتخب کر سکتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا کر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک وحشی جانور جیسا سلوک کرنا۔ یہ وہ طریقہ ہے جو مادہ پرستی (یعنی بے دینی) اپناتی ہے۔
وہ ہولناکی جسے ہم دہشت گردی کہتے ہیں، دراصل اسی دوسری روش کا اظہار ہے۔ جب ہم ان دونوں طریقوں کے فرق پر غور کرتے ہیں، تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ڈارون ازم نے لوگوں کے لاشعور میں انسان ایک لڑنے والا جانور ہے کا جو تصور بٹھایا ہے، وہ کتنا زیادہ بااثر ہے۔ وہ افراد اور گروہ جو تصادم کا راستہ چنتے ہیں، ہو سکتا ہے انہوں نے کبھی ڈارون ازم کا نام بھی نہ سنا ہو، لیکن انجام کار وہ اسی نظریے سے اتفاق کر رہے ہوتے ہیں جس کی فلسفیانہ بنیاد ڈارون ازم پر ہے۔ انہیں اس نظریے کی سچائی پر یقین دلانے والی چیزیں دراصل وہ نعرے ہیں جن کی بنیاد ڈارون ازم پر ہے، جیسے: اس دنیا میں صرف طاقتور بچتا ہے ، بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے ، جنگ ایک خوبی ہے ، اور انسان جنگ کر کے ہی ترقی کرتا ہے ۔ ڈارون ازم کو ہٹا دیں تو یہ محض کھوکھلے نعرے رہ جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے، اگر کچھ لوگ اسلام، عیسائیت یا یہودیت کے نام پر یا ان کے نشانات استعمال کر کے دہشت گردی پھیلاتے ہیں، تو یقین رکھیں کہ وہ لوگ (حقیقی معنوں میں) مسلمان، عیسائی یا یہودی نہیں ہیں۔ وہ دراصل سوشل ڈارونسٹ ہیں۔ وہ مذہب کی چادر میں چھپے ہوئے ہیں، لیکن وہ سچے مذہبی نہیں ہیں۔ چاہے وہ مذہب کی خدمت کا کتنا ہی دعویٰ کریں، وہ دراصل مذہب اور مذہبی لوگوں کے دشمن ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے رحمی سے ایک ایسا جرم کر رہے ہیں جس سے مذہب نے منع کیا ہے، اور اس طریقے سے کر رہے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں مذہب کا چہرہ مسخ ہو جائے۔
اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا حل ہے
اسلام: امن اور سلامتی کا دین
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
اللہ نے شر اور فساد کی مذمت کی ہے
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۔
ترجمہ: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر۔ (سورۃ الرعد: 25)
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ۔
ترجمہ: اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (سورۃ القصص: 77)
اسلام رواداری اور اظہارِ رائے کی آزادی کا علمبردار ہے
لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ۔ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ
ترجمہ: کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے۔ (سورۃ البقرہ: 256)
ترجمہ: تو تم نصیحت سناؤ تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو۔ تم کچھ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ (سورۃ الغاشیہ: 21-22)
اللہ نے بے گناہ لوگوں کے قتل کو حرام قرار دیا ہے
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمہ: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔ (سورۃ المائدہ: 32)
اللہ کا حکم: شفقت و مہربانی
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ۔ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ۔
ترجمہ: پھر ہوا اُن سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں۔ یہ دہنی طرف والے ہیں۔ (سورۃ البلد: 17-18)
قرآن میں بیان کردہ اسلام ایک بہترین، روشن خیال اور ترقی پسند دین ہے۔ ایک مسلمان سب سے بڑھ کر امن پسند ہوتا ہے۔ وہ روادار، سماجی مزاج کا حامل، باذوق، صاحبِ علم، دیانت دار، فنونِ لطیفہ و سائنس سے واقف اور ایک مہذب شہری ہوتا ہے۔
اللہ نے رواداری اور درگزر کا حکم دیا ہے
جب ہم اسلام کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کی اس اخلاقی صفت کو کس طرح معاشرتی زندگی میں سمویا۔ مسلمان جہاں کہیں بھی گئے، وہ اپنے ساتھ آزادی اور رواداری کی فضا لے کر گئے اور انہوں نے غیر قانونی و ظالمانہ رسم و رواج کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو ایک چھت تلے امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کا موقع فراہم کیا جن کے مذاہب، زبانیں اور ثقافتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ سلطنتِ عثمانیہ، جو کہ ایک وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی تھی، اس کے صدیوں تک قائم رہنے کی سب سے بڑی وجہ وہ رواداری اور مفاہمت کی فضا تھی جو اسلام اپنے ساتھ لایا تھا۔ مسلمان صدیوں سے اپنی روادار اور محبت آمیز فطرت کی وجہ سے مشہور رہے ہیں اور ہمیشہ مہربان اور منصف مزاج ثابت ہوئے ہیں۔ اس کثیر القومی ڈھانچے (Ottoman Empire) میں تمام نسلی گروہوں کو اپنے اپنے مذاہب اور اپنے قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی تھی۔
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔
ترجمہ: اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔ (سورۃ الفصلت: 34)
jamiaturrazastudents.com
وہ درندگی جسے دہشت گردی کہا جاتا ہے اور جس نے آج پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے، درحقیقت ان جاہل اور جنونی لوگوں کا کام ہے جو قرآنی اخلاق سے بالکل ناواقف ہیں اور جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان لوگوں اور گروہوں کا حل، جو مذہب کے لبادے میں اپنی وحشت پھیلاتے ہیں، صرف حقیقی قرآنی اخلاق کی تعلیم ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اسلام اور قرآنی اخلاق دہشت گردی کی پشت پناہی نہیں بلکہ اس ناسور کا واحد حل ہیں۔
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323
دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی
اس دھوکے کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ نسل پرستی، فاشزم، کمیونزم جیسے متشدد نظریات اور تصادم پر مبنی بہت سے دوسرے وحشیانہ عالمی نظریات نے اسی دھوکے سے طاقت حاصل کی ہے۔
#ڈارونی فریب: زندگی ایک تصادم ہے
جانداروں کی ترقی کا تمام تر انحصار بقا کی جنگ پر ہے۔ اس کشمکش میں صرف طاقتور ہی جیتتا ہے، جبکہ کمزور شکست اور فنا کے گھاٹ اترنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ڈارون کے بقول، فطرت میں جینے کے لیے ایک بے رحم جدوجہد اور دائمی تصادم پایا جاتا ہے۔ طاقتور ہمیشہ کمزور کو دبا دیتا ہے، اور یہی وہ عمل ہے جس سے ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس کی مشہورِ زمانہ کتاب اصلِ انواع (The Origin of Species) کا ذیلی عنوان ہی اس کے اس نقطہ نظر کا لبِ لباب ہے: قدرتی انتخاب کے ذریعے انواع کا ظہور، یا زندگی کی جدوجہد میں پسندیدہ نسلوں کا تحفظ۔
مزید برآں، ڈارون نے یہ تجویز پیش کی کہ بقا کی جنگ کا یہ اصول انسانی نسلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس کے خیالی دعوے کے مطابق، اس جنگ میں پسندیدہ نسلیں ہی فتح یاب ہوتی ہیں۔ ڈارون کی نظر میں یہ پسندیدہ اور برتر نسلیں سفید فام یورپی تھے۔ اس کے برعکس افریقی یا ایشیائی نسلیں بقا کی اس دوڑ میں پیچھے رہ گئی تھیں۔ ڈارون نے یہاں تک کہہ دیا کہ مستقبل قریب میں یہ نسلیں بقا کی جنگ پوری طرح ہار کر دنیا سے مٹ جائیں گی:
آنے والے وقت میں، جس کا فاصلہ صدیوں کے حساب سے زیادہ دور نہیں، مہذب انسانی نسلیں پوری دنیا میں وحشی نسلوں کو نیست و نابود کر کے ان کی جگہ لے لیں گی۔ اسی وقت بن مانسوں جیسی نسلیں بھی ختم کر دی جائیں گی۔ تب انسان اور اس کے قریب ترین جانوروں کے درمیان خلیج مزید بڑھ جائے گی، کیونکہ ایک طرف (یورپی) سفید فاموں سے بھی زیادہ مہذب انسان ہوں گے اور دوسری طرف لنگوروں کی طرح کا کوئی پست جانور ہوگا، بجائے اس کے کہ جیسا اب ہے کہ ایک طرف حبشی یا آسٹریلوی باشندہ ہے اور دوسری طرف گوریلا۔ (The Descent of Man, Part 01, Chapter 03, Page No 156)
ڈارون کے طاقتور کی بقا کے نظریے کو اس دور کے سماجی ماہرین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کا ماننا تھا کہ انسانیت ارتقا کے مختلف مراحل طے کر چکی ہے جس کا عروج سفید فام انسان کی تہذیب ہے۔ انیسویں صدی کے نصف تک، مغربی سائنسدانوں کی اکثریت نے نسل پرستی کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ (Racism Science and Pseudo-Science, Page No 54)
ڈارون کے الہام کا ذریعہ: مالتھس کا سفاکانہ نظریہ
یوں وجود کا مطلب مستقل جنگ بن کر رہ گیا۔ انیسویں صدی میں مالتھس کے خیالات کو وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا۔ خاص طور پر یورپ کے اشرافیہ اور دانشوروں نے ان ظالمانہ خیالات کی حمایت کی۔ نازیوں کے نسلی پاکیزگی کے پروگرام کے سائنسی پس منظر پر لکھے گئے ایک مضمون میں اس دور کے یورپ کی مالتھس پسندی کو یوں بیان کیا گیا ہے:
انیسویں صدی کے نصف اول میں، پورے یورپ میں حکمران طبقے کے افراد آبادی کے مسئلے پر بحث کرنے اور مالتھس کے اس ایجنڈے پر عمل درآمد کے طریقے ڈھونڈنے کے لیے جمع ہوئے کہ غریبوں کی شرحِ اموات میں کیسے اضافہ کیا جائے۔ وہ کہتے تھے: غریبوں کو صفائی ستھرائی کی ترغیب دینے کے بجائے، ہمیں ان میں گندی عادات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے شہروں کی گلیوں کو تنگ بنانا چاہیے، گھروں میں زیادہ سے زیادہ لوگ ٹھونس دینے چاہئیں، اور طاعون کی واپسی کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ دیہات میں ہمیں اپنے گاؤں تعفن زدہ تالابوں کے قریب بسانے چاہئیں اور خاص طور پر ایسی جگہوں پر آباد کاری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو دلدلی ہوں اور صحت کے لیے مضر ہوں۔
(The Scientific Background of the Nazi Race Purification Program)
جنگل کے قانون کا انجام: فاشزم (Fascism)
نازی نظریہ سازوں پر ڈارون ازم کے گہرے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب ہم اس نظریے کا جائزہ لیتے ہیں جسے ایڈولف ہٹلر اور الفریڈ روزنبرگ نے تشکیل دیا، تو ہمیں قدرتی انتخاب (Natural Selection)، انتخابی ملاپ (Selective Mating or Breeding) اور نسلوں کے درمیان بقا کی جنگ (The struggle for survival between the races) جیسے تصورات ملتے ہیں، جن کا ذکر ڈارون کی تصانیف میں درجنوں بار آیا ہے۔ ہٹلر نے جب اپنی کتاب کا نام میرا سنگھرش یا میری جدوجہد (Mein Kampf) رکھا، تو وہ دراصل ڈارون کے بقا کی جنگ والے تصور اور اس اصول سے متاثر تھا کہ کامیابی صرف طاقتور اور موزوں ترین کا مقدر بنتی ہے۔ وہ خاص طور پر نسلوں کے درمیان تصادم کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے:
تاریخ کا اختتام ایک ایسی ہزار سالہ عظیم سلطنت پر ہوگا جس کی شان و شوکت بے مثال ہوگی، اور اس کی بنیاد قدرت کے اپنے طے کردہ ایک نئے نسلی نظام (Racial Hierarchy) پر ہوگی۔
(Adolf Hitler, The Complete Totalitarian by L. H. Gann)
(ہٹلر) ارتقا پر پختہ یقین رکھتا تھا اور اس کی تبلیغ کرتا تھا۔ اس کی ذہنی کیفیت کی پیچیدگیاں اپنی جگہ، مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس کے نزدیک جدوجہد کا تصور بہت اہم تھا... کیونکہ اس کی کتاب میری جدوجہد میں واضح طور پر کئی ارتقائی خیالات ملتے ہیں، خاص طور پر وہ جو بقا کی جنگ، طاقتور کی جیت اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے کمزوروں کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔
(Islam Denounces Terrorism by Harun Yahya, Page No 134)
خونیں اتحاد: ڈارون ازم اور کمیونزم
مختصراً یہ کہ نظریہ ارتقا اور کمیونزم کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ یہ نظریہ دعویٰ کرتا ہے کہ جاندار اتفاق کی پیداوار ہیں، اور یوں الحاد کو ایک نام نہاد سائنسی سہارا فراہم کرتا ہے۔ کمیونزم، جو کہ ایک ملحدانہ نظریہ ہے، اسی لیے ڈارون ازم سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ مزید برآں، نظریہ ارتقا یہ تجویز کرتا ہے کہ فطرت میں ترقی تصادم (بقا کی جنگ) کی بدولت ممکن ہے، جو کمیونزم کے بنیادی فلسفے جدلیات (Dialectics) کی تائید کرتا ہے۔ اگر ہم کمیونزم کے جدلیاتی تصادم کے تصور کو، جس نے بیسویں صدی میں تقریباً 12 کروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، ایک قتل کرنے والی مشین تصور کریں، تو ہم اس تباہی کی وسعت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جو ڈارون ازم نے اس سیارے پر نازل کی۔
ڈارون ازم اور دہشت گردی
اس کی وضاحت ہم اس طرح کر سکتے ہیں: دنیا میں مختلف عقائد، نظریات اور فلسفے موجود ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ ان متنوع خیالات میں ایک دوسرے کے مخالف پہلو ہوں گے۔ تاہم، یہ مختلف موقف ایک دوسرے کو دو میں سے کسی ایک نظر سے دیکھ سکتے ہیں:
۱۔ وہ اپنے سے مختلف لوگوں کے وجود کا احترام کر سکتے ہیں اور انسانیت کے ناطے ان کے ساتھ مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یقیناً یہی وہ طریقہ ہے جو قرآن کریم کے اخلاق کے عین مطابق ہے۔
۲۔ وہ دوسروں کے ساتھ لڑنے کا راستہ منتخب کر سکتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا کر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک وحشی جانور جیسا سلوک کرنا۔ یہ وہ طریقہ ہے جو مادہ پرستی (یعنی بے دینی) اپناتی ہے۔
وہ ہولناکی جسے ہم دہشت گردی کہتے ہیں، دراصل اسی دوسری روش کا اظہار ہے۔ جب ہم ان دونوں طریقوں کے فرق پر غور کرتے ہیں، تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ڈارون ازم نے لوگوں کے لاشعور میں انسان ایک لڑنے والا جانور ہے کا جو تصور بٹھایا ہے، وہ کتنا زیادہ بااثر ہے۔ وہ افراد اور گروہ جو تصادم کا راستہ چنتے ہیں، ہو سکتا ہے انہوں نے کبھی ڈارون ازم کا نام بھی نہ سنا ہو، لیکن انجام کار وہ اسی نظریے سے اتفاق کر رہے ہوتے ہیں جس کی فلسفیانہ بنیاد ڈارون ازم پر ہے۔ انہیں اس نظریے کی سچائی پر یقین دلانے والی چیزیں دراصل وہ نعرے ہیں جن کی بنیاد ڈارون ازم پر ہے، جیسے: اس دنیا میں صرف طاقتور بچتا ہے ، بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے ، جنگ ایک خوبی ہے ، اور انسان جنگ کر کے ہی ترقی کرتا ہے ۔ ڈارون ازم کو ہٹا دیں تو یہ محض کھوکھلے نعرے رہ جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے، اگر کچھ لوگ اسلام، عیسائیت یا یہودیت کے نام پر یا ان کے نشانات استعمال کر کے دہشت گردی پھیلاتے ہیں، تو یقین رکھیں کہ وہ لوگ (حقیقی معنوں میں) مسلمان، عیسائی یا یہودی نہیں ہیں۔ وہ دراصل سوشل ڈارونسٹ ہیں۔ وہ مذہب کی چادر میں چھپے ہوئے ہیں، لیکن وہ سچے مذہبی نہیں ہیں۔ چاہے وہ مذہب کی خدمت کا کتنا ہی دعویٰ کریں، وہ دراصل مذہب اور مذہبی لوگوں کے دشمن ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے رحمی سے ایک ایسا جرم کر رہے ہیں جس سے مذہب نے منع کیا ہے، اور اس طریقے سے کر رہے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں مذہب کا چہرہ مسخ ہو جائے۔
اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا حل ہے
اسلام: امن اور سلامتی کا دین
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
اللہ نے شر اور فساد کی مذمت کی ہے
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۔
ترجمہ: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر۔ (سورۃ الرعد: 25)
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ۔
ترجمہ: اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (سورۃ القصص: 77)
اسلام رواداری اور اظہارِ رائے کی آزادی کا علمبردار ہے
لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ۔ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ
ترجمہ: کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے۔ (سورۃ البقرہ: 256)
ترجمہ: تو تم نصیحت سناؤ تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو۔ تم کچھ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ (سورۃ الغاشیہ: 21-22)
اللہ نے بے گناہ لوگوں کے قتل کو حرام قرار دیا ہے
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمہ: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔ (سورۃ المائدہ: 32)
اللہ کا حکم: شفقت و مہربانی
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ۔ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ۔
ترجمہ: پھر ہوا اُن سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں۔ یہ دہنی طرف والے ہیں۔ (سورۃ البلد: 17-18)
قرآن میں بیان کردہ اسلام ایک بہترین، روشن خیال اور ترقی پسند دین ہے۔ ایک مسلمان سب سے بڑھ کر امن پسند ہوتا ہے۔ وہ روادار، سماجی مزاج کا حامل، باذوق، صاحبِ علم، دیانت دار، فنونِ لطیفہ و سائنس سے واقف اور ایک مہذب شہری ہوتا ہے۔
اللہ نے رواداری اور درگزر کا حکم دیا ہے
جب ہم اسلام کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کی اس اخلاقی صفت کو کس طرح معاشرتی زندگی میں سمویا۔ مسلمان جہاں کہیں بھی گئے، وہ اپنے ساتھ آزادی اور رواداری کی فضا لے کر گئے اور انہوں نے غیر قانونی و ظالمانہ رسم و رواج کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو ایک چھت تلے امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کا موقع فراہم کیا جن کے مذاہب، زبانیں اور ثقافتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ سلطنتِ عثمانیہ، جو کہ ایک وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی تھی، اس کے صدیوں تک قائم رہنے کی سب سے بڑی وجہ وہ رواداری اور مفاہمت کی فضا تھی جو اسلام اپنے ساتھ لایا تھا۔ مسلمان صدیوں سے اپنی روادار اور محبت آمیز فطرت کی وجہ سے مشہور رہے ہیں اور ہمیشہ مہربان اور منصف مزاج ثابت ہوئے ہیں۔ اس کثیر القومی ڈھانچے (Ottoman Empire) میں تمام نسلی گروہوں کو اپنے اپنے مذاہب اور اپنے قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی تھی۔
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔
ترجمہ: اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔ (سورۃ الفصلت: 34)
jamiaturrazastudents.com
وہ درندگی جسے دہشت گردی کہا جاتا ہے اور جس نے آج پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے، درحقیقت ان جاہل اور جنونی لوگوں کا کام ہے جو قرآنی اخلاق سے بالکل ناواقف ہیں اور جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان لوگوں اور گروہوں کا حل، جو مذہب کے لبادے میں اپنی وحشت پھیلاتے ہیں، صرف حقیقی قرآنی اخلاق کی تعلیم ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اسلام اور قرآنی اخلاق دہشت گردی کی پشت پناہی نہیں بلکہ اس ناسور کا واحد حل ہیں۔
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323
- 1 قندِ سمرقند
- 2 پھر لوگوں نے پرندے کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔۔۔۔!
- 3 پھر موسم نے ایک نیا منظر دکھایا۔۔۔۔!
- 4 کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے۔۔۔۔!
- 5 لوگ جھیل کو سمجھاتے رہے۔۔۔۔!
- 6 جھیل کے نام آنے والے چند پیغامات۔۔۔۔
- 7 پھر ایک دن ایسا بھی آیا۔۔۔۔!
- 8 پھر کسی نے جھیل کو ایک مشورہ دیا۔۔۔۔!
- 9 جھیل کے ملامت گر
- 10 القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی
- 11 حدائقِ بخشش کا گلِ رعنا : مہرِ بخشش
- 12 پھر جھیل اپنا راستہ الگ کیوں نہیں کر لیتی؟
- 13 واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر)
- 14 کیا وہ سفید پرندہ پھر کبھی لوٹے گا؟
- 15 خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ
- 16 توقعات کا دھوکہ اور تعلقات کی حد
- 17 ملحد کے ارتقائی مراحل
- 18 سکون کیسے حاصل کریں؟ (10)
- 19 سکون کیسے حاصل کریں؟ (9)
- 20 سکون کیسے حاصل کریں ؟(8)
- 21 سکون کیسے حاصل کریں؟ (7)
- 22 سکون کیسے حاصل کریں ؟(6)
- 23 سکون کیسے حاصل کریں؟ (5)
- 24 نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)
- 25 سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۳)
- 26 سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۲)
- 27 سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۱)
- 28 سکون کیسے حاصل کریں ؟ (4)
- 29 سکون کیسے حاصل کریں ؟(3)
- 30 ردِ الحاد
- 31 خبر غم
- 32 امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ: عزیمت کے کوہِ ہمالہ
- 33 سکون کیسے حاصل کریں ؟(2)
- 34 موقعہ پرست لوگ
- 35 سکون کیسے حاصل کریں ؟ (1)
- 36 سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات
- 37 دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی
- 38 موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
- 39 فقہ حنفی کی جامعیت
- 40 سخنِ دل
- 41 مطلبی لوگ (زاویۂ نگاہ)
- 42 فکر کی روشنی
- 43 لماذا نتعلم اللغة العربية
- 44 دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
- 1 منقبتِ حضور شیرِ بہار
- 2 کیا کہوں دل صورتِ ظالم پہ کیوں قربان ہے
- 3 دل لگانا بری بلا ہے
- 4 سنو، سنو دلِ نجمیؔ میں جاگزیں تم ہو
- 5 دورِ وفا جہان سے کب کا گزر گیا
- 6 جب سے دل کو ملا رابطہ آپ کا
- 7 سستے ہوئے ہیں دہر میں سودے زبان کے
- 8 چھوڑ کر راہِ خدا حشر میں رسوا ہوگا
- 9 ہمارے بچے ادب سے کلام کرنے لگے
- 10 ہم ان کو دیکھ کے زار و قطار روئیں گے
- 11 جائیں کس سمت راستہ ہی نہیں
- 12 حسیں تو تھا ہی مگر تُو ذہین کتنا تھا
- 13 کوئی بات نہیں
- 14 عین شین قاف نہ کر
- 15 کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے
- 16 دردِ دل سے مجھے شفا دے دے
- 17 رخِ محبوبِ من مثلِ قمر ہے
- 18 تری گلی میں نہ آتے جاتے تو اچھا ہوتا
- 19 حال یہ میری مفلسی کا ہوا
- 20 خون کے آنسو رلاتا ہے مجھے یہ دردِ دل
- 21 تبسم ریز مثل گل لبوں سے
- 22 آ جاؤ محبت کا چلو سوگ منائیں
- 23 عشق ہے زہرِ ہلال
- 24 مرے یارو! بڑی دشواریاں ہیں
- 25 صفحۂ دل پہ نقش ہے نام ابو الحسین کا
- 26 مرے حضور ﷺ کرم بے شمار کرتے ہیں
- 27 المدد اے سرورِ کون و مکاں ﷺ
- 28 سبطِ رسول ابن علی مرتضٰی حسن
- 29 یوں رندِ میکدہ کو ساقی بے قرار نہ کر
- 30 عشق محبوب ﷺ میں سرشار ہوا جاتا ہوں
- 31 میرے مرشد کا عرس آ گیا
- 32 نازشِ اہلِ سنن اختر رضا
- 33 افقِ فضل کے خاور وہ ہمارے اختر
- 34 حسین سبطِ پیمبر حسین ابنِ علی
- 35 عظیم الشان کتنا مرتبہ محبوب داور ﷺ کا
- 36 حرم و قبلہ و کعبہ یوں ہی طیبہ تیرا
- 37 حضور ﷺ دیکھیں نا
- 38 العقد الفريد في حمد الرب المجيد
- 39 نعتِ نبیِ کونین ﷺ
- 40 ان ﷺ کے کرم کی بارش
مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا
مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے دور میں جہاں سنجیدگی کا...
دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت راشدہ کے صبح اشنا افق کو دیکھتے ہیں تو ایک نام افتاب کی طرف چمکتا ہے، ایک...
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 29

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔
Explore Top Platform Insights & Outstanding Creators
All Authors
Explore the complete directory of our talented scholars and writers.
Top Authors
Learn about famous scholars, writers, and highly active personalities.
All Articles
Read the newest research, articles, and comprehensive scholarly publications.
Featured Articles
Discover the most read and trending topics actively engaging the community.
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













زاد راہ علم
مؤلف: مولانا محمد جاوید رضا مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us