صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
فیصلہ کرنے سے پہلے
ادبیات

فیصلہ کرنے سے پہلے

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

فیصلہ کرنے سے پہلے
انسان کی زندگی میں بہت سے تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں، مگر ان تعلقات کو تباہ کرنے والی سب سے خطرناک چیز ”غلط فہمی“ ہے۔ ایک لمحے کی غلط سوچ، ایک ادھوری بات، یا کسی کے رویّے کا غلط مطلب نکال لینا، برسوں کی محبت اور اعتماد کو ختم کر دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج ہم حقیقت جاننے سے پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں اور یہی جلد بازی بعد میں ندامت کا سبب بنتی ہے۔
ہم کسی سے بات کریں اور وہ معمول سے کم بولے یا اداس لہجے میں جواب دے، تو فوراً یہ خیال آتا ہے کہ ”یہ تو بڑا مغرور ہے، اس میں تکبر آ گیا ہے، اب بات کرنا پسند نہیں کرتا۔“ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے وہ کسی گھریلو پریشانی میں مبتلا ہو، کسی عزیز کی بیماری نے اسے غمگین کر رکھا ہو، مالی تنگی سے گزر رہا ہو، خود اپنی کسی ذہنی کشمکش سے لڑ رہا ہو، یا کسی کام میں مشغول ہو۔ اس کے ایک مختصر جواب سے اس کی پوری شخصیت کا فیصلہ کر دینا انصاف نہیں۔
اسی طرح اگر کوئی سلام کا جواب پہلے جیسی گرم جوشی سے نہ دے تو فوراً دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے کہ شاید وہ ناراض ہے یا ہمیں حقیر سمجھنے لگا ہے، جبکہ ممکن ہے وہ کسی گہری سوچ میں ہو، طبیعت ناساز ہو یا اس نے ہماری آواز ہی نہ سنی ہو۔
بسا اوقات کوئی دوست ہمارے پیغام کا جواب دیر سے دیتا ہے تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہمیں نظر انداز کر رہا ہے، حالانکہ وہ کام میں مصروف ہو سکتا ہے، سفر میں ہو، فون خراب ہو، یا کسی ایسی مجبوری میں ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو۔
اگر کوئی شخص ہماری دعوت قبول نہ کرے تو فوراً یہ گمان کرنا کہ اس نے ہماری بے عزتی کی ہے، درست نہیں۔ ممکن ہے اس کے پاس واقعی وقت نہ ہو، طبیعت خراب ہو یا کوئی ضروری مصروفیت آ گئی ہو۔
کبھی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نہ ہو تو ہم اسے بدتمیز یا سخت مزاج قرار دے دیتے ہیں، حالانکہ ہر خاموش شخص مغرور نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ اپنے دکھ چہرے پر لیے پھرتے ہیں مگر کسی سے بیان نہیں کرتے۔
بعض اوقات استاد طالب علم کو ڈانٹ دیتے ہیں تو طالب علم سمجھتا ہے کہ استاد مجھ سے نفرت کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ اسی کی اصلاح اور کامیابی چاہتے ہیں۔
والدین اگر کسی بات سے روکیں تو اولاد سمجھتی ہے کہ وہ میری آزادی کے دشمن ہیں، حالانکہ ان کی روک ٹوک میں محبت، تجربہ اور خیرخواہی پوشیدہ ہوتی ہے۔
اسلام نے ہمیں بدگمانی سے سختی کے ساتھ بچنے کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ
اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔ (حجرات-١٢)
حدیثِ مبارکہ میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ
بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ [صحيح البخاری، كتاب الأدب، ح: 6066]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایک سمجھ دار انسان وہی ہے جو دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھے، حقیقت معلوم کیے بغیر فیصلہ نہ کرے، اور ہر رویّے کے پیچھے کسی مجبوری کا احتمال بھی ذہن میں رکھے۔ یاد رکھیے! ہر خاموش شخص مغرور نہیں ہوتا، ہر دیر سے جواب دینے والا بے وفا نہیں ہوتا، ہر سخت لہجہ نفرت کی علامت نہیں ہوتا، اور ہر انکار بے قدری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان کے دل میں ایسے طوفان برپا ہوتے ہیں جن کی خبر صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتی ہے۔
اگر ہم اپنے دل سے بدگمانی نکال دیں، دوسروں کے لیے حسنِ ظن پیدا کریں، اور فیصلہ کرنے سے پہلے حقیقت جاننے کی عادت ڈال لیں، تو نہ صرف ہمارے تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ ہمارا اپنا دل بھی سکون میں رہے گا۔ غلط فہمی کا علاج سوال، حسنِ ظن اور صبر ہے، جبکہ اس کا وبال تنہائی، نفرت اور پشیمانی ہے۔ مولیٰ عزوجل کرم فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔
از: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
80
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اخلاق کریمانہ

محسن اہلسنت حضور قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ

فیصلہ کرنے سے پہلے - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

فیصلہ کرنے سے پہلے

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

فیصلہ کرنے سے پہلے

انسان کی زندگی میں بہت سے تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں، مگر ان تعلقات کو تباہ کرنے والی سب سے خطرناک چیز *”غلط فہمی“* ہے۔ ایک لمحے کی غلط سوچ، ایک ادھوری بات، یا کسی کے رویّے کا غلط مطلب نکال لینا، برسوں کی محبت اور اعتماد کو ختم کر دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج ہم حقیقت جاننے سے پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں اور یہی جلد بازی بعد میں ندامت کا سبب بنتی ہے۔

ہم کسی سے بات کریں اور وہ معمول سے کم بولے یا اداس لہجے میں جواب دے، تو فوراً یہ خیال آتا ہے کہ ”یہ تو بڑا مغرور ہے، اس میں تکبر آ گیا ہے، اب بات کرنا پسند نہیں کرتا۔“ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے وہ کسی گھریلو پریشانی میں مبتلا ہو، کسی عزیز کی بیماری نے اسے غمگین کر رکھا ہو، مالی تنگی سے گزر رہا ہو، خود اپنی کسی ذہنی کشمکش سے لڑ رہا ہو، یا کسی کام میں مشغول ہو۔ اس کے ایک مختصر جواب سے اس کی پوری شخصیت کا فیصلہ کر دینا انصاف نہیں۔

اسی طرح اگر کوئی سلام کا جواب پہلے جیسی گرم جوشی سے نہ دے تو فوراً دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے کہ شاید وہ ناراض ہے یا ہمیں حقیر سمجھنے لگا ہے، جبکہ ممکن ہے وہ کسی گہری سوچ میں ہو، طبیعت ناساز ہو یا اس نے ہماری آواز ہی نہ سنی ہو۔

بسا اوقات کوئی دوست ہمارے پیغام کا جواب دیر سے دیتا ہے تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہمیں نظر انداز کر رہا ہے، حالانکہ وہ کام میں مصروف ہو سکتا ہے، سفر میں ہو، فون خراب ہو، یا کسی ایسی مجبوری میں ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو۔

اگر کوئی شخص ہماری دعوت قبول نہ کرے تو فوراً یہ گمان کرنا کہ اس نے ہماری بے عزتی کی ہے، درست نہیں۔ ممکن ہے اس کے پاس واقعی وقت نہ ہو، طبیعت خراب ہو یا کوئی ضروری مصروفیت آ گئی ہو۔

کبھی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نہ ہو تو ہم اسے بدتمیز یا سخت مزاج قرار دے دیتے ہیں، حالانکہ ہر خاموش شخص مغرور نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ اپنے دکھ چہرے پر لیے پھرتے ہیں مگر کسی سے بیان نہیں کرتے۔

بعض اوقات استاد طالب علم کو ڈانٹ دیتے ہیں تو طالب علم سمجھتا ہے کہ استاد مجھ سے نفرت کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ اسی کی اصلاح اور کامیابی چاہتے ہیں۔
والدین اگر کسی بات سے روکیں تو اولاد سمجھتی ہے کہ وہ میری آزادی کے دشمن ہیں، حالانکہ ان کی روک ٹوک میں محبت، تجربہ اور خیرخواہی پوشیدہ ہوتی ہے۔

اسلام نے ہمیں بدگمانی سے سختی کے ساتھ بچنے کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ”
اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔ “(حجرات-١٢)”

حدیثِ مبارکہ میں ہے:
“عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ”
بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ “[صحيح البخاری، كتاب الأدب، ح: 6066]”

ایک سمجھ دار انسان وہی ہے جو دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھے، حقیقت معلوم کیے بغیر فیصلہ نہ کرے، اور ہر رویّے کے پیچھے کسی مجبوری کا احتمال بھی ذہن میں رکھے۔ یاد رکھیے! ہر خاموش شخص مغرور نہیں ہوتا، ہر دیر سے جواب دینے والا بے وفا نہیں ہوتا، ہر سخت لہجہ نفرت کی علامت نہیں ہوتا، اور ہر انکار بے قدری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان کے دل میں ایسے طوفان برپا ہوتے ہیں جن کی خبر صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتی ہے۔
اگر ہم اپنے دل سے بدگمانی نکال دیں، دوسروں کے لیے حسنِ ظن پیدا کریں، اور فیصلہ کرنے سے پہلے حقیقت جاننے کی عادت ڈال لیں، تو نہ صرف ہمارے تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ ہمارا اپنا دل بھی سکون میں رہے گا۔ غلط فہمی کا علاج سوال، حسنِ ظن اور صبر ہے، جبکہ اس کا وبال تنہائی، نفرت اور پشیمانی ہے۔ مولیٰ عزوجل کرم فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔

@از: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی

Scan this QR code to read online:

QR Code