اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
حصولِ علمِ دین کی اہمیت اور ہمارا معاشرہ
اصلاح معاشرہ

حصولِ علمِ دین کی اہمیت اور ہمارا معاشرہ

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

حصولِ علمِ دین کی اہمیت اور ہمارا معاشرہ
علم کے ذریعے انسان ایمان و یقین کی دنیا آباد کرتا ہے، بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھی راہ دکھاتا ہے، برے لوگوں کو اچھا، دشمنوں کو دوست اور بیگانوں کو اپنا بناتا ہے اور دنیا میں امن و امان کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ علم کی فضیلت و عظمت، اہمیت و افادیت اور اس کے حصول کی ترغیب و تاکید جس بلیغ اور دل آویز انداز میں دینِ اسلام میں پائی جاتی ہے، اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔ تعلیم و تربیت اور درس و تدریس گویا اس دینِ حق کا جزوِ لاینفک ہے۔ دینی تعلیم ہی کے ذریعے اللہ عزوجل اور جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامات کو پوری دنیا میں عام کیا جا سکتا ہے۔
نبیِ مکرم، رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے وحی کے طور پر نازل ہونے والا لفظ اِقْرَأْ ہے، یعنی اے محبوب! پڑھیے۔ اس سے تعلیم کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ قرآنِ مجید کی ابتدا ہی پڑھنے کے حکم سے ہوئی اور یوں انسان کو علم کی طرف متوجہ کیا گیا۔
علم کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنے حبیبِ پاک، صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کو علم میں اضافے کی دعا کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (سورۂ طٰہٰ، آیت: 114)
ترجمہ: اور تم عرض کرو کہ اے میرے رب ! ، مجھے علم زیادہ دے۔
قرآنِ پاک میں اللہ عزوجل نے اہلِ علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ (سورۂ مجادلہ، آیت: 11)
ترجمہ : الله عزوجل تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا، درجے بلند فرمائے گا۔
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان و علم انسان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں اور اللہ عزوجل اہلِ ایمان اور اہلِ علم کو بلند مرتبے عطا فرماتا ہے۔
نبی اکرم، رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ مجید کو قوموں کی سربلندی اور پستی کا سبب قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ (صحیح مسلم، حدیث: 817)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالی اس کتاب کے ذریعے قوموں کو اٹھاتا ہے اور اسی کتاب کے بدلے قوموں کو نیچے بھی گراتا ہے۔
یعنی جو قوم قرآنِ مجید کو پڑھتی، سمجھتی اور اس پر عمل کرتی ہے، اللہ عزوجل اسے سربلندی عطا فرماتا ہے، اور جو قوم قرآن سے اعراض کرتی اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے سے گریز کرتی ہے، وہ ذلت و پستی سے دوچار ہوتی ہے۔
اس حدیثِ پاک سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید انفرادی اور اجتماعی، دونوں سطحوں پر ترقی کا زینہ ہے۔ اسی لیے قرآن سیکھنے اور سکھانے والے کو بہترین انسان قرار دیا گیا ہے۔ نبی اکرم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ ذیشان ہے:
خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (صحیح بخاری، حدیث: 5027)
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
علمِ دین کی اہمیت و ضرورت رسولِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے اس ارشاد سے بھی بخوبی واضح ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابن ماجہ، حدیث: 224)
ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
حضرت ملا علی قاری رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں شارحین حدیث نے فرمایا کہ علم سے مراد وہ مذہبی علم ہے جس کا حاصل کرنا بندہ کے لئے ضروری ہے جیسے خدائے تعالیٰ کو پہچاننا ، اس کی وحدانیت، اس کے رسول کی نبوت کی شناخت اور ضروری مسائل کے ساتھ نماز پڑھنے کے طریقے کو جاننا مسلمان کے لئے ان چیزوں کا علم فرض عین ہے۔
جامع ترمذی میں ایک روایت ہے:
الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا (جامع ترمذی، حدیث: 2687)
ترجمہ: حکمت و دانائی کی بات مومن کی گم شدہ پونجی ہے؛ جہاں اسے پائے، وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔
اس روایت میں علم و حکمت کو مومن کی گم شدہ پونجی سے تشبیہ دی گئی ہے اور مومن کو اس کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ علم ایک ایسا خزانہ ہے جو تقسیم کرنے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے فوائد مزید پھیلتے ہیں۔ اس کے حصول اور اس کی اشاعت کا اجر و ثواب انسان کو ملتا رہتا ہے۔ علم بیمار دلوں کی دوا، بے چین دلوں کا سکون اور نسلوں کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ اسی کے ذریعے ایک خوش گوار معاشرے کی تشکیل ممکن ہوتی ہے۔

ہمارا معاشرہ اور علمِ دین سے دوری

دورِ حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے دلوں میں علم کی قدر و منزلت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو نہ خود علمِ دین حاصل کرتے ہیں، نہ اپنی اولاد، بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کو اس کی ترغیب دیتے ہیں۔ موجودہ حالات علمِ دین کی اہمیت و ضرورت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ہمارے یہاں دین سے دوری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بہت سے لوگ نماز اور روزے کے ضروری مسائل اور ان کی درست ادائیگی کے طریقوں سے بھی ناواقف ہیں۔
آج ہمارا نوجوان علمِ دین سے دور اور عصری علوم سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ قوم کے بہت سے افراد دینی تعلیم سے دور رہتے ہوئے عصری علوم میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ فی زمانہ بعض عصری تعلیمی اداروں میں جس فلسفۂ حیات کی تعلیم و تبلیغ کی جاتی ہے، اس میں مادہ پرستی، آزاد خیالی، نفس پرستی اور مذہب بیزاری جیسے رجحانات نمایاں ہیں، جو انسان کو اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سے دور کرتے ہیں۔ ان رجحانات کا مقابلہ کرنے اور دینِ حق پر ثابت قدم رہتے ہوئے ان کے مضر اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے علمِ دین کا حصول اشد ضروری ہے۔
میرا مقصد یہ نہیں کہ یہ تمام خرابیاں بذاتِ خود عصری تعلیم کا نتیجہ ہیں، لیکن مغربی تہذیب کے عصری تعلیم پر غالب ہونے کے باعث بالواسطہ طور پر یہ رجحانات بھی اس سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ مغرب سے مرعوبیت، اپنے مذہبی و تہذیبی ورثے کے بارے میں احساسِ کمتری، دل و دماغ میں دین کی عظمت کا کم ہو جانا اور اسلام کے بنیادی عقائد و احکام کے متعلق شکوک و شبہات اور تذبذب کا پیدا ہونا، وہ مسائل ہیں جو عصری تعلیم کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔
چونکہ عصری تعلیم کا حتمی مقصد بھی بہت سے لوگوں کے نزدیک محض اقتصادی ترقی، آسائش بھری زندگی کا حصول اور عیش کوشی بن کر رہ گیا ہے، اس لیے طلبہ میں دولت کی حرص و ہوس پیدا ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں حلال و حرام کی تمیز کھو دینے کا رجحان بھی عام طور پر مشاہدے میں آتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عصری تعلیم اور مغربی تہذیب کے یہ منفی اثرات ہمارے معاشرے میں نہ ہونے کے برابر ہوتے، لیکن افسوس کہ یہ اثرات ہمارے معاشرے میں بھی نمایاں ہیں اور مسلم معاشرہ بھی ان سے متاثر ہو رہا ہے۔
آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ کون سی کمی ہے جس نے ہمارے معاشرے کو اس حال تک پہنچا دیا ہے؟ پردۂ دل سے اس سوال کا جو جواب ابھرتا ہے، وہ یہی ہے کہ یہ کمی علمِ دین کی ہے، قرآن کی تعلیم سے دوری کی ہے اور احکامِ خدا و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم سے بے اعتنائی کی ہے۔ اسی کمی نے ہمارے اس معاشرے، اس چمن کو، جو کبھی علم و فضل اور ترقی کا گہوارہ ہوا کرتا تھا، آج اس حال تک پہنچا دیا ہے۔
اگر آج ہمارا معاشرہ دینی تعلیم کے حصول میں بھی اسی تندہی اور انہماک کا مظاہرہ کرے جو اکثر عصری علوم حاصل کرنے کے لیے دیکھنے میں آتا ہے، تو یقیناً ہم جہالت کی تاریکی سے نکل کر ایک نئی ترقی کی جہت اپنا سکتے ہیں اور اپنی دنیاوی و اخروی کامیابی کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں۔
دینی تعلیم کی کمی نے ہمارے معاشرے کو اس قدر بد نظمی سے دوچار کر دیا ہے کہ خدا خیر کرے! ہمارے اسلاف کی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ انہیں جب بھی کوئی نعمت حاصل ہوتی تو وہ اللہ عزوجل کا شکر بجا لاتے، اور جب پریشانیاں پیش آتیں تو صبر سے کام لیتے۔ ان کی زندگیوں سے حد درجہ عاجزی و انکساری نمایاں ہوتی تھی، خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز کیوں نہ ہوتے۔
لیکن آج ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہماری عوام کو اگر کوئی مشکل پیش آ جائے تو بعض لوگ اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے، اور اگر کوئی نعمت حاصل ہو جائے تو اللہ عزوجل کو فراموش کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ہمارے معاشرے کا کوئی فرد اگر چھوٹے سے عہدے پر بھی فائز ہو جائے تو سب سے پہلے دین کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، احکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی کرتا ہے، مذہبی وضع قطع ترک کر دیتا ہے اور پوری طرح اپنے آپ کو مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھالنے لگتا ہے۔ بعض حضرات تو اس حد تک آگے نکل جاتے ہیں کہ معاذ اللہ، کفریہ کلمات کہنے اور کفریہ شعار اپنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
یہ صورتِ حال علمِ دین کی کمی اور مسلمانوں کے اندر دینی شعور و شغف کے فقدان کی نشان دہی کرتی ہے۔ اگر لوگ دینی تعلیم حاصل کریں، دین کی عظمت و رفعت کو پہچانیں اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں، تو ایسی حرکات سے بچنے کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔
علاوہ ازیں، ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی برائیاں پنپ رہی ہیں جو دیمک کی طرح اسے اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں۔ چوری، ڈکیتی، لڑائی جھگڑا، شراب نوشی، جوئے بازی، ہم جنس پرستی، زناکاری، بدکاری، بد اخلاقی، بدکرداری، خیانت اور باہمی عداوت۔۔۔۔۔ آخر کون سی ایسی برائی ہے جس نے ہمارے معاشرے کو بدنام نہیں کر رکھا؟ ان برائیوں کے اسباب متعدد ہو سکتے ہیں، لیکن علمِ دین سے دوری ان کے فروغ کا ایک اہم سبب ہے۔ اگر لوگ علمِ دین حاصل کریں تو انہیں معلوم ہو کہ کون سے اعمال برے اور ممنوع ہیں اور ان کے ارتکاب پر آخرت میں کیا وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ مگر افسوس! نہ ہمارے معاشرے میں علم حاصل کرنے کا شوق عام ہے اور نہ ہی علم حاصل کرنے والوں کو وہ قدر و منزلت حاصل ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔

علمِ دین کی ناقدری اور اس کے نتائج

معاندینِ اسلام نے معاشرے میں علمِ دین کے خلاف اس قدر زہر گھول دیا ہے کہ آج اپنے لوگ بھی علم کی تحقیر کرنے لگے ہیں۔ آپ نے ڈیجیٹل ڈاکٹر یا جاہل انجینئر جیسی اصطلاحات نہ سنی ہوں گی، لیکن ڈیجیٹل ملا اور جاہل مولوی جیسے الفاظ روز سننے کو ملتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہماری اپنی کوتاہیوں کا بھی دخل ہے۔ ہم نے اپنے افعال و کردار سے معاندینِ اسلام کے پروپیگنڈے کو تقویت پہنچائی ہے۔ ہم نے نہ علم کی قدر کی، نہ اس کی عظمت و فضیلت کو نمایاں کیا، بلکہ اسے محض ذریعۂ معاش بنا کر رکھ دیا۔ علم کی عظمت و برتری کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کرنے کے بجائے بعض اہلِ علم کے طرزِ عمل نے اس کی ناقدری کو بڑھاوا دیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج اہلِ علم کے ایک طبقے کو معاشرے میں تحقیر و تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالاں کہ ہم اس امت سے تعلق رکھتے ہیں جسے علم و ہدایت کی عظیم میراث عطا کی گئی ہے۔
شاعر کہتا ہے:
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ صَانُوهُ صَانَهُمْ
وَلَوْ عَظَّمُوهُ فِي النُّفُوسِ لَعُظِّمَا
وَلَكِنْ أَهَانُوهُ فَهَانُوا، وَدَنَّسُوا
مُحَيَّاهُ بِالْأَطْمَاعِ حَتَّى تَجَهَّمَا

ترجمہ: اگر اہلِ علم علم کی حفاظت کرتے تو علم بھی ان کی حفاظت کرتا، اور اگر وہ اسے دلوں میں عظمت و وقار کا مقام دیتے تو اسے بھی عظمت حاصل ہوتی۔ لیکن انہوں نے اسے حقیر سمجھا تو خود بھی بے وقعت ہو گئے، اور لالچ و طمع کی آلودگیوں سے اس کے چہرے کو داغ دار کر دیا، یہاں تک کہ اس کی رونق ماند پڑ گئی۔ نتیجتاً، اہلِ علم بھی اپنی قدر و منزلت کھوتے چلے گئے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
الغرض، علمِ دین کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ انسان کے عقائد و اعمال کی اصلاح، اس کے کردار کی تعمیر اور معاشرے کی فکری و اخلاقی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جب افراد علمِ دین سے وابستہ ہوں گے، اس کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو سنواریں گے اور اس کے تقاضوں پر عمل کریں گے، تبھی معاشرے میں حقیقی اصلاح کی راہیں کھلیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم خود بھی علمِ دین حاصل کریں، اپنی اولاد اور متعلقین کو اس کی ترغیب دیں، اہلِ علم کی قدر کریں اور علم کو محض حصولِ معاش کا وسیلہ بنانے کے بجائے اصلاحِ نفس اور خدمتِ دین کا ذریعہ سمجھیں۔
اللہ عزوجل ہمارے معاشرے میں علم کی بہاریں عطا فرمائے، ہم سب کو علمِ دین حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسے صحیح انداز میں لوگوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ أجمعین۔
از قلم: محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
20
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

بے نام اداسی کے دن

*دعوت و تبلیغ میں قلم کی اہمیت و افادیت*

پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ کریں

اس تحریر کے بارے میں اپنی قیمتی رائے دیجئے

1
2
3
4
5
| 5 | 3

اپنی قیمتی رائے اور تاثرات پیش کریں!

آپ کی رائے اور تاثرات ہمارے لیے باعث حوصلہ ہے

آپ کا بہت شکریہ!

نیچے تاثرات بھی ضرور لکھیں

تفصیلی جائزہ

5
3
4
0
3
0
2
0
1
0
اپنا قیمتی تاثر یہاں تحریر کریں...

قارئین کے تاثرات 0

ابھی تک کوئی تاثر نہیں۔ آپ پہل کریں!

ذاتی معلومات / Personal Details

(موبائل نمبر اور ڈیٹا 100% محفوظ و خفیہ رہے گا)

مکمل نامFull Name
ملکCountry
ریاست / صوبہState
ضلع / شہرDistrict
واٹس ایپ نمبرWhatsApp No.

اپنا قیمتی تاثر تحریر کریں

Words: 0 / 250

جوابات

بے حد شکریہ!

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 50

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 92 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 74 | Poetry: 119
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 37 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Razaullah Quadri Markazi

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
50
زمرجات
ادبیات 91
اصلاح معاشرہ 55
شخصیات اسلاف واخلاف 54
تحقیق و تعاقب 35
عقائد و نظریات 27
سیرت النبی ﷺ 23
احوال قوم وملت 23
تاثرات 22
فقہ وفتاویٰ 22
متفرقات 16
احوال وطن 14
رد دیوبندیت ووہابیت 13
اسلامیات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
ترغیبات 7
رد بدمذہباں 7
عبادات 5
تاریخی حقائق 5
رضویات 5
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 2
اوراد و وظائف 1
مختصرات 1
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
روداد مناظرہ 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢

مالی تعاون ضرور کریں

یہ ویب سائٹ اشتہارات ایڈ وغیرہ سے پاک ہے؛ آپ کا تعاون ہمارے مقصد کو تقویت دینے اور علماء اہلسنت و جماعت کے پیغامات کو بروئے کار لانے میں معاون ثابت ہوگا۔

Pay via UPI

Md Abul Kalam Azad
94573866667@ybl

Bank of Baroda

Name: MD ABUL KALAM AZAD
A/C No:
39928100077612
IFSC:
BARB0KALIAC

Punjab National Bank

Name: MD ABUL KALAM AZAD
A/C No:
2011201700025377
IFSC:
PUNB0201120

رسید (Screenshot) شیئر کریں

ادائیگی مکمل ہونے کے بعد، براہِ کرم رسید (سکرین شاٹ) ہمارے واٹس ایپ گروپ یا دیے گئے نمبر پر ضرور ارسال کریں۔

AI
رضا اے آئی چیٹ بوٹ
آن لائن • براہِ راست تلاش و علمی سوال و جواب
محفوظ شدہ ہسٹری
کسی بھی لفظ یا سوال پر کلک کر کے دوبارہ دیکھیں