یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
تاریخی حقائق
دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت راشدہ کے صبح اشنا افق کو دیکھتے ہیں تو ایک نام افتاب کی طرف چمکتا ہے، ایک ذات مہتاب کی طرح جھلملاتی ہے اور ایک شخصیت گلزار خلافت میں خوشبو بن کر بسی ہوتی ہے۔ وہ نام مقدس یارِ غارِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، رفیقِ مزار، افضل الخلق بعد الانبیاء، عتیق و صدیق اکبر حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر عبداللہ بن ابی قحافہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔ یہ وہ عظیم ذات ہے جس کے دور خلافت میں اسلام نے ایسا عروج پایا کہ پورا عہد خلافت دین حق کی تقویت، امت کی وحدت اور شریعت کی سربلندی کا عملی نمونہ بن گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت کا ہر لمحہ دین کے استحکام کا مثبت و مظہر بن گیا۔
یہ دور در اصل ثبات کا دور بھی ہے، فضل آزمائش کا دور بھی ہے، باطل کے انہدام کا موسم بھی ہے۔ وہ دور جس میں اسلام عرب سے کائناتی ریاست کی بنیادوں تک پہنچ گیا۔
دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت راشدہ کے صبح اشنا افق کو دیکھتے ہیں تو ایک نام افتاب کی طرف چمکتا ہے، ایک ذات مہتاب کی طرح جھلملاتی ہے اور ایک شخصیت گلزار خلافت میں خوشبو بن کر بسی ہوتی ہے۔ وہ نام مقدس یارِ غارِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، رفیقِ مزار، افضل الخلق بعد الانبیاء، عتیق و صدیق اکبر حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر عبداللہ بن ابی قحافہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔ یہ وہ عظیم ذات ہے جس کے دور خلافت میں اسلام نے ایسا عروج پایا کہ پورا عہد خلافت دین حق کی تقویت، امت کی وحدت اور شریعت کی سربلندی کا عملی نمونہ بن گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت کا ہر لمحہ دین کے استحکام کا مثبت و مظہر بن گیا۔
یہ دور در اصل ثبات کا دور بھی ہے، فضل آزمائش کا دور بھی ہے، باطل کے انہدام کا موسم بھی ہے۔ وہ دور جس میں اسلام عرب سے کائناتی ریاست کی بنیادوں تک پہنچ گیا۔
اضطراب صحابہ
حبیب کبریا ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد کے لمحات قیامت سے کم نہ تھے، دل لرز گئے، زبانیں خاموش ہو گئیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ایسے میں خلیفۂ اول، یارِ غار و مزار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات مبارکہ نے صحابہ کرام کو سنبھالا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جملہ امت کے لیے آبِ حیات ثابت ہوا، ارشاد فرمایا: ”مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّداً فَاِنَّ مُحَمَّداً قَدْ مَاتَ وَ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللہَ فَاِنَّ اللہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ“ (جو محمد رسول اللہ ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو محمد مصطفیٰ ﷺ کا وصالِ ظاہری ہو گیا اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی) یہ اعلان دراصل امت کے ہوش و حواس کی واپسی تھا۔ بعد اس اعلان کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حقیقت کو قبول فرمایا اور دوسری ضروریات کی طرف توجہ فرمائی۔
اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ
حضرات انصار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جب صحیح فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے تب بھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ پاک نے ان کو راہ دکھائی۔ آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سب سے اہم معاملہ خلافت کا تھا۔ حضرات انصار، حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ وہاں خلیفۂ اول، سیدنا فاروق اعظم و سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا: اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ (امام خاندانِ قریش سے ہی ہوں گے) پس حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: آپ ہاتھ دراز فرمائیں اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعت فرمائی اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بیعت فرمائی اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنے۔ [اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج٤، ص٤٠٥]
حضرات انصار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جب صحیح فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے تب بھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ پاک نے ان کو راہ دکھائی۔ آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سب سے اہم معاملہ خلافت کا تھا۔ حضرات انصار، حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ وہاں خلیفۂ اول، سیدنا فاروق اعظم و سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا: اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ (امام خاندانِ قریش سے ہی ہوں گے) پس حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: آپ ہاتھ دراز فرمائیں اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعت فرمائی اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بیعت فرمائی اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنے۔ [اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج٤، ص٤٠٥]
مانعینِ زکوٰۃ سے اعلان جنگ
سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مانعینِ زکوٰۃ سے اعلان جنگ فرمایا: واللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ واللہِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّوْنَهَا إِلَى رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا [بخاری شریف، ح١٤٠٠] ترجمہ: ”اللہ کی قسم! میں ضرور اُن لوگوں سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ لوگ مجھ سے ایک بکری کا بچہ بھی روک لیتے، جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے، تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے لڑتا۔ اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: فَوَاللہِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَدْ شَرَحَ اللہُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ [أیضاً] ترجمہ: پس اللہ کی قسم! یہ (فیصلہ) صرف اس وجہ سے تھا کہ اللہ نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سینہ کھول دیا، تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔ علمائے اہل سنت فرماتے ہیں: اگر اس مرحلے پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نرمی فرماتے تو اسلام کی بنیادیں ہل جاتیں اور ہر حکم شرعی کے مقابلے گروہ اپنی اپنی تعبیرات نکال لیتے۔ [البدایہ والنہایہ]
مانعینِ زکوٰۃ سے جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کا ارادہ فرمایا تو اس پر سیدنا فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مشورہ پیش کیا کہ ابھی جنگ مناسب نہیں، توقف کریں! اس پر سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فیصلہ کن انداز میں فرمایا: واللہِ لَأُقَاتِلَنَّ [صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ، ح١٣٩٩ و ١٤٠٠، تاریخ الخلفاء، ص٧٥] حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اٹھتے ہوئے اس فتنہ کو روکا اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی رہنمائی فرمائی۔
مانعینِ زکوٰۃ سے جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کا ارادہ فرمایا تو اس پر سیدنا فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مشورہ پیش کیا کہ ابھی جنگ مناسب نہیں، توقف کریں! اس پر سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فیصلہ کن انداز میں فرمایا: واللہِ لَأُقَاتِلَنَّ [صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ، ح١٣٩٩ و ١٤٠٠، تاریخ الخلفاء، ص٧٥] حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اٹھتے ہوئے اس فتنہ کو روکا اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی رہنمائی فرمائی۔
مدعیانِ نبوت کا خاتمہ
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں چند خبیثوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان کے فتنے سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی حفاظت فرمائی۔
اسود عنسی: ابہلہ بن کعب اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا یہ کہف حنان کا رہنے والا تھا۔ یمن وغیرہ پر قبضہ کیا اور معاملہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ صنعا و طائف پر بھی قابض ہوا۔ عمرو بن معدی کرب، قیس بن عبد، فیروز دیلمی اور داذویہ اس کے خاص لوگوں میں سے تھے۔ فیروز کی چچازاد بہن سے نکاح کیا اور ایک روز حبیب کبریا ﷺ نے خبر دی کہ اسود کو قتل کر دیا گیا ہے۔ عرض کی گئی: کس نے ؟ تو غیب داں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: فیروز نے۔ دوسری روایت میں اسود کے قتل کی خبر خلافتِ صدیقی میں ربیع الاول کے آخری ایام میں موصول ہوئی۔ [البدایہ والنہایہ، ج٩، ص٢٢٩-٢٣٦]
اسود عنسی: ابہلہ بن کعب اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا یہ کہف حنان کا رہنے والا تھا۔ یمن وغیرہ پر قبضہ کیا اور معاملہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ صنعا و طائف پر بھی قابض ہوا۔ عمرو بن معدی کرب، قیس بن عبد، فیروز دیلمی اور داذویہ اس کے خاص لوگوں میں سے تھے۔ فیروز کی چچازاد بہن سے نکاح کیا اور ایک روز حبیب کبریا ﷺ نے خبر دی کہ اسود کو قتل کر دیا گیا ہے۔ عرض کی گئی: کس نے ؟ تو غیب داں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: فیروز نے۔ دوسری روایت میں اسود کے قتل کی خبر خلافتِ صدیقی میں ربیع الاول کے آخری ایام میں موصول ہوئی۔ [البدایہ والنہایہ، ج٩، ص٢٢٩-٢٣٦]
مسیلمہ کذاب: اس بدبخت نے آقا کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم سے ملاقات کی مگر تابع نہ ہوا اور تقریباً ١٠ھ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسیلمہ کے اثرات بڑھنے لگے لیکن سرکار دو جہاں ﷺ نے اس پر فوج کشی اس لیے نہیں فرمائی کہ اس وقت ساری توجہ اس طرف تھی کہ روم سے بڑھتے ہوئے اقتدار سے عرب کی حفاظت کیسے کی جائے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں حضرت عکرمہ بن ابی جہل کی قیادت میں مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے ایک لشکر یمامہ روانہ فرمایا۔ کیونکہ یہ لشکر نہ کافی تھا پس شرحبیل بن حسنہ کی قیادت میں ایک اور لشکر روانہ فرمایا۔ حضرت عکرمہ نے یمامہ پہنچ کر شرحبیل کا انتظار کیے بغیر مسیلمہ پر حملہ کر دیا اور شکست سے دوچار ہوئے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب شکست کی خبر پہنچی تو بہت رنجیدہ ہوئے اور شرحبیل کو اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا حکم دیا۔ مسیلمہ سے جنگ کرنے کے لیے سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب فرمایا۔ مسیلمہ کے پاس 40؍ہزار کا لشکر موجود تھا۔ شرحبیل نے بھی انتظار کیے بغیر مسیلمہ پر حملہ کیا اور ناکام ہوئے۔ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمامہ پہنچے جہاں قبل از جنگ مدینہ منورہ سے ایک اور لشکر برائے امداد روانہ کر دیا گیا تھا۔ سیف اللہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر کے ساتھ ”عقربا“ پہنچے جہاں مسیلمہ اپنے لشکر جرار کے ساتھ خیمہ زن تھا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنی فوج ترتیب دی اور دونوں لشکر کا آمنا سامنا ہوا، گھمسان کی جنگ ہوئی، بالآخر مسیلمہ حضرت وحشی بن حرب کے ہاتھوں قتل ہوا۔ حضرت وحشی وہی ہیں جنہوں نے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا۔ یہ جنگ جنگِ یمامہ کے نام سے مشہور ہے۔ [تاریخ الخلفاء، خلفائے راشدین وغیرہ]
طلحہ اسدی: طلحہ اسدی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا جو قبیلۂ بنی اسد کا سردار تھا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بھی شکست فاش فرمایا۔
سجاح بنت حارث: مرد تو مرد عورت بھی کم نہیں۔ مسیلمہ کذاب کی بیوی سجاح بنت حارث نے بھی نبوت کا دعویٰ کر ڈالا۔ مذہباً نصرانی تھی۔ بہت جلدی لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیا۔ اشعب بن قیس اس کا خاص داعی تھا۔ جب مسیلمہ قتل کر دیا گیا تو سجاح میدان سے بھاگ گئی تھی۔ ایک روایت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں اسلام لائی تھی مگر اس کے اس وقت کے مکرو فریب سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی حفاظت فرمائی۔
جھوٹے مدعیان نبوت کو شکست فاش فرما کر خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امت پر بہت بڑا احسان فرمایا نیز نیو کو ایسا مضبوط فرما دیا کہ اسلام کی طرف دشمنوں نے کتنی ہی کوششیں کر لی مگر کچھ نہ کر سکے۔
سجاح بنت حارث: مرد تو مرد عورت بھی کم نہیں۔ مسیلمہ کذاب کی بیوی سجاح بنت حارث نے بھی نبوت کا دعویٰ کر ڈالا۔ مذہباً نصرانی تھی۔ بہت جلدی لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیا۔ اشعب بن قیس اس کا خاص داعی تھا۔ جب مسیلمہ قتل کر دیا گیا تو سجاح میدان سے بھاگ گئی تھی۔ ایک روایت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں اسلام لائی تھی مگر اس کے اس وقت کے مکرو فریب سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی حفاظت فرمائی۔
جھوٹے مدعیان نبوت کو شکست فاش فرما کر خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امت پر بہت بڑا احسان فرمایا نیز نیو کو ایسا مضبوط فرما دیا کہ اسلام کی طرف دشمنوں نے کتنی ہی کوششیں کر لی مگر کچھ نہ کر سکے۔
توسیع ریاست
١٢ھ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علاء بن حضرمی کو بحرین کی طرف روانہ فرمایا کیونکہ وہاں بھی ارتداد پھیل رہا تھا، جواثی کے مقام پر لڑائی ہوئی اور بالآخر مسلمان فتحیاب ہوئے۔ عمان میں بھی یہی فتنہ سرکشی دکھانے لگا تو حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو اس کی سرکوبی پر مامور فرمایا۔ مہاجرین ابی امیہ کو خطہ اہل بخیر کی طرف، حضرت زیاد بن لبید انصاری کو بھی ایک سرکش گروہ کی بیخ کنی کے لیے روانہ فرمایا۔ یہی ابتدا تھی اسلام کو دور دراز مقام میں پھیلانے کی۔
جب فتنۂ ارتداد کی آگ سرد ہو چکی اور داخلی فتنے اپنی موت آپ مر گئے تو خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیرونی محاذ کی طرف توجہ فرمائی۔ سرکار رفیق مزار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بصرہ روانہ فرمایا جہاں سخت معرکہ کے بعد ”ایلہ“ کا شہر فتح ہوا۔ سلسلۂ فتوحات آگے بڑھتا رہا اور کچھ صلح اور کچھ جہاد کے مراحل طے کرتے ہوئے مدائن کسریٰ (عراق) بھی طلوع اسلام کی روشنی سے منور ہو گیا۔ 12؍ہجری میں حضور خلیفۂ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج بیت اللہ کی ادائیگی بھی سعادت کے ساتھ انجام دی۔ واپسی پر مایا ناز جرنیل حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک جرار لشکر دے کر سرزمین شام کی طرف بھیجا۔ ملک شام میں جنگ اجنادین سن 13؍ہجری میں برپا ہوئی۔ بفضل اللہ تعالیٰ نصرت الٰہی کا پرچم مسلمانوں کے سر بلند ہوا۔ لیکن اس عظیم فتح کی بشارت رفیق غار و مزار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس وقت پہنچی جب سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بستر علالت پر حالت نزع میں تھے۔ اس معرکہ میں نامور صحابہ میں یہ ہیں؛ حضرت عکرمہ بن ابی جہل و حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔
١٢ھ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علاء بن حضرمی کو بحرین کی طرف روانہ فرمایا کیونکہ وہاں بھی ارتداد پھیل رہا تھا، جواثی کے مقام پر لڑائی ہوئی اور بالآخر مسلمان فتحیاب ہوئے۔ عمان میں بھی یہی فتنہ سرکشی دکھانے لگا تو حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو اس کی سرکوبی پر مامور فرمایا۔ مہاجرین ابی امیہ کو خطہ اہل بخیر کی طرف، حضرت زیاد بن لبید انصاری کو بھی ایک سرکش گروہ کی بیخ کنی کے لیے روانہ فرمایا۔ یہی ابتدا تھی اسلام کو دور دراز مقام میں پھیلانے کی۔
جب فتنۂ ارتداد کی آگ سرد ہو چکی اور داخلی فتنے اپنی موت آپ مر گئے تو خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیرونی محاذ کی طرف توجہ فرمائی۔ سرکار رفیق مزار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بصرہ روانہ فرمایا جہاں سخت معرکہ کے بعد ”ایلہ“ کا شہر فتح ہوا۔ سلسلۂ فتوحات آگے بڑھتا رہا اور کچھ صلح اور کچھ جہاد کے مراحل طے کرتے ہوئے مدائن کسریٰ (عراق) بھی طلوع اسلام کی روشنی سے منور ہو گیا۔ 12؍ہجری میں حضور خلیفۂ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج بیت اللہ کی ادائیگی بھی سعادت کے ساتھ انجام دی۔ واپسی پر مایا ناز جرنیل حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک جرار لشکر دے کر سرزمین شام کی طرف بھیجا۔ ملک شام میں جنگ اجنادین سن 13؍ہجری میں برپا ہوئی۔ بفضل اللہ تعالیٰ نصرت الٰہی کا پرچم مسلمانوں کے سر بلند ہوا۔ لیکن اس عظیم فتح کی بشارت رفیق غار و مزار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس وقت پہنچی جب سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بستر علالت پر حالت نزع میں تھے۔ اس معرکہ میں نامور صحابہ میں یہ ہیں؛ حضرت عکرمہ بن ابی جہل و حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔
اس سال جنگ مرج الصفر بھی ہوئی جس میں کافروں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس معرکہ میں حضرت فضل بن عباس بھی صفِ مجاہدین میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ [فتوح الشام]
الحاصل: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں دین حق پہلی بار جزیرۂ عرب سے باہر نکلا۔
عراق کا محاذ: حضرت مثنی بن حارثہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعے ابلا، عین تمر، باروسما، ولایت فرات فتح ہوئیں۔
الحاصل: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں دین حق پہلی بار جزیرۂ عرب سے باہر نکلا۔
عراق کا محاذ: حضرت مثنی بن حارثہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعے ابلا، عین تمر، باروسما، ولایت فرات فتح ہوئیں۔
شام کا محاذ: یہ وہ سرزمین تھی جو رومی تہذیب کا گہوارہ، جنگی قوت کا محور اور تجارتی سامان کا مرکز تھی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص، یزید بن ابی سفیان اور حضرت ابو عبیدہ نیز سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جوڑ کر ایک حربی وحدت قائم فرمائی۔ یہ تدبیر تاریخ جنگ میں ایسی مثال ہے جو حکمت عملی اور بصیرت عمارت دونوں پر دلالت کرتی ہے۔ [طبری]
جمعِ قرآن مجید
حضرت ابو یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں کہ قرآن عظیم کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملے گا کہ سب سے اول آپ ہی نے اسے کتابیں شکل میں جمع فرمایا۔ [تاریخ الخلفاء، ص٥٩]
حضرت ابو یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں کہ قرآن عظیم کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملے گا کہ سب سے اول آپ ہی نے اسے کتابیں شکل میں جمع فرمایا۔ [تاریخ الخلفاء، ص٥٩]
قران مقدس کو حفظ فرمانے والے صحابہ بکثرت شہید ہو رہے تھے تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنا چاہیے، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا۔ مگر جب حقیقت واضح ہوئی کہ منفعت عامہ اسی میں ہے تو ارشاد فرمایا: ھُوَ وَاللہِ خَیْرٌ [صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن] اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ عظیم ذمہ داری عطا فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ کارنامہ امت کو تحریف سے محفوظ کرنے، تلاوت کو معیار پر رکھنے، تعلیم کو متحد کرنے، فقہ و تفسیر کی بنیاد رکھنے میں بنیاد ترین کردار رکھتا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں: جَمْعُ الْقُرْآنِ فِیْ مَصْحَفٍ وَاحِدٍ اَعْظَمُ اَعْمَالِ اَبِیْ بَکْرٍ وَ بِہٖ حِفْظُ الدِّیْنِ [الاتقان ١/١٠٥] ترجمہ: قرآن مجید کو ایک مصحف میں جمع کرنا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عظیم ترین اعمال میں سے ہے، اور اسی کے ذریعے دین کی حفاظت ہوئی۔
فتنۂ ارتداد اور صدیق اکبر کا سیفِ فیصل
حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد عرب کے گوشے گوشے میں فتنۂ ارتداد بھڑک اٹھا۔ کسی نے زکوٰۃ کا انکار کیا، کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا، کسی نے بیعت توڑی، کسی نے حدود کو معطل کرنے کی سعی کی، لیکن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان آج تک آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: وَاللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰۃِ [بخاری شریف، ح١٤٠٠] ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی قسم میں ضرور اس سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ یعنی: یہ کہے گا کہ نماز تو فرض ہے زکوۃ فرض نہیں۔ زکوٰۃ کے انکار سے بھی لوگ مرتد ہو رہے تھے۔ فتنۂ ارتداد کا خاتمہ صرف ایک سیاسی کارنامہ نہ تھا، بلکہ یہ حفظ دین کے فریضے کی عظیم ترین مثال ہے۔ اس کے نتیجے میں قبائل عرب دوبارہ متحد ہو گئے، اسلام کا نظم واپس قائم ہوا، بیت المال مضبوط ہوا، حکومتی اختیار بحال ہوا، دینی شعائر محفوظ ہو گئے۔
نظام عدل و حکومت
خلافت قائم کرتے ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ خطبہ دیا جسے علماء نے حکمرانی کا دستور کہا۔ أَطِيعُونِي مَا أَطَعْتُ اللهَ فِيكُمْ فَإِنْ عَصَيْتُهُ فَلَا طَاعَةَ لِي عَلَيْكُمْ۔ ترجمہ: تم میری اطاعت کرو، جب تک میں اللہ کی اطاعت کرتا رہوں۔ پھر اگر میں اس کی نافرمانی کروں، تو تم پر میری کوئی اطاعت لازم نہیں۔
یہ جملہ 3؍اصولوں کا مجموعہ ہے۔
(١) حکمران کی اطاعت، اطاعتِ الٰہی کے تابع ہے۔
(٢) حکومت کا معیار عدل ہے، شخصی عظمت نہیں۔
(٣) احتساب اقتدار ایک شرعی حق ہے۔
خلافت قائم کرتے ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ خطبہ دیا جسے علماء نے حکمرانی کا دستور کہا۔ أَطِيعُونِي مَا أَطَعْتُ اللهَ فِيكُمْ فَإِنْ عَصَيْتُهُ فَلَا طَاعَةَ لِي عَلَيْكُمْ۔ ترجمہ: تم میری اطاعت کرو، جب تک میں اللہ کی اطاعت کرتا رہوں۔ پھر اگر میں اس کی نافرمانی کروں، تو تم پر میری کوئی اطاعت لازم نہیں۔
یہ جملہ 3؍اصولوں کا مجموعہ ہے۔
(١) حکمران کی اطاعت، اطاعتِ الٰہی کے تابع ہے۔
(٢) حکومت کا معیار عدل ہے، شخصی عظمت نہیں۔
(٣) احتساب اقتدار ایک شرعی حق ہے۔
خلافت صدیقی کے فقہی و اصولی نقوش
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور سے متعدد ضوابط اخذ کیے گئے:
(١) مصلحت مرسلہ کی مشروعیت: جمعِ قرآن عظیم، فوجوں کی تقسیم، فتنۂ ارتداد پر فوج کشی سب مصلحت عامہ پر مبنی اجتہادات تھے۔
(٢) اجماعِ امت کا استقرار: بیعت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اتفاق نے اصول فقہ میں اجماع کی حجیت کو مضبوط کیا۔
(٣) امارت و قضا کی تفریق: اس سے بعد کے خلفاء نے مکمل نظام قضائی بنائی۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور سے متعدد ضوابط اخذ کیے گئے:
(١) مصلحت مرسلہ کی مشروعیت: جمعِ قرآن عظیم، فوجوں کی تقسیم، فتنۂ ارتداد پر فوج کشی سب مصلحت عامہ پر مبنی اجتہادات تھے۔
(٢) اجماعِ امت کا استقرار: بیعت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اتفاق نے اصول فقہ میں اجماع کی حجیت کو مضبوط کیا۔
(٣) امارت و قضا کی تفریق: اس سے بعد کے خلفاء نے مکمل نظام قضائی بنائی۔
اسلام کا روحانی و ایمانی عروج
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں صرف سیاست و فتوحات ہی نہیں بلکہ ایمان اپنے اعلیٰ ترین اثبات پر پہنچا، کیونکہ نفاق کمزور ہوا، ایمان صحابہ بالکل کمزور نہ ہوا، دین کے حدود نمایاں ہوئے، باطل کی جڑیں کٹ گئیں، دین کی راہ متعین ہو گئی۔ امام ذہبی لکھتے ہیں: هُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ۔ بِهِ قَامَ الدِّينُ بَعْدَ وَفَاةِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ ﷺ [سیر اعلام النبلاء] ترجمہ: وہ دو میں دوسرے ہیں (اشارہ غار ثور کی رات کی طرف ہے جہاں فقط میرے آقا ﷺ اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلوہ افروز ہوئے، رب قدیر نے ارشاد فرمایا: ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا [التوبہ-40]، ترجمہ: صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے] اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابیت کا انکار کفر ہے) اور انہی کے ذریعے رسولِ کریم ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد دین قائم رہا۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں صرف سیاست و فتوحات ہی نہیں بلکہ ایمان اپنے اعلیٰ ترین اثبات پر پہنچا، کیونکہ نفاق کمزور ہوا، ایمان صحابہ بالکل کمزور نہ ہوا، دین کے حدود نمایاں ہوئے، باطل کی جڑیں کٹ گئیں، دین کی راہ متعین ہو گئی۔ امام ذہبی لکھتے ہیں: هُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ۔ بِهِ قَامَ الدِّينُ بَعْدَ وَفَاةِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ ﷺ [سیر اعلام النبلاء] ترجمہ: وہ دو میں دوسرے ہیں (اشارہ غار ثور کی رات کی طرف ہے جہاں فقط میرے آقا ﷺ اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلوہ افروز ہوئے، رب قدیر نے ارشاد فرمایا: ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا [التوبہ-40]، ترجمہ: صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے] اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابیت کا انکار کفر ہے) اور انہی کے ذریعے رسولِ کریم ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد دین قائم رہا۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں اسلام نے ایسا عروج پایا کہ تا قیامت کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا۔ قرآن پاک اور زکوٰۃ کی حفاظت ہونے سے لے کر دوسرے ممالک میں اسلام اسی دور میں پہنچا۔ سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ڈھائی سال کی مختصر مدت میں وہ کار ہائے نمایاں سرانجام دیے جس کی روشنی تاقیامت امت کی راہوں کو روشن کرے گی۔ مولیٰ عمر فاروق عدل کے شہنشاہ ہیں، مولیٰ عثمان ذوالنورین حیا کے پیکر، مولیٰ علی المرتضیٰ شجاعت کے عَلَم تو مولیٰ صدیق اکبر اسلام کے عروج کا دروازہ ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ میرے امام سرکار اعلیٰ حضرت علی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
سایۂ مصطفیٰ مایۂ اصطفیٰ
عز و نازِ خلافت پہ لاکھوں سلام
یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام
اصدق الصادقیں سید المتقیں
چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام
عز و نازِ خلافت پہ لاکھوں سلام
یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام
اصدق الصادقیں سید المتقیں
چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام
اللہ پاک ہمیں مولیٰ صدیق اکبر خلیفۂ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے، ان کے وسیلے سے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم ﷺ۔