صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
آئینے میں کھڑا ہوا ایک اجنبی(صدیوں کے جھروکوں سے)
ادبیات

آئینے میں کھڑا ہوا ایک اجنبی(صدیوں کے جھروکوں سے)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

آئینے میں کھڑا ہوا ایک اجنبی (صدیوں کے جھروکوں سے)
کبھی کبھی انسان اپنے ہی چہرے کے سامنے آ کر ٹھٹک جاتا ہے۔ آئینہ وہی ہوتا ہے، کمرہ وہی، نگاہیں بھی اپنی ہی ہوتی ہیں؛ مگر جانے کیوں سامنے کھڑا شخص پہچانا ہوا نہیں لگتا۔ آنکھیں مانوس ہوتی ہیں، پیشانی پر گزرتے موسموں کی لکیریں بھی اپنی ہوتی ہیں، ہونٹوں پر ٹھہری ہوئی خاموشی بھی جانی پہچانی ہوتی ہے، لیکن پھر بھی دل کے کسی کونے سے ایک سوال اٹھتا ہے: یہ شخص کون ہے؟ زندگی کا سب سے عجیب لمحہ وہ نہیں جب دنیا ہمیں پہچاننے سے انکار کر دے، بلکہ وہ ہے جب ہم خود اپنے آپ سے اجنبی ہو جائیں۔
بچپن میں آئینہ ہمارے لیے محض ایک کھیل تھا۔ ہم اس میں اپنا چہرہ دیکھتے، بال سنوارتے، مسکراتے اور پھر دوڑ کر اپنی دنیا میں واپس چلے جاتے۔ تب چہرے پر کوئی نقاب نہ تھا اور دل پر کوئی بوجھ نہیں۔ آنکھوں میں خواب تھے، جنہیں پورا کرنے کی جلدی نہ تھی؛ خواہشیں تھیں، جن پر دنیا کی مصلحتوں کا غبار نہیں بیٹھا تھا۔ ہم جو سوچتے تھے، وہی کہتے تھے؛ جو محسوس کرتے تھے، اسے چھپانے کا ہنر نہیں جانتے تھے۔
پھر زندگی نے ہمیں آہستہ آہستہ بدلنا شروع کیا۔ کبھی کہا، اتنے سادہ مت بنو۔ کبھی سمجھایا، ہر بات دل پر نہ لیا کرو۔
کبھی بتایا، دنیا میں چہرے پڑھنے سے زیادہ چہرے بدلنے کا ہنر ضروری ہے۔ اور ہم نے سیکھ لیا۔ ہم نے مسکراہٹ کو تہذیب بنا لیا، خاموشی کو مصلحت، آنکھوں کی نمی کو کمزوری اور دل کی بات کو راز بنا لیا۔ رفتہ رفتہ ہمارے اندر ایک ایسا شخص پیدا ہونے لگا جو لوگوں کی پسند کے مطابق جیتا تھا۔ وہ خوش دکھائی دیتا تھا، حالاں کہ اندر کہیں اداسی کا چراغ ٹمٹما رہا ہوتا۔ وہ سب کو تسلی دیتا تھا، مگر اپنے زخموں کے لیے اس کے پاس کوئی مرہم نہ تھا۔ دنیا نے اسے کامیاب کہا، مگر وہ خود سے پوچھتا رہا کہ میں کہاں ہوں؟
کبھی فرصت کے کسی لمحے میں جب وہ اپنے سامنے آئینے کو رکھ کر دیر تک دیکھتا ہے تو اسے چہرے پر عمر سے زیادہ تجربے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ خواب آنکھوں کے کناروں پر دم توڑ چکے ہوتے ہیں، کچھ خواہشیں وقت کی الماری میں بند پڑی ہوتی ہیں، کچھ رشتوں کے نام دل سے مٹ چکے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں مٹانے کی کوشش میں دل مزید زخمی ہو جاتا ہے۔ آئینہ صرف چہرہ دکھاتا ہے؛ زندگی انسان کو اس کا باطن دکھاتی ہے۔ اور باطن کا آئینہ کبھی کبھی بہت بے رحم ہوتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: تم جو بن گئے ہو، کیا واقعی یہی بننا چاہتے تھے؟ تم جن لوگوں کو خوش کرنے کے لیے خود کو بدلتے رہے، کیا وہ آج بھی تمہارے ساتھ ہیں؟ جن راستوں پر چل کر تم نے منزل پانے کا خواب دیکھا تھا، کیا وہ راستے تمہیں تمہارے اصل وجود تک لے گئے؟ اور سب سے بڑھ کر: کیا تمہیں اب بھی اپنا آپ یاد ہے؟
یہ سوال بظاہر چھوٹا ہے، مگر اس کے اندر ایک پوری زندگی سانس لیتی ہے۔ ہم اکثر لوگوں کو کھونے سے ڈرتے ہیں، مگر اس سے زیادہ خطرناک یہ ہے کہ کسی کو بچاتے بچاتے ہم خود کو کھو دیں۔ دوسروں کی توقعات کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اپنے دل کی آواز دبا دیں۔ معاشرے کی نگاہ میں اچھا بننے کی کوشش میں اپنی روح کی روشنی مدھم کر دیں۔ پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے، مگر وہ شخص نہیں جس کے خواب کبھی ہماری آنکھوں میں رہا کرتے تھے۔
کچھ لوگ اپنی عمر کے ساتھ نہیں، اپنی خاموشیوں کے ساتھ بوڑھے ہوتے ہیں۔ ان کے بال شاید سیاہ رہیں، چہرے پر بہار کی ہلکی سی رونق بھی باقی ہو، لباس میں نفاست اور گفتگو میں شائستگی بھی ہو؛ مگر اندر کہیں ایک تھکا ہوا مسافر اپنی منزل کی تلاش میں بیٹھا ہوتا ہے۔ وہ ہجوم میں چلتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، قہقہے سنتا ہے، محفلیں سجاتا ہے، مگر رات کی تنہائی میں جب شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے بجھنے لگتی ہیں تو اس کے اندر کا اندھیرا جاگ اٹھتا ہے۔ تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ تنہائی ہمیشہ لوگوں کی غیر موجودگی کا نام نہیں؛ کبھی کبھی اپنے آپ کی عدم موجودگی بھی تنہائی ہوتی ہے۔
ہم نے زندگی میں نہ جانے کتنے کردار ادا کیے ہیں۔ کسی کے لیے مضبوط بنے، کسی کے لیے سمجھ دار، کسی کے لیے خاموش، کسی کے لیے خوش مزاج۔ کبھی بیٹے کا کردار، کبھی دوست کا، کبھی استاد کا، کبھی شاگرد کا، کبھی ہم راز کا، کبھی تسلی دینے والے کا۔ مگر ان تمام کرداروں کے پیچھے ایک شخص ایسا بھی تھا جسے ہم نے شاید سب سے کم وقت دیا: خود کو۔ ہم نے سب کے پیغامات کے جواب دیے، مگر اپنے دل کی دستک کو نظر انداز کیا۔ سب کے دکھ سنے، مگر اپنے اندر کے شور کو خاموش کرا دیا۔ سب کے لیے وقت نکالا، مگر اپنے وجود کے لیے چند لمحے بھی نہ بچا سکے۔
پھر ایک دن آئینہ سامنے آیا۔ وہ خاموش تھا، مگر اس کی خاموشی میں ایک پوری گفتگو تھی۔ چہرہ کہہ رہا تھا: میں وہی ہوں۔ دل کہہ رہا تھا: نہیں، تم بہت بدل گئے ہو۔ یادیں کہہ رہی تھیں: ہمیں پہچانتے ہو؟ اور ماضی ایک پرانے دریچے سے جھانک کر پوچھ رہا تھا: کیا تمہیں وہ شخص یاد ہے جو کبھی تم ہوا کرتے تھے؟
شاید وہ شخص کہیں گیا نہیں۔ وہ ہمارے اندر ہی کسی کمرے میں بیٹھا ہے۔ بس دروازے پر وقت نے گرد جما دی ہے۔ ذمہ داریوں نے کنڈی چڑھا دی ہے، مصلحتوں نے کھڑکیاں بند کر دی ہیں اور دنیا کی آوازوں نے اس کی آہٹ دبا دی ہے۔
ضرورت صرف اتنی ہے کہ کبھی خاموش بیٹھ کر اس دروازے پر دستک دی جائے۔ کبھی اپنے بچپن کے خوابوں سے ملاقات کی جائے۔ کبھی ان خواہشوں کو یاد کیا جائے جنہیں ہم نے صرف اس لیے دفن کر دیا تھا کہ دنیا انہیں پسند نہیں کرتی تھی۔ کبھی اس شخص سے معافی مانگی جائے جسے ہم نے دوسروں کو خوش کرنے کے لیے بار بار نظر انداز کیا: یعنی اپنے آپ سے۔
خود شناسی شاید یہی ہے کہ انسان دنیا کی بھیڑ سے چند قدم پیچھے ہٹ کر اپنے اندر کے آئینے کے سامنے کھڑا ہو جائے۔
وہاں نہ تعریف کام آتی ہے، نہ شہرت، نہ دولت، نہ لوگوں کی بنائی ہوئی کوئی تصویر۔
وہاں صرف انسان ہوتا ہے اور اس کا رب۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وہاں چہرے کے بجائے کردار دکھائی دیتا ہے، لباس کے بجائے نیت، الفاظ کے بجائے سچائی اور ظاہری مسکراہٹ کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ اصل خوب صورتی چہرے کے نقوش میں نہیں، دل کے آئینے کی صفائی میں ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں اجنبی شخص آہستہ آہستہ مانوس ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں میں دوبارہ وہی روشنی تلاش کرتا ہے جو کبھی خوابوں کے ساتھ پیدا ہوئی تھی۔ وہ اپنے دل سے گرد جھاڑتا ہے، ماضی کے بوجھ کو آہستہ سے زمین پر رکھ دیتا ہے اور آئینے میں دیکھ کر خود سے کہتا ہے: تم بدل گئے ہو، مگر ختم نہیں ہوئے۔ اب بھی واپسی ممکن ہے۔
اب بھی دل کے ویران صحن میں چراغ جلایا جا سکتا ہے۔ اب بھی زندگی کی کتاب میں ایک نیا باب لکھا جا سکتا ہے۔ اب بھی کچھ خواب قبروں سے نکل کر آسمان دیکھ سکتے ہیں۔ اب بھی انسان اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ کر ایک نئی سمت میں قدم رکھ سکتا ہے۔ آخر زندگی صرف یہ نہیں کہ ہم کتنی دور پہنچے؛ کبھی کبھی یہ بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ چلتے چلتے ہم خود سے کتنی دور نکل آئے۔ آئینہ آج بھی وہیں ہے۔ ہم اس کے سامنے بھی وہی کھڑے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شاید آج پہلی بار ہمیں اپنے چہرے کے پیچھے چھپا ہوا انسان دکھائی دے رہا ہے۔ وہ اجنبی، جس سے برسوں سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اور جب اس سے نگاہ ملتی ہے تو دل بے اختیار کہتا ہے: آؤ، پھر سے دوست بن جائیں؛ بہت وقت گزر گیا ہے۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری)

آئینے میں کھڑا ہوا ایک اجنبی(صدیوں کے جھروکوں سے)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

آئینے میں کھڑا ہوا ایک اجنبی (صدیوں کے جھروکوں سے)
کبھی کبھی انسان اپنے ہی چہرے کے سامنے آ کر ٹھٹک جاتا ہے۔ آئینہ وہی ہوتا ہے، کمرہ وہی، نگاہیں بھی اپنی ہی ہوتی ہیں؛ مگر جانے کیوں سامنے کھڑا شخص پہچانا ہوا نہیں لگتا۔ آنکھیں مانوس ہوتی ہیں، پیشانی پر گزرتے موسموں کی لکیریں بھی اپنی ہوتی ہیں، ہونٹوں پر ٹھہری ہوئی خاموشی بھی جانی پہچانی ہوتی ہے، لیکن پھر بھی دل کے کسی کونے سے ایک سوال اٹھتا ہے: یہ شخص کون ہے؟ زندگی کا سب سے عجیب لمحہ وہ نہیں جب دنیا ہمیں پہچاننے سے انکار کر دے، بلکہ وہ ہے جب ہم خود اپنے آپ سے اجنبی ہو جائیں۔
بچپن میں آئینہ ہمارے لیے محض ایک کھیل تھا۔ ہم اس میں اپنا چہرہ دیکھتے، بال سنوارتے، مسکراتے اور پھر دوڑ کر اپنی دنیا میں واپس چلے جاتے۔ تب چہرے پر کوئی نقاب نہ تھا اور دل پر کوئی بوجھ نہیں۔ آنکھوں میں خواب تھے، جنہیں پورا کرنے کی جلدی نہ تھی؛ خواہشیں تھیں، جن پر دنیا کی مصلحتوں کا غبار نہیں بیٹھا تھا۔ ہم جو سوچتے تھے، وہی کہتے تھے؛ جو محسوس کرتے تھے، اسے چھپانے کا ہنر نہیں جانتے تھے۔
پھر زندگی نے ہمیں آہستہ آہستہ بدلنا شروع کیا۔ کبھی کہا، اتنے سادہ مت بنو۔ کبھی سمجھایا، ہر بات دل پر نہ لیا کرو۔
کبھی بتایا، دنیا میں چہرے پڑھنے سے زیادہ چہرے بدلنے کا ہنر ضروری ہے۔ اور ہم نے سیکھ لیا۔ ہم نے مسکراہٹ کو تہذیب بنا لیا، خاموشی کو مصلحت، آنکھوں کی نمی کو کمزوری اور دل کی بات کو راز بنا لیا۔ رفتہ رفتہ ہمارے اندر ایک ایسا شخص پیدا ہونے لگا جو لوگوں کی پسند کے مطابق جیتا تھا۔ وہ خوش دکھائی دیتا تھا، حالاں کہ اندر کہیں اداسی کا چراغ ٹمٹما رہا ہوتا۔ وہ سب کو تسلی دیتا تھا، مگر اپنے زخموں کے لیے اس کے پاس کوئی مرہم نہ تھا۔ دنیا نے اسے کامیاب کہا، مگر وہ خود سے پوچھتا رہا کہ میں کہاں ہوں؟
کبھی فرصت کے کسی لمحے میں جب وہ اپنے سامنے آئینے کو رکھ کر دیر تک دیکھتا ہے تو اسے چہرے پر عمر سے زیادہ تجربے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ خواب آنکھوں کے کناروں پر دم توڑ چکے ہوتے ہیں، کچھ خواہشیں وقت کی الماری میں بند پڑی ہوتی ہیں، کچھ رشتوں کے نام دل سے مٹ چکے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں مٹانے کی کوشش میں دل مزید زخمی ہو جاتا ہے۔ آئینہ صرف چہرہ دکھاتا ہے؛ زندگی انسان کو اس کا باطن دکھاتی ہے۔ اور باطن کا آئینہ کبھی کبھی بہت بے رحم ہوتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: تم جو بن گئے ہو، کیا واقعی یہی بننا چاہتے تھے؟ تم جن لوگوں کو خوش کرنے کے لیے خود کو بدلتے رہے، کیا وہ آج بھی تمہارے ساتھ ہیں؟ جن راستوں پر چل کر تم نے منزل پانے کا خواب دیکھا تھا، کیا وہ راستے تمہیں تمہارے اصل وجود تک لے گئے؟ اور سب سے بڑھ کر: کیا تمہیں اب بھی اپنا آپ یاد ہے؟
یہ سوال بظاہر چھوٹا ہے، مگر اس کے اندر ایک پوری زندگی سانس لیتی ہے۔ ہم اکثر لوگوں کو کھونے سے ڈرتے ہیں، مگر اس سے زیادہ خطرناک یہ ہے کہ کسی کو بچاتے بچاتے ہم خود کو کھو دیں۔ دوسروں کی توقعات کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اپنے دل کی آواز دبا دیں۔ معاشرے کی نگاہ میں اچھا بننے کی کوشش میں اپنی روح کی روشنی مدھم کر دیں۔ پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے، مگر وہ شخص نہیں جس کے خواب کبھی ہماری آنکھوں میں رہا کرتے تھے۔
کچھ لوگ اپنی عمر کے ساتھ نہیں، اپنی خاموشیوں کے ساتھ بوڑھے ہوتے ہیں۔ ان کے بال شاید سیاہ رہیں، چہرے پر بہار کی ہلکی سی رونق بھی باقی ہو، لباس میں نفاست اور گفتگو میں شائستگی بھی ہو؛ مگر اندر کہیں ایک تھکا ہوا مسافر اپنی منزل کی تلاش میں بیٹھا ہوتا ہے۔ وہ ہجوم میں چلتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، قہقہے سنتا ہے، محفلیں سجاتا ہے، مگر رات کی تنہائی میں جب شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے بجھنے لگتی ہیں تو اس کے اندر کا اندھیرا جاگ اٹھتا ہے۔ تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ تنہائی ہمیشہ لوگوں کی غیر موجودگی کا نام نہیں؛ کبھی کبھی اپنے آپ کی عدم موجودگی بھی تنہائی ہوتی ہے۔
ہم نے زندگی میں نہ جانے کتنے کردار ادا کیے ہیں۔ کسی کے لیے مضبوط بنے، کسی کے لیے سمجھ دار، کسی کے لیے خاموش، کسی کے لیے خوش مزاج۔ کبھی بیٹے کا کردار، کبھی دوست کا، کبھی استاد کا، کبھی شاگرد کا، کبھی ہم راز کا، کبھی تسلی دینے والے کا۔ مگر ان تمام کرداروں کے پیچھے ایک شخص ایسا بھی تھا جسے ہم نے شاید سب سے کم وقت دیا: خود کو۔ ہم نے سب کے پیغامات کے جواب دیے، مگر اپنے دل کی دستک کو نظر انداز کیا۔ سب کے دکھ سنے، مگر اپنے اندر کے شور کو خاموش کرا دیا۔ سب کے لیے وقت نکالا، مگر اپنے وجود کے لیے چند لمحے بھی نہ بچا سکے۔
پھر ایک دن آئینہ سامنے آیا۔ وہ خاموش تھا، مگر اس کی خاموشی میں ایک پوری گفتگو تھی۔ چہرہ کہہ رہا تھا: میں وہی ہوں۔ دل کہہ رہا تھا: نہیں، تم بہت بدل گئے ہو۔ یادیں کہہ رہی تھیں: ہمیں پہچانتے ہو؟ اور ماضی ایک پرانے دریچے سے جھانک کر پوچھ رہا تھا: کیا تمہیں وہ شخص یاد ہے جو کبھی تم ہوا کرتے تھے؟
شاید وہ شخص کہیں گیا نہیں۔ وہ ہمارے اندر ہی کسی کمرے میں بیٹھا ہے۔ بس دروازے پر وقت نے گرد جما دی ہے۔ ذمہ داریوں نے کنڈی چڑھا دی ہے، مصلحتوں نے کھڑکیاں بند کر دی ہیں اور دنیا کی آوازوں نے اس کی آہٹ دبا دی ہے۔
ضرورت صرف اتنی ہے کہ کبھی خاموش بیٹھ کر اس دروازے پر دستک دی جائے۔ کبھی اپنے بچپن کے خوابوں سے ملاقات کی جائے۔ کبھی ان خواہشوں کو یاد کیا جائے جنہیں ہم نے صرف اس لیے دفن کر دیا تھا کہ دنیا انہیں پسند نہیں کرتی تھی۔ کبھی اس شخص سے معافی مانگی جائے جسے ہم نے دوسروں کو خوش کرنے کے لیے بار بار نظر انداز کیا: یعنی اپنے آپ سے۔
خود شناسی شاید یہی ہے کہ انسان دنیا کی بھیڑ سے چند قدم پیچھے ہٹ کر اپنے اندر کے آئینے کے سامنے کھڑا ہو جائے۔
وہاں نہ تعریف کام آتی ہے، نہ شہرت، نہ دولت، نہ لوگوں کی بنائی ہوئی کوئی تصویر۔
وہاں صرف انسان ہوتا ہے اور اس کا رب۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وہاں چہرے کے بجائے کردار دکھائی دیتا ہے، لباس کے بجائے نیت، الفاظ کے بجائے سچائی اور ظاہری مسکراہٹ کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ اصل خوب صورتی چہرے کے نقوش میں نہیں، دل کے آئینے کی صفائی میں ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں اجنبی شخص آہستہ آہستہ مانوس ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں میں دوبارہ وہی روشنی تلاش کرتا ہے جو کبھی خوابوں کے ساتھ پیدا ہوئی تھی۔ وہ اپنے دل سے گرد جھاڑتا ہے، ماضی کے بوجھ کو آہستہ سے زمین پر رکھ دیتا ہے اور آئینے میں دیکھ کر خود سے کہتا ہے: تم بدل گئے ہو، مگر ختم نہیں ہوئے۔ اب بھی واپسی ممکن ہے۔
اب بھی دل کے ویران صحن میں چراغ جلایا جا سکتا ہے۔ اب بھی زندگی کی کتاب میں ایک نیا باب لکھا جا سکتا ہے۔ اب بھی کچھ خواب قبروں سے نکل کر آسمان دیکھ سکتے ہیں۔ اب بھی انسان اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ کر ایک نئی سمت میں قدم رکھ سکتا ہے۔ آخر زندگی صرف یہ نہیں کہ ہم کتنی دور پہنچے؛ کبھی کبھی یہ بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ چلتے چلتے ہم خود سے کتنی دور نکل آئے۔ آئینہ آج بھی وہیں ہے۔ ہم اس کے سامنے بھی وہی کھڑے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شاید آج پہلی بار ہمیں اپنے چہرے کے پیچھے چھپا ہوا انسان دکھائی دے رہا ہے۔ وہ اجنبی، جس سے برسوں سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اور جب اس سے نگاہ ملتی ہے تو دل بے اختیار کہتا ہے: آؤ، پھر سے دوست بن جائیں؛ بہت وقت گزر گیا ہے۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
34
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 63
Kalam 60
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

سرکار اعلیٰ حضرت بحیثیتِ فقیہ

اٹھائیس_کا_چاند،اٹھارہ اونٹ اورخواجئہ علم و فن

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢